میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 23 اپریل، 2016

شیطان نامہ - بڑا شیطان

لوگ اکثر کہتے ہیں کہ تمہاری تمام پوسٹ اہل علم کے لئے ایک نادر تحفہ ہوتی ہیں اور ہم تمہاری پوسٹ کا انتظار کرتے ہیں تا کہ حقیقت سے آگاہ ہو سکیں ، مگر تم نے اپنا نام شیطان کیوں رکھا ہے اور اتنی خوفناک تصویر کیوں لگائی ہے پلیز اپنا نام اور تصویر بدلو . (شیطانِ اعظم )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
لیکن ٹہریں  پہلے  ایک اور تحریر ، جو شائد آپ کےذہنوں  ( شیعہ  کمیونٹی)  مخصوص چھاپ کو نمایاں کرنے میں مدد گار ثابت ہو  ۔

ھم بے حیا قوم ھیں


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ابتداء شیطان نامہ  ۔
اپنے نبی کا فرمان سنو 
* علم اور حکمت مومن کی گم شدہ میراث ہیں وہ ان کی طرف لپکتا ہے جہاں بھی اسے پا لے.*
میرے نام شیطان کیوں ہے سنو. بچپن ہی سے میں بہت شرارتی تھا بات سے بات نکال کر اکثر ماں اور باپ کو بھی لا جواب کر دیتا تھا اور مان باپ دوسروں کے سامنے کہتے تھے یہ "بڑا شیطان"  ہو گیا ہے ، 
رومانیہ کے ابتدائی سکول میں میرے تمام استاد کرسچن تھے صرف ایک مسلمان اور ایک یہودی تھا ، سب اپنے مذھب کے شیدائی تھے اور آپس میں بہت بحث کرتے تھے اپنا ایک سال کا کورس ایک مہینے میں ختم کر کے میں ان کی کتابیں پڑنے لگ جاتا تھا اور ہائی سکول تک آتے میں ان کی کئی کتابوں کا حافظ ہو گیا تھا اس کے بعد وہ میرے سوالوں سے اکثر پریشان رہتے تھے اور شرمندگی سے بچنے کے لئے مجھے شیطان کہتے تھے ،
میری صرف ایک کمزوری تھی کے مجھے عربی نہیں آتی تھی جو میں نےدو تین سالوں میں محنت کر کے سیکھ لی اسکے بعد جو میں نے الله کی کتاب قران مجید کا مطالعہ کیا تو خود لاجواب ہو گیا .
مذہبی حلقوں میں جب بھی میں نے حق بات کی جو ان کے خود ساختہ عقائد کے خلاف تھی تو سب نے مجھ کو شیطان کہا، ایک رئیس زادہ ہونے کی وجہ سے مجھے فکر معاش نہیں تھی اس لئے میں نے تحقیق کے میدان کو پسند کیا ، دنیا کے مختلف ملکوں میں دنیوی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی تعلیم کو بھی جاری رکھا مگر افسوس کہ میرے اسلام قبول کرنے کے باوجود بھی مجھے شیطان ہی کا لقب ملا ، میرے محل کے قریب ہی کاونٹ ڈریکولا کا محل تھا جس پر میں نے کافی تحقیق کی اور اسکی تصویر لگا لی.
  آپ سب سےدرخواست ہے کہ مجھے وہ والا شیطان نہ سمجھیں بلکہ ایسا شیطان سمجھیں جیسے پیار سے لوگ کہتے ہیں کہ تم بڑے شیطان ہو گئے ہو.


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
20 اگست 2010 کی بات ہے ، کہ مہاجر زادہ کے فیس بُک پیچ پر کرسٹوفر لی کی ایک تصویر نمودار ہوئی ،"قبروں کے مسافر "  کو دوست بنا لیا ۔اور ایک پکچر  پوسٹ ، لگا دی ۔
اُس کے بعد قبروں کا مسافر ،  29 اکتوبر 2014 کو  نئی تصویر کے ساتھ دوبارہ قبر سے نکلا ،  مہاجرزادہ اُس وقت صرف ریٹائرڈ فوجی ہوتا تھا ۔  نے کمنٹ دیا :
پھر قبر سے نکل آئے ؟
اللہ رحم کرے ۔ میرے جیسے معصوم انسانوں پر !

گریو واکر"قبروں کے مسافر " کے یہ دو دور ، شیطانِ اصغر سے شیطانِ اکبر کی طرف ہیں ۔

معلوم نہیں، کس کی پوسٹ نے اُس کی شیطانی خباثت کو مہمیز کیا اور اُس نے ، کدال اُٹھا کے ، 1400 سال پرانی قبروں کے کتبے اُکھاڑ اُکھاڑ کر لانا شروع کر دیئے ۔ جو سالخوردہ ہو چکے تھے اور کئی نے تو اُن پر لکھے ہوئے ، تعویذ پڑھے ہی نہیں تھے ۔
اور جنھیں شک تھا کہ یہ پڑھے جائیں گے اور ماضی کے قدآور بُت زمیں بوس ہوجائیں گے ، اُنہوں نے اپنی قلمی طوائفیت کا سہارا لے کر اُن بتوں  کو ورق الجنۃ کا پلستر کر کے ڈھانپنے کی کوشش کی۔

 لیکن شیطانی خباثت کیا ایکس رے مشینوں سے چھپ سکتی ہے !
وَقَاسَمَهُمَا إِنِّي لَكُمَا لَمِنَ النَّاصِحِينَ ﴿7/21
اور اُس نے اُن دونوں کو تقسیم کیا اور (الگ الگ) کہا کہ میں تم دونوں کا ناصح ہوں !

٭٭٭٭   تمہیدِ کارِ گراں بر لبِ سمندرِ بے کراں...٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔