میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 30 جولائی، 2015

آپ حافظ ہیں !


بہت سے دوستوں کے ذاتی پیغامات ، ملے کہ آپ حافظ نہیں ، تو قرآن سے فوراً آیت کیسے نکال لیتے ہیں ؟

جواب: یہ پکچر المعجم المفہرس کی ہے ، جو میں نے کوئیٹہ سے 100 روپے کی 1994 میں لی تھی ۔ اِس میں تمام الفاظ عربی حروفِ تہجی میں ۔ لکھے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ اِس صفحے کو بڑا کر کے دیکیں تو دائیں طرف " ب ل غ " مادے سے بننے والے الفاظ ہیں ۔ جو اِس صفحے میں ہیں اور پہلے کالم کا پہلا لفظ بلغ ہے جو ،
"الکتاب " میں 10 بار آیا ہے اور جن 10 جگہ آیات میں آیا وہ اِس " المعجم المفیرس " میں درج ہیں -
اور سامنے دوسرے کالم میں ھائی لائٹر سے انڈر لائن کئے ہوئی آیات دیکھیں یہ 6 ہیں ۔ جن میں لفظ
يبلغ آیا ہے ۔  اگر آپ اِن الفاظ پر کلک کریں ، تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ معجم کسے کہتے ہیں اور اُس کی فیرست کیسے ترتیب دی گئی ہے ۔ کلک کرنے سے ، جو ویب پیج آئے گا وہ ،" اوپن برھان " نامی ہے اور ترجمہ " طاہرالقادری صاحب " کا ہے ۔

 بلغ  (10) ،بلغا   ،  بلغت  (5) ، بلغن  (4)، بلغنا  ،  بلغني  ، بلغوا  (2) ،   ابلغ  (2) ،  تبلغ ،  لتبلغوا  (4) ، يبلغ (5) اور ليبلغ  ، يبلغا  ، يبلغن  ، يبلغوا   ، بلغت (5)  ، ابلغكم   ،يبلغون   ، ابلغتكم  (3) ، ابلغوا   ، ابلغه  ،  بالغ (2)،   ببالغيه ،  بالغوه  ، بالغيه   ، بالغة (2) ،البالغة  ، بليغا  ،  بلاغ  (2) ،   البلاغ (11)،

"الکتاب " کو سمجھنے کئ لئے میں نے اِن الفاظ کا فہم سمجھا ، کہ کس لفظ کا کیا مادہ بنتا ہے اور ترجمہ یا ہو سکتا ہے ۔ یہ میرے لئے اللہ کے الفاظ کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوا ۔
رنگوں کا استعمال میری مجبوری ہے ، اپنی وضاحت کے لئے ۔ کہ کن نکات کی یہاں ۔ کس اعتبارِ ترتیل و تصریف سے اہمیت ہے ۔ گرائمر بس اتنی معلوم ہو ، کہ:
یہ فعل(1) ہے ، تنوین لگائیں اور یہ اسم (2) بن گیا ۔ یہ ضمیریں ( تیرا ، تم دونوں کا،  تمھارا، اُس کا ،اُن دونوں کا،  اُن کا ، میرا اور ہمارا)  (3) ہیں اور یہ ضمیریں فعل میں جڑ کر ، جملہ (4)  بنا رہی ہیں اور جملہ ، ماضی کا ہے یا مستقبل کا (5) ۔ اور اِن جملوں کو جوڑنے والے حرف (6) اور مذکر و مؤنث کی سمجھ (7) اگر یہ 7 اصول سمجھ لیں تو یوں سمجھیں کہ آپ الکتاب کے فہم سے جڑ گئے ۔


سب سے اہم ، آپ کے ذہن میں اللہ سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو سوال آئیں وہ لکھ لیں اور اُن کا جواب "الکتاب " میں تلاش کریں ۔ جواب آپ کو آج نہیں تو کل "الکتاب " سے عربی میں ضرور مل جائے گا ۔
لیکن اگر آپ تراجم کے ماہر ہیں تو شائد آپ کو کبھی نہ ملے !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سوموار، 27 جولائی، 2015

انمول جواب

ایک ماچس کی ڈبیا نکالی ، اُس میں سے تین تییاں نکالیں ، اُنہیں غور سے دیکھا ۔
ماچس و واپس جیب میں رکھتے ہوئے ۔ بزرگ نے نوجوان کی طرف دیکھا ۔

تینوں تیلیوں کو سامنے پڑی میز پر اِس ترتیب میں رکھا کہ تینوں کے جلنے والے سے ، برابر تھے ۔ لیکن ایک تیلی باقی دو تیلیوں سے لمبی تھی ۔
بزرگ نے لمبی تیلی اُٹھائی ، اور الگ رکھ دی اور جیب سے ماچس نکالی ، باقی دونوں تیلیاں اُٹھائیں  اور ماچس میں رکھ کر ماچس کو واپس جیب میں رکھا ۔
جو تیلی میز پر الگ رکھی تھی اُس اُٹھایا ۔ اُسے درمیان سے آدھا توڑا ۔ جلنے والے حصے کو واپس جیب سے ماچس نکال کر اُس میں رکھا ۔
جو حصہ ھاتھ میں تھا ، اُسے نوکیلا بنایا ۔







اور منہ کے قریب لاکر دانتوں میں خلال کرنے کے بعد ، تیلی کو زمین کر پھینک گر گویا ہوا ۔ 



" مجھے کیا پتا بیٹا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !




 

ہفتہ، 25 جولائی، 2015

شرارتی بچے

باپ چار بچوں کے ساتھ ٹرین میں سوار ہوا، ایک سیٹ پرخاموشی سے بیٹھ گیا
اور کھڑکی سے باہر دیکھنے لگا
بچے؟
بچے نہیں آفت کے پرکالے تھے۔
انہوں نے ٹرین چلتے ہی آسمان سر پر اٹھا لیا
کوئی اوپر کی سیٹوں پر چڑھ رہا ہے ،تو کسی نے مسافروں کا سامان چھیڑنا شروع کر دیا
کوئی چچا میاں کی ٹوپی اتار کر بھاگ رہا ہے تو کوئی زور زور سے چیخ کر آسمان سر پر اٹھا رہا ہے
مسافر سخت غصے میں ہیں
کیسا باپ ہے ؟
نہ انہیں منع کرتا ہے نہ کچھ کہتا ہے
کوئی اسے بے حس سمجھ رہا ہے تو کسی کے خیال میں وہ نہایت نکما ہے
بلآخر جب برداشت کی حد ہو گئی تو ایک صاحب غصے سے اٹھ کر باپ کے پاس پہنچے اور ڈھاڑ کر بولے
"آپ کے بچے ہیں یا مصیبت ؟ آخر آپ ان کو ڈانٹتے کیوں نہیں؟
باپ نے ان صاحب کی طرف دیکھا اس کی آنکھیں آنسووں سے لبریز تھیں اور بولا
'آج صبح ان کی ماں کا انتقال ہو گیا ہے میں ان کو وہیں لے کر جا رہا ہوں۔ مجھ میں ہمت نہیں کہ ان کو کچھ کہہ سکوں۔ آپ روک سکتے ہیں تو روک لیں ۔۔۔۔۔۔

سارے مسافرایک دم سناٹے میں آ گئے۔۔۔
ایک ہی لمحے میں منظر بالکل بدل چکا تھا
وہ شرارتی بچے سب کو پیارے لگنے لگے تھے
سب آبدیدہ تھے
سب انہیں پیار کر رہے تھے،
اپنے ساتھ چمٹا رہے تھے۔
زندگی میں ضروری نہیں کہ حقائق وہ ہی ہوں جو بس ہمیں نظر آرہے ہوں
بلکہ وہ بھی ہوسکتے ہیں جو ہمیں نظر نہ آ رہے ہو ں،
یاد رکھیئے
رائے بنانے میں وقت لگائیں،
بد گمانی سے پہلے خوش گمانی کو کچھ وقت دیں،
فیصلے سے پہلے ذرا ایک بار اور سوچ لیں،
بس ایک بار اور۔۔۔۔۔
اور بس اپنے ہی درست اور عقل کل ہونے پہ اصرار نہ کریں۔
اللہ بہت محبت سے ہمیں دیکھ رہا ہے
اور ہم سے اپنے بندوں کے لئے نرمی اور معافی کا طلبگار ہے۔۔۔۔!!!!! 


کرکٹ کے متوالوں کے لئے

کرکٹ کمنٹری میں بہت سی ایسی اصطاحات استعمال ہوتی ہیں جو کرکٹ کے شیدائیوں کو نہیں معلوم ۔
اُن کے لئے ۔ گراونڈ میں کھلاڑیوں کی پوزیشن ۔
بیٹس مین اور باولر کے حساب سے ۔ 


جمعہ، 24 جولائی، 2015

کیا آپ مؤاحد ہیں ؟

آج جب ، اقام الصلاۃ ، یوم الجمعہ (جمعۃ الوداع) کے بعد مسجد سے نکلنے کے لئے واپس مڑا تو پچھلی صف میں کھڑے ہوئے ، ادھیڑ عمر شخص نے بڑی گرم جوشی سے ھاتھ ملایا 
آپ مؤاحد ہیں ؟" اُس نے پوچھا
"وہ کیا ہوتا ہے ؟ " میں نے سوال کیا ، وہ تھوڑا گڑبڑا گیا ۔
" جی وہ آپ رفع یدین کر رہے تھے " وہ بولا
" اوہ ، اچھا !" میں نے جواب دیا اور اُس سے ، گرم جوشی سے ھاتھ ملایا ۔ اور مسجد سے باہر آگیا ۔
ایسا ہی واقع ڈی ایچ اے ۔ مورگاہ-1 کی بڑی مسجد میں پیش آیا ۔ وہاں یہ پوچھنے والے ، فوج کے سینئر آفیسر تھے ۔

ایک سوال ، ہمارے ایک دھانسو گروپ " المواخات " کے ٹیکسلاکے ممبر قاضی صاحب نے بھی
اقام الصلاۃ ، عصر کے بعد  2004 میں پوچھا ،
" میجر صاحب ! آپ حنبلی ہیں ؟ "
" نہیں " میں نے جواب دیا 
" لیکن آپ رفع یدین کر رہے تھے! " قاضی صاحب مسکراتے ہوئے بولے ۔
"

رفع یدین ، کیا صرف حنبلی کرتے ہیں ؟ " میں نے پوچھا ۔
" نہیں ، اہل تشیع بھی کرتے ہیں " وہ بولے
" لیکن میں اہل تشیع میں سے نہیں " میں نے جواب دیا
" مجھے معلوم ہے "وہ بولے " آپ کے باقی آداب اہل تشیع کے نہیں ہیں "
" جی ٹھیک نوٹ کیا آپ نے " میں نے جواب دیا 
" اگر آپ حنبلی نہیں ، تو رفع یدین کرنے کی وجہ ؟ " انہوں نے پوچھا ۔
" یہ سول فورم میں کر لیں ! " میں نے جواب دیا ۔ اور ہم دونوں باقی احباب کے ہمراہ ، فورم کی باقی کاروائی مکمل کرنے کے لئے، طارق عبدالمجید کے آفس میں داخل ہوئے ۔
جب سب آگئے تو ، میں نے سب کو مخاطب کر کے کہا ،
" صلاۃ کے بعد قاضی صاحب نے مجھ سے سوال کیا ، کہ آپ رفع یدین کیوں کرتے ہیں ؟ "
" اِس لئے کہ آپ حنبلی ہو ! "
طارق عبدالمجید نے جواب دیا ۔
 طارق عبدالمجید، اور میں 2001 کے واقف ہیں اور ہماری واقفیت ، کمپیوٹر سوسائٹی آف پاکستان ، اسلام آباد چپٹر کی میٹنگ میں ہوئی  اور یہ میرے گھر کی پشت پر واقع سٹریٹ 46 میں رہتے تھے اور مجاہد مسجد میں اکثر آمنا سامنا ہوتا تھا -
میں حنبلی نہیں اور نہ ہی شیعہ ہوں ، رفع یدین کرنے کی وجہ ،امام کعبہ اور امام مسجد النبوی کا رفعہ یدین کرنا ہے " میں نے جواب دیا ۔
" اور اگر کل، امام رفع یدین چھوڑ دے تو پھر آپ بھی چھوڑ دیں گے ! " طارق نے چھبتا ہوا سوال پوچھا ۔
" جی " میں نے جواب دیا ۔
" یہ کیا بات ہوئی ؟ " طارق نے دوبارہ پوچھا ۔

" وجہ رفع یدین یہ آیت ہے طارق صاحب !، 
 "میں نے جواب دیا-
وَمِنْ حَيْثُ خَرَ‌جْتَ فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ‌ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ وَإِنَّهُ لَلْحَقُّ مِن رَّ‌بِّكَ وَمَا اللَّـهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ﴿البقرة: 2/149﴾ 

 
1979 میں جب ،شیعہ کے ایک گروپ نے خانہ کعبہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی اور اگر وہ کامیاب ہوجاتے ، تو کیا آپ شیعوں کی طرح نماز پڑھتے ؟ " طارق نے الجھن زدہ لہجے میں پوچھا ۔ 
" اگر وہ قابض ہو جاتے تو پھر دیکھتا کیسے اقام الصلاۃ کرنا ہے ؟ " میں نے جواب دیا 
طارق نے ، ظہیر الاسلام عباسی (سابقہ میجر جنرل - اللہ اُن کے درجات بلند فرمائے - امین) کی طرف دیکھا ،
" آپ کیا کہتے ہیں ؟ "
" میرا خیال ہے کہ آپ میجر صاحب کو ہی کہنے دو ہم اُن سے سنتے ہیں کہ وہ ایسا کیوں سمجھتے ہیں " جنرل عباسی بولے ۔
" کیا مسلمانوں کو متحد ہونا چاھئیے ؟ " میں نے سوال کیا
" بالکل نظام خلافت میں اِس کا حل موجود " جنرل عباسی شدّت سے نظامِ خلافت کے دوبارہ احیاء کے پیچھے حزب التحریر کی طرح پڑے ہوئے تھے ، ہماری اِس میٹنگ میں حزبِ التحریر کے تین دوست بھی آتے تھے جو قائدِ اعظم یونیورسٹی میں تعلیم حاصل کر رہے تھے ۔ عبدالرشید غازی بھی کبھی کبھار آجاتے ۔ جن کو میں 1976 سے جانتا تھا ۔

لہذا سب نے جنرل عباسی کی تائید کی ۔
اگر میں دخل نہ دیتا تو بحث نظام خلافت کی طرف مُڑ جاتی ۔ جس کا میں شدت سے مخالف تھا اور ہوں بھی ۔
کیوں کہ یہ الگ موضوع ہے ۔
" نظامِ خلافت ، مسلمانوں کے لئے اتحاد کے لئے مفید ہے یا نہیں ، اُس پر الگ مذاکرہ رکھ لیتے ہیں ، فی الحال رفع یدین پر بات کرتے ہیں " میں نے کہا ۔
" جی ٹھیک ہے " سب نے کہا ۔
"
شَطْرَ‌ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ کیا ہے ؟ " میں نے پوچھا
" خانہ کعبہ " دو تین دوستوں نے جواب دیا ۔
" اور 
  الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ کہاں ہے ؟ " میں نے پوچھا ۔
" مکّہ میں -" جواب ملا ۔
" کیا
مَكَّةَ ،  بِبَكَّةَ ، الْكَعْبَةَ،  الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ  اور الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ  قرآن میں ہیں ؟ " میں نے پوچھا ۔
جی بالکل لکھے ہیں " جواب ملا ۔
" کبھی آپ حضرات نے غور کیا ، کہ ان الفاظ کی کیا اہمیت ہے جو اللہ نے ایک ہی جگہ کے  4 مختلف اسماء بتائے ہیں ؟ " میں نے پوچھا ۔
میں جب کسی بھی قرآنی مذاکرے یا میٹنگ میں گیا تو میرے پاس میرا بیگ ہوتا جس میں تین کتابیں ہوتیں ۔
جو اب بھی میری سائیڈ ٹیبل پر پڑی ہیں ۔ اور 1994 سے میرے ساتھ ہیں ۔ 



" میجر صاحب ، آپ بھی جانتے ہیں کہ یہ اللہ کا اسلوب ہے ۔ جو وہ اپنی آیات کو سمجھانے کے لئے اختیار کرتا ہے ۔" شمس الحق اعوان (سابقہ ڈاکٹر اسرار الحق جماعت ) نے جواب دیا ۔
" تو ہم اِس اسلوب کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں یا سب الفاظ کو ایک ہی جگہ کے نام دیتے ہیں ؟ "میں نے پوچھا ۔
" آپ بتائیے " شمس صاحب بولے ۔
" اللہ تعالیٰ نے یہ کیوں نہیں کہا کہ :-
فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ‌ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ ۔
یہ کیوں کہا !

فَوَلِّ وَجْهَكَ شَطْرَ‌ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ۔

" جاری رکھیں " شمس صاحب بولے ۔ جو ہمارے اِس فورم " المواخات " کے کوآرڈینیٹر تھے -
" تاکہ ساری دنیا کے مسلمان، اِس آیت پر عمل کریں،
وَاعْتَصِمُوا بِحَبْلِ اللَّـهِ جَمِيعًا وَلَا تَفَرَّ‌قُوا وَاذْكُرُ‌وا نِعْمَتَ اللَّـهِ عَلَيْكُمْ إِذْ كُنتُمْ أَعْدَاءً فَأَلَّفَ بَيْنَ قُلُوبِكُمْ فَأَصْبَحْتُم بِنِعْمَتِهِ إِخْوَانًا وَكُنتُمْ عَلَىٰ شَفَا حُفْرَ‌ةٍ مِّنَ النَّارِ‌ فَأَنقَذَكُم مِّنْهَا كَذَٰلِكَ يُبَيِّنُ اللَّـهُ لَكُمْ آيَاتِهِ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُونَ ﴿آل عمران: 3/103﴾


 " حَبْلِ اللَّـهِ نظامِ خلافت ہے-"  جنرل صاحب بولے
" نہیں سر،
حَبْلِ اللَّـهِ ،  شَطْرَ‌ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ ہے اور وہی آپ کے  رَبّ کی طرف سے الْحَقُّ ہے " میں نے جواب دیا ۔
"یار کوئی انسان ہوگا نا پتھر کی دیواریں تو نہیں ہونگی نا " طارق سے برداشت نہ ہوسکا وہ بولا ۔
" میں رفع یدین اِس لئے کرتا ہوں ، کہ امامِ
الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ کرتا ہے اور اللہ کی آیات کے مطابق، امامِ کعبہ  شَطْرَ‌ الْمَسْجِدِ الْحَرَ‌امِ ہے اور حَبْلِ اللَّـهِ کا محافظ ، امام المؤمنین الوقت ہے "۔


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

فیس بُک کے بہت دوستوں کے ذاتی پیغامات ، ملے کہ آپ حافظ نہیں ، تو قرآن کیسے فوراً آیت یسے نکال لیتے ہیں ؟

جواب: یہ پکچر المعجم المفہرس کی ہے ، یہ میں نے کوئیٹہ سے 100 روپے کی 1994 میں لی تھی ۔ اِس میں تمام الفاظ عربی حروفِ تہجی میں ۔ لکھے ہوئے ہیں ۔ اگر آپ اِس صفحے کو بڑا کر کے دیکیں تو دائیں طرف " ب ل غ " مادے سے بننے والے الفاظ ہیں ۔ جو اِس صفحے میں ہیں اور پہلے کالم کا پہلا لفظ بلغ ہے جو ،
"الکتاب " میں 10 بار آیا ہے اور جن 10 جگہ آیات میں آیا وہ اِس " المعجم المفہرس " میں درج ہیں -
اور سامنے دوسرے کالم میں ھائی لائٹر سے انڈر لائن کئے ہوئی آیات دیکھیں یہ 6 ہیں ۔ جن میں لفظ 
يبلغ آیا ہے ۔  اگر آپ اِن الفاظ پر کلک کریں ، تو آپ کو سمجھ آجائے گا کہ معجم (ع ج م )  کسے کہتے ہیں اور اُس کی فہرست کیسے ترتیب دی گئی ہے ۔

 بلغ  (10) ،بلغا   ،  بلغت  (5) ، بلغن  (4)، بلغنا  ،  بلغني  ، بلغوا  (2) ،   ابلغ  (2) ،  تبلغ ،  لتبلغوا  (4) ، يبلغ (5) اور ليبلغ  ، يبلغا  ، يبلغن  ، يبلغوا   ، بلغت (5)  ، ابلغكم   ،يبلغون   ، ابلغتكم  (3) ، ابلغوا   ، ابلغه  ،  بالغ (2)،   ببالغيه ،  بالغوه  ، بالغيه   ، بالغة (2) ،البالغة  ، بليغا  ،  بلاغ  (2) ،   البلاغ (11)، 
 بالا اللہ کے الفاظ پر کلک کرنے سے ، جو ویب پیج آئے گا وہ ،" اوپن برھان " نامی ہے اور ترجمہ " طاہرالقادری صاحب " کا ری فریم ہے ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

"الکتاب " کو سمجھنے کئ لئے میں نے اِن الفاظ کا فہم سمجھا ، کہ کس لفظ کا کیا مادہ بنتا ہے اور ترجمہ یا ہو سکتا ہے ۔ یہ میرے لئے اللہ کے الفاظ کو سمجھنے میں بہت معاون ثابت ہوا ۔
رنگوں کا استعمال میری مجبوری ہے ، اپنی وضاحت کے لئے ۔ کہ کن نکات کی یہاں ۔ کس اعتبارِ ترتیل و تصریف سے اہمیت ہے ۔ گرائمر بس اتنی معلوم ہو ، کہ:
یہ فعل(1) ہے ، تنوین لگائیں اور یہ اسم (2) بن گیا ۔ یہ ضمیریں ( تیرا ، تم دونوں کا،  تمھارا، اُس کا ،اُن دونوں کا،  اُن کا ، میرا اور ہمارا)  (3) ہیں اور یہ ضمیریں فعل میں جڑ کر ، جملہ (4)  بنا رہی ہیں اور جملہ ، ماضی کا ہے یا مستقبل کا (5) ۔ اور اِن جملوں کو جوڑنے والے حرف (6) اور مذکر و مؤنث کی سمجھ (7) اگر یہ 7 اصول سمجھ لیں تو یوں سمجھیں کہ آپ الکتاب کے فہم سے جڑ گئے ۔


سب سے اہم ، آپ کے ذہن میں اللہ سے ہدایت حاصل کرنے کے لئے جو سوال آئیں وہ لکھ لیں اور اُن کا جواب "الکتاب " میں تلاش کریں ۔ جواب آپ کو آج نہیں تو کل "الکتاب " سے عربی میں ضرور مل جائے گا ۔
لیکن اگر آپ تراجم کے ماہر ہیں تو شائد آپ کو کبھی نہ ملے !


٭٭٭٭٭٭٭٭


 مزید مضامین ، اِس سلسلے میں دیکھیں :

انفاقِ فی سبیل اللہ کے مراتبِ انفاق

زرد صحافت کے لوگ

زرد صحافت کے لوگ کہتے ہیں :-
٭- ⁠⁠⁠⁠⁠زرداری کی کرپشن آج تک ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- الطاف حسین کی دہشت گردی ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- شریف برادران کی منی لانڈرنگ اور قرضوں کی معافی ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- بینظیر کا سرے محل زرداری کا نام پوگیا لیکن اس محل کی خریداری ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- مشرف نے کھلے عام 12 مئی کو کراچی میں قتل عام کا اعتراف کیا لیکن یہ کیس بھی اس پر ثابت نہ ہوسکا۔
٭- چوہدری برادران نے اربوں روپے کرپشن کی، یہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
٭- یوسف گیلانی نے کھلے بندوں ترک وزیراعظم کی بیوی کا ہار چوری کیا اور پھر دباؤ پڑنے پر لوٹا دیا، لیکن یہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
٭- نواز اور شہبازشریف کی اولادوں کے کاروبار باہر ہیں لیکن ان کی ملک میں سرکایہ کاری سے عدم دلچسپی ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- اسحاق ڈار کے بیٹوں کی دبئی میں اربوں کی پراپرٹی ھے لیکن پھر بھی اسحاق ڈار کی فارن ڈائریکٹ انوسٹمنٹ ملک میں نہ لانے کی پالیسی ثابت نہ ہوسکی۔
٭- طاہرالقادری نے 21 سال عالم رویا میں امام ابو حنیفہ کے ساتھ علم حاصل کیا، یہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
٭- جنید جمشید کے کرتے بکنے کے ساتھ ہی اس کی ٹی وی پر دلچسپی بڑھ گئی، یہ بھی ثابت نہ ہوسکا۔
٭- مشرف کی آدھی کابینہ اس وقت ن لیگ میں ھے، پھر بھی نوازشریف کی آمریت دوستی ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- زرداری دبئی میں بیٹھ کر سرکاری خرچے پر سندھ حکومت کا اجلاس بلاتا ھے لیکن پھر بھی اس کے بے غیرتی ثابت نہیں ہوسکی۔
٭- ایان علی کے پرس سے 5 لاکھ ڈالر برآمد ہوا لیکن وہ منی لانڈرنگ کررہی تھی، یہ بات ثابت نہ ہوسکی۔
٭- کراچی جاتے ہوئے عتیقہ اوڈھو کے سامان سے شراب کی بوتلیں برآمد ہوئیں لیکن وہ چھوڑ دی گئی کہ ان سے کیا واقعی نشہ ہوتا تھا، یہ بات ثابت نہ ہوسکی۔
٭- پاکستان کی اشرافیہ امیر سے امیر تر اور عام آدمی غریب سے غریب تر ہوتا جارہا ھے، پھر بھی اشرافیہ کچھ برا کر رہی ھے،
یہ بات آج تک ثابت نہیں ہوسکی۔

کیوں کہ اشرافیہ ہوتی ہی غریبوں مسلمانوں کو پیسے دے کر شہادتیں تبدیل کرانے کے لئے ،

بدھ، 22 جولائی، 2015

مُلا و پیرانِ وقت اور مریم بنت عمران !

اللَّـهَ  نے مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّه کو نباء الغیب سے بتایا کہ اللَّـهَ نے مَرْ‌يَمُ کو نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ممتاز کیا ،

وَإِذْ قَالَتِ الْمَلَائِكَةُ يَا مَرْ‌يَمُ إِنَّ اللَّـهَ اصْطَفَاكِ وَطَهَّرَ‌كِ وَاصْطَفَاكِ عَلَىٰ نِسَاءِ الْعَالَمِينَ ﴿آل عمران: 3/42
اور جب الْمَلَائِكَةُ بولی ۔" يَا مَرْ‌يَمُ بے شک تجھے ، مُصطَفَا اور مطَهَّرَ‌ کرتا ہے اور تجھے کے نِسَاءِ الْعَالَمِينَ اوپرمُصطَفَا کرتا ہے ۔

نوٹ:
اصْطَفَا پر تدّبر کریں ۔ کیا اللَّـهَ نے الْكِتَابِ وَقُرْآنٍ مُّبِينٍ میں کسی اور خاتون کو یہ رتبہ دیا ہے - مذہبی تاریخ میں یاوہ گو مبلغوں نے مُتَشَابِهَاتٌ سے اللہ پر أَفَّاكٍ کیا ہے ۔
کیوں ؟

إِذْ قَالَتِ امْرَأَةُ عِمْرَانَ رَبِّ إِنِّي نَذَرْتُ لَكَ مَا فِي بَطْنِي مُحَرَّرًا فَتَقَبَّلْ مِنِّي إِنَّكَ أَنتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴿آل عمران: 3/35﴾

 جب عِمْرَانَ کی عورت بولی میرے  رَبّ  بے شک میں تیری نَذَرْکرتی ہوں جو میرے بَطْن میں مُحَرَّرً ہے - پس یہ میری طرف سے قبول کر ، بے شک توالسَّمِيعُ الْعَلِيمُ ہے

يَا مَرْ‌يَمُ اقْنُتِي لِرَ‌بِّكِ وَاسْجُدِي وَارْ‌كَعِي مَعَ الرَّ‌اكِعِينَ ﴿آل عمران: 3/43﴾



اے  مَرْ‌يَمُ تو میری قانع رہ اپنے  کے لئے اور میری اسْجُدِ رہ اور راکعین کے ساتھ میری ارْ‌كَعِ  رہ  !

 ور جب الْمَلَائِكَةُ بولی
کیوں کہ مریم مُلاؤں کے چکر میں، اپنی " کفالت" کے لئے نہیں آئیں :
ذَٰلِكَ مِنْ أَنبَاءِ الْغَيْبِ نُوحِيهِ إِلَيْكَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يُلْقُونَ أَقْلَامَهُمْ أَيُّهُمْ يَكْفُلُ مَرْ‌يَمَ وَمَا كُنتَ لَدَيْهِمْ إِذْ يَخْتَصِمُونَ ﴿آل عمران: 3/44﴾
وہ الْغَيْبِ خبریں ہیں ، جو ہم نے تیری طرف وحِي کیں ، تو اُن کے نزدیک نہیں تھا جب اپنے قلموں کا القاء کر ہے کہ  کون مَرْ‌يَمَ کفالت کرے گا؟ اور اُس وقت بھی تو اُن کے پاس نہ تھا جب وہ آپ میں جھگڑ پڑے تھے ۔

وہ کس وجہ سے مریم کو اپنی کفالت میں لینا چاھتے تھے ؟
تاکہ وہ مریم کی عصمت کو تار تار کریں ، مگر :
وَمَرْ‌يَمَ ابْنَتَ عِمْرَ‌انَ الَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْ‌جَهَا فَنَفَخْنَا فِيهِ مِن رُّ‌وحِنَا وَصَدَّقَتْ بِكَلِمَاتِ رَ‌بِّهَا وَكُتُبِهِ وَكَانَتْ مِنَ الْقَانِتِينَ ﴿التحريم: 66/12﴾

اورمَرْ‌يَمَ ابْنَتَ عِمْرَ‌انَ جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پس ہم نے اُس میں اپنی رُّ‌وحِ میں سے نَفَخْ کیا - اور اُس نے اپنے رَ‌بّ کے كَلِمَات اور اُس کی كُتُب کے ساتھ صَدَّقَ کیا - اور وہ قَانِتِينَ میں سے تھی ۔

اللَّـهَ نے مَرْ‌يَمَ ابْنَتَ عِمْرَ‌انَ کے اِس عمل کے باعث الْعَالَمِينَ کے لئے آیت بنا دیا :

وَالَّتِي أَحْصَنَتْ فَرْجَهَا فَنَفَخْنَا فِيهَا مِن رُّوحِنَا وَجَعَلْنَاهَا وَابْنَهَا آيَةً لِّلْعَالَمِينَ ﴿الأنبياء: 21/91﴾

جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی پس ہم نے اُس میں اپنی رُّ‌وحِ میں سے نَفَخْ کیا - اوراُسے اور اُس کے بیٹے کوالْعَالَمِينَ کے لئے آیت بنا دیا
امید ہے کہ یاوہ گو افراد کو معلوم ہوگیا ہے کہ
اللہ نے 
مَرْ‌يَمَ ابْنَتَ عِمْرَ‌انَ کو  نِسَاءِ الْعَالَمِينَ اوپرمُصطَفَا کیا اوراُسے اور اُس کے بیٹے کو الْعَالَمِينَ کے لئے آیت بنا دیا -

منگل، 21 جولائی، 2015

ﻟاﺟﮑﺲ

 اﯾﮏ ﺩﯾﮩﺎﺗﯽ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟکھ ﮐﺮ ﻭﺍﭘﺲ ﺩﯾﮩﺎﺕ ﮔﯿﺎ ﺗﻮﮔﺎﺅﮞ ﮐﮯ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﻧﮯ ﺳﻮﺍﻝ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﺘﺮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﮯ؟ 
ﻟﮍﮐﺎ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﭘﮍﮬﻨﮯﻟﮑﮭﻨﮯﺳﮯ " ﻟاﺟﮑﺲ " ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ.
 ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﯾﮧ " ﻟاﺟﮑﺲ " ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟
 ﻟﮍﮐﺎ " : ﻟاﺟﮑﺲ " ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ 
ﻟﮍﮐﺎ : ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺁﭖ ﮐﻮ۔۔۔۔ 
ﻟﮍﮐﺎ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﺁّﭖ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﮨﮯ؟ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﮨﮯ ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﺑﮍﺍ ﮨﻮﮔﺎ؟ﺟﺲ ﮐﯽ ﺣﻔﺎﻇﺖ ﮐﮯﻟﯿﮯ ﮐﺘﺎ ﺭﮐﮭﺎ ﮨﻮﺍ ﮨﮯ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﮔﮭﺮ ﺗﻮﺑﮍﺍ ﮨﮯ .. 
ﻟﮍﮐﺎ : ﭘﮭﺮ ﺁﭖ ﮐﮯ ﮨﺎﮞ ﻧﻮﮐﺮ ﭼﺎﮐﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺎ ﻓﯽ ﮨﻮﮞ ﮔﮯ؟؟ﺑﮍﮮﮔﮭﺮﮐﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﺑﮭﺎﻝ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﺟﯽ ﻧﻮﮐﺮﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﮨﯿﮟ.. 
ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮨﻮ ﮔﯽ؟؟؟ﻧﻮﮐﺮﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﻨﺨﻮﺍﮦ ﮐﯽﺍﺩﺍﺋﯿﮕﯽ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﮨﺎﮞ ﺟﯽ ﺁﻣﺪﻧﯽ ﺑﮭﯽ ﺍﭼﮭﯽ ﺧﺎﺻﯽ ﮨﮯ ..
 ﻟﮍﮐﺎ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﻭﺭﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺣﻖ ﻣﯿﮟ ﻗﺒﻮﻝ ﺑﮭﯽ ﮨﻮﺋﯿﮟ۔ ﺍﺳﮑﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﯾﮧ ﮨﻮﺍ ﮐﮧ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻣﺎﮞ ﺍﯾﮏ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔ ! 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺑﺲ ﺍﺏ ﻣﯿﮟ ﺳﻤﺠﮫ ﮔﯿﺎ ﮐﮧ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯﺳﮯ " ﻟاﺟﮑﺲ " ﮐﯿﺴﮯ ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔۔۔۔۔

 ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺷﯿﺪﺍ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﮐﯽ ﭨﺎﻧﮕﯿﮟ ﺩﺑﺎﺗﮯ ﮨﻮﺋﮯ : 
ﺷﯿﺪﺍ : ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ ﺟﻮ ﻟﮍﮐﺎ ﺷﮩﺮ ﺳﮯ ﭘﮍﮪ ﻟﮑﮫ ﮐﺮ ﮔﺎﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﮨﮯ ﺍﺱ ﮐﻮ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﺎ ﮐﯿﺎ ﻓﺎﺋﺪﮦ ﮨﻮﺍ؟؟ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺷﯿﺪﮮ , ﭘﮍﮬﻨﮯ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ "ﻟاﺟﮑﺲ " ﮐﻠﯿﺮ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ.. ﺷﯿﺪﺍ : 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ ﯾﮧ " ﻟاﺟﮑﺲ " ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ؟ 
ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ " : ﻟاﺟﮑﺲ " ﻣﻨﻄﻖ ﮐﻮ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ .. 
ﺷﯿﺪﺍ : ﯾﮧ ﻣﻨﻄﻖ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ 

ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﻣﻴﮟ ﺳﻤﺠﮭﺎﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﺗﻢ ﮐﻮ۔۔۔۔ 

 ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺗﻤﮩﺎﺭﮮ ﮔﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﮨﮯ؟ 
ﺷﯿﺪﺍ : ﻧﮩﯿﮟ ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ , ﻣﯿﺮﮮﮔﮭﺮﻣﯿﮟ ﮐﺘﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﮯ .. 

 ﭼﻮﮨﺪﺭﯼ ﺻﺎﺣﺐ : ﺍﺱ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺗﻤﮩﺎﺭﯼ ﻣﺎﮞ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﯿﮏ ﻋﻮﺭﺕ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔۔۔۔



کیا مسیح عیسیٰ ابنِ مریم ایک کلون تھے ؟


نوٹ : مسیح عیسٰ ابنِ مریم ے بارے میں میں نے یہ مضمون، انگریزی میں  1998 میں لکھا تھا : پیش خدمت ہے ۔
مزید دیکھیئے :

 مُلا و پیرانِ وقت اور مریم بنت عمران !

 1:Every Living being have been created from Water
أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ (Al-Kitaab- Ch:21 V:30)
 Do not those who disbelieve (in the signs of Almighty ) observe that Al-Samawat ( The heavens) and Al-Arz ( the earth ), were One Unit mass (as Nebula), but We have split them asunder ; and every living being We have made of water, Yet, they will not believe?

 وَاللَّهُ خَلَقَ كُلَّ دَابَّةٍ مِن مَّاءٍ فَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى بَطْنِهِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى رِجْلَيْنِ وَمِنْهُم مَّن يَمْشِي عَلَى أَرْبَعٍ يَخْلُقُ اللَّهُ مَا يَشَاءُ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ (Al-Kitaab- Ch:24 V:45)
And Allah has created from water every living being: among them is that which walks upon its belly, and of them is that which walks upon two feet, and of them is that which walks upon four; Allah creates what He ordains; surely Allah has measure over every things.


وَهُوَ الَّذِيَ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ نَبَاتَ كُلِّ شَيْءٍ فَأَخْرَجْنَا مِنْهُ خَضِرًا نُّخْرِجُ مِنْهُ حَبًّا مُّتَرَاكِبًا وَمِنَ النَّخْلِ مِن طَلْعِهَا قِنْوَانٌ دَانِيَةٌ وَجَنَّاتٍ مِّنْ أَعْنَابٍ وَالزَّيْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُشْتَبِهًا وَغَيْرَ مُتَشَابِهٍ انظُرُواْ إِلِى ثَمَرِهِ إِذَا أَثْمَرَ وَيَنْعِهِ إِنَّ فِي ذَلِكُمْ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ (Al-Kitaab- Ch:6 V:99)

 And He it is Who revealed water from the sky (not from clouds), So We extracted with plants of every things, So We extracted from (plants) green (foliage), We extract from (plants) piled up grains; and from Al-Nakhal (erected plant)  come forth clusters (of fruits) within reach, and gardens of grapes and olives and pomegranates, similarity  to each other and other similarity; Look at  the fruit  when it become fruit (the process)  and till  its ripening; most surely there are Ayaats (signs)  in this for a nation of peaceful people (there is no tussle between plants in order to obey the Universal Truth of prospering).

2:The Only Living being have been created from "Tueen" ( ۔( طِينٍ     

 الَّذِي أَحْسَنَ كُلَّ شَيْءٍ خَلَقَهُ وَبَدَأَ خَلْقَ الْإِنسَانِ مِن طِينٍ  (Al-Kitaab- Ch:32 V:7)
Who made good everything that He has created, and He began the creation of Al-Insaan (human being) from "Tueen" .
 إِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلَائِكَةِ إِنِّي خَالِقٌ بَشَرًا مِن طِينٍ (Al-Kitaab- Ch:32 V:7)
 When your Lord (of the Universe) said to the angels; surely I am going to create a man from "Tueen" .
  وَاللَّهُ أَنبَتَكُم مِّنَ الْأَرْضِ نَبَاتًا (Al-Kitaab- Ch:71 V:17)
And Allah has grown you from the earth.
 ثُمَّ يُعِيدُكُمْ فِيهَا وَيُخْرِجُكُمْ إِخْرَاجًا (Al-Kitaab- Ch:71 V:18)
 Then He will return you in it , and extract you, (as) extracted (before).  

3:Further growth of Living being require it pair, counter- part, consort.

 أَوَلَمْ يَرَوْا إِلَى الْأَرْضِ كَمْ أَنبَتْنَا فِيهَا مِن كُلِّ زَوْجٍ كَرِيمٍ (Al-Kitaab- Ch:26 V:7)
Do they not see the earth, We have grown out her every noble PAIR? 
  إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً وَمَا كَانَ أَكْثَرُهُم مُّؤْمِنِينَ (Al-Kitaab- Ch:26 V:8)
Most surely there is a sign (Ayat) in that, but most of them (who reject sign) are not peaceful.

بَدِيعُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ أَنَّى يَكُونُ لَهُ وَلَدٌ وَلَمْ تَكُن لَّهُ صَاحِبَةٌ وَخَلَقَ كُلَّ شَيْءٍ وهُوَ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ(Al-Kitaab- Ch:6 V:101)
 Originator of the Universe and the earth! How could He have a son when He has no consort, and He created everything, and He has Knowledge of every thing.

ذَلِكُمُ اللّهُ رَبُّكُمْ لاَ إِلَـهَ إِلاَّ هُوَ خَالِقُ كُلِّ شَيْءٍ فَاعْبُدُوهُ وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ وَكِيلٌ (Al-Kitaab- Ch:6 V:102)
 That is Allah, your Lord (the Universe), there is no god but He; the Creator of every things, therefore serve Him, and He is guard of every things.


4:Creation of Plants Pairs
 الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ مَهْدًا وَسَلَكَ لَكُمْ فِيهَا سُبُلًا وَأَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجْنَا بِهِ أَزْوَاجًا مِّن نَّبَاتٍ شَتَّى (Al-Kitaab- Ch:20 V:53)
Who made the earth for you Mahad (place of sustenance) and made for you the ways (of sustenance) and revealed water from the sky (not from clouds), So We extracted different Pairs plants.

5:Creation of Human Pair(s)
يَا أَيُّهَا النَّاسُ اتَّقُواْ رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَخَلَقَ مِنْهَا زَوْجَهَا وَبَثَّ مِنْهُمَا رِجَالاً كَثِيرًا وَنِسَاءً وَاتَّقُواْ اللّهَ الَّذِي تَسَاءَلُونَ بِهِ وَالْأَرْحَامَ إِنَّ اللّهَ كَانَ عَلَيْكُمْ رَقِيبًا (Al-Kitaab- Ch:4 V:1)
 O mankind be careful of (your duty to) your Lord (of Universe), Who created you from a single (feminine) being, and from her created her pair, and spread from both of them, many men and women; and be careful of (your duty to) Allah, by Whom you demand one of another (your rights), and (to) the ties of relationship; surely Allah ever watches over you.
Note: The Universal Truths inscribed that Feminine cell has productive capability. Do Embryologists have explored differently?

6:Progeny of "Tueen" Creation
  ثُمَّ جَعَلَ نَسْلَهُ مِن سُلَالَةٍ مِّن مَّاءٍ مَّهِينٍ (Al-Kitaab- Ch:32 V:8)
Then He made his progeny of an extract, of water held in light estimation.

7:Phases of  Human Creation.
 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن سُلَالَةٍ مِّن طِينٍ (Al-Kitaab- Ch:23 V:12)
 And certainly We (Lord of the Universe) created man of an extract from  "Tueen" .
 
 ثُمَّ جَعَلْنَاهُ نُطْفَةً فِي قَرَارٍ مَّكِينٍ (Al-Kitaab- Ch:23 V:13)
 Then We made him a small seed (semen in Arabic, nutfatah)  in a firm resting-place.

 ثُمَّ خَلَقْنَا النُّطْفَةَ عَلَقَةً فَخَلَقْنَا الْعَلَقَةَ مُضْغَةً فَخَلَقْنَا الْمُضْغَةَ عِظَامًا فَكَسَوْنَا الْعِظَامَ لَحْمًا ثُمَّ أَنشَأْنَاهُ خَلْقًا آخَرَ فَتَبَارَكَ اللَّهُ أَحْسَنُ الْخَالِقِينَ
(Al-Kitaab- Ch:23 V:14)
Then We made (various phases of development of Al-Nut'fa'tan):-
Ph-1).  The seed a clot, (in Arabic, Al-Nut'fa'tan ala'qa'tan this phase is be (Arabic Kun) phase for human being),
Ph-2).  So, We made the clot a lump of pulp, (in Arabic, Al-ala'qa'tan Mud'gha'tan)
Ph-3).  So, We made the lump of pulp of bones (in Arabic, Al-Mud'gha'tan Eza'ma)
Ph-4).  So, We clothed the bones with flesh (in Arabic Al-Eza'ma Lah'ma),
Ph-5).  So, We caused it to grow into another creation (fetus),
So blessed be Allah, the best of the creators ( Others beside Allah are also creating but He is best of them).
Note: Al-Kitaab does not describe the days/period of phases, since it is not required. However what all development does take place is mentioned. The days/period of phases, are mentioned in Man Written books of IRANIAN intellectuals. So doctors of past have speculated (not facts, the speculation must be supported by facts) about various phases of human creation. These hearsays have been referred to Muhammad Al-Rasool Allah as Ahadees ( Al-Ahdees are only issued from Allah and written in Al-Kitaab) in order to provide authenticity of their verdict on embryology for Muslims. This invented lie have been picked up by IRANIAN intellectuals and written in their books. Had this reveled on him (Muhammad) it should have in Al-Kitaab? Whatever is written in Al-Kitaab is The Verdict (Words) of Allah exit before Day One (Creation of Universe).

The different Synonyms used for any Word in Al-Kitaab (like English or other language) changes the condition of MESSAGE (sentence).

Worthy scholars in Al-Kitaab (Kitaab Allah) must ponder on to this:-
1-Why Allah has mentioned Al-Kitaab(200 time) and Ahal-Al-Kitaab (30 time).
2-It is Man written book, which stray people, that Musa had Taurat. It was IRANIAN Tibrie from Tibristaan who wrote lie and every so called scholar have just copied his translation that Musa was given Tauraat, and wherever Al-Kitaab occur in Al-Kitaab he translated it Taurat.   Has Allah anywhere mentioned Al-Kitaab that Musa was given Taurat?
3-In the light of Allah verdict that all prophets were blessed with Al-kitaab should try to find out what is who all are Ahal AL-Kitaab.
4-The Arabic written in Al-Kitaab is the Actual Arabic of Allah (including its grammar). The Arabic which is being spoken in Arabian peninsula is Al-Ajmee (non Arabic) Like English being spoken in England is mother language and English of USA may resembled to English but is US-English (other than UK-English).

8:Special attribute of Human Pair   

وَمِنْ آيَاتِهِ أَنْ خَلَقَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا لِّتَسْكُنُوا إِلَيْهَا وَجَعَلَ بَيْنَكُم مَّوَدَّةً وَرَحْمَةً إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَاتٍ لِّقَوْمٍ يَتَفَكَّرُونَ (Al-Kitaab- Ch:30 V:21)
 And one of His signs is that He created mates for you from yourselves that you should find relax in them (feminine), and He (Lord of the Universe) made among you love and compassion; most surely there are signs in this for a people who reflect.

Note: What will happened if relax, love and compassion ends among human pair , According to the Universal Truths, irrespective of religion?

9:How a Normal Birth takes place.

 هُوَ الَّذِي خَلَقَكُم مِّن نَّفْسٍ وَاحِدَةٍ وَجَعَلَ مِنْهَا زَوْجَهَا لِيَسْكُنَ إِلَيْهَا فَلَمَّا تَغَشَّاهَا حَمَلَتْ حَمْلاً خَفِيفًا فَمَرَّتْ بِهِ فَلَمَّا أَثْقَلَت دَّعَوَا اللّهَ رَبَّهُمَا لَئِنْ آتَيْتَنَا صَالِحاً لَّنَكُونَنَّ مِنَ الشَّاكِرِينَ (Al-Kitaab- Ch:7 V:189)

 He it is Who created you from a single (Feminine) being, created from her, her mate, so that he should relax toward her; so when he covers her she bears a light burden, then she moves with this (light burden); but when it grows heavy, they both call upon Allah, their Lord: If You give us a good one, we shall certainly be of the grateful ones

10:Who decides( for a couple ) male or female or both or leave barren.

 لِلَّهِ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ يَهَبُ لِمَنْ يَشَاءُ إِنَاثًا وَيَهَبُ لِمَن يَشَاءُ الذُّكُورَ (Al-Kitaab- Ch:42 V:49)
  For Allah, Authority of The Universe and The Earth. He creates what He ordains. He gifts (to a couple) male or female according to His ordain,
 أَوْ يُزَوِّجُهُمْ ذُكْرَانًا وَإِنَاثًا وَيَجْعَلُ مَن يَشَاءُ عَقِيمًا إِنَّهُ عَلِيمٌ قَدِيرٌ(Al-Kitaab- Ch:42 V:50)
Or He gifts (to a couple) both males and females, and He leaves (couple) barren whom He ordains: for He is full of Knowledge and Power.

11:Decision of inheritance and assertion relationship.

ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللَّهِ فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِي الدِّينِ وَمَوَالِيكُمْ وَلَيْسَ عَلَيْكُمْ جُنَاحٌ فِيمَا أَخْطَأْتُم بِهِ وَلَكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا (Al-Kitaab- Ch:33 V:5)
Assert their relationship to their fathers; this is more equitable with Allah; but if you do not know their fathers, then they are your brethren in faith and your friends; and there is no blame on you concerning that in which you made a mistake, but (concerning) that which your hearts do purposely (blame may rest on you), and Allah is Forgiving, Merciful.

12:How a normal order Amazing Births  took place

وَامْرَأَتُهُ قَآئِمَةٌ فَضَحِكَتْ فَبَشَّرْنَاهَا بِإِسْحَقَ وَمِن وَرَاءِ إِسْحَقَ يَعْقُوبَ
 (Al-Kitaab- Ch:11 V:71)
  . And his (Ibraheem  wife was standing (by), so she laughed (on the fear of Ibraheem), so We gave her the good news of Ishaque and after Ishaque of  Yaqoob.
قَالَتْ يَا وَيْلَتَى أَأَلِدُ وَأَنَاْ عَجُوزٌ وَهَـذَا بَعْلِي شَيْخًا إِنَّ هَـذَا لَشَيْءٌ عَجِيبٌ (Al-Kitaab- Ch:11 V:72)
  She said: O wonder! shall I (bear) a birth,  when I am an extremely old woman and this my husband an extremely old man? Most surely this (birth) is an amazing thing.
قَالُواْ أَتَعْجَبِينَ مِنْ أَمْرِ اللّهِ رَحْمَتُ اللّهِ وَبَرَكَاتُهُ عَلَيْكُمْ أَهْلَ الْبَيْتِ إِنَّهُ حَمِيدٌ مَّجِيدٌ (Al-Kitaab- Ch:11 V: 73)
  They said: Do you wonder at Allah's bidding? The mercy of Allah and His blessings are on you, O Ahal Al-Bait (people of The house), surely He is Praise, Glorious.

 يَا زَكَرِيَّا إِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلاَمٍ اسْمُهُ يَحْيَى لَمْ نَجْعَل لَّهُ مِن قَبْلُ سَمِيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:7)
O Zakariya! surely We give you good news of a boy whose name shall be Yahya: We have not made for before him attribute (of Yahya).
 قَالَ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي غُلاَمٌ وَكَانَتِ امْرَأَتِي عَاقِرًا وَقَدْ بَلَغْتُ مِنَ الْكِبَرِ عِتِيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:8)
 , He said: O my Lord! How shall I have (amazingly) a son, and my wife is barren, and I myself have reached indeed the extreme degree of old age?
 قَالَ كَذَلِكَ قَالَ رَبُّكَ هُوَ عَلَيَّ هَيِّنٌ وَقَدْ خَلَقْتُكَ مِن قَبْلُ وَلَمْ تَكُ شَيْئًا (Al-Kitaab- Ch:19 V:9)
He (Lord) says: So shall it be, your Lord says: It is easy to Me, and indeed I created you before, when you were nothing.

13:What is  Cloning (Amazing Birth)۔

There is absolutely no involvement of a male in the cloning of a Female. 
An egg is taken from a Female; the nucleus containing the genetic material is extracted. then, the nucleus of another cell from some part of the same Female 's body - for example the intestine - is taken out and inserted into the egg-without-a-nucleus. This new egg now contains a full complement of 46 chromosomes, all of them having come from the same Female. This egg is implanted into that Female's uterus (or it can be implanted into any other Female's uterus, that doesn't matter) and the resulting baby is genetically identical to the adult Female. thus, she is cloned.

The pregnancy is just like a "normal" one. 9 months. This is an experimental field at the moment, but it is inevitable that all of the details will be worked out, and it will become a routine thing to do.

The only Universal Truths are the solution for humanity.

14:How an abnormal order Amazing birth (Cloning) took place۔


إِذْ قَالَتِ الْمَلآئِكَةُ يَا مَرْيَمُ إِنَّ اللّهَ يُبَشِّرُكِ بِكَلِمَةٍ مِّنْهُ اسْمُهُ الْمَسِيحُ عِيسَى ابْنُ مَرْيَمَ وَجِيهًا فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمِنَ الْمُقَرَّبِينَ (Al-Kitaab- Ch:3 V:45)
When the angels said: O Marium, surely Allah gives you good news with a Word from Him, whose name is the '. Messiah, Eisa son of Marium, worthy of regard in this world and the hereafter and of those who are made near (to Allah).
 وَيُكَلِّمُ النَّاسَ فِي الْمَهْدِ وَكَهْلاً وَمِنَ الصَّالِحِينَ (Al-Kitaab- Ch:3 V: 46).
 And he shall speak to the people when in Al- Mahad (the cradle, place of growing) and when of old age, and (he shall be) one of the good ones.
 قَالَتْ رَبِّ أَنَّى يَكُونُ لِي وَلَدٌ وَلَمْ يَمْسَسْنِي بَشَرٌ قَالَ كَذَلِكِ اللّهُ يَخْلُقُ مَا يَشَاءُ إِذَا قَضَى أَمْرًا فَإِنَّمَا يَقُولُ لَهُ كُن فَيَكُونُ (Al-Kitaab- Ch:3 V: 47).
 She said: My Lord! How shall I have (amazingly) a son,  and I have not been touched by a man? He (Angel) said: So shall it be,, Allah creates what He ordains; when He has decreed a matter, He only says to it, Be, and it is.
 وَيُعَلِّمُهُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَالتَّوْرَاةَ وَالْإِنجِيلَ (Al-Kitaab- Ch:3 V: 48).
 And He (Allah)  will teach him Al-Kitaab (The Book)  and Al-Hikmat (The wisdom)  and Al-Tauraat (The Law )and Al-Injeel ( The Good News (Not Bible))
ذَلِكَ نَتْلُوهُ عَلَيْكَ مِنَ الْآيَاتِ وَالذِّكْرِ الْحَكِيمِ (Al-Kitaab- Ch:3 V:58).
 This We (Allah) recite to you from Al-Ayaat (the signs) and the wise advice.
 إِنَّ مَثَلَ عِيسَى عِندَ اللّهِ كَمَثَلِ آدَمَ خَلَقَهُ مِن تُرَابٍ ثُمَّ قَالَ لَهُ كُن فَيَكُونُ(Al-Kitaab- Ch:3 V:59).
 Surely the similarity of Eisa near to Allah as similarity of Adam; He created him from Turaab (dus)t, then said to him, Be, and he was.
 الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ فَلاَ تَكُن مِّن الْمُمْتَرِينَ (Al-Kitaab- Ch:3 V: 60).
(This is), The truth from your Lord (of The World), so be not among who suspect ( signs of Allah) .

15:What happened to Cloned Marium


فَأَتَتْ بِهِ قَوْمَهَا تَحْمِلُهُ قَالُواْ يَا مَرْيَمُ لَقَدْ جِئْتِ شَيْئًا فَرِيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:27)
And she (Marium) came to her nation with him, carrying him (with her). They said: O Marium! surely you have done an strange thing ( gave a birth without marrying).

يَا أُخْتَ هَارُونَ مَا كَانَ أَبُوكِ امْرَأَ سَوْءٍ وَمَا كَانَتْ أُمُّكِ بَغِيًّا(Al-Kitaab- Ch:19 V:28)
 O sister of Haroon! Your father was not a bad man, nor, was your mother an unchaste woman (what happened to you)?
 فَأَشَارَتْ إِلَيْهِ قَالُوا كَيْفَ نُكَلِّمُ مَن كَانَ فِي الْمَهْدِ صَبِيًّا(Al-Kitaab- Ch:19 V:29)
  But she pointed to him (Eisa). They said: How should we speak to one who was a child in Al-Mahad (the cradle )?
 قَالَ إِنِّي عَبْدُ اللَّهِ آتَانِيَ الْكِتَابَ وَجَعَلَنِي نَبِيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:30)
 He said: Surely I am a servant of Allah; He has given me Al-Kitaab (The Book ) and made me a prophet,
 وَجَعَلَنِي مُبَارَكًا أَيْنَ مَا كُنتُ وَأَوْصَانِي بِالصَّلاَةِ وَالزَّكَاةِ مَا دُمْتُ حَيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:31).
And He has made me blessed wherever I may be, and He has enjoined on me Al-Salawat (The prayer) and Al-Zakawat (The purification of wealth) so long as I live,
 وَبَرًّا بِوَالِدَتِي وَلَمْ يَجْعَلْنِي جَبَّارًا شَقِيًّا (Al-Kitaab- Ch:19 V:32).
And dutiful to my mother, and He has not made me insolent, unblessed;

Note:
1).        Lord of The Universe did This cloning.
2).        The name of clone is Al-Masih Eisa son of Marium. ( being no father mother name was annexed) .

The only Universal Truths are the solution for humanity.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مُلا و پیرانِ وقت اور مریم بنت عمران !

تعریف اُس خدا کی ۔ تخلیقِ انسان   

  کُتبِ اساطیر


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔