میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 29 اکتوبر، 2016

کُتّے اور بھُوربن

⁠⁠⁠⁠⁠سیٹھ ''بھولا بھالا'' کی انکم ٹیکس ریٹرن پڑھتے ہوئے اچانک میں چونک گیا، جس پر لکھا تھا'
" کتوں کا کھانا 75000 روپے''۔ 

تین دن کی مغز ماری کے بعد یہ پہلا نکتہ تھا جس پر میں نے سیٹھ جی کی ٹیکس چوری پکڑ ہی لی، نہ جانے لوگ ٹیکس بچانے کے لیئے کیسے کیسے ہتھکنڈے استعمال کرتے ہیں؟
اللہ معاف فرمائے۔  اب میں دیکھتا ہوں کہ یہ ٹیکس چور مجھ سے کیسے بچ پاتا ہے؟ 
چنانچہ اگلے ہی دن میں نے انہیں اپنے دفتر میں طلب کرلیا،

سیٹھ صاحب تشریف لائے تو میں نے انہیں ٹیکس کی اہمیت، ملک و قوم کے لیئے اسکی ضرورت اور ایمانداری کے موضوع پر ایک سیر حاصل لیکچر پلا دیا، وہ خاموشی سے سنتا رہا، نہ ہوں نہ ہاں، مجھے اسکا رویہ دیکھ کر مزید غصہ آگیا اور اسے کتوں کے کھانے کے بارے میں بتا کر مزید شرمندہ کرنے کی کوشش کی اور ناکام رہا-

آخر کار میں خاموش ہوکر سیٹھ بھولا بھالا کی طرف دیکھنے لگا، وہ مسکرایا اور کہنے لگا،
" صاحب! آپ افسر ہو حکم کرو ہم کیا کر سکتے ہیں آپکے لئے؟"

میں زیر لب مسکرایا کہ اب اونٹ پہاڑ کے نیچے آگیا ہے، چنانچہ میں نے نہایت عیاری کے ساتھ مسکراتے ہوئے کہا،
" سیٹھ جی! کیا آپ ایک ''ذمہ دار'' انکم ٹیکس آفیسر کو رشوت کی پیش کش کررہے ہیں؟ "

" ارے نہیں صاحب میں نے کب کہا کہ میں رشوت دوں گا؟
میں نے زندگی میں آج تک رشوت نہیں دی بلکہ کارباری ڈیلیں کی ہیں، آپ بھی اسے ایک بزنس ڈیل سمجھ سکتے ہیں-" سیٹھ بولا

" وہ کیسے سیٹھ جی" ؟ میں نے پوچھا-
سیٹھ نے ہولے سے مسکراتے ہوئے کہا،
" اس مرتبہ گرمیوں کی چھٹیوں میں بھابی اور بچوں کے لیئے میری طرف سے بھوربن مری میں سیر اور شاپنگ کا  پیکیج قبول فرمائیں تمام خرچ میرے ذمہ ہوگا اور اس عرصہ میں ایک گاڑی بھی انکے استعمال میں رہے گی جسکا انتظام بھی میں ہی کروں گا"

تھوڑی سی ردّ و قدح کے بعد میں نے اس پیکیج کی منظوری دے دی اور سیٹھ کے جاتے ہی بیگم کو فون کرکے اس ڈیل کے بارے میں بتایا،
" بیگم اور بچے ، مری گئے اور خوب شاپنگ و سیر کی "

ایک سال کا وقت گزر گیا اور میں بھی سیٹھ بھولا بھالا کو بھول گیا، آخر ایک دن سیٹھ کی انکم ٹیکس ریٹرن پھر میری میز پر تھی۔

میں نے غور سے اسے پڑھا تو ایک صفحے پر لکھا تھا،

''کتوں کو بھوربن کی سیر کروائی،  خرچ ایک لاکھ "

مجھے یوں لگا کہ میرا سر گھوم رہا ہے اور ائیر کنڈیشنڈ فل اسپیڈ پر چلنے کے باوجود میرا جسم پسینے میں نہا گیا ہے، میں نے چپڑاسی کو بلا کر ایک گلاس ٹھنڈا پانی منگوایا اور ایک ہی سانس میں اسے خالی کردیا-

تحریر: محسن رفیق مرحوم

جمعرات، 27 اکتوبر، 2016

بیٹے کے فوجی بوٹ !

بیٹا ملک کی حفاظت کے لئے ٹریننگ پر گیا تھا ۔ 

بیٹا تو نہیں آیا !

اُس کے بوٹوں میں رچی خوشبو، اب ماں کا سہارا ہے ۔

ہفتہ، 22 اکتوبر، 2016

سپورٹ

 اللہ اکبر اللہ اکبر ۔۔۔۔مغرب کی اذان ہورہی تھی

 اذان
دینے والے کی آواز بہت دلنشین تھی نہ چاہتے ہو ئے بھی میرے قدم مسجد کی جانب بڑھنے لگے
مسجد میں داخل ہوا تو حیران رہ گیا مسجد  جمعہ کی نماز کا منظر پیش کررہی تھی ۔۔۔۔۔
نماز ادا کی تو امام صاحب کی قراءت نے سماں باندھ دیا  خود میں بھی رو دیا ۔
کچھ ہی دیر میں، میں نے فیصلہ کر لیا امام صاحب کو میں اپنی مسجد میں لے کر جاؤں گا  کیونکہ جب امام اچھا ہو ، اس کی قراءت بھی اچھی ہوتو مسجدیں آباد ہوتی ہیں
نماز کے بعد امام صاحب سے مصافحہ کیا نمبر لیا، اسی دوران میری ملاقات مسجد کے صدر  فہیم صاحب سے ہوئی میری پرانی شناسائی تھی  میں نے اپنے ارادے سے انہیں آگاہ کیا تو وہ مسکرا دئیے
کہنے لگے، "  آپ امام صاحب سے بات کر لیجیے "
مجھے کچھ حیرت ہوئی انہوں نے میری بات  پر کسی قسم کا  ردعمل ظاہر نہیں کیا ۔
میں نے  وقت ضائع کرنا مناسب نہیں سمجھا اور اسی وقت امام صاحب کے پاس پہنچ گیا اور ان سے اپنے مقصد کی بات کی کہ میری بات سُن کر وہ  بھی مسکرا دئیے
میں ابھی تک اس مسکرانے کی وجہ نہیں جان پا رہا تھا
میں نے  امام صاحب سے کہا ،
" امام صاحب ! ہم آپ کو یہاں سے اچھی تنخواہ دیں گےیہاں سے بہتر سہولیات فراہم کریں گے ۔"
آپ کو معلوم ہے یہاں میری تنخواہ کیا ہے اور سہولیات کیا میسر ہیں ؟  امام صاحب نے میری جانب دیکھتے ہوئے کہا
معلوم تو نہیں لیکن یہاں سے بہتر ہو گی
اچھا ! امام صاحب نے کہا
" میری تنخواہ اس وقت یہاں 35 ہزار روپے ہے  اور مسجد انتظامیہ نے مجھے جورہائش دی ہوئی ہے وہ شاندار لگژری اپارٹمنٹ ہے ۔"
امام صاحب نے مسجد سے متصل اپنے گھر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا
بالکونی سے ہی اندازہ ہو رہا تھا کہ گھر کس قدر شاندار ہو گا
میں حیران رہ گیا ، امام صاحب بھی مسکرا دئیے
واپس جاتے ہوئے  میں مسجد کے صدر فہیم صاحب سے ملا اور ان سے پوچھا،
"کیا آپ امام صاحب کو 35 ہزار تنخواہ دیتے ہیں ؟"
فہیم صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا
" جی بالکل ہم امام صاحب کو ۳۵ ہزار تنخواہ دیتے ہیں ۔"
" اتنی زیادہ تنخواہ جب کہ امام کی تو 7 ہزار کی حد ہے 10 ہزار روپے میں بہت اچھا ملا جاتا ہے  پھر اتنی بھاری تنخواہ اور اتنی شاندار رہائش؟
آپ عادتیں بگاڑ رہے ہیں ان مولویوں  کی" ۔میں نے کچھ زچ ہوتے ہوئے کہا
فہیم صاحب اب باقاعدہ ہنس دئیے ۔۔۔۔۔۔
" یعنی انگور کھٹے ہیں
فاروقی صاحب ! یہ اس لیے کہ آپ   جیسی انتظامیہ کے لوگ انہیں اپنی مساجد میں نہ لے  جا سکیں ۔"
ایک لمحے کے لیے تو میں جھینپ گیا  ۔
" فاروقی صاحب ! امام جتنا زیادہ اچھا ہو گا مسجد اتنی آباد رہے گی ۔۔۔۔جتنا قابل خطیب ہو گا علاقے کے لوگ اتنے زیادہ  با شعور ہوں گے ۔۔۔۔
ہم اپنے با صلاحیت لوگوں کو سپورٹ نہیں کرتے ۔۔۔۔۔
بلکہ استیصال کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔۔
ہم ایک مووی میکر ، فلم میکر ،  ڈیزائنر کو تو اچھا معاوضہ دینے کو تیا رہیں لیکن ایک مذہبی رائیٹر سے فی سبیل اللہ کام کرانا چاہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔
ایک  ٹھیکدار کو تو مسجد و مدرسے کی تعمیر کے لیے لاکھوں دینے کو تیار ہیں لیکن قوم کی  تعمیر کرنے والے امام ،معلم کو  7 ہزار دیتے ہوئے دل دکھتا ہے ۔۔۔۔۔
دنیا بھر میں پروفیشنل لوگوں کی قدر کی جاتی ہے ۔۔۔۔
ہم اپنے لوگوں کو ذلیل کرتے ہیں ۔
کیا ایک امام کی ضروریات ایک مزدور سے بھی کم ہے ؟
مزدور کی ماہانہ انکم بھی  24 ہزار ہوتی ہے  آج کے دور میں اور اور ایک مستری  آج  بھی 40 سے 50 ہزار ماہانہ کماتا ہے
کیا ایک امام ، یا مدرسے کا استاد اچھے گھر کی خواہش نہیں کر سکتا ؟
آپ کی مسجد کی ماہانہ آمدنی 70ہزار روپے ہےایک امام خطیب اچھا رکھ لیں چندہ ڈبل ہو جائے گا کیا آپ کو امام و خطیب کی تنخواہ نکالنے میں کوئی دقت ہو گی ؟
نہیں نا ! لیکن نا جانے ہم خود تو جہاں نوکریا ں کرتے ہیں  وہاں سے ستر ہزار سے زائد تنخواہ لیتے ہیں لیکن امام کو اور مدرسے کے استاد کو 7 ہزار تنخواہ میں اپنا غلام بنا کر رکھنا چاہتے ہیں ۔
فاروقی صاحب ! آپ ایک ملٹی نیشنل کمپنی سے وابستہ ہیں  خود بتائیے آپ کے یہاں فن کے ماہرین کیسے قدر کی جاتی ہے ان کو کیسے سپورٹ کیا جاتا ہے۔
او ر سنیے دنیا بھر میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی این جی اوز کو   اسلام کے منافی پروپیگنڈہ کرنے کے عوض کروڑوں ڈالر فراہم کیے جاتے ہیں ۔۔۔۔
اور اس فنڈ کے لیے وہ دنیا بھر میں میوزک کنسرٹ کرتے ہیں اور اس کے جو  پیسے آتے ہیں وہ  ان اسلامی ممالک  میں موجود این جی اوز کو دے دئیے جاتے ہیں وہ اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ان این جی اوز کو  مرنے نہیں دیتے بلکہ زندہ رکھتے ہیں ۔
ہمارا المیہ یہ ہے کہ ہم  اپنے با صلاحیت لوگوں کو جینے نہیں دیتے
آپ اپنی مسجد کے لیے ایک اچھے خطیب اور امام کو تلاش کیجیے یقین جانیے آپ اتنااچھا پیکج دیں گے تو امام صاحب آپ کے پاس سے کہیں نہیں جائیں گے اپنے اہل علم اور با صلاحیت لوگوں کی قدر کیجیے انہیں ضائع مت کیجیے ۔"

فہیم صا حب کی بات میں وزن تھا

منگل، 18 اکتوبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 41- جائزہ

عمر بن سعد بن ابی وقاص اس موقعہ پر اس سے بھی زیادہ بے بس ہو گئے تھے ۔ جیسے جنگ جمل کے موقعے پر حضرت علی ہوئے تھے کہ وہ قران دکھا دکھا کر دونوں فریقوں کو لڑائی سے روکتے رہے اور آپس میں اپنے ہی بھائیوں کو قتل کرنے سے منع کرتے رہے مگر کوئی فائدہ نہ ہوا .ابو محنف اور اس قماش کے راویوں نے جس مبالغہ آرائی سے جنگ جمل کے حالات بیان کیے ہیں اس سے کہیں زیادہ مبالغہ آرائی واقعہ کربلا کے حالات بیان کرنے میں کی ہے واقعات سے ان کی ہر گز تصدیق نہیں ہوتی .
مسلمان مورخین میں سے دنیا کے پہلے مورخ جنہوں نے نقل در نقل کی روایت سے ہٹ کر عقل و دانش سے اس کا تجزیہ کیا وہ "ابن خلدون" تھے اور ان کے مشہور مقدمہ ابن خلدون کے وہ پانچ صفحے جو واقعہ کربلا پر تھے ایسے غائب ہوئے کہ آج 6 سو سال تقریبا گزر جانے پر بھی ان کا پتہ نہ چلا کہ کہاں گئے .اسی طرح اور بہت سی کتابوں کے صفحات دنیا کے مختف خطوں میں (اصل نسخوں کے) پھاڑے گئے اور ان تمام کا سہرا، شیعانِ علی کے سر ہے مگر سچ کو کہاں اور کتنی دیر تک چھپایا جا سکتا تھا-
ایک راوی نے کمال جرات سے ایک روایت ان پانچ صفحات سے بیان کی ہے جو پھاڑے گئے اور اب دنیا میں کہیں موجود نہیں وہ یہ ہے .
حسین اس لڑائی میں پر جوش نہیں تھے حیرانی سے پیچھے کھڑے دیکھ رہے تھے کہ کہ ایک کوفی نے پیچھے سے ان کے کندھے پر تلوار سے زور دار وار کیا اور آپ گھوڑے سے گر پڑے۔
یعنی آپ کے اپنے ہی غدار کوفی ساتھی کے ہاتھوں آپ کا قتل ہونا بھی بیان ہوا ہے جیسے حضرت علی اپنے ہی ایک شیعہ  کے ہاتھوں زخمی ہو کر الله کو پیارے ہوئے-
سرکاری فوجوں کی تعداد تو افسانوں اور داستانوں سے بڑھ کر بیان کی گئی گئی ہے مثلا:
6 لاکھ سوار اور 2 کروڑ پیدل سپاہی سے لے کر 20 ہزار تک مختلف راویوں نے بیان کی ہے ۔
ابو محنف نے 80 ہزار اور ناسخ التواریخ(
مرزا محمد تقی سپہر کاشانی - 1207-1297 قمری سال)  نے 53 ہزار تعداد بیان کی ہے .( صفحہ 230 جلد 6 از کتاب دوئم) .
اور ان ہی مورخ (
ناسخ التواریخ) نے ابو محنف کا یہ قول نقل کیا ہے کہ
" ان 80 ہزار میں حجاز اور شام کا ایک بھی آدمی نہ تھا سب کے سب کوفی تھے " (صفحہ 231 ایضا)
اب آپ خود انداازاہ لگا سکتے ہیں کہ کوفیوں کی حمایت کسے حاصل تھی اور کون حسین کو مکہ سے لے کر آرہے تھے ؟

اور یہ صاحب تو کوفہ ہی کے رہائشی تھے ان کو اپنے وطن کی آبادی کا ٹھیک اندازہ تو ہونا ہی چاہئے تھا، مگر ان کو تو داستانیں بیان کرنی تھیں نہ کہ سچائی، اور اگر کوفہ کے تمام باشندوں کے علاوہ کوفہ کے تمام تلوار باز بھی اکٹھے ہو جاتے تب بھی اس علاقے میں اتنی فوج اکٹھی کرنی نا ممکن تھی ۔
اس زمانے میں تمام ایران اور خراسان کے علاقے کوفہ میں شامل نہیں تھے جیسے حضرت علی کے زمانے میں تھے ہجری 54 کے بعد خراسان ایک جدا گانہ صوبہ بن گیا تھا ۔ جس میں ہمدان اور درے کے علاقے شامل تھے اور یزید کے عہد میں ہی خراسان کے گورنروں کا تبادلہ اور تقرر کا از سر نو انتظام کیا گیا تھا۔
اگر بفرضِ محال ایران کا تمام علاقہ کوفہ کے تحت تسلیم بھی کر لیا جاۓ تب بھی عبید الله بن زیاد کے کوفہ آنے اور انتظام کی بھاگ ڈور سنبھالنے ( جن کی مدت 25 یا 30 دن سے زیادہ نہیں بنتی ) اتنی کثیر تعداد میں فوج مہیا کرنا مشکل ہی نہیں نا ممکن تھا۔
کیوں کہ ایک لاکھ فوج کے لئے سامان رسد ، سواری ، دانہ چارہ ، اور جانوروں کا انتظام کوفہ یا کربلا جیسے بعید مقام پر مہیا کرنا عقل سے باہر ہے اور یہ سب کچھ انتظام اور اتنا لشکر آخر کس لئے اور کس کے مقابلے کے لئے تھے بمشکل ڈیڑھ سو آدمیوں سے مقابلہ کرنے کے لئے اور ان میں زیادہ تر افراد نو عمر تھے اور جنگ و جدل سے نا آشنا اور نا تجربہ کار تھے ۔



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 



سوموار، 17 اکتوبر، 2016

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 2

غالبا میں 14 سال کاتھا ، جب مجھے مرد و زن کے جنسی تعلقات کا علم ہوا ، مجھے سمجھ نہیں آتا تھا  کہ ایسا کیوں ہے ، جانوروں اور پرندوں کو تو اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا ، لیکن اشرف المخلوقات کے بارے میں یہ معلوم تھا کہ جو گندے لوگ ہوتے ہیں ، وہ خراب ہوتے ہیں چنانچہ وہ ہی ایسے گندے کام کرتے ہیں ۔
لہذا ، انسانوں میں بھی جانوروں کی طرح گندے لوگ ، پائے جاتے ہیں ، جو آپس میں لڑائیں کرتے ہیں اور برا فعل کرتے ہیں ۔
انور لطیف اور مجھ میں جو واحد قدر مشترک تھی وہ یہ کہ ہم دونوں ٹارزن کی کہانی بہت شوق سے پڑھتے اور دونوں نے اخبار سے قسطیں کاٹ کاٹ کر فائل بنائی ہوئی تھی ۔ اور دوسرے یہ کہ ہم دونوں کو باڈی بلڈنگ کا شوق تھا ، میں ایبٹ آباد کی برکی سکول کی ۔ پی ٹی اور جمناسٹ ٹیم میں بھی تھا لہذا سمر سالٹ اور بیک سالٹ دونوں ایک ساتھ تین دفعہ لگاتا تھا ۔ لیکن گندے لوگوں کی کتابیں پڑھنے میں وہ مجھے سے نمبر لے گیا تھا ۔ 
بچپن سے اسلامی گھرانہ اور الکتاب با ترجمہ پڑھنے کی وجہ سے ایسی علّت نہیں پڑی تھی ، جب چھٹی کلاس سے دینیات کا سبق شروع ہوا، مجھے نہیں یاد کہ 90 سے کم میں نے نمبر لئے ہوں۔ اِس لئے کہ اردو ڈائجسٹ، ترجمان القرآن ، شہاب ، بتول اور بچوں کا رسالہ نو ، 90 فیصد دینیات ہی تھے ۔ گویا والدین بچپن میں جو ذہن سازی کی تھی، اُس نے غلط راہ پر پڑنے سے بچایا رکھا ۔
سکول اور محلے سے باہر دوست بنانے کی اجازت نہ تھی نیز مغرب کی اذان سے پہلے گھر اور پھر گھر سے مسجد نماز پڑھنے کے لئے جانا محلے کے تمام ہم عمر یا کم عمر دوستوں کو والدہ جانتی تھیں ۔

یاد آیا کہ ترجمان القرآن کے ، کچھ شمارے جو والد گھر لاتے تھے ، اور کئی اُن کے دوست مانگ کر لے جاتے جو واپس نہ ملتے ، پھر والد کی ریٹائرمنٹ کے بعد 1956 سے لے کر 1971 تک کے شمارے ، اُن کی لائبریری میں موجود تھے ۔ 

میں لیفٹنٹ تھا تو آرمی بُک کلب کی طرف سے مودودی صاحب کا سورہ نور کی تفسیر ملی ، جو مجھے انور لطیف کی طرف سے کلاس میں اردو کی کتاب میں جھلکیوں کی صورت میں دکھلائے گئے ، " وہی وہانوی" المعروف "ڈبلیو ڈبلیو" سے مختلف نہ لگے ، ایک سادہ اور دوسرا مذہبی مٹھاس میں ملفوف ۔ دونوں عام زبان میں " ٹوٹے " ہی کہلائے جا سکتے تھے ۔ گویا والد صاحب نے ، ترجمان القرآن کے وہ شمارے جن میں ، مرد و زن کے تعلقات کے بارے میں آیات کو مودودی صاحب نے ، مذہبی لباس میں ملفوف کر کے ، معلوماتِ عامہ برائے شادی شدہ  یا امیدوارانِ شادی، گھما پھرا کے دی تھی اور "ڈبلیو ڈبلیو" نے وہی معلومات ، ہر پڑھنے والے بلا تخصیص عمر و نسل دی تھیں میں مجھے کوئی فرق نہیں لگا ، دونوں ہی، نوجوانوں کے " رونگٹے " کھڑے کرنے والی تھیں ۔
 یہی وجہ ہے ، کہ میٹرک میں میرے ہاتھ میں بخاری جلد اوّل  دیکھ کر والد نے ، لے کر الماری میں رکھ دی کہ پہلے امتحان دے لو بعد میں پڑھنا !
فلمیں دیکھنے یا عشقیہ گانے سننا تو، کفر سے بڑا گُناہ تھا ۔ "مرنے کے بعد موت کا منظر" کی چھپائی تو ابھی ہوئی ہے ، لیکن ہمیں تو والدہ نے کہانیوں کی صورت میں بچپن سے ازبر کروادی تھی ۔
لڑکوں کے لئے سب سے بڑی پریشانی یہ ہوتی ہے ، کہ صبح کے وقت ، اُن کا رونگٹا انگڑائی لے کے بیدار ہوجاتا اور الٹا لیٹنے میں مزا آتا ہے ،لیکن یہ مزہ اُس وقت کر کرا ہوجاتا ، جب ذہن میں وعید گونجتی ،
"اگر " پھنو" پیشاب کی وجہ سے سخت ہوگئی اور اُسے ہاتھ لگایا تو قیامت کے دن اللہ عذاب دے گا اور اُس کا وزن ایک من ہوجائے گا ۔ لہذا فوراً جاکر پیشاب کرو ۔
اور اگر بستر میں پیشاب کیا اور وہ جسم سے لگ گیا تو 40 سال جہنم میں جلنے کے بعد وہ حصہ پاک ہوگا ۔"

اب ایسی خوفناک وعید کے بعد کون بچہ ، بستر میں لیٹ کر انگڑائیاں لے سکتا تھا ۔ لہذا صبح کاذب کے وقت اُٹھنا مجبوری بن چکا تھا ۔ 
لیکن میں سوچتا ہوں، کہ میرے والدین کی ہم بچوں پر مسلسل توجہ اور مذہبی تعلیم نے یقیناً مجھے بگڑنے نہیں دیا ۔ گھر سے سکول اور سکول سے گھر کا فاصلہ اور وقت، والدہ کو ازبر تھا ، لہذا دائیں بائیں ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا ، گو کہ اُس وقت موبائل نہیں تھا ، میں اور چھوٹا بھائی ایک دوست شکیل احمد( بعد میں بریگیڈئر ڈاکٹر) کے گھر گئے ہوئے تھے، وہاں شرارتوں میں، میں بائیں ہاتھ کے بل گرا اور کہنی سے نیچے ہڈی ٹوٹ گئی ، والدہ کے موبائل کی بیل بجی ، وہ برقعہ پہن کر ایک کلو میٹر دور دوست کے گھر پہنچ گئیں اُس وقت تک پرویز (دوست کا بڑا) بھائی فوراً مجھے گود لے ایم آئی روم گئے جو اُن کے گھر سے دوسو گز دور تھا ۔
اِسی طرح میں ٹل (کوھاٹ) میں تھا اور والدہ میرپورخاص میں جب سیڑھیوں سے اندھیرے میں اترتے وقت میرا بائیاں ٹخنہ ٹوٹ گیا ، میرے منہ سے ھائے نکلی اور والدہ کے موبائل پر وصول ہوئی ، ہفتہ بعد اُن کا خط ملا ، جس میں اُنہوں نے میری خیریت پوچھی ، کہ کہیں چوٹ وغیرہ تو نہیں لگی ۔
والدہ پانچویں جماعت تک پڑھی ہوئی تھیں، لیکن میری آٹھویں کے مضامین اُن کو زبانی یاد تھے ، کیوں کہ یہی مضامین آپا نے اُنہیں ٹیسٹ دیتے وقت سنائے تھے ۔
اخلاقیات میں، ماں، باپ اور بچے کی ایک مثلث ہوتی ہے ، جس میں وہ زندگی گذارتے ہیں ، اِس کے تینوں زاویے اگر برابر ہوں تو بچے نہیں بگڑتے ۔ 
بچہ آپ  کے برابرنہیں آسکتا ، لہذا ماں اور باپ کو اپنے زاویے تبدیل کرنا پڑتے ہیں ۔
ایک چیز اگر بچے کے لئے بُری ہے تو وہ ، ماں اور باپ دونوں کے لئے بھی بُری ہونا چاھئیے ۔ اگر اِس اصول پر سختی سے عمل ہو تو بچے کو اچھائی اور بُرائی کا تصوّر واضح ہوجائے گا ۔ 




٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ہفتہ، 15 اکتوبر، 2016

... انتظار...

مستنصر حسین تارڑ کی کتاب ''قربت مرگ میں محبت '' تو پڑھی نہیں لیکن اس کا تعارف ہی زندگی کی تنہائیوں اور مرگ کی قربت کے سکون کا احساس دلانے کے لیے کافی ہے.

ایک " مڈیاکر انسان " کی زندگی کولہو کے بیل کے جیسی ہے جس میں اگر کامیابی ہے تو وہ بھی محض پرانے سے نئے کولہو تک کا سفر ہی ہے.
انجام کار یہی ہے کہ کولہو کی چوں چرخ میں لپٹے بے مقصد گول دائروں میں کبھی مکمل نہ ہونے والا سفر کتنا بے معنی تھا . آنکھوں پر چڑھے کھوپے درحقیقت اس میڈیوکر بیل کی عقل پر چڑھے ہوتے ہیں . وہ اپنا اسٹیٹس بدلنے کی تگ و دو میں جینا بھول جاتا ہے .

محبت نام کا پنچھی گھر کی دیوار پر چہچہا کر رزق کی تلاش میں کسی اور سمت اڑان بھر لیتا ہے ..بالوں کا کالا کلف دھوپ کی عطا کردہ برف میں بدل جاتا ہے. چیتے جیسے چست کمر خمیدہ سے خمیدہ تر ہو جاتی ہے . دنیا کے جو کام ایک مڈیاکر کے بغیر ہو نہیں سکتے تھے وہ بنا کسی تعطل کے جاری رہتے ہیں.

وقت کے گدلے دریا میں کسی کسی لمحے کوئی تازہ چشمہ اپنا سفید یخ بستہ پانی شامل کرتا ہے تو کچھ دیر کے لیے سکون آور کامیابی کا احساس ہوتا ہے لیکن کیا کہیے کہ ایک مڈیاکر کی زندگی میں کامیابی عارضی اور جدوجہد مسلسل کیفیت کا نام ہے .

زندگی کی ریس میں ایک خیال اسے دوڑائے رکھتا ہے کہ بس ان ذمہ داریوں سے فارغ ہو لوں پھر اپنی زندگی جینا ہے.
اس دوڑ بھاگ میں وہ اپنے اور اپنے ہمسفر کی زندگی کو اولاد کے مستقبل کی نظر کر دیتا ہے . ضروریات خواہشات کو نگل جاتی ہیں دن رات تھکن آلود اور جذبات منجمد، بچوں کا مستقبل، مستقل رہائش کا ٹھکانہ بناتے بناتے جسم جواب دیتا چلا جاتا ہے، جوڑ کراہنے اور قوی چٹخنے لگتے ہیں. جسم کا سونا ، وقت کی ریت میں جذب ہو جاتا ہے .

ہمسفر کی آنکھوں میں چمکتے ستارے کی جگہ نظر کی عینک لے لیتی ہے . اس کی آواز کی نغمگی حالات کی بھٹی میں پک کر پختہ اور کھرکھری ٹھیکری بن جاتی ہے.
گھونسلے سے چوزے پر سنبھالتے ہی آزاد فضاؤں میں اپنا رزق تلاش کرنے جا نکلتے ہیں اور گھر کی تنہائی مڈیاکر کی زندگی کا استعارہ بن جاتی ہے

زندگی میں اگر کوئی آب جو کھلے تو اس سے گھونٹ دو گھونٹ چوری چھپے بھر لو جس سے سیرابی تو کیا ہو تشنگی سوا ہو جائے . گھر کی نیم پلیٹ بنواتے بنواتے قبر کا کتبہ مل جاتا ہے. اور ایک غیریقینی طویل سفر کا آغاز پھر سے ہو جاتا ہے

رابعہ خرم درانی

جمعہ، 14 اکتوبر، 2016

معجزہ ءِ ماہِ نا کامل


رام پیاری نے باتصویر لکھا:
چاند میں یاحسین لکھا ہوا ساری دنیا نے دیکھا مین سٹریم میڈیا پر اسکا چرچا ہوا، لیکن کچھ ایسے ناخلف جن کے رضی اللہ کبھی بھولے سے بھی چاند پر ظاہر نہیں ہوئے یہ کہہ کر اس کا انکار کررہے ہیں کہ امام حسین علیہ سلام اس سے بہت بلند ہیں کہ انکی عظمت چاند سے ظاہر کی جائے، یہ احساس کمتری کے شکار دانشور بلکل اس شخص کی مانند ہیں جو ایسی عورت کو طلاق طلاق طلاق کہہ دے جو کبھی اس کے عقد میں رہی نہ ہو۔ ہم نے کب آپ سے عظمت حسین علیہ سلام جاننے کے لیے رجوع کیا۔؟؟؟؟
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ایک بادشاہ کا اپنے وزیر کے ساتھ بازار پر سے گزر ہوا
وہاں ایک شخص خچر بیچ رہا تھا کوئی شخص ا سے قابل التفات خیال نہ کرتا اور وہ بیچارہ آوازیں لگا لگا کر تھک گیا
اسکی نظر بادشاہ سلامت پر پڑی تو اچانک دس دینار والے خچر کی قیمت ایک ہزار دینار کرکے مزید زور سے آواز لگانے لگا
اتنی قیمت سن کر لوگ حیران ہوۓ اور اس کے گرد جمع ہونے لگے
بادشاہ کو معاملے کی خبر ہوئی تو وہ بھی تماشایوں میں شامل ہوگیا

بادشاہ نے پوچھا
اس خچر کی قیمت اتنی زیادہ کیوں ہیں ؟
سوداگر نے کہا
جناب عالی جو اس خچر پر سوار ہوتا ہے اسے یہاں سے مکہ مدینہ دیکھائی دیتا ہے
بادشاہ حیران رہ گیا
حکم جاری کیا ٹھیک ہے
اگر یہ بات سچ ہوئی تو ہم تمہیں دوہزار دینار دینگے لیکن اگر یہ بات غلط ہوئی تو تمہارا سر قلم کردیا جائیگا

بادشاہ نے اپنے ایک وزیر کو اشارہ کیا
وہ اچھل کر خچر پر سوار ہوگیا

سوداگر اس وزیر کے قریب ہوا اور کہا
اس خچر پر سے مکہ مدینہ دکھائی دینے کی ایک شرط ہے کہ بندہ نیک طبیعت ہو گناہوں سے دور رہنے والا ہو شرابی کبابی وغیرہ نہ ہو ورنہ سے نظر نہیں آئیگا

وزیر صاحب سامنے دیکھتے رہے اور چند لمحات بعد سبحان الله
الحمد الله کے نعرے لگانا شروع کردیئے کہ واہ واہ کیا ہی کہنے مجھے تو سب کچھ نظر آرہا ہے

بادشاہ کو یقین نہ آیا
اب کی بار وہ خود خچر پر سوار ہو
سوداگر نے بادشاہ کے قریب ہوکر بھی شرط بیان کی
اور پھر بادشاہ سلامت بھی چند لمحوں بعد نعرے لگا رہے تھے

کچھ یہی معاملہ اس سال چاند پر حضرت حسین رض کا نام نظر آنے کا ہے ذاکرین نے شرط عائد کردی ہے کہ صرف انہیں کو نظر آئیگا جو حقیقی غم حسین رکھتے ہیں ورنہ دیکھائی نہیں دیگا اب ہر '' سچا '' غم حسین رض رکھنے والا دعوی کرتا پھر رہا ہے کہ اسے بھی چاند پر حضرت حسین رض کا نام نظر آیا ہے یا نظر آرہا ہے
تو معلوم ہوا کہ یہ ٹھگ سوداگر اس صدی کے نہیں ان کی تاریخ بہت پرانی ہے۔
رہے نام الله کا

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ساری مذہبی تاریخ ، " تپسّوی مہاراج " کے چیلوں کی کارستانی ہے ، 



جمعرات، 13 اکتوبر، 2016

الیس منکم رجل الرشید ؟

جج صاحب خدا خوفی کریں
جاوید چوہدری  منگل 11 اکتوبر 2016
Daily Express column,Dt:11-10-2016.

ہم اب روڈیل سینڈرز سے خواجہ مظہر حسین کی طرف آتے ہیں‘ مظہر حسین اسلام آباد کی ڈھوک حیدرعلی کا رہائشی تھا‘ یہ خوشحال شخص تھا‘ ذاتی گھر‘ زمین اور ٹرک کا مالک تھا‘ مظہر حسین کا 1997ء میں کسی شخص سے جھگڑا ہو گیا‘ یہ جھگڑا ڈھوک حیدر علی کے دو خاندانوں میں تنازعے کا باعث بن گیا‘ یہ دونوں فیملیز ایک دوسرے سے دور ہو گئیں‘ جھگڑے کے آٹھ ماہ بعد دوسرے خاندان کا ایک شخص محمد اسماعیل قتل ہو گیا‘ یہ اس شخص کا چچا تھا جس سے مظہر حسین کا جھگڑا ہوا تھا‘ مقتول کے بھائی منظور نے مظہر حسین کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی‘ پولیس نے مظہر کو گرفتار کر لیا‘ یہ بے گناہ تھا لیکن پولیس نے اسے بے گناہ ماننے سے انکار کر دیا‘ چالان عدالت میں پیش ہوا‘ جھوٹے گواہوں نے گواہیاں دیں‘ پولیس نے غلط شواہد پیش کیے اور سیشن جج نے 21 اپریل 2004ء کو مظہر حسین کو سزائے موت اور تین لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنا دی ۔

مظہر حسین کی گرفتاری کے وقت اس کے تین بچے تھے‘ خواجہ شہباز کی عمر 8 سال تھی‘ بیٹی ارم شہزادی پانچ سال کی تھی اور سب سے چھوٹا بیٹاخواجہ زعکرجائیں۔ا تھا‘ مظہر حسین کی اہلیہ اس وقت 26 برس کی جوان خاتون تھی‘ مظہر حسین کا والد زندہ تھا‘ وہ اپنے بے گناہ بیٹے کی فائل اٹھا کر کچہریوں میں مارا مارا پھرنے لگا‘ وہ بوڑھا آدمی تھا‘ وہ یہ دھکے برداشت نہ کر سکا چنانچہ وہ کچہریوں میں ایڑھیاں رگڑ رگڑ کر انتقال کر گیا‘ والد کے مرنے کے بعد مظہر حسین کے تایا اور چچا نے پیروی شروع کی لیکن وہ بھی یہ بوجھ زیادہ عرصے تک نہ اٹھا سکے‘ وہ بھی انتقال کر گئے‘ مظہر حسین کے والد‘ تایا اور چچا کے انتقال کے بعد خاندان دو بڑے مسائل کا شکار ہو گیا‘ پہلا مسئلہ مقدمہ تھا‘ پاکستان کے وہ تمام لوگ مظہر حسین کے خاندان کی کیفیت اور صورتحال کا بخوبی اندازہ کر سکتے ہیں جو زندگی میں کبھی تھانے‘ کچہری اور عدالتوں کے گورکھ دھندے میں پھنسے ہیں‘ ہمارا عدالتی نظام بیلنا ہے‘ یہ دروازے پر قدم رکھنے والے ہر شخص کا وہ حشر کرتا ہے جو بیلنا گنے کے ساتھ کرتا ہے۔

یہ مظلوموں کا پھوگ تک نچوڑ لیتا ہے چنانچہ خاندان کا پہلا مسئلہ مقدمے کے اخراجات‘ وکیلوں کی فیسیں‘ عدالتی عملے کی بخشیش اور قیدی مظہر حسین کا جیل کا خرچہ پانی تھا‘ دوسرا مسئلہ مظہر حسین کے خاندان کے اخراجات تھے‘ مظہر حسین کے گھر میں جوان بیوی اور تین چھوٹے بچے تھے‘ یہ اپنے اخراجات کیسے اور کہاں سے پورے کرتے؟ یہ دونوں مسائل بوجھ تھے‘ یہ بوجھ مظہر حسین کا والد‘ تایا اور چچا برداشت کرتے رہے لیکن جوں ہی ان کی آنکھیں بند ہوئیں خاندان دائیں بائیں ہو گیا‘ یہ لوگ اپنے اپنے مسائل میں الجھتے چلے گئے یہاں تک کہ مظہر حسین کا مقدمہ اور بیوی بچے اکیلے رہ گئے‘ یہ لوگ گلیوں میں رلنے لگے‘ اس برے وقت میں مظہر حسین کے بھائی محمد افضل نے ان کا ساتھ دیا۔

یہ خاندان کا نان نفقہ اور مقدمے کی گاڑی چلانے لگا‘ یہ کورٹ کچہری بھی جاتا تھا‘ بھائی سے جیل میں ملاقات بھی کرتا تھا اور مظہر حسین کے بیوی بچوں کی ’’ٹیک کیئر‘‘ بھی کرتا تھا‘ یہ بھائی پندرہ سال سسٹم کے برآمدوں میں مارا مارا پھرتا رہا‘ مظہر حسین کے بچوں نے ان 19 برسوں میں باپ کی جدائی‘ غربت‘ بھوک اور جہالت بھی دیکھی اور خاندان کی تبدیل ہوتی نظریں بھی‘ یہ بچے باپ کا سایہ سر پر نہ ہونے کی وجہ سے اسکول نہیں جا سکے‘ یہ کوئی کام دھندہ بھی نہ سیکھ سکے چنانچہ مظہر حسین کا بڑا بیٹا خواجہ شہباز کرین آپریٹر اور دوسرا بیٹا خواجہ زعفران ٹرک ڈرائیور بن گیا‘ بیٹی غیر شادی شدہ اور گھر میں بیٹھی ہے جب کہ بیوی خاوند کا انتظار کرتے کرتے بوڑھی ہو گئی‘ بیٹی ارم جس سے بھی ملتی ہے بس ایک ہی بات کرتی ہے ’’میرے ابو محرم کے مہینے میں گھر سے گئے تھے‘ ہم اس دن سے محرم گزار رہے ہیں‘ ہم نے 19 برسوں میں محرم کے علاوہ کوئی مہینہ نہیں دیکھا‘‘۔

آپ ٹریجڈی ملاحظہ کیجیے‘ مظہر حسین کا مقدمہ 19 سال چلا‘ یہ کیس سیشن کورٹ سے ہوتا ہوا ہائی کورٹ پہنچا اور ہائی کورٹ سے سپریم کورٹ چلا گیا‘ پہلے مظہر حسین کے والد‘ تایا اور چچا مقدمے کے پیچھے دوڑتے رہے اور پھر یہ بوجھ بھائی محمد افضل نے اٹھا لیا لیکن مظہر حسین کی بے گناہی کا فیصلہ نہ ہو سکا‘ آپ نظام کا کمال دیکھئے‘ مظہر حسین کے بھائی نے 2010ء میں سپریم کورٹ میں اپیل کی‘ یہ اپیل 2016ء تک فائلوں میں دبی رہی‘ یہ 6 اکتوبر 2016ء کو سپریم کورٹ کے تین رکنی بینچ کے سامنے آئی‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ بینچ کے سربراہ تھے‘ پولیس کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل اسلام آباد میاں عبدالرؤف پیش ہوئے‘ مدعی اور مجرم دونوں کی طرف سے عدالت میں کوئی شخص موجود نہیں تھا‘ مجرم کے وکیل شاہد محمود عباسی اس دوران ہائی کورٹ کے جج بن گئے۔

یہ بھی غیر حاضر تھے‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ انقلابی انسان ہیں‘ یہ سماعت ملتوی کرنے کے بجائے کیس کھول کر بیٹھ گئے‘ فائل کھلنے کی دیر تھی‘ بینچ کو چند لمحوں میں مظہر حسین کی بے گناہی کا یقین ہو گیا‘ جسٹس آصف سعید کھوسہ کا دل بھر آیا‘ انھوں نے ریمارکس دیے ’’ہم نے فلموں میں سنا تھا جج صاحب مجھے میری زندگی کے 12 سال لوٹا دیں‘ ہم نے آج اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا‘ ایک بے گناہ شخص 19 سال سے جیل میں پڑا ہے‘ اسے اس کے 19 سال کون لوٹائے گا‘‘ بینچ نے ریمارکس دینے کے بعد مظہر حسین کی رہائی کا حکم دے دیا‘ یہ حکم نکلا‘ میڈیا میں آیا اور میڈیا نے بے گناہ مظہر حسین کی تلاش شروع کر دی‘ پتہ چلا مظہر حسین زیادہ دنوں تک بے گناہی کا بوجھ نہیں اٹھا سکا تھا۔

اسے مارچ 2014ء میں ڈسٹرکٹ جیل جہلم میں ہارٹ اٹیک ہوا اور وہ جیل ہی میں انتقال کر گیا‘ جیل حکام نے لاش لواحقین کے حوالے کر دی‘ لواحقین نے جنازہ پڑھا اور بے گناہ مظہر حسین کو دفن کر دیا‘ جیل حکام نے مظہر حسین کا ڈیتھ سر  ٹیفکیٹ بھی جاری کر دیا لیکن یہ سر  ٹیفکیٹ ہمارے باکمال سسٹم کی وجہ سے مظہر حسین کی فائل تک نہیں پہنچ سکا چنانچہ مرنے کے بعد بھی مظہر حسین کا کیس چلتا رہا‘ یہ ٹریجڈی‘ ٹریجڈی کے اوپر خوفناک ٹریجڈی تھی‘ اس ٹریجڈی نے ہمارے نظام کی ساری خامیاں کھول کر سامنے رکھ دیں۔

میری چیف جسٹس سپریم کورٹ انور ظہیر جمالی‘جسٹس آصف سعید کھوسہ اور وفاقی حکومت سے درخواست ہے آپ مظہر حسین کی داستان کو نظام عدالت کے خلاف ’’ویک اپ کال‘‘ سمجھیں اور ملک کے جسٹس سسٹم میں چند اصلاحات کریں‘ جسٹس صاحب مظہر حسین صرف ایک آدمی نہیں تھا‘ یہ تین نسلوں پر مشتمل پورا خاندان تھا‘ مظہر حسین کا والد‘ اس کا تایا اور اس کا چچا انصاف تلاش کرتے کرتے انتقال کر گئے‘ بیوی نے خاوند کی زندگی میں 19 سال بیوگی برداشت کی اور بچے باپ کی شکل کو ترستے رہے۔

یہ تعلیم تک سے محروم رہے چنانچہ ظلم صرف مظہر حسین کے ساتھ نہیں تھا ستم کا پہاڑ19 سال پورے خاندان پر ٹوٹتا رہا‘ میری جسٹس آصف سعید کھوسہ سے درخواست ہے آپ مقدمے کی فائل دوبارہ کھولیں اور حکومت کو مظہر حسین کے خاندان کو 19 کروڑ روپے ادا کرنے کا حکم جاری کریں‘ یہ 19 کروڑ روپے بعد ازاں اسلام آباد پولیس‘ مدعی خاندان اور جھوٹے گواہوں سے وصول کیا جائے اور اس کے بعد قانون بنا دیا جائے سیشن کورٹ سے لے کر سپریم کورٹ تک قتل کے تمام مقدموں کی سماعت فوری ہو گی‘ کوئی فائل تین چار ماہ سے زیادہ پینڈنگ نہیں رہے گی اور اگر کوئی مجرم بے گناہ ثابت ہو گیا تو حکومت‘ پولیس ڈیپارٹمنٹ اور مدعی تینوں مل کر مجرم کو قید کے ہر سال کا ایک کروڑ روپے تاوان ادا کریں گے۔

یہ تاوان پولیس‘ حکومت اور مدعی تینوں کا دماغ ٹھیک کر دے گا‘ آپ اندازہ لگائیے ہم کس دور اور کس ملک میں زندہ ہیں‘ ہمارے ملک میں جھوٹی گواہی پر ایک شخص کو سزائے موت ہو جاتی ہے‘ خاندان 19 سال انصاف کی تلاش میں مارا مارا پھرتا ہے‘ اس دوران گھر کے برتن تک بک جاتے ہیںا ور آخر میں بے گناہ مجرم جیل میں مر جاتا ہے لیکن سسٹم بندر کی طرح ایک شاخ سے دوسری شاخ اور ایک درخت سے دوسرے درخت پر چھلانگیں لگاتا رہتا ہے‘ کیا یہ ظلم پر ظلم نہیں؟ ہم اس سسٹم اور انصاف کے اس بدبودار جوہڑ میں کتنی دیر زندہ رہ لیں گے چنانچہ میری جج صاحب سے درخواست ہے آپ خدا خوفی کریں‘ آپ زندہ مظہر حسین کو انصاف نہیں دے سکے لیکن آپ اب اس کی قبر ہی سے عدل کر دیں‘ آپ اس کے بچوں کا بچپن نہیں لوٹا سکتے‘ آپ انھیں ان کی جوانی ہی دے دیں‘ آپ انھیں باپ نہیں دے سکتے‘ آپ انھیں باپ کا معاوضہ ہی دے دیں‘ آپ ملک میں روڈیل سینڈرز جیسی کم از کم ایک مثال ہی قائم کر دیں۔

جج صاحب آپ انصاف نہیں کر سکے ‘ آپ خدا خوفی ہی کر دیں‘ آپ دنیا میں کچھ تو کرجائیں۔✏👏🏽


بھارتیو ! آؤ ایٹمی جنگ چھیڑیں

ﺟﺮﻣﻦ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﯾﮑﻢ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1939 ﺀﮐﻮ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﯿﺎ ‘ ﯾﮧ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﮭﺎ ‘ ﯾﮧ ﺣﻤﻠﮧ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻤﭙﯿﺌﻦ ﮐﮩﻼﺗﺎ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﮐﻤﭙﯿﺌﻦ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮧ ﭼﮫ ﺩﻥ ﭼﻠﯽ ‘ ﭘﻮﻟﺶ ﻓﻮﺝ ﮐﯽ ﺗﻌﺪﺍﺩ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﻧﻮ ﻻﮐﮫ ﺗﮭﯽ ‘ ﺟﺮﻣﻨﯽ ‘ ﺳﻠﻮﺍﮐﯿﮧ ﺍﻭﺭ ﺳﻮﻭﯾﺖ ﯾﻮﻧﯿﻦ ﮐﯽ ﺑﯿﺲ ﻻﮐﮫ ﻓﻮﺝ ﻧﮯ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﮐﺮ ﺩﯾﺎ ‘ ﺟﺎﺭﺡ ﻓﻮﺝ ﮐﻮ 4959 ﺗﻮﭘﻮﮞ ‘ 4736 ﭨﯿﻨﮑﻮﮞ ﺍﻭﺭ 3300 ﺟﻨﮕﯽ ﻃﯿﺎﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺳﭙﻮﺭﭦ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ ‘ ﯾﮧ ﺁﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐﮫ 99 ﮨﺰﺍﺭ 700 ﻻﺷﯿﮟ ﺑﭽﮭﺎ ﺩﯾﮟ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﺁﺭﭦ ‘ ﮐﻠﭽﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﮐﺎ ﻣﺮﮐﺰ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﺍﯾﮏ ﻣﮩﯿﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺭﺍﮐﮫ ﮐﺎ ﮈﮬﯿﺮ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﻣﻠﮏ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﮮ ﺳﮯ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺳﺮﮮ ﺗﮏ ﻻﺷﯿﮟ ﮨﯽ ﻻﺷﯿﮟ ﺗﮭﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮩﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎﻧﮯ ﻭﺍﻻ ﮐﻮﺋﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ‘ﺁﭖ ﮐﻮ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﻭﺍﺭﺳﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﺮﺍﮐﻮﻑ ﺷﮩﺮ ﮐﯽ ﮔﻠﯿﻮﮞ ‘ ﺑﺎﺯﺍﺭﻭﮞ ﺍﻭﺭ ﻣﺤﻠﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﻮﻥ ﮐﯽ ﺑﻮ ﺁﺗﯽ ﮨﮯ-
 ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ؟
ﺁﭖ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ‘ ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮨﻮﺗﯽ ﮐﯿﺎ ﮨﯿﮟ؟ ﺍﻭﺭ
ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﻮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﮐﯿﻮﮞ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ؟
ﺁﭖ ﭘﻮﻟﯿﻨﮉ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ‘ ﮐﺴﯽ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺳﮯ ﭘﻮﭼھ ﻟﯿﮟ!
” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ “
ﺁﭖ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ﮔﮯ ‘

ﯾﻮﺭﭖ ﻧﮯ ﯾﮑﻢ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1939 ﺀﺳﮯ ﺩﻭ ﺳﺘﻤﺒﺮ 1945 ﺀﺗﮏ ﻣﺴﻠﺴﻞ ﭼھ ﺳﺎﻝ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﮕﺘﯽ ‘ ﺍﻥ ﭼھ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ ‘ ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﺍﻭﺭ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﮐﮯ 6 ﮐﺮﻭﮌ ﻟﻮﮒ ﮨﻼﮎ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘
ﺍﻣﺮﯾﮑﺎ ﻧﮯ ﺁﺧﺮ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﺎﮔﺎ ﺳﺎﮐﯽ ﭘﺮ ﺩﻭ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﮔﺮﺍﺋﮯ۔
ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﻣﯿﮟ ﺩﻭ ﻣﻨﭧ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﻻﮐھ چالیس ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ ﺟﺒﮑﮧ ﻧﺎﮔﺎﺳﺎﮐﯽ ﻣﯿﮟ 75 ﮨﺰﺍﺭ ﻟﻮﮒ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺟﻮ ﺯﻧﺪﮦ ﺑﭽﮯ ﻭﮦ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﺮ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ‘
ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﺩﻭﻡ ﻣﯿﮟ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺷﮩﺮ ﺳﻼﻣﺖ ﻧﮩﯿﮟ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﺑﺠﻠﯽ ‘ ﭘﺎﻧﯽ ‘ ﺳﮍﮐﯿﮟ ‘ ﺭﯾﻞ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﻡ ‘ ﺳﮑﻮﻝ ‘ ﮐﺎﻟﺞ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮨﺮ ﭼﯿﺰ ﻣﻔﻘﻮﺩ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔
ﺁﭖ ﮐﻮ ﺷﺎﯾﺪ ﯾﮧ ﺟﺎﻥ ﮐﺮ ﺣﯿﺮﺕ ﮨﻮ ﮔﯽ ﯾﻮﺭﭖ ﻣﯿﮟ ﻋﺎﻟﻤﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﺳﮯ ﻗﺒﻞ ﺳﻮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﺗﮭﺎ ‘ ﻟﻮﮒ ﭘﻮﺭﮎ ﺳﮯ ﻧﻔﺮﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﺐ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﯽ ﻗﻠﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﺭ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﺮ ﺩﯾﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺩﻥ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺁﺝ ﮐﺎ ﺩﻥ ﮨﮯ ﭘﻮﺭﮎ ﺍﺏ ﭘﻮﺭﮮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺑﻦ ﭼﮑﺎ ﮨﮯ۔
ﺟﻨﮓ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﯾﻮﺭﭖ ﺳﮯ ﻣﺮﺩ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﮯ ﺗﮭﮯ ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﯾﻮﺭﭖ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﺎ ﺳﺴﭩﻢ ﺧﺘﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮﮔﯿﺎ ‘ ﻋﻮﺭﺕ ﺻﺮﻑ ﻋﻮﺭﺕ ﺍﻭﺭ ﻣﺮﺩ ﺻﺮﻑ ﻣﺮﺩ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺭﮦ ﮔﯿﺎ۔

ﺁﭖ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﯾﮩﻮﺩﯾﻮﮞ ﮐﯽ ﺩﺍﺳﺘﺎﻧﯿﮟ ﭘﮍﮬﯿﮟ ‘ ﺁﭖ ﺍﻧﺪﺭ ﺳﮯ ﺩﮐﮭﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ ‘ ﺳﯿﻨﮑﮍﻭﮞ ﮨﺰﺍﺭﻭﮞ ﯾﮩﻮﺩﯼ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺩﻭ ﺩﻭ ﺑﺮﺱ ﮔﭩﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﮯ ‘ ﺍﻥ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﺴﻞ ﮔﭩﮍﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺳﯿﻮﺭﯾﺞ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﯽ ﮐﺮ ﮐﮭﮍﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺳﯿﮑﮭﺎ ۔

ﺁﭖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺟﻨﮓ ﻋﻈﯿﻢ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﺌﮯ۔

ﯾﮧ ﺟﻨﮓ 28 ﺟﻮﻻﺋﯽ 1914 ﺀﺳﮯ 11 ﻧﻮﻣﺒﺮ 1918 ﺀﺗﮏ ﭼﺎﺭ ﺳﺎﻝ ﺗﯿﻦ ﻣﺎﮦ ﭼﻠﯽ ‘ ﯾﻮﺭﭖ ﻧﮯ ﺍﻥ ﺳﻮﺍ ﭼﺎﺭ ﺑﺮﺳﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﮐﺮﻭﮌ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻗﺮﺑﺎﻧﯽ ﺩﯼ ۔

ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺁﺳﭩﺮﯾﻠﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﯿﻮﺯﯼ ﮐﯽ ﮨﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﯽ ﮔﻮﺩ ﺍﺟﺎﮌ ﮔﺌﯽ ‘ ﺗﺮﮐﯽ ﮐﺎ ﺟﺰﯾﺮﮦ ﮔﯿﻠﯽ ﭘﻮﻟﯽ ﻗﺒﺮﺳﺘﺎﻥ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ ‘ ﺁﭖ ﺁﺝ ﺑﮭﯽ ﺟﺰﯾﺮﮮ ﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﮐﻮﻧﮯ ﺳﮯ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﻣﭩﮭﯽ ﺑﮭﺮﯾﮟ ‘ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﯽ ﺑﺎﻗﯿﺎﺕ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﯽ ‘ ﺁﭖ ﺍﻥ ﺑﺎﻗﯿﺎﺕ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ !
ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﻣﻄﻠﺐ ﺳﻤﺠﮭﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ!
ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﻮ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﭘﺘﮧ ﻧﮧ ﭼﻠﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻭﯾﺘﻨﺎﻡ ‘ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﺟﻨﮓ ﺯﺩﮦ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼھ ﻟﯿﮟ ‘ ﻭﯾﺘﻨﺎﻡ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﺎﮌﮬﮯ 19 ﺳﺎﻝ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﮕﺘﯽ ‘
ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﭘﭽﮭﻠﮯ 35 ﺑﺮﺳﻮﮞ ﺳﮯ ﻻﺷﯿﮟ ﺍﭨﮭﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ، ﺟﺒﮑﮧ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﻣﻠﮑﻮﮞ ﻧﺎﺋﯿﺠﯿﺮﯾﺎ ‘ ﻻﺋﺒﯿﺮﯾﺎ ‘ﺳﯿﺮﺍﻟﯿﻮﻥ ‘ ﺍﯾﺘﮭﻮﭘﯿﺎ ‘ ﺻﻮﻣﺎﻟﯿﮧ ‘ ﯾﻮﮔﻨﮉﺍ ‘ ﮔﻨﯽ ﺍﻭﺭﺳﻮﮈﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﻧﮯ ﻗﺤﻂ ﮐﻮ ﺟﻨﻢ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﻗﺤﻂ ﺍﺏ ﺍﻓﺮﯾﻘﮧ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺷﺨﺺ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻟﮑﮭﺎ ﮨﮯ ‘
ﭖ ﺍﻥ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮫ ﻟﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﯽ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻭﺍﻟﺪ ‘ ﺍﭘﻨﮯ ﺑﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﯽ ﺑﯿﻮﯼ ﮐﺎ ﮔﻮﺷﺖ ﺍﺑﺎﻝ ﮐﺮ ﮐﮭﺎﻧﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﯾﺎ ﯾﮧ ﺟﺐ ﺍﭘﻨﮯ ﻟﺨﺖ ﺟﮕﺮ ﮐﻮ ﺯﺧﻤﻮﮞ ﺳﮯ ﺭﮨﺎﺋﯽ ﺩﻻﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﮔﻮﻟﯽ ﻣﺎﺭﺗﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﺍﺱ ﮐﺎ ﺩﻝ ‘ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺭﻭﺡ ﮐﮩﺎﮞ ﮐﮩﺎﮞ ﺳﮯ ﺯﺧﻤﯽ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﯿﺴﮯ ﺯﻧﺪﮦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ؟
ﯾﮧ ﻟﻮﮒ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺑﺘﺎﺋﯿﮟ ﮔﮯ !
ﮨﻢ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﭘﺎﮎ ﻭ ﮨﻨﺪ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺪﻗﺴﻤﺘﯽ ﺳﮯ ﺍﺻﻠﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﮑﻤﻞ ﺟﻨﮓ ﻧﮩﯿﮟ ﺩﯾﮑﮭﯽ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﺗﻤﺎﻡ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﯿﮟ

ﮨﻢ ﭘﻨﺠﺎﺑﯽ ﺳﻨﭩﺮﻝ ﺍﯾﺸﯿﺎ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺣﻤﻠﮧ ﺁﻭﺭ ﮐﺎ ﺍﭨﮏ ﮐﮯ ﭘﻞ ﭘﺮ ﺍﺳﺘﻘﺒﺎﻝ ﮐﺮﺗﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﺍﺳﮯ ﮨﺎﺭ ﭘﮩﻨﺎﺗﮯ ‘ ﺳﭙﺎﮨﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﺍﻭﺭ ﮔﮭﻮﮌﻭﮞ ﮐﻮ ﭼﺎﺭﺍ ﺩﯾﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺗﮯ ﺗﮭﮯ۔
ﯾﮧ ﮨﻤﺎﺭﯼ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺗﮭﯽ ‘ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻧﮯ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﭘﻠﭩﺎ ﮐﮭﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﭘﺎﻧﯽ ﭘﺖ ﺳﮯ ﻻﮨﻮﺭ ﺁ ﮔﯿﺎ ‘ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺳﮯ ﺑﮭﯽ ﮨﺎﺭ ﭘﮩﻨﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﺳﯿﺪﮬﺎ ﺟﻼﻝ ﺁﺑﺎﺩ ﺟﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺁﺋﮯ ‘ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﺑﺎﻗﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﻓﻐﺎﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﻟﮍﺗﮯ ﺭﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮨﻢ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﮐﺎﺭ ﺑﻨﮯ ﺭﮨﮯ۔

ﮨﻢ 1857 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺁﺯﺍﺩﯼ ﮐﻮ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﻨﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺟﺒﮑﮧ ﺣﻘﯿﻘﺖ ﯾﮧ ﮨﮯ ‘ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺩﮨﻠﯽ ﺳﮯ 75 ﮐﻠﻮ ﻣﯿﭩﺮ ﮐﮯ ﻓﺎﺻﻠﮯ ﭘﺮ ﻣﯿﺮﭨھ ﻣﯿﮟ ﺷﺮ ﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ ﺩﮨﻠﯽ ﭘﮩﻨﭻ ﮐﺮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ۔
ﯾﮧ ﭘﻮﺭﯼ ﺟﻨﮓ ﺩﮨﻠﯽ ﮐﮯ ﻣﻀﺎﻓﺎﺕ ﻣﯿﮟ ﻟﮍﯼ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﭘﻨﺠﺎﺏ ‘ ﺳﻨﺪﮪ ‘ ﻣﻤﺒﺌﯽ ‘ ﮐﻮﻟﮑﺘﮧ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺧﺒﺮ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﮨﻮﺋﯽ ﺟﺐ ﻣﻠﺒﮧ ﺗﮏ ﺳﻤﯿﭩﺎ ﺟﺎ ﭼﮑﺎ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺑﮩﺎﺩﺭ ﺷﺎﮦ ﻇﻔﺮ ﺭﻧﮕﻮﻥ ﻣﯿﮟ
” ﮐﮩﮧ ﺩﻭ ﺍﻥ ﺣﺴﺮﺗﻮﮞ ﺳﮯ ﮐﮩﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺟﺎ ﺑﺴﯿﮟ “ ﻟﮑھ ﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔

ﮨﻢ ﺍﮔﺮ 1965 ﺀﺍﻭﺭ 1971 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﺎ ﺗﺠﺰﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮨﻤﯿﮟ ﺟﻨﮕﯿﮟ ﮐﻢ ﺍﻭﺭ ﺟﮭﮍﭘﯿﮟ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﺤﺴﻮﺱ ﮨﻮﮞ ﮔﯽ۔

1965 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﭼھ ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ 23 ﺳﺘﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ 17 ﺩﻥ ﮐﯽ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ-
ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺳﺎﻟﮕﺮﮦ ﻣﻨﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ‘ 65 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﺍﻭﺭ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ ‘ ﯾﮧ ﺟﻨﮓ ﺑﮭﯽ ﺻﺮﻑ ﮐﺸﻤﯿﺮ ‘ ﭘﻨﺠﺎﺏ ﺍﻭﺭ ﺭﺍﺟﺴﺘﮭﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮈﺭ ﺗﮏ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ ‘ ﮨﻨﺪﻭﺳﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺩﺭﺍﺯ ﻋﻼﻗﻮﮞ ﮐﮯ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺻﺮﻑ ﺭﯾﮉﯾﻮ ﭘﺮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺍﻃﻼﻉ ﻣﻠﯽ ﺟﺒﮑﮧ 1971 ﺀﮐﯽ ﺟﻨﮓ ﺗﯿﻦ ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺋﯽ ﺍﻭﺭ 16 ﺩﺳﻤﺒﺮ ﮐﻮ ﺧﺘﻢ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ‘ ﺍﺱ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﻣﯿﮟ 9 ﮨﺰﺍﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻧﯽ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭﺭ 26 ﮨﺰﺍﺭ ﺑﮭﺎﺭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﻨﮕﺎﻟﯽ ﮨﻼﮎ ﮨﻮﺋﮯ ۔
ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺩﻥ ﭨﮭﻨﮉﮮ ﺩﻝ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ 13 ﺍﻭﺭ 17 ﺩﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﺍﻥ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺍﻭﺭ ﭼﮫ ﺳﺎﻝ ﻟﻤﺒﯽ ﺟﻨﮕﻮﮞ ﺍﻭﺭ ﺍﻥ ﺗﯿﻦ ﮨﺰﺍﺭ ‘ ﭼﺎﺭ ﮨﺰﺍﺭ ‘ 9 ﮨﺰﺍﺭ ﺍﻭﺭ 26 ﮨﺰﺍﺭ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﻮ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﺳﺎﮌﮬﮯ ﭼﺎﺭ ﮐﺮﻭﮌ ﺍﻭﺭ ﭼھ ﮐﺮﻭﮌ ﻻﺷﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺭﮐھ ﮐﺮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔
ﺁﭖ ﻻﮨﻮﺭ ﺍﻭﺭ ﮈﮬﺎﮐﮧ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ ‘
ﺁﭖ 1965 ﺀﮐﮯ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﮐﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﭼﻮﻧﮉﺍ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ‘ ﻧﺎﮔﺎ ﺳﺎﮐﯽ ‘ ﭘﺮﻝ ﮨﺎﺭﺑﺮ ‘ ﻧﺎﺭﻣﻨﮉﯼ ‘ ﺍﯾﻤﺴﭩﺮﮈﯾﻢ ‘ ﺑﺮﺳﻠﺰ ‘ ﭘﯿﺮﺱ ‘ ﻟﻨﺪﻥ ‘ ﻭﺍﺭﺳﺎ ‘ ﺑﺮﻟﻦ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﺳﮑﻮ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ
ﺍﻭﺭ ﭘﮭﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺁﭖ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﯿﮟ ” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ “
ﺁﭖ ﮐﮯ ﺟﺴﻢ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺍﯾﮏ ﺧﻠﯿﮧ ﺁﭖ ﮐﻮ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﻣﺎﮨﯿﺖ ﺑﺘﺎﺋﮯ ﮔﺎ
" ﮨﻢ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﺟﻨﮓ ﺳﮯ ﻧﺎﻭﺍﻗﻒ ﮨﯿﮟ ‘ ﮨﻢ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ” ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟ “
ﭼﻨﺎﻧﭽﮧ ﮨﻢ ﮨﺮ ﺳﺎﻝ ﭼھ ﻣﺎﮦ ﺑﻌﺪ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﻧﮑﺎﻝ ﮐﺮ ﺩﮬﻮﭖ ﻣﯿﮟ ﺑﯿﭩھ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔
ﺑﮭﺎﺭﺕ ﻣﻤﺒﺌﯽ ﮐﮯ ﺣﻤﻠﻮﮞ ‘ ﭘﺎﺭﻟﯿﻤﻨﭧ ﭘﺮ ﺩﮨﺸﺖ ﮔﺮﺩﯼ ‘ ﭘﭩﮭﺎﻥ ﮐﻮﭦ ﺍﻭﺭ ﺍُﮌﯼ ﺑﺮﯾﮕﯿﮉ ﮨﯿﮉ ﮐﻮﺍﺭﭨﺮ ﭘﺮ ﺣﻤﻠﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﻨﮓ ﮐﯽ ﺩﮬﻤﮑﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻣﻌﻤﻮﻟﯽ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﭘﺮ
” ﮨﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﺷﺐ ﺑﺮﺍﺕ ﭘﺮ ﭼﻼﻧﮯ ﮐﮯﻟﺌﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﺎﺋﮯ “
ﮐﺎ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ ‘ ﮐﯿﻮﮞ؟
ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎﻧﺘﮯ ﺟﻨﮓ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟
ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺟﺐ ﭘﮭﭩﺘﺎ ﮨﮯ ﺗﻮ ﮐﯿﺎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ؟۔
ﻣﯿﮟ ﺑﻌﺾ ﺍﻭﻗﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺭﺕ ﮐﮯ ﺩﺭﻣﯿﺎﻥ ﺍﯾﮏ ﺑﮍﯼ ﺟﻨﮓ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﯽ ﭼﺎﮨﯿﮯ ‘
ﯾﮧ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﻣﻠﮏ ﺟﯽ ﺑﮭﺮ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﮯ ﺟﻨﮕﯽ ﺍﺭﻣﺎﻥ ﭘﻮﺭﮮ ﮐﺮ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺍﭘﻨﮯ ﺳﺎﺭﮮ ﺍﯾﭩﻢ ﺑﻢ ﭼﻼ ﻟﯿﮟ ﺗﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ 110 ﺷﮩﺮﻭﮞ ﮐﻮ ﻣﻮﮨﻦ ﺟﻮ ﺩﺍﮌﻭ ﺑﻨﺎ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺧﯿﺮ ﭘﻮﺭ ﺳﮯ ﮔﻮﺍ ﺗﮏ ﭘﺎﻧﭻ ﺩﺱ ﮐﺮﻭﮌ ﻻﺷﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﻋﻮﺍﻡ ﮐﻮ ﺩﻭﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﻮﺭﺍﮎ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﻠﮑﺘﺎ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑھ ﻟﯿﮟ ‘
ﯾﮧ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺑﺠﻠﯽ ‘ ﭨﯿﻠﯽ ﻓﻮﻥ ‘ ﭘﺎﻧﯽ ‘ ﺳﮍﮎ ‘ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﺍﻭﺭ ﺳﮑﻮﻝ ﮐﮯ ﺑﻐﯿﺮ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮫ ﻟﯿﮟ ﺍﻭﺭ
ﯾﮧ ﭘﭽﺎﺱ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﻣﻌﺬﻭﺭ ﺑﭽﮯ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺗﮯ ﺑﮭﯽ ﺩﯾﮑﮭﯿﮟ۔

ﯾﮧ ﺗﺐ ﺟﻨﮓ ﮐﻮ ﺳﻤﺠﮭﯿﮟ ﮔﮯ ‘
ﯾﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺟﺎﭘﺎﻥ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺟﻨﮓ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻧﮩﯿﮟ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ ‘
ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﯾﻮﺭﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﺡ ﺍﭘﻨﯽ ﺳﺮﺣﺪﯾﮟ ﮐﮭﻮﻟﯿﮟ ﮔﮯ ﺍﻭﺭ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﮭﺎﺋﯽ ﺑﻦ ﮐﺮ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮔﺰﺍﺭﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﯾﮧ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﮌﯼ ﺍﻭﺭ ﮐﻮﺋﭩﮧ ﮐﻮ ﺍﻣﻦ ﮐﮯ ﺭﺍﺳﺘﮯ ﮐﯽ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻨﻨﮯ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﺭﺍﻭﯼ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﭼﯿﻦ ﮨﯽ ﭼﯿﻦ ﻟﮑﮭﮯ ﮔﺎ۔
ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﻥ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﭼﯿﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺋﮯ ﮔﺎ۔
ﯾﮧ ﮨﯿﺮﻭ ﺷﯿﻤﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﺭﺳﺎ ﺑﻨﻨﮯ ﺗﮏ ﺟﻨﮓ ﺟﻨﮓ ﮐﺮﺗﮯ ﺭﮨﯿﮟ ﮔﮯ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
جب ہمارے گھٹیا شاعر اور تھرڈ کلاس رائیٹر ، پاکستانی اور عربی جنگوں پر جھوٹے شعر اور کہانیاں لکھنا ختم کریں کے ۔ تو شائد اگلی نسل کے ذہن میں جنگ کا کیڑا نہ اُٹھنے پائے گا مہاجرزادہ

بدھ، 12 اکتوبر، 2016

باب صوم عاشوراء

ایک دوست نے فیس بک پر یہ جھوٹی روایت لکھی ۔ پڑھا لکھا ہے ۔ مودودوی ہے ۔ لیکن احمق ہے کیوں ؟
بس آپ سرخ رنگ کے الفاظ اور بریکٹ میں میرے کمنٹس پڑھیں اور بخاری کے سفید جھوٹ پر افسوس کریں ۔

احمد بن حنبل پیدائش 164 ھجری بغداد
بخاری  پیدائش 194 ھجری بغداد 
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنھما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عاشورے کے دن کا روزہ رکھا اور اس دن کا روزہ رکھنے کا حکم بھی فرمایا ۔

صحیح بخاری کتاب الصوم، باب صیام عاشوراء ، صحیح مسلم کتاب الصیام،باب صوم عاشوراء

فوائد :
عاشوراء، دس محرم کو کہتے ہیں ۔ دوسری احادیث میں ہے کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ آئے تو دیکھا کہ یہودی دس محرم کا روزہ رکھتے ہیں ،آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا، تم اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟

انہوں نے کہا،اس دن اللہ تعالٰی نے سیدنا موسٰی علیہ السلام کو فرعون سے نجات عطا فرمائی تھی۔ اس خوشی میں ہم روزہ رکھتے ہیں تو

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ موسٰی (علیہ السلام) کی اس خوشی میں ہم تم سے زیادہ روزہ رکھنے کے حق دار ہیں۔چنانچہ آپ نے بھی دس محرم کا روزہ رکھا۔

(بخاری کو احساس ہو کہ وہ کیا لکھ گیا ہے ۔ تو فوراً لکھا )

پھر آپ نے فرمایا کہ اگر میں آئندہ سال زندہ رہا تو اس کے ساتھ نو محرم کا روزہ (بھی) رکھوں گا ،تاکہ یہود کی مخالفت (بھی) ہوجائے۔
( یہ بھول گیا کہ ،
صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال دو ھجری کو نہیں ہوا )

(حنبلیوں کے امام احمد بن حنبل نے بخاری سے پہلے لکھا لہذا یہ پہلی روایت ہونا چاھئیے ۔ بخاری نے مزید جھوٹ بول کر اسے پھیلایا )
بلکہ ایک اور روایت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نےحکم فرمایاکہ تم عاشورے کا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت بھی کرو اور (اس کے ساتھ ) ایک دن قبل یا بعد کا روزہ بھی رکھو (مسند احمد۔جلد 4 ،ص 21،طبع جدید)

 (ایک اور بے وقوف نے ، مصرعہ لگایا ۔)

اس لیے اب دو روزے رکھنے مسنون ہیں، 9 10۔
(
،بہ تحقیق احمد شاکر مصری ۔ مجمع الزوائد ،ج3 ، ص188)

اور یہ احمق رائے دے رہا ہے !
اگر وصال ہو گیا تو اس کا مطلب ، اللہ 9 محرم کا روزہ نہیں رکھوانا چاھتا ۔
اور اگر وصال نہیں ہوا ، تو جملہ مسلمان 11 سال تک 9 اور 10 محرم کا روزہ رکھتے اور اللہ یہ روزے القرآن میں لکھوا دیتا-

شائد لکھوائے ہوں ، مگر بخاری کے قرآن کو تو بکری کھا گئی تھی ، یعنی سنیوں کی چند آیات اور شیعوں کا پورا ایک سپارہ نہیں بلکہ 10سیپارے ۔ 
 جس کے لئے ، کوفی شیعانِ علی نے بغداد میں بیٹھ کر لوگوں سے پوچھ پوچھ کر روایات ، خود سے گھڑیں اور انہیں ،
صلی اللہ علیہ وسلم سے منسوب کر دیا !
پھر سب سے بڑا ظلم کہ بغداد کے چاروں کونے کے مکتّبوں میں بیٹھے ہوئے ، بخاری سے متفق ہوئے ، کیوں کہ سب اسی کے شاگرد تھے اور بخاری ، شیعہ امام زین العابدین بن حسین کے شاگرد تھے اور رہے زین العابدین (پیدائش 38 ھجری )  ، قتلِ حسین کی وجہ سے وہ مدینہ اور دمشق والوں کے خلاف تھے ۔

سوچئیے شائد ، آپ جواب دے سکیں !

* محرم الحرام میں امیر المؤمنین, خلیفة المسلمين، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اظہار ہم دردی***
محرم الحرام کے تعلق سے گرما گرم مباحثوں کے درمیان میں ایک چھوٹے سے چبھتے ہوئے سوال کے جواب کا وقت نکالیے...
🌸 کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کے بڑے بھائی سیدنا حسن رضی اللہ عنہ فضائل میں چھوٹے بھائی سے کچھ کم تھے؟
🌸 کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کو خلیفة المسلمین ہونے کا شرف حاصل نہیں ہوا؟ یقینا ہوا, جب کہ سیدنا حسین خلیفہ نہیں بنے, تو اس حساب سے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی فضیلت زیادہ بنتی ہے...
🌸 کیا بزبان نبوت سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کے سر "سید" ہونے اور مسلمانوں کے اختلاف کو ختم کرنے کا کردار ادا کرنے کا سہرا نہیں ہے؟
🌸 کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ جنت کے نوجوانوں کے سردار نہیں؟
🌸 کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پھول نہیں تھے؟
🌸 کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک کندھوں پر سواری نہیں کیا کرتے تھے؟
🌸 کیا سیدنا حسین رضی اللہ عنہ کی طرح سیدنا حسن رضی اللہ عنہ بھی سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لخت جگر اور پیارے نہیں تھے؟
🌸 کیا سیدنا حسن رضی اللہ عنہ عمر میں بڑے ہونے کے ناطے سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے پہلے اہل بیت میں شامل نہیں ہوئے؟
اکثر فضائل میں سیدنا حسین رضی اللہ عنہ سے اعلی یا کم از کم برابر ہونے کے باوجود اہل بیت سے محبت کے دعوے دار ان سے سوتیلا سلوک کیوں کرتے ہیں؟
🍁کبھی کسی نے "یا حسین" کے ساتھ "یا حسن" کا نعرہ لگایا ہو؟
🍁 کبھی کسی نے "نیاز حسین" کے ساتھ "نیاز حسن" کا اہتمام بھی کیا ہو؟
🍁 کبھی کسی نے "حسینی مشن" کے ساتھ "حسنی مشن" کا دل فریب نعرہ بھی بلند کیا ہو؟
اس سوتیلے سلوک کا سبب سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ سے صلح کر کے خود اپنی خلافت ان کے حوالے کر دی؟
اہل سنت سیدنا حسن وحسین رضی اللہ عنہما دونوں سے والہانہ محبت کرتے ہیں, جب کہ اہل بیت سے محبت کے دعوے دار سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے سوتیلا سلوک کرتے ہیں...
* محرم الحرام میں امیر المؤمنین, خلیفة المسلمين، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے اظہار ہم دردی***

حافظ ابو یحییٰ نورپوری

منگل، 11 اکتوبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر 40- جائزہ

قارئین آپ نے 39 قسطوں پر مشتمل شیطان نامہ پڑھا، یہ ایک مکمل تاریخی اقتباس نامہ ہے جو ایک تاریخی واقعہ کو تاریخ کی نظروں سے دیکھا اور جن جن مؤلفین نے اِسے قلم بند کیا وہ سب حوالہ جات دئیے گئے ۔ نہ شیطان نامہ کا مؤلف اُس وقت وہاں موجود تھا جب یہ واقعہ ، وقوع پذیر ہوا اور نہ ہی ۔ ماضی کے باقی مؤلفین وہاں کے گواہ تھے، لیکن قصہ خوانی بازار میں یہ وقوعہ خوب بکا ، اتنا کہ آج یعنی 10 محرم 1438 ھجری ، کو ٹی وی کی ریٹنگ آسمان پر پہنچی ہوئی ہے ۔ اور ایسی ایسی کہانیاں سننے کو مل رہی ہیں جو مؤلف نے اپنی زندگی میں کبھی نہیں سنیں ۔ لیکن کیا کیا جائے بِک رہی ہیں اور خوب بَک رہی ہیں ۔
اِس وقت ٹی پر ایک نغمہ آرہا ہے ۔
فاطمہ کے لال کو پانی نہیں دیا
آج ٹی وی پر سونے کی سبیلیں دیکھ کر ، یہ مصرعہ بنا
قاتل فرات سے ہوتے رہے سیراب


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

ایک صدی سے بھی زیادہ وقت گزرنے کو آیا اور ہم نے تصویر کا ایک ہی رخ دیکھا اور کبھی بھی اس کی تحقیق کرنے کی کوشش نہیں کی اور ہمارا جو قلبی اور احترام کا تعلق نواسہ رسول کی ذات سے ہے اور جو کچھ ان تاریخوں میں درج ظلم و ستم کی من گھڑت داستانیں ہیں ان ہی پر آنکھ بند کے بھروسہ کرتے چلے گیے اور اس پر ستم یہ ہوا کہ اہل تشیح نے اہل سنت کا روپ اختیار کر کے اس سواد اعظم کو اپنے عقائد اور گمراہی میں اپنے ساتھ ملا لیا فرق بس اتنا پڑا کہ اہل سنت والجماعت صحابہ کو برا نہیں کہتے اور ماتم نہیں کرتے بقایا عقائد بلکل مشترک ہیں ان کے جمعہ المباک کے خطبوں کو سن کر کسی شیعہ مجلس کا گمان ہوتا ہے خاص طور پر محرم میں ، اور فضیلت کی حدیثیں جو ان کوفیوں اور سبائیوں نے حضرت علی اور حضرت حسین کو اس سیاسی مقصد کے لئے اہل بیعت میں شامل کر کے گھڑیں ہر زبان پر اس کے چرچے مدت سے چلے آ رہے ہیں ( اس کے لئے پروفیسر یوسف سلیم چشتی کی کتاب " اسلامی تصوف میں غیر اسلامی نظریات کی آمیزش " کا مطالہ ضرور کریں.
ان حدیثوں میں حضرت علی کا چہرہ دیکھنا عبادت ، علی علم کا شہر ، علی اور اہل بیعت کے پاس جنت کی کنچیاں ہیں ، حسن اور حسین جنتی نوجوانوں کے سردار ہیں وغیرہ وغیرہ شامل ہیں اور ان احادیث کا موازنہ قران و سنت کی روشنی میں گزشتہ اوراق میں کیا جا چکا ہے اور اس کا مقصد صرف یہ نظرآتا ہے کہ عام مسلمان ان چیزوں کے تحقیق کرتے ہوے بھی ڈریں کہ کہیں دائره اسلام سے خارج ہی نہ ہو جائیں اور جہنم کا ایندھن نہ بن جائیں اور کبھی اس طرف خیال ہی نہ جاۓ کہ ان کی سیاست کے خلاف بر سر پیکار ہستیاں بھی رسول اللہ کے قریبی ساتھی اور صحابہ تھے کوئی رسول الله کا سالہ تھا اور کوئی سالے کا بیٹا . اور اہل تشیح کے ہاں اس حد تک پرو پیگنڈہ کیا گیا کہ رسول الله کی وفات کے بعد معاذ الله تمام لوگ آہستہ آہستہ کافر ہو گیے تھے اور رسو ل الله کی دونوں بیٹیاں جو بالترتیب حضرت عثمان کو بیاہی گئی تھیں حضرت خدیجہ کے پہلے شوہر میں سے تھیں اور ہم جاہل مسلمان ( سواے چند اہل علم کے ) اس سے متاثر ہوے بغیر نہ رہ سکے عوام الناس کی تو خیر چھوڑیں شیخ السلام مولانا طاہر القادری جیسے علما سو شیعہ حضرات کی مجلس بھی پڑنے لگے.
اب آگے کیا ہوا غور کریں . عمر بن سعد امیر عسکر نے جیسا کے ان ہی کی روایتوں سے ظاہر ہے کوئی جارحانہ قدم بلکل نہیں اٹھایا تھا تمام فوجی مدافعانہ پہلو اختیار کیے رہے اور کون تھا جو نواسہ رسول پر تلوار اٹھاتا وو سب لشکری (یزید کے فوجی ) حسین اور اس ساتھیوں کے آگے دوڑتے رہے اور چیختے چلاتے رہے کہ اے نواسہ رسول رک جاؤ اور اپنے ساتھیوں کو بھی روکو ہمیں نا حق قتل نہ کرو اور عمر بن سعد کے لئے اپنی زندگی کی سب سے بڑی آزمائش سرپر آ کھڑی ہوئی تھی جو اپنے فوجیوں کو نواسہ رسول پر تلوار اٹھانے سے روکتے رہے اور حسین اور ان کے ساتھیوں کو آخر وقت تک اس یک طرفہ قتل عام سے روکتے رہے .
حسینی قافلے کے اکثر لوگ جنگ و جدل کے ماہر نہ تھے اور فوجی دستے کے جنگ آزمودہ سپاہیوں کا قتل عام کرتے چلے گیے لوگ بھیڑ بکریوں کی طرح چیختے اور قتل ہوتے رہے مگرحسین پر کون تلوار اٹھاتا ؟.اب عمر بن سعد کیا کرتے انہوں نے انتہائی صبر سے کام لیا اور 50 کے قریب سپاہی کٹوانے کے بعد انہیں دفاع میں تلوار اٹھانے کا حکم صادر کرنا پڑا اور پھر بھی حکم دیا کہ حسین کی حرمت کا خیال رکھا جاۓ ان پر کوئی تلوار نہ اٹھے .اور تلوار اٹھانے کا جب حکم ملا تو کس نے دیکھنا تھا کہ کوئی کوفی سامنے ہے یا مسلم بن عقیل کا کوئی بھائی یا خود حسین کی ذات . اس بھگ دوڑ کی جنگ میں کس کی تلوارر کس کو لگی کس کے خنجر سے کون مرا سب داستانیں ہیں اور تقریبا آدھے گھنٹے میں یہ سارا کھیل ختم ہو گیا .
یہ منظر کس قدر درد ناک تھا کہ مصالحت کو آئینی شکل دینے کی کوشش یکایک جنگ و جدل میں بدل گئی .حضرت حسین اور ان کے عزیزوں کی قیمتی جانوں کا یوں چلا جانا آج بھی ہمارے دلوں میں اور تصورات میں غم اور حزن و ملال کے تاثرات پیدا کر دیتا ہے چہ جائیکہ جس نے یہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا ہو .
عمر بن سعد کو قاتل حسین کہتے ہیں لیکن ابو محنف نے ہی اپنی روایت میں گویا حق بر زبان جاری یہ بھی فرمایا کہ حضرت حسین کے قتل ہونے پر ابن سعد رنج و غم سے بے حال ہو گیے داڑھی آنسوؤں سے تر بتر ہو گئی اس روایت میں یہ فقرہ ہے
راوی نے کہا میں نے عمر بن سعد کے آنسوؤں کو دیکھا کہ رونے سے آنسو رخساروں اور داڑھی پر بہنے لگے تھے . صفہ 269 جلد 6 طبری.
اس قدر دکھ اور صدمہ ابن سعد کو کیوں نہ ہوتا کہ حضرت حسین رشتے میں ان کے بھی نواسے لگتے تھے اور انہوں نے امت کے مفاد کی خاطر کہ خون خرابہ نہ ہونے پاے مگر سبائیوں کی شر پسندی کے کی وجہ سے ان کی تمام کوششیں ناکام ہو گئیں لیکن تلوار چل جانے پر بھی اپنے سپاہیوں کو مدافعت کے پہلو پر قائم رہنے کو کہا.اس کا ثبوت خود ان ہی راویوں کے بیان سے ملتا ہے جہاں انہوں نے دونوں طرف کے مقتولین کی تعداد بیان کی ہے کہ حسینی قافلے کہ 72 قتل ہوے اور ان میں اکثر و بیشتر جنگجو نہ تھے اور فوجی دستہ کے جنگ آزمودہ سپاہی 88 مارے گیے .گویا 16 آدمی زیادہ کٹوانے کے بعد بھی وہ حضرت حسین کی جان نہ بچا سکے اور پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے.
پھر انہوں نے حضرت حسین کے اہل خاندان کو ان کی بیبیوں کو ان کی کنیزوں اور دوسری ہاشمی خواتین کو عزت اور حرمت کے ساتھ پردہ دار محملوں والے اونٹوں پر سوار کرا کے روانہ کیا .قدیم ترین مورخ (صاحب اخبار الطوال ) لکھتے ہیں کہ
اور عمر بن سعد نے حکم دیا کہ حسین کی بیبیوں ، بہنوں اور کنینوں کو اور خاندان کی دیگر خواتین کو پردہ دار محملوں میں اونٹوں پر سوار کرا کے لے جایا جاۓ .
صفہ 270 سطر نمبر 11 اخبار الطوال .
ولندیزی محقق دے خوے نے صحیح کہا ہے کہ جب اس حادثہ نے افسانے اور داستان کی شکل اختیار کر لی تو ابن سعد کو بھی قاتل کہا جانے لگا اسی غرض سے یہ چند امور پیش کے گیے کہ یہ راوی قتل حسین پر ان کا دکھ کیسے بیان کرتے ہیں کہ زار و قطار رونے لگے کہ داڑھی آنسوؤں سے تر ہو گئی اور خواتین اور پس مندگان کو عزت اور حرمت کے ساتھ کس طرح سوار کرا کے بھیجا اور دوسری طرف کیسے وحشیانہ مظالم کا تقشہ کھنچتے ہیں، لیکن اگر ان منازل اور مسافت اور روانگی کی صحیح تاریخ اور مکہ سے کربلا کا فاصلہ اور محل وقوع وغیرہ کے بارے میں مستند حوالہ جات کتب جغرافیہ و بلدان میں سے جو پیش کیے گیے ہیں ان کو سامنے رکھا جاۓ تو یہ سب من گھڑت روایات اور اختراعی اور مبالغہ آمیز قصوں کا پول آپ ہی آپ کھل جاتا ہے اور عمر بن سعد کا کردار ویسا ہی بے داغ ثابت ہوتا ہے . 
پچھلی پوسٹوں میں یہ چارٹ یعنی مکہ سے کربلا کا فاصلہ ، منازل اور مراحل ان کے نام اور کیفیت کے ساتھ پوسٹ کیا جا چکا ہے اور اسے بہت سے لوگوں نے شیئر بھی کیا ہے۔


 



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

شیطان نامہ - قسط نمبر 39-آخری قسط واقعہ کربلا


عبید الله بن زیاد گورنر کوفہ جو کچھ بھی کر رہے تھے وہ امن عامہ کے تحفظ کی خاطر تھا اور امیر المومنین کے حکم سے اپنے فرائض انجام دے رہے تھے حضرت حسین کی ذات یا خاندان سے انہیں کوئی ذاتی پرخاش یا بغض و عداوت نہیں تھی اور وہ تو اس باپ کے بیٹے تھے جو حضرت علی کے خاص وفا دار اور حمایتی رہے تھے اور ان کی شہادت کے بعد بھی عرصۂ دراز تک انہی کے نام لیوا رہے ۔
ابن زیاد کی نیک نیتی کا ثبوت تو انہی راویوں کے بیان سے ملتا ہے کہ اگر ان کو حسین کی ذات سے ذرا بھی دشمنی ہوتی تو مسلم بن عقیل کا آخری خط اور وصیت عمر بن سعد جو کہ سپہ سالار تھے ان کے ہاتھوں بھیجنے کی اجازت ہی نہ دیتے جس میں مسلم بن عقیل کے قرض کی ادائیگی کے لئے بھی کہا گیا تھا علاوہ ازیں امیر یزید کے فرمان میں صاف ہدایت تھی کہ جنگ و جدل میں اپنی طرف سے پہل نہ کریں اور اس وقت تک تلوار نہ اٹھائیں جب تک کہ ان کے خلاف تلوار نہ اٹھائی جاۓ.( ان تمام کا ذکر حوالہ جات کے ساتھ پچھلی اقساط میں ہو چکا ہے .) 
اور ابن زیاد امیر یزید کے حکم کے خلاف کس طرح عمل کر سکتے تھے . اور حسینی قافلے کا اس جگہ پہنچنے سے پہلے ہی کہنا کے ان کا پانی بند کر دو عجیب سی لگتی بات ہے . اتنی لمبی مسافت طےکر کے اور دشوار گزار مراحل سے گزر کر جب کہ عورتیں اور بچے بھی ساتھ ہوں وقوعہ سے ایک دن تو کیا وقوعہ کے ہفتہ بعد بھی جب پہنچ جانا نا ممکن لگتا ہے تو پانی بند کرنے اور ان وحشیانہ مظالم کی داستانیں تو محظ اپنی ذہنیت کے تحت ہی گھڑی گئی ہیں ( ان تمام منازل اور مراحل کا چارٹ بمعہ فاصلہ اور رفتار ہم پہلے ہی پوسٹ کر چکے ہیں )اور اتنے لمبے سفر کے بعد کس میں ہمت ہوتی ہے کہ اتنے مظالم برداشت کر سکے اور اس شان سے جنگ و جدل کرے .
خود ابو محنف کے بیان سے ہی ثابت ہے کہ ابن سعد اور حضرت حسین میں تین چار ملاقاتیں ہوئیں (صفحہ 225 جلد 6 طبری) اور ان ملاقاتوں کے نتیجے میں اس خط کا ابن زیاد کے پاس بھیجا جانا بتایا گیا ہے جس کے ابتدائی الفاظ یہ ہیں .

خدا نے آتش جنگ (یعنی اختلافات )کو بجھا دیا اور اتحاد و اتفاق پیدا کر دیا اور امت کی اس میں بہتری چاہی- (صفحہ 235 جلد 6 طبری )
اس کے بعد وہ تین شرطیں بھی لکھی ہیں جن کا ذکر گزشتہ اوراق میں آ چکا ہے راویوں کا یہاں تک بیان ہے کہ خط پڑھ کر ابن زیاد کے منہ سے یہ الفاظ نکلے.
یہ خط ایک ایسے شخص نے لکھا ہے جو اپنے امیر کا صحیح مشیر ہے اور اپنی قوم کا مشفق ہے ہاں تو میں نے قبول کیا (صفحہ 236 جلد 6 طبری)
راویوں کے اس بیان سے کیا یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ حکومت کے یہ دونوں افسر (گورنر اور سپہ سالار ) اس مسئلہ کو خون ریزی کی بجائے صلح اور امن و آشتی سے نمٹانا چاہتے تھے .
حکومت کو ہر چیز منظور تھی اور حضرت حسین کی پہلی ہی شرط کہ مجھے واپس جانے دیا جائے اس پر بھی کوئی اعتراض نہ تھا مگر حسین کے ساتھیوں میں سے دو قوتیں ان کہ ارادے میں حائل اور رکاوٹ تھیں .
ایک تو برادران مسلم بن عقیل کا تہیہ کہ وہ اپنے مقتول بھائی کا انتقام لے کر رہیں گے چاہے اس میں اپنی بھی جانیں دے دینی پڑیں-
دوسرے وہ کوفی اور سبائی جو مکہ سے حسین قافلے کے ساتھ آ رہے تھے اور صلح ہو جانے سے ان کا مشن پوری طرح ناکام ہو گیا تھا اور ان کی پوزیشن حد درجہ خراب ہو چکی تھی- وہ اپنی خیریت اسی میں سمجھتے تھے کہ صلح نہ ہونے پاۓ کیونکہ ان کے لئے کوئی اور صورت بچت کی تھی ہی نہیں کہ کوفہ جاتے ہیں تو کیفر کردار تک پہنچتے ہیں دمشق کا رخ کرتے ہیں بغاوت کے جرم میں مارے جاتے ہیں ۔
 اور وہ یہ بھی جانتے تھے حضرت حسین کا تو بال بھی بیکا نہ ہو گا کیونکہ وہ یزید اور حسین کی قریبی رشتہ داری اور درینہ تعلق اور اس چیز سے بھی آگاہ تھے کہ حسین کچھ بھی کر لیں یزید کے دل سے نواسہ رسول کا احترام نہیں نکل سکتا ( اور حسین کو بھی اس بات کا علم تھا ) اور حسین صاف بچ جائیں گے .اور انہوں نے وہی کیا جو ان کے بڑوں نے کیا تھا اپنے پیش رو سبائیوں کی تقلید کی جنہوں نے حضرت علی اور طلحہ اور زبیر میں مصالحت ہوتے دیکھ کر کیا تھا یعنی آتش جنگ مشتعل کرا دی.
جیسا پہلے اوراق میں ذکر ہو چکا ہے کہ جنگ جمل تو ان ہی سبائیوں کی ریشہ دوانیوں کے نتیجہ میں ہوئی تھی چنانچہ ان کوفیوں کی ساری کوشش اب اس بات پر تھی کہ حضرت حسین اپنے سابقہ موقف پر قاتم رہیں اور صلح و مفاہمت کو سبوتاژ کر دیا جاۓ
خود ابو محنف ہی کی روایت ہے کہ کوفیوں نے جن میں اب چار نووارد کوفی بھی شامل ہو گئے تھے ۔
حضرت حسین کو یہ ترغیب دینی شروع کی کہ کوہستان (آجا و سلمہ ) پر چل کر ڈیرے ڈالیں ، "بنی طے" کے بیس ہزار سوار اور پیادے بہت جلد آپ کی مدد کو وہاں پہنچ جائیں گے اور اپنے بڑوں کے قصے بیان کرنے شروع کر دیے ہم لوگ شاہان غسان اور حمیرا اور نعمان بن مندر سے جن کی حکومت حیره اور اس کے نواح میں تھی ان ہی پہاڑوں میں پناہ لی اور محفوظ رہے تھے ۔
حکومت وقت کو حضرت حسین کے ساتھیوں کے ان عزائم کا حال معلوم ہوا کہ یہ گروہ اس حالت میں بھی جب کے ان کا سارا پلان اور منصوبہ خاک میں مل چکا ہے حضرت حسین کو تحریص اور ترغیب دینے سے باز نہیں آ رہے تو ضروری سمجھا گیا کہ ان لوگوں کی ریشہ دوانیوں کا خاتمہ ہی کر دیا جاۓ اور مسئلہ کو آئینی شکل دے دی جاۓ یعنی عمر بن سعد کی ملاقاتوں کے نتیجے میں جب حضرت حسین آمادہ ہو گئے ہیں کہ امیر یزید سے بیعت کر لیں گے تو ان سے مطالبہ کریں کہ وہ ہتھیار ڈال دیں اور دمشق لے جانے سے پہلے امیر یزید کے نماندے عبید الله بن زیاد کے ہاتھ پر یہیں بیعت کریں۔

اور اس میں کوئی خلاف شریعت بات نہیں تھی تمام مملکت اسلامی میں ہر خاص و عام نے اور صحابہ اکرام جیسی بلند و بالا ہستیوں نے اسی طریقے اپنے اپنے عاملان حکومت کے ہاتھ پر امیر یزید کی بیعت کی تھی ، کہا جاتا ہے حضرت حسین نے اس طرح بیعت کرنے اور حاکم کوفہ ابن زیاد کا حکم ماننے سے یہ فرما کر انکار کر دیا کہ تم جیسے شخص کے ہاتھ پر بیعت کرنے سے تو موت بہتر ہے۔
 حضرت حسین کا یہ قول اگر درست نقل ہوا ہے تو انتہائی حیرت کی بات ہے کیونکہ آئینی حیثیت سے نمائندے کی حیثیت ذاتی نہیں رہتی اور امیر کوفہ کے ہاتھ پر بیعت کرنا خود امیر المومنین کے ہاتھ پر بیعت کرنے کے برابر تھا ۔
آپ کے انکار پر دوسرا مطالبہ احتیاط کی خاطر یہ کیا گیا کہ تمام ہتھیار اور آلات حرب جو حسینی قافلہ کے پاس موجود ہیں حکومت کے حوالے کر دیں تا کہ اس خطرے کا سد باب ہو جاۓ جو ان کوفیوں کی ترغیب سے پیدا ہوا تھا اور ایسا نہ ہو کہ دمشق جانے کے بارے میں اپنی رائے پھر اسی طرح تبدیل نہ کر لیں جس طرح ایک دفعہ آپ پہلے بھی کر چکے تھے ۔

جب حضرت حسین مدینہ میں تھے تو عامل مدینہ سے فرمایا تھا کہ جب صبح بیعت عامہ کے لئے لوگوں کو بلانا تو ہم بھی موجود ہوں گے مگر حضرت ابن زبیر سے گفتگو کے بعد آپ اور وہ دونوں رات ہی میں مکہ منورہ روانہ ہو گئے تھے .

مسلم بن عقیل کے بھائیوں کو حکام کوفہ کے اس مطالبے نے کہ ہتھیار حکومت کے حوالے کر دیں بہت زیادہ مشتعل کر دیا نیز ان کوفیوں کو جو حسینی قافلہ میں شامل تھے اور جنھیں صلح میں اپنی موت نظر آ رہی تھی یہ موقعہ ہاتھ آ گیا انہوں نے اپنے بڑوں اور پیش روؤں کی تقلید کرتے ہوے کہ جنہوں نے جمل کی، ہوتی ہوئی صلح کو جنگ میں تبدیل کر دیا تھا اس اشتعال کو اس شدت سے بھڑکا دیا کہ انتہائی نا عاقبت اندیشی سے فوجی دستہ کے سپاہیوں پر قاتلانہ حملہ کر دیا جو ہتھیار رکھوانے کی غرض سے گھیرا ڈالے ہوے تھے اور یہ حملہ انتہائی غیر متوقیہ اور اچانک کیا گیا تھا .

انسائیکلو پیڈیا آف اسلام (صفہ 1162) کے مقالہ نویس لکھتے ہیں کہ
گورنر کوفہ عبید الله بن زیاد کو یزید نے حکم دیا کہ حسین قافلہ کے ہتھیار لینے کی تدبیر کرے اور صوبہ عراق میں ان کے داخل ہونے اور جھگڑا و انتشار پھیلانے سے باز رکھیں .کوفہ کے شیعان علی میں سے کوئی مدد کے لئے کھڑا نہ ہوا اور حسین اور ان کے مٹھی بھر ساتھیوں نے اپنے سے بدرجہا طاقتور فوجی دستہ پر جو ان سے ہتھیار رکھوانے کے لئے بھیجا گیا تھا غیر نا عاقبت اندیشانہ طور پر قاتلانہ حملہ کر دیا
  



٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

 

 قسط نمبر 38  ٭٭٭٭-ابتداء ِ  شیطان نامہ-٭٭٭٭ -قسط نمبر  40 

اتوار، 9 اکتوبر، 2016

پانچواں احمق

اکبر بادشاہ کو اپنے نو رتنوں کو تنگ کرنے کa شوق تھا وہ اُن سے مشکل بجھارتیں حل کرواتا، چنانچہ ایک دن اکبر بادشاہ نے بیربل کو کہا کہ اس کی مملکت میں سے پانچ احمق ترین لوگوں کو ایک مہینے میں تلاش کرکے اس کے حضور پیش کیا جائے۔

ایک مہینے کی جدوجہد کے بعد بیربل نے صرف دو احمقوں کو پیش کیا۔

اکبر نے ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس نے تو پانچ احمقوں کو پیش کرنے کا کہا تھا۔

بیربل نے کہا کہ مہاراج، مجھے ایک ایک کرکے احمقوں کو پیش کرنے کی اجازت دی جائے۔

بیربل نے پہلا احمق پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بڑا احمق اسلیے ہےکہ بیل گاڑی میں سوار ہونے کے باوجود اس نے سامان اپنے سر اٹھایا ہوا تھا۔

دوسرے احمق کو پیش کرتے ہوئے کہا کہ اس شخص کے گھر کی چھت پر بیج پڑے تهے، ان بیجوں کی وجہ چهت پر گھاس اگ آئی، یہ شخص اپنے بیل کو لکڑی کی سیڑھی سے چھت پر لے جانے کی کوشش کر رہا تھا کہ بیل چھت پر چڑھ کر گھاس چر لے۔

بیربل نے کہا مہاراج، بطور وزیر مجھے اہم امور سلطنت چلانے تهے، مگر میں نے ایک مہینے ضائع کیا اور صرف دو احمق تلاش کئے ، اسلئے تیسرا احمق وہ خود ہے۔

بیربل نے ذرا سا توقف کیا، تو اکبر چلایا کہ چھوتا احمق کون ہے۔

بیربل نے عرض کیا کہ مہاراج، جان کی امان پاؤں تو عرض کروں۔

اس نے کہا کہ مہاراج، آپ بادشاہ وقت ہیں اور تمام رعایا اور سلطنت کے امور چلانے کے ذمہ دار ہیں۔ مگر قابل ترین اور اہل افراد کو تلاش کرنے کی بجائے آپ نے احمق ترین لوگوں کو تلاش کرنے میں نہ صرف اپنا وقت برباد کیا بلکہ ایک اہم وزیر کا وقت برباد کیا، لہٰذا چوتھے احمق آپ ہیں۔

مہاراج، پانچواں احمق یہ شخص ھے. جو کہ whatsapp سے چمٹا ہوا ہے، یہ داستان پڑھ رہا ہے اور اپنے دفتری فرائض اور خاندانی امور سے لاپرواہی برت رہا ہے اور اپنا قیمتی وقت ضائع ہونے کا احساس تک نہیں کر رہا ہے ۔ 

اکبر نے فوراً حکم دیا کہ اس کو جلد از جلد شیر کرو .کیونکہ بہت سارے احمق ترین لوگ ایسی پوسٹوں کا شدت سے انتظار کر رہے ہیں۔

انصاف زندہ باد

مظہر حسین کا تعلق اسلام آباد کے نواہی علاقے سہالہ سے تھا۔
1997 میں ہونے والے ایک قتل کا الزام مظہر حسین پر لگا۔ پولیس نے اپنی خانہ پُری کی اور مظہر حسین کو علاقہ مجسٹریٹ کے روبرو پیش کردیا۔ بچارے مظہر حسین کے پاس اتنی رقم بھی نہیں تھی کہ کوئی اعلیٰ پائے کے وکیل کی فیس ادا کرکے انصاف خرید لیتا۔ اور مجسٹریٹ صاحب کے پاس کہاں اتنا وقت تھا کہ وہ کیس کی طے تک پہنچنے کی کوشش کرتے۔ اُس نے ایف آئی آر کے مدرجات اور تفتیشی کی لکھی ضمنیوں کو حرف آخر قرار دیا۔ یوں مظہر حسین کو سزائے موت سُنا دی گئی۔ علاقہ مجسٹریٹ کی عدالت سے جاری ہونے والا حکم سیشن جج اور ہائیکورٹ میں بھی تبدیل نہ ہو سکا۔ کئی سال سے سپریم کورٹ میں بھی چلتا رہا۔ لیکن اس دوران کیس کی پیروی کرنے والا مظہر حسین کا والد دار فانی سے کوچ کر گیا۔ صعیف ماں آنسو بہا بہا کر آنکھوں سے محروم ہو گئی۔ چھوٹے بہن بھائی جنہیں نوجوانی میں چھوڑ کر جیل میں جا بسا تھا، اُن کے بچے جوان ہو چکے تھے، اس کے اپنے ننھے منے بچوں کی شادیاں ہو چکی تھیں۔
خیر معلوم نہیں کہ سپریم کورٹ کے کسی جج نے دلچسبی لی، یا مظہر حسین کے وکیل نے ایمانداری دیکھائی۔ لیکن بلآخر کل 20 سال بعد پاکستان کی سب سے بڑی عدالت نے اُسے بے گناہ قرار دے کر رہا کرنے کا حکم جاری کر دیا۔ لیکن حیرت انگیز بات یہ ہوئی کہ عدالت عظمیٰ یہ حکم ملنے پر مظہر حسین کے گھر خوشیوں کے شادیانے بجنے کے جگہ آہ و بقا مچ گئی۔
وجہ یہ تھی کہ عدالت کا فیصلہ آنے سے دو سال پہلے مظہر حسین انصاف کی امید سے مایوس ہو کر دنیا چھوڑ چکا تھا۔
سمجھ نہیں آتا کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کا کتبہ بنا کر مظہر حسین کی قبر پر لگایا جائے۔ یا اس کتبے کو ہر عدالت کی پیشانی پر چپساں کیا جائے۔
  اخبار کی ایک کترن !

ہفتہ، 8 اکتوبر، 2016

بچوں کا جنسی استحصال اور بچاؤ - 1

جب سے فیس بُک وجود میں آئی ہے اور اِس کا پاکستان میں استعمال بڑھا ہے ، دوستی کے دائرے کی وسعت کو  آپ کے لیپ ٹاپ یا کمپیوٹر نے اپنی سکرین تک محدود کر دیا ،  جہاں نہ صرف آپ کے پرانے دوستوں سے رابطے بحال ہوئے ہیں
بلکہ نئی دوستوں کا بھی اضافہ ہوا ہے ، جن میں ہم خیال ، ہم مسلک ، ہم پیشہ ، ہم کھیل اور دیگر ہمہ جہت انسانوں سے رابطے بڑھے ہیں ، 
آپ کو ہر طرح کے مضامین اور تصاویر دیکھنے کا موقع ملتا ہے ۔ یہاں تک کہ انسانی حجلہءِ خلوت بھی آپ کی سکرین پر اپنی پوری شیطانیت کے ساتھ موجود ہے ۔ انسانی جبلّت ہے کہ اُس میں بُرائی کی راہ پر چلنے نہ سہی بلکہ نظر مارنے کی پوری علّت موجود ہے ، ہر وہ انسان جو انٹرنیٹ سے منسلک ہے، وہ اِس بات کا دعویٰ نہیں کر سکتا کہ کہ وہ ایسی قباحتوں سے مبرّا ہے ۔
یہاں تک کہ موبائل پر بھی یہ انسانی جبلّت و علّت اپنی پوری حشر سامانیوں کے ساتھ جلوہ فگن ہے ۔ 
یورپی معاشرہ جہاں یہ جبلّت و علّت صدیوں پہلے تخلیق ہوئی آج بھی اُسی شدّت سے موجود ہے ، وہاں سامانِ جنسِ حقیقی کی فراوانی کے باوجود سامانِ جنسِ مصنوعی بھی وافر مقدار میں دستیاب ہیں ۔
ایسا کیوں ہے ؟
سائیکالوجسٹ اِس کی کئی وجوھات بتاتے ہیں ۔ لیکن سب سے بڑی وجہ خود انسانی ذات اور اُس کے ارد گرد کا ماحول ہے ۔
ایک بچہ جس طرح کے ماحول میں پروان چڑھتا ہے وہی اُس کے ذہن کے گوشوں میں ثبت ہوتا جاتا ہے ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ،کہ میرے بچپن میں بلکہ آٹھویں کلاس تک مائیں بچّے ہسپتالوں میں نام لکھوا کر لاتی تھیں، مرد اورعورت کا واحد تعلّق تھا کہ وہ یا تو ماں باپ ہیں ، یا ماموں ممانی ، چچا چاچی ، خالہ خالو اور یا بہن بھائی ۔ باقی گالیوں کے رشتے ہوتے تھے، جو گلیوں اور محلوں میں بڑی فصاحت و بلاغت سے جوڑے جاتے تھے، وہ جنسی کرداروں کے گرد ہی گھومتے تھے۔ جس میں مردانہ کردار " گانڈو" کا زیادہ استعمال ہوتا تھا۔
لیکن جہاں کہیں ، کسی کی بہن کو "یہی گالی" دی تو وہاں کمزور سے کمزور بچہ ، گالی دینے والے پر حملہ کرتا اور دوسرے بچے اُس کا ساتھ دیتے ۔ کیوں کہ بہن کا تقدّس سب کے لئے محترم تھا بلکہ دیہاتوں میں اب بھی ہے ۔
آٹھویں کلاس کا واقع ہے ، اردو کا پیریڈ تھا ، آغاجان خان غلام سرور افغان ، کاپیاں چیک کر رہے تھے، کلاس میں سوئی گرنے کی آواز سُنی جا سکتی تھی ، ایک لڑکا " نجیب الحسن " کھڑا ہو کر اُونچی آواز کتاب پڑھ رھا تھا ۔ کیوں کہ وہ آغاجان کے عین سامنے کھڑا تھا لہذا میں اور انور لطیف ، آغاجان کی نظروں سے اُوجھل تھے ۔
انور نے مجھے کُہنی ماری ، اور کتاب کی طرف اشارہ کیا، ترچھی نظروں سے دیکھا ، کیوں کہ چھ فٹ لمبے اور 100 کلو سے زیادہ وزنی، ہمارے چار ہاتھوں کو ملا کرآغاجان کا ایک ہاتھ، جب پڑتا تو بلا شبہ چودہ طبق روشن ہوجاتے اور کافی دیر تک روشن رہتے، مجھے یہ سعادت کبھی حاصل نہیں ہوئی ، کہ اردو میرے گھر کی لونڈی تھی۔
بہرحال صفحہ پر نظر پڑی چند لائینیں پڑھیں ۔ دماغ بھن بھن کرنے لگا ،کچھ سمجھ نہیں آیا کہ اردو کی کتاب میں یہ کیا لکھا ہے۔ پھر دیکھا تو وہ ایک صفحہ تھا جسے انور نے چھپایا ہوا تھا اُس نے کتاب بند کی اور وہی صفحہ نکال لیا جو نجیب پڑھ رہا تھا ۔
" تمھیں شرم نہیں آتی ، ایسی چیزیں پڑھتے ہو؟" میں نیچی آواز میں بولا ۔
" کس بات کی شرم، ہمارے ماں باپ بھی یہی کام کرتے ہیں " انور بولا ۔
" چٹاخ " کمرے میں آواز گونجی، میرا بائیں ہاتھ کا تھپڑ انور کے منہ پر پڑا ، کلاس میں بھونچال آگیا ۔
" کون ہے یہ ؟ " آغاجان کی آواز گونجی
میں آہستہ آہستہ کھڑا ہوا ۔
" تم آغا جان " حیرانگی سے بولے ۔
اُس کے بعد کیا ہوا ، بتانے کی ضرورت نہیں ، لیکن یہ نغمہ بعد میں لکھا گیا ، مگر اِس کی بازگشت اُس وقت بھی سنائی دیتی تھی ۔

ہم تم ہوں گے تھپڑا ہوگا
رقص میں سارا کمرہ ہوگا



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔