میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 3 اگست، 2013

ارب پتی بیوہ کو مدد چاہیئے

  

    دنیائے انسانی ترقی کی منازل پھلانگتے مستقبل  کی طرف رواں دواں ہے۔ ایک طرف انسان دوسرے انسان کو ہرقسم کی سہولیات بہم پہنچانے کے لئے نت نئی ایجادات کر رہا ہے تو دوسری طرف ایک دوسرا انسان اپنے ہی جیسے انسان کی زندگی جہنم بنانے پر تلا ہوا ہے۔ کہیں وہ دھونس  اور دہشت استعمال کر رہا ہے اور کہیں وہ محبت اور مسیحائی کی آڑ میں دامِ ہم رنگ زمیں بچھا رہا ہے اور انسان کی قابلِ نفرت اور ننگ انسانیت کردار کی سب سے قبیح مثال  بلا شبہ اسے کہا جا سکتا ہے جہاں وہ مظلومیت کا لبادہ اوڑھ کر دھوکے اور چالبازی کے ایسے ایسے کرتب دکھاتا ہے جہاں سے گزرنے کے بعد انسان کا انسان سے اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ اور وہ  مظلومیت میں پسے ہوئے اصلی حقداروں کو بھی مکر اور فراڈ کے کرداروں میں شامل کر لیتا ہے۔

    پچھلے سال جون میں میرے ایک دوست کے پاس ایک عجیب و غریب ای میل آئی، اس نے سرسری ذکر کیا اور مجھے اس ای میل کی ایک کاپی دی۔ وہ ای میل کچھ اس طرح تھی

   
 ”مسلمان بہن کے لئے مدد:   میرا نام”ڈاکٹر مسزمریم اباچہ“ ہے اور  میرے شوہر سانی اباچہ کی وفات 8 جون 1998کو ہوئی۔ مخالفت کی وجہ سے مجھے ملک چھوڑنا پڑا۔ میرے مرحوم شوہر نے چار کروڑ  پچاس لاکھ  امریکن ڈالر  رقم میرے نام چھوڑی ہے جو  میں نے وقت کی نزاکت اور حالات کو سمجھتے ہوئے ایک ہمسایہ  افریقی ملک میں تین مختلف ناموں سے، ایک سیکیورٹی کمپنی کے سیف میں رکھ دی ہے۔ جو ایک بنک کے ذریعے معاملات طے کرتی ہے۔ حالات کی گرد بیٹھنے کے لئے میں نے ایک طویل اور تکلیف دہ انتظار کیا میرے دو بیٹے ایک بیٹی ہے۔ میرا ایک بیٹاجو ڈاکٹر ہے وہ میرے ملک میں جیل میں ہے۔ اس کے چھوٹنے کا امکان بہت کم ہے۔ میرا چھوٹا بیٹاکیونکہ میرے ملک سے باہر ایک یورپ کے ملک میں پڑھ رہا تھا لہذا وہ ظالموں کے ہاتھ نہیں لگا۔ میں اور میری بیٹی لندن میں پناہ گزین ہیں۔ اتنی بڑی رقم کے ہوتے ہوئے ہم، کسمپرسی کے عالم میں گزارہ کر رہے ہیں۔ میرے بیٹے اور بیٹی کا اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کا خواب ادھورا رہ گیا ہے۔ یہاں مختلف لوگوں کے ای میل پروفائل دیکھنے کے بعد ہم نے آپ کا انتخاب کیا، کیونکہ میرے مرحوم شوہر  آپ کے ملک کے لوگوں سے کافی انسیت رکھتے تھےِ اور مجھے امید ہے کہ آپ اس حالات کی ماری ہوئی بہن کی مدد کریں گے۔ آپ کی رضامندی کی ای میل ملتے ہی  میں آپ کو اس رقم کی آپ کے ملک ٹرانسفرکی بابت طریقہ بتاؤں گی۔ آپ یہ بات مدِنظر رکھیں، کہ میں اپنے یتیم بچوں کے مستقبل کے لئے آپ کو جو تکلیف دے رہی ہوں اس کے لئے میں آپ کو اس رقم کا 20فیصدحقیر  حصہ شکریہ کے ساتھ دوں گی۔ آپ کے فوری جواب کانتظار  رہے گا۔امید ہے کہ آپ میری، میرے بچوں اور رقم کی حفاظت  کے لئے محتاط طریقے اختیار کریں گے۔ شکریہ۔ ایک مددگار مسلمان بہن۔“ 

میں یہ کاپی اپنے آفس لے آیا اور میز پر رکھ دی، جو غالباً کاغذات کے انبار میں دب گئی اور میں اسے بھول گیا۔

     اس سال  اپریل کے اوائل میں میری اپنے آفس میں کام کرنے والے  ایک لڑکے (اس کا نام آپ لیاقت سمجھ لیں) سے ایک ہوٹل میں  منعقد تقریب میں جاتے ہوئے ریسیپشن پر ملاقات ہوئی۔جو کئی دوسروں کی طرح بنیادی تربیت لے کر کولمبس کی طرح بہتر دنیا کی تلاش میں کسی اور آفس میں چلا گیا۔ اس سے خیریت پوچھنے کے بعد باقی دوسرے کولمبسوں بارے میں پوچھا۔اس نے سب کے بارے میں چیدہ چیدہ باتیں بتائیں،

پھر اچانک چونک کر بولا، ”سر آپ کو وہ لڑکا یاد ہے جو آپ کے پاس فلاں ریفرنس سے آیا تھا“۔

میں نے ذہن پر زور دیا تو یاد آیا، کہ ایک لڑکا جو بہت محنتی تھا۔اس کانام ہم شعیب فرض کر لیتے ہیں۔ کام کا دھنی اور ماہر تھا اس نے صرف بیس دن میرے آفس کام کیا پھر اچانک غائب ہو گیا۔

”ہاں کیا ہو اسے؟“  میں نے پوچھا۔

”سر اس کو کسی غیر ملکی نے لوٹ لیا اور اس سے دس لاکھ روپے سے زیادہ رقم لے گئے۔اس کے باپ نے اسے بہت مارا وہ گھر سے کراچی بھاگ گیا“۔

مجھے افسوس ہو ا۔ پوچھا،”لیکن غیر ملکی نے اسے کس طرح لوٹا اور وہ کیسے ان کے ہتھے چڑھا“؟۔

”سر  مجھے اس کے چھوٹے بھائی نے بتایا، کہ اسے کسی نے باہر سے لاکھوں روپے کے بزنس کی شراکت کے لئے ای میل بھیجی وہ لالچ میں آگیا، اس نے والد سے کہہ کر اپنی گاؤں کی زمین بکوائی، مگر اس کے ساتھ فراڈ ہو گیا“۔ تقریب کے بعد میں گھر  آگیا ۔

    دوسرے دن میں آفس میں کام کر رہا تھا کہ مجھے شعیب کا خیال آیا۔ میں نے اس کا ایڈریس ڈھونڈنے کے لئے اس کی فائل نکالی۔ شعیب میرے پاس 30 مئی 2002کو بحیثیت ہارڈویر ٹیکنیشن آیا تھا اور 25جون کو بغیر وجہ بتائے چلا گیا۔ فائل میں وجہ والد کی بیماری لکھی تھی۔میں نے  فائل میں درج فون نمبر پر رنگ کیا۔وہاں سے کسی شخص نے اٹھایا میں نے اپنا تعارف کرانے کے بعد، اس سے پوچھا کہ کیا وہ شعیب کو جانتا ہے؟ اس نے بتایا ہاں وہ لوگ اس کے محلے میں رہتے تھے مگر اب چھوڑ کر چلے گئے ہیں۔کہاں؟۔ اسے معلوم نہیں، لیکن ان بے چاروں کو کسی غیر ملکی نے لوٹ لیا۔

اس نے جو تفصیل بتائی، کہ کوئی باہر کی افریقی کمپنی تھی ان کے دو آدمی، شعیب کے گھر بھی آئے تھے اور اس کے والد سے بھی ملاقات کی تھی۔ان میں سے ایک آدمی کوئی بہت بڑا افسر لگتا تھا، وہ ایک بہترین کار میں آئے تھے۔کمپنی کی مالکہ کوئی خاتون تھیں۔ اس سے یہ سنتے ہی میرے ذہن میں ایک جھماکہ ہوا۔ میں نے جلدی اس کا شکریہ ادا کر کے، اپنے آفس میں   2002ء کی فائل ڈھونڈی، میری برسوں کی عادت ہے کہ میں تمام ضروری کاغذات مناسب فائلوں میں لگانے کے بعد تمام ایسے کاغذجو کسی فائل کے مضمون سے مطابقت نہ رکھتے ہوں انہیں، ایک فائل میں لگا دیتا ہوں، جن میں وہ کاغذات بھی شامل ہوتے ہیں جن پر کوئی نوٹِ، ٹیلیفون نمبر  یا ہدایات ہوں۔ یہی ہدایت میر ے ساتھ تمام کام کرنے والوں کو ہوتی ہے۔ کہ میری میز پر پڑے تمام کاغذ پھاڑے نہیں جائیں گے بلکہ فائل کئے جائیں گے۔ فائل  ملتے ہی اس کو میں نے بے تابی سے دیکھنا شروع کیا۔ آخر کار ایک فوٹو سٹیٹ کی صورت میں ایک خط میرا منہ چڑا رہا تھا، فوٹو سٹیٹ مدہم تھی مگر پڑھی جا رہی تھی۔ اس خط کی فوٹو کاپی کس نے یہاں لگائی اور اصلی خط کہاں ہے؟ یہ سوال میرے ذہن میں پیدا ہوا۔

    یہ خط وہی ای میل تھا،جس پر اتوار 23جون 2002 ، وقت۔رات  گیارہ بج کر  ترتالیس منٹ اور سات سیکنڈ لکھا ہوا تھا۔ ای میل کا  یہ پرنٹ،مجھے سوموار 24جون  2002، دوپہر ایک بج کر تیس منٹ پر مجھے میرے دوست نے دیا کیونکہ اس کے آفس میں،میں لنچ کرنے گیاتھا۔ غالباً ڈھائی بجے میں اپنے آفس میں آیا۔ شام پانچ بجے آفس سے سب سٹاف جانے کے بعد اپنی میز پرپڑے ہوئے کاغذات، اپنی ٹیلیفون کم کلرک آپریٹر شہلا،کی ٹرے میں ڈالے۔اس نے یقینا انہیں فائل کر دیا ہو گا۔ مگر یہ فوٹو سٹیٹ کیوں ہے، اصلی خط کہاں؟ 

میں نے  لیاقت کو اس کے گذشتہ رات دیئے ہوئے کارڈ پر لکھے ہوئے موبائل نمبر پر کال کیا،

”لیاقت ایک بات بتاؤ؟ شعیب اورشہلاکا آپس میں کیا تعلق تھا“؟۔

”سر ان دونوں نے ایک ادارے میں بحیثیت کمپوٹر ڈاٹا ریکارڈ ایک سال کام کیا تھا“۔

میری لمبی ہوں پر اس نے پوچھا۔ ”سر خیریت ہے؟“۔

” لیاقت ہر آدمی کی ترقی میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔ ویسے شہلاآج کل کہاں ہے؟“۔

”سر اس کی شادی اس کے کزن سے ہو گئی ہے اور وہ آج کل ایبٹ آباد ہے۔اس کا موبائل نمبر دوں، وہ ایک سکول میں پڑھا رہی ہے۔ لیکن اس کا شعیب کی ترقی سے کیا تعلق، وہ تو جب سے کراچی گیا ہے اس کاشہلا سے کوئی رابطہ نہیں ہو ا“۔

لیاقت نے ایک سانس میں مجھے معلومات بھی پہنچائی اور سوال بھی پوچھ لیا۔

”اچھے جا رہے ہو۔لیاقت،جس طرح ہر آدمی کی ترقی میں عورت کا ہاتھ ہوتا ہے  اسی طرح اس کی تباہی میں بھی عورت کا ہاتھ ہوتا ہے اور شعیب کی تباہی میں تو دو عورتوں کو ہاتھ ہے ایک شہلا اور دوسری مریم، مریم اباچہ“ ! میں نے تلخ لہجے میں کہا اور موبائل بند کر دیا۔

اس فوٹو سٹیٹ کو گھورنے لگا جس کا ایک ایک لفظ میری آنکھوں کے سامنے ڈالروں کے بلبلوں میں تبدیل ہوتا۔لفظوں کے یہ بلبلے شہلا پکڑنے کی کوشش کرتی۔بلبلے اس کوشش میں پھٹ جاتے اور  ہر بلبلے سے شعیب کا چہرہ نکلتا اور فضامیں تحلیل ہو جاتا۔مجھے اس ٹرانس کی کیفیت سے اندازاً  دس،پندرہ  منٹ بعد یک لخت ٹیلیفون کی بجنے والی گھنٹی نے نکالا۔ وہ فوٹو سٹیٹ میں نے فائل سے نکالی اور بریف کیس میں ڈال لی۔اسی رات میں نے ایک ای میل بھجوائی:

 ”سوموار  مورخہ:۔19اپریل  2004،،رات 11:23:، shekhuzai@hotmail.comکی طرف سے  mariam_abacha2002@hotmail.com کے لئے، مضمون: آپ کے مرحوم شوہر کے رقوم سے متعلق۔ ڈیر سسٹر، السلام و علیکم، مجھے افسوس سے یہ بتانا پڑ رہا ہے۔ کہ آپ کی ای میل کا میں نے جواب دیا تھا۔مگر آپ کی طرف سے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ کیا میں سمجھوں کہ آپ نے اپنا ارادہ بدل دیا ہے۔اللہ آپ اور آپ کے یتیم بچوں کو اپنی حفاظت میں رکھے آمین۔ شیخوزئی،

گو کہ مجھے توقع نہیں تھی لیکن دوسری رات میں ایک خوشخبری دینے والی ای میل پڑھ رہا تھا۔

”منگل   مورخہ:۔20اپریل  2004،، مضمون:مجھے افسوس ہے۔ ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے افسوس ہے کہ مجھے آپ کی ای میل کا جواب دینے میں دیر ہوئی، کیونکہ میں ہسپتال میں تھی اب میں اللہ کے شکر سے بہتر ہوں۔ میرے پیارے مسلمان بھائی، میں آپ کو یہ بتانے میں خوشی محسوس کرتی ہوں کہ مطلوبہ فنڈ ابھی تک ویسے ہی آپ کا انتظار کر رہے ہیں۔ کہ آپ آئیں اور ان شرائط پر جو میں نے آپ کو لکھی ہیں، جس پر راضی ہونے کے بعد آپ سے رابطہ ممکن ہوا، یہ فنڈ وصول کر لیں۔میں کیوں آپ پر اعتماد کر رہی ہوں؟ وہ اس لئے کہ آپ ایک مسلمان بھائی ہیں۔مجھے اور میری فیملی کو امید ہے کہ یہ آپ کی حفاظت میں محفوظ ہوں گے۔میں اپنے وکیل جناب بیرسٹر مارک جانسن  کو ہدایت کروں گی کہ وہ آپ جیسے مخلص شخص سے رابطہ کرے۔شکریہ۔ مریم اباچہ“۔
میں نے فوراً جواب دیا- 

”بدھ  مورخہ:۔21اپریل  2004،،۔  مضمون: آپ کے مرحوم شوہر کے رقوم سے متعلق۔ ڈیر سسٹر، السلام و علیکم، آپ کی بات بالکل سحیح ہے میرے پاس  کوئی ایسا ذریعہ نہیں کہ میں پلک جھپکتے آپ کے پاس پہنچ جاؤں۔ اگر میں یہاں سے آپ کے ملک آنے کے لئے ویزہ کے لئے درخواست دیتا ہوں تو کافی دن لگ جائیں گے۔آپ اپنے وکیل کو کہیں کہ وہ اپنے ملک کے سفارت خانے سے میرے ملک میں آپ کے سفارت خانے ایک لیٹر بھجوا دیں تاکہ مجھے ویزا جلدی مل جائے۔ اور میں آپ کی مدد کر سکوں۔ شکریہ، شیخوزئی“،

دوسرے دن میل بکس میں ایک دوسری ای میل  موجود تھی۔


”جمعرات۔ مورخہ:22اپریل  2004۔
markjhonsontd@yahoo.co.uk کی طرف سیمضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:میرا نام بیرسٹر مارک جانسن ہے مجھے میری کلائینٹ مسز مریم اباچہ نے آپ سے ان کے فیملی فنڈ مبلغ 45ملین  امریکن ڈالر کی بابت رابطہ کرنے کے لئے کہا ہے۔ اس نے مجھے یقین دلایا ہے کہ آپ ان کے فنڈ کے جائز اور صحیح رکھوالے ثابت ہوں گے۔ اس مفاہمت کے بعد میری آپ سے درخواست ہے کہ آپ مجھے اپنے بین الاقوامی پاسپورٹ کے پہلے دو صفحے اور ڈرائیونگ لائیسنس  کی فوٹو کاپی، مکمل نام، ایڈریس (پوسٹ بکس نہیں) بھجوا دیں تاکہ، میں آپ کے نام ایک تو فنڈ کے کلیم میں آسانی پیدا کرنے کے لئے نیا ڈیپازٹ سرٹیفکیٹ آپ کے نام بنا دوں، دوسرے آپ کو ویزہ میں آسانی پیدا کرنے کے لئے آپ کو سفارت خانہ کے ذریعے ایک دعوت نامہ بھجواؤں۔ امید ہے کہ آپ ان چیزوں کے مہیا کرنے میں جلدی کریں گے کیوں کہ مادام برے حالات میں اپنے دن گزار رہی ہیں۔ آپ جیسے مخلص انسان سے ملنے کے بعد ایک واضح امید کی کرن ان کی زندگی میں آئی ہے۔ وہ مجھے آپ کے بارے میں بتاتے ہوئے بہت جذباتی ہو رہی تھیں انہیں پوری امید ہے کہ اب ان کی فیملی آپ کے ملک میں باعزت زندگی گذارے گی اور ان کے دونوں بچے آپ کے ملک کے بہترین سکولوں میں تعلیم حاصل کر سکیں گے۔کیا آپ فنڈ ملنے کے فوراًبعد ان کے لئے  اپنے شہر میں چھ بیڈ روم پر مشتمل  وسیع لان اور فلی فرنشڈ گھر کا بندوبست کر سکتے ہیں۔  اور وہ  فنڈ ملنے کے بعد اپنے جیل میں بند بیٹے کی رہائی کے لئے بین الاقوامی کوشش کریں گی۔ کیا آپ کی والدہ زندہ ہیں؟ آپ ان سے حالات کی ستائی ہوئی عورت کے جذبات معلوم کر سکتے ہیں۔ ہاں فنڈ آپ کے نام ٹرانسفر کروانے کے لئے معمولی رقم خرچ آئے گی۔ جس میں سیکیورٹی کمپنی کی فیس بھی شامل ہو گی۔ میں اپنی فیس فنڈ ملنے کے بعد مادام سے لے لوں گا۔ ہاں اگر آپ اپنی خوشی سے کچھ دینا چاہیں تو کوئی بات نہیں، مجھے خوشی ہوگی کہ آپ اپنی مدد کرنے والوں کو خوش رکھتے ہیں میں، کل لندن جارہا ہوں، اتوار کو واپس آؤں گا۔ یہ خرچہ آپ کے 20فیصد حصے میں شامل نہیں اس کے لئے 10فیصد مادام نے الگ رکھا ہے آپ جو رقم خرچ کریں گے وہ آپ کو پہلی قسط میں وصول ہو جائے گی۔ ہاں 17,500امریکن ڈالر کی رقم آپ ویسٹرن یونین بنک کی معرفت مادام کو بھجوائیں گے۔اس بارے میں وہ آپ کو معلومات دے دیں گی۔آپ فوراً بتایئے کہ کیا آپ یہ رقم بھجوا رہے ہیں۔ آپ کے پر شکوہ مستقبل کا دعا گو۔مارک“
    اگر میں غلطی پر نہیں تو 45 ملین ڈالر کا 20فیصد، نوے لاکھ ڈالر بنتا ہے اور پاکستانی روپے میں؟ ہیں یہ کیا کیلکولیٹر نے حاصل جواب کی جگہ Eلکھ دیا؟ کیا یہ رقم کیلکولیٹر بھی نہیں گن سکتا؟  کمپوٹر پر حساب کیا۔ اُف میرے اللہ،باون کروڑ کی چوتھائی تو کیا  یہ تو باون کروڑ سے زیادہ چھپر پھٹنے پر چھن چھن کر کے گریں گے۔ رقم 54کروڑ بنتی تھی اور  17,500امریکن ڈالر،  اس  رقم کا صرف 2فیصد بنتا ہے۔کوئی بات نہیں بھجوادیں گے۔

”جمعہ۔ مورخہ:23اپریل  2004۔مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:ڈیر بیرسٹر مارک جانسن، تفصیلات بتانے کا بہت  بہت شکریہ۔میں آپ سے متفق ہوں، میں رقم اور باقی ڈاکومنٹ بھجوادوں گا۔امید ہے کہ آپ تمام کاروائی جلد از جلد کر لیں گے۔ ۔ شکریہ، شیخوزئی۔“

دوسرے دن جو ای میل آئی،


”ہفتہ۔ مورخہ:24اپریل  2004۔مضمون: آپ اچھے مسلمان بھائی ہیں: ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے بیرسٹر مارک جانسن سے یہ جان کر خوشی ہوئی کہ آپ ہم سے مخلص ہیں۔ اور آپ وہ تمام اخراجات برداشت کر سکتے ہیں جو فنڈ کے قانونی آپ کے نا م ٹرانسفر کرنے اٹھیں گے یہ نہایت ضروری ہے۔آپ رقم فوراً آج بھجوا دیں تاکہ سوموار کو بیرسٹر مارک کے لندن سے آنے پر ٹرانسفرسرٹیفکیٹ بنوایا جاسکے۔ہاں آپ یہ رقم  ویسٹرن یونین بنک کی معرفت، میرے ذاتی ڈرائیور، چڈی نوانکوو جس کا مکمل ایڈریس میں نے لکھاہے، کو بھجوانا۔رقم بھجواتے ہی  مجھے بذریعہ ای میل اطلاع دینا۔ آپ ایک مسلمان بھائی ہیں۔مجھے اور میری فیملی کو امید ہے کہ یہ آپ اپنے وعدے کے مطابق ہماری مدد کریں گے اور جو رق ہم آپ کو اس ڈیل میں بھجوائیں گے وہ آپ اپنا  20فیصد حصہ نکال کر ہمیں دیں گے۔ہمیں آپ سے ایمانداری کی توقع ہے۔شکریہ۔ مریم اباچہ“۔

”سوموار:26اپریل  2004۔ مضمون: میں پریشان ہوں:ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم ابھی تک نہیں ملی، سکیورٹی کمپنی والوں کو ہم نے آپ کا بائیوڈیٹا دے دیا تھا وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر درخواست دینے کے 48گھنٹوں کے اند ر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نہیں بنوایا گیا تو وہ ہماری درخواست کو کینسل کر دیں گے۔ اور پھر پورے عمل میں مہینہ لگ جائے گا۔ ڈیر برادر، ہماری تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔آپ ہماری حالت پر رحم کرتے ہوئے فوراً رقم بھجوائیں۔شکریہ۔ مریم اباچہ“

”منگل:27 اپریل  2004۔  مضمون: دوبارہ ۔ میں پریشان ہوں:ڈیر برادر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم ابھی تک نہیں ملی، سکیورٹی کمپنی والوں کو ہم نے آپ کا بائیوڈیٹا دے دیا تھا وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر درخواست دینے کے 48گھنٹوں کے اند ر ٹرانسفر سرٹیفکیٹ نہیں بنوایا گیا تو وہ ہماری درخواست کو کینسل کر دیں گے۔ اور پھر پورے عمل میں مہینہ لگ جائے گا۔ ڈیر برادر، ہماری تمام امیدیں آپ سے وابستہ ہیں۔آپ ہماری حالت پر رحم کرتے ہوئے فوراً رقم بھجوائیں۔شکریہ۔ مریم اباچہ“

”بدھ:28اپریل 2004۔ مضمون: میں شرمندہ ہوں:  ڈیر سسٹر، السلام و علیکم۔ مجھے افسوس ہے کہ میں رقم کا انتظام اپنی انتہائی کوشش کے باوجود نہیں کر سکا، ڈالروں میں یہ  45 ملین ڈالر کے مقابلے میں حقیر رقم ہے۔ لیکن پاکستانی روپوں میں یہ تقریباً ایک ملین روپے بنتی۔ جس کا فورا ًانتظام کرنا بہت مشکل ہے ۔ مجھے کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ جس سے میں آپ کی مدد کر سکوں۔ شکریہ، شیخوزئی“۔

  ”جمعرات:29اپریل 2004،مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:مسٹر شیخوزئی، مجھے یہ جان کر نہایت افسوس ہو ہے کہ آپ نے وعدے کے مطابق مادام کو رقم نہیں بھجوائی۔ اس سے پہلے کہ وہ اس ساری ڈیل کو ختم کر دیں۔ آپ رقم بھجوانے کا کوئی طریقہ نکالیں۔ میرے پاس ایک تجویز ہے کہ آپ 7,500امریکن ڈالر، بھجوا دیں، کیونکہ اس رقم میں میں بھی حصہ دار ہوں،  لہذا میں، 10,000امریکن ڈالر ادا کر دوں گا۔امید ہے کہ آپ کے اور میرے درمیان اس ڈیل کے بارے میں مادام کو معلوم نہ ہو۔ورنہ وہ خفا ہوں گی ان کا مجھ پر سے اعتماد اٹھ جائے گا۔ وہ میری بہترین کلائینٹ ہیں۔میں ان کو کھونا نہیں چاہتا امید ہے کہ آپ میری پیشہ ورانہ مجبوری سمجھتے ہوئے،  7,500امریکن ڈالر،  مجھے بھجوا دیں گے۔ میرا مکمل ایڈریس یہ ہے۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“


”جمعہ:30اپریل 2004۔مضمون: دوبارہ۔بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:”ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔ کہ آپ نے اس مشکل کا حل مجھے بتایا۔ میں  اب کوشش کر سکوں گا۔ شکریہ، شیخوزئی،“

”سوموار:3مئی 2004،، مضمون: ڈیل کینسل ہو سکتی ہے:مسٹر شیخوزئی، مجھے آپ کی رقم وصول نہیں ہوئی اور نہ ہی آپ نے مجھے کوئی ای میل بھیجی ہے۔کیا آپ ڈیل کینسل کرنا چاہتے ہیں۔آپ فوراً جواب دیں۔ آپ نے مجھے بہت مشکل میں ڈال دیا ہے۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“


”بدھ:5مئی 2004۔’مضمون: ایک قابل بیرسٹر سے مدد:’ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،مجھے سمجھ نہیں آرہا میں کیا کروں میں، نہایت شرمندگی سے آپ کو اطلاع دے رہا ہوں کہ، میں جس ادارے میں کام کرتا ہوں وہاں مجھے اندازاً ڈالروں میں 200ڈالر ماہانہ ملتے ہیں،  7,500امریکن ڈالر، پاکستانی روپوں میں یہ تقریباً 4,50,000روپے بنتے ہیں جو میری  37مہینوں کی تنخواہ بنتی ہے۔ گو کہ میری پوری کوشش ہے کہ میں مادام کی مدد کروں۔ مگر میں قاصر ہوں۔ آپ ایک قابل بیرسٹر ہیں اور اس ڈیل میں میرے حصہ دار بھی ہیں کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ آپ یہ ساری رقم خود ادا کر دیں۔ جونہی مادام کی رقم میرے پاس آئے گی۔ میں اپنے حصے سے نہ صرف  17,500امریکن ڈالر،  آپ کو ادا کروں گا بلکہ میں اپنے لئے 15فیصد رکھ کر باقی آپ کو دے دوں گا۔ میرے خیال میں یہ آپ کے لئے ایک بہترین ڈیل ہو گی آپ صرف 17,500امریکن ڈالر،  کی معمولی رقم انویسٹ کر کے  2.25ملین ڈالر کے حق دار بن جائیں گے۔ امید ہے کہ آپ اس پر غور کریں گے۔میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔مادام کو میرا سلام کہنا۔ شکریہ ۔شیخوزئی“

یہ ای میل بھیج کر میرا سینہ خوشی سے پھول گیا، مجھے جو خوشی ہو رہی تھی آپ اس کا تصّور بھی نہیں کر سکتے۔ کیا آپ کسی کو 2.25ملین ڈالر، جی ڈالر ، کمیشن دے سکتے ہیں؟

”سوموار:10مئی 2004،مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ: مسٹر شیخوزئی، مجھے آپ سے ہمدردی ہے۔ میں آپ کی جگہ ہوتا تو اتنا ہی پریشان ہوتا۔سکیورٹی کمپنی میں میرا ایک دوست ہے اُس سے میں نے مدد کی درخواست کی ہے اس نے مجھے ایک اور حل بتایا ہے۔ وہ یہ کہ سکیورٹی کمپنی ڈپلومیٹک چینل کے ذریعے آپ کو بکس میں بھجوا سکتی ہے۔  میں آپ کو درخواست فارم بھجوا رہا ہوں وہ آپ بھر کر سیکیورٹی کمپنی کوفیکس کر دیں۔مادام نے آپ کو جس طرح بتا یاتھا۔ رقم تین بکسوں میں ہے جن میں دو بڑے اور ایک چھوٹاہے۔اخراجات کو کم سے کم  کرنے اور بعد کے بڑے پروجیکٹ کے لئے رقم ہاتھ میں آنے کو مدِنظر رکھتے ہوئے مادام نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ہم تین بکسوں میں سے ایک بکس کو ٹرانسفر کروانے کی کاروائی کریں گے اس بکس میں ایک ملین ڈالر ہیں۔مسٹر سانی اباچہ نے بکس کو جمع کرواتے وقت سکیورٹی کے پیش نظر اپنا نام”الحاجی حسن احمد“ لکھوایا تھا۔چنانچہ اس سرٹیفکیٹ کے مطابق آپ خود کو الحاجی حسن احمد کا وارث بتائیں گے۔ بہرحال آپ مطلوبہ تفصیلات جو اس ای میل کے ساتھ منسلک خط میں ہیں۔فوراً فیکس کر دیں۔ باقی میں سنبھال لوں گا۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

”جمعرات:13مئی 2004۔مضمون:میں اب پر سکون ہوں:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔میں نے تمام تفاصیل بھجوا دی ہیں۔میں آپ کی اس مددکا بہت شکرگزار ہوں۔میرے ذہن سے بوجھ ہٹ گیا ہے اور مجھے امید ہے کہ ہم مادام اور اس کے بچوں کی مل جل کر مدد کر سکیں گے۔مادام کو میرا سلام کہنا۔ شکریہ ۔شیخوزئی،

ہفتہ:16مئی 2004،،مضمون:وراثت کی منظوری:: بطرف: aubinfos@yahoo.co.ukمسٹر شیخوزئی،  مجھے آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس ہو رہی ہے کہ آپ کی درخواستِ وراست ببابت الحاجی حسن احمد(مرحوم) منظور کر لی گئی ہے۔ جو اس ای میل کے ساتھ منسلک ہے۔شکریہ۔ڈیوڈ کنگ۔ مینیجر افریقن یونین بنک“

سوموار:17مئی 2004،،مضمون: بسلسلہ شپمنٹ:: مسٹر شیخوزئی،  میں آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ کہ سکیورٹی کمپنی والوں نے آپ کی مجبوری  کے پیش نظر اپنی پالیسی میں تبدیلی کر دی ہے۔ان کے پاس جو تین بکس تھے ان میں سے ایک، بنک کے کہنے پر اب آپ کے نام کر دیا گیا ہے۔اس کا سرٹیفکیٹ ساتھ منسلک ہے۔ جونہی تمام شپمنٹ کاغذات  تیار ہو جاتے ہیں۔سکیورٹی کمپنی ڈپلومیٹک چینل کے ذریعہ آپ کو یہ بکس بھجوا دے گی۔ میں آپ کو اطلا ع دوں گا۔ ہوسکتا ہے کہ شاید مجھے آنا پڑے۔امید ہے کہ وہاں میری رہائش کا اچھا انتظام ہو گا۔یہ بتایئے کہ کہ کیا وہاں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے ہوٹل موجود ہیں َ،۔شکریہ ۔بیرسٹر مارک جانسن“

بدھ:19مئی 2004۔”مضمون:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔اوہ میں آپ کو پاکستان میں خوش آمدید کہتا ہوں یہ میری خوش نصیبی ہو گی کہ آپ جیسا قابل اور معاملہ فہم بیرسٹر ِ ان معاملات کو نمٹانے یہاں آئے۔ اسلام آبادمیں انٹرنیشنل سٹینڈرڈ کے کئی ہوٹل موجود ہیں وہ آن لائن بکنگ کرتے ہیں۔آپ ہوٹل میں آنے کے بعد مجھے فون کیجئے، میں آپ سے ملنے آجاؤں گا۔ شکریہ ۔شیخوزئی،


جمعرات:20مئی 2004،، مضمون: بسلسلہ ٹرانسفر سرٹیفکیٹ:مسٹر شیخوزئی، میں آپ کو یہ اطلاع دیتے ہوئے خوشی محسوس کر رہا ہوں۔ کہ سکیورٹی کمپنی والوں نے ڈپلومیٹک چینل کے ذریعہ سامان بھجو دیا ہے یہ  امید ہے کہ سوموار تک آپ کو مل جائے گا۔ سیکورٹی کمپنی کا کوئی نمائیندہ آپ سے ملاقات کرے گا۔ وہ آپ کی شناخت کے بعد آپ کے حوالے سامان کرے گا۔ کیونکہ تمام وے بل اور ڈلیوری سرٹیفکیٹ آپ کے نام ہیں۔ احتیاط نہایت ضروری ہے۔ ہاں سکیورٹی کمپنی والوں کو 1850امریکن ڈالر بطور، ڈیپازٹ بکس فیس،  پوسٹل و ٹرانسپورٹیشن چارجز دینے ہوں گے امید ہے کہ اب آپ کو کوئی پریشانی نہیں اٹھا نی پڑے گی۔شکریہ۔بیرسٹر مارک جانسن“

بدھ:21مئی 2004۔”مضمون:  ڈیر بیرسٹر مارک جانسن،۔میں آپ کا بہت شکرگزار ہوں۔ ہاں آپ نے اپنے آنے کے بارے میں کچھ نہیں بتایا۔ شکریہ ۔شیخوزئی“۔

اتوار:23مئی 2004۔”کو میرے موبائل کی گھنٹی بجی ۔ لوکل نمبر تھا۔ میں نے فون اٹھایا تو ایک نامانوس سے سنائی دی جو انگریزی (انگلش نہیں)میں پوچھ رہی تھی۔

”کیا آپ مسٹرشاکوزی ہیں؟“۔

”جی ہاں آپ کون ہیں“؟ میں نے پوچھا۔

”میرا نام احمد سانی اباچہ ہے۔ میری والدہ کے وکیل نے آپ کو کچھ سامان بھجوایا ہے۔ کیا وہ آپ کو مل گیا ہے؟“۔

میں تھوڑا سا حیرت زدہ ہوا۔ ”نہیں ابھی نہیں ملا۔ لیکن تم یہاں کیسے؟  یہ میرے لئے سرپرائز ہے؟“

"میں گذشتہ رات یہاں آیا ہوں مسٹر مارک جانسن نہیں آ سکے تو انہوں نے مجھے بھیج دیا ہے۔ ہم کیسے مل سکتے ہیں؟“۔

”کل 3 بجے،میرے آفس آجاؤ۔وہاں ملاقات کریں گے“ میں ے جواب دیا۔

دوسرے دن تین بجے ایک افریقی میرے آفس میں داخل ہو ا۔ احمد اباچہ کے نام سے اپنا تعارف کرایا۔ جو باتیں اس سے معلوم ہوئیں وہ وہی تھیں جو اوپر لکھی ہوئی ہیں۔ اس نے بتایا کہ اس کا قونصلر مجھ سے مل کر تسلی کرنا چاہتا ہے۔ بہر حال اس نے مجھے یقین دلایا کہ، اس کے مطابق میں ایک شریف آدمی ہوں اور وہ مجھے اپنے والد کی طرح سمجھتا ہے۔میرے پوچھنے پر اس نے بتایا کہ اس کا پاسپورٹ قونصلر کے پاس ہے کیونکہ وہ نہیں چاہتا کہ اس کا پاسپورٹ گم جائے۔ اس کے پاس جو شناختی کاغذات تھے وہ اس نے ہوٹل میں رکھے ہیں۔ چائے پینے کے بعد وہ اس یقین دھانی کے بعد چلا گیا ، کہ میں اسے یا اس کی والدہ کو بحیثیت کوئی دھوکہ نہیں دوں گا وہ لوگ پہلے ہی بہت پریشان ہیں ۔

جمعہ:28مئی 2004۔  کو اسسٹنٹ قونصلر مسٹر حمزہ  جو،  اباچہ فیملی کا خفیہ دوست تھا۔سے میری ملاقات  اسلام آباد  جی ٹین،کے ایک دو سٹار ہوٹل میں ہوئی۔ جہاں  قونصلر نے مجھ سے تمام تفصیلات  دریافت کیں رقم کا انویسٹمنٹ پلان پوچھا، میں نے ان کی توقعات کے مطابق تما م تفصیلات بمع جزئیات بتائیں۔ میٹنگ برخواست ہوئی، مسٹر حمزہ۔ ہوٹل سے واپسی ٹیکسی میں گئے۔


سوموار:31 مئی 2004۔  کو  بارہ بجے،مسٹر بینسن کا فون آیا اس نے اطلاع دی کہ آپ کی کنسائینمنٹ آگئی ہے آفس کا ایڈریس بتائیں۔میں نے آفس کو ایڈریس بتایا۔ احمد اباچہ کو اطلاع دی یوں لگتا تھا کہ وہ کہیں نزدیک ہی تھا فوراً آگیا۔ آتے ہی اس نے مجھ سے پوچھا کہ کیا میں نے کورئیر کمپنی کے پیسوں کا بندوبست کر لیا ہے۔جس پر میں نے ہاں میں جواب دیا۔ وہ مطمئن ہو کر بیٹھ گیا۔ ایک بجے کورئیر کمپنی والے آ گئے۔ دو افراد تھے  مسٹر بینسن  اور مسٹر جوزف، جوزف نے کہا کہ میں اس کو رقم دوں تاکہ وہ جاکر سامان لے آئے، میں نے اس سے وے بل اور شپمنٹ ڈاکومنٹ مانگے۔ اس نے بتایا کہ وہ گاڑی میں پڑے ہیں۔ اس نے بینسن کو ڈاکومنٹ لانے کا کہا۔ میں نے دو  عدد ڈسپرین کھائیں تاکہ ٹھاٹھیں مارتا ہوا خون، ذرا پر سکون ہو جائے۔ کیونکہ ایک ملین  ڈالرکی ڈیل ہونے والی تھی۔

ہاں میں آپ کو ایک بات بتانا بھول گیا۔اتوار کی شام مجھے دو ای میل ملیں، ایک ارب پتی یتیم بچی کی تھی اور دوسری ایک بنک آفیسر کی تھی جس نے بنک کے اکاونٹ  میں ایک گم شدہ اکاونٹ کا سراغ لگایا جس میں ڈیڑ ھ کروڑ ڈالر، پڑے تھے۔ انہوں نے  اسے ٹھکانے لگانے کے لئے میری  مدد مانگی تھی۔ میں نے جوابی ای میل میں ان کی مدد کی حامی بھر لی۔ اب ان کے جواب کے آنے کا نتظار تھا۔ویسے بھی میرا ای میل افریقی یونین بنک کے ان عہدیداروں کے ہاتھ بھی لگ گیا تھا جو، اس قسم کے گم شدہ دفینے، پاکستان کے مختلف لوگوں کو پچھلے تین، چار سال سے بھجوا رہے، ہیں غالباً ملک کی ڈالروں میں خود کفالت کی ایک یہ بھی وجہ ہے۔خیر اپنے بیٹے کو میں بار بار جھانکتے ہوئے دیکھ رہا تھا۔اسے معلوم تھا کہ ہنگامی حالات میں اس نے کیا کرنا ہے؟ بینسن کاغذات لے کر آیا۔ مجھے دیئے میں نے غور سے پڑھے۔ ایک عدد سٹیل بکس وزن 25 کلو گرام،احمد سانی اباچہ، کے نام ایک افریقی ملک سے پاکستان ترسیل کیا جاتا ہے۔ جس کے چارجز 1850امریکن ڈالر ہیں۔


"یہ کاغذات تو ”احمد“ کے نام ہیں؟ میں نے جوزف سے پوچھا۔

”مجھے نہیں معلوم۔ مجھے دیر ہو رہی ہے۔ میں نے اور کام بھی کرنے ہیں آپ رقم دیں۔“ جوزف نے اکھڑ لہجے میں جواب دیا۔
”سامان کہاں ہے ؟۔ وہ لاؤ اور رقم لے لو‘‘ میں نے حتمی لہجے میں کہا۔

”سامان قونصلیٹ کے لاکر میں ہے۔ آپ رقم دیں گے ہم جا کر سامان ریلیز کرائیں گے پھر آپ کو فون کریں گے آپ سامان لینے آ جانا“۔ جوزف نے بتایا۔

”مسٹر احمد۔ تمام کاغذات آپ کے نام ہیں۔ تو پھر میں پیسے کیوں دوں۔بہتر یہی ہے کہ اب کل یہ سامان لے آئیں اور رقم لے جائیں“۔

مسٹر بینسن  اور مسٹر جوزف  غصے میں اٹھ کر چلے گئے۔ احمد بیٹھا رہا، اس کے چہرے پر پریشانی تھی۔ وہ بڑ بڑا رہا تھا کہ میں تباہ ہوجاؤں گا اس کی فیملی تباہ ہو جائے۔ پلیز سر انہیں بلائیں۔ ورنہ وہ سامان واپس بھجوا دیں گے۔ ہمیں بہت نقصان ہو گا“۔ میں دل ہی دل میں اس کی اداکاری سے محظوظ ہو رہا تھا۔”احمد۔ وہ ایسا نہیں کر سکتے وہ کورئیر کمپنی کے ملازم ہیں۔انہیں کم ازکم دو دن سامان رکھنا چاہیئے۔

"اس بکس میں کیا ہے؟“ میں نے اچانک پوچھا۔

”دو ملین  امریکن ڈالر“احمد نے جواب دیا

”اچھا ایسا کرو تم ہوٹل جا کر ریسٹ کرو۔اب کل بات ہو گی“۔ میں نے احمد کو مشورہ دیا

وہ اٹھ کر چلا گیا۔ اس کے جاتے ہی میرا پیٹا ارمغان اندر آیا-

”آپ نے انہیں جانے کیوں دیا“ اس نے پوچھا، 


”وہ اس لئے کہ ابھی اتمامِ حجت نہیں ہوا“ میں نے جواب دیا۔ 

اس کے جانے کے بعد مجھے اسسٹنٹ قونصلر مسٹر حمزہ کے موبائل سے کال آئی -

”مسٹر شاکو زی۔ آپ نے وعدے کے خلاف کام کیا ہے۔میں سخت فکر مند ہوں اور پریشان ہوں۔آپ کورئیر کمپنی کو رقم ادا کریں تاکہ وہ آپ کا سامان لاکردیں۔ ورنہ وہ ڈیمرج ڈال دیں گے“۔  

”مسٹر حمزہ مجھے معلوم ہے کہ میں نے کیا وعدہ کیا ہے۔ آپ یہ بات ذہن میں رکھیں کہ وہ سامان میرا نہیں احمد کا ہے جب تک رقم میرے ہاتھ میں نہیں آتی میں کسی وعدے کا پابند نہیں۔دوسرے میں سامان اپنے آفس میں لینے کے بعدرقم ادا کروں گا“۔ میں نے رسانیت سے جواب دیا۔

”میں کو شش کروں گا کہ کورئیر کمپنی والے کل سامان آپ کے آفس لے آئیں“۔ حمزہ نے کہا اور فون بند کر دیا۔

دوسرے دن صبح  احمد میرے آفس میں آیا۔”مسٹر شاکوزی۔آپ نے رقم تیار کر لی۔ ہم نے کورئیر کمپنی سے بات کر لی ہے  وہ سامان لے آئیں گے۔سامان لیتے ہی آپ ان کو رقم دے دینا میں قونصلیٹ جارہا ہوں“۔


میں نے احمد کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر اس سے کہا،”مسٹر احمد۔ جب وہ بکس لے کر آئیں گے  تو تمھارا یہاں موجود ہونا ضروری ہے۔ میں ان دونوں کو ساتھ والی آفس میں بٹھاؤں گا۔ہم دونوں اس کو کھولیں گے اور اس میں سے جو ڈالر  نکلیں گے اس میں سے میں مسٹر جوزف  کو ادئیگی کروں گا“۔

احمد سانی اباچہ ایک دم کنفیوژ ہو کر ادھر ادھر دیکھنا شروع ہو گیا۔پانچ منٹ بعد اُس کے موبائل پر فون آیا وہ آفس سے اُٹھ کر باہر سننے گیا اور آج تک نہیں آیا۔ اس کے موبائل پر جب بھی رنگ کیا تو وہ کسی اور افریقی کے پاس ہے جو مجھے، سبق سکھانے کی دھمکی دیتا ہے۔ اس واقعہ کے خاتمے کے بعد مجھے کافی ای میل آئیں۔

سب کی ایک کہانی ہے۔اداکار مختلف ہیں۔ کیا آپ نے
Monoplyکھیلی ہے۔جس میں آپ بولٹن مارکیٹ۔میری ویدر ٹاور۔ایمپریس مارکیٹ۔ وغیرہ کا سودا کرتے ہیں۔جس میں آپ کا ساتھی آپ کو کروڑ پتی، بلکہ ارب پتی بناتا رہتا ہے اور آپ لٹا تے رہتے ہیں۔

آہ  ٹہریئے۔ ایک اور ای میل کی بیپ ہوئی ہے۔ یہ مسٹر عزیز عیسیٰ ہیں۔کسی افریقن یو نین بنک کی بل ایکسچینج کمپنی میں غیر ملکی ادئیگیوں کے شعبے میں مینیجر ہیں۔ انہوں نے  اکتوبر 1999میں وفات پانے والے عبدل غفار احمد کا کھوج لگایا ہے۔ وہ مجھے اطلاع دے رہے ہیں کہ10.5ملین امریکن ڈالر، بے یار و مدگار پڑے ہیں جن کا کوئی والی وارث بننے کے لئے تیار نہیں۔ مسٹر عزیز عیسیٰ آپ کو اس خزانے  کے وارث بنانا چاہتے ہیں۔ کیا آپ تیار ہیں؟ مجھے رضامندی کی ای میل بھیجیں، میں آپ کو اس مردِ  درویش کا ای میل ایڈریس مفت بھیجوں گا۔ شکریہ، شیخوزئی۔

نوٹ : میرا یہ مضمون ، روزنامہ جنگ 12 دسمبر 2004 کو سنڈے میگزیم میں شائع ہوا تھا ۔ خالد نعیم الدین 
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔