میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 17 فروری، 2016

حاجی ثناءاللہ کی ڈائری !

معمول کے مطابق تہجد کے وقت آنکھ کھلی۔
زوجہ کو جگا کر وظیفہ زوجیت ادا کیا۔ زوجہ تھکن کا بہانہ بنا کر پھر سوگئی۔
احمق عورت۔ اسی لیے جہنم عورتوں سے بھری ہوگی۔۔
نہ نماز نہ روزہ۔ 
غسل جنابت سے فراغت پا کر باداموں والے دودھ کے دو گلاس نوش کیے۔ تہجد اداکی۔ فجر تک کمر سیدھی کی۔ فجر ادا کرکے  تھوڑی دیر کے لیے پھر آنکھ لگ گئی۔ آنکھ کھلی تو بچے سکول جاچکے تھے۔ہلکا پھلکا  سا ناشتہ جو دو  پراٹھوں، انڈوں کے خاگینے اور دیسی گھی کے حلوے  پر مشتمل تھا، کیا۔ 
دکان پر جانے سے پہلے والدہ محترمہ کو سلام کرنے گیا۔ وہ شکایت کرنے لگیں کہ برآمدے میں گرمی لگتی ہے، پنکھا بھی نہیں ہے۔ بزرگ اور بچے میں کوئی فرق نہیں رہتا ، ہر وقت شکایت اور فرمائش۔ میں نے والدہ کی بات پر اللہ کے احکام کے مطابق اُف تک نہیں کیا اور خاموشی سے دکان کے لیے روانہ ہوگیا۔
صبح کے اوقات میں سڑکوں پر کافی رش تھا اور کچھ تاخیر بھی ہوگئی تھی۔ رستے میں دو جگہ اشارہ  بھی توڑنا پڑا۔ ایک سائیکل والے کو ہلکی سی ٹکر بھی لگ گئی۔ اللہ کا لاکھ احسان کہ وہ گاڑی کے نیچے نہیں آیا۔  اللہ کریم کی مدد ہمیشہ شامل حال رہتی ہے۔ اگر وہ مر مرا جاتا تو بیٹھے بٹھائے لمبا خرچہ گلے پڑجاتا۔۔
الحمدللہ۔۔۔
دکان پر پہنچا تو فیقا دکان لگاچکا تھا۔ سارے دن میں اس نے بس یہی کام کرنا ہوتا ہے۔ صبح دکان کھول کے لگانا اور شام کو بند کرنا۔ یا گاہک کےساتھ ڈیلنگ کرنی۔۔ لیکن ان نیچ لوگوں کے نخرے ایسے ہیں کہ جیسے پوری دنیا سر پر اٹھائے چل رہے ہوں۔ دو ڈھائی سو تھان اٹھا کے باہر رکھنے اور پھر اندر رکھنے۔۔ یہ کوئی کاموں میں سے کام ہے؟ لیکن جب دیکھو ۔۔ شکایت۔۔پورے سات  ہزار روپے ماہانہ صرف اس معمولی کام کے ملتے ہیں۔ ناشکرگذاری بھی کفر کے برابر ہوتی ہے۔ نام کے مسلمان۔۔
نہ توکل، نہ صبر نہ شکر۔
دکان میں داخل ہوتے وقت  معمول کے مطابق، روزی میں برکت کے لیے سولہ دعائیں جو حضرت صاحب نے بتائیں تھیں ، وہ پڑھیں، اور  ردّ بلا کے لیےدم کیا۔
فیقا معمول کے مطابق میرےگدّی پر بیٹھتے ہی چائے لینے چلا گیا۔ ہماری دکان کے ساتھ ہی ایک چائے والا ہے لیکن اس کی چائے اچھی نہیں ہوتی۔اس لیے تھوڑی دور سے چائے منگوائی جاتی ہے۔ یہی کوئی پیدل پندرہ منٹ کا راستہ ہے۔
حضرت صاحب کے خطبات کی کیسٹ لگائی۔ اللہ تعالی نے ان کو  بے تحاشہ علم سے نوازا ہے۔ زبان میں جادو ہے۔ ہو نہیں سکتا کہ کوئی ان کا بیان سنے اور مرید نہ ہوجائے۔
حضرت صاحب بیان کررہے تھے کہ کیسے ایک دعا پڑھنے سے سب گناہ نہ صرف معاف ہوجاتے ہیں بلکہ نیکیوں میں بدل جاتے ہیں اور وہ بھی سو سے ضرب کھا کے۔
سبحان اللہ سبحان اللہ۔۔۔
اللہ  تعالی کتنے رحیم اور معاف کرنے والے ہیں۔۔
سبحان اللہ۔۔ سبحان اللہ۔۔۔
گیارہ بجے کے قریب پھر سے بھوک محسوس ہونے لگی۔۔ ناشتہ بھی برائے نام ہی کیا تھا۔ جیدا بڑے مزے کے سری پائے بنا تا ہے۔۔ نہ نہ کرتے بھی  چار نان کھا گیا۔پھر دو سیون اپ کی بوتلیں پی کر کچھ سکون ہوا۔
اس دفعہ گرمی بھی کچھ جلدی شروع ہوگئی ہے۔ دکان کے اندر ایک چھوٹا سا ائیر کولر رکھا ہوا ہے۔ اے سی خود ہی نہیں لگوایا کہ ٹیکس والے، کُتّوں کی طرح بُو سونگھتے ہوئے آجاتے ہیں۔ ایسی فاسق و فاجر حکومت کو ٹیکس دینا بھی حرام ہے۔ کرپٹ اور بے ایمان لوگ۔ ا س سے تو بہتر ہے کہ فوج کی حکومت آجائے۔ 
یہ غازی یہ تیرے پُراسرار بندے۔۔۔
ائیرکولر کے سامنے بیٹھتے ہی اونگھ سی آگئی۔۔
آنکھ کھلی تو ظہر کا وقت قریب تھا۔بھاگم بھاگ مسجد پہنچا۔۔ طویل عرصے سے  اذان دینے کا شرف بھی حاصل ہے۔
اللہ اللہ۔۔ کیا روح پرور کیفیت ہوتی ہے۔
استنجاء کے لیے مسجد کے بیت الخلاء میں گیا تو وہ اوور فلو ہورہا تھا۔ بڑی مشکل سے کپڑوں کو نجاست سے بچایا۔
صفائی نصف ایمان ہے۔
اس کا ہمیشہ بہت خیال رکھناچاہیے۔
ظہر کی نماز سے فراغت کے بعد دوپہر کا کھانا کھایا۔ مرغ پلاؤ اور شامی کباب بھی اللہ تبارک و تعالی کی کیسی عمدہ نعمتیں ہیں۔۔
اور تم اپنے رب کی کون کون سی نعمتوں کو جھٹلاوگے۔۔۔
کھانے سے فراغت کے بعد فیقے کو کہا کہ وہ بھی کھانا کھالے، وہ دوپہر کا کھانا گھر سے لاتا ہے۔
پتہ نہیں کیسی مہک ہوتی ہے اس میں کہ جی خراب ہونے لگتا ہے۔
اسی لیے اس کو منع کیا ہوا ہے کہ کھانا، دکان میں بیٹھ کر نہ کھایا کرے۔۔ بلکہ چائے والے کھوکھے کے سامنے پڑے بنچ پر بیٹھ کر کھالیا کرے۔
کھانا کھاتاہوئے بھی، ہڈ حرام، آدھ گھنٹہ لگادیتا ہے۔ ان جاہلوں کو یہ بھی نہیں پتہ کہ ایسے یہ اپنے رزق کو حرام کرتے ہیں۔ جہنم کا ایندھن۔
کھانے کے بعد قیلولہ کیا اور عصر سے پہلے مسجد میں حاضر تھا۔
اذان دینے  کی سعادت حاصل کی۔ نماز سے فارغ ہوکے حضرت صاحب کے بتائے ہوئے ورد اور وظائف کرنے میں تقریبا ایک گھنٹہ لگ گیا۔ 
واپس دکان پر پہنچا تو فیقے نے بتایا کہ دو تین گاہک  بھگتائے ہیں ۔ پوری توجہ سے بل  چیک کیے اور دکان میں موجود مال کی گنتی کی۔
اعتبار کا دور نہیں ہے۔ خاص طور پر ایسے کمزور ایمان والے لوگوں کا تو بالکل اعتبار نہیں کرنا چاہیے۔ جو اللہ تبارک و تعالی کو دھوکہ دینے کی کوشش کرسکتے ہیں وہ ہمارے جیسے گنہگاروں کو کیسے بخشیں گے؟
مغرب کی نماز ہمیشہ گھر کے قریب مسجد میں ادا کرتا ہوں۔اسی مسجد کی مسجد کمیٹی کا پچھلے سات سال سے بلامقابلہ صدر بھی ہوں۔ 
مغرب کی نماز سے فارغ ہوکے گھر پہنچا تو  بچے ٹی وی پر شاہ رخ خان کی فلم دیکھ رہے تھے۔
اچھا اداکار ہے۔ مجھے پسند ہے۔
ویسے بھی مسلمان ہے۔
اللہ اس کو اور کامیابیاں اور کامرانیاں عطا فرمائیں۔
رات کا کھانا، میں عشاء سے پہلے کھالیتا ہوں،
یہی حکم ہے۔
بھنڈی گوشت بنا ہوا تھا۔ خوب سیر ہوکے کھانا کھایا۔ کھانے کے بعد خربوزے کھائے۔ بہت میٹھے نکلے
ماشاءاللہ۔۔
حضرت صاحب نے ایک دفعہ بالمشافہ ملاقات میں بتایا تھا کہ خربوزے، قوت باہ کے لیے بہت مفید ہوتے ہیں۔  
حضرت صاحب کی تین بیبیاں ہیں اور تئیس بچے۔ 
نظربددُور۔
عشاء سے فراغت کے بعد والدہ محترمہ کی خدمت میں حاضری دی۔ 
ان کی سُوئی ابھی تک اسی پر اٹکی ہوئی تھی کہ۔۔
پُتّر ، برآمدے اچ پکھّا لوادے۔۔
بہوت گرمی لگدی اے مینوں۔۔۔  ٘
میں نے دل میں سوچا کہ اس دفعہ عمرے سے واپسی پر یہ کام بھی ضرور کردوں گا۔
والدین کی خدمت میں ہی عظمت ہے۔
سونے کے لیے لیٹا تو زوجہ سے حق زوجیت کی ادائیگی کی خواہش ظاہر کی۔
اس نے حسب معمول چوں چرا کی تو اسے سمجھایا کہ کارثواب پر چوں چرا کرناگناہ عظیم ہے اور دنیا آخرت کی بھلائی اسی میں ہے کہ مجازی خدا کی خواہشات پر اپنا آرام قربان کیا جائے۔
بہرکیف، جب تہبند سنبھالتے ہوئے،  بیت الخلاء جانے کےلیے اٹھا تو زوجہ سوچکی تھی۔




ہفتہ، 13 فروری، 2016

کہانیوں کے مسحورین


فہیم جدون : اچھی کہانی ہے ، میں نے بھی سنی تھی اپنی شادی سے پہلے اور میری بھی یہی خواہش تھی ، مگر کیا کیا جائے مسجدوں میں لڑکیوں کو آنے نہیں دیا جاتا تھا ۔
آپ کا بھی یہی حال ہو گا نا ؟

اب یہ کہانی دوبارہ تو نہیں لاکھوں بار دفعہ ، لیکن کیا کروں نہ "ارسلان الدین"  کو دلچسپی ہے اور نہ "ارمغان الدین" کو ، کہ " انسانوں کے بنائے ہوئے قبلہ اول بیت المقدس " کو آزاد کروائیں ۔
اور اِس عمر میں ، گردش ایام اگر پیچھے لی طرف لوٹانا چاھے تویہ دونوں جواں مرد اپنی والدہ کی قیادت میں کہیں "نعیم الدین" کو  ، زندگی کی قید سے آزاد نہ کر دیں ۔
لیکن وہ کیوں کریں سب سے پہلے تو چم چم ، لڈو اور برفی جلوس نکالیں گے ۔
ویسے ، نئی نسل کہانیوں کے مسحورین میں سے نہیں ، میرا یہ اندازہ تھا ۔ لیکن اب بدلنا پڑے گا !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
گورنر شادی کیوں نھیں کرتا تھا

~~~~~~ شہزادی ~~~~~~

ولایہ " تکریت" کا گورنر نجم الدین ایوب کافی عمر ھونے تک شادی سے انکار کرتا رھا، ایک دن اس کے بھائی اسدالدین شیر کوہ نے اس سے کہا : بھائی تم شادی کیوں نھیں کرتے ..؟
نجم الدین نے جواب دیا : میں کسی کو اپنے قابل نھیں سمجھتا .
اسدالدین نے کہا : میں آپ کیلئے رشتہ مانگوں  ؟
نجم الدین نے کہا : کس کا ؟
 اسدالدین : ملک شاہ بنت سلطان محمد بن ملک شاہ سلجوقی کی بیٹی کا یا وزیر المک کی بیٹی کا ..
نجم الدین ؛ وہ میرے لائق نھیں ،
اسدالدین حیرانگی سے : پھر کون تیرے لائق ھوگی ؟
نجم الدین نے جواب دیا : مجھے ایسی نیک بیوی چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے میرا اک ایسا بیٹا پیدا ھو جس کی وہ بہترین تربیت کرے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ..
اسدالدین کو نجم الدین کی بات پسند نہ آئی اور انہوں نے کہا  : ایسی تجھے کہاں ملے گی ؟
نجم الدین نے کہا : نیت میں خلوص ھو تو اللہ نصیب کرے گا ..
ایک دن نجم الدین مسجد میں تکریت کے اک شیخ کے پاس بیٹھے ھوئے تھے ، ایک لڑکی آئی اور پردے کے پیچھے سے ھی شیخ کو آواز دی ، شیخ نے لڑکی سے بات کرنے کیلئے نجم الدین سے معذرت کی ..نجم الدین سنتا رھا شیخ لڑکی سے کیا کہ رھا ھے ..
شیخ نے لڑکی سے کہا تم نے اس لڑکے کا رشتہ کیوں مسترد کردیا جس کو میں نے بھیجا تھا..؟
لڑکی : اے ھمارے شیخ اور مفتی وہ لڑکا واقعی خوبصورت  اور رتبے والا تھا مگر میرے لائق نھیں تھا
شیخ : تم کیا چاھتی ھو ؟
لڑکی : شیخ مجھے اک ایسا لڑکا چاھئیے جو میرا ھاتھ پکڑ کر مجھے جنت میں لے جائے اور اس سے مجھے اللہ ایک ایسا بیٹا دے جو شہسوار ھو اور مسلمانوں کا قبلہ اول واپس لے ،،
نجم الدین حیران رہ گیا کیونکہ جو وہ سوچتا تھا وھی یہ لڑکی بھی سوچتی تھی ..
نجم الدین جس نے حکمرانوں اور وزیروں کی بیٹیوں کے رشتے ٹھکرائے تھے شیخ سے کہا اس لڑکی سے میری شادی کروا دیں ،،
شیخ : یہ محلے کے سب سے فقیر گھرانے کی لڑکی ھے ..
نجم الدین : میں یہی چاھتا ھوں .
نجم الدین نے اس فقیر متقی لڑکی سے شادی کر لی اور اسی سے وہ شہسوار پیدا ھوا جسے دنیا سلطان صلاح الدین ایوبی کے نام سے جانتی ھے ..
جنہوں نے مسلمانوں کے قبلہ اول بیت المقدس کو آزاد کروایا ..

پھر دکھا دے اے تصور منظر وہ صبح شام تو
دوڑ  پیچھے  کی  طرف  اے  گردش  ایام  تو ..


〰〰〰〰➖〰〰〰〰
ویسے ایک بات تو بتاؤ سوچ کر ۔ نوجوان فہیم جدون !

کیا واقعی ، " قبلہ اول ، المعروف  بیت المقدس " آزاد نہیں ؟
حیرت ہے ؟




جمعہ، 12 فروری، 2016

بے نظیر زندہ رہے کی زرداری کے پلان کے مطابق !


اُس نے خود ہی تین دفعہ کال کیا اور پوچھا میں کال کیوں نہیں کرتا ، آپ کا ڈیٹا لکھنا ہے ۔

میں نے جواب دیا ،
" خدمتِ خلق کر رہے ہو تو ، سوپر کارڈ ڈلوا لو یا بولو پاکستان پیکج لے لو ، غریبوں کا بھلا ہوجائے گا ۔
کہنے لگا ، کہ آپ کیوں نہیں ڈلواتے ۔
میں نے کہا ،
میں تو مِس کال کرتا ہوں ، اگلاخود فون کرتا ہے ۔ میرے پاس تو 30 روپے بھی نہیں کہ بیلنس ڈلوا لوں ،
کمبخت کہنے لگا ،
اتنے غریب ہو تو بھیک کیوں نہیں مانگتے ۔
میں نے کہا ،
جبھی تو بے نظیر فنڈ کے لئے درخواست دی تھی ، تو 25000 روپے کا صدقہ ملا ہے ۔
پوچھنے لگا ، اِس رقم کا کیا کرو گے ؟
میں نے آواز میں حسرت اور دکھ سمیٹتے ہوئے کہا ،
شادی کروں گا ۔
خبیث کہنے لگا ،
فقیروں کو کون لڑکی دیتا ہے ؟
میں نے کہا ،
وہ بھی فقیر ہے ، کہتی ہے سونے کا دس تولے کا ھار دو گے تو شادی کروں گی ۔
دس تولے کا ، دس تولہ کتنے کا آتا ہے معلوم ہے ؟
میں نے کہا ھاں ، پہلی والی نے ، بیس تولے کا مانگا تھا میں نے دے دیا ۔
شادی ہوگئی تھی تمھاری ، اُس نے حیرت سے پوچھا ۔
ھاں ہوگئی تھی ، میرے سالے نے وہ سنار کو دکھایا ، اُس نے کہا یہ تو سونا نہیں ،
پھر کیا ہوا ۔ اس نے پوچھا
کچھ نہیں بے نظیر ہسپتال میں مہینہ رہا تھا ۔ میں نے جواب دیا ۔
اچھا پھر کیا ہوا ؟ اُس کا اشتیاق بڑھ چکا تھا اور وہ بھول گیا تھا کہ اُس کا موبائل بیلنس ختم ہو رہا ہے ۔
میں وہ شہر چھوڑ کر لاہور آگیا ۔ اب دوسری شادی کروں گا ؟
پہلے اور کتنی کی ہیں ؟ اُس نے پوچھا ۔
کوئی دس ہو چکی ہیں ۔ میں نے جواب دیا ۔
تم بہت بڑے فراڈئیے ہو ؟ وہ ہنستے ہوئے بولا ۔
نہیں تم سے چھوٹا ہوں ۔ نوجوان ۔ میں نے جواب دیا ۔
میں فراڈ نہیں ہوں ۔ وہ غصے سے بولا ۔
اچھا ، تو یہ پھر بے چاری بے نظیر کے نام پر یہ فراڈ سے لوگوں سے پیسے کیوں بٹور رہے ہو؟
کیا مطلب ؟ وہ بولا ۔ کیوں تم فقیر نہیں ہو ؟
میں فقیر ہی ہوں ، بلکہ وکھری ٹائیپ کا ، تم جیسے بھٹکے لوگوں کو عقل دکھانے والا ۔ ویسے میں ، پی ٹی اے میں شکایت کر کے تمھارے دونوں نمبر بلاک کرواتا ہوں ۔
اُس نے ایک گالی دے کر فون بند کر دیا !
ہیں ! آپ نے بھی فون بند کر دیا ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پی ٹی اے میں آن لائن کی گئی ،  شکایت کا جواب !پی ٹی اے کمپلین فارم کے لئے کلک کریں !


یو فون کی طرف سے ۔

http://www.pta.gov.pk/index.php?Itemid=760
 اِس شاطر آدمی نے یو فون کے نمبر کو ، موبی لنک پر شفٹ کروا لیا تھا ۔ تاکہ اگر آپ شکایت کریں تو یوفون والے کہیں کہ یہ ہمارا نمبر نہیں ، کسی اور موبائل کمپنی پر شفٹ ہو گیا ہے ۔ 
ٹیلی نور پاکستان کا شکریہ کہ انہوں نے بھی فراڈیوں کا نمبر بند کروادیا ۔ اور پی ٹی اے نے ، لوگوں کو معلومات دینا شروع کر دی ۔
برائی کے خلاف جب جہاد شروع ہوتا ہے تو قافلہ بنتا جاتا ہے ۔
شرط یہ ہے کہ کوئی اُٹھے ۔
تو آئیں ، اِن فراڈیں کو ہنس کر نہ چھوڑیں اور برائی کے شگوفے پھوٹنے سے پہلے انہیں کچل دیں ۔

آپ بھی ٹرائی کریں !
 پی ٹی اے کمپلین فارم کے لئے کلک کریں !

 ٭٭٭٭  ٭فراڈیوں کی خلاف مہاجر زادہ کا جہاد ۔ ٭٭٭٭٭
یہ بھی پڑھئیے 
٭-موبائل پر فراڈ
٭ -  انٹرنیٹ فراڈ   -
 ٭- ھیکرز - 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔