میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 24 مئی، 2017

ہمارا ھیرو :کرنل (ر) عبدالجبار


کرنل( ریٹائرڈ)   عبدالجبار بھٹی ، کٹھمنڈو  کے ایک ہسپتال میں صحت یابی کی طرف-


دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے والے چوتھے پاکستانی کوہ پیما ء کرنل(ر)عبدالجبار بھٹی کی طبیعت بگڑ گئی تھی   اور اُن کے معاون  ساتھی  کی ، ماؤنٹ ایورسٹ سر کرنے کے بعد واپس آتے ہوئے آکسیجن ختم ہو جانے کی وجہ سے پاکستانی کوہ پیما کرنل(ر)عبدالجبار بھٹی کی طبیعت خراب ہو گئی۔ ریسکیو ٹیموں کی مدد سے انہیں بیس کیمپ تک لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔پاکستانی فوج کے   کرنل(ریٹائرڈ)  عبدالجبار بھٹی دنیا کے سب سے اونچے پہاڑ ماؤنٹ ایورسٹ کی چوٹی پر پہنچنے والے چوتھے پاکستانی بن گئے ہیں۔انھوں نے یہ کارنامہ اتوار  21 مئی 2017 کو سرانجام دیا ہے۔
الپائن کلب کے مطابق عبدالجبار بھٹی مقامی وقت کے مطابق دوپہر ڈھائی بجے چوٹی پر پہنچے اور چوٹی سر کرنے کے بعد وہ نیچے کیمپ 3 کے لیے روانہ ہو گئے ہیں۔
عبدالجبار بھٹی سے قبل نذیر صابر، حسن سدپارہ اور ثمینہ بیگ ماؤنٹ ایورسٹ سر کر چکے ہیں۔
ان تینوں افراد کا تعلق گلگت بلتستان سے تھا اور کرنل(ر) بھٹی پنجاب سے تعلق رکھنے والے پہلے پاکستانی ہیں جنھیں یہ اعزاز حاصل ہوا ہے۔
کرنل (ر) عبدالجبار اس سے قبل پاکستان کی کئی بلند ترین چوٹیوں کو سر کر چکے ہیں۔ اس کے علاوہ کرنل (ر) جبار نے پاکستان میں پیرا گلائڈنگ کو مقبول بنانے میں بھی اہم کردار ادا کیا۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔