میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 31 مارچ، 2016

کمبخت میں تیرا باپ ھوں

 ابابیل اپنا گھونسلہ کنوئیں میں بناتی ھے۔ اس کے پاس اپنے بچوں کو اڑنے کی عملی تربیت دینے کے لئے نہ تو کوئی اسپیس یا سہولت دستیاب ھوتی ھے اور نہ ھی وہ کچی تربیت کے ساتھ بچوں کو اڑنے کا کہہ سکتی ھے کیونکہ پہلی اڑان میں ناکامی کا مطلب پانی کی دردناک موت ھے-
مزید کسی ٹرائی کے امکانات زیرو ھیں- آج تک اگر کسی نے ابابیل کے کسی مرے ھوئے بچے کو کنوئیں میں دیکھا ھے تو بتا دے..ابابیل بچوں کے حصے کی تربیت بھی اپنی ذات پر کرتی ھے-
بچوں سے پہلے اگر وہ اپنے گھونسلے سے دن بھر میں 25 اڑانیں لیتی تھی تو بچے انڈوں سے نکلنے کے بعد 75 اڑانیں لیتی ھے-
یوں ماں اور باپ 150 اڑانیں لیتے ھیں تا آنکہ اپنے بچوں کا دل و دماغ اس یقین سے بھر دیتے ھیں کہ یہاں سے اڑ کر سیدھا باھر جانا ھے اور بس !!
کوئی آپشن نہیں ھے۔ ایک دن آتا ھے کہ بچہ ھاتھ سےنکلے ھوئے پتھر کی طرح گھونسلے سے نکلتا ھے اور سیدھا جا کر کنوئیں کی منڈیر پر بیٹھ جاتا ھے !!!
ھماری اولاد ھمارے یقین میں سے اپنا حصہ پاتی ھے.. اگر ھم خود یقین اور عمل سے تہی دست ھونگے تو اولاد کو کیا دیں گے..؟
بچوں کو کہانیاں نہ سنایئے ! بلکہ عمل کر کے دکھایئے، یقین کریں وہ جتنا آپ پر اعتماد کرتے ھیں دنیا کے کسی کتابی ھیرو پہ نہیں کرتے..
اولاد کی خرابی میں خود ھماری اپنی کوتاھیوں کا ھاتھ ھوتا ھے، اولاد چونکہ ھمیں اسوہ سمجھتی ھے لہذا ھمارے کردار کا انتہائی دلچسپی سے جائزہ لیتی ھےـ
ھم جوں جوں دوستوں کے ساتھ فراڈ کرتے ھیں، جھوٹے وعدے کرتے ھیں، ان کا مذاق اڑاتے ھیں ، کسی کے لئے ذلت آمیز رویہ اختیار کرتے ھیں، بیوی پر ظلم کرتے ھیں، اولاد کی نظروں سے گرتے جاتے ھیں اور ایک وقت آتا ھے کہ ان کی نظر میں ھماری وقعت ایک ٹکے کی نہیں رہ جاتی، یہ وہ وقت ھوتا ھے کہ ھمیں اس کو شناختی کارڈ دکھا دکھا کر کہنا پڑتا ھے کہ

کمبخت میں تیرا باپ ھوں  ۔


سفارش !


بدھ، 30 مارچ، 2016

فریادِ مجنوں!

تیری ڈولی اُٹھی      -   میری میت اُٹھی
پھول تجھ پر بھی برسے    -   پھول مجھ پر بھی برسے 
فرق اتنا سا تھا
تو سج کے گئی -  مجھے سجایا گیا
تو بھی گھر کو چلی    -   میں بھی گھر کو چلا
فرق اتنا سا تھا   
 تو اُٹھ کے گئی      -      مجھے اٹھایا گیا
محفل وہاں بھی تھی    -   لوگ یہاں پر بھی تھے
فرق اتنا سا تھا
اُن کا ہنسنا وہاں  -  اُن کا رونا یہاں 
قاضی اُدھر بھی تھا  -  مولوی اِدھر بھی تھا 
دو بول تیرے پڑھے    -   دو بول میرے پڑھے

فرق اتنا سا تھا
تجھے اپنایا گیا  -  مجھے دفنایا گیا 
 
 




سوموار، 28 مارچ، 2016

ٹینڈم پیرا گلائیڈنگ

ٹینڈم پیرا گلائیڈنگ ، میں پائلٹ اور مسافر ہوتا ہے ، جو پائلٹ کے ساتھ ، گلائیڈنگ کا لطف اٹھاتا ہے ، یہ 12 سال سے کم عمر بچوں اور اُن مردو وخواتین کو کرایا جاتا جو پہلی بار جھجک محسوس کرتے ہیں موٹرائزڈ یا ونچ پیرا گلائیڈنگ میں نئے گلائیڈر کو ٹینڈم پیرا گلائیڈنگ کروائی جاتی ہے ۔

ٹینڈم پیرا گلائیڈنگ ، کم اونچائی سے فلائینگ ہو یا 2 ھزار فٹ کی بلندی سے ، اِس میں سوائے قدرتی خوف کے جو چند لوگوں میں پایا جاتا ہے اور میڈیکل ٹرمنالوجی میں ھائیٹ فوبیا کہلاتا ہے اور کسی خطرے کی بات نہیں ہوتی ۔
کم سے کم 50 کلوگرام سے 300 کلو گرام ، ٹیک آف ویٹ اٹھانے کے لئے بنائے جاتے ہیں ۔ لہذا 50 کلوگرام سے کم وزن والے گلائیڈر کو سولو ( تنہا) فلائینگ نہیں کروائی جاسکتی ۔ کیوں کہہ اُس کے لئے پیرا گلائیڈر کو کنٹرول کرنا مشکل ہو جاتا ہے ۔
نیز ، پاور گلائیڈر کے لئے نہایت اعلیٰ مہارت کی ضرورت ہوتی ہے ، جس میں پیرا گلائیڈر کو ، گراونڈ پر کئی مشقیں کروانے کے بعد سولو کی اجازت دی جاتی ہیں ، 

کیوں کہ پیرا گلائیڈنگ ایک ایسا شوق ہے ۔ جس میں انسانی حفاظت کا 100 فیصد خیال رکھا جاتا ہے ۔

ونچ پیرا گلائیڈنگ میں جتنی لمبی کھینچنے والی رسی ہو گی ، پیراگلائیڈر اتنی بلندی تک جاسکتا ہے - جو 3 ہزار فٹ یا اِس سے زیادہ ہو سکتی ہے ۔
 

 
جہاز کے ذریعے بلندی سے ، ٹینڈم پیرا سکائی ڈائیونگ بھی،  یورپی ممالک میں بہت مقبول ہے ۔ 






٭    ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭٭٭٭  ٭
٭                                                 -        پیرا گلائیڈنگ کیا ہے ؟
 ٭                                                 -       پیرا گلائیڈنگ ایک کھیل  
٭                                                 -     تھیوری ۔ پیرا گلائیڈر فلائیٹ ۔ 

 ٭                                                 -    پیرا گلائیڈر کنٹرولز
 ٭                                                 -  پیرا گلائیڈرز ۔ گراونڈ ٹریننگ 
 ٭                                                 -  بلندی سے پیرا گلائیڈنگ 
 ٭                                                 -  ٹینڈم پیرا گلائیڈنگ

٭                                                 -    پیرا گلائیڈنگ . سوالات


٭    ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭ ٭ ٭ ٭ ٭٭ ٭٭ ٭ ٭ ٭ ٭  ٭ ٭٭٭٭  ٭

جمعرات، 24 مارچ، 2016

ھیکرز: لنک پکچرز

فیس بک کے فورمز پر جتنی بھی فحش وڈیو کی تصویریں یا ایسی سرخیاں لنک کے ساتھ ڈالی ہیں جنھیں آپ کھولنے پر مجبور ہو جائیں ۔
http://lsklrkdlkfeo.vn.hn//57492-51543.x?i=XjI3 

وہ ہیکرز نے ڈالی ہیں ، جونہی آپ ان پر ماؤس لے جائیں گے ، وہ اگر کلک ہوگئی تو آپ ، اِس طرح کی ویب سائیٹ کے اکاونٹ پر چلے جائیں گے ، جو ویب میل بنانے کا لنک ہے ۔ 
اور کسی ھیکر کا میل بکس ہے ۔
 //57492-51543.x?i=XjI3

جہاں خودکار طریقے سے آپ کے فیس بک اکاونٹ کا پاسورڈ پہنچ جائے گا ۔  
لیکن پہلی کلک پر  یہ پیغام آئے گا ۔
 آپ سمجھیں گے کہ آپ کا نیٹ ورک آہتسہ چل رہا ہے ، آپ دائرے کے اندر پیغام کو کلک کریں گے ( یہ آپ کی دوسری کلک ہوگی )۔
یہ پیغام اور دوسری کلک ، ھیکرز کی دنیا میں ، Honour Code  کہلاتا ہے۔ ( بے ایمان سب سے زیادہ اصولوں پر چلتا ہے ۔ کہتےہیں جو مکھن لگاتا ہے اُسے چونا لگانا بھی آتا ہے )

 
جب تک آپ Click here  کو کلک نہیں کریں گے ۔ یہ پیغام رُکا رہے ۔
آپ کی بھیانک ، غلطی ، چارے پر منہ مارنا ہے ، اور اِس میں تمام شکاری بے بس ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ شکار خود کہتا ہے ۔
" آ بیل مجھے مار "
اور جناب ۔ آپ شکار بن گئے ، کیوں کہ پیغام آئے گا ۔ کہ ویب سائیٹ لوڈ نہیں ہو رہی ۔ 
جب کہ سب کچھ لوڈ ہو چکا ہے ۔ اور ھیکر کھڑا قہقہے لگا رہا ہے ۔


شکار چارے پر ایک دفعہ منہ نہیں مارتا ، جب دوسری دفعہ منہ مارا جاتا ہے ۔ تو شکاری کا "قصور" نہیں اور نہ ہی "ظہیر عباس " کا ہے ۔

آپ " طعامِ عام " کا شکار ہوچکے ہیں اور دوبارہ منہ ماریں گے تو یوں سمجھیں کہ آپ نے اپنے فیس بک کے تمام دوستوں کو دعوتِ عام دے دی ہے ۔
چنانچہ وہ " تصویر یا وڈیو " جو آپ دیکھنے کے لئے بے تاب تھے ۔ آپ کی طرف سے  نشر ہوگئی اور دوست ۔ ۔ ۔ ۔ !
آپ کو اَن فرینڈ کر رہے ہوں گے ۔ یا آپ کے بھیجے ہوئے چارے پر منہ مار رہے ہوں گے ۔ 

لیکن اگر آپ ، ہوشیار ہیں تو پھر Click here  کرنے پر 


آپ اِس لنک پر چلے جائیں گے -
  http://topshotel.info/shangri-la-hotel.html

جو آسٹریلیا کی کسی شنگریلا ہوٹل کا لنک ہے
یہ پروگرام لینگویج میں ،   if  اور if Not   کا کھیل ہے !

اگر بے وقوف شخص نے کلک (1) کیا ۔ 
تو یہاں جانا اور رک جانا
اگر پھر کلک
(2) کیا اور اگر فیس بک پر لاگ اِن ہے تو یہاں جانا ( یعنی ویب سائیٹ کام نہیں کر رہی )
اور اگر دوبارہ تصویر کو کلک کرتا ہے تو ، اِس احمق کے اکاونٹ میں موجود سارے دوستوں کو پیغام بھیجنا شروع کر دینا
( فیس بُک احمق کچھ جلدی نہیں کر رہے تم روبوٹ تو نہیں ، وضاحت کرو ) ۔ 
چونکہ یہ Spamming احمق نہیں کر رہا ۔ لہذا فیس بک ، پہلے 20 یا 30 دوستوں کے بعد فیس بک اِس تصویر کو نشر کرنا روک دے گا ۔ 

مگر عزتِ سادات تو خاک میں مل چکی ہوگی نا-
اور ممکن ہے کہ اکاونٹ بھی ھیک ہوچکا ہوگا ، اگر آپ نے ، پاسورڈ کنفرمیشن کے لئے اپنا موبائل نمبر نہیں بلکہ ای میل نمبر دیا ہو تو ۔
 احتیاط :
1- کسی بھی تجسس پیدا کرنے والے پیغام کو ، ان بکس یا فیس بک کے فورمز میں دیئے ہوئے کمنٹس پر کلک نہ کریں ۔
2- اگر احمق بننے کا شوق ہو تو ۔ لنک کاپی کریں ، فیس بک کو لاگ آؤٹ کریں ، یا دوسرے ویب براوزر کو کھولیں ۔ اُس پر لنک کو ٹیسٹ کریں ۔ 

اگر آپ اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ سے اپنا بنک اکاونٹ بھی آپریٹ کرتے ہوں تو پھر اپنے پاس ورڈ خود یاد رکھیں اور کمپیوٹر کو مت یاد کرنے دیں ۔

فرموداتِ مُفتی !


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭





بدھ، 23 مارچ، 2016

یومِ تجدیدِ عہد 23 مارچ !

برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے ستائیسویں سالانہ اجلاس (منعقدہ لاہور) میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا تاکہ ،
" مسلمانوں کے ہندوؤں کے مقابلے میں سیاسی حقوق کا تحفظ ہوسکے اور وہ سکون سے زندگی بسر کرسکیں - ورنہ مذہبی رسومات و عبادات پر برٹش حکومت کی طرف سے کوئی روک ٹوک نہیں تھی "
برصغیر میں، مغربی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی، کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک قوم نہیں بستی۔  ہندو کی سیاسی اکثریت کی وجہ سے  کسی بھی نوعیت کے آئینی تحفظ سے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ ان مفادات کا تحفظ صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو انڈیا ( ہند استھان )  اور مسلم انڈیا (پاک استھان ) میں تقسیم کردیا جائے ۔ ‘‘
 یومِ تجدیدِ عہد کو، وفا کب کرنا ہے
ہندو و مسلماں میں، فرق کرنے والو
کیسے ممکن ہے ، کہ سب ایک ہوجائیں
ذات و فرقہ کی، تفریق میں پڑنے والو

منگل، 22 مارچ، 2016

تمام دوستوں کو یومِ قراردادِ پاکستان مبارک ہو !


برصغیر پاک وہند کی تاریخ میں 23 مارچ 1940 کا دن نہایت اہمیت کا حامل ہے۔ اس دن برصغیر کے مسلمانوں کی واحد نمایندہ جماعت مسلم لیگ نے قائد اعظم محمد علی جناح کی ولولہ انگیز قیادت میں اپنے ستائیسویں سالانہ اجلاس (منعقدہ لاہور) میں ایک آزاد اور خودمختار مملکت کے قیام کا مطالبہ کیا تھا تاکہ مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ ہوسکے اور وہ اپنے اپنے دین، کے مطابق سکون سے زندگی بسر کرسکیں۔

قرارداد لاہور سے پیشتر قائد اعظم نے 9 مارچ 1940 کو مشہور انگریزی ہفت روزہ ٹائم اینڈ ٹائڈ میں واضح طور پر ہندوستان کے سیاسی مستقبل کے بارے میں لکھا تھا کہ ’’ہندوستان کا سیاسی مستقبل کیا ہے؟ جہاں تک حکومت برطانیہ کا تعلق ہے وہ اپنے اس مقصد کا اعلان کرچکی ہے کہ ہندوستان کو جلدازجلد State of West Minister کے مطابق دولت مشترکہ کے دوسرے ارکان کے برابر آزادی دی جائے گی اور اس مقصد کی تکمیل کے لیے وہ ہندوستان میں اسی قسم کا جمہوری آئین نافذ کرنا چاہتی ہے جس کا اسے خود تجربہ ہے اور جسے وہ سب سے بہتر سمجھتی ہے۔ اس طرز کے آئین کا بنیادی اصول یہ ہے کہ جو سیاسی جماعت انتخابات میں کامیاب ہو اسی کے ہاتھ میں عنان حکومت ہو۔
 لیکن برطانوی طرز کا پارلیمانی آئین ہندوستان کے لیے ہرگز مناسب نہیں۔ برطانوی قوم صحیح معنوں میں ایک یک رنگ اور متحد قوم ہے اور وہاں جس طرز کی جمہوریت رائج ہے وہ اسی قومی یک رنگی اور اتحاد کی بنیاد پر قائم ہے، مگر ہندوستان میں حالات بہت مختلف ہیں اور قومی یک رنگی یہاں مفقود ہے۔
لہٰذا برطانوی طرز کی جمہوریت اس ملک کے لیے بالکل موزوں نہیں۔ ہندوستان کی آئینی الجھنوں کا بنیادی سبب یہی ہے کہ یہاں ناموزوں اور ناموافق طرز حکومت کے قیام پر اصرار کیا جارہا ہے۔‘‘22 مارچ 1940 کو لاہور کے مشہور منٹو پارک میں جسے اب اقبال پارک کہا جاتا ہے، مسلم لیگ کا کل ہند سالانہ اجلاس شروع ہوا۔ اس سے چار روز پیشتر لاہور میں ایک ناخوشگوار واقعہ پیش آیا، خاکساروں نے دفعہ 144 کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسلم جلوس نکالا اور حکومت پنجاب نے ان پر اندھا دھند فائرنگ کرکے متعدد خاکساروں کو شہید کردیا، اس وجہ سے شہر میں کافی کشیدگی پھیل چکی تھی، بعض لوگوں نے قائد اعظم کو جلسہ ملتوی کرنے کا مشورہ دیا، لیکن قائد اعظم نے ان کی رائے سے اتفاق نہیں کیا اور جلسہ مقررہ تاریخ پر منعقد کرنے کا فیصلہ کیا۔
مسلم لیگ کا یہ اجلاس تاریخی لحاظ سے بہت اہم تھا اور اس اجلاس میں ہندوستان کے کونے کونے سے پچاس ہزار سے بھی زائد مندوبین نے شرکت کی۔ اجلاس کی صدارت قائد اعظم محمد علی جناح نے کی۔ اس موقع پر قائد اعظم نے فی البدیہہ خطبہ صدارت دیا۔ اپنی طویل تقریر میں قائد اعظم نے ملک کے سیاسی حالات کا تفصیلی جائزہ لیا اور کانگریسی لیڈروں سے اپنی گفتگو اور مفاہمت کی کوششوں کی تفصیلات بتائیں۔ اس کے بعد مسلمانوں کی علیحدہ حیثیت کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ ’’ہندو اور مسلم فرقے نہیں بلکہ دو قومیں ہیں۔ اس لیے ہندوستان میں پیدا ہونے والے مسائل فرقہ وارانہ نہیں بلکہ بین الاقوامی نوعیت کے ہیں۔
یہاں مغربی جمہوریت کامیاب نہیں ہوسکتی کیونکہ ہندوستان میں صرف ایک قوم نہیں بستی۔ چونکہ یہاں ہندو اکثریت میں ہیں اس لیے کسی بھی نوعیت کے آئینی تحفظ سے مسلمانوں کے مفادات کی حفاظت نہیں ہوسکتی۔ ان مفادات کا تحفظ صرف اس طرح ہوسکتا ہے کہ ہندوستان کو ہندو اور مسلم انڈیا میں تقسیم کردیا جائے۔ ہندو مسلم مسئلے کا صرف یہی حل ہے اگر مسلمانوں پر کوئی اور حل ٹھونسا گیا تو وہ اسے کسی صورت میں بھی قبول نہیں کریں گے‘‘۔
قائد اعظم کی اس تاریخی تقریر سے اگلے روز یعنی 23 مارچ 1940 کو شیر بنگال مولوی فضل الحق نے وہ تاریخی قرارداد پیش کی جسے قرارداد لاہور کہا جاتا ہے جو آگے چل کر قیام پاکستان کی بنیاد قرار پائی۔ اس قرارداد میں مطالبہ کیا گیا کہ ’’کوئی بھی دستوری خاکہ مسلمانوں کے لیے اس وقت تک قابل قبول نہیں ہوگا جب تک ہندوستان کے جغرافیائی اعتبار سے متصل وملحق یونٹوں پر مشتمل علاقوں کی حد بندی نہ کی جائے اور ضروری علاقائی ردوبدل نہ کیا جائے اور یہ کہ ہندوستان کے شمال مغربی اور شمال مشرقی علاقوں میں جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے انھیں خودمختار ریاستیں قرار دیا جائے.
جس میں ملحقہ یونٹ خودمختار اور مقتدر ہوں اور یہ کہ ان یونٹوں کی اقلیتوں کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کے لیے ان کے صلاح و مشورے سے دستور میں مناسب و موثر اور واضح انتظامات رکھے جائیں اور ہندوستان کے جن علاقوں میں مسلمان اقلیت میں ہیں وہاں ان کے اور دیگر اقلیتوں کے صلاح مشورے سے ان کے مذہبی، ثقافتی، اقتصادی، سیاسی، انتظامی اور دیگر حقوق و مفادات کے تحفظ کی ضمانت دی جائے‘‘۔

سوموار، 21 مارچ، 2016

کائینات کی تخلیق

کوئی بھی انسانی فارمولا کبھی مکمل اور درست نہیں ہو سکتا ، وقت کا پہیہ اس میں تبدیلیاں کرتا رہتا ہے ۔ لیکن
٭ -  کتاب اللہ وہی ہے جو روز اول سے تحریر ہوئی ۔
٭ -  الکتاب وہی ہے جو ہمارے ہاتھوں میں ہے ۔
یہ دونوں انسان کی اندرونی کائینات میں تبدیلیاں لاتی ہیں ۔

آج سے دس سال پہلے جو میرا علم تھا وہ آج تبدیل ہو چکا ہے ۔
کتاب اللہ سے نمودار ہونے والے انٹر نیٹ اور موبائل نے میری اندرونی کائینات کو تبدیل کر دیا ہے ۔

تبدیلی ، تبدیلی اور تبدیلی انسان کی ترقی کی اہم سیڑھی ہے ۔

 إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَات وَالأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ذَلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلاَ تَظْلِمُواْ فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُواْ الْمُشْرِكِينَ كَآفَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَآفَّةً وَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ [9:36]

وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ وَكَانَ عَرْ‌شُهُ عَلَى الْمَاءِ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا ۗ وَلَئِن قُلْتَ إِنَّكُم مَّبْعُوثُونَ مِن بَعْدِ الْمَوْتِ لَيَقُولَنَّ الَّذِينَ كَفَرُ‌وا إِنْ هَـٰذَا إِلَّا سِحْرٌ‌ مُّبِينٌ ﴿11/7﴾

يُدَبِّرُ‌ الْأَمْرَ‌ مِنَ السَّمَاءِ إِلَى الْأَرْ‌ضِ ثُمَّ يَعْرُ‌جُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ أَلْفَ سَنَةٍ مِّمَّا تَعُدُّونَ ﴿السجدة: ٥﴾
تَعْرُ‌جُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّ‌وحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُ‌هُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴿المعارج: ٤﴾
 روز اول سے سال کے بارہ مہینے مقرر ہیں قمری ہوں یا شمسی ۔
إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ‌ عِندَ اللَّـهِ اثْنَا عَشَرَ‌ شَهْرً‌ا فِي كِتَابِ اللَّـهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضَ مِنْهَا أَرْ‌بَعَةٌ حُرُ‌مٌ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ وَقَاتِلُوا الْمُشْرِ‌كِينَ كَافَّةً كَمَا يُقَاتِلُونَكُمْ كَافَّةً وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّـهَ مَعَ الْمُتَّقِينَ [9:36]
کتاب اللہ :
اللہ کے علاوہ کائینات میں پھیلی ہوئی ۔ اللہ کی وحی " کتاب اللہ " کا حصہ ، "کن" جو اللہ کا کلام ہے ۔ "کن" جو اللہ کی آیات کی ابتداء کو "یکن" کی انتہا تک پہنچاتا ہے ۔
"اللہ کی آیات " جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہے ، جو حاضر بھی ہے اور ہماری نظروں سے غائب بھی ۔ سب خالق کائینات کے "کن" سے اس کے "امر" کی ابتداء اور پھر آیات کا سلسلہ اتنا طویل ہے ۔ کہ اللہ کے "کلمات" کا شمار نہیں ۔ ناممکنات میں سے ہے ۔
ثُمَّ اسْتَوَىٰ إِلَى السَّمَاءِ وَهِيَ دُخَانٌ فَقَالَ لَهَا وَلِلْأَرْ‌ضِ ائْتِيَا طَوْعًا أَوْ كَرْ‌هًا قَالَتَا أَتَيْنَا طَائِعِينَ ﴿فصلت: ١١﴾
محمد رسول اللہ نے انسانوں کو ,
انسانی سائینسی تحقیق سے پہلے بتایا :
مکمل کائینات "دخان (آبی بخارات)" پر مشتمل تھی ۔



أَوَلَمْ يَرَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنَّ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ كَانَتَا رَتْقًا فَفَتَقْنَاهُمَا وَجَعَلْنَا مِنَ الْمَاءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ أَفَلَا يُؤْمِنُونَ [21:30]
سائنسی تحقیق سے قبل رسول اللہ نے انسانوں کو اللہ کی طرف سے بریکنگ نیوز بتائی جسے سُن کر یقینا وہ ششدر رہ گئے ہوں گی ۔
یہ مکمل کائینات اور الارض ، رَتْقًا " ون یونٹ " ماس تھی - گویا یہ ون یونٹ ماس دو شئے پر مشتمل تھا ۔
تو جب اللہ نے اِس اِن دونوں اشیاء پر مشتمل ون یونٹ ماس کو فَتَقْنَا (پھاڑا ) کیا
تو زمین پر ہر ذی حیات پانی سے تخلیق کی ۔
ہے نا عجیب بات ، کہ مکمل "ون یونٹ ماس" پانی تھی ۔ مگر دُخان کی طرح !
کیا خیال ہے آپ کا ؟
فَقَضَاهُنَّ سَبْعَ سَمَاوَاتٍ فِي يَوْمَيْنِ وَأَوْحَى فِي كُلِّ سَمَاءٍ أَمْرَهَا وَزَيَّنَّا السَّمَاءَ الدُّنْيَا بِمَصَابِيحَ وَحِفْظًا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ [41:12]
رسول اللہ نے بتایا کہ اللہ سے نباء ملی کہ :
سَبْعَ سَمَاوَاتٍ ، صرف دو دن میں بنے ، اُن کو اُن کا أَمْرَ وحی ہوا ۔
اور زمین کے آسمان کو مصابیح سے زینت بنایا - اور پھر حفاظت کا انتظام کیا ۔
گویا باقی پانچ
سَمَاوَاتٍ ، کا کوئی انتظام نہیں لیکن ، اُنہیں  أَمْرَ دیا ہوا ہے کیا ؟
ہمیں معلوم نہیں ، کیوں کہ وہ ہمارا مرکز نہیں ۔
تو کیا ہمارا مرکز زمین ہے ؟


قُلْ أَئِنَّكُمْ لَتَكْفُرُونَ بِالَّذِي خَلَقَ الْأَرْضَ فِي يَوْمَيْنِ وَتَجْعَلُونَ لَهُ أَندَادًا ذَلِكَ رَبُّ الْعَالَمِينَ [41:9]
اِس سے کفر نہ کرنا ، کہ الارض دو دن میں نہیں بنی !
وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفًا مَّحْفُوظًا وَهُمْ عَنْ آيَاتِهَا مُعْرِضُونَ [21:32]
جس آسمان کو الارض کے لئے اللہ نے زینت بنا ، اُسے کو اللہ نے محفوظ سقف (آڑ) بھی بنا دیا ۔
وَجَعَلَ فِيهَا رَوَاسِيَ مِن فَوْقِهَا وَبَارَكَ فِيهَا وَقَدَّرَ فِيهَا أَقْوَاتَهَا فِي أَرْبَعَةِ أَيَّامٍ سَوَاءً لِّلسَّائِلِينَ [41:10]
دو دن میں الارض بنانے کے بعد 4 مزید دنوں میں اُس پر اپنی برکت مکمل کر دی جو آج بھی ہم دیکھتے ہیں اور سوال بھی کرتے ہیں !

الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۚ الرَّحْمَـٰنُ فَاسْأَلْ بِهِ خَبِيرًا ﴿25/59﴾
وَإِذَا قِيلَ لَهُمُ اسْجُدُوا لِلرَّحْمَـٰنِ قَالُوا وَمَا الرَّحْمَـٰنُ أَنَسْجُدُ لِمَا تَأْمُرُنَا وَزَادَهُمْ نُفُورًا ۩
﴿25/60﴾
 وَجَعَلْنَا فِي الْأَرْضِ رَوَاسِيَ أَن تَمِيدَ بِهِمْ وَجَعَلْنَا فِيهَا فِجَاجًا سُبُلًا لَّعَلَّهُمْ يَهْتَدُونَ ﴿21/31﴾ 
الارض کو اصولِ توازن پر متوازن کیا ۔
اللَّـهُ الَّذِي خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ وَمَا بَيْنَهُمَا فِي سِتَّةِ أَيَّامٍ ثُمَّ اسْتَوَىٰ عَلَى الْعَرْشِ ۖ مَا لَكُم مِّن دُونِهِ مِن وَلِيٍّ وَلَا شَفِيعٍ ۚ أَفَلَا تَتَذَكَّرُونَ  ﴿32/4﴾
  أَلَمْ تَرَ أَنَّ اللَّهَ يُزْجِي سَحَابًا ثُمَّ يُؤَلِّفُ بَيْنَهُ ثُمَّ يَجْعَلُهُ رُكَامًا فَتَرَى الْوَدْقَ يَخْرُجُ مِنْ خِلَالِهِ وَيُنَزِّلُ مِنَ السَّمَاءِ مِن جِبَالٍ فِيهَا مِن بَرَدٍ فَيُصِيبُ بِهِ مَن يَشَاءُ وَيَصْرِفُهُ عَن مَّن يَشَاءُ يَكَادُ سَنَا بَرْقِهِ يَذْهَبُ بِالْأَبْصَارِ  ﴿24/43﴾
 
وَهُوَ الَّذِي خَلَقَ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ وَالشَّمْسَ وَالْقَمَرَ كُلٌّ فِي فَلَكٍ يَسْبَحُونَ  ﴿21/33﴾
وَسَخَّر لَكُمُ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ دَآئِبَينَ وَسَخَّرَ لَكُمُ اللَّيْلَ وَالنَّهَارَ  ﴿14/33﴾
وَالشَّمْسُ تَجْرِي لِمُسْتَقَرٍّ لَّهَا ذَلِكَ تَقْدِيرُ الْعَزِيزِ الْعَلِيمِ  ﴿36/38﴾

إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ  ﴿81/1﴾
وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ
﴿81/2﴾
وَإِذَا الْجِبَالُ سُيِّرَتْ
﴿81/3﴾




















اتوار، 20 مارچ، 2016

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر

خالص مٹی سے بنا ہوا گھر !
ہمارے بچپن میں ، اِس میں پنکھے نہیں لگائے جاتے تھے ۔ پانی کے مٹکے ، لکڑی پر تو نہیں مٹی کے تھڑے پر ، پٹ سن کی بوری یا خس میں لپیٹے ہوتے تھے ، پینے کے بعد جو پانی بچتا تھا ، وہ بوری پر ڈال دیا جاتا۔
کیا ٹھنڈا اور سوندھی خوشبو والا پانی ہوتا تھا ،
ہاں مٹکے اس طرح دھوپ میں بھی نہیں پڑے ہوتے تھے ۔
نیم کے درخت کی چھاؤں میں ہوتے ۔
ورنہ دھوپ میں تو پانی " بھاپ " مارتا ہے ۔  گرو جی

ہمارے بلاگروں کے بلاگر ، نجیب عالم شیخ عرف شیخو جنھیں میں پیار سے ، گرو ! کہتا ہوں کی لگائی ہوئی اِس پوسٹ نے چشمِ زدن میں ماضی میں دھکیل دیا ۔
اور یکے بعد دیگرے یادیں ، ذہن کے گوشوں سے چھلانگ مار مار کر باہر نکلنے لگیں ،
 بلکل ایسے جب دادی ، میر پور خاص میں گورنمنٹ کی طرف سے مہاجروں کو الاٹ کئے گئے اسی طرح کے کچی اینٹوں سے بنے ہوئے گھر میں مرغی کا ٹوکرا صبح صبح اٹھاتیں تو دس بارہ چوزے کُودتے ہوئے باہر نکلتے تو تین سالہ نمّو ، کو پہلے ہی وہ چارپائی پر بٹھا دیتیں وہ چوزوں کی شرارتوں پر کھلکھلا کر ہنستا ۔
" دادی ، وہ تالا تودا ، توترے میں ہے" نمّو چلاتا
" اُتے مُدے دو ، دادی اُتے مُدے دو"
بھورے ، سفید ، سرمئی چوزوں کی فوج میں ایک ہی کالا چوزہ تھا ، جو بہت سست تھا ، وہ دادی نے نمّو کو دے دیا تھا ۔
جب دادی چوزے کو نمُو کے ھاتھ میں چارپائی پر دیتیں تو وہ وہیں بیٹھا رہتا ، باقی تو بہت تیز تھے ، ایک تو نمّو کے ہاتھ سے باجرہ چُگتے وقت بہت زور کی ٹھونگیں مارتے اور دوسرے موقعہ پا کر چارپائی سے چھلانگ مار کر دوڑ جاتے ۔
نمّو کو چوزوں سے ڈر لگتا تھا ، کیوں کہ وہ
نمّو کے پاؤں پر ٹھونگیں مارا کرتے اور نمّو سمجھتا کہ وہ اُسے کھانے لگے ہیں ۔
کچی اینٹوں سے بنا ہوا یہ مکان ،
نمّو کےچچا کو الاٹ ہوا تھا اور نمّو چھٹیوں میں اپنی امی ، آبا ، آپا اور چھوٹے بھائی کے ساتھ ایبٹ آباد سے میرپورخاص چھٹیاں گذارنے آیا تھا ۔ یہ غالبا دسمبر1956 کی بات ہے ۔
دادی گھر کا پورا صحن لیپتیں ، گھر کے ایک کونے میں چولہا تھا ۔ پچھلے حصے کی طرف نکلنے والے دروازے کے باہر ، دادی نے کیکر کی پرانی ٹہنیوں کی دیوار بنا کر جامن ، امرود اور موگرے کے پودے لگائے تھے  اور سامنے کے صحن کے بیچوں بیچ نیم کا پودا لگا تھا جو عارضی مہاجر کیمپ سے ، اس مکان میں آنے کے بعد دادی نے لگایا تھا ۔ 
اِس کے نیچے دادی نے چبوترہ بنایا تھا ، اُس میں پکی اینٹوں کے چھوٹے چھوٹے ٹکڑے ڈالے تھے اور باورچی خانے کی طرف دو مٹکیاں رکھی تھیں جن میں سے ایک میں دادی سونف کا پانی بھی ڈالتیں جو خوشبو کے ساتھ ھاضم بھی ہوتا اور دائیں بائیں دو " گول"۔
 گول، سندھ میں استعمال ہوتا ھے مٹی کا بنا ہوا یہ بڑا مٹکا ہوتا ہے ، اِس میں پانی بھی بھرتے ہیں اور چوہوں سے بجانے کے لئے گندم رکھنے کے کام بھی آتا ہے ۔
اِس میں سے پانی نکالنے کے لئے ، دادی نے ناریل کے خول کے ساتھ لمبی لکڑی لگا کے پیالہ بنایا تھا ۔
صبح صبح سرکاری ماشکی آتا وہ دونوں مٹکے اور دو گول بھر جاتا ، جو سارا دن کی پانی کی سپلائی ہوتی ۔
یہی پانی صبح صبح ماشکی کے آنے سے پہلے پودوں کو بھی ڈالا جاتا اور لپائی کے کام بھی آتا ۔
نیم کے درخت سے اکلوتے کمرے اور باورچی خانے کے سامنے ایک دالان سا بنا تھا ، جو ایک فٹ اونچا تھا اور مزید ایک فٹ کی مٹی کی دیوار تھی، جس پر خصوصی لپائی ہوتی ، اور وہاں سے آگے جوتے لے کر جانا سختی سے منع تھا ۔
چوزے اور مرغی کو دادی نے استشناء دی ہوئی تھی کیوں کہ وہ مار کے ڈر کو ایک طرف رکھ کر اِس پوّتر جگہ گُھسنے کا جرم کر لیتی ۔ اگر انہیں صبح گھر میں روکا جاتا ، ورنہ ، دانہ ڈالنے کے بعد دادی انہیں باہر کا راستہ دکھاتی جہاں وہ اپنے دوسری ہم جولیوں کے ساتھ تفریح ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنا اور لڑائی جیسا کھیل کھیلتیں ۔
نیم کے درخت کے دادی بتاتیں بہت سے فائدے ہوتے ہیں ، لیکن نمّو اور آپا نے اُس کا نقصان ہی دیکھا ، دادی نے بڑے شوق سے سکھائے ہوئے پھول اور نرم پتے سنبھال کر رکھے تھے جو شام کو اُبالے جاتے ، آپا اور نمّو کو ساڑھے پانچ فٹ دُرّانی دادی ، اپنی رانوں میں دبا کر ایک ہاتھ سے منہ کھولتیں اور دوسرے ھاتھ سے نیم بھرے پانی کے پیتل کے لوٹے کی ٹونٹی نمّو کے حلق تک پہنچا دیتیں ، غڑاپ غڑاپ کی آوازوں کے ساتھ جیسے کوئی پانی میں ڈوبتا ہے ۔ وہ کڑوا پانی لگاتار دو ماہ تک نمّو کے پیٹ میں جاتا ، پھر روتے چنگھاڑتے نمّو کو دادی پیار کرتیں اور اپنی تجوری سے اپنے ہاتھ  سے بنائی بالو شاہی کا چوتھائی چورا کر کے آپا اور نمّو کے منہ میں ڈالتیں ۔ آپا تو اِس ظلم کا شکار کم ہوئی کیوں کہ وہ اور چھوٹا بھائی ، امی کے ساتھ ، آدھا کلومیٹر دور خالہ کے گھر اکثر جاتے اور نمّو دادی کے پاس رہتا ۔
اِس کا فائدہ نمّو کو آج تک یہ ہوا ، کہ کھٹمل کی دہشت انگیزی سے یکسر اور مچھروں کی یلغار سے نمّو آج بھی بچا رہتا ہے ۔ 


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔