میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 29 ستمبر، 2015

ڈاپلر ٹیسٹ اور سی ایم ایچ

" نوجوان ! میرے اِس ٹیسٹ کی تاریخ 24 ستمبر تھی ، اور اُس دن چھٹی تھی ۔ اب کیا کیا جائے ؟" بوڑھے نے ریسیپشن ڈیسک کے پیچھے بیٹھے، نیم فوجی سے پوچھا - 
نوجوان نے کاغذ کو غورسے دیکھا اوربے اعتنائی سے کہا، " آج تو 29 تاریخ ہے آپ کی تاریخ گذر گئی ، میں آپ کو اگلی تاریخ دے دیتا ہوں "۔
" کون سی ؟ میرے مرنے سے پہلے ، یا بعد کی ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔

12 اگست کو بوڑھا اوربڑھیا اپنی روزانہ ،مٹھی بھردوائیاں پھانکنے کے بعد ، تقریباً ختم ہونے والے مہینہ بھرکے کوٹے کو نئے سرے سے چالو کرنے کے لئے، دو گھنٹے انتظار کرنے کے بعد ، بریگیڈئر صاحب کے پاس بیٹھے تھے اور بڑھیا تفصیلاً ، دردوں ، چکروں کی گھن چکری کی داستان سنا رہی تھی اور
بریگیڈئر صاحب ایک ھاتھ کمپیوٹر کے کی بورڈ پر رکھے ، نہایت انکساری سے سن رہے تھے، بڑھیا نے ہر دوائی کے کھانے سے ہونے والے ری ایکشن کی تفصیل بتائی ۔
پھر 9 اگست کو بوڑھوں کے جکرنڈا کلب میں برپا ہونے والے برنچ پر شوگر بنانے کی فیکٹریوں کی مالکان، بڑی بی بیبوں سے شوگر کی بہترین صفائی کے لئے مختلف ادویات ھائے خورا ک کی بابت پوچھا ، سب نے اپنے اپنے تجربے سے بتایا ، وہی اب ڈاکٹر صاحب سُن رہے تھے ۔
اُنہوں نے ، نہایت مشفق لہجے میں ہدایت دی ۔
"دوائیاں یہ بہترین ہیں لیکن آپ کو وقت کے مطابق روزانہ کھانا پڑیں گی " ۔
" ڈاکٹر صاحب ، یہی تو مسئلہ ہے مجھے یاد نہیں رہتیں" بڑھیا نے اپنا دُکھڑا رویا " بیٹی یادکرائے تو کھا لیتی ہوں"۔
" میجرصاحب ، کو کہیں یہ یادکرا دیں !"
بریگیڈئر صاحب نےیہ کہہ کر گویا شکایات کے گٹھر پر لٹھ مارا ۔
" انہیں لیپ ٹاپ سے فرصت ہو تو یہ ، مجھے توجہ دیں ، میں اِن کے پاس آ کر بیٹھ بھی جاؤں تو انہیں پرواہ نہیں ہوتی کہ میں آئی ہوں ، بس لیپ ٹاپ پر دیدے گاڑے بیٹھے رہتے ہیں اور ٹھک ٹھک ،انگلیاں چل رہی ہوتی ہیں ۔ 5 ہزاراِن کےدوست ہیں فیس بک پر ، بس رونے والی میں اورمیری بیٹیاں ہوں گی ، پوری رات بیٹھ کرمعلوم نہیں کیا کرتے ہیں "
میں
بریگیڈئر صاحب کی آنکھوں کو غورسے پڑھ رھا تھا ، اُن میں افسوس کا پانی تو نہیں البتہ بوڑھی کے شکوے سے لطف اندوز ہونے کی شرارت تیرہی تھے -
بریگیڈئر صاحب! کا یہی کام تھا ، ماہرادوایات کے ساتھ ماہرنفسیات کے فرائض سرانجام دینا ۔
" تو یہ سوتے کب ہیں ؟ اِنہیں بھی تو سونا ضروری ہے "
بریگیڈئر صاحب نے پوچھا
" رات کو دیر سے سوتے ہیں صبح 10 بجے اُٹھتے ہیں ، دوپہر کو سوتے ہیں تو رات کو اُٹھتے ہیں ، انھیں بھی میں ہی دوائیاں کھلاتی ہوں " بڑھیا نے اپنے احسانِ عظیم بتلایا ۔
" آپ ایسا کریں کہ دوائیاں کھانے کے لئے الارم لگا دیں " ڈاکٹر صاحب نے مشورہ دیا ۔
" خدا کے لئے ڈاکٹر صاحب! میں پہلے ہی اکیس الارم بجنے سے پریشان ہوں ۔ مزید 20 الارم تو ، اُف اب مجھے پورچ میں اپنا بستر شفٹ کرنا پڑے گا " بوڑھا بلبلایا ۔
" غضب خدا کا ، ہرنماز ے لئے تین الارم ، ایک گہری نیند سے اٹھانے کے لئے ، دوسرا مزید اٹھانے کے لئے اور تیسرا بالکل اٹھانے کے لئے چَف ، چَف ، چَف !چَف !چَف !، اور دن کی کل سات نمازیں اور بچوں اور اُن کے بچوں کی لئے نمازیں ، پھر اپنے ماں باپ اور میرے ماں باپ کے لئے نمازیں ۔ پھر کسی باعلم کے مطابق ، روزانہ دس بجے اور چار بجے سورۃ بقرۃ کی، ایل سی ڈی ڈیڑھ ڈیڑھ گھنٹے کی تلاوت ۔ یقین مانیں ، میرے گھرسے توزیادہ رائے ونڈ کے اجتماع میں خاموشی ہوتی ہے "
بوڑھے نے اپنی کتھا پرسوز آواز میں سنائی ۔ اب
بریگیڈئر صاحب کی آنکھوں میں درد کا سمندر اُمنڈ آنے کو تھا ، مگر اُنہوں نے اُسے درد بھری مسکراہٹ کا بند باندھ کر قابو میں رکھا ، گو بریگیڈئر صاحب بوڑھے سے قریباً 15 سال چھوٹے نظر آتے تھے، لیکن سچ ہے مرد کا دکھ ہم عمرمرد ہی سمجھ سکتا ہے اور وہ بھی اگر فوجی مرد ہو ، گو ڈاکٹر ، ڈاکٹر ہوتا ہے فوجی نہیں ، لیکن معلوم نہیں کیوں ؟ فوجی وردی پہنتے ہی ، اُس کی جون تبدیل ہوجاتی ہے ۔
بریگیڈئر صاحب ، کی انگلیاں کی بورڈ پر چلنے لگیں اور جب رکیں تو بڑھیا سے بولے ، " میں نے دوائیاں لکھ دی ہیں آپ اِنہیں ، اُس ہدایت کے مطابق کھائیں جیسا کہ میں نے بتائی ہیں اور پریشان ہونا چھوڑ دیں آپ کی آدھی استطاعت شوگر افزائی رک جائے گی "
بڑھیا اُٹھی تو بوڑھے کی باری آئی ، " جی سر ! آپ کی طبیعت کیسی ہے ؟ "
" سر
، اللہ کا شکر ہے ۔ بس پچھلی دوائیاں کاپی ٹو کاپی کر دیں " بوڑھے نے کہا ۔
" ڈاکٹر صاحب ، اِن کے دماغ میں مسئلہ ہے ، بیٹھے بیٹھے دس بیس سیکنڈ کے لئے گم ہو جاتے ہیں سر ڈھلنے لگتا ہے اور ہم سب پریشان ہو جاتے ہیں " بڑھیا بولی ۔
" کم خوابی میں ایسا ہی ہوتا ہے ۔ آپ پوری نیند لیا کریں "

بریگیڈئر صاحب بولے ۔
"
بھائی نیند کی وجہ نہیں ، اِن کے برین میں بلڈ کلاٹ بنتا ہے ۔ جس کی وجہ سے یہ ہوتا ہے " بڑھیا بولی " آپ کلاٹ ختم کرنے کی دوائیں دے دیں "
" سر ! آپ کا سی ٹی سکین اورڈاپلر ٹیسٹ ہوا ہے "
بریگیڈئر صاحب نے پوچھا ۔
" سر ! سی ٹی سکین ہوا ہے، ڈاپلر ٹیسٹ نہیں" بوڑھے نے جواب دیا -
" میں نے ڈاپلر ٹیسٹ لکھ دیا ہے وہ کروا کر مجھے دکھائیں اور پرانی سی ٹی سکین کی رپورٹ بھی ساتھ لانا "

بریگیڈئر صاحب بولے ۔ بڑھیا اور بوڑھا شکریہ ادا کر کے باہر آگئے ۔ اور ڈاپلر ٹیسٹ کے لئے ۔ الٹرا ساونڈ ڈیپارٹمنٹ کی طرف روانہ ہوئے ۔ جہاں بوڑھے کوڈاپلر ٹیسٹ کے لئے 24 ستمبر کو آنے کے لئے کہا ، وجہ پوچھی تو معلوم ہوا ،
" بہت رش " ہے ، اور بوڑھے پر مہربانی کر کے جلدی تایخ دی ہے ورنہ دو ڈھائی ماہ سے کم تاریخ نہیں ملتی ۔
بڑھیا کا بھی 15 منٹ میں ڈاپلر ٹیسٹ ہوا تھا  -
" اور اللہ رحم کرے اتنے مریض " بوڑھے نے سوچا ۔ اور دونوں گھر آگئے -
ستمبر کے کوٹے کی دوائی لینے کے لئے ، ملازم کو بھجوایا تو بڑھیا کو یاد آیا کہ بوڑھے کا ڈاپلر ٹیسٹ بھی ہونا تھا ۔ بوڑھا سو کر اُٹھا ، تو بڑھیا نے ناشتے کے ساتھ معلومات دی ،
" سلیم کو دوائیوں کے لئے بھجوادیا ہے اور آپ کی ڈوپلر ٹیسٹ کی تاریخ گذر گئی ؟ " بڑھیا نے پوچھا
" میرا خیال ہے 24 ستمبر کو جانا ہے ، لیکن چٹ کہاں ہے ۔ اپنے بیگ میں دیکھو !" بوڑھے نے کہا ۔
اب چٹ کی تلاش شروع ہوئی ۔ خیر بوڑھے نے 12 اگست کے " سیکوئنس آف ایونٹس " یاد کرنے شروع کئے اور ہر اُس شاپر ، تھیلے ، دوائیوں کے ڈبے ، میڈیسنٹ کیبنٹ کو دیکھا مگی چٹ نہ ملی ۔
"خیر پھر نئی چٹ لے لیں گے، تاریخ تو رجسٹر پر لکھی ہوئی ہے " بوڑھے نے بڑھیا کو تسلی دی ۔
 بوڑھے کے جنم دن پر ، بوڑھے کے پرس سے چٹ مل گئی ۔
24 ستمبر کو عید الاضحیٰ کی چھٹیاں ہوگئیں ۔ لیکن بوڑھے نے احتیاطً ، سی ایم کے پاس رہنے والے ایک دوست ے بیٹے کی مشقت لگائی، کہ اگر سی ٹی سکین ڈیپارٹمنٹ کھلا ہے تو موبائل پر بتائے ۔ لیکن وہ بند تھا ۔ اُس نے موبائل پر پوری روداد سنائی -
یوں 29 ستمبر کو بوڑھا ، سی ایم ایچ پہنچا ، جہاں ایک نئی کہانی نے جنم لیا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
وہ پڑھئے ۔ اگلی قسط میں !






اتوار، 27 ستمبر، 2015

مستنصر حسین تارڑ کا المیہ !

کیا بیوی، ایک گرل فرینڈ ہو سکتی ہے ؟
 

یہ جو ان دنوں ہر دوسرے روز کوئی نہ کوئی لٹریری فیسٹیول منعقد ہو جاتا ہے تو ان میں آپ کے ساتھ کوئی نہ کوئی خصوصی سیشن رکھا جاتا ہے تو ان محفلوں میں آپ کے پڑھنے والے جہاں آپ کی تحریروں کے حوالے سے انتہائی فکرانگیز اور سنجیدہ سوال کرتے ہیں وہاں کچھ سوالوں میں تفریح کا سامان بھی ہوتا ہے۔۔۔ مثلاً کراچی لٹریری فیسٹیول کے دوران ایک سوال جواب کے سیشن کے آغاز میں، میں نے اقرار کیا کہ خواتین و حضرات بدقسمتی سے میرا ایک کان بالکل بیکار ہو چکا ہے البتہ دوسرے کان سے کچھ کچھ سنائی دے جاتا ہے اس لئے آپ سے ایک درخواست ہے کہ سوال ذرا بلند آواز میں پوچھئے اور مختصر پوچھئے۔۔۔ اس سے پیشتر کہ سیشن کا آغاز ہوتا ایک منحنی سے معنک صاحب کھڑے ہو کر کہنے لگے
’’تارڑ صاحب، پہلے یہ بتایئے کہ آپ کون سے کان سے بہرے ہیں‘‘۔
اس پر حاضرین بے اختیار مسکرانے لگے۔۔۔
’’میں نے عرض کیا کہ حضور اس سے کیا فرق پڑتا ہے کہ میں کون سے کان سے بہرا ہوں آپ سوال کیجئے‘‘۔
اس پر اُن صاحب نے حاضرین کی جانب فاتحانہ انداز میں دیکھا۔ ایک طنزیہ مسکراہٹ لبوں پر پھیلائی اور کہا
’’نہیں پہلے آپ یہ بتایئے کہ آپ کون سے کان سے بہرے ہیں پھر سوال پوچھوں گا‘‘۔
وہ سیشن کا ستیاناس کرنے پر تلے ہوئے تھے تو میں نے تنگ آ کر کہا
’’حضور، یہ سراسر میری صوابدید پر منحصر ہے کہ میں کس وقت کون سے کان سے بہرا ہو جاؤں۔۔۔ آپ میرے دائیں جانب کھڑے ہیں تو فی الحال میں دائیں کان سے بہرا ہوں۔۔۔ آپ کی آواز نہیں آ رہی‘‘۔۔۔
وہ صاحب چپکے سے کھسک گئے کہ حاضرین نے خوب تالیاں پیٹیں۔۔۔ اسی سیشن میں ایک خاتون نے نہایت دلچسپ سوال کیا، کہنے لگیں
’’تارڑ صاحب میں نے آپ کا حج کا سفرنامہ ’’منہ ول کعبے شریف‘‘ پڑھا ہے جس میں آپ نے اپنی بیگم کا تذکرہ اس طرح کیا ہے جیسے وہ آپ کی بیوی نہ ہوں گرل فرینڈ ہوں‘‘۔۔۔
میں نے مسکراتے ہوئے کہا کہ
’’خاتون جب میں اپنے سفرناموں میں غیرمنکوحہ خواتین کا تذکرہ کرتا تھا تب بھی لوگوں کو اعتراض ہوتا ہے اور اب اگر اپنی منکوحہ کے ساتھ چہلیں کرتا ہوں تو بھی اعتراض ہوتا ہے۔۔۔ اگر آخری عمر میں بالآخر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو گیا ہوں تو بھی آپ کو منظور نہیں‘‘۔
وہ خاتون نہایت پُرمسرت انداز میں کہنے لگیں
’’آخری عمر میں ہی کیوں؟‘‘ ۔۔۔
میں نے انہیں تو جواب نہیں دیا محض مسکرا دیا لیکن میں آپ کو رازداں بناتا ہوں۔۔۔ آخری عمر میں بیوی کے عشق میں مبتلا ہو جانا ایک مجبوری ہے کہ اتنی طویل رفاقت کے بعد آپ کو احساس ہوتا ہے کہ اس بھلی مانس نے مجھ پر بہت احسان کئے۔۔۔ میری بے راہرو حیات کو برداشت کیا۔۔۔ کبھی شکایت نہ کی البتہ ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ بہت کی تو بس یہی عشق میں مبتلا ہونے کے لائق ہے۔
ہمارے ایک دوست کا کہنا ہے کہ جوانی میں بیوی ایک آنکھ نہ بھاتی تھی، مرد آخر مرد ہے دل میں خیال آتا تھا کہ اگر یہ مر جائے تو سبحان اللہ میں دوسری شادی کر لوں۔۔۔
اب اس بڑھاپے میں ہر نماز کے بعد میں دعا مانگتا ہوں کہ یا اللہ اسے سلامت رکھنا، یہ مر گئی تو میں دربدر ہو جاؤں گا، مجھے تو کوئی پانی بھی نہیں پوچھے گا۔۔۔ مجھے پہلے لے جانا اِسے سلامت رکھنا۔

ویسے یہ میرا نصف صدی کا پاسے سونے کی مانند کھرا تجربہ ہے کہ نوجوانی میں اپنی بیویوں سے عشق کرنے والے اور اُس کا چرچا کرنے والوں نے ہمیشہ اُن بیویوں سے چھٹکارا حاصل کر کے دوسری شادیاں کیں۔۔۔
مجھ سے پانچ چھ برس جونیئر ایک مناسب شاعر اور ان دنوں بہت دھانسو کالم نگار نے کہا
’’تارڑ بھائی۔۔۔ آپ جانتے ہیں کہ میں نے عشق کی شادی کی ہے۔۔۔ میں اپنی بیوی سے ایک ایسا عشق کرتا ہوں جس کی مثال روئے زمین پر نہ ملے گی۔ میں اُس کی پرستش کرتا ہوں، وہی میرا مذہب ہے اور میں نے اُسے جو خطوط لکھے، جاں نثار اختر نے کہاں لکھے ہوں گے، یہ خطوط تاج محل سے بھی عظیم تر ہیں۔۔۔ میں یہ خطوط کتابی صورت میں شائع کروا رہا ہوں تاکہ آنے والی نسلوں کو معلوم ہو کہ عشق کیا ہوتا ہے۔۔۔ اور اس شہر میں صرف تین لوگ ہیں جنہیں میں اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خطوط کی اس کتاب کا فلیپ تحریر کریں۔۔۔ اعتزاز احسن، منو بھائی اور آپ۔۔۔ اُنہوں نے لکھ دیا ہے آپ بھی لکھ دیں۔۔۔
میں نے لکھ دیا اور پھر کتاب کا انتظار کرنے لگا۔ چار پانچ ماہ کے بعد میں نے اس کتاب کے ناشر سے پوچھا کہ خطوط کی وہ کتاب کیاہوئی تو وہ کہنے لگے
’’موصوف تو اپنے عشق کو طلاق دے چکے ہیں اور ان دنوں دوسری بیوی کے عشق میں سرشار ہو رہے ہیں‘‘۔
میرے ابّا جی کے ایک دوست نسبت روڈ چوک کے قریب حکمت کی دکان کرتے تھے۔ وہ اپنی بیوی کے ساتھ اتنا عشق کرتے تھے کہ دکان کی دیواروں پر اُس کی تصویریں سجا رکھی تھیں اور کہتے تھے
’’چوہدری صاحب۔۔۔ میں لمحہ بھر کی جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔ اُس کا چہرہ دیکھتا رہتا ہوں تب دن گزرتا ہے‘‘۔۔۔
جانے کیا ہوا کہ اُن کی بیوی ناگہانی موت سے دوچار ہو گئیں، اُن کو اتنا صدمہ ہوا کہ بہت دنوں تک کچھ کھایا پیا نہیں اور لاغر ہو گئے۔۔۔ مرحومہ کی قبر کے برابر میں ایک جھونپڑا ڈال کر اُس میں فروکش ہو گئے۔۔۔ گھر ترک کر کے قبرستان میں بسیرا کر لیا، درویشی اختیار کر لی، بیوی کی قبر کے ساتھ لپٹ کر روتے رہتے۔۔۔ ایک دو ماہ بعد میں نے ابّا جی سے پوچھا کہ آپ کے اُس دوست کا کیا حال ہے جو بیوی کی قبر کے ساتھ رہتے ہیں تو ابّا جی کہنے لگے اور مسکرا کر کہنے لگے
’’ اُس نے اپنی چھوٹی سالی سے شادی کر لی ہے اور ان دنوں ہنی مون منانے مری گئے ہوئے ہیں‘‘۔
جوانی میں اپنی بیویوں سے محبت کرنے والے لوگ ۔۔۔ ہمیشہ دوسری شادی کرتے ہیں۔۔۔ آزمائش شرط ہے۔۔۔ چونکہ میں نے اپنی اہلیہ سے جوانی میں محبت نہیں کی اس لئے میں نے دوسری شادی بھی نہیں کی۔
ویسے اس عمر میں آ کر اپنی بیوی کے عشق میں مبتلا ہو کر اُس کے ساتھ فلرٹ کرنا نہایت ہی شاندار تجربہ ہے۔ میں اُسے ’’ڈارلنگ‘‘ یا ’’سویٹ ہارٹ‘‘ کہتا ہوں تو وہ ناک چڑھا کر کہتی ہے
’’دفع"

جمعہ، 25 ستمبر، 2015

مرد اور گھوڑا

مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا !

بیوی کو روزانہ یہ احساس دلانے کے لئے ایک بوڑھا ، سونے سے پہلے بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتا تو وہ ہاتھ جھٹک کر کہتی ۔
" کچھ تو شروم کرو پوتے پوتیوں والے ہو گئے ہو ۔ قبر میں پاؤں لٹکائے بیٹھے ہو ۔ خدا کا خوف کرو ، تمھیں اِس کے علاوہ کچھ سوجھتا نہیں "

بوڑھا مطمئن ہو کر دوسری طرف منہ کر کے سو جاتا ۔
ایک دن بوڑھے نے ، ٹوٹل پورا کرنے کے لئے ، بڑھیا کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
بڑھیا نے مسکرا کر دیکھا ۔
تو
 




بوڑھے کی جان ہی نکل گئی !

چیونٹی اور پتّے کا سفر


ریٹائرمنٹ کے بعد اُس کا روازنہ ایک ہی مشغلہ تھا ، اپنے کمرے کے باہر بالکونی پر آرام کرسی ڈال کر بیٹھ جانا، خوشگوار موسم سے لطف اُٹھانا، چائے پینا ،  سڑک پر گذرتی گاڑیوں کو دیکھنا ، اخبار پڑھنا اور وہی پندرہ بیس منٹ کے لئے سو جانا ۔


بوڑھا اپنے اِسی معمول کے مطابق نیند کا ایک جھونکا لے کراُٹھا تو اُس نے دیکھا کہ ریلنگ پر دائیں طرف ایک سبز رنگ کا پتّا حرکت کر رہا ہے ، اُس نے دائیں طرف پڑی تپائی سے عینک اُٹھائی اور آگے جھک کر غور سے دیکھا تو ایک چیونٹی اُس پتّے کو پیچھے سے دھکیل کر ریلنگ کی رنگ اتری لکڑی پر چڑھ رہی ہے ۔ جب وہ پتّے کو مکمل اوپر لانے میں کامیاب ہو گئی تو اُس نے اُسے اپنے اوپر اُٹھا لیا ۔وہ یہ دیکھ کر حیران ہو گیا کہ ایک ننھی سی چیونٹی نےاپنے سے کئی گنا بڑا پتّا اُٹھا لیا ، بوڑھا آرام سے ٹیک لگا کر بیٹھ گیا اور چیونٹی اور پتّے کو دیکھنے لگا۔
چیونٹی اور پتّے کے اِس سفر میں ، اچانک معمولی سے ہوا نے چیونٹی کے پاؤں اکھاڑے کیوں کہ چیونٹی اُس وقت ریلنگ کی چمکدار سطح پر پہنچ چکی تھی ، لیکن اُس کے ننھے منے جبڑوں کی قوت نے پتے کو اُس کی گرفت سے نہیں نکلنے دیا وہ پھسلتی ہوئی ، وہاں تک پہنچی جہاں سے اُس کے بعد اُس نے ہوا میں لہراتے ہوئے نیچے چارفٹ فرش پر گر جانا تھا ۔ مگر اُس کے پچھلے پاؤں جونہی لکڑی کی کھردری سطح پر پہنچے تو وہ جم گئی ، پچھلے دو پاؤں پر لٹکتے ہوئے وہ آہستہ آہستہ پیچھے ہوئی اور دوبارہ ریلنگ کے اوپر آگئی ۔ اور پھ اپنی منزل کی طرف اپنا سفر شروع کر دیا ۔
چیونٹی کے ریلنگ پر دائیں سے بائیں گھنٹہ بھر کے اِس سفر نے بوڑھے نی چیونٹی کی ہمت کے وہ مظاہر دیکھے جو ابھی تک اُس کے مشاہدے سے اوجھل تھے ۔ جو وہ پتے کو اپنے منزل کی طرف لے جانے میں بوڑھے کو دکھا رہی تھی لیکن سب سے حیرت انگیز وہ لمحہ تھا جب ریلنگ کی لکڑی کے سکڑنے سے پیدا ہونے والی آدھا انچ یااِس سے کچھ کم دراڑ تھی ۔ جب چیونٹی اُس دراڑ کے قریب پہنچی ، تو وہ تھوڑا دائیں چلی اور پھر بائیں بوڑھے اندازہ ہو گیا کہ چیونٹی یہ کھائی عبور نہ کر سکے گی اور اُس کی تمام محنت ضائع جائے گی ۔ چیونٹی نے کھائی کی طرف پشت کی اور اپنے پچھلے پیر دوسرے کنارےپر ٹکانے  کی کوشش کی ، مگر وہ اُس کی پہنچ سے چند ملّی میٹر دور تھا ۔
بوڑھے کا دل چاہا کہ وہ تھوڑا سا پتے کو کھسکائے تا کہ چیونٹی اپنا مشن مکمل کر لے ۔ لیکن اتنے میں چیونٹی قلا بازی کھاکر واپس ریلنگ پر آچکی تھی ۔ اب اُس نے پتّے کو گھمانا شروع کیا اور اُسے دراڑ کے اوپر رکھ کر دوبارہ دھکیلنے لگی ۔
جب چیونٹی نے پتّے کو اتنا دھکیل دیا کہ پتّے اور پچھلے کنارے کے درمیان کافی فاصلہ ہو گیا تو نے چیونٹی پتّے پر لٹک کر اپے پچھلے پاؤں فضا میں لہراتے ہوئے دوسرے کنارے کی طرف بڑھائے اور اُس کے پاؤں نے دوسرے کنارے کو اپنے گرفت میں لے لیا اور چیونٹی نے یہ کھائی آرام سے عبور کر لی ۔
بوڑھا سوچ رھا تھا ، کہ اللہ کی اِس ننھی منّی مخلوق کے چھوٹے کے سر کے اندر بھی دماغ ہے ، جس میں جد و جہد ، قوتِ ارادی اور اعتمادجیسے طاقتور مادّے رکھے ہوئے ہیں ۔ تو پھر اِنسان میں خالقِ کائینات نے ۔ ۔ ۔ ۔ !
" آوا ! آوا " کمرے سے چم چم کی آواز آئی غالباً وہ کارٹون مووی سے بور ہو چکی تھی ۔ بوڑھے کے پاس آئی ۔
اُس ریلنگ پر چلتے ہوئے سبز پتے کو دیکھا ۔
"آوا ، یہ کیا ہے ؟" بوڑھے سے پوچھا ۔
اِس سے پہلے بوڑھا کچھ کہتا ، چم چم نے وہ پتّا اُٹھا لیا ۔
" چیونٹی " یہ کہتے ہوئے پتّا چھوڑ دیا کلبلاتی ہوئی چیونٹی کو لئے وہ پتّا لہراتے ہوئے فرش پر گر گیا ، چیونٹی بغیر اپنے گھٹنے سہلائے ہوئے اِدھر اُدھر دوڑی ، پچھلی ٹانگوں پر اونچا ہو کر اپنے دونوں مونچھوں نما ، ایرئیل کو ایڈجسٹ کیا ۔ سگنل ملنے پر ایک دم ساکت ہوگئی ، ایس ایم ایس وصول کئے ، شاید اُس کی بیٹری کمزور تھی ، اُس نے سرکو زمین کی طرف کر کے جھٹکا دیا ۔ پتے کو اُٹھایا اور دیوار کی طرف گھسیٹنے لگی ، بوڑھے نے دیوار اور فرش کے جوڑ کی طرف دیکھا ، جہاں اُسے رائی کے دانوں سے چھوٹی بھربھری مٹّی نظر آئی اچھا یہ ہے اِس کی کالونی کا راستہ ،بوڑھے نے سوچا -

  یہاں سے یہ کھڑکی کی جالی میں ٹیلیفون کی تار کے لئے سوراخ سے کمے میں داخل ہو کر اُس کے میز پر مٹرگشت کرتی ہیں اور بوڑھے سے گرے ہوئے چینی  بسکٹ ، نمک پارے اور خستہ چنّوں کی صفائی کرتی ہیں
" آوا، اُٹھیں اور دکان سے مجھے آئیس کریم دلائیں " ۔ بوڑھے نے اخبار سمیٹا ۔ اور کسی سے اُٹھا ۔ اور ایک دفعہ پھر اُس نے پتے اور بِل کی طرف دیکھا ۔ ایس ایم ایس ملنے کے بعد چار فوجیوں کے ساتھ مزدوروں کی فوج بِل سے باہر نکلنا شروع ہو چکی تھی ،
بوڑھا چم چم کو لے کر ، پہلی منزل سے نیچے اترا اور اُسے لے کر گھر سے سو گز دور مارکیٹ کی طرف چل پڑا وہاں سے چم چم نے اپنی پسند کی آئیس کریم خریدی اور چم چم دکانداروں کی باتوں کا انگلش میں جواب دیتی بوڑھے کے ساتھ واپس گھر پہنچی اور جاکر دوبارہ کارٹون دیکھنے لگی ۔ بڑھیا نے بتایا کہ ، بوڑھے کا موبائل شور مچا رھا تھا ، بوڑھا ٹیرس کی طرف گیا، اپنی عینک اور موبائل اُٹھایا ۔
چیونٹی کے بِل کی طرف دیکھا ، پتّہ آدھے سے بھی کم ہو گیا تھا ۔ مزدور چیونٹیاں کتر کتر کر بِل میں لے جا رہی تھیں ۔ فوجی بھاگ بھاگ کر اپنی ڈیوٹی دے رہے تھے ، اور خطرہ نہ پا کر رُکتے اور دوسرے ڈیوٹی پر مامور فوجیوں کو وائرلیس پیغام دیتے ، اور پھر چوکیداری کرنے لگتے ۔ بوڑھے نے ، مشقتی چیونٹی کی مشقت کے فاصلے کا اندازہ کرنے کے لئے ریلنگ پر دیکھا تو تین پتّے حرکت کر رہے تھے ۔ غالباً جاسوس چیونٹی نے ، خوراک کے ذخیرے کے بارے میں مکمل معلومات دے دی تھی اور اب منڈی سے گھر تک کی سپلائی لائن بحال ہو چکی تھی ۔ بوڑھے نے تینوں پتوں کو ریلنگ سے باری باری اُٹھاکربل سے فُٹ فُٹ کے فاصلے پر رکھ دیئے ۔ تینوں چیونٹیوں نے وہی ایکشن کیا جو گرنے والی چیونٹی نے کیا تھا ۔ بِل سے چیونٹیوں کی فوج مزدوروں کے ساتھ برآمد ہوئی اور ترتیب سے تینوں پتّوں کی طرف پہنچ گئی ۔ فوجیوں نے پوزیشن سنبھال لی ۔ مزدوروں نے چارج سنبھال لیااور کارکن چیونٹی دوبارہ واپس اپنے مِشن کے لئے روانہ ہو گئیں ۔

کوئی آرام نہیں ،
کوئی گلہ نہیں ،
کوئی دعویٰ نہیں ،
اللہ کی یہ آیات اپنے ربّ کے لئے ہر وقت سر بہ سجود رہتی ہیں ۔ سب سے زیادہ کام اور انتھک محنت کرنے والی کارکن  نے کبھی بینر نہیں اٹھایا کہ کالونی میں رہنے والے فوجی ، ہر وقت ملکہ اور بادشاہ کی حفاظت کرتے ہوئے کھا کھا کر موٹا ہو رہے ہیں ۔ جبکہ آس پاس کوئی دشمن ہی نہیں ، ہم کیوں اِن مقدس گائیوں کو پال رہے ہیں ۔ جبکہ خطرے کی صورت میں مزدوراندر سے بل کا منہ بند کر دیتے ہیں اور ہم رات ویرانے میں بھوکے رہ کر وقت گذارتی ہیں - 
ہماری اہمیت سب سے زیادہ ہے ۔ آؤ ہڑتال کریں ۔
یوں ہڑتال کرنے والی چیونٹیاں مر جاتی ہیں اور ہوا انہیں اُڑا کر کالونی سے دور پھینک دیتی ہے ۔
کیوں کہ قانونِ قدرت اٹل ہے ۔ یہ کہ
' اتحاد میں برکت ہے اور انتشار میں موت "




اتوار، 20 ستمبر، 2015

سچے جن سے بچنے کا طریقہ -

اِس کے لئے
خوب پردہ ہے کہ چلمن سے لگے بیٹھے ہیں ۔
صاف چھپتے بھی نہیں سامنے آتے بھی نہیں ۔
'
جیسی وڈیو کی فوٹو لگائی جاتی ہے ۔ تجسس اُس پر کلک کرنے کو مجبور کر دیتا ہے ۔ جس کے پیچھے ، برقعہ میں ملبوس " جِن " بیٹھا ہوتا ہے جو بڑا ، ظالم اور " ٹرو " جن ہوتا ہے -
صاحبانِ کشف و کرامات کی کوئی بات نہیں ۔
صاحب الرائے کی عزت سعادات گم جاتی ہے ۔
بچنے کا طریقہ :-
1- فیس بُک پر کسی ایسی وڈیو کو مت کھولیں ، جس کی ترغیب ابلیسی ہو ۔
- - - هَلْ أَدُلُّكَ - - - ﴿20/120٠﴾
پھر وَرَ‌قِ الْجَنَّةِ کے پیچے خود کو دوستوں سے چھپانے کی کوشش کریں گے ۔
2- نوجوانوں کے لئے اگر وہ غلطی سے ایسا کر لیں ۔ تو جونہہ وہ وڈیو نہیں کھلتی جو آپ کو بتائی جارہی ہے ۔ تو دوبارہ کلک کرنے کی غلطی نہ کریں ۔ کیوں کہ فیس بک پر دی گئی تصویر ، ناقابلِ شناخت ،پوشیدہ پراکسی ، میں براجمان "ٹروجن " سے گلے مل چکی ہے ۔ آپ جذبات میں آکر جوں ہی ہیں ، " ٹکا ٹک " کریں گے تو ۔

اب آپ خود کہہ رہے ہیں ، کہ"آ بیل مجھے مار "
اور بیل نے آپ کے" فیس بک " دوستوں کی لسٹ اپنے پاس منگوا لینی ہے ، اور بذریعہ آپ ہی کے بحساب مراتب سب کو مستفید کرنا اور گھیرنا شروع کر دینا ہے ۔

بچنے کا واحد اور زود اثر طریقہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

اپنے انٹر نیٹ کو فوراً بند کریں ۔ ونڈو ڈیفنڈر یا کوئی اینٹی وائرس پروگرام چلا کر ، ٹروجن کی دُم ڈھونڈیں ، اُسے ضائع کریں ۔
اگر آپ فیس بُک موزیلا سے کھولتے ہیں ، تو اب اُسے گوگل کروم پر کھویں اور فورا پاس ورڈ تبدیل کر دیں ۔

آپ کی بچت ہوجائے گی ۔
ھاں ، اِن بکس پر جو ایسے پیغامات آتے ہیں وہ فیس بُک کا پاس ورڈ کو اغواء کرنے کے لئے ہوتے ہیں ۔

اُن کے لئے بھی یہی ترکیب کریں ۔

ورنہ پھر نیا اکاونٹ بنانے کی تیاری کریں ۔

فیس بک اکاونٹ کو مغوّی بننے سے بچانے کے لئے ۔
1- اپنا موبائل نمبر ڈالیں -
2- اپنے اصلی نام سے ، دو ای میل اکاونٹ بنائیں ۔
ایک جی میل پر اور دوسرا یاہو(متبادل)  پر ۔
جی میل سے فیس بُک اکاونٹ بنانے سے پہلے گوگل اکاونٹ بھی اسی سے بنائیں ، جس سے گوگل کی تمام اپلیکیشنز اسی سے لنک کریں ۔ اور فیس بک اکاونٹ بنائیں ۔ اگر پہلے نہیں کیا تو اب کر لیں ۔

پاسورڈ کی تمام تبدیلی کی اطلاعات اپنے موبائل پر منگوائیں ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید پڑھیئے !

 

مہاجر زادے - کراچی کا المیہ !

آفس آئی آئی چندریگر روڈ کے پاس واقع ہے، کل شام آفس سے واپس گھر کو آرہا تھا، ڈالمیا کے پاس پولیس کا ناکہ لگا ہوا دیکھا، 4 سپاہی موٹر سائیکل سوار اور رکشہ والوں کی چیکنگ کر رہے تھے، مجھے بھی رکنے کا اشارہ ہوا، رکشہ سے اتر کر انہیں شناختی و دیگر پریس کارڈزچیک کرائے تو کہا کہ آپ جاسکتے ہیں، اتنے میں ایک فحش گالی اور ساتھ میں تھپڑ کی آواز آئی ، بے اختیار دیکھا تو یہ کارنامہ دوسرے سپاہی نے سرانجام دیا تھا اور ہدف تھا موٹر سائیکل پر سوارایک مدقوق صحت کا لڑکا ، اسکے ساتھ بائیک پر دوسرا ساتھی لگ بھگ 25 سال کا ہوگا۔

میں نے اس سپاہی سے پوچھا جس نے مجھے روکا تھا کہ کیا ماجرا ہے بولا ٹارگٹ کلرز ہیں ، ان ہی کی بابت اطلاع پر تو ناکہ لگایا تھا ہم نے، میں نے کہا کہ جب اتنی کنفرم اطلاع تھی کہ مذکورہ ٹارگٹ کلز بائیک سوار ہیں، پھر رکشےکیوں چیک کرتےپھر رہے ہوں، اسنے جواب دئے بنا ہی دوسرے سپاہی کو سندھی میں کچھ کہا، جس کے بعد انہوں نے لڑکوں کو گاڑی میں ڈال دیا اور ایک سپاہی ان لڑکوں کے بائیک پر بیٹھ گیا، اس وقت تک میری صحافیانہ حس مکمل طور پر بیدار ہوچکی تھی۔ میں نے گاڑی میں لڑکوں ساتھ بیٹھے اس سپاہی کو جس نے ایک لڑکے کو تھپڑ مارا تھا سے پوچھا کہ آپ بتانا پسندکرینگے کہ آپکو مخبری کیسے ہوئی اور کیسے کنفرم ہے کہ یہ وہی لڑکے ہیں جس کی آپ کو تلاش ہے۔ سپاہی نے سر سے پاوں تک مجھے گھور کر دیکھا جیسے کتا ہڈی کو دیکھتا ہے (اس مثال میں ہڈی مجھے سمجھیں) اور طنزیہ انداز میں بولا تو بھی انکے ساتھ ہی آجا، میری تو سلگ گئی جواب دیا، اگر آپ یہاں بتادیں تو کیا حرج ، تھانے لے جاکر کونسا مجھے رشتہ دیدینا آپ لوگوں نے۔
میرے اس جملے نے جیسے اسکی ہزاروں سال سوئی ہوئی غیرت کو جگا دیا ، اسی اثنا میں فون آگیا، بات سے اندازہ ہوا کہ فون پر کوئی سینیر پولیس اہلکار سے بات ہورہی تھی، اسے بتایا کہ لڑکے مل گئے ہیں، انہیں لے کر آرہے ہیں ، پھر میری طرف دیکھ کر بولا ، ساتھ میں ایک الو کا پٹھا اور بھی ہے جو کہتا ہے کہ تھانے لے جاکر کونسی بہن کا رشتہ دوگے۔ (اب میں نے صرف رشتہ کی بات کی تھی، بہن سے شادی کرانے کا اسنے خود ہی سوچ لیا تھا) خیر آگے سے جو بھی جواب ملا اسکے بعد مجھے بھی اسی طرح موبائیل وین میں اچک لیا گیا جس طرح نکاح کے بعد مٹھائی کے ٹوکرے سے گلاب جامن کو اٹھایا جاتاہے۔
میری سوچ یہی تھی کہ تھانے جاکر جو بھی ڈیوٹی انچارج ہوگا اس کو اپنا تعارف کرا کر استفسار کرونگا کہ یہ کس قسم کی غنڈہ گردی اور لاقانوننیت ہے۔ گاڑی میں لڑکوں سے بھی پوچھا کہ کیا کرتےہو وہ بولا کہ میں موٹر بائیک مکینگ ہوں، ایک ہنڈا سروس شاپ پر ملازمت کرتا ہوں اور یہ میرا سالا ہے جو رنگ سازی کا کام کرتا ہے۔
خیر تھانے پہنچتے ہی سائیڈ پر ایک کمرے میں پیش کیا گیا جہاں پر ایک خرانٹ صورت اے ایس آئی موجود تھا ، اس سے قبل کہ میں اسے اپنا تعارف کراتا اسنے سپاہی سے پوچھا کہ بہن کا رشتہ والی بات کس نے کی تھی، سپاہی نے میری طرف اشارہ کیا ، قبل ازیں میں کچھ کہتا، زناٹے دار تھپڑ میرے گال پر ، چونکہ میں اس کی توقع نہیں کر رہا تھا اسلئے نیچے لڑکھڑا کرگرا، اسکے بعد لاتوں اور ٹھڈوں سے میری خاطرتواضع شروع ہوگئی، مار کھاتے ہوئے دو باتوں کا احساس ہوا کہ ایک جب میں انساپی چوزوں کی دھلائی کرتا ہوں وہ خود کو کتنا بے بس محسوس کرتے ہونگے دوسرا اگر بندہ مجھ جیسا ڈھیٹ ہو تو اس موقع پر بھی حس مزاح قائم رکھی جاسکتی ہے۔ ( میں ان سے کہنا چاہ رہا تھا کہ سوکھے سوکھےمت مارو ساتھ میں کوئی چٹنی سلاد بھی دو لیکن لاتوں کی برسات اسقدر تیز تھی کہ جملہ منہ میں ہی رہا)
2 منٹ کے دھلائ پروگرام کے بعد اے ایس آئی صاحب جاکر اپنی نشست پر براجمان ہوگئے۔ اور دوسرے لڑکوں کی جیبوں سے تلاشی کردہ سامان کے معائنہ میں محو ہوگئے۔ میں نے اپنے حواس مجتمع کئے
اور جاکر اے ایس آئی کے سامنے جاکر بیٹھ گیا، اس سے قبل کہ وہ کچھ کہتا ، میں نے ایک ناقابل تحریر گالی دیتے ہوئے سے کہا کہ جو تم نے کرنا تھا وہ تو کرلیا لیکن اب سنو اپنے بہنوئی کا تعارف۔ اسکے بعد میں نے اپنا بٹوہ کھولا اور اس میں سے ایک ایک کرکے اخبار دفتر، نیشنل پریس کلب، پاکستان فیڈریشن یونین آف جرنلسٹس، کرائم اینڈ کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن اور سپریم کورٹ رپورٹرز ایسوسی ایشن کی ممبرشپ کے کارڈز اسکے سامنے ڈھیر کردئے ، یہ جان کر کہ جس کی ٹھکائی کی یہ تو مستند صحافی ہے، اسکا چہرہ پل بھر کو متغیر ہوگیا پھر بولا کہ آپ صحافی ہیں تو اسکا مطلب یہ ہے کہ آپ قانون کو ہاتھ میں لینگے اور پولیس والوں کو گالیاں دینگے، میں نے کہا اپنے اس چول سپاہی سے قسم دے کر پوچھو بات رشتے کی کہی تھی ، بہن تو خود اسنے ڈال دی بہر کیف جو ہونا تھا ہوگیا، اب تم اپنا زورلگاو میں اپنا زور لگاتا ہوں دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
اسکے بعد فلمی انداز میں دونوں جانب سے ڈائیلاگز کا سلسلہ شروع ہوا جس کے انجام پر اسنے سیٹ چھوڑی اور باہر جاکر ایس ایچ او کو فون لگالیا۔ بتایا گیا کہ ایس ایچ او صاحب آنے والے ہیں آپکا مسئلہ انکے پاس لے کر جائینگے، میں نے فون کرنا چاہا تو فون سپاہی نے لے لیا کہ جب تک ایس ایچ او صاحب نہیں آجاتے فون کی اجازت نہیں ہے۔
ایک گھنٹے بعد سپاہی آیا اور بولا کہ آپ کے کارڈز ایس ایچ او صاحب نے ویریفائی کرلئے ہیں لیکن وہ سب اسلام آباد کے ہیں اگر آپ کوئی توپ شے ہیں تو اسکا یہ مطلب نہیں کہ آپ کارسرکار میں مداخلت کریں باوردی پولیس والوں سے گالم گلوچ اور ہاتھا پائی کریں۔اسلئے آپ پر مقدمہ درج ہوگا۔ میں نے کہا جو کرنا ہے کرو جو اکھاڑنا ہے اکھاڑو لیکن مجھے ایک فون کرنے دو جو میرا قانونی حق ہے، سپاہی بولا ایس ایچ او صاحب چلے گئے ہیں ، ڈیوٹی آفیسر کھانا کھانے گئے ہیں واپس آتے ہیں تو ان سے بات کرنا۔اسکے بعد مجھے تفتیشی کمرے سے حوالات میں شفٹ کردیا گیا۔میں سمجھ گیا اب صرف مجھے دباو میں لانا چاہ رہے ہیں کہ میں یہاں سے جاکر مسئلہ نہ بناوں۔

لاک اپ میں وہ دونوں لڑکےجن کی وجہ سے یہ سارا مسئلہ بنا بھی موجود تھے میں نے پوچھا یار سچی میں کرمنل ہوں تو بتادو خوامخواہ میں میری دھلائی بھی ہوگئی ، وہ رونے لگے کہ قسم لے لیں جو ہم نے کبھی مکھی بھی ماری ہو باقی ان پولیس والوں کی آپس میں سندھی میں بات چیت سے پتا چلا کہ دو ٹارگٹ کلرز مانگے ہیں کسی صاحب نے تھانے کی پراگرس شو کرنی ہے اسی چکر میں ہمیں اٹھاکر لائے ہیں۔ جو تفصیلات انہوں نے بتائی تو سمجھ آیا کہ ان لڑکوں کو مار پیٹ کر ان سے ناکردہ جرائم کا اعتراف کراکر اپنی نوکری پکی کرنے کا پلان ہے۔
رات کو بارہ بجے دوبارہ طلبی ہوئی، اے ایس آئی کمرے میں سیگریٹ سلگا کر بیٹھا ہوا تھا اور چہرے پر نرمی تھی، کہنے لگا سر معذرت دلی معذرت جو بھی ہوا غلط فہمی کی بنیاد پر ہوا،باقی ایس ایچ او صاحب نائٹ گشت پر گئے ہیں فون لگارہا ہوں اٹینڈ نہیں ہورہا جسیے ہی ان سے بات ہوتی آپکو چھوڑ دینگے۔ ہم آپ پر کوئی مقدمہ درج نہیں کر رہے، آپکے لئے کھانا منگوایا ہے کھانا کھالیں، میں نے جواب دیا کھانا تو میں نے لاتوں اور ٹھڈوں کی شکل میں کھلادیا باقی جو کرنا ہے کرو۔ اے ایس آئی نے دوبارہ معذرت کی اور فون اور بٹوہ کارڈز میرے سامنے رکھ دئے۔ میں نے فون آن کیا اور تین چار کالز گھمائی۔ اسکے بعد میں نے اسے کہا چلو اب مجھے دوبارہ لاک اپ میں ڈالدو۔ اسنے کہا نہیں سائیں آپ ادھر ہی بیٹھے جیسے ایس ایچ او صاحب آتے ہیں انکے ساتھ ایک کپ چائے پی کر غلط فہمیاں دور کرکے آپ جہاں کہنگے ہم چھوڑدینگے۔
قصہ المختصر میرے میڈیا کے دوست بھی آگئے، ایس ایچ او بھی نمودار ہوا، متعلقہ ڈی ایس پی کی جانب سے فون پر عاجزانہ معافی اور درگذر کی درخواست کے بعد جرگہ سمٹا اور صبح پانچ بجے تھانے سے باہر نکلے، پتا چلا لڑکوں کو صبح میجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے جسمانی ریمانڈ لیا جائیگا پھر تفتیش ہوگی۔

دوستوں کے ساتھ باہر آکر ایک ہوٹل میں بھرپور ناشتہ کیا اور آئندہ کا لائحہ عمل پر تبادلہ خیال بھی، 8 بجے کے قریب واپس گھر پاس پہنچا تو اچانک ان دو لڑکوں کے چہرے دماغ پر ابھرے، اور چند دن قبل ایم کیو ایم کے مبینہ ٹارگٹ کلرز کی لاشوں کی تصاویر بھی یاد آگئی کیسے انکے جسم تشدد سے چھلنی تھے اور انگلیوں کے ناخن تک زنبور سے اکھاڑے گئے تھے، دوست کو کہا چلو کچہری چلو، کچہری پہنچ کر مطلب کا سستا سا وکیل تلاش کیا، اسکے منشی اور نائب منشی کی ڈیوٹی لگائی، کہ متعلقہ تھانے کے میجسٹریٹ میں جب پولیس جب لڑکوں کوجسمانی ریمانڈ کے لئے پیش کریں تو ہمیں بتادینا۔ پھر وکیل سے گپ شپ چائے کےدور ، ساڑھے گیارہ بجے نائب منشی کا فون آگیا کہ پولیس ان لڑکوں کو لے آئی ہے کورٹ میں، ہم فورا پہنچ گئے، جیسے ہی جسمانی ریمانڈ کے لئے درخواست اے ایس آئی نے آگے کی ساتھ ہی ہمارے وکیل نے شور ڈال دیا ، جج کو ساری بات بتائی تصدیق کے لئے میری طرف اشارہ کیا ، اور میرے صحافتی کارڈز پیش کئے، جج صاحب ذہین آدمی تھے پولیس کا کھیل بھانپ گئے، اے ایس آئی کی جماکر کلاس لی اور جسمانی ریمانڈ کی درخواست منسوخ کرکے لڑکوں کو جیوڈیشل کرنے کا آرڈر دے دیا۔ وکیل سے کہا کہ لڑکے جیل بجھوارہا ہوں آپ انکی ضمانت کے لئے درخواست فائل کردیں۔
باہر آکر اے ایس آئی نے مجھے قہر آلود نگاہوں سے گھورا اور بولا سائیں ہمارا خیال تھا کہ بات رات کو ختم ہوگئی تھی۔ میں نے کہا بات مری حد تک ختم ہوئی تھی، باقی اب گھوڑا بھی حاضر اور میدان بھی، آج آفس میں جاکر کرائم رپورٹنگ جوائن کر رہا ہوں۔ ایس ایچ او سے کہنا کہ روزانہ ملاقات ہوگی، فی الحال تو کل رات کو جو میرے ساتھ ہوا وہ کسی اور شریف کے ساتھ نہ ہو ، اسی لئے آئی جی آفس میں تم لوگوں کے خلاف درخواست گزار کر رہا ہوں۔ اپنا زور لگاو اور مجھے بتاو کہ صرف کسی کو گرا کر ٹھڈے مارنے میں ہی شیر ہوں یا کوئی اثر رسوخ بھی ہے تم لوگوں کا۔
تو یہ تھی کراچی میں میری پہلی عزت افزائی کی روداد، لڑکے جیل چلے گئے ہیں لیکن وکیل کے مطابق جسمانی ریمانڈ کی منسوخی کے بعد پہلی ہی پیشی میں انکی درخواست ضمانت منظور ہوجانی ہے۔
سہ پہر چار بجے گھر واپس لوٹا، بستر پر گرا تو خیال آیا کہ اگر دو درجن گالیوں ، چار درجن لاتوں اور ٹھڈوں کے بدلے میں دو بے گناہ لڑکوں کی جاں خلاصی ہوجاتی ہے ۔

تو ناٹ بیڈ۔

کیا خیال ہے دوستو؟

( ابوعلیحہ - کرائم رپورٹر )

جمعرات، 17 ستمبر، 2015

ابلیس کا اعتراف

ابلیس کا اعتراف
(سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں)

تو نے جس وقت یہ انسان بنایا یا رب
اُس گھڑی مجھ کو تو اِک آنکھ نہ بھایا یا رب

اس لیے میں نے، سر اپنا نہ جھکایا یا رب
لیکن اب پلٹی ہےکچھ ایسی ہی کایا یا رب

عقل مندی ہے اسی میں کہ میں توبہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

ابتداً تھی بہت نرم طبیعت اس کی
قلب و جاں پاک تھے ،شفاف تھی طینت اس کی

پھر بتدریج بدلنے لگی خصلت اس کی
اب تو خود مجھ پہ مسلط ہے شرارت اس کی

اس سے پہلے کہ میں اپنا ہی تماشا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

بھر دیا تُو نے بھلا کون سا فتنہ اس میں
پکتا رہتا ہے ہمیشہ کوئی لاوا اس میں

اِک اِک سانس ہے اب صورتِ شعلہ اس میں
آگ موجود تھی کیا مجھ سے زیادہ اس میں

اپنا آتش کدۂ ذات ہی ٹھنڈا کر لوں !
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں !

اب تو یہ خون کے بھی رشتوں سے اکڑ جاتا ہے ،
باپ سے ، بھائی سے، بیٹے سےبھی لڑ جاتا ہے

جب کبھی طیش میں ہتھے سے اکڑ جاتا ہے
خود مِرے شر کا توازن بھی بِگڑ جاتا ہے

اب تو لازم ہے کہ میں خود کو سیدھا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

میری نظروں میں تو بس مٹی کا مادھو تھا بَشر
میں سمجھتا تھا اسے خود سے بہت ہی کمتر

مجھ پہ پہلے نہ کھُلے اس کے سیاسی جوہر
کان میرے بھی کُترتا ہے یہ قائد بن کر

شیطانیت چھوڑ کے میں بھی یہی دھندا کر لُوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

کچھ جِھجکتا ہے ، نہ ڈرتا ہے ،نہ شرماتا ہے
نِت نئی فتنہ گری روز ہی دکھلاتا ہے

اب یہ ظالم ، میرے بہکاوے میں کب آتا ہے
میں بُرا سوچتا رہتا ہوں ، یہ کر جاتا ہے

کیا ابھی اس کی مُریدی کا ارادہ کر لوں!
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

اب جگہ کوئی نہیں میرے لیے دھرتی پر
مِرے شر سے بھی سِوا ہے یہاں انسان کا شر

اب تو لگتا ہے یہی فیصلہ مُجھ کو بہتر
اس سے پہلے کہ پہنچ جائے واں سوپر پاور

میں کسی اور ہی سیّارہ پر قبضہ کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

ظُلم کے دام بچھائے ہیں نرالے اس نے
نِت نئے پیچ مذاہب میں ڈالے اِس نے

کر دیئے قید اندھیروں میں اجالے اس نے
کام جتنے تھے مِرے ، سارے سنبھالے اس نے

اب تو میں خود کو ہر اِک بوجھ سے ہلکا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

استقامت تھی کبھی اس کی ، مصیبت مجھ کو
اپنے ڈھب پر اسےلانا تھا ، قیامت مجھ کو

کرنی پڑتی تھی بہت ، اس پہ مشقت مجھ کو
اب یہ عالم ہے کہ دن رات ، ہے فرصت مجھ کو

اب کہیں گوشۂ نشینی میں گزارا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں!

مَست تھا میں تِرے آدم کی حقارت کرکے
خود پہ نازاں تھا بہت تجھ سے بغاوت کرکے

کیا مِلا مُجھ کو مگر ایسی حماقت کرکے
کیا یہ ممکن ہے کہ پھر تیری اطاعت کرکے

اپنے کھُوئے ہوئے رُتبہ کی تمنا کر لوں
سوچتا ہوں کہ اب انسان کو سجدہ کر لوں.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

مزدوری- پارٹ ٹو


دہشت گردی کے بعد لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا - بارود کی بو سے فضا میں اضافہ ہورہا تھا - چاروں طرف خود غرضی کی آگ بھڑکنے لگی تھی -
ایک آدمی چائنا کے موبائل کا اسپیکر کھول کر گانا سنتا ہوا جارہا تھا -
" بڑا دشمن بنا پھرتا ہے جو بچوں سے لڑتا ہے "

ایک چھوٹی عمر کا لڑکا کندھے پر کتابوں کا بوجھ اٹھائے بھاگا چلا جارہا تھا - ٹھوکر لگی تو ایک کتاب اسکے کندھے سے گر پڑی-
بازار میں دھڑآم سے ایک عمارت گری - ایک شخص نے جلدی سے آگے بڑھ کر اپنے بیلچے سے لاشیں ہٹانا شروع کردی - تاکہ لاش کے نیچے سے قمیتی سامان نکال کر لی جائے-
لوگ جمع ہوگئے اور سامان پر ہاتھ صاف کرنے لگے،
زیور سے جوتی تک سب لوٹا جارہا تھا -
ایک آدمی کرتے کے بغیر تھا اس نے ملبے میں دبی ایک لاش کی قمیض شلوار اتار کر پہن لی اپنے تہبند میں ٹی وی لپیٹ کر کندھے پر رکھا چلتا بنا -
ہٹ جاؤ ----- ہٹ جاؤ "
ایک مولوی کا ٹرک نئے سلے ہوئے برقعے سے لدا ہوا گزر گیا -
آٹھویں منزل میں آگ بھڑک اٹھی - آفس کی کھڑکی میں سے اویس بیگ، گھبراتا ہوا کھڑکی سے باہر نکلا اور جان بچانے کے لئے چھجے سے لٹک گیا -
ہجوم نے اپنے اپنے موبائل نکل کر ویڈیو بنا شروع کردی - کھڑکی سے نکلنے والی شعلے کی زبان نے ہلکا سا اسے چاٹا ، اُس کے ھاتھ چھوٹ گئے ---
لہراتا ہوا، سڑک تک پہنچا اور دم توڑدیا -

پوں پوں --- پوں پوں-
ڈانسنگ کار کے ہارن کی آواز کے ساتھ دو لڑکیوں کی چیخ بھی گونج رہی تھی -
ایک شادی شدہ جوڑے کو گندے نالے کے نیچے سے، انسانوں کے ھجوم نےکھینچ کر باہر نکالا اور لاٹھیوں کی مدد سے ہانکتے ہوئے اینٹوں کے بھٹے پر لے جاکر زندہ جلا دیا -

کچھ لوگوں نے گوالوں سے دودھ کے ڈرم چھین کر نہر میں پھینک دیئے-
بلند آواز آئی -" آو آو ٹھنڈی ٹھنڈی بوتلیں پیو --
گرمی کا موسم ہے - "

گاڑیوں کے شیشے توڑتا گُلو بٹ رُک کر بوتلیں پینے لگا -

گلے میں لڑکیوں کی شلواریں ڈالے ہوے آدمی نے دو بوتلیں لی اور پسٹل دکھاتا ہوا چل دیا -

ایک آواز آئی -" کوئی آگ بھجانے والوں کو فون کردے ، کوئی ون ون ٹو ٹو ، ون فائیو کو اطلاع دے دے ---
ورنہ سارا مال لٹ جائےگا -"
کسی نے اس مفید مشورے کی جانب توجہ نہیں دی -
آواز دینے والا پھر خود بھی لوٹ میں مصروف ہوگیا، کیوں کہ لوٹ مچی ہوئی تھی ، اُس نے سوچا کیوں نہ وہ بھی فائدہ اُٹھائے- چاربہترین زنانہ کپڑے کے تھان اُس کے ھاتھ میں آئے ۔ وہ  لے کر چند قدم چلا ہی تھا ۔ کہ دو ہٹے کٹے آدمیوں نے اُس سے تھان چھیننے کی کوشش کی ، وہ تین تھان پھینک کر ایک تھان دونوں ھاتھوں میں دبا کر تیزی سے دوڑا۔

لوٹ کھسوٹ کا بازار گرم تھا ، لوگ یہاں سے پیسہ لوٹ کر دوسری جگہ رکھ آتے اور پھر لوٹنے میں مصروف ہوجاتے - خود غرضی کی چاروں طرف بھڑکنے والی آگ میں بدستور اضافہ ہورہا تھا-

وہاں موجود پولیس کے سپاہیوں کو اچانک ہوش آیا - بہت دیر بعد ہوائی فائرنگ کی آواز فضا میں سنائی دینے لگی -
صف بندی ہوئی ،
پولیس اور لٹیروں میں مقبلہ شروع ہوگیا -
آمنے سامنے ایک دوسرے کو گالیاں دینے لگے،
 پولیس آنسو گیس استمال کرتی تو ہجوم پتھراؤ کرتا یا پھر آنسو گیس اٹھا کر پھر دوبارہ پولیس کی جانب اچھال دیتا -

آخر رینجرز نے علاقے کا کنٹرول سنبھال لیا اور جو ہجوم پولیس سے لڑرہا تھا اب رینجرز زندہ باد کے فلک شگاف نعرے لگاتا ہوا گلیوں میں کہیں غائب ہوگیا - کرفیو کا سا سماں تھا - پولیس کو راستے خالی نظر آنے لگے -
لیکن دور ، جلتے ہوئے ہر مال دس دس روپے کے ٹھیلوں کے پاس
پھیلے ہوئے دھوئیں میں موڑ کے پاس ایک آدمی کا سایہ دکھائی دیا - پولیس گاڑی، سائرن بجاتے ہوئے اس طرف لپکی -
سایہ تیزی سے دھوئیں کے اندر گھس گیا - پولیس کی سپاہی موڑ کے پاس گاڑی سے کود کر اترے اور اس کے تعاقب میں گئے-
دھوئیں کا علاقه ختم ہوا تو پولیس کے سپاہیوں نے دیکھا کہ ایک مزدور پیٹھ پر پاکستان کا جھنڈا اٹھائے بھاگا چلا جارہا ہے -
گالیاں دینے سے گلے خشک ہوگیے تھے مگر وہ مزدور نہ رکا -
اس کی پیٹھ پر وزن تھا -
معمولی وژن نہیں ایک ملک کی عزت تھی ، شان تھی کروڑوں لوگوں کی امید تھی لیکن وہ یوں دوڑ رہا تھا جیسے پیٹھ پر کچھ ہے ہی نہیں -
سپاہی ہانپنے لگے - ایک نے تنگ آکر پرائیویٹ پستول نکالا اور فائر کردیا - گولی مزدور کی پنڈلی میں لگی - پرچم اسکی پیٹھ سے گر پڑا - گھبرا کر اس نے اپنے پیچھے آہستہ آہستہ بھاگتے ہوئے سپاہیوں کو دیکھا - پنڈلی سے بہتے ہوئے خون کی طرف بھی اس نے دیکھا -
لیکن ایک ہی جھٹکے سے پاکستانی پرچم اٹھایا اور پیٹھ پر ڈال کر پھر بھاگنے لگا -
سپاہیوں نے سوچا " جانے دو ، جھنم میں جائے "-
ایک دم لنگڑاتا لنگڑاتا مزدور لڑکھڑا یا اور گر پڑا - جھنڈا اس پر کفن بن گیا ۔
سپاہیوں نے اسے پکڑ لیا اور جھنڈے سمیت گاڑی کے پاس لے آئے-
راستے میں مارتے اور پوچھتے رہے ، کیا لے کر بھاگ رہا تھا ، مال کہاں چھپایا ؟
پاکستان کے پرچم جلانا چاہتا تھا ؟
مزدور بار بار کہتا -" مجھے کیوں پکڑتے ہو ، میں تو ایک غریب مزدور ہوں ، ہجوم سے پرچم کو بچانا چاہتا تھا ، آپ نے ناحق مجھے گولی ماری - لیکن اُس کی ایک نہ سنی گئی - بلکہ پولیس والے مزدور کو ماں بہن کی ننگی ننگی گالیاں دیتے رہے..

تھانے میں بھی مزدور نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا ..
"سر میں بہت غریب انسان ہوں ،
اردو انگلش میں ماسٹر کیا ہوا ہے
نوکری نہیں ملی تو مزدوری شروع کردی
اور آج جب ہجوم ملک کو لوٹ رہا تھا ،
ریاستی اداروں کو آگ لگا رہا تھا ،
شہریوں کے املاک نقصان پہنچا رہا تھا
تب میں ایک پاکستانی، پرچم کو بچاتے ہوے کئی بار مرتے مرتے بچا
اور پھر آپ نے مجھے پکڑ لیا - 

آپ لوگ تو ہماری اور ملک کی حفاظت کرنے کے لئے تنخواہ لیتے ہیں ،
لیکن ہم جیسے غریب مزدور ملک کی حفاظت اپنے ایمان کی طرح کرتے ہیں
اپنے بچوں سے زیادہ ملک سے پیار کرتے ہیں اور ۔ ۔  ۔
ہمیں کوئی مزدوری بھی نہیں چاہیے -
آپ سیکورٹی والے جیسے چاہیں ملک چلائیں -
بس مجھے جانے دیں میری ماں اور بہنیں میرا انتظار کررہی ہیں ان کا میرے علاوہ کوئی نہیں ہے -

انسپکٹر ، کوئی نہیں ہے ! کا لفظ سن کر -
سپاہی سے کہتا ہے یہ پڑھا لکھا مزدور بہت باتیں کررہا ہے ذرہ اسکا پرچہ تو کاٹو - لکھو
" ملزم نامور وکیل ، ڈاکٹر ، صحافی کے قتل کے علاوہ بھی متعدد مقدمات میں مطلوب تھا ، ایک دہشت گرد تعظیم کے لئے کام کرتا ہے - دھماکہ میں سہولت کار کا کردار ادا کرتا رہا ہے ، ملزم کے قبضے سے مختلف اقسام کا اسلحہ بھی برآمد ہوا ہے -
میڈیا کو بلا کر اسے پیش کردو - ساری زندگی لگ جائےگی خود کو پھر بے گناہ ثابت کرنے میں - مزدوری کرنے کے بھی قابل بھی نہیں رہیگا "

( عبدالقادر غوری )

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 16 ستمبر، 2015

پہلے آؤ پہلے پاؤ !

رمضان المبارک میں لکھی ایک تحریر جو سال کے 365 دن ہی قابل عمل ہے..  ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔اور نامۂِ اعمال رکھا جائے گا تو تم مجرموں کو دیکھو گے کہ اس کے لکھے سے ڈرتے ہوں گے اور کہیں گے ہائے خرابی ہماری اس نوشتہ کو کیا ہوا نہ اس نے کوئی چھوٹا گناہ چھوڑا نہ بڑا جسے گھیر نہ لیا ہو اور اپنا سب کیا انہوں نے سامنے پایا اور تمہارا رب کسی پر ظلم نہیں کرتا.....
کبھی بہت حیرت ہوتی تھی کہ ہم اتنے اہم کہاں کہ ہمارا کیا ہر چھوٹا بڑا عمل قید تحریر کیا جائے لیکن یہ الجھن فیس بک کے ایکٹیویٹی لاگ نے حل کر دی ..
جہاں ہر چیز کا حساب درج ہے ..
کس پوسٹ کو کتنے بج کر کتنے منٹ پر لائیک کیا اور کہاں کمنٹ کیا ...
کون سی تصویر شیئر کی اور کون سی پوسٹ اَپ لوڈ کی ..
کونسی وال چپکے سے وزٹ کر لی ..
اگر انسان کا بنایا سسٹم یہ سب کر سکتا ہے تو رب عظیم کا سسٹم کتنا فول پروف ہو گا ..
انسانی سسٹم میں تو ڈیلیٹ اور ایڈٹ کا آپشن ہے لیکن کیا اللہ ذوالجلال کی کتاب میں بھی ایسا کوئی آپشن ہے یا نہیں ..
سوچیں ..
دماغ پر زرا زور دیں ..
جی ہاں بالکل درست ..
ایڈٹ اور ڈیلیٹ کا بٹن ہے ..

''توبہ طلبی ''..
خلوص دل سے کی جانے والی توبہ ہمارے گناہوں کو مٹا دیتی ہے ..
اور خلوص نیت سے کیے جانے والے نیک کام ہمارے اعمال کے ایکٹیوٹی لاگ کو ایڈٹ کر دیتے ہیں ..
گویا بازی ابھی تک مات نہیں ہوئی ..
جب تک سانس باقی ہے اس کتاب کے مندرجات تبدیل کروانے کا چانس بھی باقی ہے ..
سو دیر نا کریں ..
کیا جانے کب کہاں یہ چلتی گاڑی کا انجن جام ہو جائے .. ..
ایک اور مزیدار آفر ہے ..
رمضان کا آخری عشرہ آ گیا ہے ..
توبہ کی سیل لگی ہوئی ہے ..
پہلے آؤ پہلے پاؤ ..
اگر گناہ کم ہوئے اور توبہ زیادہ تو اس پر بھی ایک سکیم ہے نا صاحبان قدر دان ..
آپ کی توبہ کے عوض نیکیاں ملیں گی ..
واہ واہ ..
تو صاحبو جاتے کدھر ہو ..

( رعنائی ءِ خیال )

درد،بھوک اور فاقے

مارچ 1993 میں کیون کارٹر نے یہ تصویر کھینچی اس تصویر نے انعام بھی جیتا تھا۔۔

یہ تصویر سوڈان میں لی گئی جب وہاں خوراک کا قحط تھا اور اقوام متحدہ کے تحت وہاں وہاں خوراک کے مراکز قائم کیے گئے تھے۔
فوٹو گرافر کیون کارٹر کے مطابق وہ ان خوراک کے مراکز کی فوٹو گرافی کرنے جا رہا تھا جب راستے میں اس لڑکے کو دیکھا جو کہ انہی مراکز کی جانب جانے کی کوشش میں تھا لیکن بھوک کمزوری فاقوں کی وجہ سے اس کا یہ حال تھا کہ اس سے ایک قدم اٹھانا دوبھر تھا
آخر یہ لڑکا تھک ہار کر گر گیا اور زمین سے سر لگا دیا۔۔
تصویر میں دیکھیں پیچھے ایک گدھ موجود ہے جو کہ اس انتظار میں ہے کب یہ لڑکا مرے کب میں اسے کھاوں
بس اسی منظر نے اس تصویر کی تاریخ کو آنسووں سے بھر دیا
کیون کارٹر نے یہ تصویر نیو یارک ٹائمز کو بیچی اور نیویارک ٹائمز کے مطابق جب انھوں نے یہ تصویر شائع کی تو ایک دن میں ان سے ہزاروں لوگوں نے رابطہ کیا اور اس لڑکے کا انجام جاننا چاہا کہ کیایہ بچ گیا تھا؟

لیکن نیو یارک ٹائمز والے خود اس کے انجام سے بے خبر تھے
بات یہیں ختم نہیں ہوتی-

فوٹوگرافر کیون کارٹر جس نے یہ سارا منظر کیمرے میں قید کیا وہ اس تصویر کے بعد اکثر اداس رہنے لگا اور ڈپریشن کا مریض بن گیا آخر اس میں موجود منظر نے اس فوٹو گرافر کو اپنی جان لینے پر مجبور کر دیا
کیون نے تینتیس سال کی عمر میں خود کشی کر لی اس کی خود کشی کا طریقہ بھی بہت عجیب تھا-
وہ اپنے گھر کے پاس والے اس میدان میں گیا جہاں وہ بچپن میں کھیلتا تھا اس نے اپنے کار کے سائلنسرمیں ایک ٹیوب فکس کی اور اس ٹیوب کو ڈرائیورنگ سیٹ والی کھڑکی سے کار کے اندر لے آیا تمام کھڑکیاں تمام دروزے لاک کر دیے اور گاڑی اسٹارٹ کر دی۔۔گاڑی میں سائلنسر سے نکلتا ہوا دھواں بھرنا شروع ہوا دھویں میں کاربن مونو آکسائیڈ ہوتی ہے جو کہ جان لیوا ہوتی ہے اسی کاربن مونو آکسائیڈ نے کیون کی جان لے لی
اس نے جو تحریر چھوڑی اس کا ایک حصہ یہ بھی تھا

" درد،بھوک اور فاقوں سے مرتے بچوں کی لاشوں کا مجھ پر سایہ ہے."


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 Born into all-white community in the South African city of Pretoria, Kevin Carter was said to have had a strong social conscience from a young age. As a child he questioned how his “liberal” family could be “lackadaisical” about fighting apartheid; while serving out his conscription in the air force division of the South African Defence Force (a military organization which was often used to enforce apartheid policies) he would be severely beaten for defending a black waiter who was being insulted by other servicemen۔
Kevin Carter was an award-winning South African photojournalist best known for his Pulitzer Prize winning photograph of a starving child being coolly eyed by a vulture during the Sudanese famine in 1993 ۔


Born into all-white community in the South African city of Pretoria, Kevin Carter was said to have had a strong social conscience from a young age. As a child he questioned how his “liberal” family could be “lackadaisical” about fighting apartheid; while serving out his conscription in the air force division of the South African Defence Force (a military organization which was often used to enforce apartheid policies) he would be severely beaten for defending a black waiter who was being insulted by other servicemen. - See more at: http://www.roads.co/S=0/roads-blog/documentary-the-death-of-kevin-carter-by-dan-krauss/#sthash.Gn5d1Y4o.dpuf
Born into all-white community in the South African city of Pretoria, Kevin Carter was said to have had a strong social conscience from a young age. As a child he questioned how his “liberal” family could be “lackadaisical” about fighting apartheid; while serving out his conscription in the air force division of the South African Defence Force (a military organization which was often used to enforce apartheid policies) he would be severely beaten for defending a black waiter who was being insulted by other servicemen. - See more at: http://www.roads.co/S=0/roads-blog/documentary-the-death-of-kevin-carter-by-dan-krauss/#sthash.Gn5d1Y4o.dpuf
Born into all-white community in the South African city of Pretoria, Kevin Carter was said to have had a strong social conscience from a young age. As a child he questioned how his “liberal” family could be “lackadaisical” about fighting apartheid; while serving out his conscription in the air force division of the South African Defence Force (a military organization which was often used to enforce apartheid policies) he would be severely beaten for defending a black waiter who was being insulted by other servicemen. - See more at: http://www.roads.co/S=0/roads-blog/documentary-the-death-of-kevin-carter-by-dan-krauss/#sthash.Gn5d1Y4o.dpuf
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
Born into all-white community in the South African city of Pretoria, Kevin Carter was said to have had a strong social conscience from a young age. As a child he questioned how his “liberal” family could be “lackadaisical” about fighting apartheid; while serving out his conscription in the air force division of the South African Defence Force (a military organization which was often used to enforce apartheid policies) he would be severely beaten for defending a black waiter who was being insulted by other servicemen. - See more at: http://www.roads.co/S=0/roads-blog/documentary-the-death-of-kevin-carter-by-dan-krauss/#sthash.Gn5d1Y4o.dpuf



 کیا پاکستان سے درد ، بھوک اور فاقے ختم ہو گئے ہیں ؟









سوموار، 14 ستمبر، 2015

قربانی حقیقت - رفیق سینائی

جانورں کی قربانی کے بارے میں جناب رفیق سینائی صاحب کی مختصر اور انتہائ معلوماتی و تحقیقی تحریر-

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿22/33 اور پھر ان کو بیت العتیق کے پاس ذبح کرو-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
حج کا مقصد ۔۔۔۔۔۔۔
جَعَلَ اللَّـهُ الْكَعْبَةَ الْبَيْتَ الْحَرَ‌امَ قِيَامًا لِّلنَّاسِ ----  ﴿5/97
کعبہ کوہم نے واجب الحترام بنایا ہے تاکہ انسانیت کا قیام ہو ( انسانیت اپنے پیروں پر کھڑی ہو جائے )

جب یہاں لوگ جمع ہوں تو کھانے پینے کے انتظام کے متعلق بتایا کہ جتنے دن یہاں قیام ہو کھانے پینے کا انتظام خود کرنا پڑے گا ۔ کیوں کہ مکہ کے اک غیر زرعی شہر ہے سو یہاں آنے والوں سے کہا گیا کہ کہ اپنے خورد و نوش کا انتظام خود کریں ۔
رب نے فرمایا کہ جن جانوروں پر تم جاتے ہو ،یا مال برداری کا کام کرتے ہوں انہیں وہاں ذبح کرو ، خود بھی کھاؤ اور محتاجوں اور ضرورت مندوں کو بھی کھلاؤ ۔۔۔۔۔۔
آیات ملاحظہ ہوں ۔

وَأَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَأْتُوكَ رِ‌جَالًا وَعَلَىٰ كُلِّ ضَامِرٍ‌ يَأْتِينَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيقٍ ﴿22/27 
 اور لوگوں میں حج کا اعلان کردو، لوگ تمھارے پاس چلے آئیں گے پیدل بھی اور دبلی اونٹنیوں پر بھی ،
لِيَشْهَدُوا مَنَافِعَ لَهُمْ وَيَذْكُرُ‌وا اسْمَ اللَّـهِ فِي أَيَّامٍ مَعْلُومَاتٍ عَلَىٰ مَا رَ‌زَقَهُمْ مِنْ بَهِيمَةِ الْأَنْعَامِ ۖ فَكُلُوا مِنْهَا وَأَطْعِمُوا الْبَائِسَ الْفَقِيرَ‌ ﴿22/28
تاکہ لوگ اپنے فائدے کے لئے ان ایام مقررہ میں آ موجود ہوں ۔ان چوپایوں کو ذبح کرتے وقت اللہ کا نام لیں ۔ جو اللہ نے عطا کئے ہیں ان جانوروں میں سے خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ ۔
لَكُمْ فِيهَا مَنَافِعُ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى ثُمَّ مَحِلُّهَا إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ ﴿22/33 
 ان جانوروں میں تمھارے لئے اک مدت تک فائدہ ہے ، ان کی حلال کرنے کی جگہ ۔۔۔۔ إِلَى الْبَيْتِ الْعَتِيقِ( خانہ کعبہ قریب ) ہے ، خود بھی کھاؤ اور محتاجوں کو بھی کھلاؤ

قربانی حقیقت ۔۔۔۔۔۔۔
قربانی واجب نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

یہ تسلیم کہ ذبیحہ رسمی وجود رکھتا ہے تا ہم واجب نہیں ،امت کے قد آورصحابہ سے لے کربڑے بڑے امام وقت تک اس کو صرف ایک پسندیدہ رسم ہی گردانتے ہیں۔
فرقہ اھل حدیث کے ایک بہت بڑے امام ، امام بن حزم ، کی تحقیق کے مطابق صحابہ کرام قربانی کو ایک رسم سمجھتے تھے بلکہ استطاعت کے باوجود قربانی نہیں کرتے تھے ۔

علامہ ابن حزم لکھتے ہیں کہ قربانی کی وجوب کسی صحابی سے ثابت نہیں ،اور صحیح بات یہی ہے کہ قربانی واجب نہیں

حضرت سعید بن المسیب اور الشعبی سے راویت ہے کہ قربانی کے بجائے اُن کے نزدیک تین درہم خیرات کر دینا اس سے زیادہ پسندیدہ فعل ہے ۔
المحلی الابن حزم جلد ۷ صفحہ ۳۵۸

میں نے اپنی تیس سالہ زندگی میں کبھی بھی کسی عرب کو قربانی کرتے نہ سنا نہ ہی دیکھا-

کیونکہ ہرعرب قران اور عربی سے زبان سے بخوبی وقاف ہوتا ہے وہ جانتا کہ رب کی منشا کیا ہے -

مگر سعودیہ کی سلطانی اور مُلّائی حکومت اس مسلے پر خاموش ہے

کیونکہ اس قربانی سعودی اھل البادیہ کو کروڑوں ریال کا منافع ہوتا ہے ،

سعودیہ
مُلّا یا حکومت صحیح مسئلہ بتا کر اپنے عوام کا یہ منافع ختم نہیں کرنا چاہتی ۔

سعودیہ کی طرح ہمارا اللہ کا مارا لعنتی مولوی صحیح مسئلہ بتا کر کھال سے محروم نہیں ہونا چاہتا-
رفیق سینائی

ہفتہ، 12 ستمبر، 2015

بلاگ کو خوبصورت کریں -2

بلاگ بنانے کے بعد جو اہم مرحلہ ہے اُس میں تحریری لکھ کر اُسے  خوبصورت بنانے کا ۔
1- سب سے پہلے اپنے مضمون کا عنوان لکھیں ۔
2- اُس کے بعد لیبل ، کیٹیگری لکھیں کہ یہ ، شاعری ، طنز و مزاح ، تعلیم ، طب  ۔ ۔ ۔ ۔ ! ہے ۔
اِس کے لئے لیبل کے ٹیب کو دبائیں تو ایک ونڈو کھل جائے گی ۔ اُس میں لیبل لکھ کر  ،  Done  کو دبا دیں ۔
3- اب آپ اپنے ٹیکسٹ کو انگلش میں لکھنا چاہتے ہیں یا اردو میں ، لو لازمی بات ہے کہ دائیں یا بائیں ایڈجسٹ کریں گے ۔ تو اِس آئی کون کو سلیکٹ کریں ۔ اور لکھنا شروع کر دیں ۔
4- اگر آپ شاعری لکھ رہے ہیں تو  ، شاید آپ دو شعروں کو دائیں اور دو کو بائیں رکھیں گے تو اُس کے لئے یہ آئی کون دبائیں ۔
5- اگر ٹیکسٹ کو مختلف رنگ دینے ہیں تو اِس آئی کون کو دبا کر اپے پسند کے رنگ منتخب کریں ۔ اور اگر منتخب ٹیکسٹ کی لائن کے نیچے لکیر لگانی ہے ، یا اٹالِک الفاظ لکھنے ہیں یا الفاظ کو بولڈ کرنا ہے تو اِن کو منتخب کریں ۔
6- اگر ہیڈنگ اور سب ہیڈنگ بنانی ہے تو اِس آئی کون کو سلیکٹ کریں ۔
7- گو کہ یہ پروگرام ، آٹو محفوظ کرتا ہے ۔ لیکن احتیاطاً ۔ آپ جو بھی ٹائپ کریں اُسے محفوظ لازماً کریں ،
8- اُس کے بعد ، یہ دیکھنے کہ ئے کہ پوسٹ ہونے کے بعد آپ کی تحریر کیسے نظر آتی ہے ، تو  PREVIEW  کو دبائیں ۔ نئی ونڈو آئے گی ، اِسے پڑھ کر اگر ضرورت ہے تصحیح کریں-
 9- اگر اپنی تحریر کے فونٹ کو بڑا یا چھوٹا کرنا ہو ، تو   یہ آئی کون دبائیں اور اپنی پسند کا فونٹ منتخب کریں  ۔ 
10- تصویر ڈالنی ہو تو یہ آئی کون دبائیں ۔ تو نیچے والی ونڈو کھلے گی-
 1- اگر آپ کمپیوٹر سے اپ لوڈ کرنا چاہتے ہیں تو یہ دبائیں ۔
2- اگر اپ اپنے پچھلے بلاگ میں ڈالی ہوئی تصویر کو یہاں دوبارہ ڈالنا چاھتے ہیں تو اسے دبائیں -
اسی طرح  3 ، 4 ، 5 ، 6 کو دبا کر آپ منتخب جگہوں سے تصویر جب لائیں گے تو یہ ونڈو آئے گی ۔ 
 آپ اسے سلیکٹ کریں گے تو  تصویر آپ کے ٹیکسٹ ایڈٹ  ایریا میں اجائے گی ، اُسے پکڑ کر اُس کی جگہ پر رکھ دیں ۔ شروع میں آپ کو مشکل آئے گی لیکن پھر آپ ماہر ہو جائیں گے -
 11- ٹیکسٹ  میں لنک  ڈالنے کے لئے , ٹیکسٹ لکھ کر سلیکٹ کریں ، لنک کو کاپی کریں -اِس آئی کون کو دبائیں ۔ اور لنک کو پیسٹ کریں ۔


12- بعض پوسٹ میں ہم عربی آیت ، کاپی پیسٹ کر کے ڈالتے ہیں ۔ چونکہ ہمارا بنیادی فونٹ ، نستعلیق ہے ، لہذا آیت بھی نستعلیق فونٹ  میں     ،
PREVIEW   ہوگی اور مشکل سے سمجھ آئے گی اُسے عربی فونٹ میں دیکھنے کے لئے 

ذَٰلِكَ الْكِتَابُ لَا رَ‌يْبَ ۛ فِيهِ ۛ هُدًى لِلْمُتَّقِينَ ﴿2/2
اِس عربی آیت کا فونٹ سائز  ۔  Largest   ، رنگ سبز ، فونٹ  Times ، اور   2/2  میں لنک ہے ،
13- وڈیو ڈالنے کے لئے اِس آئی کون کو دبائیں اور اپنے کمپیوٹر سے ، وڈیو سلیکٹ کریں اور ایڈ کریں ۔

 دوستو !  یہاںآکر آپ یقیناً ایک ماہر بلاگر بننے پر قدم رکھ چکے ہیں ۔ 
گوگل بلاگر کام کے بلاگ سپاٹ بنانے والوں کو دعائیں دیں ۔
 ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭

  اپنے خیالات دوسروں تک  پہنچانے کے لئے اپنا بلاگ بنائیں ۔ 

٭- کمپیوٹر سے آیات تلاش کرنا آسان ہے
٭
٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭
٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔