میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 24 اگست، 2016

مہاجر ، صرف مہاجر رہتا ہے

14 اگست 1947 کے بعد ہندوستان سے، خون کا دریا عبور کر کے  پاکستان  کے طرف ہجرت کرنے والے مہاجر ، نہایت امن پسند اور محبت کرنے والے انسان تھے ، وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر قائد اعظم کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے ، خالی ھاتھ روانہ ہوئے تھے ۔
 
 میں جب اپنے ماضی کی طرف نظر ڈالتا ہوں تو مجھے ، ایک لفظ " ھندوستانی " کسی بھی خاندان کے بارے میں پوری داستان سنا دیتا ہے۔
معلوم نہیں کب یہ لفظ ، قومیت کی پہچان بنا ؟
ایرانی ، افغانی ، برمی، انڈو نیشی کی طرح یہ لفظ، پورے یورپ میں بطور " انڈین "  برصغیر میں رہنے والوں کی پہچان ہے ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ سکول کے بچوں کے پوچھنے پر ہم اپنا تعارف، پاکستانی کراتے تھے ، اُس وقت 1960 میں بھی بچے ہنستے تھے اور چلاتے تھے ۔

" اُوئے یہ تو ہندوستانی ہے!

آج بھی 70 سال بعد قبروں میں پیر لٹکائے،  وہی بچے ہنستے ہیں اور چلاتے ہیں۔ 

تم، سندھی کہاں؟ مہاجر ہو! 

کوئٹہ کے رہنے والے ہو؟ 
اچھا!
مقامی نہیں لگتے!
اچھا مہاجر ہو!

پشاور میں رہتے ہو؟
ھاں، وہاں بہت مہاجر ہیں ۔

 یار کیوں پنجابی کی ٹانگ توڑتے ہو ؟
مہاجر پنجابی نہیں بول سکتے۔

پھر ہماری جوانی میں مہاجروں نے اپنی شناخت ، سندھی ، پنجابی ، پٹھان یا بلوچ کروانے کے بجائے ، مہاجر اپنا لی ۔ جس کے لئے اُنہیں نے نہ جانے کیا کیا طعنے سُنے اور سب سے پہلا طعنہ ، اُنہیں خود ساختہ مسلم جماعت ، اسلامی نے دیا ۔

" اسلام میں عصبیت حرام ہے "
اُس کے بعد خودساختہ حدیثوں کا دروازہ کھل گیا ۔ اور
فتاویٰ کی ٹکسال ہے ، فتوے چھپ کر نکلنے لگے ۔

٭ -  پاکستان کی تقسیم کی بات کرتے ہیں !
(جماعت اسلامی ایک طرف ،سارا پاکستان ایک طرف  )

 ٭ - ہم فرقوں پر یقین نہیں رکھتے !
 (جب کہ ، بریلوی ، دیوبندی ، شیعت کے بعد جماعت اسلامی کا اضافہ  )

٭ - سندھ میں رہنے والے سب سندھی ہیں !
(مگر کوٹہ صرف سندھیوں کے لئے )

٭ - نفرت کو ہوا مت دو ۔ 
 (پاکستان کے مسلمان ، راہ راست پر نہیں، سوائے کہ ہم)

٭ - مہاجر صرف اردو بولنے والے نہیں دیگر زبانیں بولنے والے بھی ہیں۔ 
 (بھئیے ، مکڑ ، تلئیر ، قبضہ گیر ۔ صرف اردو بولنے والے  )

مہاجروں نے دل کھلا کیا اور ھجرت کرنے والے پنجابیوں ، پٹھانوں کو بھی ، اپنی واحد اردو بولنے والوں کی نمائندہ جماعت، "مہاجر قومی موومنٹ"  میں شامل کر کے ،
"متحدہ قومی محاذ" میں تبدیل کیا اور یوں ایک وسیع الفکر ، عام آدمیوں کی جماعت بنائی اور عام سویلئین کو ، ایچیسونئین ، خان زادوں ، نواب زادوں ، بلوچ زادوں کی صف میں شامل کروا کر اسمبلیوں میں لا بٹھایا ۔

 بس یہیں سے دشمنی کی ابتداء دوستی کی لفاظی کی آڑ میں شروع ہو گئی ۔
بھلا صاحبانِ ثروت کو یہ کیسے گوارا ہو کہ ، ایک عام آدمی اُس کے پہلو سے لگ کر بیٹھ جائے ۔ وہ تو بس ووٹ لینے اور جھوٹے وعدوں پر ٹرخائے جانے والی مخلوق ہیں ۔ 

تو ہندوستان سے آئے ہوئے مہاجر ، مکڑ ، قبضہ گیر اعلیٰ عہدوں پر کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟
انہیں دور رکھنے کا واحد طریقہ ، کوٹہ سسٹم کو طول دو تاکہ اداروں کے سربراہ فرزندِ زمین بن جائیں وہ فرزاندانِ زمین جو خود سب سے بڑے ، مکڑ ، تلئیر ، قبضہ گیر ، خونی و قاتل ہیں ، جنہوں نے اصل فرزندانِ زمین کو ریڈ انڈین کی طرح گاجر مولی کی طرح کاٹا ، اُن کی زمینوں پر قبضہ کیا ، اور مالک بن بیٹھے ۔ یہ وہ فرزندانِ زمین ہیں جن کی فطرت میں خود غرضی ، مکاری اور عیاری بھری ہوئی ہے۔ 

جب موقع ملے وہ اپنی خباثت کو مہاجروں کے خلاف ضرور ظاہر کرتے ہیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


سوموار، 22 اگست، 2016

8264 دھشت گرد !

سائبر کرائم کے پہلے مجرم ۔ 

دھشت گردی اس قوم کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اپنے سب سے بڑے مسئلے پر یہ قوم کتنی سنجیدہ ہے؟ 
محض 20 دنوں کے اندر 8264 غلط کالیں وہ بھی اس نمبر پر جو صرف اور صرف دھشت گردی کی اطلاع کےلیے مخصوص ہے۔ 
کیا اس سے بڑی بدبختی کی کوئی علامت ہے کہ زندگی بچانے کےلیےقائم کیے گئے ذرائع کو ایک قوم اپنے غیر سنجیدہ رویے کی وجہ سے کام سے روک رہی ہے۔ 20
 دنوں میں فی گھنٹہ کے حساب سے 17 غلط کالیں۔ اس سے بڑھ کر اور کوئی ظلم ہو ہی نہیں سکتا جو قوم اپنے حق میں کرے۔ اس غیر سنجیدہ رویے پر جتنی لعنت و ملامت کی جائے کم ہے۔

 جب ٹیلی کمیونیکیشن اتنی فعال نہیں ہوتی تھی کہ کسی بھی کال کرنے والے کے بارے معلوم کیا جاسکے ۔ تب اِس قسم کے مذاق کم تھے ، لوگ ذمہ دار تھے ۔
 موبائل کے استعمال نے ، نہ صرف اِن مذاق کی حد میں خطرناک اضافہ کیا ہے، بلکہ مجرموں تک پہنچنے میں 100 فیصد کامیابی حاصل کی ہے ۔
حکومت اِس بارے میں سنجیدہ ہے کہ غلط معلومات مہیا کرنے والوں پر " سائیبر کرائم " کے تحت مقدمات بنائے جائیں ۔

 
20 Points of National Action Plan۔

1. Implementation of death sentence of those convicted in cases of terrorism.

2. Special trial courts under the supervision of Army. The duration of these courts would be two years.

3. Militant outfits and armed gangs will not be allowed to operate in the country.

4. NACTA, the anti-terrorism institution will be strengthened.

5. Strict action against the literature, newspapers and magazines promoting hatred, extremism, sectarianism and intolerance.

6. Choking financing for terrorist and terrorist organizations.

7. Ensuring against re-emergence of proscribed organizations.

8. Establishing and deploying a dedicated counter-terrorism force.

9. Taking effective steps against religious persecution.

10. Registration and regulation of religious seminaries.

11. Ban on glorification of terrorists and terrorist organizations through print and electronic media.

12. Administrative and development reforms in FATA with immediate focus on repatriation of IDPs.

13. Communication network of terrorists will be dismantled completely.

14. Measures against abuse of internet and social media for terrorism.

15. Zero tolerance for militancy in Punjab.

16. Ongoing operation in Karachi will be taken to its logical end.

17. Balochistan government to be fully empowered for political reconciliation with complete ownership by all stakeholders.

18. Dealing firmly with sectarian terrorists.

19. Formulation of a comprehensive policy to deal with the issue of Afghan refugees, beginning with registration of all refugees.

20. Revamping and reforming the criminal justice system.




















فاٹا ۔ پاکستانی شہریت مبارک ہو!

69 سال ، وفاق کے زیرِ انتظام رہنے کے بعد" فاٹا" پاکستان کے علاقے میں بحیثیت ضلع شامل ہو کر ، صوبہءِ خیبر پختون خواہ کا حصہ بن گیا ۔
طاقتور پولیٹیکل ایجنٹ کو عہدہ ڈپٹی کمشنر میں تبدیل ہو گیا اور اسسٹنٹ پولیٹیکل ایجنٹ ، اسسٹنٹ کمشنر ہوگا ۔ ایک طویل عرصے سے فائلوں میں دبے بل کو ، وزیر اعظم پاکستان کے دستخط کے بعدقانونی حیثیت دے دی گئی ۔ 

فاٹا کے عوام ، سریم کورٹ ، ھائی کورٹ اور سول کورٹس میں اپنے مقدمات لے جا سکیں گے ،
ایک بڑے ضلع کے اضافے سے ، خیبر پختون خواہ میں کام کا دباؤ بڑھ جائے گا ۔ لیکن فاٹا کے باشندوں کو -پاکستانی شہریت ملنے پر یہ بوجھ اتنا نہیں ہوگا ، جتنا فاٹا کے باشندوں نے بنیادی حقوق کے حصول اوراپنی شناخت کے لئے اٹھایا ۔

فاٹا ، ایجنسیوں کے عوام کو پاکستانی شہریت مبارک ہو!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔