میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 29 جنوری، 2015

بیوی، چیتا اور معصوم ھرن !

میاں بیوی شام کو بیٹھ کر نیشنل جیوگرافک دیکھ رہے تھے ۔ سین تبدیل ہوا ایک چیتا معصوم ہرن کا پیچھا کرتا ہوا دکھائی دیا
بیوی : اُف کتنا خوفناک منظر ہے اللہ کرے ، یہ چیتا اِس ہرن کا شکار نہ کر سکے ۔
ایک موقعہ پر ہرن بس چیتے کی جھپٹ میں تھا کہ بیوی چلائی ۔
بیوی: میرے اللہ میرے اللہ ، معصوم ہرن کو بچا ۔ میرے اللہ ۔ (شوہر کو ھاتھ مار کر بولی) کچھ کرو نا دانت نکالے کیا دیکھ رہے ہو ، کچھ کرو ۔ میرے اللہ ۔ اُف ، میرے اللہ ۔
 شوھر: کیا بچوں والی بات کر رہی ہو ؟ چیتا اگر ہرن نہ کھائے تو زندہ کیسے رہے ؟
بیوی : یہ کچھ اور چیز نہیں کھا سکتا ، مثلا گینڈا یا بھینسا وغیرہ
شوہر: یہ جو تم معصوم مرغیوں ے چکن تکہ اور چکن بوٹی کھاتی ہو !اور یہ ظالم چیتی ہے چیتا نہیں !
بیوی اچھا مجھے کچھ نہیں معلوم ، اگر اِس چیتی نے یہ ہرن شکار  لیا تو ، آئیندہ میری امی ہمیشہ میرے ساتھ رھیں گی ۔ 

تو قارئین ! باقی آپ اِس وڈیو میں دیکھیں ۔


منگل، 27 جنوری، 2015

مرغانِ قوم ، باکمالانِ وطن

یہ تصویر دیکھتے ہی ماضی بعید تر ، زمانہ حال میں کسی جمناسٹ کی طرح جمپ لگا کر سامنے آگیا -

ہم نرسری یا کے جی پڑھنے والوں میں سے نہیں ہیں ، کچی اور پکی پڑھتے ہوئے ، آگے بڑھتے گئے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ پڑھائی پر مجھے کبھی مار نہین پری اور اگر پڑی تو شرارتوں پر اپنی اور کلاس والوں کی ۔
سزا کچھ زیادہ نہیں ہوتی ، کچی اور پکی میں ، کان پکڑ کر تھپڑ مارا جاتا ۔ مرغا بننے کا شرف پہلی کلاس میں ہوا ، چھٹی کے وقت ، پوری کلاس دو حصوں میں تقسیم ہوجاتی ۔
آدھی کلاس ایک دونی دونی ، دو دونی چار کہتی ۔
دوسری آدھی کلاس تین دونی چھ چار دونی آٹھ کہتی ۔
اُس کے بعد دونوں حصے مرغا بن کر ایک دوسے کو تبدیل کرتے اور لڑکیاں ، خرگوش کی طرح چھلانگیں مارتی اپنی جگہ تبدیل کرتیں ۔ یہ سب ہنسی خوشی ہوتا ۔ کیوں کہ فوجی سکول تھا ، لہذا بچوں کو جسمانی تربیت کے لئے ، یہ سزائیں دی جاتی تھیں ۔ ہمیں بھی باقی بچوں کی طرح مرغا بن کر دوڑنے میں مزا آتا تھا ۔ یا پی ٹی اور پریڈ میں ۔
یہ غالباً 1960 کی بات ہے والد کی ، ایبٹ آباد سے نوشہرہ پوسٹنگ ہوئی اور ہم برکی مڈل سکول اے ایم سی سنٹر ایبٹ آباد سے ، گورنمنٹ پرائمری سکول نمبر-2 نوشہرہ میں آگئے ، جو ہمارے گھر سے ۔ ایک میل دور تھا ۔اور ہم دوسری کلاس میں تھے ۔
سکول کا دوسرا دن تھا ۔ سردیوں کے دن تھے ۔ کلاس روم ہونے کے باوجود باہر پوری کلاس گھاس کے میدان  میں بیٹھی تختی لکھ رہی تھی ۔کہ ساتھ بیٹھے ہوئے ایک لڑکے نے ہماری تختی پر سیاہی بھرے قلم کو جھٹکا دیا ۔  ہم نے جواباً کاروائی کرتے ہوئے اُس کی تختی پر قلم جھٹک دیا ۔ وہ کھڑا ہوا اور دور ھیڈماسٹر کے آفس کے سامنے دھوپ سینکتے ہوئے مارے کلاس ٹیچر ے پاس روتا ہوا دوڑ کر گیا ۔
ماسٹر صاحب نے وہیں سے مانیٹر کو پشتو میں پکارا اور ملزم و پیش کرنے کا حکم دیا ، میں بھی اپنی تختی لے کر گیا ۔ ماسٹر صاحب نے دونوں کے تختی سے ھاتھ لال کئے ۔ اور کلاس کے پیچھے مرغا بننے کا حکم دیا اور بھول گئے ۔ یہ ہمارا مرغا بننے کا پہلا ریکارڈ تھا جو آدھے پیریڈ پر مشتمل تھا ۔ سال کے بعد والد کی دوبارہ پوسٹنگ ایبٹ آباد ہوگئی ۔ لیکن میں ے مرغا بننے میں خصوصی مہارت حاصل کر لی تھی ۔
قارئین ، معلوم نہیں کہ آپ نے ، مرغے بننے کی سزا پورے ہونے پر دونوں ٹانگوں پر سیدھا کھڑے ہوکر چلنے کا لطف اٹھایا ہے کہ نہیں ! بہر حال پانچویں کلاس تک  ہم اِس لطف سے اندوز ہوتے رہے ۔

ایک کہانی ، سبق آموز !

ایک دن میں اپنے امی ابو کے ساتھ لاہور کے ایک ریسٹورنٹ میں کهانا کهانے گیا۔ وہاں دو ٹیبل چھوڑ کے ایک اُدھیڑ عمر بوڑھے میاں اور اُن کی بوڑھی محبوبہ بھی بیٹھے ہوئے تھے۔ اِسی دوران ایک نہایت ہی ڈیسنٹ اور خوش شکل بھائی صاحب ہوٹل میں داخل ہوئے اور واش بیسن پر ہاتھ دھو کر کچھ فاصلے پر اُن کے برابر والی ٹیبل پر بیٹھ گئے۔
چونکہ ہم نے اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا تھا تو اِس لیے ہم کهانے کا انتظار کر رہے تھے کہ اچانک اُس صاحب کے موبائل فون کی بیل بجی جس کے بعد وہ قدرے اونچی آواز میں موبائل پر کسی سے بات کرنے لگے، اُن کے بات کرنے کے انداز سے لگ رہا تھا کہ اُن کو اللہ نے کوئی بہت بڑی خوشی سے نوازا تھا۔
اور پھر موبائل پر بات ختم کرنے کے بعد وہ وہاں پر موجود سب لوگوں کو مخاطب کرتے ہوئے بلند آواز میں بولے، "خواتین و حضرات! آج میں بہت خوش ہوں کہ اللہ نے مجھے بیٹا عطا کیا ہے اور اِس خوشی میں، میں آپ سب کو مٹن کڑھائی کھلاؤں گا۔۔۔!" میں اپنی جگہ سے اٹها اور آگے جا کر انہیں مبارک باد دی اور کہا کہ "بھائی! ہم نے تو اپنے کھانے کا آرڈر پہلے ہی دے دیا ہے، یہ سنتے ہی اُنہوں نے کہا "اچها، چلو کوئی بات نہیں اِس خوشی میں آپکے کھانے کا بل میں ادا کروں گا۔۔۔!" اور پھر انہوں نے وہاں پر موجود باقی سب لوگوں بشمول اُن بوڑھے میاں جی اور اُن کی بوڑھیا کیلئے مٹن کڑھائی کا آرڈر کیا اور سب کا بل ادا کر کے اپنا کھانا کھا کے خوشی خوشی چلے گئے۔
چند دنوں کے بعد میں اپنے دوستوں کے ہمراه ایک سینما گیا تو کیا دیکھا کہ وہی صاحب وہاں پر ایک پانچ سال کے بچے کے ہمراہ ٹکٹ کے لیے لائن میں کھڑے تھے، میں اپنے دوستوں سے نظر بچا کر اُن کے پاس پہنچا، جونہی انہوں نے مجھے دیکھا، دیکھتے ہی مجھے پہچان گئے اور مسکرانے لگے۔
بہرحال سلام دعا کے بعد میں نے طنزیہ کہا کہ "ماشا الله! آپکا بیٹا تو چند ہی دنوں میں اتنا بڑا ہو گیا ہے۔۔۔!"
میری بات سن کر انہوں نے کہا، "بھائی! چھوڑو اِس بات کو، یہ بڑی عجیب کہانی ہے، پھر کسی دن ملو گے تو بتاؤں گا۔۔!"
جب اںہوں نے یہ کہا تو میرا تجسس اور بھی بڑھ گیا اور میں نے اصرار کیا کہ "وه مجهے یہ عجیب کہانی ابھی بتائیں۔۔!"، آخر میرے بہت اصرار پر انہوں نے جو بات بتائی اُس کے بعد میں اپنے آپ کو بہت چھوٹا سمجھنے لگا اور ان کا مقام میری نظروں میں قدرے بلند ہوگیا۔۔۔!!
دوستو! انہوں نے بتایا کہ "اس دن جب میں ریسٹورنٹ میں داخل تو ہاتھ دھونے کیلئے واش بیسن کی طرف گیا، اور وہاں ہاتھ دھوتے وقت میں نے اُن بوڑهے میاں اور بڑھی اماں جی کی باتیں سن لی تھیں، بڑھی اماں کہہ رہی تھی "آج میرا مٹن کڑهائی کھانے کو دل کر رہا ہے۔۔!"، تو اُس پر بوڑھے میاں نے بہت افسردہ لہجے میں کہا کہ "میرے پاس پورے مہینے کے لئے صرف دو ہزار روپے ہیں، اگر کڑهائی کهائیں گے تو پورے مہینے گزارہ کیسے ہوگا۔۔؟، ایسا کرتے ہیں آج دال روٹی کھا لیتے ہیں، کڑھائی پھر کسی دن کھا لیں گے۔۔!"
اُن صاحب نے کہا کہ "اسی وجہ سے میں نے اپنے موبائل کی خود ہی بیل بجا کر وہ بیٹے کی پیدائش کا ڈرامہ کیا تھا، تاکہ میں اپنی فرضی خوشی کے بہانے اُن کی دلی "خاموش خدمت" کر سکوں۔۔!"
میں نے کہا "تو بھائی! آپ صرف انہی بزرگوں کے پیسے دے دیتے، آپ نے خوامخواہ باقی سب لوگوں کو کھانا بھی کھلایا اور اُن کا بل بھی ادا کیا۔۔؟"
تو انہوں نے جواب دیا "ایسا کر کے میں ان بزرگوں کی عزتِ نفس مجروح نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔!"
(تحریر نا معلوم)


اتوار، 25 جنوری، 2015

کیا آپ نے دیکھا ہے ؟

وَهُوَ بِالْأُفُقِ الْأَعْلَىٰ ﴿8﴾ النجم
اور وہ الافق الاعلیٰ کے ساتھ ہے ۔

صاحبان عقل و فکر ، فہم و دانش، کیا آپ نے دیکھا ہے ؟


جمعہ، 23 جنوری، 2015

چند قدم بس چند قدم !

بیس جنوری ، یعنی آج سے ٹھیک تین دن پہلے کی بات ہے ۔ دن بھر کی مصروفیت کے بعد میں رات گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک بچپن کے دوستوں سے کانفرنس کال پر گپ شپ لگائی ، ہر قسم کا موضوع ، زیرِ بحث آیا ۔ جس میں ھارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ کے موضوع بھی تھے ۔کیوں کہ 18 جنوری کو ھارٹ اٹیک کی وجہ سے ترمذی ہم سے جدا ہو گیا تھا ۔
ھاں تو ذکر ہے بیس جنوری کی رات ڈیڑھ بجے ، ہم دوستوں سے گپ شپ ختم کر کے ۔ جب بستر پر لیٹے تو نیند کوسوں دور تھی ، لہذا موبائل اٹھا لیا اور وٹس ایپ پر دوستوں کے پوسٹ کئے ہوئے دنیابھر سے آئے ہوئے پیغامات پڑھنے لگے ، کئی فلمیں بھی آئیں تھیں ۔ جن میں سے چیدہ چیدہ دوسرے گروپس کو بھجوائیں ۔ دو بجے فارغ ہوئے تو احساس ہوا دائیں ھاتھ میں درد ہے ، پیشانی پر ھاتھ لگایا پسینے سے تر تھی ، نبض چیک کی تو 60 پر دھڑکنے والی نبض 80 پر پہنچی ہوئی تھی ، سوچا دوسرے کمرے میں جاکر بیگم کو اُٹھاؤں ، وہ ہماری مصروفیت سے تنگ ہیں لہذا رات زیادہ ہونے پر میں سٹڈی میں ہی سوتا ہوں ۔ کیوں کہ ہم نے عادت بنا رکھی ہے ۔ کہ جونہی نیند آئی سو گئے ۔ اب کیا بتائیں ، خبریں سننا ، فیس بک پر لوگوں و بھاشن دینا، بلاگرز پر قلم کاریاں کرنا  اور رات کو ، یو فون کے سپر کارڈ سے استفادہ کرتے ہوئے ، کانفرنس کالیں کرنا ۔ اب ایسی بُری عادتوں کی موجودگی میں تو سایہ بھی ساتھ چھوڑ دیتا ہے ۔

تو خیر ،کوریڈور میں لگی میڈیسن کیبنٹ سے دو عدد ڈسپرین نکالیں ۔ چبا کر پانی سے نگل لیں ۔ سوچا بلڈ پریشر چیک کیا جائے ۔ لیکن بی پی اپریٹس بیگم کے بیڈروم میں تھا ۔ دروازہ کھولنے سے اُن کی آنکھ کھل جاتی ، کیوں کہ دروازہ بری طرح چرچراتا تھا اور وہ اُسے چالو کرنے نہیں دیتیں ، بصورت دیگر وہ ہماری رات کو سٹڈی سے دیر سے آنے پر ہماری چوری نہیں پکڑ سکتیں ۔ کاوچ پر سو سو کر ہماری کمر دائیں طرف کو جھکتی جا رہی تھی تو ہم نے سٹڈی میں چارپائی ڈلوادی اور ہم کمرہ بدر ہوگئے ، کمرہ بدر تو ہم بہت پہلے ہو گئے تھے ۔ کیوں کہ ، بڑی بیٹی آئے تو وہ ماں کے ساتھ سوتی ہے ، چم چم ویک اینڈ پر آئے تو نانو کے پاس ، چھوٹی بیٹی ماں کے پاس اور بوڑھا باپ سٹڈی میں ۔  کیوں کہ اُن کا دعویٰ ہے کہ گیسٹ روم ، باہر سے آنے والے گیسٹوں کے لئے ہے ۔

ھاں تو ڈسپرین کھا کر ہم بستر پر لیٹ گئے ۔ الحمد پڑھا ، کلمہ پڑھا اور انا للہ پڑھا اور سو گئے ۔

صبح آنکھ کھلی ، سوچا چند قدم اور مل گئے ۔ ناشتہ کرتے وقت بیگم نے پوچھا،
" رات کو کچن میں گئے تھے "۔
" کیا تم جاگی ہوئیں تھیں ؟" میں نے پوچھا ۔
مجھے نیند نہیں آرہی تھی تو اُٹھ کر نماز پڑھنے لگی ۔ تو مجھے کھٹکا محسوس ہوا ۔ سمجھی کہ آپ ہوں گے " ۔ بیگم نے جواب دیا-
" ہاں رات کو گلاس لینے گیا تھا " میں  جواب دیا
"۔ بھوک لگی تھی کیا؟ " بیگم نے سوال کیا ۔
انہیں معلوم ہے ، ہے  رات کو ہم اکثر ، سویٹ ڈش یا سیب وغیرہ کھاتے ہیں ۔ وہ یہی سمجھیں ۔ لیکن ہم نے انہیں بتایا کہ رات ہو ہمارے دائیں ھاتھ میں درد ہوا ہم سمجھے کہ بس اب قدم ختم ہونے کا وقت آگیا ہے ۔ اور واقعہ بتایا ۔
" آپ اٹھا دیتے - کیوں نہیں اٹھا ؟" غصے میں بولیں ۔
" کیا فائدہ ہوتا ؟ اگر قدم پورے ہونے کا وقت آگیا ہوتا تو خواہ مخواہ رات بھر روتی رہتیں ، اور اگر نہیں ، تو مجھے خواہ خواہ شرمندگی ہوتی ۔ اب ٹھیک ہوں تو سب ٹھیک ہے " میں نے ہنستے ہوئے جواب دیا ۔
 اُس نے بچوں کو بتا دیا ، چھوٹی بہو کا فون آیا وہ ڈاکٹر ہے اُس نے فوراً جا کر ای سی جی کروانے کا کہا تھا ۔
" بیٹی ، گاڑی میں پیٹرول کم ہے ، جو صرف ایمر جنسی کے لئے رکھا ہے ۔ "
میں نے بتایا -
 " انکل ، کیا یہ ایمر جنسی نہیں" بہو نے جواب دیا ۔
" بیٹی ، میرے نزدیک جو ایمر جنسی ، آپ کی آنٹی کو اُن کی طبیعت خراب ہونے کی صورت میں ہسپتال لے کر جانا ہے ۔ رہا میں ، تو خواہ مخواہ ایمرجنسی کا سگنل کیوں دوں ۔ بہر حال ، جونہی موسم ٹھیک ہوا تو میں لازمی جاؤں گا " میں نے جواب دیا ۔

آج بیگم نے زبردستی باہر نکالا ، بتایا کہ اگر گاڑی راستے میں کھڑی ہو گئے تو کیا کریں گے ؟ کیوں کہ اے ایف آئی،  سی سی ایم ایچ سے دور ہے ۔
" میں کچھ نہیں جانتی چلیں " بیگم نے ڈانٹتے ہوئے کہا ۔

ہم نے سوچا ۔ چلو ۔ باہر کی ہوا سے مستقید ہوں ۔ شہر دیکھیں ۔ گھر سے نکلے جی ٹی روڈ پر آئے ۔ پہلا پی ایس او کا پیٹرول پمپ پولیس چیک پوسٹ سے پہلے تھا ۔ اور دور سے خالی نظر آرہا تھا ۔ دل دھڑکا کہ پیٹرول پمپ بند ہے ، نزدیک پہنچے تو پانچ گاڑیاں کھڑی تھیں ہم نے بھی ڈرتے ڈرتے لائن میں لگا دی ۔
باری آئی تو ، پیٹرول مین نے پوچھا ، " کتنے کا ڈالوں ؟ "
ہم نے ڈرتے ڈرتے کہا ، " پانچ سو روپے کا ڈال دو " کیوں کہ ہم نے سنا تھا کہ راشننگ ہو گئی ۔
" بس ؟" ، اُس نے حیرانی سے دیکھتے ہوئے کہا ۔
" چلو تمھاری خوشی ، دو ہزار کا ڈال دو " ہم نے ہمت سے کہا ۔
" جی بہتر ، آپ میٹر دیکھ لیں " اُس نے کہا ۔

ہم گاڑی سے اترے، " کیا آج پیٹرول کی حالت ٹھیک ہوگئی ہے "
" سر یہ تو کل دوپہر ہی سے ٹھیک ہو گئی تھی ۔ بس لوگوں کو " ہوکا " تھا ۔ سر ، ھماری قوم ۔ سب سے جاھل قوم ہے - اِس کا اخلاق دیکھنا ہو ۔ مصیبت میں دیکھیں "

واقعی ، میں نے دل میں سوچا ۔

 اگر انڈیا جنگ چھیڑ دے یا
امریکہ ایران کی طرح پاکستان کے معاشی راستے بند کروادے
تو اِس منتشر اور ابن الوقت قوم کا کیا حال ہو جو ؟
ؔاِس پرچم کے سائے تلے ایک ہونے کا دعویٰ کرتی ہے !



ترمذی اب ہم میں نہیں !

بیس جنوری ، یعنی آج سے ٹھیک تین دن پہلے کی بات ہے ۔ دن بھر کی مصروفیت کے بعد میں رات گیارہ بجے سے ڈیڑھ بجے تک بچپن کے دوستوں سے کانفرنس کال پر گپ شپ لگائی ، ہر قسم کا موضوع ، زیرِ بحث آیا ۔ جس میں ھارٹ اٹیک اور کارڈیک اریسٹ کے موضوع بھی تھے ۔ 

کیوں کہ دودن پہلے یعنی 18 جنوری رات دس بج کر پینتالیس منٹ پر،کورس میٹ کرنل احمد خان بلوچ کا وٹس ایپ گروپ پر پیغام آیا ،

"ترمذی اب ہم میں نہیں " ۔ 

إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَ‌اجِعُونَ'

تقریباً 4 بج کر 51 منٹ پر ہمایوں شہزاد بلوچ کا ، پیغام آیا کہ  ترمذی آئی سی یو میں ایڈمٹ ہے ۔ یہ پیغام ملتے ہی کراچی چیپٹر سمیت سب نے ترمذی کا موبائل فون ڈائل کرنا شروع کیا ، مگر وہ بند تھا ، بریگیڈیر مسعود احمد خان (میک) ،  فوراً پی این ایس راحت پہنچے ، ترمذی دواؤں کے زیر اثر تھا ، میک کو دیکھ کر خوش ہوا ۔ میک نے خبر دی کہ ، گیسٹرو پین ہے ۔ لیکن بلڈ پریشر اور ای سی جی بے ترتیب ہیں ، ترمذی نے گذشتہ رات یعنی ہفتے کو فیملی ڈنر میں " لُٹ" مچا دی اور کڑھائی سے پورا انصاف کیا ۔


راشد بشیر مزاری (سیکریٹری ) نے تسلی دی کہ میرے ساتھ ، بھی ایسا ہی ہوتا ہے فکر کی بات نہیں ، اللہ بہتر کرے گا ۔ ہمارے286 کورس میٹس میں سے  176 کورس میٹس ، 60 کے نشان پر پہنچے والے ہیں اور ہم جیسے 110 کورس میٹس اِس حد کو عبور کر چکے ہیں ۔ ترمذی بھی اسی گروپ میں 31 دسمبر 2013 کو شامل ہوا تھا ۔

1974 سے لے کر اُس کی وفات تک ہماری محبت چالیس سالوں تک پھیلی ہوئی ہے ۔  چالیس سالوں کے اِس سفر میں ہمارے 11 کورس میٹس ہم سے بچھڑ کر اللہ کی رحمت میں جا چکے ہیں ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ، ہم دونوں کوئیٹہ میں تھے اکثر ملاقاتیں رہتیں ، ہنس مکھ ، ملنسار اور محفل کو گرما دینے والا دوست تھا ۔ وہ چلتن مارکیٹ کے پاس سرکاری فلیٹس میں رھتا تھا اور میں ہزارہ روڈ پر ، دونوں کے بچے آرمی پبلک  سکول میں پڑتے تھے ۔  میری بیوی وہاں ، ڈرائینگ کی ٹیچر تھیں - لہذا بچوں اور بیگمات میں بھی واقفیت تھی-
ترمذی ریٹائر منٹ کے بعد اپنے آبائی شہر کراچی میں شفٹ ہو گیا ۔ اور ہم اسلام آباد ،  اُس کے بعد کورس کی سالانہ اجتماع میں ملاقاتیں ہوتی رہیں ۔

ریٹائرڈ کورس میٹس کا سب سے فعال چیپٹر کراچی چیپٹر ہے ۔ جو اپنی 100 ویں اجتماعیت منا چکا ہے، جہاں ہر مہینے اتوار کو وہاں موجود دوست جمع ہو کر ایک دوسرے کو اپنی چاہت کا احساس دلاتے ہیں اور اپنی تصاویر وٹس ایپ پر لگا کر ، پنڈی اسلا آباد چیپٹر کو صرف تالیاں بجانے پر مجبور کرتے ہیں ۔

بدھ، 21 جنوری، 2015

کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے

جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستئِ اشیا مرے آگے

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میر ا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

سچ کہتے ہو خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوں
بیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے

پھر دیکھیے اندازِ گل افشانئِ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزرا
کیونکر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگے

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے

خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے

ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے!
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے


کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

بازیچۂ اطفال ہے دنیا مرے آگے
ہوتا ہے شب و روز تماشا مرے آگے

اک کھیل ہے اورنگِ سلیماں مرے نزدیک
اک بات ہے اعجاز مسیحا مرے آگے

جز نام نہیں صورتِ عالم مجھے منظور
جز وہم نہیں ہستئِ اشیا مرے آگے

ہوتا ہے نہاں گرد میں صحرا مرے ہوتے
گِھستا ہے جبیں خاک پہ دریا مرے آگے

مت پوچھ کہ کیا حال ہے میر ا ترے پیچھے
تو دیکھ کہ کیا رنگ ہے تیرا مرے آگے

سچ کہتے ہو خود بین و خود آرا ہوں، نہ کیوں ہوں
بیٹھا ہے بتِ آئنہ سیما مرے آگے

پھر دیکھیے اندازِ گل افشانئِ گفتار
رکھ دے کوئی پیمانۂ صہبا مرے آگے

نفرت کا گماں گزرے ہے، میں رشک سے گزرا
کیونکر کہوں، لو نام نہ ان کا مرے آگے

ایماں مجھے روکے ہے، جو کھینچے ہے مجھے کفر
کعبہ مرے پیچھے ہے کلیسا مرے آگے

عاشق ہوں پہ معشوق فریبی ہے مرا کام
مجنوں کو برا کہتی ہے لیلےٰ مرے آگے

خوش ہوتے ہیں پر وصل میں یوں مر نہیں جاتے
آئی شب ہجراں کی تمنا مرے آگے

ہے موجزن اک قلزمِ خوں کاش یہی ہو
آتا ہے ابھی دیکھیے کیا کیا مرے آگے

گو ہاتھ کو جنبش نہیں آنکھوں میں تو دم ہے!
رہنے دو ابھی ساغر و مینا مرے آگے

ہم پیشہ و ہم مشرب و ہم راز ہے میرا
غالبؔ کو برا کیوں کہو اچھا مرے آگے


سوموار، 19 جنوری، 2015

زندہ قوم

مجھے اچھی طرح یاد ہے ، بلکہ میرے تمام ہم عمر دوست جانتے ہیں - کہ ہمارے بچپن میں ، نہ بجلی تھی اور نہ گیس اور پیٹرول کے لئے  گاڑی تو چھوڑو موٹر سائیکل تک نہ تھی ۔
روزگار بھی اُسی طرح لوگوں کو ملتا تھا جیسا اب ملتا ہے ، لیکن بھوکا پیٹ سونے کا کسی کا نہیں سنا تھا ، یہاں تک کہ گھر پر مانگنے آنے والے بھکاریوں کو خالی ھاتھ لوٹانے کی رسم نہ تھی ۔
شاید اُس وقت ہم سب کے اخراجات بس کپڑوں اور کھانے کی حد تک محفوظ تھے ۔ کھانا تیل کے چولہوں ، برادے کی سگریوں ، لکڑی کے کوئلوں یا لکڑیوں پر پکتا تھا ۔
اِس کے باوجود ہم زندہ قوم تھے ۔
انصاف کی ہمیں ضرورت نہیں تھی کیوں کہ ہم کسی کا حق نہیں مارتے تھے جو اگلے کو انصاف کا دروازہ کھٹکٹانے کی ضرورت ہو نہ ہم نے کسی کا حق مارا کہ کو ئی پولیس والا ہمارا یا محلے میں کسی کا کواڑ کھٹکھٹائے ۔

شاید اُس وقت زند قوم کا مفہوم الگ تھا اور اب الگ ہے ۔ یہ سب اخلاقی قدروں کی تبدیلی کا شاخسانہ ہے ۔



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔