میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 18 فروری، 2017

ایرانی شعبدہ باز ۔ 1۔ جاوید چوہدری کی نظر میں

اسلام الدین اور اسلام مذہب ۔ دو الگ راستے ہیں ۔ ایک اللہ کا ترتیب دیا ہوا ، جو الکتاب میں محفوظ ہے اور کتاب اللہ (کائینات میں اللہ کی آیات) کی تصدیق کرتی ہے ۔ یوں سمجھیں کہ ، کسی ماورائی قوت کو مختلف اسمائے صفت (الہا) سے موسوم کیا گیا ، جب جھگڑے بڑھے تو ، ایک سپریم قوت ( ال الہہ ) کو ماننے کا انسانی فیصلہ کیا گیا ۔ تا کہ انسانی مذاھب میں ، کیوں اور کیسے کی وجوہات ختم کی جاسکیں ۔ دی مائیٹی الہہ ، کے مختلف انسانی اسماء دے دئے گئے ، پھر اُس کی طرف سے سُپریم ہدایت نامہ بھی جاری کروایا گیا اور اُس ہدایت نامے کے مطابق کام کروانے والے اُس کے مددگار بھی بنائے گئے ، جن کے اپنے اپنے ہدایت نامے تھے ۔ چنانچہ سپریم ہدایت نامہ اور اُن کی روشنی میں جاری کردہ مددگاروں کے ہدایت ناموں پر عمل کروانے کے لئے ۔ پیشوائیت انچارج بنی ۔ سپریم ہدایت نامہ ۔ مددگاروں کے ہدایت نامے اور پیشوائیت کی اُن کی تفسیر نے مذاہب انسانی کو جنم دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔
جنہوں نے پیشوائیت کے ہدایت ناموں سے بغاوت کی اور سپریم ہدایت نامہ اور مددگاروں کے ہدایت نامے خود کھوجنے کی کوشش کی وہ ، دماغی دنیا کے مقیّد بن کر صوفی ، قلندر ، درویش ، سادھو ، گیانی اور مجنون بن گئے ۔
اِن کی بغاوت کی بنیادی وجہ میری تحقیق کے مطابق صرف ایک ہوسکتی تھی وہ یہ کہ وہ صنف مردانگی سے محروم (مخنث) تھے ۔ دنیا کی بے ثباتی کی تیز لہروں کا مقابلہ نہ کرسکے اوربنت حواؤں سے کہیں بہت دور بیابانوں کی راہ لی ۔ ایک دسوری وجہ بھی ہو سکتی تھی ، وہ یہ کہ انسانی قتل کا بوجھ اور فرار نے اُنہیں خوف میں گپھاؤں کا راستہ دکھایا ۔ اُن کی انسانی لاتعلقی نے اُنہیں ، اُن انسانوں میں ممتاز کرنا شروع کیا جو خود گناہوں یا ضرورت کے بوجھ تلے دبے تھے ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں پائے جانے والے اِس قبیل کے افراد کے قبیلے کا سلسلہءِ نسب مختلف راہوں سے گذرتا ۔ کوفہ میں جا ملتا ۔ اب اللہ جانے کہ اِن صوفی ، قلندر اور درویش نے خود جوڑا یا اُن کے مزار کے مجاوروں نے " تپسوی مہاراج " کی راہ پر چلتے ہوئے اُن کا ٹانکا لگایا اور اُس ٹانکے میں اتنی مہارت سے سلمیٰ و ستارے سجائے کہ انسانوں نے اُنہیں رسالت کے قدموں سے جوڑ دیا اور مذہبِ اسلام کی بنیاد پڑی جس کو سارا شیرہ واقعہ کربلا کی نہروں سے نکالا گیا ۔ جس کی چاشنی میں قلم ڈبو کر قلمی فنکاروں نے اپنی اپنی روزی کا بندوبست کیا ۔ (مہاجرزادہ )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لعل شہباز قلند ر کے نام سے شہرت پانے والی بزرگ ہستی کا نام ان کے والد نے سید عثمان رکھا مگر بعدمیں انہوں نے لعل شہباز قلند رکے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔ آپ کی ولادت آذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے۔

جس طرح ہندوستان میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری کی وجہ سے اجمیر کو شناخت حاصل ہوئی ہے اسی طرح سندھ میں سیہون شریف کو حضرت لعل شہباز قلندر کی وجہ سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔
سر زمینِ سندھ کی بھی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے یہاں تشریف لائے اور رشدوہدایت کے دریا جاری کیے۔ ان بزرگانِ دین نے اپنے علم وعمل کی روشنی سے صرف سرزمین سندھ کوہی نہیں بلکہ گردونواح کو بھی منور کیا۔
باب الاسلام! سندھ میں ہزاروں بزرگانِ دین، اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا سلسلہ رشد وہدایت فیوض وبرکات جاری رہا ۔
آذربائیجان کے ایک چھوٹے سے قصبے مروند میں حضرت کبیر الدین احمد تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت سید محمد کبیرا لدین احمد شاہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
آپ کی اہلیہ اس مسئلہ کی وجہ سے اْداس رہنے لگی تھیں۔ سید محمد کبیر الدین ہر شب تہجد کے بعد بارگاہِ ایزدی میں مناجات کرتے اور ایک حالتِ گریہ طاری ہوجاتی۔

ایک شب اْنہوں نے خواب میں حضرت علیؓ کو دیکھا اور عرض کی ‘‘یا امیر المومنین! آپ میرے حق میں اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے فرزند عطا فرمائے’’۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تسلی دیتے ہوئے آپ کو ایک فرزند کی بشارت دی۔
کچھ عرصہ بعد570 یا 573ھ بمطابق 1177ء میں سیدکبیرالدین احمد کے گھر ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا نام ‘‘محمد عثمان’’ رکھا گیا اسے آنے والے زمانے میں آسمانِ ولایت کا شہباز بننا تھا۔
محمد عثمان کی ابتدائی تعلیم آپ کی والدہ ماجدہ کی نگرانی میں ہوئی۔ سات برس کی عمر میں کلام پاک حفظ کرلیا۔ حضرت شیخ منصور کی نگرانی میں علومِ ظاہری کی تکمیل کی۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی۔ آپ کی والدہ صاحبہ آپ کی اوائل عمری میں وفات پاگئیں اور والد کا سایہ بھی والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد آپ کے سر سے اْٹھ گیا۔
ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد آپ کا میلان طریقت و معرفت یعنی روحانی علوم کی طرف ہوا ، چنانچہ آپ نے اس تعلیم کے لیے مروند سے سبزوار کا بھی سفر کیا۔ ان دنوں وہاں جلیل القدر شخصیت سید ابراہیم ولی مقیم تھے۔ آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے۔ آپ بڑے عابد وزاہد اور جیّد عالم تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر حضرت ابراہیم ولی کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولی نے حضرت لعل شہباز قلندر کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی مشائخ اور علماء کی ایک محفل میں حضرت لعل شہباز قلندر کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔

غیبی اشارہ ملنے پر اپنے وطن مروند سے عراق تشریف لے گئے اور وہاں سے ایران تشریف لائے۔ حضرت امامِ رضا سے روحانی وقلبی وابستگی کی وجہ سے آپ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے۔ چندروز تک مراقبے کا سلسلہ جاری رہا، آپ کو باقاعدہ گوشہ نشینی کا حکم ہوا۔ آپ خانقاہِ رضویہ میں مصروفِ عبادت رہے یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا اور آخری ایّام میں آپ کو حکم ہو ا کہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل کریں۔ اس طرح آپ امام رضا سے روحانی اجازت ملنے کے بعد حجازِمقدس روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں عراق پہنچنے پر حضر ت لعل شہباز قلندر، حضرت عبدالقادر جیلانی کے مزار پر حاضر ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے بغداد سے حجاز تک راستے میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ آپ تین ماہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے حج کی ادائیگی کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مسجد نبویؐ میں جب روضہ اطہر کے قریب پہنچے تو دیر تک بارگاہِ رسالت میں سرجھکائے سلام پیش کرتے رہے۔ آپ گیارہ ماہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔غیبی اشارہ ملنے پر آپ سندھ کی طرف روانہ ہوگئے۔
سفر کے دوران شہباز قلندر مکران کے ساحل پر پہنچے ، جب آپ وادی پنج گور میں داخل ہوئے تو ایک سرسبز میدان نے آپ کے قدم پکڑلیے۔ آپ نے یہاں چلہ کشی کی اور اس میدان کو یادگار بنا دیا۔ مقامی مکرانیوں نے اس ویرانے میں ایک فقیر کو چلہ کشی کرتے دیکھا تو دیدار کے لیے امڈ کر آگئے۔ آپ کی عبادت و ریاضت سے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے مرید ہوگئے۔

یہاں ایک عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ اس دشت کو ‘‘دشت شہباز’’ بنا کر آگے بڑھ گئے۔ آپ جب پسنی سے گزرے تو ایک گڈریا اپنی بکریوں کا ریوڑ لے کر جا رہا تھا۔ آپ عالم جذب میں تھے۔ وہ گڈریا اپنی بکریوں کو بھول کر آپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے چند دن کے ساتھ میں اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگا کہ آپ کے جانے کے بعد وہ گڈریا ‘‘لعل’’ کے لقب سے مشہور ہوگیا۔ پسنی بندرگاہ کے ٹیلے کی دوسری جانب گڈریا لعل کا ایک مزار آج تک اسی گڈریے کی یاد دلاتا ہے۔
یہاں سے آپ سندھ میں داخل ہوئے لیکن رکے بغیر سیدھے ملتان پہنچے اور شہر ملتان کے مضافات میں قیام فرمایا۔ آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ یہ لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے۔ قلندر شہباز کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہباز کی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔
ملتان کے قاضی علامہ قطب الدین کاشانی کی سماعت بھی ان قصوں سے آشنا ہوئی۔ علامہ قطب الدین کاشانی ایک عالم فاضل شخص تھے لیکن صوفیت اور درویشی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے کسی عقیدت مند نے قاضی کا یہ فتویٰ آپ تک بھی پہنچا دیا۔آپ چند خدمت گاروں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے۔

حضرت بہاؤ الدین زکریا کی روحانی ولایت سے اس وقت ملتان جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر روز مجلس ارشاد کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہزاروں طالبان حق کسب فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔آپ مسند ارشاد پر جلوہ افروز تھے کہ کسی نے اطلاع دی :
‘‘حضرت عثمان مروندی قلندر نام کے کوئی بزرگ علامہ قطب الدین کاشانی سے مناظرے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔’’
آپ نے کہا ‘‘جاؤ اور قلندر کو نرمی سے سمجھا بجھا کر میرے پاس لے آؤ۔’’ حضرت لعل شہباز قلندر ابھی ملتان کے دروازے پر پہنچے تھے کہ بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مریدین آپ کے استقبال کے لیے پہنچ گئے۔
اب آپ کے قدم قاضی کی عدالت کے بجائے حضرت بہاؤ الدین زکریا کی خانقاہ کی جانب تھے، حضرت بہاؤالدین زکریا سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ حضرت لعل شہباز قلندر ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ خانقاہ میں بیٹھے تو اٹھنا بھول گئے۔ دن رات صحبتیں رہنے لگیں۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکر اور حضرت سرخ بخاری سے ہوئی۔
اس زمانے میں خطہ پنجاب اور سندھ میں قرامطہ فرقے کا بہت زیادہ اثر تھا۔ ان کے عقائد بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی تھے۔ خطہ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں ابھی تک اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔

ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریا نے رشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت فرید الدین گنج شکر اور سید جلال سرخ بخاری کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے۔ یہ چارروں بزرک کافی عرصہ ایک ساتھ رہے۔بعد میں یہ چاروں بزرگ چار یا رکے نام سے بھی مشہور ہوئے۔
حضرت لعل شہباز قلندر کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس کی وجہ سے لوگ آپ سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ آپ ان تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے ، آپ سے بے پناہ کرامات بھی ظاہر ہوئیں، جن سے عوام الناس میں آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ان اولیاء اللہ کی تبلیغی کوششوں نے لوگوں کو بہت سکون اور اعتماد عطا کیا اور لوگ کثرت سے اسلام قبول کرتے چلے گئے۔
ہندوستان کے مختلف شہروں کی حضرت لعل شہباز قلندر سیاحت کرتے ہوئے جونا گڑھ تشریف لائے ان دنوں یہاں کے لوگ ایک عجیب مصیبت میں گرفتار تھے۔ دن کی ایک خاص گھڑی میں ایک زنبیل اور ڈنڈا نظر آتا تھا۔ اسے کون پکڑے ہوئے ہے، کچھ نظر نہ آتا تھا۔ بس ایک آواز آتی تھی :
‘‘جسے جو کچھ دینا ہے، اس زنبیل میں ڈال دے۔’’
لوگوں میں یہ بات بھی مشہور ہوگئی تھی کہ اگر کوئی اس زنبیل میں کچھ نہیں ڈالے گا تو نقصان اٹھائے گا۔

اس لیے لوگ خوف زدہ ہو کر کچھ نہ کچھ اس زنبیل میں ڈال دیاکرتے تھے۔ یہ زنبیل کہنے کو ایک چھوٹا سا کاسہ تھا لیکن اس میں بہت سارا سامان سما جاتا تھا۔ لوگ اس زنبیل سے متاثر تو تھے لیکن روز روز کی طلب سے تنگ آچکے تھے۔ انہوں نے بہت سے بزرگوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی اس زنبیل اور ڈنڈے کو نظر آنے سے نہ روک سکا۔
یہ قصہ چل ہی رہا تھا کہ حضرت لعل شہباز قلندر شہر سے باہر آ کر مقیم ہوئے۔ آپ کی شہرت سن کر ایک درویش آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس درویش نے پورا واقعہ آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی۔
وہ درویش آپ کو اس محلے میں لے گیا جہاں وہ زنبیل ظاہر ہوتی تھی۔ کھیل شروع ہوچکا تھا۔ زنبیل اور ڈنڈا ہر دروازے پر، ہوا میں اْڑتا ہوا پہنچ رہا تھا اور لوگ اپنی نذریں اس میں ڈال رہے تھے۔ قلندر شہباز نے اپنا دست مبارک بڑھا یا۔ زنبیل اور ڈنڈا دونوں آپ کے ہاتھ میں آگئے۔ لوگ دم بخود کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔
حضرت شہباز قلندر نے ڈنڈا اپنے پاس رکھا اور زنبیل اس درویش کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘زنبیل تم رکھ لو۔ آج سے تم زنبیل شاہ ہو۔ جو بھی تمہاری زنبیل سے کھائے گا، فیض یاب ہوگا۔’’
جوناگڑھ میں آج بھی زنبیل شاہ کا مزار موجودہے۔

دوران سیاحت آپ گرنار اور گجرات بھی تشریف لے گئے اور لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ جس زمانے میں آپ گرنار میں مقیم تھے،آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم رہتا تھا۔ یہ زمانے بھر کے ستائے ہوئے، بیمار اور مفلس انسان تھے جنہیں قلندر کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، انہیں تسلی دیتے، غمخواری فرماتے۔
ایک روایت یہ ہے کہ اسی سیاحت کے دوران میں آپ نے حضرت بوعلی شاہ قلندر سے بھی ملاقات کی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بوعلی شاہ قلندر ہی نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سندھ میں سیوستان (سہون) میں سکونت اختیارفرمائیں۔ ملتان کے لوگوں کی خواہش تھی کہ آپ واپس جاکر ملتان میں ہی قیام کریں لیکن آپ نے سیہون جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور سندھ کا رْخ کیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر 649 ہجری  (1251 عیسوی) میں سندھ تشریف لائے۔
سیہون میں اس وقت ہندو راجہ جیسر جی(جو عرف عام میں راجاچوپٹ کہلاتا تھا) کی حکومت تھی۔ راجہ چوپٹ ایک عیاش طبع آدمی تھا۔ راجہ رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔ لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ بھی مشہور ہے‘‘اندھیر نگری چوپٹ راج’’۔
لوگوں کو بے بس اور لاچار دیکھ کر ایک مجذوب جس کا نام سکندر بودلہ تھا وہ اکثر ایک نعرہ مستانہ لگایا کرتاتھا۔’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘۔

سکندر بودلہ سیوستان کی پہاڑیوں میں عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ ایک رات بزرگ نے خواب میں آوازِ غیبی سْنی کہ ‘‘ایک مرد قلندر آرہا ہے جو ظلمت کو نور میں تبدیل کردے گا’’ پھر اکثر اْن بزرگ کی زبان پر یہ ورد رہتا کہ ‘‘میرا مرشد سائیں آرہا ہے‘‘
اس نعرے کو سن کر شہر کے لوگوں کے دلوں سے دعا اْٹھتی کہ خدا کرے ہمارا نجات دہندہ جلد آئے اور ہمیں راجہ کے ظلم سے بچائے۔
مجذوب کی آواز میں ایسی کڑک تھی کہ راجہ کے قلعے کی دیوار کو چیرتی ہوئی اندر آجاتی تھی۔ رات کے اندھیرے اور سناٹے میں یہ پر سوز آواز اہل قلعہ کی نیندیں اڑادیتی تھی۔ شروع شروع میں تو راجہ اور قلعہ کے لوگوں نے نعروں کو سن کر نظرانداز کردیا تھا۔ جب نعروں میں شدت آگئی تو وہ بھی بوکھلا اٹھے۔ ان فلک شگاف نعروں نے نجانے کیوں راجہ جیسرکونہ صرف مشتعل کرتا بلکہ خوفزدہ کردیا تھا ، بالآخر راجا کے سپاہی گئے اور اس مجذوب کو گرفتار کرکے راجہ کے پاس لے آئے۔
راجہ کے سامنے بھی سکندر بودلہ کی زبان پر یہی الفاظ تھے ’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘ تو راجہ غضبناک ہوگیا اور اْس نے سکندر بودلہ کو قید کروادیا، لیکن قید خانے میں بھی اس کے فلک شگاف نعرے بند نہ ہوئے۔
راجہ رات بھر اذیت کی آگ میں جلتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے وزیروں کو طلب کیا۔ وزیروں نے کہا کہ اس شخص کی کھال ادھیڑی جائے آپ ہی دماغ ٹھکانے آجائے گا۔

راجا نے اجازت دے دی۔ سکندر بودلہ پر تازیانوں کی بارش کردی گئی لیکن وہ یہی کہتے رہے
’’میرا مرشد آنے والا ہے۔‘‘
سکندر بودلہ پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ تقریباً روزانہ ان پر تازیانوں کی بارش کی جاتی تھی لیکن آپ کے ہونٹوں پر ایک ہی نعرہ جاری رہتا تھا۔
سندھ کا علاقہ حضرت شہباز قلندر کے لیے انجان تھا۔ آپ یہاں کی زبان اور ثقافت سے واقف نہیں تھے۔ اس کے باوجود آپ سرزمین سندھ کی طرف تشریف لے آئے۔ حالات کا مشاہدہ کرکے آپ نے کسی ایک جگہ مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ترک کرکے پہلے ارد گرد علاقوں میں تبلیغی دوروں کاآغاز کیا۔
آپ نے ٹھٹھے کے قریب ‘‘آرائی’’ کے مقام پر ایک بزرگ پیر پیٹھ سے ملاقات کی۔یہ بزرگ ایک پہاڑی کے غار میں مصروف عبادت رہتے تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے اسی غار میں آپ سے ملاقات کی اور کامرانی کی دعائیں لے کر رخصت ہوئے۔ آپ نے سندھ کے ایک گاؤں ‘‘ریحان’’ میں بھی کچھ دن قیام فرمایا تھا۔ بعد میں یہی گاؤں حضرت رکن الدین ملتانی کی نسبت سے رکن پور کہلایا۔ جب حضرت لعل شہباز قلندر اس گاؤں میں تشریف لے گئے تو اس کی زمین بنجر تھی۔ پھر اللہ نے آپ کی برکت سے اس زمین کی سرشت بدل ڈالی۔ علاقہ آباد ہوگیا۔ سرسبزوشادابی کی وجہ سے بنجر زمین بھی خزانے اگلنے لگی۔

کراچی کے قریب منگھوپیر کا مزار ہے۔ بعض روایات کے مطابق صاحب مزار حضرت فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ ہیں۔ اسی پہاڑ پر لعل شہباز قلندر کے نام سے ایک بستی آباد ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت لعل شہباز قلندر یہاں تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کیا۔

آپ کی ایک چلہ گاہ حیدرآباد کے نزدیک گنجہ ٹکر کے نزدیک ٹنڈو غلام حسین میں بھی موجود ہے۔ مشہور ہے کہ آپ یہاں چلہ کش ہوئے تھے آپ نے حیدرآباد کے اطراف میں بھی کئی تبلیغی دورے کیے تھے۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ دوران سیاحت قلندرپاک نے ‘‘پاٹ’’ شہر میں حاجی اسماعیل منوہر سے بھی ملاقات کی تھی۔‘‘پاٹ’’ دراصل سندھ کا ایک قدیمی شہر تھا۔
بہت سے علمائے کرام دور دراز کی مسافت طے کرکے اس شہر میں آتے تھے۔ قدیم تذکروں میں اس شہر کو اسی وجہ سے ‘‘قبتہ الاسلام’’ کہا گیا ہے۔ دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں باغات کی کثرت تھی جس میں انار بہت کثرت سے ہوتے تھے۔
سیہون شریف کے ریلوے اسٹیشن کے جنوب میں ایک بلند پہاڑ ہے جس کے اندر ایک قدیم غار موجود ہے۔ روایت ہے کہ اس غار میں حضرت لعل شہباز قلندر نے چلہ کشی کی تھی۔سیہون کے ر یلوے اسٹیشن کے قریب آپ کے نام سے منسوب ایک ‘‘لال باغ’’ بھی ہے ۔روایات کے مطابق اس باغ کے قریب ایک پہاڑی پر بھی آپ نے چلی کشی کی تھی۔

مقامی لوگوں میں یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندر کی آمد سے قبل نہ یہ باغ تھا اور نہ یہ چشمہ۔ لوگ اس مقام پر چشمے کی موجودگی کو شہباز قلندر کی کرامت سمجھتے ہیں۔
یہ چند نشانات جو تاریخ میں محفوظ رہ گئے ہیں، صاف بتاتے ہیں کہ آپ نے سندھ کے دور دراز علاقوں کے دورے کیے۔ اس دور کے سفر آج کی طرح باسہولت نہیں تھے۔ دین کی تبلیغ کے لیے ہمیں آپ کے عزم اور حوصلوں سے رہنمائی اور ترغیب لینی ہوگی۔
آپ کی بہت سی کرامات لوگوں میں مقبول ہیں۔
روایات ہیں کہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی لاعلاج مریض آتا تو آپ اس پر گہری نظر ڈالتے اور فرماتے۔
‘‘اے بیماری! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تو اسے چھوڑے دے‘‘۔
لعل شہباز قلندر کا یہ جملہ مریض میں تندرستی کے آثار پید ا کردیتا۔ اس کے علاوہ بعض اوقات پانی پر دم کرکے بھی مریض کو دیتے اور فرماتے یہ پانی بیمار کو پلاؤ اور آنکھوں کو لگاؤ آپ کی ہدایت پر عمل کرکے بیمار صحتیاب ہوجاتے تھے۔
ایک مرتبہ سندھ اور اس کے قرب وجوار میں اتنا شدید قحط پڑا کہ مخلوقِ خدا سخت پریشان ہوئی۔ اس قحط سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے قلندر سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اس قحط سے نجات دیدے۔

حضرت لعل شہباز قلندر نے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی، ابھی دعا میں مصروف ہی تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور اتنی شدید بارش ہوئی کے تمام خشک کھیت پانی سے بھر گئے۔ ندی نالے پُر ہوگئے۔ اور مخلوقِ خدا نے سکون کاسانس لیا۔
وادی مہران سندھ کے مختلف علاقوں کو فیضیاب کرنے کے بعد حضرت لعل شہباز قلندر’’سیوستان‘‘ یعنی سیہون میں مقیم ہوئے جہاں آپ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوئی اور آپ کے حسن اخلاق کی بہت دور دور تک شہرت ہوگئی۔
لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے جس میدان میں پڑاؤ ڈالا تھا، اس کے قریب ایک بستی میں شراب و شباب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ درویش کے پڑاؤ کی وجہ سے اس بستی کے مکینوں نے خوف محسوس کیا اور راجہ کے پاس جاکر ان کی شکایت کی۔
ان لوگوں کی دروغ گوئی سن کر راجہ غصہ سے تلملا اْٹھا۔ اس نے بہت مغرور لہجے میں اپنے کوتوال کو حکم دیا کہ ان مسلمان فقیروں کوبے عزت کرکے اس کی ریاست سے نکال دیا جائے۔
راجہ جیر جی کے سپاہی گدڑی پوشوں کے خیمے میں داخل ہوئے اور انہیں حاکم سیوستان (سیہون) کا حکم سنایا۔  گدڑی پوشوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے مرشد کے حکم کی پابندی کرتے ہیں۔اگر تمہیں کچھ کہنا ہے تو ان سے کہو۔

راجا جیر جی کے سپاہی اسی حالت غضب میں قلندر شہباز کے خیمے کی طرف بڑھے مگر اندر داخل نہیں ہوسکے۔ سپاہیوں کو ایسا محسوس ہوا جسے ان کے پیروں کی طاقت سلب ہوچکی ہے اور وہ اپنے جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہیں۔ پھر جب سپاہیوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو ان کی ساری طاقت بحال ہوگئی۔ سپاہیوں نے دوبارہ خیمے میں جانے کی کوشش کی اس بار بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ مجبوراً سپاہی کچھ کیے بنا واپس چلے گئے۔
راجا جیر جی اپنے سپاہیوں کی مجبوریوں کا قصہ سن کر چراغ پا ہوگیا۔ اس نے فوری طور پر اپنے وزیروں، مشیروں اور درباری نجومیوں کو طلب کرلیا۔تمام واقعات سن کر حاکم سیہون کی طرح اراکین سلطنت اور ستاروں کا علم جاننے والے بھی حیران وپریشان تھے۔
پھر درباری نجومیوں نے ستاروں کی چال اور زائچے وغیرہ بنائے تو یکا یک ان کے چہروں پر خوف کے گہرے سائے لرزنے لگے۔نجومیوں نے راجا جیر جی سے عرض کیا۔ ‘‘زائچے بتاتے ہیں کہ ایک شخض حدود سلطنت میں داخل ہوگا اور پھر وہی شخص اقتدار کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔ شاید وہی شخص ہے جس کے ایک مجذوب شاگرد کو آپ نے قید میں ڈال دیا ہے۔’’
نئی چال سوچی گئی، وزیروں کے کہنے پر ہیرے جواہرات اور اشرفیوں سے بھرا ہوا خوان لے کر شہباز قلندر کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ اسے قبول فرمائیں اور کسی دوسرے جگہ قیام فرمالیں۔

آپ نے حکم دیا کہ ان جواہرات کو آگ میں ڈال دو، خدمت گار نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق خوان اٹھا کر آگ میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلہ سا بھڑکا، اور واقعی تمام ہیرے جواہرات اور سونے کے ٹکڑے کوئلے اور لکڑی کی طرح آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔
حاکم سیہون کا نمائندہ کچھ دیر تک پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ یہ ناقابل یقین منظر دیکھتا رہا۔ وہ سونا جو تپتی ہوئی بھٹی میں بہت دیر کے بعد پگھلتا ہے، اسے معمولی آگ کے شعلوں نے چند لمحوں میں جلا کر خاک کر ڈالا تھا۔ مسلمان درویش کی یہ کرامت دیکھ کر وزیر نے قدموں پر سر رکھ دیا اور گداگرانہ لہجے میں عرض کرنے لگا۔ پھر جب وزیر کانپتے قدموں کے ساتھ واپس جانے لگا تو آپ نے نہایت پر جلال لہجے میں فرمایا۔
’’اپنے راجا سے کہہ دینا کہ ہم یہاں سے واپس جانے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اگر حاکم سیہون اپنی سلامتی چاہتا ہے تو خود یہاں سے چلا جائے‘‘۔
وزیر دوبارہ حاکم سیہون کی خدمت میں پہنچا اور اس نے لعل و جواہر کے راکھ ہوجانے کا پورا واقعہ سنایا تو راجا جیر جی اور زیادہ غضبناک ہوگیا اور کہنے لگاتو بزدل ہے کہ ایک معمولی سی بات سے ڈر گیا۔ میں نے اس سے بھی بڑی شعبدہ بازیاں دیکھی ہیں۔

میری سلطنت میں ایسے ایسے کامل جادوگر موجود ہیں جو مسلمان سنیاسی کے طلسم کو پارہ پارہ کردیں گے۔’’
عشاء کی نماز میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ حضرت شہباز قلندر نے خدمت گاروں کی موجودگی میں قلعہ کی جانب رخ کرتے ہوئے فرمایا ’’بودلہ! اب تم ہمارے پاس چلے آؤ‘‘خدمت گار حیران تھے کہ مرشد کسے پکار رہے ہیں؟
سکندر بودلہ جو راجہ جیر جی کی قید میں تھے اور کئی مہینے سے درد ناک سزائیں برداشت کررہے تھے۔ ادھر آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور ادھر بودلہ کا جسم اچانک زنجیروں سے آزاد ہوگیا۔ بودلہ ابھی اسی حیرانی میں تھے کہ یکایک زنداں کا دروازہ کھل گیا۔ بودلہ کو اپنے مرشد کی آواز سنائی دی، بودلہ سمجھ گئے کہ یہ مدد کے سواء کچھ نہیں۔ اس نے بے اختیار نعرہ لگایا۔
‘‘میرا مرشد آگیا، میرا مرشد آگیا۔’’
شدید زخمی ہونے کے سبب بودلہ تیزی سے اْٹھے اور قید خانے سے باہر کی جانب دوڑنے لگے۔ آخر اس میدان میں پہنچ گئے جہاں لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے قیام کیا ہوا تھا۔بودلہ سے مل کر لعل شہباز قلندر نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ ‘‘یہی تمہارا بھائی بودلہ ہے۔ اسے حاکم سیہون نے ناحق ستایا ہے۔ انشاء اللہ ! وہ بہت جلد اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔’’

شدید مخالفتوں کے باوجود آپ نے سیہون شریف میں رہ کر اسلام کا نور پھیلایا ہزاروں لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی، لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق او ر محبت کی تعلیم دی۔ سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں اجاگر کی۔ آپ کی تعلیمات اور حسن سلوک سے سیہون کی ایسی کا یا پلٹی کہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا آپ نے لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق کی تعلیم دی، سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں پیداکی۔
لعل شہباز قلندر کی وجہ سے راجہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا تھا۔
راجہ جیر جی کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ سیہون میں ایک مسلمان درویش کی موجودگی اس کے لیے مستقل عذاب بن کر رہ گئی تھی۔ راجہ جیر جی کئی مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرچکا تھا مگر ہر مرتبہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ آخر حاکم سہون نے اپنے علاقے کے کچھ جادوگروں کو طلب کرکے ان سے مسلمان درویش سے مقابلے کا کہا، لیکن سیہون کے ساحروں نے مقابلے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرلی تھی کہ انہیں ہرانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ البتہ جادوگروں نے راجہ کو مشورہ دیا کہ اگر کسی طرح مسلمان درویش کے شکم میں حرام غذا داخل کردی جائے تو اس کی ساری روحانی قوت زائل ہوجائے گی اور پھر ہمارے جادو کی طاقت اس پر غالب آجائیگی۔

راجہ نے ایک روز کسی حرام جانور کا گوشت پکوایا اور کئی خوان سجا کر مسلمان درویش کی خدمت میں بھیج.دیے۔
جب یہ خوان حضرت شہباز قلندر کی خدمت میں پیش ہوا تو کھانا دیکھتے ہی شیخ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے یہ کہہ کر کھانے سے بھرا ہوا خوان الٹ دیا۔
’’ہمارا خیال تھا کہ وہ کافر اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لے آئے گا مگر جس کی تقدیر میں ہلاکت و بربادی لکھی جا چکی ہو، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا‘‘۔
مرشد کے اس عمل سے خدام پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پھر دوسرے ہی لمحے زمین بھی لرزنے لگی۔ سہون شدید زلزلے کی لپیٹ میں تھا۔ زمین نے دو تین کروٹیں لیں اور طاقت و اقتدار کا سارا کھیل ختم ہوگیا۔ ادھر شیخ کے سامنے خوان الٹا پڑا تھا راجہ جیر جی کے قلعے کی بنیادیں الٹی ہوگئی تھیں۔

حضرت لعل شہباز قلندر ناصرف صوفی باعمل بزرگ تھے بلکہ آپ نے علم کی ترویج کے لئے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر صرف ونحو کے بھی ماہر تھے۔
ایک مغربی مورخ سررچرڈ برٹن کی تحقیق کے مطابق حضرت لعل شہباز قلندر ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے آپ نے چار کتابیں گر امر اور لسانیات کے حوالے سے فارسی زبان میں تحریر کی تھیں۔

مشہور سیاح ابن بطوطہ دنیا کا سفر کرتے ہوئے 734ھ (1333 عیسوی) میں جب سیہون پہنچا تو اس نے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کی تھی اور آپ کی خانقاہ میں ٹھہرا۔
مشہور محقق شیخ اکرم نے بھی اپنی کتاب موجِ کوثر میں برٹن کی ہسٹری آف سندھ کے حوالے سے دومشہور کتابوں، میزان الصرف اور صرف صفر کا تذکرہ کیا ہے جو کہ حضرت لعل شہباز کی تحریرکردہ تھیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر ایک معروف شاعر بھی تھے۔ آپ کے کلام میں معرفتِ الٰہی اور سرکارِ مدینہ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کے والہانہ انداز جا بجا نظر آتا ہے۔ آپ کی شاعری میں روحانی وارفتگی اور طریقت و تصوف کے اسرار و رموز بے حد نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں جو اکابر صوفیاء کرام کا ایک خاص طرۂ امتیاز ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر اپنے کلام میں عبدو معبود کے رشتوں کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گداز اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔
آپ کو ‘‘لعل’’ کہنے کی مختلف روایات ہیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کا خطاب آپ کے پیرومرشد نے عطا فرمایا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر لال رنگ کا لباس زیب تن فرماتے تھے کیونکہ یہ اہل مروند کا مخصوص لباس تھا۔
جب آپ اپنی عمر کے سو سال مکمل کر چکے تھے کہ آپ کو ملتان جانے کا خیال آیا۔ آپ کے دوست حضرت بہاؤ الدین زکریا اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ ان کے فرزند حضرت صدرالدین عارف ان کے جانشین تھے۔

حضرت صدرالدین عارف کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ حضرت لعل شہباز قلندر چند خدمت گاروں کے ہمراہ ملتان آرہے ہیں تو آپ کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ اپنی خانقاہ پر لے آئے۔ اس وقت شہزادہ سلطان محمد تغلق حاکم ملتان تھا ، اس نے بھی اپنے دربار میں محفلِ سماع رکھی اور حضرت لعل شہباز کو اپنے دربار میں مدعو کیا۔ آپ نے دعوت قبول کرلی۔ کہتے ہیں اس محفل میں دوران سماع اچانک حضرت لعل شہباز قلندر پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ حالت وجد میں اٹھے اور رقص کرنے لگے۔ آپ یہی وجدانہ رقص اس دھمال کی بنیاد بنا جو آج بھی آپ کے مزار پر دیکھا جاسکتا ہے۔

( محمد بن تغلق سلطانِ دہلی تھے۔ وہ 1325 تا 1351ء تک تخت افروز رہے۔ وہ تغلق سلطنتی خانوادے کے سلطان غیاث الدین تغلق کا بڑا بیٹا تھا۔  غیاث الدین تغلق تغلق سلطنتی خانوادے کا بانی اور پہلا حکمران تھے۔ وہ غازی ملک کے نام سے مشہور تھے۔ وہ 8 ستمبر 1320ء میں تخت افروز ہوئے۔ ان کا دورِ حکومت 8 ستمبر 1320ء سے فروری 1325ء تک رہا۔ دہلی کا تغلق آباد اُنھوں نے تعمیر کی۔ مہاجرزادہ )
سلطان نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ملتان میں ہی قیام فرمائیں مگر آپ نے فرمایا کہ آپ سیہون میں ہی رہیں گے۔

آپ کے ساتھ سلطان محمد تغلق کو اتنی عقیدت تھی کہ سلطان کی وفات کے بعد سلطان کی میت کو ٹھٹھہ سے سیہون لایاگیا اور آپ کی خانقاہ کے قرب وجوار میں دفن کیا گیا۔

حضرت لعل شہباز قلندرنے تقریباً 103 برس (بعض تذکروں کے مطابق 112 برس )کی عمر پائی ، آسمانِ ولایت کا یہ شہباز اور سیہون اور سندھ کے گردونواح کے تاریک علاقوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والا یہ آفتاب 18شعبان المعظم673ھ بمطابق1275ء میں غروب ہوگیا لیکن لوگوں کے دلوں میں تاقیامت اس آفتاب کی روشنی باقی رہے گی۔
(جاوید چوہدری)

کیا حجر اسود جنت کا پتھر ہے ؟

تاریخی کہانیوں کے مطابق یہ اہم پتھر جبرائیلِ امین جنت سے لائے تھے اور تعمیر کعبہ کے وقت حضرت ابراہیم نے اسے بیت اللہ کے جنوب مشرقی کونے میں نصب کیا تھا۔
جب جنت سے حجر اسود کو لایا گیا تھا اس وقت اس کا رنگ برف سے بھی زیادہ سفید تھا، لیکن حاجیوں کے گناہوں کی بدولت یہ یکدم سیاہ رنگ کا ہوگیا۔ ایک روایت کے مطابق ” حجر اسود کو بوسہ دینے سے گناہوں کا کفارہ ادا ہوتا ہے“ ۔ سرسید کے مطابق یہ مکہ کی پہاڑی سے لیا گیا عام پتھر ہے جو صدیوں سے طواف کے نقطہ آغاز کی علامت ہے۔
  دنیا کے مختلف علاقوں سے آئے ہوئے عمرہ و حج کے لئے آئے ہوئے حجاج کرام اس کو بوسہ دیتے ہیں ،اِس پر ایک ایسا وقت آتا ہے کہ کعبہ کی تعمیرِ نو کے وقت قریش کے قبائل اسے دوبارہ بیت اللہ میں نصب کرنے کی فضیلت حاصل کرنے کیلئے باہم جھگڑ پڑتے ہیں اور حجر اسود کو یہ مقام حاصل ہوتا ہے کہ پیغمبر اسلام حضرت محمد خود اپنے دست مبارک سے اس خوش نصیب پتھر کو اس کے مقام پر نصب فرما کر ایک بہت بڑی جنگ کے امکان کا خاتمہ فرما دیتے ہیں۔
رسول اللہ کو اس دنیا سے پردہ فرمائے ہوئے زیادہ عرصہنہ گذرا تھا کہ اس مقدس پتھر کے ستارے گردش میں آ گئے، اور اسے بہت برے دنوں اور سلوک کا سامنا کرنا پڑا۔
حجر اسود کی ایک پرانی تصویر

73 ھ میں عبدالملک بن مروان کے حکم پر حجاج بن یوسف نے عبداللہ بن زبیر کی بغاوت فرو کرنے کیلئے مکہ کا محاصرہ کیا، مکّیوں نے بیت اللہ میں پناہ لی، بیت اللہ پر منچنیقوں سے پتھراؤ کیا گیا، بیت اللہ کی عمارت کو شدید نقصان پہنچا اور اسی دوران بیت اللہ میں آگ بھی لگ گئی اور بیت اللہ کے ساتھ ساتھ جنت سے آئے ہوئے پتھر کو بھی لمسِ آتش کے تجربے سے دوچار ہونا پڑا۔
سوال پیدا ہوتا ہے کہ حجاج بن یوسف کی یورش کے وقت آسمان سے غول در غول ابابیلیں کیونکر نازل نہ ہوئیں؟

خلافت عباسیہ کا دور ہے، قرامطیوں نے بڑا سر اٹھایا ہوا تھا، قرامطی (مذہباً اسماعیلی شیعہ) اپنے زمانے کے خود کش حملہ آور (فدائین) تھے اور گوریلا جنگ لڑنے کی مہارت رکھتے تھے۔ یک دم حملہ آور ہوتے اور شہر کے شہر اجاڑ کر رکھ دیتے تھے۔ اس دور کے قرامطہ کی سرکردہ شخصیات میں ابو سعید جنابی، ابو سعید مغربی، محمد علوی، برقعی اور ابنِ مقنع شامل ہیں۔ یہ سب ہم عصر تھے اور ان کے مابین دوستی اور خط و کتابت کا رشتہ قائم تھا۔ انہیں باطنیہ بھی کہا جاتا ہے، باطنی مختلف زمانوں میں خروج کرتے رہے ہیں۔ انہیں مختلف علاقوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا تھا۔
حلب و مصر میں انہیں اسماعیلی کہتے تھے،
قم، کاشان اور طبرستان میں سبعی، بغداد و ما وراء النہر اور غزنی میں قرامطی کہا جاتا تھا،
کوفہ میں مبارکی مشہور تھے،
بصرہ میں مروندی (
آذر بائیجان کے گاؤں مروند کی نسبت سے ) اور برقعی کہلائے،
رے میں خلقی اور باطنی،
گرگان میں محمّرہ،
شام میں مبیضہ،
مغرب میں سعیدی،
احساء و بحرین میں جنابی،
اصفہان میں باطنی۔
یہ خود اپنے آپ کو تعلیمی کہتے تھے۔
اسی حکیم عطا ابن مقنع مروزی نے ترکستان میں ماہ نخشب کے مقام پر مصنوعی چاند بنایا تھا جو ہر روز پہاڑ سے طلوع مہتاب کے وقت ظاہر ہوتا تھا۔ اور لوگ بہت دور دور سے اس کا مشاہدہ کرتے تھے۔
خلیفہ معتصم کے دور میں ابو سعید بن بہرام الجنابی نے بحرین اور احساء کے مقام پر تسلط حاصل کرکے اسے اپنا مرکز بنایا، باطنی تعلیمات کی دعوت، عام کی اور بہت جلد خطے کے لوگوں کو اپنے مذہب میں داخل کیا۔ جب ابو سعید کو کافی طاقت حاصل ہوگئی تو اس نے آس پاس کے علاقوں پر چھاپہ مار کارروائیوں کا آغاز کر دیا۔ ابو سعید اپنے ایک غلام کے ہاتھوں قتل ہوا اور اس کے بعد اس کا بیٹا ابو طاہر اپنے باپ کا جانشین ہوا۔
ابو طاہر اپنے باپ کے برخلاف زیادہ مذہبی رجحان نہ رکھتا تھا۔ اس لئے وہ مذہبی سرگرمیوں اور لوٹ مار سے دور رہا۔ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا کہ ابو طاہر کو فاطمی داعیین کے ہاں سے کتاب ”کنز البلاغة السابع“ منگوا کر پڑھنے کا موقع ملا، اس کتاب کو پڑھتے ہی ابو طاہر کے خیالات میں یک دم تبدیلی رونما ہوئی، اس نے بحرین و احساء کے تمام لوگوں کو ہتھیار بند ہونے کا حکم دیا اور کہا کہ مجھے عنقریب تمہارے ذریعے ایک اہم کام سرانجام دینا ہے۔ اس اعلان پر ابو طاہر کے گرد بے شمار لوگ اکھٹے ہوگئے۔
مقتدر باللہ کے زمانہ خلافت میں بمطابق 317 ھ(929 عیسوی)  جب حج کے دن آئے تو ابو طاہر ان سب کو لے کر مکہ کی طرف عازم سفر ہوا۔ مکہ پہنچ کر ابو طاہر نے اپنے ساتھیوں کو حکم دیا کہ حاجیوں پر ٹوٹ پڑو، جس قدر خون ریزی کر سکتے ہو ہرگز گریز نہ کرنا۔ عازمین حج حواس باختہ ہو کر بیت اللٰ٘ه میں پناہ گزین ہوئے، بیت اللہ کے داخلی دروازے اندر سے بند کرکے عبادات میں مشغول ہوگئے گویا انہوں نے موت کو اپنی کھلی آنکھوں سے دیکھ لیا تھا۔ اہل مکہ نے ابو طاہر کے خلاف مزاحمت کا فیصلہ کیا اور ہتھیار بند ہو کر ابو طاہر کے سامنے صف آراء ہوگئے۔
ابو طاہر نے اس موقع پر چال چلی اور مک٘یوں کو پیغام بھیجا کہ ہم حج کرنے آئے ہیں، کوئی دنگا فساد مچانے نہیں آئے، ہم پر حملہ ہوا تھا اس لئے ہم ہتھیار اٹھانے پر مجبور ہوگئے تھے، ہمیں حج کرنے دو، حرم کے دروازے کھول دو، ورنہ بدنامی تمہارا ہی مقدر ہوگی کہ تم حاجیوں کو حج کرنے سے روکتے ہو۔ اہل مکّہ ابو طاہر کے اس جھانسے میں آگئے اور خیال کیا کہ کوئی توتکار ہوگئی ہوگی جس کی وجہ سے نوبت لڑائی تک جا پہنچی، غرض قصہ مختصر کہ عہد و پیمان ہوئے، فریقین سے قسمیں اٹھوائی گئیں۔ ہتھیار رکھوا دیئے گئے، پھر سے طواف شروع ہوگیا، ابو طاہر موقع کی تاڑ میں تھا، جب دیکھا کہ مک٘ی مطمئن ہوگئے ہیں تو ابو طاہر نے طے شدہ منصوبے کے تحت اپنے ساتھیوں کو ہلّہ بولنے کا حکم دیا۔

قرامطیوں نے لوگوں کو تلوار کے گھاٹ اتارنا شروع کر دیا جو بھی سامنے آیا قتل ہوا۔ بہت سے لوگ ڈر کے مارے کنووں میں اتر گئے، یا پہاڑ پر بھاگ گئے۔ قرامطیوں نے بیت اللہ میں توڑ پھوڑ شروع کر دی، بیت اللہ کو نقصان پہنچایا، بیت اللہ کا غلاف اتار کر تار تار کرکے غارت کر دیا گیا، بیت اللہ کا دروازہ اکھاڑ ڈالا، حجر اسود کو بھی بیت اللہ کی دیوار سے اکھاڑ پھینکا۔ چاہ زمزم کو لاشوں سے پاٹ دیا گیا۔ قرامطیوں کا کہنا تھا کہ اگر اللہ خود آسمان پر ہے تو اسے زمین پر کسی گھر کی ضرورت نہیں اس لئے کعبہ کو لوٹنا ضروری ہے۔ وہ بیت اللہ کے صحن میں بآواز بلند پکارتے کہ کہاں ہے وہ خدا جس کا کہنا ہے کہ “من دخله کان آمنا“ (جو حرم میں داخل ہوا اسے امان حاصل ہوئی) اور جو کہتا ہے کہ ”آمنھم من خوف“ (اللہ نے انہیں (اہل مکہ) کو خوف سے امن میں رکھا) حاجیوں کو مخاطب کرکے کہا ”تم جو خانہ خدا میں داخل ہو ہماری تلواروں سے کیوں حفاظت نہیں پاتے؟ اگر تمہارا خدا سچا ہوتا تو تمہیں ہماری تلواروں سے ضرور بچاتا۔ غرض اس طرح قرآنی آیات اور حاجیوں کو اپنے طنز، طعن اور مذاق کا نشانہ بنایا، مسلمانوں کی عورتوں اور بچوں کو لونڈی اور غلام بنایا، لگ بھگ بیس ہزار لوگوں کو قتل کیا۔ یہ تعداد ان کے علاوہ ہے جو از خود اپنی جان بچانے کیلئے کنووں میں کود گئے تھے، اور بعد میں قرامطیوں نے ان کنووں کو لاشوں سے پاٹ کر انہیں بھی ہلاک کر ڈالا تھا۔ غرض مکہ و اہل مکہ خوب اچھی طرح تاخت و تاراج کرتے ہوئے خوب لوٹ و کھسوٹ کا بازار گرم کیا۔ اور واپسی پر حجر اسود اور بیت اللہ کا دروازہ اپنے ساتھ بحرین لے گیا۔
ابو طاہر نے احساء واپس پہنچ کر کتب سماوی یعنی تورات، انجیل اور قرآن کے نسخوں کو صحراء میں پھنکوا دیا اور قرامطی ان پر بول و براز کرتے رہے۔ ابو طاہر کہا کرتا تھاکہ ”تین افراد نے انسانوں کو برباد کرکے رکھ دیا۔ ایک گڈریا تھا (ابراہیم)، ایک اتائی (عیسیٰ) اور ایک شتربان (محمد)۔ مجھے سب سے زیادہ غصہ اس شتر بان پر ہے کہ یہ شتربان باقیوں کی نسبت زیادہ بڑا شعبدہ باز تھا۔ ابو طاہر نے اپنے زیر اثر علاقے میں سب لوگوں پر لازم کر رکھا تھا کہ انبیاء و رسل پر لعنت بھیجی جائے۔
حجر اسود کے ساتھ ابو طاہر ابنِ ابو سعید نے بحرین میں کیا سلوک کیا؟
 ابو طاہر نے حجر اسود کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرکے اپنے بیت الخلاء کے گڑھے پر قدمچے کے طور پر نصب کرا دیا۔ ایک ٹکڑا ایک طرف اور دوسرا ٹکڑا دوسری طرف، جب قضاء حاجت کیلئے بیٹھتا تو ایک پاؤں ایک ٹکڑے پر رکھتا اور دوسرا پاؤں دوسرے ٹکڑے پر۔ تقریباً 22 برس تک حجر اسود اسی حالت میں ابو طاہر کے قبضے میں رہا۔

زیادہ تر مؤرخین کے مطابق عباسی خلیفہ(  کی درخواست پر مصر کے فاطمی خلیفہ کی مداخلت کی بدولت 22 برس کے بعد یعنی 339 ھ ( 950 عیسوی) میں ابو طاہر نے بھاری تاوان وصول کرنے کے بعد عباسیوں کے حوالے کیا۔
جبکہ نظام الملک طوسی کے مطابق قرامطیوں کی شرارتوں سے عاجز آکر عراق و خراسان سے بہت بڑے لشکر نے بحرین پر یلغار کا قصد کیا تو اس یلغار کے خوف سے گھبرا کر قرامطیوں نے حجر اسود کے ٹکڑوں کو کوفہ کی جامع مسجد لا پھینکا۔ کوفہ کے لوگوں نے لوہے کی سلاخ کے ذریعے دونوں ٹکڑوں کو آپس میں کس دیا اور لے جا کر بیت اللہ میں دوبارہ سے نصب کر دیا۔

موجودہ حجر اسود چھوٹے بڑے 14 ٹکڑوں میں تقسیم ہے، جن میں سے 8 واضح نظر آتے ہیں، جو کالی لاکھ کی گول پلیٹ میں پیوست کر کے نصب کیا گیا ہے ۔ 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔