میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

سوموار، 30 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 32 .- اجماع امت کی اہمیت

اجماع امت کی اہمیت اور کوفیوں کی غداری کا احساس .

مورخین کے بیان سے واضح ہے کہ کوفہ کے قریب پہنچ کر جب حضرت حسین پر حقیقت کھل گئی کہ جو لوگ ان کی وفا داری کا دم بھرتے تھے ان کا پتہ بھی نہ چلا کہ کہاں گئے کہ جو لوگ ہزاروں خطور لکھ کر بھیجتے اور خروج پر آمادہ کرتے تھے کیسے (خارجی بنا کر) دھوکہ دے گئے تو آپ نے جان لیا کہ امیر یزید کی بیعت پر تمام امت متفق ہو چکی ہے اور پوری امت کے فیصلے کے خلاف چلنا اب ممکن نہیں ہے تو آپ نے دمشق جانے کے لئے باگ موڑ دی .
اس کے ساتھ مورخین نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ آپ نے تین شرطیں گورنر عراق کے افسروں کے سامنے پیش کیں!

پہلی یہ کہ مدینہ منورہ واپس جانے دیا جاۓ-
اگر یہ منظور نہ ہو تو اسلامی ممالک کی سرحد پر جا کر مجھ سے جہاد کیا جاۓ -
اگر یہ بھی منظور نہ ہو تو مجھے دمشق بھیج دیا جاۓ تا کہ یزید کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ دے دیں -

(اُس وقت اسلامی ملک کہاں تھے ؟ مُفتی)

طبری اور دوسری کتب تاریخ سے لے کر عام تاریخی کتب الخلفاء اور امام ابن حجر عسقلانی کی الاصحابۂ فی تمیز الصحابۂ تک یہی تین شرطیں موجود ہیں.
شیعہ مورخین و مولفین خاص طور پر ناسخ التواریخ وغیرہ نے بھی یہی شرطیں لکھی ہیں
اور امیر عسکر عمر بن سعد بن ابی وقاص کا خط بھی درج کیا ہے جس میں آخری شرط کے یہ الفاظ ہیں .

یعنی اور وہ (حضرت حسین ) امیر المومنین یزید کے پاس چلے جائیں تا کہ اپنا ہاتھ ان کے ہاتھ میں دے دیں اور دیکھیں کے وہ کیا فرماتے ہیں اس میں امت کا فائدہ اور صلاح بھی ہے اور تمھاری خوشنودی بھی. (صفحہ 237 ناسخ التواریخ جلد 6 از کتاب دوئم مطبوعہ ایران)
آج کل کے مورخ یہ تیسری شرط ظاہر کرنے سے گریز کرتے ہیں لیکن پہلی دو شرطیں بیان کر دیتے ہیں اور بے وقوف یہ نہیں سوچتے کہ امیر یزید کی بیعت اور خلافت پر متفق ہونے اور حسین کا اپنے موقف سے رجوع کر لینے کا مسئلہ تو پہلی شرط میں ہی حل ہو جاتا ہے وہ اس طرح کہ ایک آدمی گھر سے نکلا ہے کہ لوگوں نے اسے بتایا اور ہزاروں خط لکھے کہ وہ فاسق و فاجر ہے .حضرت حسین اپنی اور اپنے بچوں کی قربانی اس لئے دینے کو تیار ہیں کہ یزید کی بیعت نہ کریں اور جام شہادت نوش کریں مگر ابھی تک سرکاری فوجوں نے گھیرا نہیں ڈالا ، صرف ایک ہراول دستہ سامنے نظر آیا ہے اور فرما رہے ہیں کہ مجھے واپس جانے دو ؟

.یہ مورخین آخر حسین کی ذات کو کیا بنانا چاہتے ہیں؟
حسین کو تو یہ سعادت نصیب ہوئی کہ الله پاک نے ان کو جماعت سے خارج ہونے کے شر سے محفوظ فرما لیا اور آپ کو توفیق عطا فرمائی کہ آپ نے جماعت کی حرمت بر قرار رکھنے کا اعلان کر دیا !

اقدام خروج میں آپ نے غلطی کی تھی اور جب خروج پر ابھارنے والوں کی غداری عیاں ہو گئی تو آپ نے وہی کیا جو آپ کے بڑے بھائی حضرت حسن کے منشاء کے مطابق تھا اور جو قران و سنت کی روشی میں واجب بھی تھا.

بلفرض اگر یہ مان لیا جاۓ کہ حضرت حسین نے اپنے موقف سے رجوع نہیں کیا تب بھی دینی نقطۂ نظر سے یزید پر کوئی اعتراض وارد نہیں ہوتا .

ان سے پہلے کے جو واقعات آپ سن چکے ہیں کہ حضرت علی کی بیعت مکمل نہیں ہوئی تھی اور امت کی بڑی اکثریت ان کی بیعت میں داخل نہیں ہوئی تھی اور حضرت علی کے خلاف جو لوگ کھڑے ہوے تھے وہ بہت بڑی اکثریت میں تھے ان کے قبضے میں ملک تھے اور لاکھوں انسانوں کی حمایت ان کو حاصل تھی،
تو کیا حضرت علی نے اپنے مخالفوں کے خلاف تلوار نہیں اٹھائی تھی ؟

ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ ہمارے نبی کی زوجہ جو حجت دینی کے تحت میدان میں آئیں تھیں کیا ان کی اونٹنی اور خیمے پر تیر نہیں برسے گئے تھے؟

اور امیر یزید جو متفق علیہ خلیفہ تھے جن کا پرچم پورے عالم اسلام میں لہراتا تھا اور جن کی بیعت میں سینکڑوں صحابہ اکرام داخل تھے وہ اس چیز کے مجاز کیوں نہیں تھے کہ اپنے خلاف خروج کرنے والوں کا مقابلہ کریں؟

محض اس لئے کہ حضرت حسین حضرت علی کے فرزند اور رسول الله کے نواسہ تھے اور اپنی اس حیثت کی بنا پر خلافت کا دعویٰ کرتے تھے
اور باوجود اس کے ان کے خللاف کوئی ظالمانہ کروائی نہیں کی گئی حالانکہ آپ کے مطالبے کی کوئی سند نہ کتاب الله سے ملتی ہے نہ ہی سنت رسول سے.


حضرت حسین کا دعویٰ خلافت کہ چونکہ وہ نواسہ رسول ہیں اس لئے خلافت پر ان کا حق ہے اس کی مثال کتاب الله ، سنت رسول اور خلفا راشدین اور نہ اہل بیعت کے عزائم سے ہی کہیں ملتی ہے ،
یہی وجہ ہے کہ پوری امت نے حضرت حسین کی بات پر کان نہیں دھرے۔
حتیٰ کہ ان لوگوں نے بھی اسے قابل اعتنا نہیں سمجھا جو اپنی دانست میں خلافت کو رسول الله کی نسبی وراثت سمجتے تھے اور اس ورثہ کو ثابت کرنے کے لئے ازواج مطہرات کی موجودگی میں ورثہ کا حق دار بیٹی کو بنا دیتے ہیں، بلکہ داماد کو !
جو اسلامی قانون وراثت میں ہر گز درست نہیں اگرچہ یہ لوگ مختلف زمانوں میں خود تخت نشین رہے اور جائز حق داروں کو بھی محروم رکھا.
امیر یزید کو بھی حضرت حسین کے حادثہ کا بہت دکھ تھا تمام شیعہ راویوں خاص طور پر ابو محنف نے لکھا ہے کہ اس حادثہ کی خبر سن کر رنج و دکھ سے بے تاب ہو گئے اور آنکھوں میں آنسو بھر آئے مگر ذاتی رشتہ داری کے علاوہ حکومت اور پبلک امور پر نقطۂ چینی کی جاتی تھی.

کربلا کے حادثہ کے کچھ عرصۂ بعد حضرت محمّد بن علی (حسین کے بھائی.)ابن الحنیفہ دمشق تشریف لائے تو اظہار تعزیت کیا اور فرمایا
" حسین کی موت پر الله پاک مجھے اور آپ کو صبر عطا کرے بخدا حسین کا نقصان جتنا بھاری تمھارے لئے ہے اتنا ہی میرے لئے بھی ہے اگر ان کا معاملہ میرے سپرد ہوتا تو میں دیکھتا کہ ان کی موت کو اپنی انگلیاں کاٹ کر اور اپنی آنکھیں دے کر ٹال سکتا ہوں تو بلا مبالغہ دونوں ان کے لئے قربان کر دیتا ان کا میرے ساتھ خونی رشتہ تھا جو انہوں نے ٹھکرا دیا۔"

یہ سن کر ابن الحنیفہ نے کہا،
" خدا تمہارا بھلا کرے اور حسین پر رحم فرماۓ اور ان کے گناہ معاف فرماۓ یہ معلوم کر کے خوشی ہوئی کہ ہمارا نقصان اور محرومی تمہارا نقصان اور محرومی ہے . حسین اب اس دنیا میں نہیں ان کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کریں جو مجھے ناگوار ہو"،
تو یزید نے جواب دیا .
" اے میرے چچیرے بھائی میں حسین کے بارے میں کوئی ایسی بات نہ کہوں گا جس سے تمھارا دل دکھے(النساب الاشراف بلا زری جلد 3)

حسین کے اقدام خروج (خارجی بننے )  پر مخالفین نے تنقید کی اور موافقین نے انہیں معصوم عن الخطاء ہی قرار دیا۔

(بڑے آباء کی اولاد ہمیشہ ، معصوم عن الخطاء رہتی ہے۔ مُفتی)

 مگر حسین کے بیٹے علی بن الحسین (زین العابدین ) کا اس بارے میں جو رویہ رہا اس سے بخوبی ثابت ہے کہ ان کے اہل خاندان اس واقعہ کو سیاسی اقدام ہی سمجتے تھے جو مناسب نہ تھا اس کی تفصیل آگے آتی ہے.




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

شیطان نامہ - قسط نمبر 31 . کوفی یا دمشق

کوفہ کی راہ چھوڑ کر دمشق کی طرف رخ کرنا.
شیعہ راویوں کا بیان ہے کہ کوفہ کے قریب پہنچ کر جب حالات کا صحیح علم ہو گیا تو حضرت حسیں نے امیر یزید کے پاس جانے کے لئے وہ راستہ اختیار کیا جو ملک شام جاتا ہے 

مصنف عمدہ الطالب لکھتے ہیں
مسلم کے قتل کی خبر سن کر حسین نے لوٹ جانے کا ارادہ کیا مگر فرزندان عقیل آڑے آئے تو آپ آگے کو چلے یہاں تک کے کوفہ کے قریب پہنچے وہاں حر بن یزید الریاحی سے ملاقات ہوئی جس کے ساتھ ایک ہزار سوار تھے اور اس نے آپ کو کوفہ لے جانے کا ارادہ کیا آپ نے منح کیا اور ملک شام کی طرف مڑ گئے تا کہ یزید بن معاویہ کے پاس چلے جائیں لیکن جب کربلا پہنچے تو آگے جانے سے روک دیا گیا اور عبید الله بن زیاد کا حکم ماننے کے لئے کہا گیا آپ نے اس سے انکار کر دیا اور یزید کے پاس ملک شام جانا پسند کیا. (عمدہ الطالب فی النساب آل ابی طالب صفحہ 179 طبح اول .مطبوعہ لکھنو)

ابو محنف کا بیان ہے جسے دوسرے راویوں نے بھی روایت کیا ہے کہ قادسیہ و الازیب کے راستے سے مڑ کر آپ زو حسم اور قصر مقاتل ہو کر ان مقامات پر ٹھہرتے ہوے کربلا گئے تھے .حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر) اپنے والدین اور دادا کے ساتھ کربلا میں موجود تھے وہ اس وقت اتنے چھوٹے تھے کہ شاید خود تو کوئی بات یاد نہ ہو گی لیکن اپنے والد اور عزیزوں سے حالات ضرور سنے ہوں گے۔
ان سے ایک دفعہ ایک شیعہ راوی عمار الدہنی نے پوچھا کہ مجھ سے قتل حسین کا واقعہ اس طرح بیان کرو کہ گویا میں خود وہاں موجود تھا اور اپنی آنکھوں سے یہ واقعات دیکھ رہا تھا تو آپ نے فرمایا .
تو آپ نے فرمایا کہ حسین بن علی کو جب مسلم بن عقیل کا خط ملا تو آپ ابھی اس جگہ پہنچے تھے جہاں سے قادسیہ تین میل دور تھا کہ حر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا،
" آپ کہاں جا رہے ہیں؟"
 فرمایا، " اس شہر میں جانا چاہتا ہوں،
تو حر نے کہا ،
"آپ لوٹ جائیے وہاں مجھے آپ کے لئے کسی بہتری کی امید نہیں ہے "
اس پر آپ نے لوٹ جانے کا ارادہ کیا اور مسلم کے بھائی جو آپ کے ساتھ تھے آڑے آئے اور کہا واللہ ہم ہر گز نہ لوٹیں گے جب تک ہم اپنا انتقام نہ لیں یا ہم بھی سب قتل نہ ہو جائیں تو آپ نے فرمایا کہ تمھارے بعد ہمیں بھی زندگانی کا کوئی لطف نہیں یہ کہہ کر آپ آگے روانہ ہو گئے اتنے میں عبید الله کا لشکر سامنے آ گیا تو کربلا کی جانب پلٹ گئے(صفحہ 220 جلد 6 طبری.)

حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر ) کی اس روایت کی تصدیق عمدہ الطالب کے اس بیان کی تائید سے ہوتی ہے کہ حضرت حسین از خود اس راستہ کی طرف مڑ گئے تھے جو کربلا ہو کر دمشق جاتا ہے نہ کہ آپ کو گھیر گھار کر اس راستہ کی طرف چلنے پر مجبور کیا گیا تھا،


جیسا کہ من گھڑت روایتوں میں درج کیا گیا ہے . آپ نے امیر یزید کے پاس دمشق جانے کی راہ اختیار کی تھی .

(ناسخ التواریخ صفحہ 222 جلد 6 از کتاب دوئم) لکھتے ہیں کہ حسین الازیب اور قادسیہ کے راستے سے پلٹ گئے اور بائیں جانب روانہ ہوئے.اور یہ راستہ وہی ہے جو قصر مقاتل و قریات طف ہو کر سیدھا دمشق کو جاتا ہے جس سے ملحقہ میدان کربلا تھا.





٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آپریشن بیدار - 28 مئی 1998

آپریشن بیدار 98
پاکستان کے ایٹمی دھماکوں سے پہلے پاکستانی ہوائی حدود کی مسلسل نگرانی کو آپریشن بیدار کا نام دیا گیا۔ جس میں چاروں جانب نگرانی کے لیے چار سیکٹرز تشکیل دئیے گئے جنہیں اسلام آباد پشاور سرگودھا کوئٹہ اور کراچی سے کنٹرول کیا جا رہا تھا۔
نمبر 6 سکواڈرن جو کہ سی 130 طیاروں سے لیس تھا جس کا کام سامان پہنچانا تھا اس نے اس مشن کے دوران 71 مختلف فلائٹس میں 12،66،615 پاؤنڈ سامان چاغی پہنچایا۔
نمبر 7 ٹیکٹیکل اٹیک سکواڈرن جو کہ میراج طیاروں سے لیس تھا اسے مسرور ائیر بیس کراچی سے شہباز ائیر بیس جیکب آباد بلوچستان منتقل کر دیا گیا تاکہ وہ چاغی کے ایریا میں چوبیس گھنٹے ائیر ڈیفنس ڈیوٹی دے سکے۔
نمبر 9 ملٹی رول سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے سرگودھا سے ہٹا کر سمنگلی ائیر بیس کوئٹہ بھیج دیا گیا تاکہ بلوچستان کے ایریا کو کوور کیا جا سکے اور رات کو ان علاقوں میں پہرہ دیا جا سکے۔
نمبر 11 سکواڈرن جو کہ ایف 16 طیاروں سے لیس تھا اسے 24 مئی کو سرگودھا سے ہٹا کر جیکب آباد بلوچستان بھیج دیا گیا۔
نمبر 14 سکواڈرن کے ایف 7 طیاروں کو چکلالہ ائیر بیس بھیج کر کہوٹہ کے علاقے کی حفاظت کا مشن دیا گیا۔
نمبر 17 سکواڈرن کے ایف 6 طیاروں کو پاکستان کے بارڈرز کے ساتھ ساتھ ہوائی پہرے داری اور گشت لگانے کی ذمہ داری دی گئی۔
اسی کے ساتھ پاکستان ائیرفورس کے پاس موجود تمام ریڈار یونٹس کو اس طرح پھیلایا گیا کہ ایٹمی تنصیبات اور ایٹمی دھماکوں کی ٹیسٹ سائٹ کے آس پاس ایک مکمل گھیرا بن گیا۔
اس سارے مشن کے دوران دالبندین ائیر پورٹ نے بہت شہرت حاصل کی جو کہ چاغی سائٹ سے صرف 30 کلو میٹر دور تھا اور تمام سامان اسی چھوٹے سے ائیرپورٹ پر اتارا جاتا تھا
پاکستان کا ایٹم بم مختلف حصوں کی شکل میں دو سی 130 طیاروں کے ذریعے دالبندین پہنچا تھا۔ ان سی 130 طیاروں کو پاکستانی حدود کے اندر بھی پاکستان کے ایف 16 طیاروں نے اپنے حفاظتی حصار میں لے رکھا تھا جو فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائیلوں سے لیس تھے جبکہ اس دوران پاکستان انڈیا بارڈر کے ساتھ ساتھ ایف 7 طیارے میزائیلوں سے لیس چوبیس گھنٹے گشت لگاتے رہے تھے تاکہ کوئی بھی بیرونی طیارہ ہماری حدود میں داخل نہ ہونے پائے۔
یہ مشن اس قدر سیکرٹ تھا کہ یہ تک سوچا گیا کہ اگر ایٹم بم لے جانے والا طیارہ اغوا ہو گیا تو کیا ہو گا۔ جس پر ایف 16 کے پائلٹوں کو ایک خفیہ آرڈر جاری کیا گیا کہ اگر ایٹم بم والا سی 130 ہائی جیک ہو جائے یا پاکستانی حدود سے باہر جانے کی کوشش کرے تو بنا کچھ سوچے اسے ہوا میں ہی تباہ کر دیں۔ اور اس دوران ایف 16 طیاروں کے ریڈیو آف کروا دئیے گئے تاکہ مشن کے دوران انہیں کوئی بھی کسی بھی قسم کا حکم نہ دے سکے۔ پائلٹوں کو یہ بھی کہہ دیا گیا تھا کہ ان کے آرڈرز فائنل ہیں۔ اگر مشن کے دوران انہیں ائیر چیف بھی آرڈرز بدلنے کا حکم دے تو اسے انکار کر دیں۔
جب 30 مئی 1998 کو پاکستان کے چھٹے ایٹمی دھماکے سے زمین کانپی تو آپریشن بیدار 98 بھی کامیابی کے ساتھ اپنے اختتام کو پہنچا۔
اس آپریشن کو کامیاب بنانے کے لیئے پاک فضائیہ کے شاہینوں نے اہم کردار ادا کیا جہاں ایک طرف انہوں نے سارا سازوسامان سائیٹ تک پہنچایا وہیں سرحدوں کی نگرانی میں بھی ہمہ وقت مصروف رہے۔
ایسے تمام لوگوں کو آج مل کر سلام کرتے ہیں جن کی بدولت آج ہمارا دفاع ناقابلِ تسخیر ہے۔۔۔
اللّه پاک ان تمام گمنام سپاہیوں کو خیر و عافیت دیں جنہوں نے امت مسلمہ کی آخری چٹان مملکت خداداد پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنانے میں اپنا حصہ ڈالا بیشک وہ دنیا کے خوش نصیب ترین لوگ ہیں-


اتوار، 29 مئی، 2016

مقدّس مہینہ !

اُس نے اپنی کار ایکڑوں پر پھیلے ہوئے گوداموں کے نزدیک روکی ، ایک شخص دوڑتا ہوا کار کے پاس آیا ، اُس کے ہاتھ میں ایکسپریس اخبار کا رنگین صفحہ تھا ۔
" ہاں بھی منشی کوئی ہے کام کی خبر ؟ " کار سے اترنے والا اپنی توند سنبھالتا ہوا بولا ۔
اور منشی نے اخبار کا صفحہ سیٹھ الحاج عبدالرزاق کو بڑھا دیا ۔
سیٹھ نے اخبار پر نظر ڈالی اور بولا ،
"واہ جی واہ ، لگتا ہے اِس دفعہ انشاء اللہ اللہ رمضان میں بہت نفع ہوگا ،
کیوں منشی جی ۔ گوداموں میں تمام مال حفاظت اور احتیاط سے پڑا ہے ؟ "
" جی مالک ! اللہ نے چاہا تو رمضان کے مقدس مہینے کی برکت سے کافی منافع ہوگا " منشی بولا ۔
" وہ تو جی بہت سے لوگوں ، نے مال اٹھانے کے لئے فون کرنا شروع کر دیئے ہیں اور ریٹ بھی اچھے دے رہے ہیں "
" ابھی نہیں ، ابھی نہیں ، بولو ابھی مال نہیں آیا راستے میں ہے " سیٹھ بولا ،
" رمضان شریف میں آخری عشرے میں روزہ داروں کو کھلانے کا بہت زیادہ ثواب ہے ،
اور رقم بھی اچھی ملتی ہے !
اور پھر ہمیں ، رقم نہیں، 
ثواب زیادہ کمانا ہے ،ثواب کیا سمجھے ؟
اور پھر ڈھائی فیصد زکاۃ بھی دینی ہے نا !

" جی جی ، مالک مجھے معلوم ہے ،
جی مالک ، میں نے چھانٹی کر کے مال گودام میں رکھوایا ہے اور
زکاۃ کا حصہ الگ کر دیا ہے "
" گودام میں تو نہیں رکھا ؟ " سیٹھ بولا
کہیں پچھلے سالے کی طرح ، دکانوں پر نہ نکل جائے ، بہت شرمندگی ہو گی "

یہاں سے کچھ دور بھٹے کے نزدیک ، جھگیوں کے باہر ننگ دھڑنگ بچے کھیل رہے تھے ، اور کپڑے کے بنے ہوئے سائیبان کے نیچے ، کاشف مسیح اور اُس کی بیوی بیٹھے ہوئے تھے ۔
"الزبتھ پریشان نہ ہو ! " کاشف مسیح بولا
" بس مسلمانوں کا مقدّس مہینہ گذرنے دے ، ساری چیزیں پھر سے سستی ہوجائیں گی "

جمعہ، 27 مئی، 2016

اور میری بھوک مر گئی

وہ روزانہ آتی تھی میرے کلینک پہ سب سے آخری سیٹ پر بیٹھ جاتی۔۔۔۔۔
اور اپنی باری کا انتظار کرتی رہتی۔۔۔۔۔
اپنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی پہلے چیک اپ کرانے کے لیے اپنی جگہ دے دیتی اور کھسکتی ہوئی وہیں آخری سیٹ پر پہنچ جاتی عورتیں اپنی بیماریاں بتاتی تو وہ غور سے سُن رہی ہوتی، اور ان سے سوال جواب بھی کرتی۔۔۔۔
عمر کوئی پینتیس چالیس کے لگ بھگ ہو گی۔۔۔
کپڑے قیمتی نہیں مگر صاف ستھرے ہوتے تھے۔

میں ملک کا مشہور ڈاکٹر رحمان شاہ ہوں۔۔۔۔۔۔دن میں سرکاری اسپتال میں ہوتا ہوں، اور شام میں اپنے پرائیویٹ کلینک پر ۔۔۔۔رات گئے تک بیٹھتا ہوں، میری پریکٹس خوب چلتی ہے ۔۔۔ لوگ کہتے ہیں ،،اللہ نے میرے ہاتھ میں شفا رکھی ہے ۔ میری فیس عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے-

میرا گھر میں انتظار کرنے والا کوئی نہیں ہے.اس لئے میرا زیادہ وقت کلینک پر ہی گزرتا ہے۔۔۔۔۔۔۔
بیوی دو سال پہلے فوت ہو چکی ہے۔۔۔۔۔
جبکہ بیٹیوں کے فرائض میں ادا کر چکا ہوں،دونوں اپنے گھروں میں آباد ہیں۔۔۔۔۔۔۔۔

ہاں تو وہ عورت ، بلا ناغہ تقریباً ایک سے ڈیڑھ گھنٹہ کلینک پر بیٹھتی اور پھر چلی جاتی، بغیر چیک اپ کراۓ۔۔۔۔۔
اور دوا لیے آج میں نے ارادہ کیا کہ اُسے پوچھوں گا کہ وہ کیا کرنے آتی ہے؟؟؟؟
" بی بی۔۔۔آپ آئیں" میں نے اپنی مریضہ کو دوسری طرف بٹھا کر اُسے اشارہ کیا۔۔۔۔
وہ ہونق سی میری طرف دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
"جی! میں آپ کو ہی بُلا رہا ہوں۔۔۔۔آئیں اب آپ کی باری ہے"

وہ اُٹھی اور تقریباً گھسٹتے ہوۓ قدموں سے میرے پاس آ کر کھڑی ہو گئی۔۔۔۔

"بیٹھیں"!

وہ نہ چاہتے ہوۓ بیٹھ گئی
"جی بتائیں ۔۔۔کیا مسئلہ ہے؟"
اس نے گلا صاف کیا اور نپے تلے لہجے میں بولی،

" ڈاکٹر جی، آپ بہت بڑے ڈاکٹر ہیں۔۔۔۔۔میں غریب عورت آپکی فیس نہیں دے سکتی، اور میں یہاں اپنا علاج کرانے نہیں آئی۔ "

"تو پھر یہاں کیا کرنے آتی ہیں؟ " میں نے پوچھا

" ڈاکٹر صاحب میں پیراں گوٹھ میں رہتی ہوں ۔۔۔۔۔۔وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں ہے۔۔۔۔ ایک حکیم تھا ۔۔۔وہ بھی مر گیا۔۔۔۔۔پچھلے دنوں بستی میں ہیضہ پھوٹ پڑا۔۔۔۔ کئی ماؤں کی گود اُجڑ گئی۔۔۔۔ کیونکہ ہمارے گوٹھ میں کوئی ڈاکٹر نہیں ، میری شانو بھی مر گئی، اسی بیماری کی وجہ سے ۔۔۔۔۔۔"
وہ رونے لگی۔۔۔۔۔
مجھے لگا وہ مجھے بستی کے لوگوں کے علاج کے لیے اصرار کرے گی ،مگر میرے پاس نہ تو وقت تھا اور نہ ہی جذبہ۔۔۔
میں کیسے اپنا چلتا ہوا کلینک چھوڑ کے اُسکے ساتھ اسکی بستی کے لوگوں کا علاج کرنے چلا جاتا؟؟؟؟
اسی خدشے کے پیش نظر میں نے پہلے ہی صاف جواب دینا مناسب سمجھا۔۔۔
" دیکھو بی بی ! اس میں میرا کوئی قصور نہیں اگر وہاں کوئی ڈاکٹر نہیں یہ میری نہیں حکومت کی ذمہ داری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔اور میں اس سلسلے میں تمہاری کوئی مدد نہیں کر سکتا،براۓ مہربانی میرا وقت ضائع نہ کریں۔۔۔۔"

میرا غرور اور تکبر میرے لہجے سے چھلک رہا تھا، اس جہانِ کے فانی ہونے کا ادراک تمام مخلو قات میں سے صرف نوحِ انسان کو ہے۔
مگر پھر بھی اسکی بھوک، بے قابو ہے.
چاہے وہ دولت کی ہو یا کسی اور ۔۔۔۔۔۔چیز کی،
میرے مریض میرا انتظار کر رہے تھے ،
میں نے جان چھڑانے کی غرض سے ذرا غصیلے لہجے میں کہا،
" بی بی !جب کوئی بیماری نہیں ۔۔۔
کوئی کام نہیں تو یہاں کیا کرنے آتی ہو؟
میرا کتنا ٹائم ضائع ہو گیا تمہاری وجہ سے؟"

اس نے چند ثانیے میرے چہرے کو دیکھا، اسکے چہرے پہ حیرانی صاف پڑھی جا رہی تھی، شائد اسے مجھ جیسے اعلٰی درجے کے ڈاکٹر سے ایسے گھٹیا پن کی اُمید نہیں تھی، وہ گویا ہوئی،
" ڈاکٹر جی۔۔۔۔آپکے پاس جو مریض آتے ہیں میں اُن سے باتوں باتوں میں اُن کی بیماری کے متعلق پوچھتی ہوں۔۔۔۔ جو دوائی آپ ان کو تجویز کرتے ہیں اُسکا نام بھی پوچھ لیتی ہوں۔۔۔۔۔۔ اسطرح روز ایک دو مریض سے میری بات ہو جاتی ہے۔
گھر جا کے میں بیماری اور دوائی کا نام کاپی میں لکھ لیتی ہوں ۔۔۔۔۔پوری پانچ جماعتیں پاس ہوں ۔۔۔۔۔۔ پھر اگر بستی میں کوئی بیمار ہو جاتا ہے تو میں بیماری کے حساب سے آپکی بتائی ہوئی دوائی انہیں لا دیتی ہوں ۔۔۔۔۔میری شانو تو مر گئی مگر میں کسی اور کی شانو کو مرنے نہیں دوں گی"

یہ کہہ کر وہ تو کلینک سے چلی گئی۔۔۔۔
مگر میری اعلٰی تعلیم اسکی پانچ جماعتوں کے سامنے ہیچ ہو گئی تھی۔۔۔۔
میری بھوک مر گئی !

جمعرات، 26 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 30 . کوفہ نہیں بلکہ دمشق کا سفر !




حضرت حسین کے مکّہ سے روانہ کے بعد سے لیکر حکومت اور وہ صحابہ اکرام جو کاروبار حکومت چلا رہے تھے ان سب کی جانب سے جس احترام اور برد باری کا سلوک ہوتا رہا اس کا ذکر پچھلے اوراق میں کیا جا چکا ہے ۔
عبید الله بن زیاد کی تقریر میں بھی یہی بات کی گئی اور امیر المومنین کی طرف سے احکامات سنائے گئے.
جس کا ذکر طبری صفحہ 201 جلد 6 کے حوالہ سے کیا گیا - تقریر کے بعد گورنر نے تمام قبیلوں کے سرداروں سے ان تمام اشخاص کے ناموں کی فہرست طلب کی جن پر حکومت کی مخالفانہ سر گرمیوں میں حصہ لینے کا شبہ تھا اور سرداران قبائل کو ان لوگوں کو ہموار کرنے کا ذمہ دار بھی بنایا گیا.سرحدی چوکیوں پر نگران بھی مقرر کے گئے اور ان تدابیر سے چند ہی دنوں میں باغیانہ سر گرمیوں کا خاتمہ ہو گیا.
مورخین نے امیر یزید کا ایک فرمان بھی نقل کیا ہے جس کی عبارت میں اگر تبدیلی نہیں کی گئی
جو ابو محنف جیسے مکار کی روایت سے بیان ہوا ہے، فرمان یہ تھا.
" مجھے اطلاع ملی ہے کہ حسین عراق کی جانب روانہ ہوئے ہیں سرحدی چوکیوں پر نگران مقرر کرو جن سے بد گمانی یا الزام ہو انہیں حراست میں لو لیکن جو تم سے خود جنگ نہ کرے تم بھی ان سے جنگ نہ کرنا اور جو بھی واقعہ پیش آئے اسے لکھ بھیجنا - وسلام . (صفحہ 215 طبری جلد 6،  صفحہ 160 جلد 8 البدایه والنہایہ)
ہر بالغ نظر محسوس کرے گا کہ ایک نفیس اور رحم دل حکمران امن عامہ بر قرار رکھنے کے لئے اس سے زیادہ نرم ہدایات اور کیا دے سکتا تھا ؟
کہ جنگ و جدل میں پہل نہ کی جائے اور اگر دوسرا حملہ کرے تو مدافعانہ کروائی کی جائے-

اس فرمان سے ان تمام من گھڑت اور جھوٹی روایتوں کی تردید ہو جاتی ہے جو وحشیانہ مظالم توڑنے کے سلسلے میں بیان کی گئی ہیں. حکومت کا کوئی بھی کارکن عامل ہو یا گورنر اپنے سربراہ کے اس حکم کی خلاف ورزی کی مرتکب نہیں ہو سکتا تھا!
کاروبار مملکت چلانے والے صحابہ اکرام گو حسین کے اس اقدام سے راضی نہ تھے، پھر بھی نواسہ رسول کی محبت میں انتہائی نرمی اور احتیاط سے کام لیا .
مورخین نے صحابی رسول حضرت مروان کا ایک خط نقل کیا ہے جو انہوں نے حضرت حسین کی روانگی کے بعد ابن زیاد گورنر کوفہ کو ارسال کیا تھا اس خط کا مضمون اگر تبدیلی نہیں ہوئی تو یہ تھا.

" تمہیں معلوم ہے کہ حسین بن علی تمھاری طرف آ رہے ہیں اور وہ دختر رسول حضرت فاطمہ الزہرہ کے بیٹے ہیں خدا کی قسم ہمیں ان سے زیادہ ( الله ان کو سلامت رکھے.) کوئی شخص محبوب نہیں ہے پس خبردار غصے اور غیظ و غضب میں کوئی ایسا کام نہ کر بیٹھنا کہ جس کا مداوا نہ ہو سکے اور امت فراموش نہ کر پائے. (صفحہ 165 جلد 8 البدایه . صفحہ 212 جلد 6 ناسخ التواریخ مطبو عہ ایران)
اس خط کے الفاظ سے ہی ظاہر ہے کہ حضرت حسین کی ذات سے حضرت مروان کو کسی قدر الفت تھی اور ان کی آرزو تھی کہ اس خطرناک سفر میں حسین کا بال بھی بیکا نہ ہونے پائے اور انہی مروان پر ان راویوں نے الزام لگایا ہے کہ انہوں نے عامل مدینہ کو ترغیب دی تھی کہ حسین اگر بیعت سے گریز کریں تو ان کی گردن اڑا دو.

ان کی محبت و الفت کا عملی ثبوت آئندہ اوراق میں حضرت علی بن حسین ( زین العابدین ) کے احوال میں آپ لوگ پڑھ سکیں گے.حضرت مروان کی اولاد کی حضرت حسین سے اور ان کی اولاد سے جو قریبی رشتہ داریاں تھیں ان کا ذکر بھی آپ جان سکیں گے.اور ستم یہ کہ ناسخ التواریخ نے اس خط کو امیر یزید کے چچا زاد بھائی ولید بن عتبہ بن ابو سفیان سے منسوب کر دیا جو بالکل گھڑی ہوئی روایت ہے.



تو آپ نے فرمایا کہ حسین بن علی کو جب مسلم بن عقیل کا خط ملا تو آپ ابھی اس جگہ پہنچے تھے جہاں سے قادسیہ تین میل دور تھا کہ حُر بن یزید تمیمی سے ملاقات ہوئی اس نے پوچھا ،
"آپ کہاں جا رہے ہیں ؟"
فرمایا، " اس شہر میں جانا چاہتا ہوں!"
حر نے کہا ، " آپ لوٹ جائیے وہاں مجھے آپ کے لئے کسی بہتری کی امید نہیں ہے"

اس پر آپ نے لوٹ جانے کا ارادہ کیا اور مسلم کے بھائی جو آپ کے ساتھ تھے آڑے آئے اور کہا،
" واللہ ہم ہر گز نہ لوٹیں گے جب تک ہم اپنا انتقام نہ لیں یا ہم بھی سب قتل نہ ہو جائیں"
تو آپ نے فرمایا ، " تمھارے بعد ہمیں بھی زندگانی کا کوئی لطف نہیں"
یہ کہہ کر آپ نے سفر جاری رکھا ،
جب عبید الله کا لشکر سامنے آ گیا تو کربلا کی جانب پلٹ گئے،
(صفحہ 220 جلد 6 طبری)

حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر ) کی اس روایت کی تصدیق عمدہ الطالب کے اس بیان کی تائید سے ہوتی ہے کہ حضرت حسین از خود اس راستہ کی طرف مڑ گئے تھے جو کربلا ہو کر دمشق جاتا ہے نہ کہ آپ کو گھیر گھار کر اس راستہ کی طرف چلنے پر مجبور کیا گیا تھا جیسا کہ من گھڑت روایتوں میں درج کیا گیا ہے . آپ نے امیر یزید کے پاس دمشق جانے کی راہ اختیار کی تھی .(ناسخ التواریخ صفحہ 222 جلد 6 از کتاب دوئم) بھی فرماتے ہیں کہ حسین الازیب اور قادسیہ کے راستے سے پلٹ گیے اور بائیں جانب روانہ ہوے.اور یہ راستہ وہی ہے جو قصر مقاتل و قریات طف ہو کر سیدھا دمشق کو جاتا ہے جس سے ملحقہ میدان کربلا تھا.

 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

بدھ، 25 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 29 . خلافت کا زیادہ حق دار

مسلم کے بھائیوں کی ضد اور کوفیوں کا اصرار.
مورخین کا بیان ہے کہ مسلم کے قتل کی خبر جب حضرت حسین کو سفر میں ملی تو آپ نے واپس لوٹ جانے کا ارادہ کیا لیکن مسلم کے بھائی جو آپ کے ساتھ تھے رکاوٹ بنے.
(شیعہ مورخ .عمدہ الطالب فی انساب آل ابی طالب صفحہ 179 ).
فرزندان عقیل نے ان سے (حسین ) کہا واللہ ہم ہر گز ہر گز واپس نہ لوٹیں گے یا تو اپنا انتقام لیں گے یا ہم سب بھی اپنی جانیں دے ڈالیں گے. (مقاتل الطالبین صفحہ 110 متبوعہ مصر)

یہ حضرات جوش انتقام میں اس طرح مغلوب ہو گئے کہ صورت حال کا صیح جائزہ بھی نہ لے سکے اور اس سیاسی قتل کو ذاتی جھگڑا قرار دے دیا -
حالانکہ رسول الله نے حجه الوداع کے خطبے میں اپنے ابن عم ابن ربیعہ بن حارث بن عبد المطلب کا خون معاف کر کے ذاتی انتقام کی رسم کی حوصلہ شکنی فرما دی تھی .
طبری نے تو وضاحت کے ساتھ بیان کیا ہے کہ دو اسدیوں نے مسلم کے مقتول ہو جانے کی خبر حضرت حسین کو دی تو کوفہ کے حالت کو پیش نظر آپ سے کہا کہ وہاں ہر گز نہ جائیں کیونکہ کوئی ہمدرد شیعہ آپ کا وہاں نہیں ہے.( صفحہ 225 جلد 6 طبری.)
یہ سنتے ہی برادران عقیل جوش انتقام سے اٹھ کھڑے ہوئے . (صفحہ 225 ایضا).

اس خبر کے بارے میں گفتگو کرتے ہوے حضرت حسین نے یہ بھی جتا دیا کہ ہمارے شیعوں نے ہی ہم سے غداری کی. (صفحہ 226 جلد 6 طبری).

ایسی حالت میں اگر یہ لوگ ضد نہ کرتے اور واپسی پر آمادہ ہو جاتے تو یہ سانحہ پیش ہی نہ آتا.
ناسخ التواریخ لکھتا ہے کہ
حضرت حسین نے فرزندان عقیل کی جانب نظر ڈال کر کہا۔ 

"   مسلم مار ڈالا گیا اب کیا راۓ ہے؟"
 
تو انہوں نے جواب دیا ، " واللہ ہم سے جو کچھ ہو سکے گا ان کے خون کا بدلہ لینے کی کوشش کریں گے یا وہی شربت ہم بھی نوش کریں گے جو انہوں نے نوش کیا" 


تو اس پر حضرت حسین نے فرمایا، " ان کے بعد ہم کو بھی زندگانی کا کیا لطف رہے گا". (صفحہ 216 جلد 6 از کتاب دوئم .ناسخ التواریخ .مطبوعہ ایران.)

یہی روایت مقتل ابی محنف ، طبری البدایه میں بھی ہے اور اخبار الطوال جو ان سب سے قدیم تاریخ ہے اس میں بھی یہ روایت عمر بن سعد کی کہانی کے ساتھ موجود ہے جس کا ذکر بچھلے اوراق میں ہو چکا ہے.

فرزندان عقیل جو حسین کے ساتھ تھے کہا، " ہمارے بھائی مسلم کے مارے جانے کے بعد ہمیں بھی زندہ رہنے کی حاجت نہیں ہم ہرگز واپس نہ لوٹیں گے حتیٰ کہ اپنی جانیں دے دیں " حسین نے اس پر فرمایا، "ان لوگو ں کے بعد پھر ہمیں بھی زندگانی کا کوئی لطف نہ رھے گا"
اس گفتگو کے بعد آگے روانہ ہوئے جب زیالہ پہنچے تو محمد بن اشغث اور عمر بن سعد کا فرستادہ قاصد ملا کیونکہ مسلم نے اپنے قتل ھو جانے سے پہلے ان لوگوں سے کہا تھا جو کچھ میرا حال ھوا ھے اور اہل کوفہ نے جو میرے ہاتھ پہ حسین کے لیے بیعت کر کے غداری کی ہے وہ سب کچھ لکھ کر حسین کو بھیج دینا ۔ (صفحہ 310 اخبار الطوال۔)

برادران مسلم کے بضد ہونے کی روایت خود حضرت حسین کے پوتے زید بن علی بن الحسین اور حضرت عبداللہ بن عباس کے پوتے داؤد بن علی بن عبداللہ بن عباس ان دونوں کی سند سے بھی بیان کی گئی ہے۔

برادران مسلم کی ضد تو جذبہ انتقام کے تحت تھی لیکن جب ان 60 کوفیون نے جو حضرت حسین کو عراق لے جانے کے لئے مکہ پہنچے تھے اور آپ کے قافلے کے ساتھ آ رہے تھے اصرار کیا اور ترغیب دی کہ مسلم کی تو اور بات ہے جب آپ کوفہ پہنچیں گے تو سب لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے۔

طبری نے یہ قول نقل کیا ہے ۔ کہ حسین سے ان کے بعض ساتھیوں نے کہا واللہ آپ کی بات اور ہے کجا آپ کجا مسلم ۔ آپ جب کوفہ میں قدم رکھیں گے تو سب لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے۔ (صفحہ 225 جلد 6 طبری۔)

حضرت حسین کا یہ قول اگر درست نقل ہوا ہے کہ تم لوگوں کے بعد ہمیں بھی ذندگانی کا کچھ لطف نہ رہے گا تو ظاہر ہوتا ہے کہ صرف جذبات سے کام لیا گیا لیکن واپسی کا ارادہ اس وجہ سے ترک کر دینا اور سفر جاری رکھنا درست نہ تھا لیکن اپنی دانست میں حضرت حسین اپنے آپ کو خلافت کا زیادہ حق دار اور مستحق سمجھتے تھے اور اپنا حق لینا اپنے اوپر واجب کر چکے تھے ۔
مسلم کے واقعہ سے آپ نے درست نتیجہ اخذ کیا تھا کہ اس حالت میں کوفہ جانا مفید نہ ھو گا - لیکن کوفیوں کے ترغیب دلانے سے کہ آپ کی شخصیت مسلم کی طرح نہیں آپ کی صورت دیکھتے ھی لوگ آپ کی طرف دوڑیں گے حصول مقصد کے جذبے نے ساری احتیاط پر قابو پا لیا اور جس طرح اپنے عزیزوں اور ہمدردوں کے مشوروں کو نظر انداذ کر کے آپ مکّہ سے روانہ ہوے تھے وہی خوش فہمی آگے بڑھنے کی محرک ہوئی۔

آزاد اور بے لاگ مورخ دوزی نے بھی انہی خیالات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا ھے کھ حضرت حسین کہ کوفیوں پر اتنا اعتماد تھا کہ ان کے خطوط لوگوں کے سامنے فخریہ پیش کرتے تھے ان خطوط میں التجا کی گئی تھی کہ وہ آ کر قیادت کریں ہم آپ کو خلیفہ تسلیم کر لیں گے ۔ آخری قاصد جو بڑی طویل درخواست لایا تھا اس میں ڈیڑھ سو صفحات پر لوگوں کے دستحط تھے ۔
حسین کے دور اندیش دوستوں نے لاکھ منت سماجت کی کہ اپنے کو جوکھم میں نہ ڈالیں کہ ان لوگوں نے آپ کے والد سے بھی غداری کی اور دھوکہ دیا مگر حسین نے ان کی نصیحت پر کان نہ دھرے اور شیخی سے کہتے رہے کہ ان خطوط کی تعداد ایک اونٹ کے بوجھ کے مساوی ھے،مسلم کے قتل کی خبر اس وقت ملی جب وہ کوفہ سے زیادہ دور نہ تھے ان کے ساتھ مشکل سے 100 نفوس تھے جن میں زیادہ تر ان کے خاندان کے افراد تھے اور ان کی اس خوش فہمی نے ان کا ساتھ نہ چھوڑا اور ان کو یقین تھا کہ لوگ ان کے استقبال کے لیے پھاٹک پر موجود ھوں گے اور تمام اہلیان شہر ان کے مقصد کی خاطر ہتھیار سنبھال لیں گے ۔( صفحہ 46۔ تاریخ مسلمانان اسپین مصنف ریہاٹ دوذی۔ ترجمہ فرانسس گریفن ۔مطبوعہ لنڈن 1913۔)


 بنیادی وجہ یہ تھی کہ
اپنی دانست میں حضرت حسین اپنے آپ کو خلافت کا زیادہ حق دار اور مستحق سمجھتے تھے اور اپنا حق لینا اپنے اوپر واجب کر چکے تھے ۔ مُفتی ۔


منگل، 24 مئی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 28 .سفر کربلا کے دوران کے واقعات


ابو محنف کی روایت جس کو تمام مورخین نے " اخبار الطوال ، طبری ، ابن کثیر وغیرہ نے نقل کیا ہے ، کہا گیا ہے حسینی قافلہ جب الحاجر کے مقام پر پہنچا ، یعنی بارہ منزلیں اور 338 عربی میل کا فاصلہ طے کر کے تو حسین نے ایک قاصد قیس بن مسہر السدادی کے ہاتھ اس تحریر کے ساتھ بھیجا


مومنین و مسلمین کے نام سلام .
میں تم سے الله کی حمد کرتا ہوں کہ جس کے سوا کوئی معبود نہیں
اما بعد . مسلم بن عقیل کی تحریر میرے پاس آ گئی ہے کہ تم لوگ میرے متعلق اچھی راۓ رکھتے ہو اور ہماری نصرت اور ہمارے حق کی طلب پر متفق ہو.
میں خدا سے دعا کرتا ہوں کہ ہمارا مقصد بر آئےاور تم لوگوں کو اس پر اجر عظیم دے.میں تمھارے پاس آنے کے لئے مکہ سے
آٹھویں تاریخ ذی الحجہ منگل کے دن اور یوم ترویہ کو روانہ ہوا ہوں - جب میرا قاصد تمھارے پاس پہنچے تو تم اپنے کام میں کوشش اور جد و جہد کرو کیونکہ میں انہی دنوں تمھارے پاس پہنچ جاؤں گا - انشاء الله ، وسلام و علیکم . (صفحہ 223 جلد 2 طبری اور صفحہ 167 جلد 8 البدایه)


( منگل کادن 5 ذی الحج 60 ہجری کو تھا ۔ 8 ہجری کو جمعہ ۔ مُفتی ) 

اس تحریر میں 8 ذی الحجہ ہجری 60 کو حضرت حسین کی قلم سے یوم السلاصه یعنی منگل کا دن ظاہر کیا گیا ہے حالانکہ 8 ذی الحجہ ہجری 60 کو اتوار کا دن تھا یعنی یکشنبہ . اور کون صحیح العقل یہ باور کر سکتا ہے کہ حضرت حسین کی قلم سے غلط دن لکھا گیا ہو گا حضرت حسیں سے زیادہ اس بات سے کون واقف تھا کہ مکہ سے آپ کی روانگی کس دن ہوئی تھی، یہ کتابت کی غلطی بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ تمام کتب تاریخ میں جہاں کہیں اس تحریر کو نقل کیا گیا منگل کا ہی دن تحریر ہے.موجودہ زمانے میں کتب تقویم ہر شخص کو دستیاب ہیں جن سے ہجری 1 سے موجودہ سال ہجری تک اس قسم کی صحیح معلومات حاصل کی جا سکتی ہیں کہ مہینہ کی کس تاریخ کو کون سا دن تھا.اور یہ کام آج کل کے بچے بھی با آسانی کر لیتے ہیں.یہ تحریر حضرت حسین سے غلط منسوب کی گئی ہے کیونکہ روانگی کا دن اگر منگل قرار دیا جائے تو مکہ سے روانگی کی تاریخ 10 ذی الحجہ ثابت ہوتی ہے کیونکہ ہجری 60 کے پہلے دس دنوں میں منگل کا دن یا تو تیسری کو پڑتا تھا یا دسویں کو اور تیسری ذی الحجہ کو روانگی کی تو کوئی روایت ہے ہی نہیں اور آٹھویں کو منگل کا دن ہی نہ تھا - 

لہذا یوم روانگی اس تحریر کے مطابق جب منگل کا دن تھا تو لا محالہ ماننا پڑے گا کہ حضرت حسین اور ان کے ساتھی 10 ذی الحجہ کو بعد ادائے فریضہ حج روانہ ہوے اور تیس منزلوں کی مسافت تیس دنوں میں طے کر کے 10 محرم ہجری 61 کو کربلا کے مقام پر پہنچے یا پہنچ سکتے تھے اس سے پہلے نہیں.
ابو محنف اور اس قماش کے دوسرے راویوں کو اس مشکل کا سامنا تھا کہ اگر یہ راوی روانگی کی صحیح تاریخ 10 ذی الحجہ کا اظہار کر دیتے تو پانی بند کرنے اور طرح طرح کے وحشیانہ مظالم اور زبردست جنگ کی من گھڑت روایتیں کس طرح سچ ثابت کر کے دکھاتے،اس مشکل کا حل اس طرح نکالا کہ تاریخ روانگی دو دن پہلے کی دکھائی اور پھر دو منزلوں کو ایک دن میں طے کروا دیا اس کے کے بعد تیس منزلوں کے ناموں کو چھپا کر صرف گیارہ یا بارہ منزلوں کے نام ظاہر کے گیے اور حج کا فریضہ چھوڑ کر روانہ ہونا بھی عجیب بات تھی اس لئے حضرت حسیں سے یہ تحریر لکھوا دی تا کہ ٨ زی الحجہ کو روانگی میں کوئی شبہ نہ رہے.اور مورخین نے روایت پسنندانہ ذہنیت کے تحت اسے تقل در نقل بھی کر دیا


روایت پرستی کی عام وبا نے ہمارے مصنفین کو ان قسم کی غلط روایتوں کی چھان بین اور تنقید کی جانب متوجہ نہ ہونے دیا ورنہ اب سے ایک ہزار سال پہلے ہی اس طرح کی جھوٹی روایتوں کا پول کھل گیا ہوتا -
ابو محنف نے یہ بھی بیان کیا ہے کہ یہ خط لے کر جب حضرت حسین کے قاصد قیس بن مسہر چلے تو کوفہ پہنچنے سے پہلے ہی راستے میں مقام قادسیہ پر گرفتار کر لئے گیے اور گورنر کوفہ نے انہیں اعانت جرم میں مروا ڈالا ایسی صورت میں ظاہر ہے کہ خط تو حضرت حسین کے پاس نہ پہنچا اور کوفیوں کے پاس پہنچنے کا تو کوئی امکان ہی نہ تھا اگرچہ مجرم کی تلاشی کے بعد حکومت کے قبضے میں آ گیا ہو گا.اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ 80 برس سے زیادہ مدت گزر جانے کے بعد ابو محنف کے ہاتھ یہ خط کیسے آ گیا کہ بسم الله سے وسلام و علیکم تک حرف با حرف نقل کر دیا .

ابو محنف ہی کی دوسری روایت میں حضرت حسین کے رضاعی بھائی عبدللہ بن یقطر کے ہاتھ اس خط کا ارسال ہونا بیان ہوا ہے اور کہا گیا ہے کہ قادسیہ کے مقام پر قیس نہیں عبدللہ ہی گرفتار ہو کر گورنر کوفہ کے پاس بھیج دیا گیا تھا

ناسخ التواریخ
کا شیعہ مصنف کیا کہتا ہے
عبدللہ بن یقطر نے حسین کے خط کو جیب سے نکال کر پارہ پارہ کر دیا اور ایسا چور چور کیا کہ اس سے کوئی مطلب نہ پا سکے . (صفحہ 213 جلد 6 از کتاب دوئم )

یہی مصنف فرماتے ہیں کہ جب قاصد سے پوچھا گیا کہ خط کیوں پھاڑ دیا تو جواب دیا .کہ اس لئے خط پھاڑا کہ تو نہ جان سکے کہ اس میں کیا لکھا ہے (صفحہ 214 )

جن حالات میں اور جس مقصد کے تحت یہ سفر ہو رہا تھا راویوں کے بیان کے مطابق حضرت حسین اور فرزوق شاعر اور دوسرے لوگوں کو زبانی کوفہ کے حالات اور حکومت کے انتظامات کی اطلاع مل چکی تھی تو پھر حضرت حسین کو کوئی اطلاع بھیجنی تھی تو زبانی بھیجتے قاصد کی زبان بھی تو خط ہی ہوتی ہے اور خط کا تو پکڑا جانا یقینی ہو سکتا تھا جب کہ زبان کا تو ثبوت کوئی نہیں ہوتا اور پھر اگر خط ہی بھیجنا تھا تو اس میں ان غیر ضروری تفصیلات کی کیا ضرورت تھی  ؟
" ہم جب مکہ سے چلنے لگے تو ذی الحجہ کی تاریخ آٹھ تھی دن منگل کا تھا اور یوم ترویہ تھا "

 اس سے وہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے جس کا اشارہ پچھلی قسط میں کیا گیا ہے.بات صاف ہے کہ نہ تو یہ تحریر حضرت حسین کی ہے نہ انہیں اس کی ضرورت تھی یہ ان ہی راویوں کی خود ساختہ ہے ورنہ کیسے ممکن ہے کہ حضرت حسین اپنی روانگی کی تاریخ اور دن بھی نہ صحیح لکھتے.

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
قسط نمبر 27    ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر  29 

سوموار، 23 مئی، 2016

برفی نامہ ـ ماھانہ چھٹیاں

برفی چھٹیاں گذار کر بابا اور ماما کے ساتھ واپس چلی گئی ۔
گذشتہ رات ، میں واش روم کیا تو نمنا نے میرے لیپ ٹاپ پر قبضہ کر لیا ۔
اُس کی ماما نے کہا ،
" ہٹو نمنا ،  لیپ ٹاپ مت چھیڑو !"
تو ماں کو کہتی ہے ۔
دادا بابا کا !
(یعنی آپ کا نہیں ۔ لہذا آپ کا مجھے ہٹانے کا کوئی حق نہیں )
یو ایس بی لائیٹ لیپ ٹاپ سے اتارتی اور پھر لگاتی اور سب کو کہتی
" نمنا خود "
میں آیا تو بہو نے ایک بار پھر کہا ،
" نمنا ہٹو ! "
تو بولی !
دادا بابا کا !
اور مجھے دیکھ کر بولی ،
"دادا بابا کا ، نمنا کا "
میں نے کہا ،
" نہیں نمنا کا "
تو چلائی !
" ماما ، نمنا کا " !


چم چم سکول سے آئی بولی
" آوا ، میں نمنا کو مِس کر رہی ہوں !"
میں نے کہا !
" ہم سب مِس کر رہے ہیں !"




گرم پانی سے علاج !

انسانی جسمانی بیماریاں  اور گرم پانی سے علاج :
انسانی بیماریاں ، ناک اور منہ کے راستے معدے یا پھیپھڑوں میں داخل ہوتی ہیں ۔ اور جسم کو اذیت میں مبتلاء کرتی ہیں ۔ جن میں :
شدید سر درد میگرین
ہائی بلڈ پریشر
خون کی کمی 
جوڑوں کا درد
ہائیپر ٹینشن، بے چینی
مرگی 
چربی کولیسٹرول کی وجہ سے رگوں کی بلاکیج
شدید کھانسی ،  دمہ ، کالی کھانسی
ایسیڈٹی ، السر (زخم معدہ)
بھوک نہ لگنا یا کم لگنا 
گلے کا درد ، ٹانسلز ،
 ہر بیماری جو آنکھ کان گلے سےمنسلک ہے 
مثانہ پیشاب اور اس سے منسلک ساری بیماریاں
طریقہ علاج :
ہر روز صبح جلدی اٹھیں اور نہار منہ ، گرم پانی ، مانند چائے  160 سی سی کے تقریبا 4 گلاس پیئیں ، یعنی نیم گرم سے ذرا اوپر گرم !
احتیاط:
٭ - پانی پینے کے 45 منٹ تک کچھ بھی نہ کھائیں اور پیئں-
٭ -  ہر کھانے کے دو گھنٹے بعد تک پانی بالکل نہیں پینا -
 ٭ -  یاد رہے ، کہ دورانِ علاج ٹھنڈا پانی، کولڈ ڈرنکس ، آئسکریم اور ٹھنڈی کھانے کی چیزوں سے دور رہیں  !

ابتداء میں 4 گلاس گرم پانی پینا مشکل لگے - 1 گلاس سے 4 گلاس تک کی مقدار ہفتے میں پہنچائیں ۔

گرم پانی پینے کے فوائد !

چینی علاج طب میں ، پانی سے مختلف بیماریوں کے علاج کا دورانیہ کچھ ایسا ہے :

٭ -  شدید سر درد میگرین 3 دن
٭ - کم بھوک لگنا 10 دن 
٭ - معدے کے تمام مسائل 10 دن 
 ٭ - مثانہ اور اس سے منسلک بیماریاں 10 دن 
٭ - خواتین کی بیماریاں 15 دن  
٭ - ناک ، کان اور گلا 20 دن
٭ - شوگر 30 دن  
٭ - بلڈ پریشر (بی پی )  30 دن  
٭ - دل اور اس سے متعلق بیماریاں 30 دن  
٭ - لیو کیمیا  30 دن 
٭ - چربی. کولیسٹرول 4 مہینے  
٭ - سانس دمہ کی مشکلات 4 مہینے 
٭ - کولیسٹرول کی وجہ سے رگوں کی بندش 6 مہینے
٭ - مرگی اور فالج   9 مہینے  
٭ - ہر قسم کا کینسر 9 مہینے

نوٹ : ہر قسم کے ٹھنڈے پانی سے پرہیز کریں ۔ تو مندرجہ بالا بیماریاں بڑھاپے میں بھی آپ کے پاس نہیں پھٹکیں گی !



اتوار، 22 مئی، 2016

بھکاریوں کی گلوبل ورلڈ میں اقسامِ جدید !

٭ -  منہاج القرآن کے نام پر ، محمد بن عبداللہ کو جہاز کا ٹکٹ دے کر بلوانا ۔
٭ -  بہشتی دروازے کے نیچے سے گناہ گاروں کو پاک کرنا ۔
٭ -   قیامِ خلافت کے لئے چندہ مانگنا ۔
٭ -   مودودیوں کا ، غریبوں (اپنی جماعت ) کا پیٹ بھرنے کے نام پر ، زکات بھیک اور خیرات مانگنا ۔
٭ -   ماں نے نام پر کینسر ہسپتال کی کمائی میں ، " إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ " کا ٹچّو لگانا ۔
٭ -   دیوبندیوں کا اپنی احیائے ، خلافت یا منہاج علیٰ النبوۃ کا دعویٰ کرنا ۔ یا
٭ -   بریلویوں ، کا گلے پھاڑ ، پھاڑ کر اللہ کو جگانا ۔
٭ -   شیعوں کا ، تصاویر ، سر کٹا جسم ، خیالی تصاویروں کے ہجوم میں خود کو گریہی و زاری میں کمالِ اوج پر پہنچانا ۔
یہ سب شیعانِ ریال و درھم کی کرشمہ سازی ہے ۔
تو احمدی ، قادیانی یا مرزائیوں کو ، فراڈیوں کا لقب دینا ،
بالکل ایسا ہے ، کہ جیسا
شیشے میں خود کو دیکھ کر ،عقل مند  اور فرستادءِ خدائے یزداں کہنا  اور اپنے علاوہ باقیوں کو جاہل اور پیرو کارانِ خدائے اہر من گرداننا !
واہ رے انسان تیری ابلیسی ، چالبازیاں !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک دوست نے اعتراض داغا :عمران خان کو لازمی ڈالنا ھے بیچ میں بات خواہ کوئ بھی ھو۔ آپ کو عمران فوبیا ھو گیا ھے۔

عرض کیا !

ایک بھکاری ایدھی بھی ہے اُسے میں نے نہیں ڈالا ۔

غور کرو نوجوان !

تو فرق محسوس ہو گا !

یارو کیوں تنگ کرتے ہو ؟

2013  میں معاف کیا ، مگر باز نہ آئے
2014  میں معاف کیا ، مگر روش نہ بدلی
2015  میں معاف کیا ، تریا ھٹ قائم رہی

اور اب
  :   میں سر جھکا کر کھڑے ہو 2016 !
جی تو چاہتا ہے کہ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔!
مگر خیر ، اور کیا کیا جاسکتا ہے ، معاف کرنے کے سوا !
کہ شائد تمھارا عقیدے کے مطابق ، تمھارا کمزور پتہ زندگی کے درخت سے جھڑ نہ جائے !
جسے تمھارے بچے ، بلکہ تم خود بھی ، پٹاخے اور پھلجھڑیاں اور کاربائیڈ دھماکوں سے مزید جھٹکے دیتے ہو !
 

 
ویسے میں ایک راز بتا دوں ۔  

کہ میں دن میں کم از کم 23 مرتبہ ،  تمھارے لئے ، اور اپنے لئے بھی بائی ڈیفالٹ یہ دعا مانگتا ہوں ،
اے میرے ربّ ، میری مغفرت کر !
اور  میرے والدین  کی !
اور المؤمنون کی !
یوم جب الحساب کا قیام ہوگا !

دنیا میں پڑھی جانے والی یہ دعا ، ہمارے لئے ، روزانہ اُس عظیم الشان ڈیٹا بیس میں داخل ہوتی ہے اور  اِن " آفاقی کمانڈ لائن "سے گزرتی ہے  ۔


   <Variable name="alkitaab s014 v041">
   <Group description="Al-mou'mineen">
 <Variable name="Khalid Mohajir Zada", gender="male"/>
</Group>
  <a:if cond=Al-mou'mineen'>
 <a:includable id='redemption' var='count'>
   <span class='forgiven'> ;</span>
  <b:else/>
<b:if cond=NOT Al-mou'mineen'>
<DELETE  REDEMPTION>
< increase Deterioration>

مجھے یہ سوچنا چاہئیے کہ  کیا  میں المؤمن ہوں  ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔