میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 29 اگست، 2014

گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا



 گفتگو اچھی لگی ذوقِ نظر اچھا لگا
مدتوں کے بعد کوئی ہمسفر اچھا لگا

دل کا دکھ جانا تو دل کا مسئلہ ہے پر ہمیں
اُس کا ہنس دینا ہمارے حال پر اچھا لگا

ہر طرح کی بے سر و سامانیوں کے باوجود
آج وہ آیا تو مجھ کو اپنا گھر اچھا لگا

باغباں گلچیں کو چاہے جو کہے ہم کو تو پھول
شاخ سے بڑھ کر کفِ دلدار پر اچھا لگا

کون مقتل میں نہ پہنچا کون ظالم تھا جسے
تیغِ قاتل سے زیادہ اپنا سر اچھا لگا

ہم بھی قائل ہیں وفا میں استواری کے مگر
کوئی پوچھے کون کس کو عمر بھر اچھا لگا

اپنی اپنی چاہتیں ہیں لوگ اب جو بھی کہیں
اک پری پیکر کو اک آشفتہ سر اچھا لگا

میر کے مانند اکثر زیست کرتا تھا فراز
تھا تو وہ دیوانہ سا شاعر مگر اچھا لگا

احمد فراز 

منگل، 26 اگست، 2014

دل میں جگہ چاہیئے

1857 کی بات ہے ، ہندوستان کی آزادی یا انقلاب کی تحریک وہاں کے "ڈی چوک " میں چلی اور میذیا کی عدم موجودگی کے باوجود ، ابلاغی میڈیا نے  مبلغین کے ذریعے پورے ہندوستان میں پھیل گئی  ۔ بالآخر وہی ہوا کہ آزادی یا انقلاب کی یہ تحریک ، غدر میں تبدیل ہوگئی ، محلوں کے محلے اُجڑ گئے ۔
اجڑے دیار کے لوگوں نے اُس وقت کے اسلام آباد ، دلّی کی طرف رُخ کرنا شروع کر دیا ۔
ایک فصیح البیان اور قادر الکلام ، ملبغ و شاعر نےدلّی کے قلعہ کے کنٹیروں سے مضبوط ۔ بلند و بالا دروازے پر پہنچا ۔ جہاں سرکاری گماشتے ، سپاہیوں کی وردی میں آراستہ و پیراستہ ، چاک و چوبند کھڑے سے ۔ اُن کے اعلیٰ عہدیدار سے ملنے کی خواہش ظاہر کی وہ نہ ہوسکی کیوں کہ اعلیٰ عہدیدار  برصغیر پر پھیلی ہوئی حکومت کے شہنشاہ کے حضور اپنے کارہائے نمایاں بباتِ مہاجراں بیان کر رہا تھا ۔
فصیح البیان اور قادر الکلام ، ملبغ و شاعر نے اپنا  حدود اربعہ بتانے  کے بعد     چوبدار  کو کہا ،
" اے نابغہء روزگار، ہر  گا نگاہِ عقاب رکھنے  والے سروقد ، اور پہلوان نما    ،راجوں ، مہاراجوں اور شاہوں کے شہنشاہ کے مقربِ خاص  دربان ، جاؤ اور شہنشاہ سلامت  کی قدم بوسی کے بعد سات عدد فرشی سلام ادا کرنے کے بعد ، شاہوں کے شہنشاہ کی خدمت اقدس میں عرض کر نا  کہ حَسرت، بڑی امیدوں کے ساتھ   آئے ہیں اور دل میں جگہ چاہتے ہیں"
دربان قلعہ کی سرخ اینٹوں کی بنی ہوئی سڑکوں پر چلتا  ، محل کی رہداریوں سے گذرتا دیوانِ خاص میں پہنچا  اور شہنشاہ کو جان کی امان پانے کے بعد اطلاع  دی ،
" عالم پناہ ، شاہی قلعہ کے دوازہ پر ، حسرت آئے ہیں اور دل میں جگہ پانے کی خواہش رکھتے ہیں ۔"
بادشاہ نے دختر عُنّاب کو لبوں سے ہٹایا ،
" جاؤ دیکھو کتنے ہیں ؟"
دربان نے الٹے قدموں ، قلعہ کے دورازہ کی راہ لی اور واپس آکر ،
" جہاں پنا ہ  ، کوئی ساٹھ ستر  کے لگ بھگ ہیں  !"
بادشاہ نے 
عُنّاب کے خُوشوں سے چند  دانے منہ میں ڈالے ، اچھی طرح چبا کر نگلنے کے بعد گویا ہوئے ۔
کہہ دو ، اِن حسرتوں سے کہیں اور جا بسیں
اتنی جگہ کہاں ہے دلِ داغدار میں


 

سوموار، 25 اگست، 2014

پختو خواہ اَو مہ خواہ !


 یہ سب بچے ، بسوں اور ٹرکوں میں بھر کر یا سبزی منڈی اسلام آباد سے ، انقلاب چوک یا آزادی چوک یا دھرنا چوک میں لائے گئے ہیں ، تاکہ اِن کو نیا پاکستان دیا جاسکے۔ نئے پاکستان کی بنیاد ، کن اصولوں پر پڑ رہی ہے  اور اِن بچوں کا اِس میں کیا کردار ہوگا ۔ اُس کے خد وخال عمران خان کے جلسے میں نظر آتے ہیں ۔ لیکن میرے خیال میں اِن بچوں کی وسمت یہی رہے گی جو ، پختون خواہ کے خوانین بناتے ہیں ۔

اتوار، 24 اگست، 2014

کل چودھویں کی رات تھی


کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نہ کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا

ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردا تیرا

اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا

کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا

تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا

بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا

ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا

دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا


اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی، ہم کو سہی سودا تیرا

ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا 

ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شہر ہوا کیا کیا تیرا

بے درد، سننی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا
(ابن انشاء)

انسانی نفس ، تغیّر و تبدّل

----- إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ----- ( سورۃ الرعد 13/11)
" بے شک الله کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت کو نہ بدلے "

اجمل خان:
اگر میں بحیثیت استاد کہوں تو آپ نے یقیناً ایک بہترین مضمون لکھا ہے اور آیات بھی اپنے مضمون کے لئے لکھی ہیں ، جو یقیناً آیات نہیں بلکہ آیات اللہ کے اعضا ہیں جو آپ نے اپنے مقصد کے لئے استعمال کئے ۔
میں باقی مضمون پر تو نہیں البتہ اِس آیت پر آپ کی توجہ دلاؤں گا جو میں نے ری پیسٹ کی ہے ۔ اِس کا ترجمہ اور اپنا مفہوم بھی لکھوں گا ۔ (بدلنا یا تبدیلی کے لئے اللہ تعالیٰ  نے ، " ب د ل " مادے سے کئی الفاظ الکتاب میں درج کئے ہیں )۔
إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ مَا بِقَوْمٍ
بے شک اللَّـهَ غَيِّرُ نہیں کرتا/کرے گا جو قوم کے ساتھ ہے ۔

حَتَّىٰ يُغَيِّرُوا مَا بِأَنفُسِهِمْ  ۱۱
حتیٰ وہ (قوم) غَيِّرُکریں۔کریں گے جو اُن کے نفسوں کے ساتھ ہے ۔

اِس آیت کا مفہوم یہ ہے کہ ، 
اللہ کسی قوم کے تغیّر  میں صرف اُس وقت  اُن کا ساتھ دیتا ہے جب قوم کے لوگ بذریعہ اللہ کی آیات پر عمل کرتے ہوئے اپنے نفس میں خود تغیّر   لائیں  ۔

مکمل آیت یہ ہے :
لَهُ مُعَقِّبَاتٌ مِنْ بَيْنِ يَدَيْهِ وَمِنْ خَلْفِهِ يَحْفَظُونَهُ مِنْ أَمْرِ‌ اللَّـهِ ۗ إِنَّ اللَّـهَ لَا يُغَيِّرُ‌ مَا بِقَوْمٍ حَتَّىٰ يُغَيِّرُ‌وا مَا بِأَنْفُسِهِمْ ۗ وَإِذَا أَرَ‌ادَ اللَّـهُ بِقَوْمٍ سُوءًا فَلَا مَرَ‌دَّ لَهُ ۚ وَمَا لَهُمْ مِنْ دُونِهِ مِنْ وَالٍ ( سورۃ الرعد 13/11)

 میں نے پرانا سوئچ تبدیل کرکے نیا لگا دیا ۔ (خرابی بہت بڑی تھی )
میں نے پرانے سوئچ میں تغیّر سے اُسے بہتر کر دیا ۔

انسانی تبدیلی کسی پانی کی ٹنکی کی صفائی نہیں جس میں دو انسان لگا کر ، پرانا پانی نکال دیا جائے ، ٹنکی کی صفائی کی جائے اور  عملِ  تبدل  سے نئے پانی سے  بدل دیا جائے  ۔
لیکن اگر پانی کا بدلنا ممکن نہیں ، تو عملِ 
تغیّر سے  وہ مکمل بہتر نہیں ہوسکتا ، کچھ نہ کچھ  کمی رہ جاتی ہے ۔
انسانی نفس کی صفائی ۔ ناممکن تو نہیں مشکل ضرور ہے ۔
 1- بچے کے نفس کی تربیت اُس کے والدین کرتے ہیں ،
2- اُستاد اپنے عمل اور تعلیم سے اُسے پالش کر کے چمکاتا ہے ۔ ( وہ اِس طرح کہ جب وہ پرچہ طالب علموں کو دے کر کلاس سے باہر چلا جاتا ہے اور تین گھنٹے بعد آتا ہے تو کلاس میں "پِن ڈراپ " خاموشی ہوتی ہے ۔ سب سے زیادہ نمبر لینے والا بچہ یا سب سے کم نمبرلینے والا بچہ اپنی محنت کو پرچے پر اتار دیتا ہیں "

اگر والدین کو معلوم ہوجائے ، کہ بچے نے نقل کرنے کی کوشش کی تھی ، تو اُسے سائیکارٹسٹ کے پاس بھیجا جاتا ہے ۔

تو معلوم ہوتا کہ ، کہ سوسائٹی کے بچے نے اُسے زیادہ نمبر لینے کی ترغیب بتائی تھی ، جس کی وجہ سے اُس نے یہ حرکت کی ۔ والدین بچے کو یہ نہیں کہتے کہ
"آئندہ اُس گندے اور نقل مارنے والے بچے سے نہیں ملنا
"
 بلکہ وہ بچے کے والدین سے مل کر اُسے اُس کے بچے کی اِس "کمزوری " کا بتاتے ہیں ، وہ والدین یہ کہہ کر اُن پر نہیں پِل پڑتے 
" کہ تمھارا بچہ نالائق ہے ، ہمارے بچے کو خراب کر رہا ہے "، بلکہ اُن کا شکریہ ادا کرتے ہیں اور اپنے بچے کی اِس طرح کونسلنگ کرتے ہیں کہ اُس بچے کو خود اپنی غلطی کا احساس ہوتا ہے ، اِس کے لئے وہ بچے کے استاد سے ضرور ملتے ہیں ، اور اُستاد ڈنڈا لے کر بچے پر ٹوٹ نہیں پڑتا "
وہ اپنے رویئے پر نظر ڈالتا ہے ، کہ کہیں اُس نے اِس بچے کو نظر انداز تو نہیں کیا ۔

نوجوان مفکر اجمل خان : اگر میں یہ کہوں ، کہ والدین ، استاد اور سوسائیٹی ، تینوں بچے کے نفس  میں تغیّر لاتے ہیں  ۔

پاکستان یا کہیں بھی یہ کسی بھی بیرونی انقلاب سے ممکن نہیں ، جب تک والدین اور استاد اپنے نفسوں میں انقلاب نہیں لاتے  اور یہ انقلاب بچے کے نفس میں چھو منتر سے نہیں آئے گا ، اِس مکمل انقلاب کے لئے  دس سے چالیس سال کا عرصہ لگے گا ۔

ہماری آنکھوں کو انقلاب کے لئے غیر ملکیوں کے منظر دکھائے جاتے ہیں ۔ اگر آپ اِس منظر کو اپنی آنکھوں سے خود دیکھنا چاھیں تو آپ کو پاکستان سے ، برطانیہ ، فرانس ، امریکہ یا کینیڈا کا سفر اپنے سامان کے ساتھ کرنا پڑے گا ۔ جب آپ اپنی منزل پر اتریں گے تو آپ حیران ہوں گے کہ پاکستان میں ایرپورٹ سے لے کر جہاز میں سوار ہونے تک ایک بے ہنگم ہجوم نظر آئے گا ، جو جہاز سے اترنے سے لیکر ایرپورٹ سے نکلنے تک مہذب قطار بنانے والے انسانوں میں تبدیل ہوجائے گا "
کیا یہ وہاں کی فضاء کا کمال ہے ؟ یا
 
وہاں اللہ نے اِنسانوں نفسوں کو تبدیل کرنے والی کوئی مشین لگائی ہے ؟

نہیں وہاں کا استاد سخت ہے ، وہ دوسرے ملک سے آنے والے  نامعقول بچوں  کی تربیت بڑے ، پیارے ماحول میں کرتا ہے ۔
یو ں سمجھیں  کہ بس وہ آپ پر جرمانہ کرتا ہے ،آپ کی ہراُس  غلطی پر  جس کو آپ معاف نہیں کرواسکتے  ۔


نوجوان مفکر اجمل خان :  چند افراد  کو لے کر دھرنا دینے سے کسی انسان کی زندگی میں انقلاب نہیں آتا ۔ انقلاب کپڑوں کا بھی نام نہیں کہ عورتوں کو پہنا دئیے جائیں یا مردوں کو ۔

2006 میں اپنی رفیقہء حیات  گُل، کے ساتھ حج کی سعادت حاصل کرنے کے لئے کراچی سے مدینہ جاتے ہوئے ، دبئی سے ہماری سیٹ سے دو سیٹ آگے ، انگلش بولتی ہوئی ،امریکی لباس میں چار نوجوان  خواتین "سرخ و سفید"  مانند شفتالو بیٹھی تھیں ، جس کو دیکھ کر حاجیوں کا ایمان متزلزل ہورہا تھا ۔ لہذا اُنہوں نے اُن کو کہا کہ وہ اپنے لباس پر چادر ڈال لیں ، مگر اُن کے ساتھ مرد نے بڑے غیر مہذب انداز اُنہیں پاکستانی انداز میں سمجھایا ۔ وہ چپ کرکے بیٹھ گئے ۔ اُن میں سے دو خواتین نے حاجیوں کو چڑانے کے لئے بار بار واش روم جانا شروع کیا ۔ جنہیں "غص البصر "کی مہارت نہیں تھی وہ لاحول پڑھتے اور جنہیں 
"غص البصر"کی عادت تھی تو وہ ماحول سے بے پرواہ تھے ۔ میرے خیال میں شاید سعودی ایرلائن کا یہ جہاز مدینہ سے  ہوتا ہوا یورپ جا رہا تھا ، بہر حال جب مدینہ اترنے کا اعلان ہوا تو ، گُل  نے اُٹھایا ، انہیں خواتین کی سیٹ پر نظر پڑی تو وہاں مکمل حجاب میں سر نظر آئے ۔ میں سمجھا کہ شاید میرے سوتے ہوئے کوئی بات ہوئی ہو گی ، تو ائر ہوسٹس نے اُن کی سیٹ حاجیوں کے کہنے پر تبدیل کروادی ہوگی ۔ لیکن گُل نے بتایا ، کہ اِن خواتین نے حجاب پہن لیا ہے ۔

کیوں کہ مدینہ ائر پورٹ کا استاد بہت سخت ہے ۔ اُسے اِس سے غرض نہیں کہ ، خواتین اپنے گھر میں کیا لباس پہنتی ہیں ، لیکن وہ خواتین کو یہ لباس پہن کر باہر نکلنے نہیں دیتا ۔


کچھ دوست کہیں گے کتنے ظالم ہیں یہ سعودی ، عورت کی آزادی چھین لیتے ہیں ۔وہ مسلمان عورت کی آزادی نہیں چھینتے  وہ "کفر"  کرنے والی عورت کو مسلمانوں میں نہیں آنے دیتے ۔ ہر مذھب کا اپنا رواج ہے  اور اللہ کے الدین کے اپنے اصول ۔ لیکن اِس کے باوجود:
انقلاب گھر سے شروع ہوتا ہے اور گھر پر ختم ہوتا ہے ۔


رومن اردو سے اردو



 اردو پاکستان کی قومی زبان ہے ، پاکستانی  آپس میں بات چیت و خیالات کا اظہار کے لئے اردو زبان کا استعمال کرتے ہیں ، فیس بک، جو سیاسی، معاشرتی  ، سماجی اور ذاتی خیالات کے اظہار کا   برترین ذریعہ ہے ، اُس پر عموماً رومن اردو میں یا انگلش  میں کمنٹس دئے جاتے ہیں  ۔ رومن اردو  ،  پڑ ھنے میں دقیق  ہوتی ہے  ۔جیسے یہ جملہ :- ۔
Jab tak is pak watan say politicians ko saaf nahi kardia jata tab tak koi bhe system nahi chal sakta...
جب تک اِس پاک وطن سے پولیٹیشن  کو صاف  نہیں کردیا جاتا  تب تک کوئی بھی سسٹم  نہیں چل سکتا  ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
یقیناً اردو میں آپ دشواری کے بغیر پڑھیں گے اور آپ کو لکھنے والے  کامفہوم ، سمجھ آئے گا  خواہ تحریر کتنی بڑی کیوں نہ ہو ۔ کیوں کہ ہم اردو میں لکھی ہوئی تحریر پڑھتے نہیں ، "سکین " کرتے ہیں


لیکن رومن اردو کی لمبی تحریرپڑھنا یقیناً آپ کے لئے لئے باعث سر درد بن جاتی ہے  ۔ تو کیوں نہ اردو میں  کوشش کی جائے ۔

پاکستان کے محنتی اور محب الوطن نوجوانوں نے   اردو ٹائپنگ کا ایک  پروگرام عرصے سے  اپنی ویب   سائیٹس پر لوڈ کیا ہے ۔ 
جس کے لئے ، وہی کی بورڈ اور الفاظ استعمال کئے جاتے ہیں جو ، رومن اردو  ٹائیپنگ کے لئے آ پ استعمال کرتے ہیں ۔
اِس لنک سے  کی بورڈ کی تصویر دیکھئے ، کہ اردو کا متبادل کون سے انگلش الفاظ ہیں



 عربی میں لکھنے کے لئے ، اِسی کی بورڈ کو   دائیں ہاتھ والی "شفٹ کی"   اور "آلٹ کی کے ساتھ عربی   رموزِ اوقاف شامل کئے جا سکتے ہیں۔ دیکھئے پکچر::

آسان ہے نا  ؟
تو   ایم بلال کا  ،  " پاک اردو انسٹالر  " ، یہاں سے ڈاون لوڈ کریں ۔ اور  اپنی تحریر ہمارے پڑھنے کے لئے آسان بنائیں ۔



انسٹالیشن کے بعد Task Bar پر   جہاں  ENG لکھا ہے وہاں ماؤس سے  کلک کریں تو ونڈو اوپن ہوجائے گی یہاں سے آپ اردو  سلیکٹ کریں اور ٹائپنگ کریں ۔  انگلش لکھنے کے لئے دوبارہ انگلش منتخب کریں ۔ 
اگر آپ کو یہ گائیڈ پسند آئی ہے ،تو  ایم بلال ایم ،  صاحب کے لئے دعاگو ہوں ۔ کیوں کہ یہ بلاگ اُن کی اِس ویب سائیٹ سے لے کر آسان لکھنے کی کوشش کی ہے


بلاگ بنانے کے لئے ، اسے پڑھیئے :
اپنا بلاگ بنائیں اور بلاگرز کی دنیا میں داخل ہو جائیں ۔ 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔