میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 22 ستمبر، 2016

سانپ چھتری

آج صبح تقریباً پونے چھ بجے گالف شروع کی سبزگھاس پر پڑی شبنم یا سردیوں کی اوس ، ہلکی ہلکی چلتی ہوئی بادِ سحر کالطف اُٹھاتے ہوئے جب ساتویں ھول پر دوسری شاٹ لگا کر چلا تو " فیئر وے" کے درمیان یہ ننھا سا پودا نظر آیا ، 

" سانپ چھتری " ذہن کے کسی عمیق گوشے سے یہ نام چھلانگ مار کر سامنے آگیا،
1958 کا زمانہ تھا ، ایبٹ آباد کی وسیع چراگاہوں میں ، یہ بے شمار اُگی ہوئی ہوتی تھیں ۔ کچھ ابھی کِھلنے کے انتظار میں اور کافی پوری کھلی ہوئی ، ہم اِس کے گودے بھرے ننھے سے تنے کو دو انگلیوں میں پکڑتے اور اکھیڑ لیتے ، الٹا کرکے دیکھنے پر یہ بالکل چھتری کی طرح لگتی عموماً اِس کا چھاتا ، انچ قطر کا ہوتا ۔ لیکن جو جانوروں کی کھاد پر اُگتیں وہ بلا شبہ دو سے تین انچ قطر کی ہوتیں اور ہماری نظر میں وہ سب سے زیادہ خطرناک ہوتیں ، کیوں ؟
ہم بچوں میں مشہور تھا کہ رات کو بارش سے بچنے کے لئے  سانپ اِس نے نیچے سوتا تھا یوں یہ سب سانپ چھتریاں کہلاتیں ۔
جب میں نے اِسے دیکھا ، تو یک دم موبائل جیب سے نکال کر اِس
" سانپ چھتری " (Panaeolus Foenisecii) کی تصویر محفوظ کر لی ۔ تاکہ آپ لوگوں کو بھی دکھا سکوں !

اتوار، 18 ستمبر، 2016

پانچواں کبوتر

                         پانچواں کبوتر........
ماسٹر حسن اختر صاحب بچے کو بڑی جان مار کے حساب سکھا رھے تھے. وہ ریاضی کے ٹیچر تھے. اُنھوں نے زبیر کو اچھی طرح سمجھایا کہ دو جمع دو چار ہوتے ہیں-مثال دیتے ہوئے انھوں نے اسے سمجھایا کہ یوں سمجھو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئے. ..پھر دو کبوتر دئے...تو تمھارے پاس کل کتنے کبوتر ہو گئے.....زبیر نے اپنے ماتھے پہ آئے ہوئے silky بالوں کو ایک ادا سے پیچھے کرتے ہوئے جواب دیاکہ ماسٹر جی "پانچ"
ماسٹر صاحب نے اسے دو پنسلیں دیں اور پوچھا کہ یہ کتنی ھوئیں...زبیر نے جواب دیا کہ دو.  . پھر دو پنسلیں پکڑا کر پوچھا کہ اب کتنی ہوئیں..."چار" زبیر نے جواب دیا. ماسٹر صاحب نے ایک لمبی سانس لی جو اُن کے اطمینان اور سکون کی کی علامت تھی.....
پھر دوبارہ پوچھا...اچھا اب بتاؤ کہ فرض کرو کہ میں نے پہلے تمھیں دو کبوتر دئیے پھر دو کبوتر دیئے تو کُل کتنے ہو گئے...."پانچ" زبیر نے فورًا جواب دیا.
ماسٹر صاحب جو سوال کرنے کے بعد کرسی سیدھی کر کے بیٹھنے کی کوشش کر رہے تھے اس زور سے بدکے کہ کرسی سمیت گرتے گرتے بچے......اؤےخبیث‘‘‘پنسلیں دو اور دو "4" ہوتی ھیں تو کبوتر دو اور دو "5" کیوں ہوتے ہیں
اُنھوں نے رونے والی آواز میں پوچھا...
"ماسٹر جی ایک کبوتر میرے پاس پہلے سے ہی ہے" زبیر نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
ھم مسلمان تو ہو گئے مگر کچھ کبوتر ھم اپنے آباؤ اجداد سے لےآئے ہیں اور کچھ معاشرے سے لے لئے ہیں.
اسی لئے جب قرآن کی بات سنتے ہیں تو سبحان اللّہ بھی کہتے ہیں....جب حدیث نبوی سنتے ہیں تو انگوٹھے بھی چومتے ہیں مگر جب عمل کی باری آتی ہے تو باپ دادا اور معاشرے والا کبوتر نکال لیتے ہیں. .
شادی بیاہ کی رسمیں دیکھ لیں. ہندو'سکھ اور مسلمان کی شادی میں فرق صرف پھیروں اور ایجاب و قبول کا ہے. باقی ہندو دولہے کی ماں بہن ناچتی ہے تو مسلمان کی شادی پہ بھی منڈے کی ماں بہن نہ ناچے تو شادی نہیں سجتی
وراثت میں ہندو قانون لاگو ہے...بیٹی کا کوئی حصہ نہیں. جہیز ہندو رسم ہے کہ بیٹی کو جائیداد میں حصہ تو دینا نہیں لہدْا جہیز کے نام پر مال بٹورو اور یہی کام آ ج کا مسلمان کر رہا ہے
مختلف استھانوں سے مانگنا ہندو دھرم ہے تو ھمارے ہاں بھی درباروں پر "ون ونڈو" سروس ہے کہ جو بھی ملتا ہے اسی ایک کھڑکی سے ملتا ہے
جنتر منتر‘مؤکلوں کی دنیا‘تعویز گنڈے‘ہاتھ کی لکیریں اور قسمت کا حال یہ سب "پانچواں کبوتر " ہے جو اسلام سے پہلے ہی ہمارے پاس ہے. ہم نے کلمے کی "لا" کے ساتھ اس کبوتر کو اڑا کر پنجرہ خالی نہیں کیا. نتیجہ آج یہ ہے کہ اللّہ رب العزت کے ساتھ ساتھ سارے دیگر "فرینچا ئزڈ دیوتا" مسلمان ناموں کے ساتھ اللّہ کے شریک بنے بیٹھے ہیں

"شاید کہ اتر جائے تیرے دل میں مری بات"

بدھ، 14 ستمبر، 2016

To Whom it May concern !

During British Raj, a British Capt was struck by an Indian Cook with a pot spoon in head over some unnecessary argument during inspection of Ck House.
After inquiry both were courtmartialed.The British Capt represented the decision and appealed.After review the verdict was upheld with the historic remarks,
 
"Being a superior British Officer,why you went so close to an Indian Cook that he was able to hit you".
Better is to maintain a respectable distance.
 
A silent message to all officers!
 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔