میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 30 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 13

قسط نمبر 13 - ولی عہدی.


ابن قتیبہ ( الامامہ و السیاسہ )
اس زمانے میں امیر یزید کی ولایت کا عہد کا مسئلہ پیش ہوا ، حضرت مغیرہ بن شعبہ جیسے مدبر صحابی نے یہ تحریک پیش کی کہ امیر المومنین اپنی زندگی میں ولیہدی کا انتظام کر جائیں اس کے لئے انہوں نے امیر المومنین کے لائق فرزند یزید کا نام پیش کیا .جہاں تک یزید کی اہلیت اور قابلیت کا سوال ہے ان کے عہد میں ہر شخص کو اس بات کا اعتراف تھا مسئلے میں پیچیدگی اس بات سے پیدا ہو رہی تھی کہ کہیں خلافت کو باپ سے بیٹے میں منتقل کرنے کا رواج نہ پیدا ہو جاۓ اور جو کام ملت کی بہتری کے لئے کیا جا رہا ہے وہ اصول نہ بن جاۓ اس لئے حضرت معاویہ جیسے مخلص آدمی یہ کیسے گوارہ کر سکتے تھے کہ اس بارے میں پوری امت سے راۓ معلوم نہ کریں چنانچہ اس تحریک پر غور کرنے کے لئے آپ نے یہ شرط رکھی کہ تمام علاقوں اور تمام ولایتوں کے نمائندے جمح ہوں اور بحث کر کے اپنا متفقہ فیصلہ دیں .
( تلوار کے سامنے تمام اصول و قواعد موم بن جاتے ہیں ۔ مُفتی )

پھر یہ اجتماع ہوا جس میں ہر خیال کے لوگوں کی نمائندگی تھی ، عراقیوں کو بھی بلایا گیا بلکہ عراقی ہی تھے کہ جنہوں نے ولایت عہد کے لئے یزید کا نام پیش کیا ان میں سے بعض نے مخالفانہ تقریریں بھی کیں ،کتب تاریخ میں اس اہم فیصلہ کی بعض تفصیلات درج ہیں ، امام ابن قتیبہ کی طرف جو کتاب غلط منسوب کی گئی ہے " الامامہ والسیاسه " اس میں بھی یہ تفصیلات ملتی ہیں ایک بہت بھاری اکثریت کا فیصلہ تھا کہ امیر یزید ہی کو ولیہد المسلمین بنایا جاۓ اور اس کتاب میں ایسی بات نہیں جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکے کہ امیر یزید کی صلاحیت و قابلیت پر کسی طرف سے کوئی نقطۂ چینی کی گئی ہو.
(دُرہ ءِ عمر بن الخطاب نے بھی تمام اجتہادِ سکوتی کروائے ۔ مُفتی )

اس فیصلہ کن اجتماع کے باوجود کے باوجود امیر المومنین معاویہ پوری طرح مطمئن نہ ہوے کیونکہ آپ کو یہ اطلاح ملی تھی کہ قریش کے چند لوگ متفق نہیں ہیں ، اگرچہ حضرت علی نے جب سے مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو دار الخلافه بنایا تھا
( خلافتِ سُسر شروع ہوتے ہی، داماد صاحب کوفہ روانہ ہوگئے تھے ، کیوں کہ سخت گیر سُسر سے خطرہ تھا ۔ جن پر داماد کو باہر نکالنے کے لئے گھر جلانے کا الزام تھا ۔ اور جان سب کو پیاری ہوتی ہے ۔ مُفتی)

 
اور اس کے بعد دمشق کو یہ مرتبہ حاصل ہو جانے کے بعد حرمین شریفین کے باشندوں کا اہل ھل و وعقد ہونے کا وہ امتیازی حق جاتا رہا تھا جو ابو بکر ، عمر ، اور عثمان کے عہد میں تھا، 


لیکن حضرت معاویہ نے فرمایا کہ جب تک وہاں کے باشندے بھی متفق نہ ہوں یہ فیصلہ نافذ نہ ہو گا ، بعض مورخین نے لکھا ہے کہ حضرت معاویہ نے یہ سفر ہی اس لئے اختیار کیا تھا کہ حج و زیارت کے موقعہ پر اس مسئلہ میں بھی یک سوئی حاصل کر لیں ، سب لوگوں نے اس فیصلہ کا احترام کیا اور امت کے اجماع کے تحت اس کی منظوری دے دی.اور امیر یزید کو یہ شرف حاصل ہے کہ جیسا استصواب ان کے لئے ہوا اس سے پہلے کسی کے لئے نہیں ہوا تھا اور ان کو یہ سعادت حاصل ہے کہ جمہور امت نے نہایت خوشدلی سے ان کی ولایت کی منظوری دی اور استقبال کیا.

لوگ چونکہ اس اجماع کا انکار نہیں کر سکتے اس لئے اسے بے وقعت بنانا چاہتے ہیں کبھی کہتے ہیں کہ امت نے یہ راۓ جبر کے تحت دی اور کبھی کہتے ہیں لالچ کے سبب ، گویا امت محمدیہ جو آج بھی خوف اور لالچ سے بالا ہے وہ خیر القرون میں ان دونوں پستیوں میں مبتلا تھی-
(تو پھر ، حسن و حسین پر دراہم کی بارش بھی پست سوچ کا نتیجہ ہے ! مُفتی) 

 
اور وہ بزرگ جنہوں نے دین قائم کرنے کے لئے جانی مالی ، ظاہری اور باطنی کسی قربانی سے دریغ نہ کیا وہ سب ڈرپوک اور لالچی ہو گے تھے عقبہ و شجرہ کی بیعت اور بدر اور احد کے غزوات نے انھیں کندن نہیں بنایا تھا ، اور وہ بلکل ٹھس ہو کر رہ گے تھے،اس ذیل میں روایات کا پہاڑ کھڑا کر دیا گیا اور ایسی ایسی متضاد اور بے سروپا باتیں کہی گئیں کہ کسی درجہ میں بھی واقعات سے ان کی تصدیق نہیں ہوتی -

مثال کے طور پر طبری ( شیعہ ) کی روایت ہے کہ جن پانچ قریشی حضرات نے اختلاف کیا تھا حضرت معاویہ نے ان سے علیحدہ علیحدہ گفتگو کی جب وہ متفق نہ ہوے تو فرمایا کہ مجمح عام میں اگر تم میں سے کسی نے کوئی مخالفت کی تو تمھاری خیر نہیں ، سر اڑا دیا جاۓ گا جب مجمح میں یہ لوگ آ کر بیٹھے تو ایک ایک فوجی تلوار لئے ان کے پاس کھڑا کر دیا گیا اور حضرت معاویہ نے منبر پر بیٹھ کر تقریر کی اور کہا یہ حسین بن علی ہیں ، یہ عبدللہ بن زبیر ہیں ، یہ عبد الرحمان بن ابی بکر اور یہ عبدللہ بن عمر اور یہ عبدللہ بن عباس ہیں اور یہ سب لوگ یزید کی ولی عہدی پر متفق ہیں صرف یہ کہہ کر منبر سے اتر آئے ان قریشی حضرات کو کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی سب دم بخود بیٹھے رہے قتل ہو جانے کے خوف سے. (الامامہ و السیاسہ جلد 1 صفہ 200 )

(معاویہ بن ابی سفیان(سالا)  ، کِن اصولوں پر بہنوئی کے تخت کا وارث بنا؟
کیا عشر مبشرہ میں کوئی بھی اِس قابل نہ تھا ؟
لیکن خلافت و ملوکیت کی اِس جنگ جو "الائمۃ من القریش" سے شروع ہوئی اُس سے اپنی عاقبت خراب کرنے کے بجائے دور رہنا مناسب سمجھا - فرموداتِ مُفتی)


شیطان:

ان جھوٹی روایات میں جہاں حضرت معاویہ جیسے بزرگ صحابی پر تہمت لگائی گئی ہے وہاں حضرت حسین ابن زبیر اور دوسرے بزرگوں کی بزدلی اور مداہنت کا بھی اظہار ہوتا ہے-
( سب روایات جھوٹی ہیں ۔ نسیم حجازی کے ناولوں کی طرح - فرموداتِ مُفتی )



ابن جریر طبری نے بیان کیا ہے کہ یہ واقعہ ہجری 56 کا ہے جبکہ ان پانچ قریشی حضرات میں سے عبد الرحمن بن ابی بکر تو اس وقت زندہ بھی نہ تھے اس سے تین سال قبل ہجری 53 میں وفات پا چکے تھے ، اس غلط بیانی کے علاوہ اس روایت کی اسناد حد درجہ جھوٹی ہیں اور پہلے راوی کا تو نام ہی مجہول ہے ، رجل نبخله یعنی مقام نخلہ سے ایک شخص نے یہ روایت بیان کی اس نا معلوم الاسم نے جس شخص سے یہ روایت بیان کی اس شخص کا نام طبری نے ابو اون لکھا ہے جس نے اسماعیل بن ابراہیم سے اور اس نے یعقوب بن ابراہیم سے من گھڑت روایت بیان کی .
علامہ ذہبی نے میزان الاعتدال میں میں اسے من گھڑت بتایا ہے،(جلد 2 صفہ 274)
( گویا طبری جھوٹا ہے جس نے اپنی بات میں وزن ڈالنے کے لئے جھوٹ لکھا ۔ فرموداتِ مُفتی )
شیطان:

شیعہ ازم کی اس بات سے اہل دانش حیران ہیں کہ ان کے مذھب میں ایک چیز بہت متاثر کر دینے والی ہے کہ جھوٹ بولو ، صبح بولو ، دوپہر شام اور رات کو بولو ہر وقت ہر جگہ جھوٹ بولو اور اتنا بولو کہ سب کے کان اس جھوٹ کے عادی ہو جائیں اور اگر کبھی بھولے سے سچ اس کے کان میں پڑھ جاۓ تو وہ ان کو بہت عجیب اور غیر مانوس لگے ،ان جھوٹوں سے یہ لوگ جو باتیں ثابت کرنا چاہتے ہیں وہ یوں بھی بے قیمت قرار پاتی ہیں ، کیونکہ
* فیصلے سے پہلے حمایت یا مخالفت میں جو بھی گفتگو ہو وہ فیصلے کے بعد خود بخود ختم ہو جاتی ہے اور اس سے انکار نہیں کیا جا سکتا جو اکثریت کا فیصلہ ہو .چاہے مخالف چاہے موافق .
* کسی شخص کی طرف ایسی کسی بات کی نسبت جھوٹی ہے جو اس کے متواتر عمل کے خلاف ہو.
* ہزاروں لاکھوں لوگوں کے فیصلے کے مقابلے میں چند لوگوں کا اختلاف کوئی حیثیت نہیں رکھتا .اگرچہ وہ کتنے ہی محترم کیوں نہ ہوں .
رسول الله سے محترم اور بڑا کوئی نہیں ہو سکتا اور امام کی حیثیت سے آپ نے کئی بار اپنی رائے کے خلاف اکثریت کی رائے اختیار کی ، غزوہ احد میں آپ کی رائے تھی مدینہ ہی میں رہ کے مورچہ بنا کے کفار کا مقابلہ کیا جاۓ یہی رائے ابو بکر صدیق کی تھی مگر جو نوجوان شوق جہاد اور شوق شہادت سے سر شار تھے اور بعض دوسرے حضرات باہر نکل کر مقابلہ کرنا چاہتے تھے . اور الله کے نبی اور صاحب وحی اپنی آنکھوں سے سب کچھ دیکھ رہے تھے پھر بھی اکثریت کی رائے کی پیروی کی. اس کے بعد بھی کسی شخص کو یہ حیثیت دی جا سکتی ہے کہ امت کی اکثریت کے فیصلے اور عمل کے خلاف کسی دوسرے فرد کی رائے قبول کی جاۓ چاہے وہ کتنا ہی محترم کیوں نہ ہو. اس روایت کے وضح کرنے والے احمق نے اتنا نہ سوچا کہ اگر ان میں سے کوئی بزرگ جان پر کھیل جاتے اور قتل کر دِیے جاتے تو اس سے رائے عامہ استوار ہوتی یا کئے کرائے پر پانی پھر جاتا اور وہ ہنگامہ ہوتا کہ سنبھالے نہ سنبھلتا اب صرف دو ہی باتیں رہ جاتی ہیں کہ یا تو حضرت معاویہ کو ان لوگوں کی بزدلی کا یقین تھا یا پھر اتنے ہی عقل سے بیگانہ تھے ایک چھوٹے سے چھوٹا سیاست دان جو خطرہ مول نہیں لے سکتا وہ انہوں نے مول لیا افسوس کہ گمراہ لوگ الله کے خاص بندوں کے متعلق کیسے لغو جذبات رکھتے ہیں حقیقت یہ ہے کہ نہ ایسا کوئی واقعہ ہوا اور نہ اس کا امکان تھا.
لوگ اس بات پر حیران ہیں کہ آخر یزید کو اتنی اہمیت کیوں دی جا رہی ہے .
میرے دوستو بہت جلد آگے واقعہ کربلا آنے والا ہے اور جب تک ان دونوں شخصیتوں کے بارے میں آپ مکمل تعارف حاصل نہ کریں گے تو سچ اور جھوٹ میں فرق کیسے جان سکیں گے.پھر تو وہی بات ہو جاۓ گی کہ کان جھوٹ کے اتنے عادی ہیں کے سچ بہت عجیب لگتا ہے اور ہضم نہیں ہو پاتا .
ولایت احد کے سلسلے میں ان جھوٹے لوگوں نے یہ فضاء پیدا کی ہے کہ گویا اس وقت صحابہ اکرام میں سے یہ پانچ بزرگ ہی ذی حیثیت تھے یعنی عبد الرحمان بن ابی بکر، متوفی 53 ہجری ، عبدللہ بن عمر ، عبدللہ بن عباس ، عبدللہ بن زبیر ، اور حسین بن علی اس کے علاوہ باقی سب امت عوام الناس پر مشتمل تھی حالانکہ اس زمانہ میں بہت بلند اور ممتاز ہستیاں ، اصحاب بیعت عقبہ و عشرہ مبشرہ ، اصحاب بدر ، اصحاب بیعت رضوان اور دیگر معمر اصحابہ موجود تھے مستند تواریخ میں ایسے 252 اصحابہ اکرام کا تذکرہ موجود ہے جو امیر یزید کی ولایت عہد اور زمانہ خلافت بلکہ بعض تو اس کے بعد تک زندہ رہے.اور ان میں سے کسی نے بھی کوئی اختلاف نہیں کیا-
ان جلیل القدر صحابہ اکرام کی موجودگی میں حضرت حسین اور ابن زبیر کے اختلاف کا کیا مقام ہو سکتا تھا اور کتاب الله اور سنت رسول کی روشنی میں کیا مقام متعین کیا جا سکتا ہے عبد الرحمن بن ابی بکر تو بیعت خلافت سے پہلے ہی وفات پا چکے تھے،حضرت عبدللہ بن عباس اور عبدللہ بن عمرنے بیعت کی اور اس پر قائم رہے، باقی رہے حضرت حسین اور ابن زبیر تو کیا ان حضرات کا اجتہاد ایسا واقعی ہو سکتا ہے کہ تمام صحابہ اکرام کے موقف پر غالب آ جاۓ.


اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت حسین کی عمر رسول الله کی وفات کے وقت 5 برس کی تھی اور ابن زبیر 9 برس کے تھے اس لئے طبقہ کے لحاظ سے بعض نے ان کو صحابہ میں شمار کر لیا ہے مگر ان جلیل القدر صحابہ اکرام کے مقابلے میں ان حضرات کو نہیں رکھا جا سکتا جنہوں نے رسول الله کے ساتھ برسہا برس گزارے اور دین قائم کرنے میں آپ کے زیر تربیت ہر قسم کی ظاہری اور باطنی قربانیاں دیں اور بار گاہ خدا وندی سے انھیں بشارت مل گئی کہ وہ خیر الامم ہیں.ابن خلدون:
ابن خلدون نے مشہور آفاق "مقدمہ " میں ولایت الاعہد کے بارے میں بحث کرتے ہوے لکھا ہے کہ.
کہ تمام صحابہ اکرام ولی عہدی کے جواز پر متفق تھے اور اجماع جیسا کہ معلوم ہے کہ حجت شرعی ہے
پس امام اس بارے میں متحمل نہیں ہو سکتا اگرچہ وہ یہ کاروائی اپنے باپ یا بیٹے کہ حق میں کیوں نہ کرے اس لئے کہ جب اس کی خیر اندیشی پر اس کی زندگی میں اعتماد ہے تو موت کے بعد تو اس پر کوئی الزام آنا ہی نہیں چاہئے بعض لوگوں کی رائے ہے باپ اور بیٹے کو ولی عہد بنانے میں امام کی نیت پر شک کیا جا سکتا ہے اور بعض صرف بیٹے کے حق میں رائے رکھتے ہیں مگر ہمیں ان دونوں سے اختلاف ہے ہماری رائے میں کسی صورت میں بھی امام سے بد گمانی کی کوئی وجہ نہیں ہے خاص کر ایسے موقعہ پر جہاں ضرورت اس کی ہو مثال کے طور پر کسی مصلحت کا تحفظ یا کسی فساد کا ازالہ کرنا ہو تو کسی طرح کی بد گمانی کا کوئی جواز نہیں ، جیسے کہ حضرت معاویہ کا اپنے فرزند کو ولی عہد بنانے کا واقعہ ہے حضرت معاویہ کا لوگوں کے عمومی اتفاق کے ساتھ ایسا کرنا اس باب میں بجائے خود ایک حجت ھے اور پھر انھیں متحمل یوں بھی نہیں کیا جا سکتا کھ ان کے پیش نظر یزید کو ترجیح دینے کا مقصد بجز اس کے اور کچھ نہیں تھا کہ امت میں اتحاد اور اتفاق قائم رہے اور اس کے لئے ضروری تھا کیونکہ اہل ھل و عقد صرف یزید کو ہی ولی عہد بنانے پر متفق ہو سکتے تھے کیونکہ ان میں اکثریت بنی امیہ کے لوگوں کی تھی اور وہ اس کے سوا کسی کی خلافت پر راضی نہیں ہو سکتے تھے اس وقت قریش کا سب سے بڑا اور طاقت ور گروہ انھیں لوگوں کا تھا اور قریش کی عصبیت پورے عرب میں سب سے زیادہ تھی، ان نزاکتوں کے پیش نظر حضرت معاویہ نے یزید کو ان لوگوں پر ترجیح دی جو اس کے زیادہ مستحق سمجھے جا سکتے تھے افضل کو چھوڑ کر مفضول کو اختیار کیا تا کہ مسلمانوں میں اتفاق اور جمیعت بنی رہے جس کی شرح میں بہت اہمیت ہے
قطح نظر اس کے حضرت معاویہ کی شان میں کوئی بد گمانی نہیں کی جا سکتی کیونکہ آپ کی صحابیت اور کردار ہر قسم کی بد گمانی سے مانع ہے اور آپ کے اس فعل کے وقت سینکڑوں صحابہ اکرام کا موجود ہونا اور اس پر ان کا سکونت کرنا اس بات کی دلیل ہے کہ اس امر میں حضرت معاویہ کی نیک نیتی مشکوک نہیں تھی کیونکہ ان صحابہ اکرام کے ہوتے ہوے حق کے معامله میں وہ کسی نرمی یا چشم پوشی کے روادار نہیں ہو سکتے تھے اور معاویہ ایسے شخص تھے کہ قبول حق کے آگے کوئی بات ان کے اڑے نہیں آ سکتی تھی یہ سب اس سے بہت بلند ہیں اور ان کی عدالت میں ایسی کمزوری کا ہونا ممکن نہیں .
مقدمہ ابن خلدون صفحہ 175 ، 176 . متبح مصر .

علامہ ابن کثیر نے اپنی تاریخ اور علامہ زہبی نے تاریخ الاسلام و طبقات المشاہیروالا علام صفہ 92
حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:
 اور دیگر مورخین نے بیان کیا ہے کہ حضرت معاویہ نے امیر یزید کی بیعت ولایت عہد کی تکمیل پر یہ دعا مانگی .کہ اے خدا وند کریم آپ جانتے ہیں اگر میں نے یزید کو اس لئے ولی عہد کیا ہے کہ وہ اس کا اہل ہے تو اس کی ولی عہدی کو پورا کیجیو اور اگر میں نے اس کی محبت کی وجہ سے ایسا کیا ہے تو اس کی ولی عہدی کو پورا نہ ہونے دیجیو . ( صفحہ 80 جلد 8 البدایه و النہایه )




     قسط نمبر 12  -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر 14


 نوٹ:
ابن خلدون: پیدائش؛ 1332ء وفات؛ 1406ء ابن خلدون مورخ، فقیہ ، فلسفی اور سیاستدان۔ مکمل نام ابوزید عبدالرحمن بن محمد بن محمد بن خلدون ولی الدین التونسی الحضرمی الاشبیلی المالکی ہے  تیونس میں پیدا ہوا۔ اور تعلیم سے فراغت کے بعد تیونس کے سلطان ابوعنان کا وزیر مقرر ہوا۔ لیکن درباری سازشوں سے تنگ آکر حاکم غرناطہ کے پاس چلا گیا۔ یہ سر زمین بھی راس نہ آئی تو مصر آگیا۔ اور الازھر میں درس و تدریس پر مامور ہوا۔ مصر میں اس کو مالکی فقہ کا منصب قضا میں تفویض کیا گیا۔اسی عہدے پر وفات پائی۔ ابن خلدون کو تاریخ اور عمرانیات کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ اس نے العبر کے نام سے ہسپانوی عربوں کی تاریخ لکھی تھی جو دو جلدوں میں شائع ہوئی۔ لیکن اس کا سب سے بڑا کارنامہ۔ مقدمتہ فی التاریخ ہے جو مقدمہ ابن خلدون کے نام سے مشہور ہے۔ یہ تاریخ، سیاست ، عمرانیات ، اقتصادیات اور ادبیات کا گراں مایہ خزانہ ہے۔


 علامہ زہبی
( ربیع الثانی 673ھ ۔ 3 ذوالقعدۃ 748ھ / اکتوبر 1274ء ۔ 1348ء )
حافظ شمس الدین ابو عبداللہ محمد بن احمد بن عثمان بن قايماز ذهبی دمشقی ترکمانی شافعی ایک مشہور عرب محدث اور مؤرخ تھے۔

شیطان نامہ - قسط نمبر 12

.قسط نمبر 12 . امارات حج .

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:
یزید بن معاویہ نے امیر حج کی حیثیت سے تین مرتبہ حج کیا اور لوگوں کو حج کرایا .یعنی ہجری 51 ، 52 اور 53 میں.
(البدایه و النہایه جلد 8 صفہ 229)

مورخ اسلام علامہ ذہبی(دمشقی)  " تاریخ اسلام و طبقات المشا ہیر و الاعلام " میں لکھتے ہیں کہ امیر یزید نے ان تین سالوں میں 51 سے 53 ہجری میں امیر الحج کی حیثیت سے حج ادا کیے. (جلد 3 صفہ 91 )

شیعہ مورخ طبری نے بھی امیر یزید کے امیر الحج ہونے کا تذکرہ کیا ہے ، اور 51 ہجری کے حالات میں لکھا ہے کہ مذہبی اور سیاسی دونوں طرح سے منصب امارت حج ایک عظیم اور جلیل منصب تھا فتح مکہ ہجری 8 کے بعد رسول الله نے 9 ہجری کو یہ منصب حضرت ابو بکر کو سونپا تھا اور ہجری ١٠ میں ہجرت کے بعد آپ نے پہلا اور اپنی حیات طیبہ آخری حج ادا کیا جو حجتہ الوداع کہلاتا ہے اور اس میں رسول الله خود امیر حج تھے ، آپ کی وفات کے بعد خلفا راشدین نے بھی اس سنت کی پیروی کی یعنی کبھی خود امیر ہوتے کبھی نائبین کو بھجتے جو علم تقوے اور فن خطابت میں شان امتیاز رکھتے تھے راشدین میں سے حضرت ابو بکر صدیق ، حضرت عمر فاروق اور حضرت عثمان اپنے اپنے عہد خلافت میں تقریباً ہر سال حج کے لئے تشریف لے جاتے اور امیر حج کے فرائض ادا کرتے اور اطراف و اکناف سے جو مسلمان حج کرنے آتے وو ان کے خطبوں سے مستفید ہوتے،ضروریات ملیہ پر ہدایتیں ہوتیں اور نصحتیں ہوتیں ، پیر حاجیوں سے ملاقات کرتے اور ان کی شکایتیں رفح کرتے . حضرت علی نے چونکہ مدینہ کو چھوڑ کر کوفہ کو دار الخلافه بنا لیا تھا اس لئے ان ایام میں نہ کوئی حج ہوا اور نہ کبھی امیر کے فرائض ادا کیے گے اور نہ ان کی اولاد نے یہ کام کیا حضرت معاویہ نے دو مرتبہ امیر حج کے فرائض ادا کیے (البدایه جلد 8 صفہ 133 )
ابن حزم اندلسی مکمل نام ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم مؤرخ تھے اور ان کی تاریخ کی کتاب معروف ہے۔
پھر ان کے نائبین میں سے ان کے لائق فرزند امیر یزید تین سال متواتر امیر حج رہے.

ان تین سالوں میں سے آخری سال جب امیر حج کی حیثیت سے امیر یزید دمشق سے حجاز آے تو انہوں نے حضرت حسین کی بھتیجی حضرت عبدللہ بن جعفر الطیار کی بیٹی سیدہ ام محمّد سے نکاح کیا (صفحہ 62 جمہرہ الانساب ابن حزم)

.اس رشتہ کے حساب سے امیر یزید حضرت حسین کے بھتیجے داماد اور دوسرے رشتہ کے اعتبار سے بہنوئی ہوتے تھے.یعنی حضرت حسین کی پہلی بیوی سیدہ آمنہ والدہ علی اکبر بن الحسین حضرت معاویہ کی حقیقی بھانجی تھیں یعنی میمونہ بنت ابو سفیان کی بیٹی تھیں.(صفحہ 255
جمہرہ انساب اور طبری جلد 13 صفہ 19 )

ان سالہ بہنوئی اور خسر و داماد کے تعلقات حضرت حسین کے خروج سے پہلے بہت ہی خوشگوار تھے اور انس و محبت کے رہے،دیگر صحابہ و مجاہدین کی طرح حضرت حسین نے بھی جہاد قسطنطنیہ کے ایام میں جس کی مدت قوی اثار سے چار ماہ کی تھی اپنے امیر کی قیادت میں پنچ وقتہ نمازیں ادا کیں پھر ان تین سالوں کے دوران ان کی امارت حج میں مناسک حج ادا کیے ان کے خطبات سنے اور تمام حاجیوں کے ساتھ ان کے پیچھے نمازیں پڑیں . امیر یزید کے ولی عہد بننے سے پہلے اور ولی عہد بننے کے بعد بھی وہ ہر سال دمشق جاتے اور عزیزوں اور رشتہ داروں کی طرح ان کے ہاں قیام کرتے اور وظائف اور عطیات کی بیش بہا رقوم حاصل کرتے

عراقی سبائیوں نے حضرت حسن کی وفات کے بعد حضرت حسین کو ورغلانے کی کوشش کی تھی اہل کوفہ میں سے جعدہ بن ہبیرہ بن ابی وہب نے حضرت حسین کو خط لکھا تھا کہ " پس تم کو اگر اس امر ( خلافت ) کی خواہش ہے تو ہمارے پاس آ جاؤ ہم نے اپنی جانوں کو تمھارے ساتھ مرنے پر وقف کر رکھا ہے." اخبار الطوال صفہ 235 .

اس خط کے جواب میں حضرت حسین نے لکھ بھیجا کہ تم لوگ بد ظنی سے بچو اپنے اپنے گھروں میں بیٹھے رہو جب تک معاویہ زندہ ہیں کوئی حرکت نہ کرنا اور اگر اس کا وقت آ گیا اور میں زندہ رہا تو اپنی راے سے آگاہ کروں گا.
اخبار الطوال صفہ 235 .

     قسط نمبر 11  -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر 13



نوٹ 


شیطان نامہ - قسط نمبر 11

قسط نمبر 11 
شہادت ابو ایوب انصاری اور نمازِ جنازہ !


حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:
 اسی جہاد کے دوران ابو ایوب انصاری کی وفات ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 80 سال سے بھی زیادہ تھی.اتنے عمر میں اس دور دراز مقام پر جہاد میں شرکت انہوں نے اس بشارت مغفرت کی وجہ سے کی تھی.اور آپ نے وصیت کی کہ اے یزید میرا جنازہ دشمنوں کی سر زمین کے اندر دور تک لے جا کے دفن کرنا.
 ابو ایوب انصاری یزید بن معاویہ کے لشکر میں شامل تھے اور آپ نے اپنے معاملات کی وصیت بھی ان سے کی تھی .اور یزید ہی نے ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی (البدایه و النہایه جلد 8 صفہ 58 .)

شیطان:

ظاہر ہے کہ تمام مسلمانوں نے جو امیر یزید کے لشکر میں شامل تھے جس میں حضرت حسین بھی شامل تھے یزید کے پیچھے ان کے جنازہ کی نماز پڑھی .

طبری:
جیسے شیعہ مورخ کا بیان ہے کہ میزبان رسول کی وفات اس سال ہوئی جب یزید بن معاویہ نے اپنے والد کی خلافت کے زمانہ میں قسطنطنیہ پر حملہ کیا(طبری جلد 13 صفہ 16.)
( مُفت پور کے مُفتی نے پہلی قسط میں صحیح تجزیہ کیا ۔ مہاجر زادہ)

ایک دوسرا شیعہ مورخ مولف ناسخ التواریخ لکھتا ہے کہ امیر یزید نے ان کی تدفین سے فارغ ہونے کے بعد رومی عیسائیوں کو خطاب کرتے ہوے فرمایا
اے اہل قسطنطنیہ یہ ہمارے نبی کے ایک بڑے صحابی کا جنازہ ہے جن کو ہم نے یہاں دفن کیا ہے خدا کی قسم ان کی قبر کو اگر ذرا بھی نقصان پہنچا تو پورے عرب میں تمھاری عبادت گاہوں کو جڑ سے اکھاڑ دیا جائے گا اور سر زمین عرب میں پھر کبھی ناقوس کی آواز سنائی نہیں دے گی .
(ناسخ التواریخ جلد 2 صفہ 66)
( تو گیٹی یہاں سے آئی ہے ۔ مُفتی)

امیر شکیب ارسلان نے کتاب " حاضر العالم الاسلامی " کے تعلیقات زیر عنوان " محاضرات العرب میں طبقات ابن سعد کے حوالے سے کہا ہے .


جب حضرت ایوب انصاری بیمار پڑےتو یزید بن معاویہ ان کی عیادت کو آئے اور پوچھا آپ کی جو خواہش ہو فرمائیے انہوں نے کہا ہاں میری خواہش ہے کہ جب میں مر جاؤں تو میرا جنازہ دشمن کی سر زمین میں لے جانا جہاں تک تمہیں راہ ملے اور جب راہ نہ پاؤ تو دفن کر دینا پھر لوٹ آنا ،جب وہ فوت ہو گئے تو امیر یزید ان کا جنازہ لے کر عدو میں گئے جب آگے راہ نہ پائی تو ان کو دفن کر دیا اور لوٹ آے .

ابو ایوب انصاری نے اس وقت جب یزید ان کے پاس آے تھے ان سے کہا تھا کہ جب میں مر جاؤں تو میرا سلام لوگوں کو پہنچا دینا اور لوگوں کو وہ حدیث سنا دینا جو میں نے رسول الله سے سنی تھی 
" جو شخص اس حالت میں فوت ہو کہ الله کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرتا ہو تو وہ جنت میں داخل ہو گا،" 
پس امیر یزید نے لوگوں سے وہ باتیں بیان کیں جو ابو ایوب نے فرمائیں . ان کی وفات اس سال میں ہوئی جب امیر یزید بن معاویہ نے قسطنطنیہ پر اپنے والد ماجد کے زمانہ خلافت میں جہاد کیا ہجری 52 میں .یزید بن معاویہ نے ہی ان کے جنازہ کی نماز پڑھائی.
ان کی قبر قسطنطنیہ کے قلعہ کی فصیل کے پاس موجود ہے اور رومی ان کی قبر پر جا کر عہد کرتے ان کی زیارت کرتے اور زمانہ قحط میں ان کے وسیلہ سے بارش کی دعائیں مانگتے تھے.
جہاد قسطنطنیہ میں سپہ سالار امیر یزید نے حسن انتظام اور ذاتی شجاعت کا ثبوت دیا اور امتیازی درجہ حاصل کیا جس کی بنا پر ملت کی طرف سے فتی العرب " عرب کے سورما " کا خطاب حاصل کیا اور وہ پہلے شخص تھے جنھیں عرب میں یہ خطاب دیا گیا.
صفحہ 201 ہسٹری آف عربس

 قَالُوا سَمِعْنَا فَتًى يَذْكُرُهُمْ يُقَالُ لَهُ إِبْرَاهِيمُ ﴿الأنبياء: ٦٠﴾ - مُفتی ۔

 
امیر یزید نے متواتر کئی سال عیسائیوں کے خلاف جہادوں میں کارہائے نمایاں انجام دیے-

حضرت مولانا حسین احمد مدنی اپنے مکتوب میں لکھتے ہیں کہ.
یزید کو متعد بار جہاد میں بھیجنے اور جزائر بحر ابیض ، اور اشیا ے کوچک کو فتح کرنے حتیٰ کہ خود استنبول پر بری فوج سے حملہ کرنے میں آزمایا جا چکا تھا تاریخ شاہد ہے ان عظیم جنگی معرکوں میں یزید نے کار ہائے نما یاں انجام دیے تھے .اور خود یزید کے متعلق بھی تاریخی روایات آپس میں مبالغہ اور جھوٹی روایات سے خالی نہیں ہیں،
مکتبوبات جلد 1 صفہ 242 سے صفہ 252 .

( تو پھر سچ کیا ہے شیطان ؟ اِن سب نے چھاپے لکھے ہیں ۔ جھوٹ کے پلندوں میں پلندات کا اضعافہ - مُفتی ) 

نوٹ: صحابی، خالد نام۔ ابوایوب کنیت۔ مدینہ منورہ کے قبیلہ بنو نجار سے تھے۔ ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ کا شمار اسلام کے جانباز مجاہدین میں ہوتا ہے۔ آپ اکثر غزوات میں شریک ہوئے۔ امیر معاویہ کے زمانے میں قسطنطنیہ کی مہم پیش آئی تو اس میں نمایاں حصہ لیا اور وہیں وفات پائی۔ مرتے وقت وصیت فرمائی کہ شہر پناہ کے متصل دفن کیا جائے۔ آپ کو وہیں دفن کیاگیا۔ آپ کی قبر کے پاس بطور یادگار ایک مسجد تعمیر کی گئی جو ترکی کی قدیم ترین مساجد میں سے ہے۔

    قسط نمبر 10  -  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر12

شیطان نامہ - قسط نمبر 9

.قسط نمبر 9 . کڑوی گولیاں ہیں پر نگلنی پڑیں گی

حضرت معاویہ کا حسن سلوک اور شخصیت .حضرت عمر فاروق انتظامی قابلیت میں ہمیشہ حضرت امیر معاویہ کی بہت تعریف کیا کرتے تھے ، 
حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی  ایک واقعہ لکھتے ہیں کہ.
ایک دن حضرت عمر کے سامنے حضرت معاویہ کی برائی کی گئی تو حضرت عمر نے فرمایا کہ قریش کے اس نوجوان کی عیب جوئی سے مجھے معاف رکھو وہ ایسا جوان مرد ہے کہ غصے میں ہنستا ہے اور اس سے کچھ نہیں حاصل کیا جا سکتا بغیر اس کی رضا کے جو جو کچھ اس کے سر پر ہو وہ صرف اس کے قدموں ہی کہ نیچے حاصل ہو سکتا ہے یعنی اسکی تکریم و رضا ہی کے ساتھ. (البدیہہ والنہایہ جلد 2 صفحہ 75 .)
 حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:
جب حضرت معاویہ کی خلافت قائم ہو گئی تو حسین اپنے بھائی حسن کے ساتھ ان کے پاس اکثر جایا کرتے تھے اور وہ ان دونوں کی بہت عزت کرتے اور مرحبا کہتے ،اور عطیات دیتے ، ایک ہی دن میں ان کو بیس لاکھ درہم عطا کیے.
(البدایہ و النہایہ جلد 8 صفحہ 150 )
علامہ ابن کثیر نے معتد جگہ ان گراں قدر وظائف اور عطیات کا ذکر کیا ہے جو عمر معاویہ حضرت حسن و حسین اور دیگر بنو ہاشم کو دیا کرتے تھے.
حسن بن علی ایک دفعہ امیر معاویہ کی خدمت میں دمشق حاضر ہوے تو آپ نے چالیس لاکھ کی رقم ان کو بطور عطیہ عنایت فرمائی پھر ایک دن حسن و حسین جب آپ کی خدمت میں حاضر ہوے تو ان دونوں کو بیس بیس لاکھ فی الفور عطا فرماۓ .( صفحہ 137 جلد 8 البدایہ و النہایہ )

ابن ابی الحدید:

اور معاویہ دنیا میں وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے دس دس لاکھ درہم عطا کیے اور ان کے فرزند یزید پہلے شخص تھے جنہوں نے اس کو دوگنا کر دیا. اور یہ عطیات حضرت علی کے ان دونوں بیٹوں حسن اور حسین کو ہر سال دیۓ جاتے تھے اور اسی طرح عبدللہ بن عباس اور عبدللہ بن جعفر کو بھی دیے جاتے تھے. ( جلد 2 صفحہ 823 شرح ابن ابی الحدید .شرح نہج البلاغہ .)

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:

یہ وظائف و عطیات یا تو خمس اور فے میں سے ہوتے تھے یا اس مال میں سے جو ملت کی ضروریات سے زائدہوتا تھا اور حق والوں کو حق دیا جا چکا ہوتا تھا .
جب حسن کا انتقال ہو گیا تو حسین ہر سال معاویہ کے پاس آتے اور وہ ان کو عطیہ دیتے اور ان کی عزت اور اکرام کرتے .

(جلد 8 صفحہ 151 البدایه و النہایه )
(
البدایه و النہایه حافظ ابنِ کثیر کی تالیف ہے ، جو شاہ جی نے حوالہ جات کے لئے استعمال کی ہے ۔ لہذا انہی کے نام کو اوپ لکھا ہے ۔ ویسے لنک سے دیکھ لیں کہ جلد 8 صفحہ 151 ۔ مہاجر زادہ)
 
مقتل ابی مخنف:

اور تو اور ابو مخنف جیسے جھوٹے مورخ نے بھی لکھا ہے کہ معاویہ ہر سال حسین کو دس لاکھ دینار بھیجا کرتے تھے اور اسکے علاوہ اور بھی. (مقتل ابی مخنف صفحہ 7 .) 
(أبو مِخنف لوط بن يحيى بن سعيد بن مخنف بن سليم بن الحارث بن عوف بن ثعلبة بن عامر بن ذهل بن مازن بن ذبيان بن ثعلبة الأزدي الغامدي الأزدي، كان جده مخنف بن سليم صحابياً)
 

شیطان نامہ - قسط نمبر 8

قسط نمبر 8 . مصالحت اور بیعت خلافت . 
اخبار الطول:
 زخم کے مندمل ہو جانے کے بعد حضرت حسن نے بلا تاخیر مصالحت میں سبقت کی . سبائیوں کی برابر کوشش رہی کے صلح نہ ہونے پائے ، ان کے ایک لیڈر حجر بن عدی نے پہلے تو حسن بن علی سے ملاقات کی تو انہوں نے سختی سے ڈانٹ دیا ، پھر ان کے چھوٹے بھائی حسین بن علی سے گفت و شنید کی کہ تم عزت کی بجاۓ ذلت کو اور کثیر کی بجاۓ قلیل کو اختیار کیوں کر رہے ہو اپنے بھائی کا ساتھ چھوڑ دو تو میں اہل کوفہ میں سے اعوان و انصار کی کثیر جماعت حاضر کر دوں گا ،مگر حضرت حسین نے جواب دیا اور صاف کہا کہ ہم نے بیعت کر لی ہے معاہدہ ہو گیا ہے اور اب کوئی سبیل ہمارے بیعت توڑنے کی نہیں ہے.
(اخبار الطول الدین پوری صفحہ 234 مطبوعہ لنڈن 1888 )

طبری : غالی راویوں نے بیان کیا ہے کہ حضرت حسیں صلح و مصالحت سے متفق نہ تھے انہوں نے اپنے بڑے بھائی سے بحث و مباحثہ کیا مگر حضرت حسن نے اپنے چھوٹے بھائی کو جھڑک دیا کہ تم چپ رہو میں اس معاملہ کو تم سے بہتر جانتا ہوں.(طبری جلد 2 صفحہ 62)

ڈاکٹر طٰحہ حسین:
نے اپنی جدید تالیف " علی و نبوہ " میں زیادہ تصریح سے لکھا ہے کہ حسین بن علی نے اپنے بھائی سے اتفاق نہیں کیا انہوں نے اپنے بھائی کو لڑائی میں چلنے کو زور دیا لیکن ان کے بھائی نے انکار کر دیا اور ڈرایا کہ اگر میری اطاعت نہ کی تو بیڑیاں پہنا دوں گا، (صفحہ 203 .)
اخبار الطول:
بہر حال حضرت حسین نے اپنے بڑے بھائی سے اتفاق بہ جبر کیا ہو یا خوشی سے ،بیعت سے تو کسی کو انکار نہیں ہے،اس وقت حالت یہ تھی کہ عراقی فوج کے کمانڈر قیس بن عبادہ اور حضرت حسن نے حضرت معاویہ کی بیعت کر لی تھی اور عراقیوں سے پوچھا کہ دو باتوں میں سے ایک اختیار کرو یا بلا امام کے جنگ کرو یا معاویہ کی اطاعت میں داخل ہو جاؤ . لوگوں نے حضرت معاویہ کی اطاعت میں داخل ہونا اختیار کیا (اخبار الطوال صفحہ 233 )

 اخبار الطول:
عراق سے واپسی پر بھی سبائیوں نے ان کا پیچھا نہیں چھوڑا ان کے لیڈر مدینہ آئے جن میں سلیمان بن صرو پیش پیش تھا اس نے حضرت حسن سے گفت گو کی مگر ان کے جواب سے مایوس ہوئے ،پھر ان کے چھوٹے بھائی حسین بن علی کے پاس آئے اس پر حضرت حسین نے کہا کہ تم سب لوگ اس وقت تک اپنے گھروں میں خاموش بیٹھے رہو جب تک یہ معاویہ زندہ ہے .(اخبار الطوال صفحہ 173 )

اخبار الطول:
حضرت حسین نے جواب دیا کہ معاویہ کی بیعت ہم نے کراہت سے کر لی ہے پس اگر معاویہ وفات پا گے تو ہم بھی غور کریں گے اور تم بھی، ہم بھی رائے قائم کریں گے اور تم بھی.گویا اس غالی مولف کے نزدیک حضرت حسین نے حضرت معاویہ سے بیعت بہ مجبوری اور بکراہت کی تھی اور حصول خلافت کے لئے مناسب موقح کے منتظر تھے اور حضرت معاویہ کی وفات کے بعد ان کو لا محالہ اپنے اس مقصد کے حصول کے لئے کھڑا ہونا ہی تھا.

 مقتل ابی مخنف:
ابو مخنف نے تو یہ قول حضرت حسین سے منسوب کر دیا کہ اپنے بھائی حضرت حسن کا معاویہ سے بیعت کر لینا ان کو اس درجہ شاق تھا کہ فرماتے تھے کہ میری ناک چاقو سے کاٹنے والا کاٹ ڈالتا یا میرا جسم آری سے چیر ڈالتا میں نے اپنے بھائی کے اطاعت مجبوری اور کراہت سے کی ہے اس کے ساتھ بقول ابو مخنف انہوں نے شیعان کوفہ سے کہا ، اب اس وقت صلح ہے اور بیعت بھی ہے جب تک یہ شخص معاویہ زندہ ہے انتظار کرو جب مر جائے تو ہم بھی سوچیں گے اور تم بھی. ( مقتل ابی مخنف صفحہ 4 .متبح نجف . )



جمعہ، 29 اپریل، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 10

قسط نمبر 10 . اب جگر تھام کے بیٹھو.

پروفیسر لو تروپ ستو:
جہاد قسطنطنیہ (موجودہ استنبول) اور بشارت و مغفرت " مجوسی اور رومی شہنشائیت کا تو پہلے ہے خاتمہ ہو چکا تھا مگر اسلام کی مخالف ایک زبردست قوت رومی باز نطینی شہنشائیت ابھی باقی تھی، حضرت ابو بکر صدیق نے حضرت معاویہ کے بڑے بھائی یزید بن ابی سفیان ، حضرت ابو عبیدہ ابن الجراح ، اور خالد بن ولید سیف الله کو جہاد شام پر مقرر کیا تھا اور انہوں نے شام اور فلسطین وغیرہ کو فتح کیا اور رومیوں کو شکستیں دیں،حضرت یزید بن ابی سفیان کی وفات کے بعد حضرت عمر فاروق نے حضرت معاویہ کو ان کے بھائی کی جگہ مقرر کیا اور انہوں نے خلافت فاروقی اور خلافت عثمانی میں رومیوں کو بری اور بحری معرکوں میں شکستیں دیں مگر قسطنطنیہ پرابھی تک پیش قدمی نہیں کی گئی تھی اور عرب کے بہادر ملک شام فتح کرنے کے زمانے ہی سے اس صدر مقام کو فتح کرنے کا خیال رکھتے تھے.اگر یہ شہر فتح ہو جاتا تو اسلام شمالی یورپ میں بلا مقابلہ غلبہ حاصل کر لیتا .
(صفحہ 214 حاضر العالم اسلامی تالیف پروفیسر لو تروپ ستو دار و مع تعلیمات امیر شکیب ارسلان )
 شیطان :
صفین کی خانہ جنگیوں کی نتائج نے حضرت معاویہ کی ان جہادی سر گرمیوں کو چند سال کے لئے ملتوی کر دیا تھا جو رومی نصرانیت کے خلاف انہوں نے شروع کی تھیں پھر ہجری 41 میں زمانہ خلافت ہاتھ میں لینے کے بعد چند سال کی متواتر جد و جہد سے انہوں نے جہازوں کا ایک عظیم الشان بیڑہ تیار کیا چنانچہ ہجری 49 میں حضرت معاویہ نے جہاد قسطنطنیہ کے لئے بری اور بحری حملوں کا انتظام کر لیا،بری فوج میں شامی عرب تھے خاص طور پر بنو کلب جو یزید کا ننہالی قبیلہ تھا اسکے علاوہ قریشی اور حجازی غازیوں کا دستہ تھا جس میں صحابہ اکرام کی جماعت شامل تھی .
شیطان:
اور اب جگر تھام لو کہ اس ساری فوج کا سپہ سالار یزید تھا ہاں وہی یزید جس کو تم گالیاں نکالتے ہو .یہی وہ پہلا اسلامی بحری جہاد تھا جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا اور اسی اسلامی لشکر کے بارے میں الله کے رسول نے ساری فوج کو مغفرت کی بشارت دی تھی،حدیث بھی سن لو.
 

صحیح بخاری:
رسول الله نے فرمایا میری امت کی پہلی فوج جو قیصر کے شہر قسطنتنیہ پر جہاد کرے گی ان کے لئے مغفرت ہے.
صحیح بخاری جلد ١ صفہ 410 .
( آہ، ہر جنگ کے لئے ایک حدیث گھڑی گئی ۔ جس طرح معرکہ الہند کی محمد بن قاسم کے لئے گھڑی گئی جو اب بھی کارآمد ہے : مُفتی مُفت پُور)

امام شہاب الدین ابو العباس احمد بن محمد بن ابو بکر القسطلانی المصری :

شارح صیح بخاری علامہ قسطلانی نے " مدینہ قیصر " کی تشریح کی ہے کہ اس سے مراد رومی نصرانیت کا صدر مقام قسطنتنیہ ہے بھر اس حدیث کے حاشیہ پر لکھا ہے
کہ مدینہ قیصر قسطنتنیہ پر سب سے پہلا جہاد یزید بن معاویہ نے کیا اور ان کے ساتھ سادات صحابہ ابن عمر ، ابن عباس ، ابن زبیر اور ابو ایوب انصاری میزبان رسول الله اور ایک کثیر جماعت تھی. ( حاشیہ 410 جلد 1 صیح بخاری )

مزید فرماتے ہیں کہ یہ حدیث امیر معاویہ اور ان کے فرزند امیر یزید کے لئے ہے کہ انہوں نے سب سے پہلے مدینہ قیصر قسطنطنیہ پر جہاد کیا .(حاشیہ صیح بخاری جلد 1 صفہ 40)
 شیطان:
یعنی ان سب غازیوں کے لئے جنت واجب ہو گئی، 


شیخ السلام ابن تیمیہ: نے صیح بخاری کی حدیث کو نقل کرتے ہوے لکھا ہے .
اور پہلی اسلامی فوج جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا اس کے سردار یزید تھے اور لفظ فوج ایک پوری تعداد ہے کوئی ایک نہیں .یعنی اس فوج کے ہر شخص کا مغفرت میں شامل ہونا مراد ہے کہا جاتا ہے کہ اس حدیث مغفرت کی خاطر امیر یزید نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا تھا،( صفحہ 252 جلد 2 منہاج السنہ)

حضرت شاہ ولی الله محدث دہلوی:

علامہ ابن کثیرلکھتے ہیں کہ ام حرام نے رسول الله سے یہ سن کر کہ بحری جہاد کے غازیوں کے لئے جنت واجب ،ہے عرض کیا کیا میں بھی ان میں شامل ہوں گی آپ نے فرمایا کہ تم ان میں شامل ہو گی چنانچہ جب امیر معاویہ نے جزیرہ قبرص پر جہاد کیا وہ اپنے شوہر کے ساتھ اس جہاد میں شریک تھیں اور وہیں فوت ہوئیں.ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس حدیث کا ذکر ہم دلائل النبوہ کے طور پر کرتے ہیں.( البدایه و النہایه جلد 8 صفحہ 81)
علامہ ابن کثیر نے حسین بن علی کی شرکت جہاد قسطنطنیہ اور امیر یزید کے ساتھ اس فوج میں شامل ہونے کا ذکر ان الفاظ میں کیا ہے.
حسین ہر سال معاویہ کے پاس جاتے وہ ان کو عطیہ دیتے اور بہت احترام کرتے اور حسین اس فوج میں یزید کے ساتھ شامل تھے جس نے قسطنطنیہ پر جہاد کیا تھا.(البدایه و النہایه جلد 8 صفحہ 51 )
شیعہ مورخ مسٹر جسٹس میر علی نے اپنی کتاب تاریخ عرب ، ہسٹری آف سیریسنسز صفہ 84 میں حضرت حسین کی شرکت جہاد قسطنطنیہ کا اعتراف کیا ہے (صفحہ 11 جلد نمبر 2 )
مورخ اسلام علامہ ذہبی نے بحوالہ ابن عساکر لکھا ہے کہ حسین امیر معاویہ کی خدمت میں حاضر ہوے اور امیر یزید کے ساتھ جہاد قسطنطنیہ میں شریک ہوئے ( جلد 2 صفحہ 11 .)
اسی جہاد کے دوران ابو ایوب انصاری کی وفات ہوئی اور اس وقت ان کی عمر 80 سال سے بھی زیادہ تھی.اتنے عمر میں اس دور دراز مقام پر جہاد میں شرکت انہوں نے اس بشارت مغفرت کی وجہ سے کی تھی.اور آپ نے وصیت کی کہ اے یزید میرا جنازہ دشمنوں کی سر زمین کے اندر دور تک لے جا کے دفن کرنا. (صفحہ 59 جلد 8 البدایه و النہایه )
نوٹ 





خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔