میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 اکتوبر، 2015

صحبتِ ہم نشیناں

ایک صاحب تھے شادی کی تلاش میں کہیں لمبے نکل گئے اور شادی کی عمر نکل گئی-
ڈھلتی عمر میں ایک لڑکی پسند آ گئی تو رشتہ پرپوز کیا-
لڑکی نے دو شرطیں رکھیں اور شادی پر تیار ہو گئی-
ایک یہ کہ ھمیشہ جوانوں میں بیٹھو گے ،
دوسرا دیوار پھلانگ کے گھر آیا کرو گے !
جوان بزرگ مان گیا ۔ کہ بھلا یہ بھی کوئی شرط ہے ۔

شادی ہو گئی
جوان بزرگ جوانوں میں ہی بیٹھتااور گپیں لگاتا-
جوان ظاہر ہے لڑکیوں کی اور پیار محبت کی باتیں کرتے ہیں- منڈیوں کے بھاؤ یا ہسپتالوں سے انہیں دلچسپی نہیں اور نہ ہی مذہبی موضوعات سے کچھ لینا دینا-

جوان بزرگ کا موڈ ہر وقت رومانٹک رھتا جب آدھی رات کو گھر واپس ہوتا ، ایک جھٹکے سے دیوار پھلانگ کر صحن میں دھم سے کود جاتا !

آخر ایک دن
جوان بزرگ کے بُرے دن آئے اور ایک  پرانا کلاس فیلو مل گیا-
" ارے شکور، بھئی شادی کیا کی ملنے سے گئے ؟ چلو دوست تمھارا انتظار کر رہے ہیں اور ملنے پر بیتاب ہیں " کلاس فیلو نے گلہ کیا ۔

  وہ
جوان بزرگ کو گلے شکوے کر کے اور گھیر گھار کے اپنی پنڈال چوکڑی میں لے گیا۔
اب وہاں کیا باتیں ہونی تھیں ؟
ایک بولا ، " یار گھٹنوں کے درد سے مر گیا ہوں بیٹھ کر نماز پڑھتا ہوں" -
دوسرے نے گرہ لگائی ، "یار میرا تو وضو ھی نہیں رہتا پیشاب کا قطرہ نکل جاتا ھے"-
"میری تو ریڑھ کی ھڈی کا مہرہ کھل گیا ھے، ڈاکٹر کہتا ھے جھٹکا نہ لگے"- تیسرا بلبلایا
" یار مجھے تو نظر ھی کچھ نہیں آتا کل پانی کے بجائے مٹی کا تیل پی گیا تھا، ڈرپ لگی ھے تو جان بچی ھے" - چوتھے نے ہولکناک خبر سنائی ۔
جوان بزرگ  جوں جوں ان کی باتیں سنتا گیا، وہ جوانی کی سیڑھیاں نیچے اترتا گیا ۔ جب ٹھیک پاتال میں پہنچا تو مجلس برخواست ہو گئی اور جوان بزرگ گھسٹتے پاؤں کے ساتھ گھر کو روانہ ہوا !

گھر پہنچ کر دیوار کو دیکھا تو گھر کی وہی دیوار جسے وہ اسپِ تازی کی طرح چھلانگ مار کر پار کرتا تھا ، آج وہی دیوار،دیوارِ چین لگی -
ہمت نہ پڑی دیوار کودنے کی کہ کہیں بابے پھجے کی طرح چُک نہ نکل آئے - ویسے بھی پھجہ اُس سے پورے دو سال چھوٹا تھا ۔
جوان بزرگ نے کُنڈی  کھٹکھٹائی ۔
"کھٹ کھٹ "
"کون ہے ؟ " اندر سے بیوی کی آوازآئی ۔
" میں ہوں ۔ دروازہ کھولو "
جوان بزرگ بوڑھے نے کپکپاتی آواز میں کہا ۔

" اسی لئے بولا تھا جوانوں میں بیٹھا کر!
" بیوی کنڈی کھولتے ہی بولی -
"
لگتا ہے آج بوڑھوں کی مجلس اٹینڈ کر لی ھے،اسی لئے ہمت جواب دے گئی ہے !" 






نتیجہ ! انسان بوڑھا نہیں ہوتا مجلس بوڑھا کر دیتی ہے!

جمعہ، 9 اکتوبر، 2015

گلو !

ہائی سٹریٹ ساہیوال پر موٹر سائیکل کو پنکچر لگواتے ہوئے میں فیصلہ کر چکا تھا کہ اس ہفتے بھی اپنے گھر واپس کبیروالا نہ ہی جاوں تو بہتر ہے ،دیر تو ویسے بھی ہوچکی تھی اورجہاں پچھلےتین ہفتے گزر گئے ہیں یہ بھی گزار ہی لوں تو گرمیوں کی چھٹیوں میں ایک ہی بار چلا جاؤں گا۔ اسی سوچ بچار میں روڈ پر کھڑے میں نے پندرہ سولہ سال کے ایک نوجواں کو اپنی طرف متوجہ پایا۔وہ عجیب سوالیہ نظروں سے میری جانب دیکھ رہا تھا،جیسے کوئی بات کرنا چاہ رہا ہو۔لیکن رش کی وجہ سے نہیں کر پا رہاتھا۔
جب پنکچر لگ گیا تو میں نے دکاندار کو 100 روپے کا نوٹ دیا اس نے 20 روپے کاٹ کر باقی مجھے واپس کر دیے۔میں موٹر سائیکل پر سوار ہوکر جونہی واپس شہر کی طرف مڑنے لگاتو وہ لڑکا جلدی سے میرے پاس آکر کہنے لگا-


" بھائی جان میں گھر سے مزدوری کرنے آیا تھا ،آج دیہاڑی نہیں لگی آپ مجھے واپسی کا کرایہ 20 روپے دے دیں گے"
میں نے ایک اچٹتی سی نگاہ اس پر ڈالی ،سادہ سا لباس،ماتھے پر تیل سے چپکے ہوئے بال ،پاوں میں سیمنٹ بھراجوتا۔مجھے وہ سچا لگا،میں نے 20 روپے نکال کر اس کے ہاتھ پر رکھ دئیے ،وہ شکریہ ادا کر کے چلنےلگا تو نہ جانے میرے دل کیا خیال آیا ،میں نے کہا،
"سنو ،تمہیں دیہاڑی کتنی ملتی ہے؟"
اس کے جواب دینےسے پہلے ہی میں نے باقی کے 60 روپے بھی اس کی طرف بڑھا دیے۔وہ ہچکچاتے ہوئے پیچھے ہٹا اور کہنے لگا
"نہیں بھائی جان !میرا گھر منڈھالی شریف ہے،میں پیدل بھی جاسکتا تھا لیکن کل سےماں جی کی طبیعت ٹھیک نہیں ،اوپر سے دیہاڑی بھی نہیں لگی،سوچا آج جلدی جا کر ماں جی کی خدمت کر لوں گا"۔
میں نے کہا،
"اچھا یہ پیسے لے لو ماں جی کے لیے دوائی لے جانا"
وہ کہنے لگا
" دوائی تو میں کل ہی لے گیا تھا۔آج میں سارا دن ماں جی کے پاس رہوں گا تو وہ خود ہی ٹھیک ہو جائیں گی،مائیں دوائی سے کہاں ٹھیک ہوتی ہیں بابوجی!"
میں نے حیران ہو کرپوچھا ،
"تمہارا نام کیا ہے؟"
اتنے میں اس کی بس بھی آگئی،وہ بس کی چھت پر لپک کر چڑھ گیا اور میری طرف مسکراتے ہوئے زور سے بولا
"گلو" ۔



گلو کی بس آہستہ آہستہ دور ہوتی جا رہی تھی ۔ لیکن گلو کے واپس کیے ہوئے 60 روپے میری ہتھیلی پر پڑے ہوئے تھے اورمیں ہائی سٹریٹ کے رش میں خود کو یک دم بہت اکیلا محسوس کرنے لگا۔
کچھ سوچ کر میں نے موٹرسائیکل کارخ ریلوے اسٹیشن کی طرف موڑ لیا۔موٹر سائیکل کو اسٹینڈ پر کھڑا کرکے ٹوکن لیا اور ٹکٹ گھر سے 50 روپے میں خانیوال کا ٹکٹ لے کر گاڑی کے انتظار میں بینچ پر بیٹھ گیا۔
کب گاڑی آئی ،کیسے میں سوار ہوا کچھ خبر نہیں، خانیوال اسٹیشن پر اتر کے پھاٹک سے کبیروالا کی وین پر سوار ہوا،آخری بچے ہوئے10 روپے کرایہ دے کر جب شام ڈھلے اپنے گھر کے دروازے سے اندر داخل ہوا تو سامنے صحن میں چارپائی پر امی جان سر پر کپڑا باندھے نیم دارز تھیں۔میرا بڑا بھائی دوائی کا چمچ بھر کر انہیں پلا رہا تھا۔مجھے دیکھتے ہی امی جان اٹھ کر کھڑی ہوئیں اور اونچی آواز میں کہنے لگیں
" او! میرا پترخیر سے گھر آگیا ہے! اب میں بالکل ٹھیک ہوں "۔
میں آنکھوں میں آنسو بھرتے ہوئے دوڑ کر ان کے سینے سے جالگا۔ بس کے گیٹ میں کھڑے گلوکا مسکراتا ہوا چہرہ یک دم میری آنکھوں کے سامنے آگیا اور میں سمجھ گیا کہ اس نے مجھے 60روپے واپس کیوں کیےتھے۔

چراغ لے کے کوئی ،راستے میں بیٹھا تھا
مجھے سفر میں جہاں رات ہونے والی تھی

منگل، 6 اکتوبر، 2015

زن مرید

پہلی مرتبہ وہ مجھے جمرات پر نظر آئے۔ مناسب قد و قامت کے حامل تھے۔ چہرے پہ سجی سفید داڑھی نہایت بھلی معلوم ہو رہی تھی۔ بڑے جذبے سے کنکریاں مار رہے تھے۔ سات کنکریاں مار چکے تو پھر سات اور ماریں۔ خیال ہوا کہ شاید کسی اور نے اپنی رمی کرنے کے لئے وکیل بنایا ہو گا۔  پھر قربان گاہ میں دیکھا تو یکے بعد دیگرے دو دنبے ذبح کئے۔ ظاہر ہے قربانی کے لئے بھی بہت سے لوگ ذمہ داری لے لیتے ہیں، سو اس میں بھی کوئی غیر معمولی بات نہ لگی۔  اگلے روز طواف وداع کے لئے حرم پہنچا توطواف کے آغاز پر پھر وہ نظر آئے۔ میں طواف شروع کر رہا تھا اور وہ طواف مکمل کر کے ہجوم سے باہر نکل رہے تھے۔ لیکن پھر انہیں دوبارہ طواف کرتے ہوئے پایا۔ سخت تعجب ہوا کہ اس قدر ہجوم میں ایک ہی طواف کرنا مشکل ہو رہا تھا  اور یہ حضرت دوسرا طواف کرنےلگ گئے۔  بعد ازاں صفا مروہ کی سعی کے دوران پھر ان پر نگاہ پڑی ۔ مروہ پر سعی مکمل کر کے میں چپل اٹھانے  کی غرض سے صفا پر پہنچا تو انہیں ایک بار پھر سعی کی نیت کرتے اور پھر صفا سے مروہ کی جانب چلتے دیکھا۔ اب تو سخت حیرت ہوئی کہ حضرت ہر عمل دو دو بار کر رہے ہیں۔ خیال ہوا کہ پوچھنا چاہئے لیکن اس قدر ہجوم میں کہاں موقع تھا ان باتوں کا۔ سو اپنی راہ لی۔ لیکن ایک کھٹک سی دل میں برقرار رہی۔

حج کے بعد ایک روز میں ناشتے کی غرض سے بقالے کی جانب جا رہا تھا کہ وہ گلی میں داخل ہوتے نظر آئے۔ سلام دعا کے بعد باتوں باتوں میں پتہ چلا کہ قریبی عمارت میں ہی رہائش پزیر ہیں۔ میں نے کہا کہ آپ سے کچھ باتیں دریافت کرنا چاہتا ہوں۔  کہنے لگے :
"چلئے میاں ! ہمارے کمرے میں آ جائیے۔ ناشتہ ساتھ ہی کرتے ہیں۔ چنانچہ ان کے کمرے میں جا پہنچا۔ کمرے میں دو بستر پڑے تھے۔ اور باقی سامان سلیقے سے رکھا ہوا تھا۔ "

ناشتے کے دوران کچھ ادھر ادھر کی باتیں ہوتی رہیں۔ پھر انہوں نے کہا:
"میاں پوچھئے کیا پوچھنا چاہ رہے تھےآپ ؟"
عرض کی :
"حضرت ! حج کے ارکان کی ادائیگی کے دوران آپ  مجھے جا بجا نظر آئے۔ آپ کو ہر عمل دو دو بار کرتے دیکھا۔ بس یہی بات کھٹک رہی تھی ۔ اگر مناسب سمجھیں تو وجہ بتا دیجئے۔ "
سوال سن کر وہ ٹھٹک کر رہ گئے۔ پھر ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ مجھے سخت افسوس ہوا کہ ناحق ان کو دکھی کر دیا۔ معذرت کرنےلگا ۔ کہنے لگے:
"نہیں میاں ! معذرت کیسی؟  بتائے دیتے ہیں آپ کو۔ شاید کچھ دل کا بار کم ہو جائے۔"
پھر رومال سے آنکھیں پونچھ کے آہستہ آہستہ بتانے لگے:

"میاں کیا بتائیں؟ بیگم کو حج کی شدید آرزو تھی۔ چھ ماہ پہلے کی بات ہے جب حج فارم جمع ہونے کی تاریخوں کا اعلان ہوا تو پیچھے لگ گئی کہ اس بار ہم بھی فارم بھر دیں۔ ہم نے کہا کہ بھئی ابھی وقت مناسب نہیں معلوم ہوتا ۔ بچیاں شادی کی عمر کو پہنچ گئی ہیں۔ رقم پس انداز کرنی شروع کر دینی چاہئے۔ آخر کو ان کی شادیاں کرنی ہیں۔لگی حدیثیں سنانے۔ کہ رسول پاک ﷺ نے فرمایا کہ حج فرض ہو جانے کے بعد حج کی ادائیگی میں جلدی کرنی چاہئے کہ جانے کب کیا رکاوٹ پیش آ جائے۔ پھر دوسری حدیث یہ سنا دی کہ جو حج کی ادائیگی کی قدرت رکھنے کے باوجود حج نہ کرے تو وہ چاہے یہودی ہو کے مرے یا نصرانی۔ پھر تیسری حدیث کہ حج مبرور کا بدلہ جنت کے سوا کچھ نہیں۔ پھر ایک دلیل یہ دی کہ پہلے کوئی کام رکا ہے ہمارا جو آئندہ رکے گا؟ جب جس چیز کی ضرورت پڑی، اللہ نے اپنے فضل سے پوری کر دی۔ آئندہ بھی کر دے گا۔ تو میاں سمجھو یوں حج کا فارم جمع کرا دیا۔ اور پھر یہاں چلے آئے۔ "

"میاں مت پوچھو کہ بیت اللہ پر پہلی نگاہ پڑی تو کیا حالت ہوئی۔ کیسا سرور ملا۔ جھوم کے کہا :بیگم !اس ایک نگاہ میں ہی سارے پیسے وصول ہو گئے۔ عمرہ ادا کیا تو نشاط طاری ہو گیا۔ یہی خیال آتا رہا کہ عمرہ میں اتنی لذت ہے تو حج کیا ہو گا؟ حج کے انتظار کے دنوں میں طواف اور نماز کے لئے بیت اللہ کے چکر لگتے رہے ۔ اس دوران سرکار ﷺ کے دربار میں حاضری کا موقع بھی ملا۔ دیار نبی ﷺ سے فیض پا کر مکہ لوٹے تو مزید ایک عمرہ کا موقع ملا۔ ہر لمحہ اللہ کی رحمت کا ہالہ اپنے گردا گرد محسوس ہوتا تھا۔ میاں دعائیں تو یوں قبول ہو رہی تھیں گویا اللہ انتظار میں بیٹھا ہو کہ بندے کے منہ سے کوئی سوال نکلے اور وہ پورا کرے۔ اللہ اکبر۔ بھئی یقین مانو اسی کا ظرف ہے ورنہ کہاں ہم سا گنہگار کہ حج ایسے فریضے کی ادائیگی کی فکر کرنے کے بجائے ٹال مٹول اور بہانے بازیاں ، اور کہاں اس کا کرم۔ چاہتا تو وہ بھی ہماری دعاؤں کو ٹال دیتا ۔ لیکن نہیں میاں۔ بلا بھی لیا اور مان بھی گیا۔

دن یونہی مزے میں گزر رہے تھے۔ حج قریب آتا جا رہا تھا۔ وہ جمعہ کی شام تھی۔ آسمان پر کالے بادل گھر گھر کے آنے لگے ۔ پھر باران رحمت کا نزول ہوا۔ شدید بارش ہوئی۔ ہم  اور ہماری بیگم حرم کے بیرونی صحن میں تھے۔ لمحوں میں کپڑے تر بتر ہو گئے ۔ طے ہوا واپس رہائش گاہ پر چلا جائے۔ دو چار قدم چلے تھے کہ ہمیں خیال آیا کہ پانی کے تھرماس میں زم زم ختم ہو چکاہے۔ بیگم سے ذکر کیا تو جھٹ سے بولی : آپ ٹھہریں ۔ میں بھر کے لاتی ہوں۔ اور پاس ہی موجود زم زم کی ٹنکی کی جانب دوڑ پڑی۔ چند قدم ہی آگے بڑھی ہو گی کہ ایک دھماکہ ہوا اور اوپر سے ٹنوں وزنی کرین آ گری۔  میاں بس مت پوچھو آن کی آن میں کیا ہو گیا۔"
ان کی آواز بیٹھتی چلی گئی۔میری بھی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ حادثہ تھا ہی اتنا اندوہناک ۔ ایک لمحہ میں بیسیوں حاجی شہید ہو گئے تھے۔ اور بے شمار زخمی۔ حرم کا مرمریں صحن سرخ ہو گیا تھا۔ تعزیت کرنی چاہی لیکن الفاظ گویا حلق میں پھنس کر رہ گئے۔

کچھ دیر سکوت کے بعد انہوں نے ہی خاموشی توڑی:
"میاں! کیا بتاؤں کتنی خوبیاں تھیں اس میں۔ نہایت صابر و شاکر ۔ وفا شعار ۔ سلیقہ مند۔ اللہ کی رضا میں راضی۔ بھاگ بھاگ کے ہماری خدمتیں کیا کرتی تھی۔ ہماری مرضی پہ اپنی مرضی کو قربان کر دیا۔ اپنی پسند نا پسند کو ہماری پسند نا پسند کے مطابق ڈھال لیا۔ ہر خوشی غمی میں ہمارے شانہ بشانہ۔ وہ کہتی تھی کہ عورت کا مرد کے شانہ بشانہ چلنے کا اصل اور پسندیدہ طریقہ اس کی نظر میں یہی ہے۔"

"میاں ! نکاح میں قبول ہے کہا نا ۔۔۔ تو پھر ہر طرح سے ہمیں قبول کر کے دکھایا۔ ہماری جھڑکیاں اور نخرے برداشت کئے ۔ کبھی شکوہ نہ کیا۔ وقت بے وقت کی فرمائشیں پوری کیں۔ سفر حج کے سامان کی پیکنگ کے وقت ہماری ضرورت کی تمام اشیاء خود ہی جمع کر کے رکھیں۔ کپڑوں سے لے کر سیفٹی پن تک، اور عینک سے لے کر دواؤں تک ہر چیز کی موجودگی کو یقینی بنایا۔  تربیتی نشستوں میں باقاعدگی سے شرکت کا اہتمام کیا۔ "

"اور یہاں آ کے تو وہ گویا بچھی ہی چلی جا رہی تھی۔ ہل کے پانی تک نہ پینے دیتی ہمیں۔ حرم میں حاضری کے بعد تھک ہار کر واپس آتے تو خود باوجود تھکان کے ہمارے پیر دبانے لگ جاتی۔ ہم روکتے تو کہتی کہ پہلے تو آپ صرف شوہر تھے، اب تو اللہ کے مہمان بھی ہیں۔ اللہ کے مہمان کی خدمت کرنے دیجئے۔ کبھی کبھی احساس تشکر سے بھیگی آنکھیں لئے ہمارے ہاتھ پکڑ کر کہتی کہ آپ نے مجھے اللہ کا گھر دکھا دیا۔ حالانکہ درحقیقت وہ ہمیں لے کر آئی تھی۔ ہاہ !وہ صرف ہماری دنیا ہی کے نہیں، آخرت کے بارے میں بھی فکر مند رہا کرتی تھی۔ میاں اللہ والی تھی ۔۔۔ بڑی اللہ والی۔ جبھی تو اللہ نے اسے پاک صاف کر کے اپنے پاس بلا لیا۔ شہادت کی موت عطا فرما دی۔ سیدہ خدیجہؓ کے قدموں میں جگہ عطا فرما دی۔ کیسے بلند درجات پا لئے۔ بچوں کی بھی ایسی تربیت کی کہ جب بچوں کو اس کی شہادت کی اطلاع دی تو وہ الٹا  ہمیں ہی صبر کی تلقین کرنے لگے۔ سچ فرمایا سرکار ﷺ نے کہ دنیا کی بہترین نعمت  نیک بیوی ہے۔ اس نیک بخت نے خدمتیں کر کر کے ہمیں اپنا مرید بنا لیا تھا۔ "

"میاں حج پر ہر ہر رکن کی ادائیگی کے دوران اس کی کمی محسوس ہوئی ۔ سو اس کی طرف سے بھی رمی، قربانی، طواف وداع اور سعی کر دی ۔۔۔ بس یونہی اپنے دل کے بہلاوے کو۔۔۔  کہ ہم نے قدم قدم پر خود کو اس کی محبتوں اور وفاؤں کا مقروض پایا۔"

سارے خاندان والے ہمیں زن مرید کہتے ہیں۔

چاہو تو تم بھی کہہ لو!

سوموار، 5 اکتوبر، 2015

بابا اور بیٹا !

ﺑﺴﺘﺮ ﭘﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﭘﮍﮮ ﺗﮭﮯ
ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﮐﺮﻭﭦ ﻟﮯ ﮐﺮ

ﮨﻠﮑﯽ ﺳﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻟﮯ
ﺑﯿﭩﺎ ﮐﻞ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮕﻞ ﮨﻮﮔﺎ ؟

ﮔﺮﺩﻥ ﻣﻮﮌﮮ ﺑِﻦ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ
ﺑﺎﺑﺎ ﮐﻞ ﺗﻮ ﺑُﺪﮪ ﮐﺎ ﺩِﻥ ﮨﮯ

ﺑﺎﺑﺎ ﺟﺎﻧﯽ ﺳُﻦ ﻧﮧ ﭘﺎﺋﮯ
ﭘﮭﺮ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻞ ﮐﯿﺎ ﺩِﻥ ﮨﮯ؟

ﺗﮭﻮﮌﯼ ﮔﺮﺩﻥ ﻣﻮﮌ ﮐﮯ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﺯﮨﺮ ﻣِﻼ ﮐﮯ

ﻣﻨﮧ ﮐﻮ ﮐﺎﻥ ﮐﯽ ﺳِﯿﺪﮪ ﻣﯿﮟ ﻻ ﮐﮯ
ﺩﮬﺎﮌ ﮐﮯ ﺑﻮﻻ

ﺑُﺪﮪ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ، ﺑُﺪﮪ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ، ﺑُﺪﮪ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ ،
ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻣﻮﺗﯽ ﭼﻤﮑﮯ

ﺳُﻮﮐﮭﮯ ﺳﮯ ﺩﻭ ﮨﻮﻧﭧ ﺑﮭﯽ ﻟﺮﺯﮮ
ﻟﮩﺠﮯ ﻣﯿﮟ ﮐُﭽﮫ ﺷﮩﺪ ﻣِﻼ ﮐﮯ

ﺑﺎﺑﺎ ﺑﻮﻟﮯ ﺑﯿﭩﮭﻮ ﺑﯿﭩﺎ
ﭼﮭﻮﮌﻭ ﺩِﻥ ﮐﻮ ﺩِﻥ ﮨﯿﮟ ﭘُﻮﺭﮮ

ﺗُﻢ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﺼﮧ ﺳُﻦ ﻟﻮ۔
ﺑﭽﭙﻦ ﮐﺎ ﺍِﮎ ﻗِﺼّﮧ ﺳُﻦ ﻟﻮ

ﯾﮩﯽ ﺟﮕﮧ ﺗﮭﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﺗُﻢ ﺗﮭﮯ
ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘُﻮﭼﮭﺎ ﺭﻧﮓ ﺑﺮﻧﮕﯽ

ﭘﮭﻮﻟﻮﮞ ﭘﺮ ﯾﮧ ﺍُﮌﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ
ﺍِﺱ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﺑﺘﺎﺅ ﺑﺎﺑﺎ

ﮔﺎﻝ ﭘﮧ ﺑﻮﺳﮧ ﺩﮮ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ
ﭘﯿﺎﺭ ﺳﮯ ﺑﻮﻻ ﺗِﺘﻠﯽ ﺑﯿﭩﺎ

ﺗُﻮ ﻧﮯ ﭘُﻮﭼﮭﺎ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺑﺎﺑﺎ؟
ﭘِﮭﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﻻ ﺗِﺘﻠﯽ ﺑﯿﭩﺎ

ﺗِﺘﻠﯽ ﺗِﺘﻠﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﺳُﻨﺘﮯ
ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﭘُﻮﺭﺍ ﮔُﺰﺭﺍ

ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﭘُﻮﭼﮫ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﺎ
ﺗِﺘﻠﯽ ﮐﮩﻨﺎ ﺗُﻮ ﻧﮯ ﺳِﯿﮑﮭﺎ

ﮨﺮ ﺍِﮎ ﻧﺎﻡ ﺟﻮ ﺳِﯿﮑﮭﺎ ﺗُﻮ ﻧﮯ
ﮐِﺘﻨﯽ ﺑﺎﺭ ﻭﮦ ﭘُﻮﭼﮭﺎ ﺗُﻮ ﻧﮯ

ﺗﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺗﻮ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺑﮭﯽ ﺍَﺏ ﺩﺍﻧﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ

ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺗﮭﮯ ﻧﺎ
ﺑﺎﺗﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﮐﺮﺗﮯ ﺗُﻮ ﺗﻮ

ﺗﮭﮏ ﮐﮯ ﮔﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺳﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺗﮭﮯ ﻧﺎ

ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ
ﺑُﻮﮌﮬﮯ ﺳﮯ ﺍِﺱ ﺑَﭽﮯ ﮐﯽ ﺑﮭﯽ

ﺑﺎﺑﺎ ﮨﻮﺗﮯ ﺳُﻦ ﺑﮭﯽ ﻟﯿﺘﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﺎﺑﺎ ﺗﮭﮯ ﻧﺎ

ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ
ﻣﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﺗﻮ ﺑﯿﭩﺎ ﮨﮯ ﻧﺎ
.......!!
۔۔(عابی مکھنویؔ)

اتوار، 4 اکتوبر، 2015

انوکھی کہانیاں

 ہمارے ایک دوست ہیں وہ ایسے قصے سنانے کے بہت شوقی ہیں اور اکثر وٹس اییپ کتے ہیں ، اُنہوں نے یہ قصہ لکھا ۔ آپ بھی پڑھئیے :-
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥ ﺑﻨﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻃﺮﯾﻘﻪ ﺑﮩﺖ ﺍﻧﻮﮐﮭﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻭﻩ ﻫﺮ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺑﺪﻝ ﻟﯿﺘﮯ ﺗﮭﮯ۔ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﺍٓﺧﺮﯼ ﺩﻥ ﺟﻮ ﺑﮭﯽﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯﻣﻠﮏ ﮐﯽ ﺣﺪﻭﺩ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﺗﺎ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩﻣﻨﺘﺨﺐ ﮐﺮ ﻟﯿﺘﮯ ﺍﻭﺭﻣﻮﺟﻮﺩﻩ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ’ ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ ‘ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﮏﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺍٓﺗﮯ ﺟﻬﺎﮞ ﺻﺮﻑ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮ ﺗﮭﮯﺍﻭﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯﭘﯿﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﻪ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﮔﺮ ﻭﻩ ﺳﺎﻧﭗ، ﺑﭽﮭﻮ ﻭﮞ ﺳﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﻪﮐﺴﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﭽﺎ ﻟﯿﺘﺎ ﺗﻮ ﺑﮭﻮﮎ ﭘﯿﺎﺱ ﺳﮯ ﻣﺮ ﺟﺎﺗﺎ۔ ﮐﺘﻨﮯﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﺱ " ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ " ﻣﯿﮟ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﺮ ﮐﮭﭗ ﮔﺌﮯ۔
ﺍﺱ ﺩﻓﻌﻪ ﺷﻬﺮ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻞ ﻫﻮﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﻧﻮﺟﻮﺍﻥ ﮐﺴﯽ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﮐﮯﻋﻼﻗﮯ ﮐﺎ ﻟﮓ ﺭﻫﺎ ﺗﮭﺎ ﺳﺐ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺁﮔﮯ ﺑﮍﮪ ﮐﺮ ﺍﺳﮯ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺩﯼﺍﻭﺭ ﺍﺳﮯ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭﺍﺳﮯ ﺑﮍﮮ ﺍﻋﺰﺍﺯ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻣﺤﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ، ﻭﻩ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺑﮭﯽ ﻫﻮﺍﺍﻭﺭ ﺑﮩﺖ ﺧﻮﺵ ﺑﮭﯽ۔ ﺗﺨﺖ ﭘﺮ ﺑﯿﭩﮭﺘﮯ ﻫﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﻪ ﻣﺠﮫﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮩﺎﮞ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺍﺱ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻗﺎﻧﻮﻥ
ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﻪ ﻫﺮ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﺳﺎﻝ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﮭﻮﮌ ﺩﯾﺎﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﺍﻭﺭﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﭼﻦ ﻟﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﻫﮯ ﯾﻪ ﺳﻨﺘﮯ ﻫﯽ ﻭﻩ ﺍﯾﮏ ﺩﻓﻌﻪ ﺗﻮ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥﻫﻮﺍ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﻋﻘﻞ ﮐﻮ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪﻣﺠﮭﮯ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﻟﮯ ﮐﺮ ﺟﺎﺅ ﺟﮩﺎﮞ ﺗﻢ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﻫﻮ۔ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﭙﺎﻫﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺳﺎﺗﮫ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﺳﻼﻣﺖ ﮐﻮ ﻭﻩﺟﮕﻪ ﺩﮐﮭﺎﻧﮯ ﺟﻨﮕﻞ ﻣﯿﮟ ﻟﮯ ﮔﺌﮯ ، ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺍﭼﮭﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﺱ ﺟﮕﻪﮐﺎ ﺟﺎﺋﺰﻩ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﭘﺲ ﺁﮔﯿﺎ۔
ﺍﮔﻠﮯ ﺩﻥ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﺐ ﺳﮯ ﭘﮩﻼ ﺣﮑﻢ ﯾﻪ ﺩﯾﺎ ﮐﻪ ﻣﺤﻞ ﺳﮯ ’ ﻋﻼﻗﻪﻏﯿﺮ ‘ ﺗﮏ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﺳﺒﺰ ﻭ ﺷﺎﺩﺍﺏ ﺭﺍﺳﺘﻪ ﺑﻨﺎﯾﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺟﮕﻪ ﮐﮯﺑﯿﭽﻮﮞ ﺑﯿﺞ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺭﻫﺎﺋﺶ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﮐﯽ ﺟﺎﺋﮯ ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﻫﺮ ﻗﺴﻢﮐﯽ ﺳﻬﻮﻟﺖ ﻫﻮ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺍﺭﺩﮔﺮ ﺧﻮﺑﺼﻮﺭﺕ ﺑﺎﻍ ﻟﮕﺎﺋﮯ ﺟﺎﺋﯿﮟ۔ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﻫﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﺗﻌﻤﯿﺮ ﺷﺮﻭﻉ ﻫﻮﮔﺌﯽ ، ﮐﭽﮫ ﻫﯽﻋﺮﺻﻪ ﻣﯿﮟ ﺳﮍﮎ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻞ ﻭﻏﯿﺮﻩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺗﯿﺎﺭ ﻫﻮﮔﺌﮯ۔
ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﭘﻮﺭﮮ ﻫﻮﺗﮯ ﻫﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻧﮯ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪﺍﭘﻨﯽ ﺭﺳﻢ ﭘﻮﺭﯼ ﮐﺮﻭ ﺍﻭﺭ ﻣﺠﮭﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺅ ﺟﻬﺎﮞ ﻣﺠﮫ ﺳﮯﭘﮩﻠﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﮯ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﺭﺑﺎﺭﯾﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﻪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩﺳﻼﻣﺖ ﺍﺱ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﯾﻪ ﺭﺳﻢ ﺧﺘﻢ ﻫﻮﮔﺌﯽ ﮐﯿﻮﻧﮑﻪ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻋﻘﻞﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﻞ ﮔﯿﺎ ﻫﮯ، ﻭﻫﺎﮞ ﺗﻮ ﻫﻢ ﺍﻥ ﺑﮯﻭﻗﻮﻑ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﻮﮞ ﮐﻮﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﺟﻮ ﺍﯾﮏ ﺳﺎﻝ ﮐﯽ ﺑﺎﺩﺷﺎﻫﯽ ﮐﮯ ﻣﺰﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﻗﯽ
ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ کو ﺑﮭﻮﻝ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﯿﮯ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﻧﻪ ﮐﺮﺗﮯ، ﻟﯿﮑﻦﺁﭖ ﻧﮯ ﻋﻘﻠﻤﻨﺪﯼ ﮐﺎ ﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﯿﺎ ﮐﻪ ﺁﻧﮯﻭﺍﻟﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﺎﺧﯿﺎﻝ ﺭﮐﮭﺎ ﺍﻭﺭﻋﻤﺪﻩ ﺑﻨﺪﻭﺑﺴﺖﻓﺮﻣﺎﻟﯿﺎ۔ ﻫﻤﯿﮟ ﺍﯾﺴﮯ ﻫﯽ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﮐﯽﺿﺮﻭﺭﺕ ﺗﮭﯽ ﺍﺏ ﺁﭖ ﺁﺭﺍﻡ ﺳﮯﺳﺎﺭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﻫﻢ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﺮﯾﮟ۔
* * * * * * * *
ﺍﺱ ﺍﻧﻮﮐﮭﮯ ﻣﻠﮏ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ’ﺩﻧﯿﺎ ‘ ﻫﮯ؛ ﻭﻩ ﻧﯿﺎ ﺑﺎﺩﺷﺎﻩ ﻣﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍٓﭖ ﻫﯿﮟ-
ﺍﻭﺭ "ﻋﻼﻗﻪ ﻏﯿﺮ"،ﻫﻤﺎﺭﯼ ﻗﺒﺮ ﻫﮯ۔
ﺍﺏ ﺁﭖ ﺧﻮﺩ ﻓﯿﺼﻠﻪ ﮐﺮﻟﯿﺠﯿﮯ ﮐﻪ ﮐﭽﮫ ﺩﻥ ﺑﻌﺪ ﻫﻤﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﯾﻪ ﺩﻧﯿﺎﻭﺍﻟﮯ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﮕﻪ ﭼﮭﻮﮌ ﺁﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﻫﻢ ﻧﮯ ﻋﻘﻞ ﻣﻨﺪﯼ ﮐﺎﻣﻈﺎﻫﺮﻩ ﮐﺮﺗﮯ ﻫﻮﺋﮯ ﻭﻫﺎﮞ ﺍﭘﻨﺎ ﻣﺤﻞ ﺍﻭﺭ ﺑﺎﻏﺎﺕ ﺗﯿﺎﺭ ﮐﺮﻟﯿﮯ ﻫﯿﮟ ﯾﺎﺑﮯ ﻭﻗﻮﻑ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺍﺳﯽ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯﻩ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﻣﺰﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮕﮯ ﻫﻮﺋﮯﻫﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﻧﯿﺎﻭﯼ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﻣﺨﺼﻮﺹ ﻣﺪﺕ ﺷﺎﻫﯽ ﺍﻧﺪﺍﺯ ﺳﮯﮔﺰﺍﺭ ﮐﺮ ﺿﺎﺋﻊ ﮐﺮ ﺭﻫﮯ ﻫﯿﮟ
ﺫﺭﺍ ﺳﻮﭼﺌﮯ ﮐﻪ ﭘﮭﺮ ﭘﭽﮭﺘﺎﻧﮯ ﮐﯽ ﻣھﻠﺖ ﻧﻬﯿﮟ ﻣﻠﮯ ﮔﯽ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

میں نے یہ کہانی پڑھ کر چم چم کو سنائی ، اُس اُس نے توجہ سے سنی ۔ لیکن اُسے اگلا حصہ نہیں سنایا اور اپنے دوست ارشد رانا کو لکھا ،

"  رانا جی :اللہ آپ کو جزائے خیر دے,  بچوں کی کہانیاں اچھی لگاتے ہیں آپ !
میری نواسی مجھ سے سن کر انجوائے کرتی ہے.
جب اندازِبیان میرا ہو."

رانا صاحب نے دکھی لہجے میں کمنٹ کیا ۔
Thank you, children liked these stories even if you did not.

میں نے وضاحت کی :

"ارے نہیں رانا صاحب ،
میرا بچپن اپنی ماں سے یہی کہانیاں سنتے گذرا ہے ۔
میرے بچوں کا بھی بچپن اپنی ماں سے یہی کہانیاں سنتے گذرا ہے ، کیسٹ کہانیوں کی صورت میں ۔

اور اب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ !

میری نواسی ، اپنی نانی سے یہی کہانیاں سنتی ہے ۔ کیوں ۔ ۔ ۔ ؟

کہ میرے بچوں کے نزدیک یہ ، جھوٹی کہانیاں ہیں۔
اُنہیں نہیں معلوم سب کہانیاں جھوٹی ہوتی ہیں
اور انسانی ذہن کی تخلیق ۔
مگر ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !
ہماری عمر میں آکر وہ سچی ہوجاتی ہیں ۔

آج کا خواب ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!

مستقبل کی سچائی !

ہفتہ، 3 اکتوبر، 2015

تین منزلہ مکان

 بابا اکثرکہتے تھے کہ میں نے تین منزلہ مکان اس لیے بنایا ہے تاکہ میرے تینوں بیٹے اکھٹے رہیں ,

لیکن بابا کی وفات کے بعد ہماری بیویاں اکٹھی رہنا نہیں چاہتی تھیں۔

ہم نے مکان بیچنے کا فیصلہ کر لیا میں نے مکان بیچنے کے لیے اخبار میں اشتہار دیا کئی لوگ آئے ایک آدمی کے ساتھ معاملات طے پا گئے
"آپ یہ مکان کس کے لیے خریدرہے ہیں؟"
میں نے پوچھا کہ

"میرے تین بیٹے ہیں" وہ اعتماد سے بولا 
" اور میں چاہتا ہوں کہ وہ تینوں اکھٹے رہیں!"


جمعہ، 2 اکتوبر، 2015

کئے جاؤ کوشش میرے دوستو

اگر طاق میں تم نے رکھ دی کتاب        
تو کیا دو گے کل امتحاں میں جواب 
نہ پڑھنے سے بہتر ہے پڑھنا جناب  
کہ ہو جاؤ گے ایک دن کامیاب
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
نہ تم ہچکچاؤ، نہ ہرگز ڈرو                
جہاں تک بنے کام پورا کرو 
مشقّت اٹھاؤ، مصیبت بھرو                
طلب میں جیو، جستجو میں مرو
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
زیاں میں بھی ہے فائدہ کچھ نہ کچھ      
تمہیں مل رہے گا صلہ کچھ نہ کچھ 
ہر اک درد کی ہے دوا کچھ نہ کچھ      
کبھی تو لگے گا پتا کچھ نہ کچھ 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو
تردّد کو آنے نہ دو اپنے پاس  ہے        
بے ہودہ خوف اور بے جا ہراس 
رکھو دل کو مضبوط، قائم حواس        
کبھی کامیابی کی چھوڑو نہ آس 
کئے جاؤ کوشش میرے دوستو 

اسماعیل میرٹھی

شفق

شفق پھولنے کی بھی دیکھو بہار          
ہوا میں کھلا ہے عجب لالہ زار 
ہوئی شام بادل بدلتے ہیں رنگ              
جنھیں دیکھ کر عقل ہوتی ہے دنگ 
نیا رنگ ہے اور نیا روپ ہے              
ہر اک روپ میں یہ وہی دھوپ ہے 
ذرا دیر میں رنگ بدلے کی                
بنفشی و نارنجی و چنپئی
یہ کیا بھید ہے! کیا کرامات ہے            
ہر اک رنگ میں اک نئی بات ہے 
یہ مغرب میں جو بادلوں کی ہے          
باڑ بنے سونے چاندی کے گویا پہاڑ 
فلک نیلگوں اس میں سرخی کی لاگ  
ہرے بن میں گویا لگادی ہے آگ 
اب آثار پیدا ہوۓ رات کے                  
کہ پردے چھٹے لال بانات کے 

اسماعیل میرٹھی

سچ کہو

سچ کہو سچ کہو ہمیشہ سچ              
ہے بھلے مانسو کا پیشہ سچ 
سچ کہو گے تو تم رہو گے عزیز    
سچ تو یہ ہے کہ سچ ہے اچھی چیز 
سچ کہو گے تو تم رہو گے شاد      
فکر سے پاک, رنج سے آزاد 
سچ کہو گے تو تم رہو گے دلیر      
جیسے ڈرتا نہیں دلاور شیر 
سچ سے رہتی ہے تقویت دل کو      
سہل کرتا ہے سخت مشکل کو 
سچ ہے سارے معاملوں کی جان      
سچ سے رہتا ہے دل کو اطمینان 
سچ کہو گے تو دل رہے گا صاف  
سچ کرادے گا سب قصور معاف 
وہی دانا ہے جو کہ ہے سچا  
اس میں بڈھا ہو یا کوئی بچہ 
ہے برا جھوٹ بولنے والا
آپ کرتا ہے اپنا منہ کالا 
فائدہ اس کو کچھ نہ دے گا جھوٹ  
جاۓ گا ایک روز بھانڈا پھوٹ 
جھوٹ کی بھول کر نہ ڈالو خو
جھوٹ ذلت کی بات ہے اخ تھو! 
اسماعیل میرٹھی

پانی ہے کیا چیز

دکھاؤ کچھ طبیعت کی روانی  
جو دانا ہو سمجھو کیا ہے پانی
یہ مل کر دو ہواؤں سے بنا ہے  
گرہ کھل جاۓ تو فورا ہوا ہے 
نہیں کرتا کسی برتن سے کھٹ پٹ  
ہر اک سانچے میں ڈھل جاتا ہے جھٹ پٹ 
جو ہلکا ہو اسے سر پر اٹھاۓ  
جو بھاری ہو اسے غوطہ دلاۓ
لگے گرمی تو اڑ جاۓ ہوا پر  
پڑے سردی تو بن جاتا ہے پتھر 
ہوا میں مل کے غائب ہو نظر سے  
کبھی اوپر سے بادل بن کے برسے 
اسی کے دم سے دنیا میں تری ہے  
اسی کی چاہ سے کھیتی ہری ہے 
اسی کو پی کے جیتے ہیں سب انساں  
اسی سے تازہ دم ہوتے ہیں حیواں 
تواضع سے سدا پستی میں بہنا  
جفا سہنا مگر ہموار رہنا
 اسماعیل میرٹھی

برسات

وہ دیکھو اٹھی کالی کالی گھٹا  
ہے چاروں طرف چھانے والی گھٹا 
گھٹا کے جو آنے کی آہٹ ہوئی  
ہوا میں بھی اک سنسناہٹ ہوئی 
گھٹا آن کر مینہ جو برسا گئی  
تو بے جان مٹی میں جان آگئی 
زمیں سبزے سے لہلانے لگی  
کسانوں کی محنت ٹھکانے لگی 
جڑی بوٹیاں، پیڑ آۓ نکل  
عجب بیل بوٹے، عجب پھول پھل 
ہر اک پیڑ کا اک نیا ڈھنگ ہے  
ہر اک پھول کا اک نیا رنگ ہے 
یہ دو دن میں کیا ماجرا ہو گیا  
کہ جنگل کے جنگل ہرا ہو گیا 

 اسماعیل میرٹھی

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔