میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 16 ستمبر، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 50- مدفنِ علی ابن طالب ؟



  حضرت علی اس بات کو جانتے تھے کہ یہ سبائی پارٹی ( اور شیعاً حضرات ) جو ان کے منہ پر بھی آپ کو خدا کہنے سے باز نہیں آتے تھے .اور آپ نے اپنے دور خلافت میں 40 آدمیوں کو اس شرک کی پاداش میں زندہ آگ میں جلا دیا تھا یہ لوگ حضرت کے مرنے کے بعد جب کہ کوئی روک ٹوک نہ ہوتی آپ کی قبر مبارک پر کیسے کیسے تماشے کرتے ؟(پچھلی پوسٹ میں اس کا تفصیلی ذکر کیا جا چکا ہے )
اس لئے آپ نے حضرت حسن کو وصیت کی تھی کہ میری لاش کسی نا معلوم مقام پر لے جا کر دفن کرنا .اور حضرت حسن بھی اس بات سے بخوبی آگاہ تھے
.
مورخین نے حضرت علی کی قبر کے بارے میں مختلف روایتیں بیان کی ہیں جن سب کو اگر یہاں بیان کیا جائے   تو ایک دفتر کھل جائے گا اس لئے چند روایتیں پیش کی جاتی ہیں .
1-   حضرت حسن عراق سے مدینہ جانے لگے تو اپنے والد کی لاش کو صندوق میں ڈال کر اور کافور ڈال کے ایک اونٹ پر رکھوا دیا تا کہ کسی نا معلوم مقام پر لے جا کر دفن کریں .
2-  مدینہ میں اپنی والدہ ماجدہ کے پہلو میں دفن کریں -
لیکن اگر حضرت علی کی وصیت پر غور کیا  جائے ،
تو یہ بات درست معلوم نہیں ہوتی.یہ شہرت تو عام پھیل گئی تھی کہ حضرت حسن اپنے ساتھ ایک بڑا خزانہ بھی لے کر جا رہے ہیں ،جب یہ قافلہ بنی طے کے علاقہ سے رات کے وقت گزر رہا تھا تو ڈاکہ پڑ گیا اور ڈاکو دوسرے سامان کے ساتھ حضرت علی کی لاش والا صندوق بھی ہانک کر لے گیے.پھر پتہ نہیں چل سکا کہ ڈاکووں نے ان کی لاش کا کیا کیا اور کہاں دفنایا ؟
خطیب بغدادی اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوے کہتے ہیں کہ نجف میں جس کو حضرت علی کی قبر سمجھا جاتا ہے اگر ان لوگوں کو پتہ چل جا
ۓ کہ یہ کس کی قبر ہے تو پتھر مار مار خود ہی یہ قبر گرا دیں .(جلد 1 صفحہ 138 .از تاریخ نجف) وہ آگے ذکر کرتے ہیں کہ یہ قبر رسول الله کے ایک مشہور صحابی مغیرہ بن شعبہ کی ہے جن پر شیعہ لوگ تبرّا کرتے ہیں .
حضرت علی کی قبر کا آج تک کسی کو پتہ نہ چل سکا کہ کہاں ہے ؟
ابن خلکان نے بھی اس قبر کو مغیرہ بن شعبہ کی قبر بتایا ہے.اب شیعہ مورخین نے جس طرح اسے حضرت علی کی قبر ثابت کیا ہے وہ بھی سنیئے .
مصنف عمدہ الطالب نے کہا ہے کہ خلیفہ ہارون الرشید کو حضرت علی کی ایک کرامت سے اس قبر کا حال معلوم ہوا اور انہوں نے یہ قبر بنوائی پھر اضد الدولہ ویلمی نے یہ مزار بنا دیا
-
  دے خوے، ایک آزاد اور بے لاگ مورخ لکھتے ہیں (گیارواں اڈیشن ، انسائیکلو پیڈیا برٹانیکا )
" وہ جگہ معلوم نہیں ہو سکی جہاں حضرت علی دفن ہوئے
"
پچھلی ایک پوسٹ(شیطان نامہ - قسط نمبر 36- واقعات کربلا محققانہ جائزہ میں معز الدولہ اور ویلمی خاندان کی پوری ہسٹری حوالہ جات کے ساتھ بیان کی جا چکی ہے .اب آپ خود سوچیں کہ حضرت علی کی وفات کے 350 سال بعد ایک شیعہ مورخ کا یہ خواب بیان کرنا اور ہارون الرشید کو کیا کرامت نظر آئی  کسی دوسری مستند تاریخ میں اس کا ذکر نہیں ملتا .پھر یہ بیان بھی تواریخ میں ملتا ہے کہ وقت کے اماموں کو ان کی قبر کے بارے میں اپنے کشف اور کرامت کے ذریعے پتہ چل گیا تھا ، یعنی امام اول اور امام دوئم جس خدشے کے تحت یہ مقام تدفین چھپانا چاہتے تھے وہ بعد والے اماموں نے پورا کر دیا .
مس جویریہ سجاد کے ایک سوال کے جواب میں یہ بات از راہ تذکرہ نکل آئی کیوں کہ حضرت حسین کا سر حضرت علی کے قبر میں دفنانے کی بھی ایک روایت ان لوگوں نے گھڑی ہے ورنہ ہمارا یہ موضوع ہر گز نہیں تھا ہمارا موضوع تو جنگِ بصرہ (جمل) ، جنگ صفین اور جنگ نہروان کے بعد واقعہ کربلا تاریخ کے آئینے میں بیان کرنا تھا-   جو
الْحَمْدُ لِلَّـهِ  اب ختم ہونے کو ہے۔

تاریخ نہ سنی ہے نہ شیعہ نہ دیو بندی نہ اہل حدیث اور نہ ہی اسکا کوئی فرقہ یا مذھب ہے اس لیے ہماری بیان کردہ تاریخ کی زد میں شیعہ حضرات ہی نہیں آتے بلکہ سنی ، دیو بندی اور اہل حدیث کے عقائد پر بھی اس کی زد پڑتی ہے اور ہمارا مقصد صرف یہ ہے کہ لوگ ان خود ساختہ عقائد سے نکل کر قرآن کو اپنائیں اور اپنا تعارف صرف مسلمان کی حیثیت سے ہی کرائیں ہمارا تعلق کسی بھی فرقے سے نہیں اور اپنے آپ کو صرف مسلمان کہلاتے ہیں اور یہی کہلوانہ پسند کرتے ہیں
.
کربلا کے مقتولوں کے سر کاٹ کر ان کی مشہوری کرنے کا بیان ابھی جاری ہے اگلی اقساط میں ملاحظہ فرمائیں.

 قسط نمبر  49 ٭٭٭٭ ابتداء ِ  شیطان نامہ ٭٭٭٭ -قسط نمبر  51

کیا حجر اسود جنت کا پتھر ہے ؟

ایرانی شعبدہ باز ۔ 1۔ جاوید چوہدری کی نظر میں

منگل، 12 ستمبر، 2017

اپنی جھونپڑی کو آگ مت لگانا۔


جس نے بھی یہ تصویر، کھینچی لاجواب کھینچی ، تصویر انسانی احساسات کی مکمل عکاسی کرتی ہے ۔ جو کسی بھی انسان کو اپنی اولاد کو خوش دیکھ کر کرتی ہے ۔ وہ اپنے خوشی کے اِس لمحے کو اپنی آنکھوں سے ذہن میں مقید کر لیتا ہے ۔ دوسروں کو  نہیں بتا سکتا ،  یہ تصویر دیکھنے والے کے ذہن مختلف احساسات پیدا کرتی ہے  ۔
یہ تصویر ایک فیس بُک دوست کے توسّط سے ، میری وال پر آئی ۔ اِس تصویر کو دیکھا ۔پوسٹ اور اِس پر دوستوں  کے کمنٹ پڑھے  آپ بھی پڑھیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 جانے کیوں اس شاہکار تصویر کو دیکھ کر  آنکھیں بھیگ سی گئی ہیں !
کاش یہ دستور ہوتا ،
کہ کسی کا باپ نہ کبھی کسی سے جدا ہوتا
ــــــــــ!

( باغی )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
دوسرے دوست  کا کمنٹ :
 کاش اللہ پاک ہر کسی کی کو اتنا دیتا کہ وہ بھی دوسروں جیسا کر سکتا۔ غریب کی خوشی یہی ہے کہ بچے کو سائیکل پر بٹھا کر اس کی تصویر لے رہا ہے کہ کل بڑا ہوگا تو اس کو دکھا سکے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میرے کمنٹ : 
 باغی جی: کس کے باغی ہیں ؟
1- قانونِ قدرت کے ؟
2- انسانیت کے ۔ ؟
یاد رکھیں کہ ، اللہ بغاوت کو پسند نہیں کرتا !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
کمنٹ پوسٹ کرکے میں اگلی پوسٹ پر چلا گیا ۔ لیکن پھر خیال آیا ۔ کہ  باغی دوست سوچے گا ، کہ یہ بڈھا  ہمیشہ مخالفت پر کیوں کمر بستہ رہتا ہے ؟

بجائے ، کہ اِس پوسٹ کو لائیک کرتا اور امدادی کمنٹ دیتا  الٹا سوال پوچھ لیا -
قارئین ، مسرت ، دکھ ، مزاح ، طنز ا،نصیحت اور یادیں ، فیس بُک کی کسی بھی پوسٹ کا خاصہ ہوتی ہیں ۔ 
معلوم نہیں کہ یہ تصویر ، تصویر کے اِس کردار سے تعلق رکھنے والے نے لی ہو ، لیکن زیادہ گمان غالب ہے  کہ یہ  لمحہ کسی گذرنے والے نے  اپنے  کیمرے کی آنکھ میں سمو دیا  اور یہ فیس بُک پر نشر ہوگئی ۔
لیکن ایک بات یاد رہے ، باپ کے موبائل سے کھینچی گئی اِس تصویر کی اِس بچے کے لئے بس اتنی  اہمیت ہے کہ اب وہ اپنے باپ کے ساتھ پیدل یا اُس کی گود میں نہیں بلکہ سائیکل پر سفر کرے گا  ۔
بچہ جب بڑا ہو کر اپنی موٹر سائیکل لے گا تو اُس پر بیٹھنے والا ، یہ بوڑھا اپنے دماغ کی البم سے یہ مدھم تصویر لے آئے گا ،
اُس وقت اِس نوجوان کی خوشی ، اپنی خریدی ہوئی سائیکل پر پہلی بار اپنے بیٹے کو بٹھانے سے کہیں ہزار گنا زیادہ ہوگی ، اور وہ اللہ کا شکر ادا کرے گا کہ اُس نے ، اپنے بیٹے کو " قانونِ قدرت یا انسانیت " کا باغی نہیں بنایا ۔ بلکہ
ایک محبت کرنے والا محنتی انسان بنایا ۔ !
میں جب اِس تصویر کو دیکھتا ہوں ، تو میرے ماضی کے دریچے کھل جاتے ہیں ، جس میں میری وہ تمام معلوم یادیں ہیں جن کی جھلک مجھے اپنے والد کی آنکھوں میں نظر آتی ہے ۔ جن سے بغاوت نہیں  بلکہ  ہمت اور محنت  کی لہریں نکلتی تھیں ۔
جن میں  یہ سبق  کبھی نہیں ہوتا،
" یہ اُس کے پاس ہے میرے پاس کیوں نہیں ! میں بھی تو اللہ کا تخلیق کردہ ایک انسان ہوں"
بلکہ یہ سبق ہوتا ،
" محنت کرو ، محنت ! دوسروں کے محل کو دیکھ کر غصے میں اپنی جھونپڑی کو آگ مت لگا دینا "
 لیکن ، اب اِس عمر میں میں فیس بُک پر ایک لَغو  اور فسادی غزل کے   اِس شعر کے فہم کو پھیلانے  والے فرستاداؤں کو دیکھ رہا ہوں  !
جس کھیت سے دہقاں کو میسر نہ ہوروزی
اُس کھیت کے ہر خوشہءِ گندم کو جلا دو

اب مجھے نہیں معلوم  ، کہ یہ شعر   لوگ کِن معنوں میں لیتے ہیں ۔ لیکن میں اِس شعر  کے لفظ " جلادو " کے فہم کو ہمیشہ ، مثبت انداز میں سمجھا !

جس کی بنیاد اللہ کا یہ پیغام ہے، کہ ہر خوشہءِ    اپنے جیسے کئی خُوشوں کو جَلا دیتا ہے  :


 مَّثَلُ الَّذِينَ يُنفِقُونَ أَمْوَالَهُمْ فِي سَبِيلِ اللّهِ كَمَثَلِ حَبَّةٍ أَنْبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِي كُلِّ سُنْبُلَةٍ مِّئَةُ حَبَّةٍ وَاللّهُ يُضَاعِفُ لِمَن يَشَاءُ وَاللّهُ وَاسِعٌ عَلِيمٌ  ﴿2:260
 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔