میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 24 مارچ، 2016

ھیکرز: لنک پکچرز

فیس بک کے فورمز پر جتنی بھی فحش وڈیو کی تصویریں یا ایسی سرخیاں لنک کے ساتھ ڈالی ہیں جنھیں آپ کھولنے پر مجبور ہو جائیں ۔
http://lsklrkdlkfeo.vn.hn//57492-51543.x?i=XjI3 

وہ ہیکرز نے ڈالی ہیں ، جونہی آپ ان پر ماؤس لے جائیں گے ، وہ اگر کلک ہوگئی تو آپ ، اِس طرح کی ویب سائیٹ کے اکاونٹ پر چلے جائیں گے ، جو ویب میل بنانے کا لنک ہے ۔ 
اور کسی ھیکر کا میل بکس ہے ۔
 //57492-51543.x?i=XjI3

جہاں خودکار طریقے سے آپ کے فیس بک اکاونٹ کا پاسورڈ پہنچ جائے گا ۔  
لیکن پہلی کلک پر  یہ پیغام آئے گا ۔
 آپ سمجھیں گے کہ آپ کا نیٹ ورک آہتسہ چل رہا ہے ، آپ دائرے کے اندر پیغام کو کلک کریں گے ( یہ آپ کی دوسری کلک ہوگی )۔
یہ پیغام اور دوسری کلک ، ھیکرز کی دنیا میں ، Honour Code  کہلاتا ہے۔ ( بے ایمان سب سے زیادہ اصولوں پر چلتا ہے ۔ کہتےہیں جو مکھن لگاتا ہے اُسے چونا لگانا بھی آتا ہے )

 
جب تک آپ Click here  کو کلک نہیں کریں گے ۔ یہ پیغام رُکا رہے ۔
آپ کی بھیانک ، غلطی ، چارے پر منہ مارنا ہے ، اور اِس میں تمام شکاری بے بس ہوتے ہیں ۔ کیوں کہ شکار خود کہتا ہے ۔
" آ بیل مجھے مار "
اور جناب ۔ آپ شکار بن گئے ، کیوں کہ پیغام آئے گا ۔ کہ ویب سائیٹ لوڈ نہیں ہو رہی ۔ 
جب کہ سب کچھ لوڈ ہو چکا ہے ۔ اور ھیکر کھڑا قہقہے لگا رہا ہے ۔


شکار چارے پر ایک دفعہ منہ نہیں مارتا ، جب دوسری دفعہ منہ مارا جاتا ہے ۔ تو شکاری کا "قصور" نہیں اور نہ ہی "ظہیر عباس " کا ہے ۔

آپ " طعامِ عام " کا شکار ہوچکے ہیں اور دوبارہ منہ ماریں گے تو یوں سمجھیں کہ آپ نے اپنے فیس بک کے تمام دوستوں کو دعوتِ عام دے دی ہے ۔
چنانچہ وہ " تصویر یا وڈیو " جو آپ دیکھنے کے لئے بے تاب تھے ۔ آپ کی طرف سے  نشر ہوگئی اور دوست ۔ ۔ ۔ ۔ !
آپ کو اَن فرینڈ کر رہے ہوں گے ۔ یا آپ کے بھیجے ہوئے چارے پر منہ مار رہے ہوں گے ۔ 

لیکن اگر آپ ، ہوشیار ہیں تو پھر Click here  کرنے پر 


آپ اِس لنک پر چلے جائیں گے -
  http://topshotel.info/shangri-la-hotel.html

جو آسٹریلیا کی کسی شنگریلا ہوٹل کا لنک ہے
یہ پروگرام لینگویج میں ،   if  اور if Not   کا کھیل ہے !

اگر بے وقوف شخص نے کلک (1) کیا ۔ 
تو یہاں جانا اور رک جانا
اگر پھر کلک
(2) کیا اور اگر فیس بک پر لاگ اِن ہے تو یہاں جانا ( یعنی ویب سائیٹ کام نہیں کر رہی )
اور اگر دوبارہ تصویر کو کلک کرتا ہے تو ، اِس احمق کے اکاونٹ میں موجود سارے دوستوں کو پیغام بھیجنا شروع کر دینا
( فیس بُک احمق کچھ جلدی نہیں کر رہے تم روبوٹ تو نہیں ، وضاحت کرو ) ۔ 
چونکہ یہ Spamming احمق نہیں کر رہا ۔ لہذا فیس بک ، پہلے 20 یا 30 دوستوں کے بعد فیس بک اِس تصویر کو نشر کرنا روک دے گا ۔ 

مگر عزتِ سادات تو خاک میں مل چکی ہوگی نا-
اور ممکن ہے کہ اکاونٹ بھی ھیک ہوچکا ہوگا ، اگر آپ نے ، پاسورڈ کنفرمیشن کے لئے اپنا موبائل نمبر نہیں بلکہ ای میل نمبر دیا ہو تو ۔
 احتیاط :
1- کسی بھی تجسس پیدا کرنے والے پیغام کو ، ان بکس یا فیس بک کے فورمز میں دیئے ہوئے کمنٹس پر کلک نہ کریں ۔
2- اگر احمق بننے کا شوق ہو تو ۔ لنک کاپی کریں ، فیس بک کو لاگ آؤٹ کریں ، یا دوسرے ویب براوزر کو کھولیں ۔ اُس پر لنک کو ٹیسٹ کریں ۔ 

اگر آپ اپنے کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ سے اپنا بنک اکاونٹ بھی آپریٹ کرتے ہوں تو پھر اپنے پاس ورڈ خود یاد رکھیں اور کمپیوٹر کو مت یاد کرنے دیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔