میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 19 جولائی، 2017

میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں

دلوں میں درد بھرتا آنکھ میں گوہر بناتا ہوں
جنہیں مائیں پہنتی ہیں میں وہ زیور بناتا ہوں 

غنیم وقت کے حملے کا مجھ کو خوف رہتا ہے
میں کاغذ کے سپاہی کاٹ کر لشکر بناتا ہوں 

پرانی کشتیاں ہیں میرے ملاحوں کی قسمت میں
میں ان کے بادباں سیتا ہوں اور لنگر بناتا ہوں 

یہ دھرتی میری ماں ہے اس کی عزت مجھ کو پیاری ہے
میں اس کے سر چھپانے کے لیے چادر بناتا ہوں 

یہ سوچا ہے کہ اب خانہ بدوشی کر کے دیکھوں گا
کوئی آفت ہی آتی ہے اگر میں گھر بناتا ہوں 

حریفان فسوں گر مو قلم ہے میرے ہاتھوں میں
یہی میرا عصا ہے اس سے میں اژدر بناتا ہوں 

مرے خوابوں پہ جب تیرہ شبی یلغار کرتی ہے
میں کرنیں گوندھتا ہوں چاند سے پیکر بناتا ہوں 

(سلیم احمد ) 


منگل، 18 جولائی، 2017

مِس نصرت اصفہانی سے بیگم بھٹو تک


مِس نصرت اصفہانی سے ذوالفقار علی بھٹو کی پہلی ملاقات کراچی کے ایک بینک کے لاکر میں اس وقت ہوئی جہاں بھٹو صاحب کی والدہ اپنے بیٹے کے ہمراہ لاکر سے زیور لینے گئیں تھیں اور وہیں نصرت اصفہانی بھی موجود تھی ۔۔۔
" نصرت یہ میرا بیٹا ہے زلفی امریکہ میں پڑھ رہے ہیں۔ " بیگم سر شاہنواز نے کہا ۔

‎یہ بات لاڑکانہ کے ایک وکیل عبدالرزاق سومرو نے بی بی سی کے ساتھ ایک ملاقات میں بیگم نصرت بھٹو کے بارے میں بات کرتے ہوئی کہی۔ مسٹر سومرو ذوالفقار علی بھٹو کے ہم عصر وکیل ہیں اور ان کے خاندان کے بہت قریبی سمجھے جاتے ہیں۔ بیگم نصرت بھٹو کی یادیں مسٹر سومرو کی زبانی۔
 
 ‎میری ذوالفقار علی بھٹو سے پہلی ملاقات انیس سو چھپن کو کراچی میں سندھ ہائی کورٹ میں ایک مقدمے کی سماعت کے بعد ہوئی جس میں ہم دونوں ایک دوسرے کے خلاف کیس کی پیروی کر رہے تھے۔

‎بیگم نصرت بھٹو کی ذوالفقار علی بھٹو سے جب شادی ہوئی تو بھٹو کے والدین کو ابتدا میں اچھا نہیں لگا لیکن جب شادی ہوگئی تو سر شاہنواز بھٹو نے ان کا ولیمہ کیا اور اپنی بہو کا خیر مقدم بھی کیا۔ بھٹو صاحب کی اپنےخاندان میں تیرہ برس کی عمر میں امیر بیگم سے شادی ہوچکی تھی اور وہ ان دنوں ممبئی میں پڑھ رہے تھے۔
‎بیگم نصرت بھٹو ابتدا میں جب لاڑکانہ آتی تھیں تو ایرانی طرز کا سیاہ برقعہ پہنتی تھیں۔ لیکن ان کی آمد بہت کم ہوتی تھی۔ بیگم بھٹو کے والد مرزا محمد اصفہانی جو عبدالطیف بھی کہلواتے تھے ان کا صابن کا کارخانہ تھا لیکن وہ بہت بڑے عالم بھی تھے۔
‎بیگم نصرت بھٹو ذوالفقار علی بھٹو کی بہن منورالاسلام کی سہیلی تھیں اور ان کی شادی کے موقع پر بھٹو صاحب سے ان کی راہ رسم بڑھی جو بعد میں شادی میں تبدیل ہوئی۔ بھٹو صاحب ان دنوں یعنی انیس سو اڑتالیس میں امریکہ کے برکلے کالج میں زیر تعلیم تھے۔ بعد میں جب وہ برطانیہ میں آکسفورڈ آئے تو اپنی نئی دلہن کو بھی ساتھ لے گئے۔

‎بھٹو صاحب نے بیگم کو ایک ہوٹل میں ٹھہرایا اور وہ رات بھی وہیں رک گئے۔ آکسفورڈ کا اصول تھا کہ کوئی طالبعلم رات گیارہ بجے کے بعد باہر نہیں رہ سکتا تھا اور جب بھٹو صاحب کو غیر حاضر پایا گیا تو اگلے روز ان کی پرنسپل کے پاس پیشی ہوگئی۔ انہوں نے وجہ پوچھی تو بھٹو نے انہیں بتایا کہ وہ اپنی نو بیاہتا بیگم کے پاس تھے۔ جس پر انہیں پرنسپل نے بعد میں ان کے ساتھ رہنے کی اجازت دے دی۔ بعد میں بیگم بھٹو واپس پاکستان آگئیں اور اکیس جولائی انیس سو تریپن کو ان کے ہاں پہلے بچے یعنی بینظیر بھٹو کی ولادت ہوئی۔ اس وقت بھٹو صاحب لندن میں تھے اور کچھ ماہ بعد پاکستان آئے۔
‎ذوالفقار بھٹو کو اسکندر مرزا تک پہنچانے میں بیگم نصرت بھٹو کا ہاتھ نہیں تھا اور یہ تاثر غلط ہے کہ مسز ناہید اسکندر سے دوستی کی وجہ سے بھٹو وزیر بنے۔ اصل میں اسکندر مرزا کا سر شاہنواز بھٹو سے تعلق تھا اور اس کی وجہ سے انہوں نے بھٹو کو وزیر بنایا۔
‎1966 میں بیگم بھٹو پیپلز پارٹی کے شعبہ خواتین کی سربراہ بنیں اور اُسے منظم کیا اور یہ ان کی باقاعدہ سیاست میں شمولیت تھی۔ جب بھٹو صاحب کو پھانسی دی گئی تو بیگم نصرت بھٹو اور بینظیر نظر بند تھے انہیں تدفین میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی۔
بعد میں جب جمہوریت کی بحالی کی تحریک ’ایم آر ڈی‘ کو کامیاب کرنے کے لیے بیگم بھٹو نے ولی خان، نوابزادہ نصراللہ اور دیگر سے رابطے کئے تو بےنظیر بھٹو نے اس پر اعتراض کیا۔
"انہوں نے میرے والد کو پھانسی دلوائی ان سے مدد نہ مانگیں"۔
جس پر بیگم بھٹو نے کہا کہ ضیاء الحق نے ان سے دھوکہ کیا ہے اور اگر دشمن کے دشمن ملیں تو اس میں کوئی حرج نہیں۔
  ‎بیگم نصرت بھٹو رحم دل، نرم گو اور شائستہ انداز میں بات کرنے والی خاتون تھیں اور کارکنوں کے لیے ایک شفیق ماں کی طرح تھیں۔ بیگم بھٹو خود نمائی کے خلاف تھیں اور ایک مرتبہ ان کے نام سے جب ڈسپینسری کا افتتاح ان سے کروایا گیا تو انہوں نے اس کا نام بدلوا دیا۔
1976 میں سیلاب کے دوران وہ متاثرین میں سامان آخر تک خود بانٹتی تھیں۔ ایسا نہیں کہ ایک تھیلا دیا تصویر بنوائی اور چل دیے۔ ان کی ایک بڑی خوبی یہ بھی تھی کی وہ وعدے کی پکی اور وقت کی پابند تھیں۔

‎مرتضیٰ بھٹو جب شام میں تھے تو اس وقت جنرل آصف نواز نے انٹیلی جنس کے افسر اور اپنے بھائی کو ان کے پاس بھیجا کہ وہ جلد واپس وطن آئیں اور الیکشن میں حصہ لیں۔ مرتضیٰ بھٹو تیار ہوگئے تو بینظیر بھٹو کو یہ بات ٹھیک نہ لگی۔ کیونکہ بینظیر بھٹو کا موقف تھا کہ ایجنسیاں انہیں استعمال کرنا چاہتی ہیں۔
‎ایک دن بینظیر بھٹو نے مجھے، فخری بیگم (نصرت بھٹو کی بھانجی) اور فاروق لغاری کو اسلام آباد بلایا اور کہا کہ بیگم نصرت بھٹو کو ہم تینوں قائل کریں کہ فی الحال مرتضیٰ بھٹو کو روکیں اور جب الیکشن ہوجائیں اور حکومت بن جائے تو پھر وہ آئیں تو انہیں وزیر اعلیٰ یا گورنر بناد یں گے۔ کیونکہ اگر الیکشن سے پہلے مرتضیٰ آئے تو پیپلز پارٹی کو نقصان ہوگا۔ ہم تینوں بینظیر سے ملنے کے بعد بیگم بھٹو سے ملے انہیں قائل کرنے کی کوشش کی اور بڑے دلیل دلائل دیے لیکن مجھے لگا کہ وہ کچھ حد تک قائل ہوگئیں لیکن بعد میں مرتضیٰ بھٹو کا نامینیشن داخل ہوچکا تھا اس لیے بیگم نصرت بھٹو نے ان کے لیے مہم چلائی اور انہیں جتوایا۔
‎جب مرتضیٰ بھٹو کا قتل ہوا تو میں متحدہ عرب امارات میں سفیر تھا اور بیگم نصرت بھٹو لندن میں تھیں اور عین اس دن وہ واپس پاکستان آرہی تھیں۔ مجھے وزیر اعظم بینظیر بھٹو کے ایک سینئر افسر نے ہدایت کی کہ بیگم صاحبہ کو مرتضیٰ بھٹو کے قتل کا پتہ نہ چلے کیونکہ ایسا نہ ہو کہ صدمے سے انہیں کچھ ہوجائے۔ بیگم صاحبہ کے لیے دبئی میں میں نے وی وی آئی پی لاؤنج کا انتظام کیا اور وہاں سے پی آئی اے کی پرواز سے کراچی آنا تھا۔ میں نے پی آئی اے والوں سے کہا کہ فرسٹ کلاس میں کوئی اخبار نہ رکھیں کیونکہ اس دن ہر اخبار میں مرتضیٰ کے قتل کی خبر صحفہ اول پر تھی۔
‎جہاز میں بیگم صاحبہ کے سیکریٹری مسلم مل گئے۔ انہیں میں نے بتایا کہ اوپر سے حکم ملا ہے کہ مرتضیٰ کے قتل کا بیگم صاحبہ کو پتہ نہ چلے۔ انہوں نے کہا ،
"نہیں قسطوں میں انہیں بتاتے ہیں۔ "
وہ گئے اور پہلے بیگم صاحبہ کو بتایا،
"مرتضیٰ کے لوگوں کا پولیس سے جھگڑا ہوا ہے اور میر صاحب ان میں نہیں۔"
بعد میں بتایا،
"میر مرتضیٰ زخمی ہوئے ہیں".
یہ بات سُن کر وہ گُم سُم ہوگئیں۔
‎ہم کراچی پہنچے تو رن وے پر ہی جہاز کو روک کر ایمرجنسی والی سیڑھی لگا کر ان کو اور ہمیں اتارا گیا اور رن وے پر گاڑی میں بینظیر بھٹو، فخری بیگم اور آصف علی زرداری بیٹھے تھے۔ وہ بیگم صاحبہ کو لے کر پرانے ائرپورٹ کے وی آئی پی لاؤنج میں چلے گئے۔ ہمیں بتایا گیا کہ خصوصی پرواز سے لاڑکانہ جائیں گے۔
‎مرتضیٰ بھٹو کے قتل کے بعد بیگم صاحبہ کو کافی صدمہ پہنچا اور بعد میں انہیں بینظیر بھٹو دبئی لے گئیں۔ جہاں وہ یاداشت کھوجانے والی بیماری ’الزائمر‘ میں مبتلا ہوگئیں۔

سوموار، 17 جولائی، 2017

بیٹی کی قربانی !

عجائب خانے کا گائیڈ سیاحوں کو لے کر ایک پرانی تصویر کے پاس رکا ۔ لمحے بھی کے لئے سیاحوں کی طرف دیکھا اور گویا ہوا ۔
کچھ لوک داستانیں ایسی ہوتی ہیں،  جو رسوم و رواج سے ھٹ کر انسان کو سوچنے کے نئے انداز نئے زاوئیے دے جاتی ہیں۔ ایسی ھی ایک کہانی پومپی آئی لینڈ کی ہے۔
جہاں ایک بادشاہ نے کسی خطا پر، ایک بوڑھے شخص " میکن " کو “بھوک تا مرگ" کی سزا دی اور اسے جیل میں ڈال دیا - بوڑھے کی ایک ہی بیٹی " پیرو " نے باپ سے روزانہ ملاقات کی درخواست دی جو بادشاہ نے قبول کر لی۔
https://en.wikipedia.org/wiki/File:Affresco_romano_-_Pompei_-_Micon_e_Pero.jpg

بیٹی نے اپنی شیرخوار بچی کو گھر پر چھوڑا اور تلاشی کے مراحل سے گزر کر تاریک کوٹھڑی میں پہنچی۔ ہاتھ پاوں زنجیروں میں قید اس کا بھوکا پیاسا باپ فرش پر نیم بیہوش پڑا تھا۔
وہ اگلے دن آئی،
گیٹ پر بیٹی کی سختی سے تلاشی لی جاتی کہ کہیں وہ اپنے باپ کیلئے خورد و نوش کا سامان نہ لے جاسکے.
ہر گزرتے دن کے ساتھ بوڑھا کمزور ھونے لگا۔ نڈھال باپ کو موت کے قریب جاتے دیکھ کر بیٹی دل مسوس کر کے رہ جاتی وہ باپ کے پاس بیٹھ کر اُسے دیکھتی رہتی ، کبھی ہاتھ سہلاتی ، کبھی الجھے ہوئے بالوں میں لرزتی انگلیوں سے کنگھی کرتی ،
کیا میں اپنے باپ کو چند مزید سانسیں بھی نہیں دے سکتی؟
تیسرے دن اُس نے پدرانہ محبت اور ذہن میں سوچے جانے والے گناہ کو ترازو کیا۔
اُسے تاریخ کے پردوں میں لپٹی ہوئی ایک کہانی جہاں بیٹیوں نے باپ ، کی نسل کو ختم ہونے سے بچایا ۔ یاد آئی ۔

‎اُس کے اندر ایک ماں بیدار ہوگئی ، وہ ایک نئی سوچ کے ساتھ گھر سے زندان میں تلاشی کے بعد داخل ہوئی ،  انجان جذبے کی گرفت میں کانپتے ھاتھوں سے قریب المرگ باپ کا منہ اپنی چھاتی سے لگا دیا۔ کبھی باپ کو سنبھالتی تو کبھی دربانوں کے خوف سے دروازے کی آھٹ بن جاتی۔
اب اُس کا روزانہ کا یہ معمول بن گیا ۔ وہ اپنی شیر خوار بچی کو دیگر خوراک دیتی اور قید خانے میں وہ بیٹی سے ماں بن جاتی جو ایک لاغر جسم کو توانائی دینے لگی

‎دو ہفتوں سے زیادہ بیت گئے ، دربانوں کو تشویش ہوئی کہ ناتواں قیدی کو بہت عرصہ پہلے مر جانا چاہیئے تھا مگر وہ ابھی تک زندہ ہے۔ بیٹی پر خفیہ نگرانی سخت کر دی گئی۔ اور پھر ایک دن دربان نے بیٹی کو دودھ پلاتے ہوئے گرفتار کر لیا۔
مقدمہ ،عادالتِ عالیہ میں پہنچا ۔
‎پورا شہر بیٹی کے کردار پر بریکنگ نیوز اور مباحثات سے گونج اٹھا۔ ہر دوسرا مرد بیٹی کو گناہ گار قرار دے رہا تھا۔
علماء کتابوں سے گناہ کبیرہ اور عبرت ناک سزا کے حوالے ڈھونڈ لائے۔ نیکی بدی کے دیوتاؤں میں جنگ ھوئی۔ زیوس نے فیصلہ کیا ، تو پہاڑوں سے اتر کر انسانیت کی دیوی نے بیٹی کے ماتھے پر مقدس بوسہ دیا اور بوڑھے کو زندگی سے آزاد کر دیا۔
لیکن
ثنا خوانِ تقدیس مذہب نے ، بائیبل کے حوالہ جات مسترد کرتے ہوئے بیٹی کو اپنی لکھی ہوئی کتابوں میں درج تفسیرات کی بنیاد پر بیٹی کو سنگسار کرنے جب چبوترے پر لائے ، تو وہ چلا کر بولی ،
" مذہب کے رکھوالو میرے ایک سوال کا جواب دو ؟"
" گناہ گار عورت ، پوچھ اپنی زندگی کا آخری سوال !"

" مذہب کے رکھوالو! کیا باپ کی زندگی کے لئے میرا گناہ  لوط کی بیٹیوں سے زیادہ سنگین ہے ؟"

ایک شور بلند ہوا ، کافر، زندیق، مارو ، مارو اور "پیرو"  کی چینخیں پاگل مذہبی ہجوم کے شور میں دب گئیں ۔ 
‎40 عیسوی میں آرٹسٹ "افریسکو رومانو"  نے اس لوک کہانی "رومن چیریٹی" کو تصویر کیا جو دنیا کے بڑے عجائب گھروں میں باپ اور بیٹی کے مختلف ناموں سے ، آج بھی آویزاں ھے۔ کہیں پومپی آئی لینڈ کی میکن اور پیرو ہے ، تو
کہیں یہ ہسپانیہ کی سیمن اور پیرو ہے۔
‎گائیڈ نے تصویر کی طرف دیکھا اور پھر سر جھکا کر "بیٹی کی قربانی" کو خراجِ تحسین دینے کے لئے سر کو جھکا کر خاموش ھو گیا۔
سیاحوں نے بھی گردنیں جھکا دیں 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ: یہ کہانی تصوراتی کہانیوں کے ضمن میں شامل کی گئی ہے ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔