میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 27 دسمبر، 2014

لیموں اور اجوائن صحت کے بے شمار فوائد



لیموں اور اجوائن کو ہم عموماً مختصر مقدار میں کھانوں کا ذائقہ بڑھانے کیلئے استعمال کرتے ہیں لیکن ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ اگر ہم ان کی مقدار بڑھا دیں اور ان دونوں چیزوں کو ملا کر استعمال کریں تو کولیسٹرول میں کمی اور دیگر حیرت انگیز فوائد حاصل ہوسکتے ہیں۔
بھنے ہو ئے چنےکے انسانی صحت پر حیران کن اثرات جانئے
اجوائن میں وٹامن سی اے اور کے پائے جاتے ہیں اور اسی طرح لیموں میں بھی وٹامن سی کثرت سے پایا جاتا ہے۔ لیموں کے غذائی اجزاءجب اجوائن کے ساتھ ملتے ہیں تو نہ صرف جسم کو توانائی ملتی ہے بلکہ مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے، بیماریوں سے تحفظ ملتا ہے اور خاص طور پر خون میں کولیسٹرول کا لیول کم ہوجاتا ہے۔
انہیں ملا کر استعمال کرنے کیلئے پہلے لیموں کو صاف کرکے اس پر میٹھا سوڈا اچھی طرح ملیں اور اسے اچھی طرح دوبارہ صاف کرلیں اور چھلکے سمیت چھوٹے چھوٹے ٹکڑوں میں کاٹ لیں۔ پانی ابال کر اسے ٹھنڈا کرلیں اور اجوائن کے پتوں کو بھی باریک کاٹ لیں یا بلینڈر میں ڈال کر باریک کریں۔ اب اسے لیموں کے ساتھ ملالیں اور اس میں ٹھنڈا کیا ہوا پانی بھی ڈال دیں۔ اس آمیزے کو اچھی طرح مکس کرکے شیشے کے برتن میں محفوظ کرلیں اور ہر کھانے سے 30 منٹ پہلے 100 ملی لیٹر (ایک لیٹر کا دسواں حصہ) استعمال کریں اور صحت کے بے شمار فوائد پائیں۔

میرا بھائی - محمد علی جناح

فاطمہ جناح بیان کرتی ہیں کہ نومبر 1940ء کو قائد بذریعہ ریل گاڑی بمبئی سے دہلی جارہے تھے۔ اُنہوں نے مرکزی قانون ساز اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنا تھی۔ ان دنوں قائد کو دائیں چھاتی میں شدید درد محسوس ہو ا۔ دہلی پہنچ کر ڈاکٹر کو طلب کِیا جس نے پیلوریسی تشخیص کی اور ادویات کے ساتھ دو ہفتے آرام تجویز کِیا۔ فاطمہ جناح بتاتی ہیں کہ حملہ بڑا شدید تھا یہی ابتدائی بیماری تھی جس نے انتہا پر پہنچ کر بھائی کو ہم سے جدا کر دیا۔ پیلوریسی پھیپھڑوں میں پانی پڑ جانے کو کہتے ہیں۔ اس کا علاج بھی اینٹی ٹیوبر کلوسز(ٹی بی)  کی بِنا پر کِیا جاتا ہے۔ قائد نے صرف دو دن آرام کِیا، پھر کام میں مصروف ہو آگئے۔
فاطمہ جناح بتاتی ہیں اس کے بعد اُن کو زکام، نزلہ، الرجی قسم کی شکایات رہتی تھیں۔ اسی طرح اس حملہ کے بعد اپریل 1941ء میں بمبئی سے مدراس بذریعہ ٹرین سفر کر رہے تھے۔ چلتی ٹرین میں وہ ٹائلٹ جانے لگے تو کمزوری کی بِنا پرفرش پر گِر گئے۔ ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔ اُس نے نروس بریک ڈائون تشخیص کِیا اور آرام تجویز کِیا، لیکن اب آزادی کی منزل قریب آ رہی تھی اور انہیں ہندوستان کے طول و عرض میں جلسوں سے خطاب کرنا تھا۔ ڈاکٹر البرٹ بیٹی(دہلی) سے آپ نے 1942ء میں چیک اَپ کرایا۔ مئی 1944ء میں کچھ دنوں کے لیے آرام کی خاطر سرینگر گئے۔ تاہم وہاں بھی سیاسی سرگرمیاں جاری رہیں۔

 
جب انسان کے سامنے ایک مشن ہو، کام کرنے کی لگن ہو اور محنت کرنے کی عادت ہو تو وہ آرام سے رہ ہی نہیں سکتا۔ وہ جولائی 1944ء میں لاہور آگئے۔ مصروفیت کچھ زیادہ ہی تھی۔ جسم نے جواب دیا تو آپ نے تین ہفتے ڈاکٹر جال پٹیل کے علاج کو قبول کِیا۔ علاج سے افاقہ ہوا اور اکتوبر میں وہ فٹ ہو گئے۔ پھر کام، کام اور کام تھا۔ لہٰذا 1945ء میں ان کی لگاتار کمزوری سے صِحّت کے گرنے کی خبریں آنے لگیں اور اُن کے چاہنے والوں کو خدشہ ہونے لگا۔ ڈاکٹر کے مشورے پر اپریل 1945ء میں قائداعظمؒ بمبئی کے قریب پہاڑی مقام پتھرائن تشریف لے گئے۔ آرام کے بعد کچھ افاقہ ہوا۔ ہندوستان ٹائمز نے 12 اپریل 1945ء کو خبر لگائی کہ جناح صِحّت یاب ہیں اوراُن کے فزیشن ڈاکٹر رحمن نے بمبئی تک سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے اگرچہ وہ ڈاکٹر البرٹ بیٹی کے زیرِ علاج تھے۔ قائد ڈنشا اے مہتہ کے زیرِ علاج اس وقت رہے جب وہ سرینگر(کشمیر) سے 1944ء میں واپس آئے۔ ڈاکٹر ڈنشا نے طویل علاج تجویز کِیا جوان کی طبیعت کے خلاف تھا۔
نیشنل آرکائیوز کے ریکارڈ سے پتا چلتا ہے کہ قائدِاعظم مختلف وقتوں میں مختلف ڈاکٹروں سے رجوع کرتے رہے۔ مختلف قسم کی ای سی جی رپورٹس اور ایکسرے موجود ہیں۔ اس ریکارڈ کی رپورٹ از ڈاکٹر ایف ڈبلیومرگر بمبئی (10 اگست 1940ء) میں جگر کے متاثر ہونے کا ذکر ہے۔ ایکسرے رپورٹ میں چھاتی کے اوپر والے حصہ کے لوب (Lobe) میں مرض کے کچھ نشانات ہیں جن کی بدولت ان کو کھانسی و بلغم کی شکایت تھی۔ تاہم ڈاکٹر مرگر نے "کرانک برونکائٹس" کا خدشہ ظاہر کِیا اور کہا کہ دل بالکل ٹھیک ہے۔ اسی طرح ڈاکٹر ایس سی سن نے 9 اپریل 1945ء کو رپورٹ میں لکھا کہ پھیپھڑوں کی نچلی سطح میں سوزش اور نشانات ہیں۔ انہوں نے یعنی پھیپھڑوں کی بگڑتی ہوئی سوزش قرار دیا۔ اسی طرح ڈاکٹر موڈی نے ایکسرے رپورٹ میں پھیپھڑوں پر نشانات اور پیلوریسی کا ذکر کِیا۔ ہر ایک ڈاکٹر نے ایکسرے اور سکریننگ سے خدشہ ظاہر کِیا کہ قائد کو پھیپھڑوں کی سوزش ہے اور بیماری کے حملہ کے نشانات موجود ہیں۔ کسی رپورٹ میں لفظ تپِ دق استعمال نہیں کِیا گیا، حال آںکہ کمزوری،بھوک کا نہ لگنا، بخار، جسم کاٹوٹنا ایسی علامات سے ظاہر ہوتا ہے پھیپھڑوں کا مرض تپِ دق ہے۔
مادرِملّت ’’میرابھائی‘‘ کے صفحہ 90 پر لکھتی ہیں: جب ہم 21 اپریل 1948ء کو پشاور سے کراچی پہنچے تو بھائی کو سردی کے ساتھ زکام اور بخار ہو گیا۔ ڈاکٹر بلوا نے پرراضی نہ تھے۔ ڈاکٹر نے معائنہ کِیا تو پتا چلا ان کو برونکائیٹس (پھیپھڑوں کا ورم)ہو گیا ہے۔ ان کو آرام اور علاج کی ضرورت ہے۔ قائدِ اعظمؒ دو روز تک بستر پر رہے۔ تاہم فائلوں کا کام کرتے رہے۔ کچھ عرصہ وہ اس آرام سے اچھے ہو گئے۔کمزوری کافی تھی۔ مَیں انہیں مسلسل مشورہ دیتی رہتی تھی کہ کراچی سے باہر پاکستان میں کہِیں اور چلیں، ڈاکٹر رحمن فزیشن نے بھی یہی مشورہ دیا۔انہوں نے کہا کم ازکم دو ماہ تک کوئی کام نہ کریں۔ مکمل آرام کریں ورنہ صِحّت ٹھیک نہیں ہو گی۔
چنانچہ قائداعظمؒ جون ء 1948 میں کوئٹہ روانہ ہو گئے۔ کوئٹہ پہنچ کر ان کی صِحّت چند روز میں اچھی ہونے لگی۔ کھانا پینا شروع کردیا۔ ساتھ فائلوں کا کام بھی کرنے لگے اور تقریبات میں جانے لگے۔ 15جون 1948ء کو کوئٹہ میونسپلٹی کے استقبالیہ میں شرکت کی۔ سٹیٹ بینک آف پاکستان کا افتتاح یکم جولائی 1948ء کو کراچی میں ہو رہا تھا۔ اس میں شرکت کے لیے تیار ہو گئے۔ مادرِملّت نے مشورہ دیا کہ کوئٹہ سے کراچی پھر واپس کوئٹہ،اس سفر سے تکلیف زیادہ ہو سکتی ہے۔آپ کو آرام چاہیے، مگر وہ لازماً سٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شمولیت کرنا چاہتے تھے۔ اس تقریب میں ہرشخص نے ان کی گرتی ہوئی صِحّت کو محسوس کِیا۔ کراچی میں 5 روز قیام کِیا۔ مصروف رہے۔ فائلیں دیکھیں ۔ واپس کوئٹہ تشریف لائے۔
قائدِاعظمؒ واپسی پر بڑے کمزور تھے۔ان کا کل وزن شاید 75 پاؤنڈ رہ گیا تھا۔ بقول مادرِ ملّت جب واپس آئے تو کوئٹہ کے لوگ انہیں دیکھنے کے منتظر تھے۔ مختلف اداروں سے دعوت نامے موصول ہو چکے تھے۔ ہم ان کی گرتی ہوئی صِحّت کی وجہ سے دعوت ناموں کا احترام نہیں کرسکتے تھے۔ لہٰذا ایک روز انہوں نے (قائداعظمؒ) نے فیصلہ کِیا کہ ہم کوئٹہ سے زیارت چلے جائیں جو قریب ہی واقع ہے اورجہاں کا موسم کوئٹہ سے زیادہ ٹھنڈا اور یقینا زیادہ آرام دہ ہوگا۔

قائدِاعظمؒ کوئٹہ سے زیارت شفٹ ہوئے ۔ قائدِاعظم کا اصلی مسئلہ بے آرامی،کام میں زیادتی تھا۔ شروع ہی سے وہ کام کرنے کے عادی تھے۔ بے آرامی اوربیماری نے تیزی سے ان کا 1945ء سے پیچھا کرنا شروع کیا۔ تاہم ڈاکٹر کی نصیحت کے مُطابِق اپریل 1945ء میں وہ بمبئی کے پاس ایک پہاڑی مقام پر آرام کرنے کے لیے گئے، لیکن علاج نامکمل اور آرام کوچھوڑ کر آ گئے اورشملہ کانفرنس میں شرکت کے لیے 25 جون تا 14 جولائی 1945ء چلے گئے۔ اس سے قبل ڈاکٹروں نے مشورہ دے رکھا تھا کہ آپ خشک اورمعتدل مقام پر چلے جائیں اورکوئٹہ کی انہوں نے سفارش کی تھی۔ قائدِاعظمؒ نے کوئٹہ قلات جانے کے لیے خان آف قلات سے رابطہ کِیا۔ ڈاکٹر ڈنشا کا مشورہ تھا، لیکن کوئٹہ جانے کے بجائے انہوں نے اگست کا مہینہ بمبئی میں تقریروں میں گزارا۔ پھر کراچی چلے گئے۔ کمزوری مزید بڑھتی گئی۔
مرزاابوالحسن اصفہانی تحریر کرتے ہیں کہ میں نے بہُت کوشش کی کہ معلوم ہو جائے میرے قائد، رہنما اور دوست کو بیماری کیاہے؟ لیکن کامیابی نہ ہوئی۔ کرنل الہٰی بخش جو میڈیکل ٹیم کے نگران تھے، مجھے بتانا نہیں چاہتے تھے کہ قائد کو بیماری کیا ہے۔ مجھے تپ دق کا ڈر نہ تھا۔ میرے اندازے کے مُطابِق تھکن، زیادہ کام، محنت اور مجبور لوگوں کا خیال ہی ان کی صِحّت کو متاثر کر سکتا تھا۔میں نے ایسی کیفیت پر ڈاکٹروں اور مِس جناح سے تبادلہ خیالات کِیا کہ اگر امریکہ سے کسی ماہر ڈاکٹر کی ضرورت پڑے تو میں کوشش کرون گا۔ مرزا اصفہانی واشنگٹن پہنچے تو ان کو 20 گھنٹے بعد قائداعظمؒکی رحلت کی خبر بذریعہ تار پہنچی۔ سفارت خانہ میں تین روزتک متواتر فاتحہ خوانی ہوتی رہی۔یوں 1936ء کی دوستی کی زنجیر 11ستمبر 1948ء کو ٹوٹ گئی۔
 
  12ستمبر 1948ء کو سفارتخانہ سے بیان نشر ہوا ’’قائداعظم محمد علی جناحؒ بانی پاکستان اوراس کے پہلے گورنر جنرل 11ستمبر 1948ء کو رات دس بج کر 25 منٹ پر کراچی شہر میں انتقال فرما گئے۔ ‘‘وہ اسی روزکوئٹہ سے کراچی پہنچے تھے-

-

(پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی کی تصنیف ’’رہبرِ ملت: قائدِ اعظم محمد علی جناحؒ‘‘ سے اقتباس)
 

اقوامِ انسانی


قوم:   کسی انفرادی عمل(اچھا یا بُرا)  یا اعمال کے کرنے والی انفرادی ہستی کو اجتماعیت میں تبدیل کر کے اُنہیں ایک متحداِکائی۔"قَوم"میں تبدیل کرتی ہے۔اور اِس عمل (یا اعمال)سے پیدا ہونے والے نتائج سے اس قوم کو گزرنا پڑتا ہے جو پہلے ہی سے اِس کائنات میں موجود و قائم  ہیں ۔

"الکتاب "  میں لکھے ہوئے احکامات پر انسانی  ردِ عمل کے مطابق،  انسانی  امت ِ واحدہ  میں جو اقوام وجود میں آئیں اور آتی رہیں گی ۔
 وہ یہ ہیں :-




 اوپر لکھی ہوئی، ” قوم“ کے بارے میں وضاحت صحیح نہیں تو میری راہنمائی فرمائیے۔ شکریہ

منگل، 23 دسمبر، 2014

روح کھِچ

کل شام کو میرے چھوٹے بیٹے کے ساس اور سسر  کرنل مشتاق ملنے آئے ۔ میں فوجی جیکٹ میں استر لگا کر " فلی لوڈڈ " حالت میں بیٹھا تھا ۔ صوفے پر بیگم رضائی اوڑھے لاونج میں ٹی وی دیکھ رہی تھیں ۔ گیس کا ہیٹر میرے پیروں کے پاس پڑا ، دھڑک رہا تھا ۔وہ بیٹھتے ہی کہنے لگے ،
"گیس اتنی کم آرہی ہے ؟     ، ہارے ہاں تو پریشر ٹھیک ہے  "
" سردیوں میں سب ہیٹر  جلاتے ہیں ، اس وجہ سے  کم ہے "  ہم نے جواب دیا ۔
" ایک تو ہم پائپ لائن کے آخر میں ہیں دوسرے  لوگوں نے ، گیس جنریٹر  بھی لگوائے ہوئے ہیں  ۔ "
" مین پائپ لائن  ، تو ہمارے  پاس سے گذر رہی ہے " کرنل صاحب نے جواب دیا ۔
" لاہور میں ایک آلہ ملتا ہے جو گیس لائن پر لگانے سے  گیس کا پریشر تیز ہو جاتا ہے " انہوں نے معلومات دی ۔
" لیکن یار ، یہ تو غیر قانونی ہے  !" ہم نے  جواب دیا ۔
" سر جی ! غیر قانونی تو گیس جنریٹر بھی ہیں ۔ لیکن وہ بھی لگے ہوئے ہیں اور  گیس کے محکمے کے علم میں ہے "  انہوں نے جواب دیا ۔
میں نے ہنس کر کہا ، " کرنل صاحب ،  سردی لگ رہی ہو تو گرم کپڑے پہن لو اور گرمی لگ رہی ہے تو  کپڑے اتار دو  ، موسم ٹھیک ہوجاتا ہے ۔"

" کشمیریوں کا یاد ہے ، کہ ایک چھوٹے سے ڈبے میں لکڑیاں جلا کر    اپنے  ، کوٹ کے اندر رکھ کر گرمی کا مزہ لیتے ہیں ۔ اُسی طرح یہ دھڑکتا ہوا ہیٹر  پیروں پر لگنے والی گرمی پو پورے جسم میں پھیلا رہا ہے "

پھر موضوع تبدیل ہوگیا ۔ پشاور کا سانحہ اور حکومتی رِٹ  گھریلو اور بین الاقومی معاملات پر سیر حاصل بحث  رہی ۔ دونوں سمدھنوں کا دلچسپ موضوع ،  اولاد کی اولاد تھا  یا کھانا پکانے کی ترکیبیں ۔

آج  " بزرگوارانِ  اردو  بلاگر ز" میں سے ایک  ، یعنی  محترم نجیب عالم   کی پوسٹ  ، "
ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں "  پڑھا  ،  انہوں نے بھی اُسی آلے کا تعارف کروایا   جو پائپ میں سے گیس کھینچ کر  گھر والوں کو   خوش رکھتا ہے ۔ یہ پڑھتے ہی دماغ نے ماضی میں چھلانگ لگا دی ۔

 

اور میری آج کی ایک پوسٹ کا  رابطہ آپس میں جُڑ گیا ۔
فیس بک کی ونڈو میسج پر گذشتہ رات  ، کوئی سترپیغامات پر تھے ۔  جن میں سے پندرہ پیغامات  ، جواب دینے کے قابل تھے اور باقی  45  لاہور کے شاہی قلعے ،  کراچی کی نپئیر روڈ ،  کوئٹہ کا سوج گنج بازار ،  راولپنڈی کی لالکرتی ، بھاولپور کا حمائیتیاں ، اور پشاور کا ڈب گری   سے منسلک  محلوں میں رہنے والوں کی اولاد اور اُن کی اولاد جو ضیاء الحق  کی مہربانیوں سے شرفاء کی گیوں میں پھیل چکی  ہے اور اب وہ سیاسی اور مذھبی جماعتوں میں شامل ہونے والوں کے تھے ۔ جو میری کل کی طالبان کے اور عمران خان کے خلاف کے جواب میں تھے ۔میں نے پڑھنے کے بعد ڈیلیٹ کر دیئے ۔   

ایک پیغام ،  نوجوان منصور احمد کا تھا ، جس نے پوچھا ،
" قرآن سُود کے متعلق کیا فرماتا ہے ۔ کیوں کہ میں ایک کمپنی میں کیشیئر ہوں "
میں نے جواب دیا ، " پریشان نہ ہوں اور اپنا کام جاری رکھیں ۔" اور یہ پوسٹ فیس بک پر ڈال دی ۔

اوپر سے مضمون ، " ماں پلوانوں کی بدمعاشیاں "  کا یہ پیرا ۔
دوکانداروں سے جب یہ سوال کیا گیا کہ ایسا آلہ لگانا ممنوع اور جرم نہیں ہے کیا ؟ اور کیا آپ لوگوں نے اس کے فروخت کی سوئی ناردن گیس والوں سے اجازت لی ہوئی ہے تو ایک حاجی صاحب شیطانی سی ہنسی ہنستے ہوئے کہنے لگے۔۔۔او باؤ جی کیہڑیاں گلاں کردے او ۔۔سارے نال ہی ہوندے نے ( باؤ جی کونسی باتیں کرتے ہو ۔۔سارے ساتھ ہی ہوتے ہیں ) ۔

اِس آلے کی ایجاد بالکل ویسی ہے ہے ۔ جیسی پانی کی" روح کھِچ " موٹروں کی تھی ۔
غریب محلے والے گھر گھر میں موٹریں لگ جانے سے ، کمیٹی کے میٹھے پانی سے محروم ہوگئے تھے ۔   1978 کی بات ہے چھٹی سے واپس گھر آئے ،  سامان وغیرہ رکھ کر غسل کیا ، پانی نہ میں گیا تو کھارا سا لگا  حیران ہوئے کہ ، کمیٹی والوں نے سمندر کا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے ۔ نہا  کر نکلے والدہ  محترمہ سے پوچھا ،" امی کیا اب واٹر سپلائی والوں نے کھارا پانی سپلائی کرنا شروع کر دیا ہے  ؟"
" نہیں  نمّوں ،  واٹر سپلائی کا پانی بہت کم آتا ہے یا نہیں آتا ، تمھارے والد نے   زمین میں بور کروا کر   پانی کا بندو بست کیا ہے "  والدہ (اللہ تعالیٰ جنت الفردوس میں اونچا مقام دے )  نے بتایا ۔
" تو پینے کا پانی کہاں سے آتا ہے  ؟ "   ہم نے پوچھا ۔
" بھائی ، وہ    آپ کا دوست ہے نا ،  فقیرا  اُس کا بھائی گدھاگاڑی پر  ٹینکی کا پانی دے جاتا ہے "  سب سے چھوٹی بہن نے معلومات دیں  -
یہ سول علاقے میں " منرل واٹر" سپلائی کرنے کی کئی کمپنیوں میں سے ایک تھی ، ماشکی بھی اِنہی " خدمات " کے موجد تھے ۔
خیر ہم نے حیران ہو کر پوچھا ،  " امی آپ  تو کونسلر ہیں اور آپ کے ہاں  پینے کے پانی کی قلّت  ؟"
" ارے بیٹے ، جب لوگوں نے پانی کی پائپوں میں موٹریں لگا لی ہوں ، تو کونسلر کیا کرسکتا ہے ؟ " انہوں نے جواب دیا  
" بھائی ، امین بھائی نے  ابّا کو بھی موٹر لگوانے کا کہا تھا مگر ابّا نے دانٹ کر منع کر دیا " چھوٹی بہن نے گلہ کیا  
" کیوں ؟ " ہم نے سوال کیا ۔
" چپ کر  " امی نے  چھوٹی کو ڈانٹا   ، " تمھیں پینے کو میٹھا پانی مل رہا ہے نا  ، تو شکایت کیسی ؟ "
" امی پانی صرف پینے کو چاھئیے کیا ؟ ، کپڑے دھوتی ہوں تو صابن  کے جھاگ نہیں بنتے، نہاؤ تو صابن نہیں اترتا "  چھوٹی نے دل کا غبار انڈیلا ۔
" سو بار کہا ہے کہ پانی ابال لیا کر ، مگر سستی یا کیا علاج  ؟ " والدہ نے اپنی تجویز  ایک سو ایک بار دھرائی  ۔
" لیکن امی ، موٹر لگانے میں کیا حرج ہے ؟ " ہم نے پوچھا ۔
" توبہ توبہ ، اب کیا ہم حرام کھائیں گے  ؟ " امی نے  جواب دیا 
" امی حرام کیسا ؟ کیا دوسروں نے موٹریں نہیں لگوئی ہوئی ہیں ، وہ سب حرام کھا رہے ہیں ؟ " چھوٹی نے غصے میں کہا ۔
" تو دوسروں کی قبر میں جائے گی کیا ؟ "  امی نے  چلاتے ہوئے کہا ، " روز کپڑے مت دھو ، ماسی آتی ہے وہ دھو دیا کرے گی اور برقعے میں کون کپڑے دیکھتا ہے ؟"
چھوٹی کالج میں پڑھتی تھی  اور نیشنل کیڈٹ کور بھی جائن کر رکھی تھی ، اُس کا غصہ بجا تھا ۔  ہم نے امی کی گود میں سر رکھ کر لیٹتے ہوئے  پوچھا، " امی  یہ حرام کھانے کا کیا معاملہ ہے ؟ "
" نمّوں ، وہ معلوم ہے نا ، کہ سب بیٹھ کر کھا رہے ہوں ، تمھارے سامنے والی بوٹی اچھی نہ ہو اور دوسرے کے سامنے والی بوٹی اچھی ہو اور وہ تم کھینچ کر کھا لو  تو   اِس بارے میں آپ ﷺ نے فرمایا ہے کہ وہ حرام ہوجاتا ہے "  والدہ نے  نرم اور میٹھی آواز میں یاد دلایا ۔
" لیکن امی ، وہ تو کھانے کے بارے میں ہے ، پانی کے بارے میں نہیں " ہم نے جواب دیا ۔
" بیٹے ، نبی پاک ﷺ کا یہ حکم ہر ایسی چیز  پر لگے گا جس پر تمھارا حق نہیں اور تم اُس سے پوچھے بغیر لے لو اور استعمال کرو ۔ دیکھ یہ میٹھا پانی سب کے لئے آتا ہے ، تالاب میں پانی زیادہ ہوگا ، تو وہ زیادہ سپلائی کریں گے اور اگر کم ہو گا تو کم سپلائی کریں گے ،  اگر وہ ہمارے لئے  ایک بالٹی  پانی سپلائی کریں اور ہم موٹر لگا کر ایک اور بالٹی نکال لیں ، تو ہم نے دوسرے انسانوں کا حق مارا  ، اُس دوسری بالٹی نے   نہ صرف  پہلی بالٹی کو بلکہ ہماری ساری چیزیں جن میں وہ پانی لگے گا حرا م کرتا جائے گا "  
شکریہ نجیب عالم بھائی  شکریہ   


'

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔