میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 اکتوبر، 2014

ایڈز سے ایبولا تک



1986 سے پہلے ایڈز نے دنیا میں اک خطرے کی لہر دوڑا دی -  جو نزلہ ،   گلے کی خرابی، بخار ، پیٹ کا درد ،  جسم پر سرخ نشانات ، گلے اور شرمگاہ میں  خارش، عضلات میں درد  اوروزن میں کمی - 
A diagram of a human torso labelled with the most common symptoms of an acute HIV infection
اب دنیا  ایبولا وا ئریس  کے شور سے جاگ اٹھی ہے جس  وجہ سے مغربی افریقہ میں ایبولاوائریس سے  2600 افراداس کا شکار ہو کرموت کے منہ جا چکے ہیں ۔ جن میں سوڈان ، یو گنڈا ، کانگو ،  گونیا ، لائبیریا ، نائجیریا  اور سیرا لیون شامل ہیں ۔




ایڈز پر تو جلد ہی قابو پا لیا ، لیکن یہ بیماری انسان کے ہاتھوں آنے والی اُن مہلک بیماریوں کی شروعات ہیں جو انسان نے انسانوں کو ہی تباہ  کنے والے جرثوموں کا نتیجہ ہیں جو امریکن لیباٹریوں میں پالے گئے اور اُن کی ھلاکت خیزی کا نتیجہ دیکھنے کے لئے خاموشی سے اِن افریقی علاقوں میں  استعمال کئے گئے ۔ #Ebolavirus developed by US Bio-warfare lab, says US don 

ہفتہ، 18 اکتوبر، 2014

ملالہ کو نوبل انعام کیوں ملا ہے ؟


ملالہ یوسف زئی سوات کی رہنے والی سترہ سالہ  ، تعلیم کی شوقین لڑکی کو  ہندوستانی انسان دوست ، کیلاش ستیارتھی کے ساتھ نوبل انعام کے لئے نامزد کردیا ۔ پاکستان کے کسی فرد کو ملنے والا یہ دوسرا نوبل انعام ہے ۔

21 اکتوبر  
1833میں سویڈن میں پیدا ہونے والا، 355 ایجادات کا مالک ، اور سب سے اہم ایجاد ڈائینامائیٹ   کا خالق  ، الفریڈ نوبل نے ، خود کو یاد رکھنے کے لئے 10 دسمبر 1896 میں  بعد از مرگ اپنی کئی وصیتوں میں سے ایک ،  اپنے نام سے جاری کئے جانے والے انعام " نوبل " کے لئے بھی کی تھی ۔ یوں 26اپریل 1897 میں ناروے   میں نوبل فاونڈیشن  کی بنیاد پڑی ۔ جس میں الفریڈ نوبل نے اپنے ذاتی ،  کل اثاثوں کا 94 فیصد  نوبل انعام  یافتگان کے لئے مخصوص کر دیا گیا ۔
یہ انعام کسی خاص وابستگی ، کی وجہ سے نہیں دیا جاتا اور نہ ہی اس کا یک دم فیصلہ کیا جاتا ہے ۔ یہ ایک شفاف طریق کار کی بدولت ،  انعام یافتگان تک پہنچتا ہے ۔ یہ ناروے کا کسی اور حکومت کے دباؤ سے کلی آزادانہ طریقے کا حامل ایوارڈ ہے ۔
نوبل انعام  لینے والی پاکستانی ملالہ یوسف زئی اور کیلاش ناتھی سمیت کئی افراد کے نام اس ایوارڈ کے لئے آئے تھے ، ممکن تھا کہ اگر ملالہ کی نامزدگی نہ ہوئی ہوتی تو یہ ایوارڈ ، کیلاش نارتھی کو ملتا ، تو ایسی صورت میں ہمارے ملک میں ، بغض و انا کا وہ سونامی نہ اٹھتا جو آج کل ، اخباروں کے علاوہ سوشل میڈیا میں زور شور سے موجیں مار رہا ہے ۔

عبدالستار  ایدھی ،یا  دیگر افراد کو ہم ، قومی سطح پر کتنی فوقیت اور شہرت دے رہے ہیں ، میڈیا کے اِس دور میں انسانی کام کرنے والوں کی شہرت ہی انہیں دنیا میں ممتاز بناتی ہے۔ بغض و عناد کے پاکستانی ماحول میں ہم  عبدالستار ایدھی کو سند مشینیں بانٹ کر تصویریں کھنچوانے والوں  سے بھی کم تر گردانتے ہیں ۔جب ہم انہیں پرکاہ برابر نہیں سمجھتے تو دنیا کیا خاک ان پر توجہ دے گی ؟

ملالہ ، کو شہرت دینے میں اُس کی ڈائری کا ہاتھ تھا جو اُس (یا اُس کے والد)نے گل مکئی کے قلمی نام سے  گیارہ سال کی عمر میں ، بی بی سی کے  بلاگ لئے  3 جنوری 2009 میں لکھی ، خیالات اُس کے والد کے ہو سکتے ہیں لیکن تحریر  اُس کی اپنی  تھی ،  بچگانہ پختگی کی تحریر ، جیسے میں اپنے بچوں کے لئے تقریر لکھتا ، وہ اُسے اپنے تحریر میں منتقل کرتے ، سٹیج پر جاتے اور پہلا انعام حاصل کرتے ۔ ایک باپ اپنی اولاد کی تربیت اِسی طرح کرتا ہے ، جو اپنی اولاد کا تعلیمی اور سماجی قد اپنے سے بلند دیکھنا چاھتا ہے ۔ کیوں کہ بچے  یا بچی کا پہلا استا د اور استانی اُس کے ماں اور باپ ہوتے ہیں ۔
ڈائری لکھنے  کے لئے اُسی کے سکول کی ایک بچی عائشہ جو اُس سے چارل سال بڑی تھی کا انتخاب ، کیا گیا مگر سوات میں " فضل اللہ " کی دہشت کے سبب عائشہ کے والدین نے منع کردیا ۔ یوں  ساتویں جماعت میں پڑھنے والی ملالہ  کا انتخاب اُس کے والد نے کیا ۔
ڈائری کے چھپتے ہی ، گل مکئی کی شہرت  عالمی کینوس پر پھیلتی رہی ، جو صرف اور صرف تعلیم کی دلداہ تھی اور اپنی جیسی کئی بچیوں کا درد ، کاغذپر منتقل کر رہی تھی تاکہ دنیا جہالت کے اُس عفریت کو روکے جو  سوات میں تیزی سے اپنی جہالت کے پنجے گاڑ رہا تھا ۔ 18 فروری 2009کو " کیپیٹل ٹاک " میں حامد میر کے پروگرام میں اپنی تعلیم کے لئے فکر مند ہونے والی بچی کا تعارف ، ملالہ کے نام سے کرایا گیا ، جس کو ایک  گیارہ سالہ بچی کی خواہش سمجھ کر  لوگوں نے زیادہ توجہ نہ دی ، لیکن آہستہ آہستہ اخباروں میں ملالہ کے بارے میں چھپنے والے مضمونوں نے پاکستانیوں کے ذہنوں میں ، سوات کی مشکلات نے جگہ بنانی شروع کر دی ۔ غیر ملکی اخبارات نے ، سوات میں لڑکیوں کی تعلیم کی حامی ملالہ کے بارے میں دنیا کو بتانا شروع کر دیا ۔ دنیا صوبہ خیبر پختون خواہ میں لڑکیوں کی ناخواندگی کے بارے میں اچھی طرح واقف تھی ، اُن کی خواہش تھی کہ دنیا کی لڑکیوں کی طرح نہ سہی پاکستا ن کی ہی بچیوں کی طرح ، یہ بچیاں بھی تعلیم کے زیور سے آشنا ء ہوں ۔
19 اگست 2009 میں ملالہ اہک بار پھر
" کیپیٹل ٹاک " پاکستان کے عوام کو نظر آئی ۔ اپنے ننھے ننھے قدم اٹھاتی ، سوات کی یہ بہادر بچی دوسری بہادر بچیوں سے ساتھ ، طالبان کی دھمکیوں کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنے تعلیمی سفر  کے ساتھ سوات  کی بچیوں  کی بھی ہمت بڑھا رہی تھی ۔ 19 دسبر 2011 میں حکومتِ پاکستان نے اسے  نیشنل یوتھ پیس پرائز سے نوازا لیکن اس سے دو مہینے پہلے اُسے انٹر نیشنل چلڈرن پیس پرائز کے لئے بھی نامزد کیا جا چکا تھا ۔
ملالہ 2102 کے اوائل میں سوات کے بچوں کے لئے   تعلیم کا ایک پرچم بن چکی تھی ،
کیوں کہ وزیر اعظم پاکستان نے اُس کے نام سےسوات ڈگری کالج برائے خواتین میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کیمپس کھولنے کا پروگرام  جاری کیا ۔ 
9 اکتوبر 1912 میں ، چودہ سالہ ملالہ  پر قاتلانہ حملے کی خبر پوری دنیا میں دکھ سے سنی گئی ۔گل مکئی کو فوجی ہیلی کاپٹر پر سوات سے  سی ایم ایچ پشاور منتقل کیا گیا ، پھر وہاں سے راولپنڈی اور بالآخر 15 اکتوبر 2012 کو اُسے برطانیہ ، کوئین الزبتھ ہاسپٹل برمنگھم لے جایا گیا ۔ پوری دنیا سے اُس کے علاج کے لئے ، انسانوں نے دعاؤں کے علاوہ رقوم  اُس کے علاج کے لئے بھیجنا شروع کر دیں ۔ 17 اکتوبر کو وہ کوما سے نکلی اور زندگی و موت سے مقابلہ کرتے کرتے  8 اکتوبر کو اُس نے دنیا کی دعاؤں کا شکریہ ادا کرنے کے لئے اپنے خاندان کے ساتھ تصویر کھنچوائی ، 3 جنوری  2013کو وہ ہسپتال سے گھر منتقل ہو گئی اور
2 فروری کو اُس کے سر کا دوبارہ آپریشن ہو ا ، مارچ 2013 کو وہ دوبارہ  سکول جاکر بیٹھنے کے قابل ہوئی ۔
سوات میں اپنی تعلیم کے خواب دیکھنے والی ، لڑکی حوادِث کے سہارے لندن جا پہنچی اور بین الاقوامی توجہ کا مرکز سوات کی ایک مظلوم عورت کے نمائندہ کی حیثیت سے بنی جس کی اولین ترجیح  سوات کی خواتین کی تعلیم تھی ۔ 
طالبان  کی طرف سے ایک نہتی اور معصوم بچی پر چلائی جانے والی، ایک گولی جس پر اُس کی قضا نہیں لکھی  تھی ۔ اُس نے ملالہ کو وہ اہمیت دلائی ، جو انسانی کام کرنے والی شخصیات کو ادھیڑ عمری کے بعد ملتی ہے ۔   ملالہ نے اپنی سولہویں سالگرہ پر اقوام متحدہ سے خطاب کیا۔ اس دن کو اقوام متحدہ کی طرف سے ملالہ ڈے کا نام دیا گیا۔
۔

بدھ، 15 اکتوبر، 2014

کافر !

مولوی صاحب نے کہا،
“بابا ! تم اپنی خوشی سے دینِ محمدی قبول کرنا چاہتے ہو ناں ! ”
_______________
 جس دن ستیل اوڈو اور اس کی گھر والی کو مسلمان ہونا تھا اس دن مسجد میں اتنے نمازی آئے کہ مسجد کے باہر بھی تین چار صفیں قائم ہو گئیں ۔ اس سے پہلے یا تو عید پر اتنا ہجوم ہوتا یا کوئی مال دار آدمی اپنے مرحوم باپ کی مغفرت کے لئے بریانی کی دیگ چڑھاتا تو لوگ کھنچے چلے آتے ۔
مسجد کے پیش امام مولوی امیر علی نے بھی ستیل کے قبولِ اسلام کی بڑی تشہیر کی تھی۔ لوگوں کو قرآن و حدیث کی روشنی میں بتایا تھ کہ ایسا موقع عیدوں سے بھی زیادہ مبارک ہوتا ہے ۔
گوٹھ کے باشندے بھی کچھ دینی جذبہ رکھتے تھے ، اس لئے بہت سوں نے سر پر پیچ دار پگڑی باندھی اور مسجد میں آ گئے ۔
مولوی صاحب خود بھی اچھی خاصی آن بان میں دکھائی دیئے ۔ سر پر ہری مونگیا دستار ، جسم پر سفید بے داغ شلوار کُرتا اور پاؤں میں نئی جوتی۔ ہاتھوں میں نقشین عصا جس کے نچلے سرے میں لوہے کی شام لگی ہوئی تھی۔ وہ محراب کے قریب کچی زمین میں اپنا عصا اس طرح گاڑتے جیسے دین کا جھنڈا ہو۔
مولوی صاحب اس دن خطبے کی جو کتاب لائے وہ بھی نئی تھی۔ کچھ قرآنی آیات کی تلاوت کے بعد جب وہ سندھی نظم کے اس قصے پر پہنچے جہاں چاروں اصحاب پاک کی ثنا تھی تو نمازیوں کی آنکھیں بھیگنے لگیں ۔
فرض پڑھاتے ہوئے بھی مولوی صاحب نے سورہ رحمٰن کی اثر آفرینی سے نمازیوں کے دلوں کو روحانی انبساط بخشا۔
پھر نماز کے بعد مختصر تقریر میں گوٹھ کے لوگوں کو مبارک باد دی اور ایک پنج وقتہ نمازی کو بھیج کر ستیل اور اس کی گھر والی کو بلوایا جو نہا دھو کر صاف ستھرے کپڑے پہنے مولوی صاحب کی بیٹھک میں موجود تھے ۔
مسجد میں ستیل اور اس کی گھر والی (مائی ٹلی) کو اپنے سامنے بٹھا کر مولوی صاحب نے بلند آواز میں ستیل سے پوچھا، “بابا! تم اور مائی ٹلی اپنی خوشی سے دینِ محمدی قبول کرنا چاہتے ہو؟”
“ہاں مولبی صاحب !”
“اپنی رضا و رغبت کے ساتھ یا کسی زور اور زبردستی سے ؟”
“سائیں ! پوری رجا و رگبت اور کُھشی سے ۔”
“مائی ٹلی! تم بھی؟”
“ہاں سائیں ! میں بھی۔” 
سمٹی سمٹائی مائی ٹلی نے اپنے شوہر کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔ مولوی صاحب نے یہ سن کر حاضرین سے رجوع کیا۔
“سنتے ہو بھائیو!”
“ہاں ہاں سائیں ! ہم سب نے سن لیا۔”
مولوی صاحب نے شہادت کی انگلی چھت کی جانب اُٹھائی اور تین مرتبہ بلند آواز سے کہا،
“اے اللہ ! تُو شاہد رہنا’ اے اللہ! تُو شاہد رہنا’ اے اللہ ! تُو شاہد رہنا”
مولوی صاحب نے اس کے بعد ستیل اور مائی ٹلی کو مبارک باد دی اور بڑی خوش دلی سے پوچھا،
“روزے رکھو گے ؟ نماز پڑھو گے ؟ اور نیک کام کرو گے ؟”
“ہاں ہاں سائیں ! کیوں نہیں جو آپ کرتے ہو وہی کروں گا۔ روجے رکھوں گا، نماج پڑھوں گا۔”
“میری جیسی داڑھی بھی رکھو گے ؟”
“رکھوں گا جرور رکھوں گا۔” ستیل نے سچے دل سے اقرار کیا۔
اچانک مولوی صاحب کی نظر ستیل کے کانوں پر پڑی جن میں سونے کی بالیاں لٹک رہی تھیں ۔
“یہ سونے کی بالیاں اُتار کر مائی کو دے دو۔ اسلام میں مردوں کے لئے سونا پہننا حرام ہے ۔”
ستیل نے یہ سن کر جلدی جلدی گھبراہٹ میں سونے کی بالیاں اُتار کر مائی ٹلی کو دیں جس نے انہیں اپنے دوپٹے کے کونے میں باندھ لیا۔
مولوی صاحب نے ستیل سے اگلا سوال پوچھا،
“جوا نہیں کھیلو گے ؟ دارو نہیں پیو گے ؟”
“نہ سائیں ! اب کبھی نہیں !” ستیل نے عاجزی سے جواب دیا۔
“جزاک اللہ ! جزاک اللہ !” مولوی صاحب نے اسے شاباش دی اور مزید سوالات پوچھنے کی ضرورت محسوس نہ کی بلکہ اس سے کہا،
“تھوڑا سرک کر میرے نزدیک آ جاؤ۔”
ستیل گھسٹ گھسٹ کر مولوی صاحب کے پاس جا بیٹھا تو انھوں نے کلمہ پڑھوایا،
“کہو، لا الہ الا للہ!”
ستیل ٹھیک سے نہ کہہ سکا، رکتے رکتے بولا،
“لا ئیلا”
“ایسے نہیں ” ۔ ۔ ۔ کہو، “لا ۔ ا ۔ لاھ” مولوی صاحب نے ہلکے ہلکے لفظ لفظ کو اس طرح دہرایا جیسے بچوں کو پڑھایا جاتا ہے اور اس طرح ستیل اور مائی ٹلی نے پورا کلمہ توحید تھوڑی سی مشق سے ٹھیک ٹھیک پڑھ لیا۔
سب نمازی ایک بے دین اور اس کی گھر والی کو مسلمان ہوتا دیکھ کر خوشی سے کھل اُٹھے ۔ انھوں نے مولوی صاحب کو مبارک باد دے کر ستیل اور مائی ٹلی کو مبارک باد دی۔ ایک پُر جوش شخص نے تو زور دار نعرہ تکبیر لگایا جس کا جواب حاضرین نے اتنی بلند آواز میں دیا کہ اس کی گونج دُور تک سنائی دی۔ پھر مولوی صاحب نے ستیل کی جانب منہ کر کے کہا،
“آج سے تمہارا نام عبداللہ اور مائی ٹلی کا نام فاطمہ ہو گیا۔”
کچھ لوگ جانے لگے تو مولوی صاحب نے انہیں اشارے سے رکنے کی تاکید کی اور کہا،
“بھائیو! ذرا ٹھہرنا، ابھی ان کا نکاح پڑھانا ہے ۔”
یہ سن کر ہر ایک اپنی جگہ پر جما رہا۔ مولوی صاحب نے دونوں کی مرضی معلوم کی اور نکاح پڑھا دیا۔
——–×-×-×-×-×———-
گوٹھ کے باہر اوڈوں کی جھونپڑیوں میں کھلبلی مچی ہوئی تھی۔ عورتیں اور لڑکیاں الگ الگ ٹولہ بنائے کوسنے دے رہی تھیں ۔
گوڑا    رے گوڑا ہائے گوڑا کا شور تھا۔
مرد اپنے مکھیا پھگن مل کی چارپائی کے چاروں طرف بیٹھے زبردست بحث مباحثے میں مصروف تھے ۔ مکھی پھگن مل بار بار غصے میں اپنی رانوں پر ہاتھ مار کر بڑبڑا رہا تھا۔
اس کو جب اس بات کی سن گن ملی تھی تو ستیل کو بہت سمجھایا اور منتیں کی تھیں ۔ بھگوت گیتا کا واسطہ دیا تھا اور آخر میں پنچایت کے سامنے اپنی چودھراہٹ کی رنگین پگڑی تک ستیل کے پاؤں میں ڈالنے کا تاثر دیا تھا ، مگر ستیل نے صاف صاف جتا دیا تھا،
” مکھیا ! تم کچھ بھی کرو ، میں نے جو کچھ کرنا ہے ضرور کروں گا۔”
“مگر تو اپنا دھرم کیوں بدل رہا ہے ؟”
“میری مرجی۔”
“آخر پھر بھی؟”
ستیل سوچ میں پڑ گیا۔ ایک کھسیانی سی ہنسی اس کے لبوں پر آئی اور اس نے کہا،
“مجھے اپنا دھرم اب اچھا نہیں لگتا۔”
“گوڑا رے گوڑا!۔۔۔ ۔ارے تجھ کو آخر کیوں نہیں اچھا لگتا اپنا دھرم؟”
“اچھا مکھیا! بتا ہم کون ہیں ؟”
“ہم ہندو ہیں ۔”
“اچھا بتا ہندو لاش کو چتا میں جلاتے ہیں ، مسلمان کیوں دفن کرتے ہیں ؟”
“یہ ہماری ریت ہے وہ ان کی ریت ہے ۔”
“اچھا ہم بکرا حلال کر کے کیوں کھاتے ہیں ؟”
“یہ بھی ہماری رسم ہے باپ دادا سے ۔”
“پر یہ تو مسلمانوں کی رسمیں ہیں ۔”
“تو چریا ہے ! یہ رسمیں ان کی بھی ہیں اور ہماری بھی۔”
“پھر تم کیسے کہتے ہو کہ ہم ہندو ہیں ؟”
“نہیں تو کیا ہیں ڑے ! ”
“آدھے ہندو آدھے مسلمان۔ دھڑ دنبہ، گردن بکری”
مکھیا پھگن مل لاجواب سا ہو گیا، مگر اس نے بات کو بدلا،
“بھلے سے ہم کچھ بھی ہیں ۔ پر دھرم کیوں بدلیں ”
“مجھے مسلمانوں کا دھرم پسند ہے ۔”
“تو کیا ہمارا دھرم جھوٹا ہے ؟”
“ہاں جھوٹا ہے ۔” ستیل نے دلیری سے جواب دیا ۔
جس پر پنچایت میں بیٹھے اوڈوں کے لہو نے جوش مارا۔ موتی اور کچھ دوسرے تو ستیل کی پٹائی کرنے آگے بڑھے ، مگر مکھیا نے ہاتھ جوڑ کر روکا اور کہا،
“پنچو! مارنے پیٹنے سے کچھ نہ ہو گا۔ اس کو مسلمانوں نے تاویج (تعویذ) پلائے ہیں ۔”
مکھیا کی یہ بات ان سب کے دلوں میں اس طرح اتر گئی جیسے ان کے پھاوڑے گیلی زمین میں کُھب جاتے ہیں ۔ کئی ملی جُلی آوازیں اُبھریں ،
“مولوی کو بے سک (بے شک) تاویج دینے میں کمال ہے ۔ سبھی تاویج لکھا کر لے جاتے ہیں ۔”
جوش میں کھڑے ہو جانے والے اوڈ اپنی اپنی جگہوں پر بیٹھ گئے اور غصے میں بھر کر زور زور سے چرس کے دم لگانے لگے ۔ مکھیا نے سب کو چُپ دیکھ کر پھر ستیل کی جانب منہ کیا اور پوچھا،
“تجھ کو مسلمانوں کا دھرم کیوں اچھا لگا ہے ؟”
“سب مسلمان بھائی ساتھ ساتھ نماج پڑھتے ہیں ۔ کھانے پینے میں چُھوت چھات نہیں ہوتی۔ ہندو بھی کوئی دھرم ہے ؟ برہمن، کھتری، اوڈ، اچھوت سب الگ الگ۔”
مکھیا حیرت سے ستیل کو دیکھتا رہا اور سوچنے لگا کہ سچ مچ یہ بات تو ہے کہ برہمن ، اچھوتوں اور اوڈوں کو اپنے پاس نہیں آنے دیتے ۔ ایک تھالی میں کھانا تو بہت دور کی بات ہے ۔ مسلمان تو ایسا نہیں کرتے ۔
اب مکھیا نے دوسری چال چلی اور کہا،
“ستیل تُو مسلمان ہو جائے گا تو ہم سے تیرا کوئی واسطہ نہیں رہے گا۔”
“نا رہے ، ہاں ہاں نہ رہے ۔”
“ہم تجھے اپنے پاس بھی نہیں آنے دیں گے ۔ ولر کے پاس بھی نہیں ۔” مکھیا نے ستیل کو دھمکی دی۔ ولر کی گھر والی ستیل کی سگی بہن تھی۔
“دھمکی کسے دیتے ہو، ہاں ہاں نہ آنے دینا۔ میں مسلمان بھائیوں کے ساتھ اٹھوں بیٹھوں گا اور سمجھوں گا کہ بہن مر گئی۔”
اتنی بڑی بات سُن کر مکھیا نے ٹھنڈے انداز میں بات کی۔ اسے یقین تھا کہ ستیل کہیں نہ کہیں ہار کر اس کے جال میں آ جائے گا، مگر جب کوئی چال کامیاب نہ ہوئی تو مکھی پر جھنجھلاہٹ سوار ہو گئی،
“یاد رکھنا ستیل! گدھوں پر چاہے پانچ زینیں کس کر گھوڑوں میں بٹھا دو تو بھی گدھے ہی رہیں گے ، گھوڑا نہیں بن جائیں گے ۔”
پنچایت اُٹھنے کے بعد مکھیا نے ولر کو سمجھایا تھا کہ پگڑی کا واسطہ دے کر ستیل کی منت سماجت کرنا کہ اپنا دھرم نہ چھوڑے ، لیکن ستیل پر اپنے بہن بہنوئی کی منتوں کا بھی کوئی اثر نہ پڑا اور وہ مولوی امید علی سے طے شدہ وقت پر جمعہ کے دن گھر والی کو لے کر سیدھا مسجد چلا گیا اور کلمہ پڑھ کر باقاعدہ داخلِ اسلام ہو گیا۔
۔—–×-×-×-×-×——
مسلمان ہونے کے بعد ستیل کافی بدل گیا تھا۔ پہلے وہ ہر دوسرے تیسرے دن داڑھی نہ منڈاتا تو اسے چین نہ آتا۔ اب اس نے باقاعدہ داڑھی رکھ لی تھی جو اس کے بھرے بھرے چہرے پر بڑی سجتی تھی۔ نماز پڑھنے مولوی صاحب سے بھی پہلے مسجد میں آ جاتا۔ جھاڑو دینا، پانی کے گھڑے بھرنا اور بڑے ذوق و شوق سے عربی پڑھنا اس کے معمولات میں شامل ہو گیا۔
مولوی صاحب کو بھی اس سے پہلے کسی غیر مسلم کے مسلمان بنانے کی سعادت نصیب نہیں ہوئی تھی، اس لئے وہ بہت خوش تھے اور آتے جاتے تعریف کرتے ،
“بھائی ! یہ اپنا عبداللہ کتنا نیک اور کیسا محنتی مسلمان ہے ۔”
کبھی کبھی مولوی صاحب کسی بے نمازی کو اللہ ، رسول اور آخرت کا وعظ دیتے تو عبداللہ کی مثال دے کر کہتے ،
“ارے ! نماز پڑھو، ذکر کرو، نہیں تو قیامت کے دن یہ اوڈ تمہاری مسلمانی کو شکی کر دے گا۔”
عبداللہ کا دینی ذوق و شوق اور مسلمانوں سے سچی ہمدردی کے جذبے کو دیکھ کر مولوی صاحب اس کی دلداری کرتے اور کہتے تھے ،
“عبداللہ! گھبرانا مت۔ رب سائیں تمہارے گناہ معاف کرے گا۔ صبح کو بھولا شام کو لوٹ آتا ہے تو اسے بھولا نہیں کہتے ۔”
عبداللہ بھی مولوی صاحب کی شفقت سے بہت متاثر تھا۔ وہ عرض کرتا،
“سائیں ! آپ اللہ کے پیارے بندوں میں ہیں ، میرے لئے دعا کرو کہ پچھلے گناہ معاف ہو جائیں ۔”
مولوی صاحب فوراً ہاتھ اُٹھا کر دُعا کرتے اور دعا میں بڑی عاجزی سے کچھ شعر بھی پڑھتے ،
“عرض سن ہم عاصیوں کی مصطفے ٰ کے واسطے ”
اس دوران عبداللہ والہانہ سے انداز میں برابر آمین آمین کہتا رہتا اور اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ بہہ کر داڑھی میں جذب ہوتے رہتے ۔
—–×-×-×-×-×——
ایک دن عصر کی نماز سے کچھ پہلے اس کا بھانجا “بھابھیو” بھاگتا ہوا آیا اور اپنی ماں کی بیماری کا حال بتایا۔ عبداللہ کو پہلے ہی خبر مل گئی تھی، مگر مکھیا پھگن مل سے کئے گئے فیصلے کا خیال کر کے وہ نہیں گیا حالانکہ بہن کی بیماری کا اسے صدمہ تو بہت تھا۔ اس نے بھابھیو سے کہا،
“میں نہیں جاؤں گا۔ مکھیا غصہ کرے گا۔ تُو بیل گاڑی میں اسے ادھر لے آ۔”
بھابھیو نے یہ عذر سن کر بتایا،
“ماما! تُو اس بات کی فکر نہ کر۔ بابا نے مکھیا کو راجی کر لیا ہے کہ تھوڑی دیر کے لئے آتا ہے تو آ جائے ۔”
عبداللہ کے خون نے جوش مارا اور وہ بھانجے کے ساتھ اپنی بہن کو دیکھنے چلا گیا۔ عصر کی نماز پر جب مولوی صاحب نے عبداللہ کو نہ دیکھا تو حیران ہو گئے اور نمازیوں سے پوچھا۔ ان میں سے ایک نے عبداللہ کو نمازیوں کے ساتھ جاتے ہوئے دیکھا تھا اور یہ بھی معلوم تھا کہ بہن بیمار ہے ۔
مولوی صاحب کو عبداللہ کا وہاں جانا اچھا نہیں لگا اور کہنے لگے ،
“اسے نہیں جانا چاہئے تھا۔ جتنی دیر کافروں کی صحبت میں بیٹھے گا، ایمان میں کمزوری پیدا ہو گی۔ کوئی جا کر اسے لے آئے ۔”
مولوی صاحب کا حکم سن کر فتح ناریجو اُٹھا اور جلدی جلدی قدم اُٹھاتا اوڈوں کی جھونپڑیوں کے علاقے میں داخل ہوا جہاں چاروں طرف نوکیلے کانٹوں کی باڑھ تھی۔ اس نے باہر ہی سے آواز دی،
“عبداللہ ، او عبداللہ!”
مکھیا پھگن مل کا جھونپڑا باڑھ کے پاس ہی تھا۔ وہ اس وقت باہر سے آئے ہوئے مہمان کے ساتھ چوپڑ کھیل رہا تھا۔ آواز سن کر اٹھا اور باہر نکل کر فتح ناریجو سے پوچھا،
“کیا ہے فتح؟”
“ہمارا عبداللہ تمہارے پاس آیا ہے ، اس کو مولوی صاحب بلا رہے ہیں ۔”
مکھیا اس بات پر چڑ سا گیا۔ عبداللہ جو اِن کی ہڈیوں اور خون میں سے تھا، جو جھونپڑیوں میں پیدا ہوا، پلا بڑھا وہ فتح والوں کا کیسے ہو گیا؟ مگر مکھی نے شوخی سے پوچھا،
“عبداللہ تمہارا ہے ، فتح؟”
“ہاں ڑے ! ہمارا ہے ۔”
“تم اس کے وارث ہو؟”
“ہاں ہاں ہمارا مسلمان بھائی! ہم اس کے وارث ہیں ۔”
اسی عرصے میں عبداللہ کو بھی کسی نے فتح ناریجو کے آنے کی اطلاع دی اور وہ بیمار بہن کے جھونپڑے سے نکل کر وہیں آ کر بیٹھ گیا۔
مکھیا نے فتح سے پوچھا،
“اچھا فتح ، ایک بات بتا۔ کل جو یہ مر جائے تو اس کی گھر والی کو دھکے دے کر تو نہیں نکالو گے نا؟”
“کیوں نکالیں گے دھکے دے کر؟”
“تم مسلمان اس سے نکاح کر لو گے ؟”
“اگر راضی ہو گی تو اس میں کوئی عیب کی بات نہیں ۔”
“گھن اور نفرت نہیں ہو گی تمہیں اس سے ؟”
“گھن اور نفرت کیوں ہو گی، اب تو یہ بھی مسلمان ہے ۔”
عبداللہ سوال و جواب میں مکھیا کو ہارتا ہوا دیکھ کر مسکرانے لگا۔ مکھیا کو سخت ناگوار گذرا اور وہ اس طرح اپنے سر کو تھپکی دینے لگا جس طرح چوپڑ میں کسی کو گوٹ مارنے کے لئے سر اور ماتھے کو تھپ تھپاتا تھا۔ اچانک اس نے پوچھا،
“اچھا فتح! اگر اس کی بیوی مر جائے تو اس کی شادی اپنے گھرانے میں کر دو گے ؟”
مکھیا کا سوال سن کر فتح کا منہ سرخ ہو گیا۔ آنکھوں میں حقارت و نفرت کا تاثر ابھرا اور اسے ایسا لگا جیسے ایک خسیس اور نیچ اوڈ نے اسے بہت بڑی گالی دے دی ہو۔
مکھی انے دکھتی رگ پر ہاتھ رکھ دیا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ دیہات میں کوئی اپنی ذات سے باہر لڑکی نہیں دیتا۔ ناریجو ناریجوں ، کلہوڑے کلہوڑوں میں لڑکی کا رشتہ کرتے ہیں ۔ مکھیا ڈرنے کی بجائے مسکرانے لگااور فتح سے کہا،
“یہ کون سے قانون میں لکھا ہے کہ تم لو گے ، مگر دو گے نہیں ۔ اسلام میں تو سب مسلمان بھائی بھائی ہیں نا؟”
“یہ ہماری رسم ہے بابا ،دادا سے ۔” فتح ناریجو غصے میں گرجا۔
مکھیا اپنی چال میں کامیاب ہوا۔ عبداللہ کے چہرے پر عجیب سا کرب نمایاں ہوا۔ اس کے ہونٹ کانپنے لگے اور آنکھوں میں موٹے موٹے آنسو تیرنے لگے ۔ اس نے کسی سے کچھ نہ کہا، بس مکھیا کے ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر اوڈوں کے جھونپڑوں کی جانب پلٹ گیا۔
 

(احمد نسیم کھرل)

ارے، رے بابا، نہ بابا

میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
کوشش ہے میری بیکار ...... ارے رے بابا نہ بابا
میں ایک کلی پیاری سی۔۔۔ میں گلشن کی ہریالی
تو ایک ہرجاہی بھنورا۔۔۔ پھرتا ہے ڈالی ڈالی
تیری رگ رگ میں عیاری --- میں لڑکی بھولی بھالی
میرا لہجہ خوشبو جیسا
--- تیری بات بات میں گالی
میں ساحل تو مجدھار ....ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
تیری ہر نہ انصافی
--- رہتی میری نظر میں
ماتھے پہ شکن ہو تیرے
--- تو درد ہو میرے سر میں
بدلے ہیں کتنے ساتھ تو نے
--- اس ایک سارے سفر میں
تو گھومے دنیا بھر میں
--- میں قید رہوں تیرے گھر میں
دوہرا ہے تیرا کردار .... ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
کیا ساتھ ہے تیرا میرا
--- تو شام ہے میں ہوں سویرا
میں گھر پہ راستہ دیکھوں
--- تیرا بستی بستی ڈیرہ
تو اک فیراہی پنچھی
--- ہر شاخ پہ تیرا بسیرا
اور مجھ پر یہ پابندی
--- میں نام جپوں بس تیرا
تو چاہے بیویاں چار ...ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا
تو ایک شکاری چیتا
--- میں سیدھی سچی گاہے
تو عیب کرے دنیا کے
--- اور مجھ کو عیب لگاہے
میرے پاؤں میں ہے جو گنگرو
--- تو نے ہی مجھے پہناہے
وعدوں سے مجھے بہلاہے
--- تو جوٹھی قسمیں کھاھے
اک دن میں سو سو بار ...ارے رے بابا نہ بابا
میں تجھ کو سیکھاہوں پیار.... ارے رے بابا نہ بابا

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔