میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 30 جولائی، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 35 . واقعات کربلا تاریخ دانوں کی نظر میں


یہ حقیقت ہے کہ کربلا کے جو واقعات عام طور پر مشہور ہیں اور کتابوں میں درج ہیں ان کی حیثیت افسانہ سے زیادہ کچھ بھی نہیں!
 اصلیت کیا ہے ؟ 
اس کا سراغ لگانا اور سچ کو جھوٹ سے تمیز کرنا دشوار ہی نہیں بلکہ نا ممکن کے قریب ہے راویوں کا اپنا چشم دید واقعہ کوئی نہیں سب سنی سنائی باتیں ہیں۔ 
قدیم ترین راوی ابو محنف ، لوط بن یحیی اور اس کا بیٹا ہشام اور اس قماش کے دوسرے تاریخ دانوں کو آئمہ رجال اور ان کے ہمعصر تاریخ دانوں اور بعد میں آنے والے مورخین نے کٹر شیعہ ، جھوٹا ، دروغ گو اور کذاب قرار دیا ہے۔ 
خانہ جنگیوں پر ان کی مختلف تالیفات ہیں ، جنگ جمل ، صفین اور نہروان اور کربلا پر "مقتل ابی محنف" مشہور ہے، جو جھوٹی کہانیوں اور داستان سرائیوں سے بھر پور ہے اور  بیشتر روایتیں ان کی اپنی گھڑی ہوئی ہیں ان کی ساری روایتوں کو ابن جریر طبری نے " قال ابو محنف " کی تکرار کے ساتھ اپنی کتاب میں شامل کر لیا
 اور طبری سے دوسرے مورخین نے انہیں نقل در نقل اپنی تاریخوں میں شامل کرنا شروع کر دیا اس لئے ان موضوعات کو اعتبار کا درجہ حاصل ہوتا گیا۔
کربلا کے حادثے کے وقت تو ابو محنف کا اس دنیا میں وجود ہی نہ تھا اس کا سن وفات حضرت امام ذہبی نے 170 ھ کے لگ بھگ بتایا ہے .(میزان الاعتدال جلد 2 صفحہ 260) اور بعض لوگوں نے 175 ھ یعنی حادثہ کربلا کے 100 سال بعد .اور وہ کس قسم کے تاریخ دان تھے آئمہ رجال کے اقوال ان کے بارے میں سنیئے.
٭ ۔  صاحب "کشف الاحوال فی نقد الرجال" صفحہ 92 میں کہتے ہیں لوط بن یحیی اور ابو محنف کذاب تھے .
٭ ۔صاحب "تذکرہ الموضوعات" نام لکھ کر " کذاب " کے لفظ سے ان کا تعارف کراتے ہیں .صفحہ 286 .

٭ ۔ امام سیوطی. "الا لی المفنو عہ فی الاحادیث الموضوعہ" صفحہ 386 میں ابو محنف اور اس کے ہم داستان گو الکلبی کے بارے میں لکھا ہے "کذابان "
٭ ۔ دار قطنی نے کہا کسی اعتبار کے لائق نہیں۔
٭ ۔ ابو حاتم نے متروک قرار دیا . اور فرمایا کہ وہ ضعیف ہے ۔
٭ ۔ ابن معین کہتے ہیں کسی اعتبار کے لائق نہیں .
٭ ۔ مرہ فرماتے ہیں کہ وہ تو کوئی چیز ہی نہیں 
٭ ۔ ابن عدی نے فرمایا وہ تو کٹر شیعہ ہے اور شیعوں ہی کی خبریں روایت کرتا ہے.(معجم الدبا جلد 2 صفحہ 41) اور فرمایا کہ وہ کوفی تھا اور اس کی روایتیں کسی کام کی نہیں .
٭ ۔  محمّد بن السائب کلبی ابو النصر الکونی کے بارے میں ابن حبان فرماتے ہیں کہ الکلبی سبائی گروہ کا تھا۔ جو کہتے ہیں کے علی کو موت نہیں آئی وہ لوٹ کر دنیا میں آئیں گے اور اس کو عدل سے اس طرح بھر دیں گے جس طرح ظلم سے بھری ہے . (میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 62)
٭ ۔ یحیی بن معین کہ الکلبی لائق اعتماد نہیں .
٭ ۔جوزنجانی کہتے ہیں ہیں وہ کذاب تھا .
٭ ۔دار قطنی اور ائمہ رجال کی ایک جماعت نے اس کو متروک قرار دیا ہے ۔ 
٭ ۔ اعشق نے فرمایا اس سبائی کلبی سے بچتے رہو وہ کذاب ہے .اور اس کا بیٹا ہشام بھی راوی ہے اور کوئی 150 رسائل اور کتابوں کا مصنف ہے جس کا پورا نام محمّد بن السائب الکلبی ابو المندر ہے اور اس کو متروک قرار دیا ہے .
٭ ۔ ابن عساکر نے فرمایا کہ وہ رافضی نا قابل اعتبار ہے .میزان الاعتدال جلد 3 صفحہ 256 .
٭ ۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہ نے بھی ان کو جھوٹا بتایا ہے فرماتے ہیں .
کہ ابو محنف اور ہشام بن محمّد بن السائب کلبی اور ان جیسے راویوں کا دروغ گو اور جھوٹا ہونا تو اہل علم میں مشہور اور معروف بات ہے . منہاج السنہ جلد 1 صفحہ 13 .
الغرض یہ ہیں وہ راوی اور اس قماش کے دوسرے بھی جن کی من گھڑت روایتوں سے داستان کربلا مرتب ہوئی آپ لوگ عقیدت اور توہم پرستی سے ذرا ہٹ کر سوچیں جن کو امام ابن تیمیہ کچھ جھوٹ اور کذب بیانی .من گھڑت اور کذب حق نما فرماتے ہیں.ابن تیمیہ فرماتے ہیں کہ انہوں نے بہت چھوٹی چھوٹی باتوں کو بڑھا چڑھا کر بیان کیا ہے اور حسین کی عظمت ، مفاد کا بھی خیال نہیں کیا فتوحات کے بارے میں جھوٹے قصے بیان کیے ہیں اور قتل حسین کی خبریں بیان کرنے والے جو اہل علم مصنف ہیں جیسے بغوی اور ابن ابی الدینا انہوں نے بھی با وجود اپنے علم کے اس بارے میں نقل ہی ماری ہے تحقیق نہیں کی اور جو مصنف بغیر سند کے اس بارے میں کہتے ہیں وہ تو جھوٹ ہی جھوٹ ہے .(منہاج السنتہ جلد 2 صفحہ 248 ).
یہاں داستان کربلا کی من گھڑت روایتیں بیان کرنے کا موقح نہیں ہے زمانۂ حال کے ایک شیعہ مورخ جناب شاکر حسین امروہی مصنف مجاہد اعظم فرماتے ہیں کہ سینکڑوں باتیں لوگوں نے اپنی طبیت اور ذہنیت کے تحت تراش لیں واقعات کی تدوین عرصۂ دراز کے بعد ہوئی رفتہ رفتہ اختلافات کی اس قدر کثرت ہو گئی کہ جھوٹ کو سچ اور سچ کو جھوٹ سے تمیز کرنا بہت مشکل ہو گیا .
ابو محنف اور لوط بن یحیی کربلا میں تو خود موجود نہ تھے اس لئے یہ سب واقعات انہوں نے سن سنا کر لکھے لہذا مقتل ابو محنف پر بھی پورا وثوق نہیں پھر یہ کہ مقتل ابو محنف کے مختلف نسخے پائے جاتے ہے ہیں ۔ جن کا بیان بھی ایک دوسرے سے نہیں ملتا اور خود ابو محنف واقعات کے جمح کرنے والے نہیں بلکہ کسی اور ہی شخص نے ان کے بیان کردہ سنے سنائے واقعات کو قلمبند کر دیا ہے ۔
مختصر یہ کہ شہادت امام حسین کے متعلق تمام واقعات ابتداء سے انتہا تک اس قدر اختلافات سے بھرے ہیں کہ اگر ان کو ایک ایک کر کے بیان کیا جاۓ تو کئی بڑے بڑے دفتر بھی کم پڑ جائیں گے اور اکثر واقعات مثال کے طور پر ٭ ۔ تین رات اور دن پانی کا بند رہنا ،
٭ ۔ مخالف فوج کا لاکھوں کی تعداد میں ہونا ،
٭ ۔ شمر کا آپ کے سینہ مبارک پر بیٹھ کر آپ کا سر جدا کرنا ، 
٭ ۔آپ کی لاش سے کپڑے تک اتار لینا ، 
٭ ۔آپ کی لاش مبارک کو گھوڑوں کے سموں تلے روندنا ،  
٭ ۔نبی زادوں کی چادریں تک چھین لینا ، 
٭ ۔آپ کے سر مبارک کی توہین وغیرہ وغیرہ 

نہایت مشہور اور ہر شخص کی زبان پر ہیں حالانکہ ان میں سے بعض سرے سے غلط ہیں ، بعض مشکوک ہیں بعض ضیف بعض مبالغہ آمیز اور بعض تو بالکل من گھڑت ہیں 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 

سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار

سعودی عرب میں بسلسلہ روزگار مقیم ایک خوددار انسان کی ڈائری

1 جنوری
آج میں نے Resign کر دیا۔ مجھ سے جونیر ایک سعودی کو منیجر بنا دیا گیا۔ یہ میری قابلیت کی توہین ہے۔ ساراکام ہم کریں اور کریڈٹ وہ لے جائیں یہ غلط ہے۔ جس قوم میں ترقی کی بنیاد بجائے تعلیمی قابلیت کے نیشنالٹی یا واسطہ یا کوئی اور چیز دیکھی جائے وہ قوم کبھی ترقی نہیں کر سکتی۔

5 جنوری
آج شیخ صاحب نے خود بُلا کر سمجھانے کی کوشش کی اور تنخواہ دس ہزار ریال کر دینے کا وعدہ کیا لیکن میں اپنی خود داری اور وقار کو ریالوں کے عوض بیچنا نہیں چاہتا۔

10جنوری
میں نے واپسی کی سیٹ بُک کروا لی۔ انشاء اللہ جاتے ہی کاروبار شروع کر دوں گا۔ الحمدللہ پورے 25 لاکھ روپئے میرے پاس ہوں گے جو کہ کوئی خوابوں میں بھی نہیں سوچ سکتا کہ اتنے بڑے سرمائے سے وہ کوئی کاروبار شروع کر سکتا ہے۔ میرے دونوں سالے ساجد اور حمید بزنس میں تجربہ کار ہیں دونوں کی مدد سے انشاء اللہ ایک انڈسٹری یا فیکٹری کا آغاز کروں گا۔ میرے اپنے بڑے بھائی احمد اور نوید بھی دوبئی اور امریکہ میں ہیں وہ بھی مدد کرنے میں پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

2 فبروری
آج وطن لوٹا ہوں۔ اِس سے بڑی نعمت اللہ تعالیٰ کی اور کیا ہو سکتی ہے کہ آدمی اپنے وطن میں کمائے کھائے اور اپنوں کے درمیان رہے۔ جو محنت لوگ باہر کرتے ہیں اگر یہی اپنے وطن میں رہ کر کریں تو نہ صرف کفیلوں کی غلامی سے آزاد ہو سکتے ہیں بلکہ ملک بھی ترقی کر سکتا ہے۔

15 فبروری
ساجد کے مشورے پر میں نے اس کے ساتھ دس لاکھ لگا دئیے۔ اُس نے ایک ایسے علاقے میں پلاٹ خریدا جو ایک سال میں ہی پچیس لاکھ دے جائے گا۔

25 فبروری
حمید کنسٹرکشن کے کام میں برسوں سے لگا ہوا ہے میں نے اُس کے کہنے پر پانچ لاکھ اُس کے ساتھ لگا دئیے۔ ایک سال میں دس لاکھ تک وصول ہو جائیں گے۔

2 مارچ
باہر رہ کر اِتنے سال capriceچلائی اب مسلسل اِسکوٹر چلانا عجیب لگ رہا ہے۔ اِس سے image بھی خراب ہو رہا ہے کیونکہ سبھی دوستوں کے پاس کاریں ہیں اِسلئے حمید نے اپنے ایک دوست سے دو لاکھ میں ایک پُرانی corollaکی ڈیل کروا دی۔

15 مارچ
زرینہ کی ہمیشہ سے شکایت رہتی تھی کہ ہماری شادی کے بعد سے آج تک ہم نے کوئی دعوت نہیں کی ہمیشہ دوسروں کی دعوتوں میں جا کر کھا کر آتے ہیں ہمارا اخلاقی فرض بنتا ہے کہ ہم بھی کبھی دوسروں کو بُلائیں۔ اسلئے ہم نے ببلو کی بسم اللہ کر ڈالی۔ ہال کا کرایہ کھانا اسٹیج اور ویڈیو وغیرہ کے مِلا کر کُل ایک لاکھ خرچ ہوئے

20 اپریل
آج ابّا جان نے بُلا کر کہا کہ شہانہ کے لیے ایک اچّھا رشتہ آیا ہے آجکل لڑکوں کے rates بہت زیادہ ہیں لوگ جہیز وغیرہ کا راست مطالبہ نہیں کرتے صرف یہ کہتے ہیں کہ اپنی خوشی سے جو چاہے دے دیجئے یہ ایک مکّاری ہے وہ رشتہ بھیجتے ہی ایسی جگہ ہیں جہاں سے انہیں بغیر مطالبے کے ہی بہت کچھ مل سکتا ہو۔

5 جون
ببلو کو رائل پبلک اسکول میں اڈمیشن کا ایک ذریعہ ملا ہے لیکن پچاس ہزار ڈونیشن کے علاوہ پچیس ہزار تک پرنسپل سمیت درمیان کے لوگوں کو کھلانا ہے۔ بینک میں پیسے ختم ہو چکے ہیں

20 جون
ساجد کو میں نے جو بھی قیمت آئے پلاٹ بیچنے کے لیے کہا لیکن جواب ملا کہ اُس پر جہانگیر پہلوان کے لوگوں نے قبضہ کر لیا ہے اُلٹا ساجد مجھ سے ہی پولیس کاروائی کے لیے کم از کم ایک لاکھ مانگ رہا ہے ورنہ کیس دو تین سال کھینچ سکتا ہے

25 جون
حمید سے پیسوں کا انتظام کرنے کہا لیکن وہ کہہ رہا ہے کہ بلدیہ والوں نے Illegal construction کا پرچہ پھاڑ دیا ہے کم از کم ایک آدھ لاکھ کھِلانا  پڑے گا، ورنہ کوئی گاہک پلاٹ خریدنے نہیں آئے گا اور تعمیر کا کام ایسے ہی رُکا رہے گا۔ بلکہ اسٹیل اور سمنٹ کے بڑھتے ہوئے داموں کی وجہ سے خرچ اور بڑھ جائے گا۔

10 جولائی
ابّا جان کو دل کا دورہ پڑا۔ فوری دوا خانے میں شریک کروانا پڑا ڈاکٹر اِس دور کے سب سے بڑے ڈاکو ہیں
فوری ایک لاکھ روپیئے جمع کروانے کے لیے کہا۔

25 جولائی
آج بینک سے چھ ہزار ماہانہ شرحِ سود پر ایک لاکھ کا لون لینا پڑا

14 اگسٹ
احمد بھائی نے کہا کہ بھابھی کے آپریشن اور زچگی کی وجہ سے وہ مقروض ہیں اور دوبئی میں مکانوں کے کرائے اندھا دھند بڑھا دئیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہ سخت پریشان ہیں واپس آنے کی سوچ رہے ہیں

25 اگسٹ
نوید بھائی نے کہا کہ انہوں نے امریکہ میں کریڈٹ پر پٹرول پمپ خریدا ہے مالی حالت خراب ہے

20 سپٹمبر
بینک کے قرضے کی قسط ادا کرنی ہے سوچا تھا زرینہ کا کچھ زیور بیچ دوں گا یوں بھی یہ عورتیں مردوں کی کمائی کو لاکرز میں سڑاتی ہیں۔ لیکن زرینہ کا زیور اُنکی امی جان کے لاکر میں ہے اور وہ اپنے بیٹے کے پاس امریکہ گئی ہوئی ہیں۔

3 اکتوبر
کار فروخت کر دی۔ یہاں کی ٹرافک میں کار یوں بھی ایک حماقت ہے آدمی اسکوٹر پر کہیں زیادہ آرام سے پہنچ جاتا ہے۔ فضول کی شان میں پٹرول کا اصراف صحیح نہیں ہے۔

25 اکتوبر
انڈسٹریل لون کے لیے درمیان کے لوگ اور بینک منیجر ایک لاکھ رشوت مانگ رہے ہیں ادا کرنے پر مکان کے کاغذات رہن رکھ کر پچیس لاکھ دیں گے اور تین سال میں پینتس لاکھ وصول کریں گے پتہ نہیں اِس ملک میں لوگ کیسے زندگی گزارتے ہیں محنت اور ایمانداری سے جینا ناممکن ہے۔

1 نومبر
آج شیخ صاحب سے ویزا کے لیے بات کی انہوں نے ایک مہینے بعد فون کرنے کہا

1 دسمبر
آج پھر شیخ صاحب سے بات کی اُنہوں نے تین ہزار ریال ماہانہ کا آفر دیا۔ میں نے ہاں کہہ دیا۔ عزّت کے ساتھ یہ بھی مِل جائیں تو بڑی نعمت ہے ورنہ اپنے ملک میں آدمی دن رات محنت کر کے دنیا بھر کے جھوٹ اور چکمے بازیاں کر کے بھی اتنا نہیں کما سکتا جب کہ وہاں کم از کم جھوٹ دھوکہ چکمہ یہ سب تو نہیں کرنا پڑتا

15 دسمبر
الحمدللہ آج ویزا آ گیا۔ انشاء اللہ ہفتے دو ہفتے میں اس دوزخ سے نجات مِل جائے گی

31 دسمبر
آج دوبارہ سعودی عرب پہنچ گیا الحمدللہ۔ ایک ڈراؤنا خواب تھا جو ختم ہوا۔ اب سوچ لیا ہے کہ جب تک پورے ایک کروڑ روپئے جمع نہیں ہوتے ہرگز واپس نہیں جاؤں گا۔

٭٭٭
 علیم خان فلکی ، ہندوستانی مزاح نگار اور شاعر

جمعہ، 29 جولائی، 2016

بُری ساس اور فرشتہ صفت بیٹا

کوئی پندرہ دن پہلے کی بات ہے کہ ایک پڑھی لکھی خاتون  میرے  پاس آئی۔ اور اپنی مصیبت کا ذکر کچھ اِس  طرح کیا:
"جناب مُفتی صاحب :
میری ایک سہیلی نے مجھے بتایا کہ اُپ کو اللہ نے علم شُدنی (سوال و جواب سے انسانی شعور کی پہچان) عطا فرمایا ہے جس سے آپ دکھی لوگوں کے مسائل نہایت آسانی سے حل کروادیتے ہیں ۔
بات دراصل یہ ہے کہ میں نے
الھدیٰ ادارے سے قرآن و حدیث کا کورس کیا ہے ۔ جب میرا کورس مکمل ہوا تو میری شادی ہوگئی ۔
شادی کو ابھی دو ماہ ہوئے ہیں ۔
میرے شوہر بہت اچھے ہیں۔ قسمت والیوں کو ایسے فرشتہ صفت شوہر ملتے ہیں، نہایت شریف، صلات کا پابند، خوش گفتار اور نیک ہے۔ میری کسی بات سے کبھی بھی   انکار نہیں کیا ، مگر میری ساس!"
وہ سانس لینے کو رُکی ۔ " مگرمیری ساس نے حضرت ! میری زندگی جہنم بنا دی ہے۔ ذرا ذرا سی بات پہ روک ٹوک کرتی رہتی ہے۔ 
میری ہر بات ، ہر کام میں اُس کو نقص نظر آتا ہے ، اعتراض پر، اعتراض ، روک ٹوک ، بلاوجہ کی نصیحتیں ۔
مجھے ذہنی طور پر پُرسکون نہیں ہونے دیتی۔
میں نے محلّے کی بچیوں کو پڑھانا بھی ہوتا ہے لیکن اُس کی وجہ سے مجھے پڑھانے میں دقت ہوتی ہے-
مجھے سمجھ نہیں آتا کہ اپنی ساس کو کیسے سمجھاؤں؟ کہ وہ مجھے میری زندگی جینے دے!
کاش وہ میری ساس نہ ہوتی ، تو میں سُکھ کا سانس لیتے "

ساس کی بُرائیاں بتاتے ہوئے اُس کی آواز رُندھ گئی ۔
میں نے پوچھا : " اچھا یہ بتاؤ کہ تمھاری ساس میں کوئی خوبی بھی ہے ؟"
خاتون بولی :"مجھے تو کوئی بھی خوبی نظر نہیں آتی۔۔۔!"
 " اچھا ایسا کرو ، میں اِس دوسری خاتون کی مسئلہ دیکھتا ہوں ، آپ وہاں بیٹھ کر سوچو کہ اپنی منگنی سے شادی اور شادی سے آج تک ، آپ کو اپنی ساس کی کیا کیا خوبیاں نظر آئیں، ہو سکتا ہے کہ آپ کو کوئی اچھی بات یاد آجائے ۔" میں نے مشورہ دیا ۔
اور دوسری خاتون کی پریشانی سننے لگا،
پندرہ منٹ بعد میں نے اُسے دوبارہ بلایا ، مجھے معلوم تھا کہ وہ اپنی پرانی بات پر ڈٹی رہے گی ۔
" ہاں تو بیٹی اپ کو کوئی اچھائی نظر آئی ، اپنی ساس میں؟"   میں نے سوال کیا ۔

"حضرت مجھے ابھی تک تو اس میں کوئی اچھائی نظر نہیں آئی۔۔۔!" وہ الھدیٰ کی پڑھی لکھی خاتون پورے یقین سے بولی ۔

 " بیٹی یہ بتاؤ کہ ، تمھاری اور تمھارے فرشتہ صفت شوہر سے شادی ، محبت کی تھی ؟ "میں نے پوچھا !
کیوں کہ بعض دفعہ ماؤں کو یہ بات بُری لگتی ہے کہ بیٹے نے اُس کے مرضی کے خلاف شادی کیوں کی ؟ چنانچہ وہ بہو کو تنگ کرتی ہیں ۔
" نہیں حضرت ، وہ اپنے بیٹے کا رشتہ لے کر ہمارے گھر آئیں تھیں ۔
نہیں مگر پہلے اُنہوں نے مجھے الھدیٰ میں دوسری لڑکیوں کے ساتھ دیکھا تھا ۔
بلکہ جب بیٹے کو معلوم ہوا کہ میں الھدیٰ کی تعلیم یافتہ ہوں تو اُنہیں نے انکار کر دیا ۔
جس پر میری ساس نے بیٹے کو زبردستی میرے حق میں منوایا اور پھرہمارے گھر رشتہ لے کر آئیں " وہ بولی
" بیٹے نے کیوں انکار کیا؟ کیا یہ بات ساس نے آپ کو بتائی ؟ " میں نے پوچھا 
 نہیں اُنہوں نے تو نہیں بتائی ، بلکہ میرے شوہر نے شادی کے بعد بتائی ، اور شکر کیا کہ میری ساس نے اُن کی بات نہیں مانی "  وہ بولی ۔ 
" کیا الھدیٰ میں آپ کی ساس نے آپ کو صرف ایک بار دیکھا " میں نے پوچھا 

" جی میری ساس کوئی ایک ماہ تک الھدیٰ آتی رہیں تھیں ۔ ہم یہ سمجھنے لگے کہ شائد وہ یہاں خود بھی تعلیم سیکھنا چاھتی تھیں یا ملازمت کرنا چاہتی ہیں "  وہ بولی ۔ 

" اچھا بیٹی یہ بتاؤ کہ تمھاری ساس نے تم میں کیا خوبی دیکھی ؟" میں نے پوچھا
" معلوم نہیں اور نہ اُنہوں نے بتائی ۔ شاید اِس لئے کہ میں الھدیٰ میں پڑھتی تھی "۔وہ بولی
" الھدیٰ میں تو اور بچیاں بھی پڑھتی تھیں ، مگر اُنہوں نے ایک ماہ بعد آپ کا انتخاب اپنے فرشتہ صفت بیٹے کے لئے کیوں کیا ؟ " میں نے پوچھا
" معلوم نہیں " وہ دھیمی آواز میں بولی ۔
" تو آپ کی اپنی ساس میں کوئی خوبی نظر نہیں آتی ! ٹھیک ہے نا ؟ " میں نے پھر پوچھا
" جی نہیں حضرت!
"وہ بولی
لیکن اُس کی آواز میں پہلے جیسا تیکھا پن نہ تھا ۔ میں سمجھ گیا کہ اُس کے دماغ میں میں سوچوں کے بھنور پیدا کرنے میں کامیاب ہو گیا ہوں ۔
منفیت اُسے ڈبو رہی ہے اور اچھائی اُسے اچھال رہی ہے ۔

"
بیٹی آپ نے کہا نا کہ اللہ نے آپ کو فرشتہ صفت شوہر عطا کیا ہے۔ " میں نے پوچھا ۔
" جی نہیں حضرت!"وہ بولی
 
" سورہ الرحمان میں یہ آیات ،جو آپ نے یقیناً پڑھی ہو گی ؛

أَلَّا تَطْغَوْا فِي الْمِيزَانِ ﴿55/8
یہ کہ المیزان مین تم طغی مت کرو !
وَأَقِيمُوا الْوَزْنَ بِالْقِسْطِ وَلَا تُخْسِرُوا الْمِيزَانَ
﴿55/9
 اور الْقِسْطِ  کے ساتھ الْوَزْنَ کا أَقِيمُ کرو اورالْمِيزَانَ میں تم خسارا مت کرو !
 "جی پڑھی ہیں حضرت ۔ لیکن اِن آیات کا میری ساس سے کیا تعلق؟" وہ بولی
" یقیناً اِن آیات کا آپ کی ساس سے نہیں بلکہ آپ سے گہرا تعلق ہے " میں نے کہا

" مجھ سے حضرت ! وہ کیسے ؟"وہ بولی
" آپ کے فرشتہ صفت شوہر نے اُس رشتے سے انکار کر دیا جو اُس کی ماں نے ایک مہینے کی تگ و دو کے بعد پسند کیا- کیوں ٹھیک ہے نا "
" جی، حضرت!"وہ بولی

 " آپ کی ساس نے ، الھدیٰ کی باقی لڑکیوں میں سے آپ کو اپنے بیٹے کے لئے منتخب کیا ۔ سچ ہے نا ؟ " میں نے کہا
" جی، حضرت!"وہ بولی 
" اگر آپ کی ساس اپنے بیٹے کی بات مان لیتی تو یہ رشتہ نہ ہوتا  ۔ سچ ہے نا ؟ " میں نے کہا
" جی، حضرت!"وہ بولی
"تو کیا یہ آپ کی ساس کا آپ پر احسان نہیں ،کہ  آپ کو فرشتہ سیرت شوہر ملا ۔ سچ ہے نا ؟ " میں نے کہا
" جی، حضرت!"وہ بولی


"تو کیا ، هَلْ جَزَاءُ الْإِحْسَانِ إِلَّا الْإِحْسَانُ ﴿55/60  کے مطابق آپ اپنی ساس کے آپ کے ساتھ احسان کی جزاء آپ نے چُکا دی ہے ؟ نہیں شاید ساری عمر تک نہیں " میں نے سمجھایا 
" جی، حضرت!"وہ بولی
آپ کا فرشتہ صفت شوہر ، آپ کی ساس کا ہی بیٹا ہے ، اور یہی آپ کی ساس کی سب سے بڑی خوبی ہے اور سب سے بڑی اچھائی اُس کا آپ پرالْإِحْسَانُ ہے ۔ کہ اُس نے آپ کے
الْمِيزَانَ میں اپنے بیٹے کہ بُری عادتوں کا خسارہ نہیں ڈالا "
" جی، حضرت!"وہ بولی
" ذراغور کریں کہ  آپ اپنی ساس کے الْمِيزَانَ کے ساتھ انصاف نہیں کر رہیں ؟
کہنے لگی "جی یقیناً اُنکا یہ احسان ہے کہ مجھے اچھا شوہر ملا، لیکن اُن کی بلا وجہ روک ٹوک کی عادت کی وجہ سے میں پریشان ہوں!"
" بیٹی، آپ کی ساس کی روک ٹوک کی عادت جو آپ کو بُری لگ رہی ہی ، اُسی عادت کی وجہ سے اُس کا بیٹا فرشتہ سیرت بنا ۔
" بیٹی ، ایک بات یاد رکھو ،
گلاب دو قسم کے ہوتے ہیں ،
ایک جنگل کا گلاب اور
ایک گھر کا گلاب ،
جنگل کا گلاب جتنا زیادہ پھیلے گا اتنا ہی بھلا لگتا ہے ۔
لیکن گھر کے گلاب کو آپ پھیلنے نہیں دیتے ،
آُس کی بلا وجہ پھیلنے والی شاخوں کو آپ تراش کر "روک"  دیتی ہو اور
مرجھائے ہوئے پتوں کو "ٹوک " کر نکال دیتی ہو ،
جبھی تو آپ کو آپ خوب سیرت اور خوب صورت پودا اور اُس پر حسین کِھلنے والے پھول ملتے ہیں ۔
بیٹی ، روک اور ٹوک یعنی الفرقان اور النذر ، تو صفات الہیٰ ہیں ، 

اور یہ صرف اللہ نے ماں میں اپنے بچے کے لئے الہام  کی ہیں !
اور اب آپ اُن کی بیٹی ہو تو وہ آپ سے کیسے غافل رہ سکتی ہیں! کیوں ٹھیک ہے نا ؟"

" جی، حضرت! میں نے اپنی کمزوری سمجھ لی ہے ، یقیناً میں اپنی ساس کے احسان کی جزاء زندگی بھر نہیں اتار سکتی "وہ بولی

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ماخوذ

جمعرات، 28 جولائی، 2016

زہر، خوف، حسد اور غصہ

علامہ جلال الدین رومی سے چند سوالات پوچھے گئے ۔ جن کے انہوں نے بہت خوبصورت مختصر اور جامع جوابات عطا فرمائے جو بالترتیب پیشِ خدمت ہیں:

1- زہر کسے کہتے ہیں؟
ہر وہ چیز جو ہماری ضرورت سے زائد ہو، وہ ہمارے لئے زہر ہے خواہ وہ قوت و اقتدار ہو، دولت ہو، بھوک ہو،انانیت ہو، لالچ ہو، سستی و کاہلی ہو، محبت ہو، عزم و ہمت ہو، نفرت ہو یا کچھ بھی ہو۔

2- خوف کس شئے کا نام ہے؟
غیرمتوقع صورتِ حال کو قبول نہ کرنے کا نام خوف ہے۔ اگر ہم غیر متوقع کو قبول کر لیں تو وہ ایک ایڈونچر ایک مہم جوئی میں تبدیل ہوجاتی ہے۔

3- حسد کسے کہتے ہیں؟
دوسروں میں خیر اور خوبی کو تسلیم نہ کرنے کا نام حسد ہے۔ اگر ہم اس خوبی کو تسلیم کرلیں تو یہ رشک اور انسپریشن بن کر ہمارے لئے ایک مہمیز کا کام انجام دیتی ہے۔

4- غصہ کس بلا کا نام ہے؟
جو امور ہمارے قابو سے باہر ہوجائیں، ان کو تسلیم نہ کرنے کا نام غصہ ہے۔ اگر ہم تسلیم کرلیں تو عفو درگزر اور تحمل اس کی جگہ لے لیتے ہیں۔

بدھ، 27 جولائی، 2016

متبرک تحفہ - سولہ آنے رشوت

سولہ آنے کی رشوت
میں نے دفتر کے باہر بورڈ آویزاں کر رکھا تھا جس پر تحریر تھا "ملاقاتی ہر سوموار اور جمعرات کو صبح 9 بجے سے 12 تک بلا روک و ٹوک تشریف لا سکتے ہیں-"
ایک روز ایک مفلوک الحال بڑھیا آئی- رو رو کر بولی کہ میری چند بیگھ زمین ہے- جسے پٹواری کو اس کے نام منتقل کرنا ہے لیکن وہ رشوت لیے بغیر کام کرنے سے انکاری ہے- رشوت دینے کی توفیق نہیں، تین چار برسوں سے دفتروں میں دھکے کھا رہی ہوں لیکن کہیں شنوائی نہیں ہوئی-
اس کی دردناک بپتا سن کر میں نے اسے گاڑی میں بٹھایا اور جھنگ شہر سے 60-70 میل دور اس گاؤں کے پٹواری کو جا پکڑا-
ڈپٹی کمشنر کو اپنے گاؤں میں دیکھ کر بہت سے لوگ جمع ہو گئے- پٹواری نے سب کے سامنے قسم کھائی، یہ بڑھیا بڑی شر انگیز ہے اور جھوٹی شکایتیں کرنے کی عادی ہے- اپنی قسم کی تصدیق کے لیے پٹواری اندر سے جزدان اٹھا لایا اور اسے اپنے سر پر رکھ کر کہنے لگا-
"حضور اس مقدس کتاب کی قسم کھاتا ہوں-"
گاؤں کے ایک نوجوان نے مسکرا کر کہا- "جناب ذرا یہ بستہ کھول کر بھی دیکھ لیں-
ہم نے بستہ کھولا تو اس میں پٹوار خانے کے رجسٹر بندھے ہوئے تھے- میرے حکم پر پٹواری بھاگ کر ایک اور رجسٹر اٹھا لایا اور سر جھکا کر بڑھیا کی اراضی کا انتقال کر دیا-
میں نے بڑھیا سے کہا- "لو بی بی تمھارا کام ہو گیا، اب خوش رہو-"
بڑھیا کو میری بات کا یقین نہ آیا اور پاس کھڑے نمبردار سے کہا- "سچ مچ میرا کام ہوگیا ہے؟"
نمبردار نے تصدیق کی تو بڑھیا کے آنکھوں سے بےاختیار آنسو نکل آئے، اس کے دوپٹے کے ایک کونے میں کچھ ریزگاری بندھی ہوئی تھی اس نے اسے کھول کر سولہ آنے گن کر اپنی مٹھی میں لیے اور اپنی دانست میں نظر بچا کر چپکے سے میری جیب میں ڈال دیئے-

اس ادائے معصومانہ اور محبوبانہ پر مجھے بے اختیار رونا آ گیا- کئی دوسرے لوگ بھی آب دیدہ ہو گئے- یہ سولہ آنے واحد "رشوت" ہے جو میں نے اپنی ساری ملازمت کے دوران قبول کی- اگر مجھے سونے کا پہاڑ بھی مل جاتا تو میری نظروں میں ان سولہ آنوں کے سامنے اس کی کوئی قدر و قیمت نہ ہوتی- میں نے ان آنوں کو آج تک خرچ نہیں کیا کیوں کہ میرا گمان ہے کہ یہ ایک متبرک تحفہ ہے جس نے مجھے ہمیشہ کے لئے مالا مال کر دیا-
(شہاب نامہ سے اقتباس )



میں نے پہلے ہی بتا دیا ہے

ایک لڑکی اکیلی گھر سے نکلی اور طوطا خریدنے بازار گئی اور اسے ایک بولنے والا طوطا پسند آیا۔
لڑکی طوطے سے " میں کیسی لگ رہی ہوں ؟"
طوطا " بہت آوارہ سی لگ رہی ہو "

لڑکی کو غصہ آیا۔ طوطے کے مالک دکاندار کو بھی اپنی گاہکی خراب ہوتی دیکھ کر غصہ آیا ۔ طوطے کو پانی میں غوطہ دیا اور کہا
"اب اگر تم نے غلط بات کی تو پانی میں ڈبو دوں گا۔ "
طوطے نے ٹھیک بات کرنے کا وعدہ کرلیا۔
لڑکی پھر بولی ،
" اچھا یہ بتاؤ کہ گھر میں اگر ایک میں ہوں اور ایک اور آدمی ہو تو وہ کون ہوسکتا ہے ؟"
طوطا " تمھارا شوہر "
لڑکی " اور اگر میرے ساتھ 2 آدمی ہوں تو دوسرا آدمی کون ہوگا؟"
طوطا ۔ "تمھارے شوہر کا بھائی ۔ یعنی تمھارا دیور"
لڑکی ۔" اور اگر 3 آدمی ہوں‌تو ؟"
طوطا ۔" تمھارا شوہر، دیور اور تمھارا سسر "
لڑکی ۔ " اور اگر 4 آدمی ہوں تو ۔۔۔ ؟؟؟؟"

طوطا ۔ (مالک کو مخاطب کرکے ) ۔ "پانی لاؤ میں نے پہلے ہی کہا تھا لڑکی آوارہ ہے۔ "

سوموار، 25 جولائی، 2016

غیر میعاری ھینڈ فری اور انسانی کان

ابھی تھوڑی دیر پہلے ایک سی ایم ایچ کے سرجن کی طرف سے یہ تصاویر وٹس ایپ ہوئیں اور ہمارے ایک سینئیر آفیسر نے اِسے گروپ پر ڈالا ، آپ بھی دیکھیں اور کمنٹس بھی پڑھیں :
57:Brig Bakhtiar: These r the pics of a patients who was wearing handsfree while charger was connected.  His tragus is gone and has 3rd degree burns on ear foot and scalp..... be careful
Message from an army surgeon. . .

Electric burns.... entry on ear and scalp .  Current exited through foot where there was contact with ground or bed.
Due to flash burn greater area was involved at entry point of current.
 
 اب کمنٹ پڑھئیے َ
 57:Maj Muqeet: Not possible sir
Tech I mean.
 
 Maj NUK: میں حیران ہوں ، کہ 1 ایمپئیر سے بھی کم کرنٹ پاور سے یہ سب کچھ ہو سکتا ہے ۔ اگر واقعی ممکن ہے تو پھر یا چارجر پر ریٹنگ غلط لکھی ہے اور یا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔  !

57:Brig Bakhtiar: Muqeet I personally know the doc.
Anyway do not try it
 Malfunctions of unbranded / unreliable chargers and batteries.

57:Maj Muqeet:
 May be sir. Sub standard phones, chargers and earphones may do that ......!
 
Maj NUK:میرے ہینڈ فری کے یہ دونوں پلگ جب میں لیپ ٹاپ سے لگا کر کان میں لگاتا تو ہلکی سی گدگدی ہوتی ۔ جب تفصیل جانی تو معلوم ہوا کہ اِس کی اینڈ پر قلعی ہے ۔ میں نے نیل پالش لگا کر ، سرکٹ ختم کر دیا ۔
یاد رہے ، کہ لیپ ٹاپ میں موبائل سے زیادہ وولٹیج اور کرنٹ ہوتا ہے ۔
 
 
57:Brig Bakhtiar:  Just ensure to use branded stuff - whatever may be such-like products.

57:Jahangir Khan Lt. col: AA Sirs. Let's appreciate / accept the care that has been visualised by sir bakhtiar. Esp for our teenage children....
Maj NUK: سر میرا ہینڈ فری ، ھواوے کا برانڈڈ ہے ۔ پلاسٹک یا ربر سے 1 ایمپئیر جمپ نہیں کرتی ہاں اگر ائر پلگ پر گولڈن یا سلور پلیٹنگ ہوئی ہو تو وہ ایک اچھا کنڈکٹر بن جاتا ہی اور معمولی اے سی ، کرنٹ ۔001 سے 1 ایمپئیر تک چارجر سے فری ھینڈ کے ذریعے جسم میں آتی ہے ۔ اور پیر زمین پر لگنے سے ، زمین میں اِس کا ڈسچارج بڑھ جاتا ہے ۔
باقی رہا ، غیر میعاری تو اُن کے بارے میں کوئی رائے نہیں دی جاسکتی ۔
بہتر تو یہ ہے کہ بلیو ٹوتھ ڈیوائس استعمال کریں اور موبائل کو اپنے جسم سے دور رکھیں !
 

نوٹ: میں نے نیٹ پر مکمل ریسرچ کی ۔ کہ کیا چارجنگ کے وقت ہینڈ فری کانوں میں لگانا چاھئیے ۔ مجھے "ھوکس" تو ملے لیکن کسی ایکسپرٹ کا جواب نطر نہیں آیا اور سب کا بنیادی نقطہءِ نظر یہ تھا ، کہ
لاکھوں میں ایک چانس ہو سکتا ہے ۔ وگرنہ ممکن نہیں !
 
مگر وہ لاکھواں آدمی میں کیوں بنوں ؟

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
مزید احتیاط:
ہم میں سے اکثر نے آسمانی بجلی زمین پر گرتے دیکھی ہے ، جب بادلوں میں آپس کی رگڑ سے پیدا ہونے والی بجلی بڑھ جاتی ہے ،جسے ہم سٹیٹک کہتے ہیں تو کم مقدار کی بجلی ، زیادہ مقدار کی بجلی کی طرف چھلانگ لگاتی ہے۔ مقدار زیادہ ہونے پی یہ بجلی بادل سے زمین کے نزدیک ترین مقام پے چھلانگ لگا کر زمین میں داخل ہو جاتی ہے ۔

اپنی عمارتوں کو بچانے کے لئے ہم ، بلند و بالا عمارتوں پر کنڈکٹرز لگاتے ہیں ۔ تاکہ عماروتں کو جلنے سے بچایا جائے ۔ یہ
سٹیٹک الیکٹریسٹی صرف بادلوں میں ہی نہیں ہوتی ، بلکہ آپ کی چلتی ہوئی کار میں بھی پیدا ہوتی ہے ۔ پلاسٹک کی اشیاء اِن کے سٹور بنتی ہیں ۔
پلاسٹک تو ہماری زندگیوں میں اتنا دخیل ہے ، کہ ہر پلاسٹک کی چیز معمولی رگڑ سے اپنے اندر کچھ مقدار بجلی کی چھپا لیتی ہے ۔
گھریلو بجلی اور پلاسٹک کی اشیاء میں پیدا ہونے والی
سٹیٹک الیکٹریسٹی دونوں کا سب سے بڑا سٹور زمین ہے ۔

آپ گھریلو بجلی کی ، ھاٹ تار ہاتھ میں پکڑ کر صوفے ، قالین پر آرام سے کھڑے ہو سکتے ہیں ۔ لیکن آپ کولڈ تار کو دوسرے ہاتھ میں پکڑنے کا رسک نہیں لے سکتے اور نہ ہی زمین پر پیر رکھ سکتے ہیں ۔

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ہر بجلی سے چلنے والے آلات ،
سٹیٹک الیکٹریسٹی بھی پیدا کرتے ہیں ، جس کو ضائع کرنے کے لئے ، ارتھ لگائی جاتی ہے اور تین ٹانگوں والے پلگ استعمال کئے جاتے ہیں ۔
 
 نیز مینو فیکچررز کی تمام تر احتیاط کےباوجود بجلی کی معمولی مقدار ۔ یا خود بخود پیدا ہونے والی بجلی ، اِن برقی آلات سے ، ارتھ نکال دیتی ہے ، اگر گھر میں ارتھ کنکشن لگایا جائے ۔ ورنہ حادثے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں ۔




 



















 
 

آپ کے نانا وہ جو کالے ہیں !

یونٹ آفیسر کے بیٹے کے ولیمے پر میں اور بڑھیا اپنی نواسی عالی کے ساتھ گئے ، یونٹ کے سارے ریٹائرڈ آفیسر مُلک کے کونے کونے سے آئے تھے ۔ خوب گہما گہمی تھی ۔ پرانی یادیں تازہ ہو رہی تھیں ۔
وہ نوجوان جو ہمارے ساتھ ہوتے تھے ۔ گو اب بھی نوجوان تھے مگر سفید بالوں والے، نہایت کالے بالوں والے اور بغیر بالوں والے۔
قہقہوں اور باتوں کے شور میں راہداری کے شروع میں گونجنے والی میوزک کی آواز بھی غائب ہو چکی تھے ۔

یونٹ آٖفیسر کی بچیاں جو نواسی کہ ہم عمر سہیلیاں ہیں انہوں بوڑھے دیکھا توملنے آئیں بوڑھے نے حسبِ عادت سب سے نظمیں سنیں اور ٹافیاں دیں۔ بچیاں واپس دوڑ گئیں اور بھائیوں کے ساتھ آئیں،انہوں نے بھی نظمیں سنا کر ٹافیاں لیں اور دوڑ گئیں ۔
کچھ دیر وہاں راحیل شریف بھی آگئے۔ بچیوں نے سنا تو دوڑی میرے پاس آئیں اور بولیں ،
"انکل ہم نے جنرل راحیل کے ساتھ تصویر کھنچوانی ہے "
بوڑھے نے کہا ، " ابھی کھنچواتے ہیں ، جب میں کہوں سب میرے ساتھ آئیں تو لائن بنا کر جس طرف سے میں کہوں آنا اورباری باری ھاتھ ملانا پھر تصویر کھنچے گی "
سب بولیں ، " اچھا انکل "
بوڑھے نے دائیں بائیں دیکھا ، چم چم نظر نہیں آئی ،
" عالی کو دیکھا ہے آپ نے ! کہاں ہے وہ ؟" بوڑھے نے پوچھا ۔
" انکل ، وہ دلہن آنٹی کے پاس بیٹھی ہے" ایک بچی بولی ۔
" اچھا جاؤ، اُسے بلا کر لاؤ " بوڑھے نے کہا ،
"انکل ، وہ کبھی بھی نہیں آئے گی ، وہ ہمارے ساتھ بھی نہیں کھیل رہی ، بس دُلہن آنٹی کے پاس بیٹھی ہے "دوسری
بچی بولی ۔
" اُسے جاکر بولو ، کہ اُس کو نانا بلا رہے ہیں " بوڑھا بولا ، " اور اگر وہ نہیں آئی تو تصویر بھی نہیں کھنچے گی "
یہ سننا تھا کہ سب دوڑ کر گئیں اور چم چم کو بلا لائیں-
بوڑھے نے لائین بنائی اور سب کو لے کر راحیل شریف کے پاس چلنے لگا ، راحیل نے جو لائین کو آتا دیکھا تو سمجھ گیا ، اُس نے سینئیر آفیسرز سے معذرت کی اور ہماری طرف بڑھا سب بچیوں سے ھاتھ ملایا اور تصویر کھنچوائی ۔
تصویر کھنچوانے کے بعد ایک بچی بولی ،
"انکل میں عالی کو بلانے گئی تو اُس نے مجھے دھکا دیا "
بوڑھے نے عالی کی طرف دیکھا ،
 تو وہ بولی ،
"آوا یہ جھوٹ بول رہی ہے ، اِس نے آپ کو کالا کہا ، تو میں نے دھکا دیا "
بوڑھے نے بچی کو چم چم  سے ٹافی دلوائی اور دوستی کروائی ۔
واپسی میں ، چم چم نے بتایا کہ وہ میرے پاس آئی اور بولی ،
" عالی وہ جو کالے سے ہیں نا تمھارے نانا ، وہ تمھیں بُلا رہے ہیں ، تو میں نے اُس کو دھکّا دیا "
" لیکن عالی ، آؤا تو کالے ہیں نا ؟ ُ بڑھیا نے سمجھایا
" لیکن وہ میرے آوا ہیں ۔ وہ دوبارہ بولے گی تو میں اُس کے پیٹ میں پنچ ماروں گی " چم چم غصے سے بولی

چم چم نے ، مذاق میں اپنا پنچ 20 سالا چاچو کا مارا تھا ، تو چاچو درد سے دہرا ہوگیا تھا ۔ وہ بوڑھے پر حیران ہوتا تھا کہ چم چم ، پانچ ، چھ پنچ بوڑھے کے پیٹ میں مارتی اور بوڑھا ہنستا رہتا ۔
بڑھیا یک دم بولی ،" عالی کبھی ایسا نہیں کرنا "
" عالی کو میڈیٹیشن کی ضرورت ہے " بوڑھا بولا







خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔