میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 29 نومبر، 2016

آرمی چیف ، میڈیا اور عوام

معلوم نہیں پرویز مشرف کے دماغ میں کیا سوچ سمائی کہ اُس نے پاکستانی عوام پر ایک آسیب ، آزاد میڈیا کے نام پر سوار کردیا ۔
اور میڈیا بھی ایسا ، کہ جس کا کام تانک جھانک کے علاوہ کچھ نہیں ، رائی کا پہاڑ بنانے کا ماہر اور ہمالیہ کو ریت کاٹیلہ دکھانے کا مشتاق ۔
جنوری 2016 سے پہلے میڈیا نے ایک نیا بغچہ کھولا اوروہ تھا چیف آف آرمی سٹاف کی بھووں سے پاکستان کے مستقبل کے حالات کی پیشین گوئی کرنا ۔
ایسی ایسی پیشین گوئیاں سننے میں آئیں کہ پاکستانی عوام پریشان ہوگئے ، کہ کیا پھر اُن کے ووٹ کی قربانی مارشل لاء کے چبوترے پر ہوجائے گی ۔
کہتے ہیں کہ جھوٹ کا غبار بڑا دلفریب اور دلکش ہوتا ہے ۔ جواپنے جلو میں بے شمار بگولوں کے ساتھ رقص کرتا رہتا ہے ۔
جس کے جواب میں راحیل شریف کو اعلان کرنا پڑا کہ 29 نومبر 2016 کو وہ وردی اتار کر اپنے گھر میں آرام کرنا چاھتے ہیں ۔
لیکن اِس کے باوجود ، میڈیا کے جواری باز نہ آئے ، اِس امید پر پانسے پھینکتے کہ شائد قسمت اُن کی یاوری کرے اور وہ پاکستان کے اُفق پر عظیم دوربین کہ صورت میں پہچانے جائیں ۔  
ہمارے ہاں سنسنی خیزی خبر میں نہیں بلکہ اُس کی لیک میں ہوتی ہے ۔ جو ایک بھونچال لے آتی ہےاور مدھانیاں رڑکنے کا اتنا شور اٹھتا ہے کہ اللہ کی پناہ
ویسے لیکس سے ، بریکنگ نیوز کے عادی میڈیا کی کچھ تو تشفی ہو جاتی۔
لہک لہک کر ،
آنکھیں مٹکا مٹکا کر،
الفاظ چبا چبا کر،
لیکس سے متعارف کروایا جاتا ہے ۔

مبصرین ، ہر لیکس کی کھال اتارتے ہیں ،
ماہرین اُس کا جوتا بناتے ہیں ،
پھر اینکر کیا ، نیوز ریڈر کیا ، اُسے چمکا چمکا کر ہر دو منٹ بعد ناظرین کے سر پر برساتے ہیں ۔
کہا جاتا ہے ، کہ فوجی سپہ سالار بنانے کے لئے اُس کی خوبیاں نہیں بلکہ خامیاں تلاش کی جاتی ہیں ، اور جو اِس چھلنی سے گذر جاتا ہے ، وہی کامیاب ہوتا ہے ۔ اپنی 37 سالہ طویل فوجی زندگی میں سپہ سالاری کے امیدوار، لاکھوں نہیں تو ہزاروں نشیب و فراز سے گذرتے  ہیں ۔
کامیاب وہی ہوتا ہے کہ جس میں کم سے کم خامیاں ہوں ، فوجی سپہ سالار ، سیاسی عہدہ نہیں ہوتا بلکہ ایک خالصتاً پیشہ ورانہ منصب ہوتا ہے ، جس کے کندھوں پر آئین پاکستان کے اندر رہتے ہوئے ، نہایت سخت ذمہ داریاں ہوتی ہیں ، جن کو نبھانا آسان کام نہیں ۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے ، کہ لوگ سوال کرتے ، کہ فوجی کیا کرتے ہیں؟  سوائے سلیوٹ لینے یا دینے اور پریڈ کرنے کے علاوہ !
وہ یہ بھول جاتے ، کہ ہر آسمانی آفت میں فوج کی مدد سے ہی وہ مشکلات پر قابو پاتے ہیں ۔

یہاں تک کہ موجودہ سیاسی نظام میں ، عوام کے ووٹوں ( اصلی یا جعلی ) سے منتخب ہونے والی  ، حزبِ اقتدار کو ،  " حذبِ مخالف  "  آسمانی آفت ہی سمجھتا ہے اور فوج کو مدد کے لئے اشارے اور کنائیوں میں پکارتا رہتا ہے ۔
کبھی  ایمپائر کی انگلی کھڑی کرواتا ہے ۔ اور
کبھی  دارالحکومت  پر یلغار کا سوچتا ہے جیسے ، ماضی کے  امیر دلیّ کی حکومت پر کیا کرتے ،یا عوام کو چی گوئیرا کی مثالیں دیتا ہے  اور خود کو فیڈل کاسترو  "گردن واتا   " ہے ۔
جب ہم فوج میں تھے تو ہر دوسرا ملنے والا ، کہتا :
کیا تم لوگ سو رہے ہو ؟
مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے !
رشوت کے ریٹس آسمان پر پہنچ گئے ہیں ۔
عوام بلبلا کر دعائیں مانگ رہی ہے ،
" یا اللہ ہمیں اٹھا لے  یا مارشل لاء  لگوادے "
کپڑے کی جس دکان پر  جاؤ ، کوچہ گلی یا باڑہ بازار سے دُگنا مہنگا ۔
گاجریں ، کوٹ  لکپت میں 5 روپے  دھڑی  (1989)  اور  ہمارے والٹن  سٹیشن کے سامنے ریہڑی والا  5 روپے کلّو بیچے  اور دعائیں کرے   ، حکومت کی تباہی کی ۔
ماضی میں جب ، سندھ اسمبلی نے  ، پیپلز پارٹی کے سپریم جیالے  کی شہ پر چال چلی ، تو کے پی کے اسمبلی  بھی انگڑائی لے کر بیدار ہوئی اور بلوچستان اسمبلی نے  بھی کروٹ لی ۔ آٹھ سالا  کر وفر سے گذارنے کے بعد  آخری مارشل لائی حکومت کو  گارڈ آف آنر دے کر رخصت کیا ۔
تین سال تک  سپہ سالار کی طرف ترچھی نظروں  سے دیکھنے والے   ، حیرانگی سے پلکیں جھپکانے لگے جب اُنہوں نے مزید تین سال  سپہ سالاری کی نوید سنی ۔
میڈیا  نے شور و غوغا سے آسمان سر پر اٹھا لیا ۔
بِک گیا ۔
پہلے ہی سے بِکا ہوا تھا -
ملک  میں رشوت کے ریٹس 10 فیصد سے 100 فیصد ہوگئے ہیں ، اِس کو کیا ہوا ؟
یوں لگتا تھا ، کہ سپہ سالار اور اُس کی ٹیم کا فرض ہے کہ وہ ایف آئی اے کے   ہرآفس ، ہر پولیس ناکے ،  نیب ، تعلیم ، واپڈا ، سوئی گیس، ٹیلیفون   ، بندرگا ہ ، ائرپورٹ  اور ہر وہ جگہ  جہاں  سے " لوٹ لیا لوٹ لیا " کی آوازیں آئیں اپنے دستے تعینات کرے ۔
کیوں کہ فوج میں ، آسمان سے نازل ہونے والے  ، ولی بھرتی ہوتے ہیں ، جب بھرتی ہوئے تو  اُس کے بعد ، سویلئین سے اُن کا رابطہ بالکل ختم  ،  ساری زندگی بیرکوں یا جنگلوں میں گذارتے ہیں بالکل ایسی ہے جیسے سیاست دانوں کی اولاد ، جو باہر اپنیی زندگی گذار کر جب اپنے ملک آتی ہے تو  اُنہیں  وہ گلیاں گندی نظر آتی ہیں ، جس میں اُن کے باپ اور دادا نے ، بارہ گوٹی ، ڈبیاں ، بنٹے اور گلی ڈنڈا کھیل کر اپنا وقت گذارا ، نزدیکی گروانڈمیں بارش کے دوران  اکھٹے ہونے والے پانی میں تیراکی کا لطف اٹھایا ۔
تو جب  چھ سالہ دور گذار کر سپہ سالار  گیا تو  ہر وہ شخص ہاتھ میں پتھر لے کر کھڑا ہوگیا ، جس کے اپنے  ہاتھ مٹی میں لتھڑے تھے ۔
پھر معلوم ہوا ،  ارے اِس فوجی کے تو بھائی بھی تھے اور بہنوئی بھی جنھہوں نے پاکستان کے سب سے بڑے چور  سے مل کر    ہوئی قلعے فروخت کئے  اور پاکستان  ، ارے  پاکستان  نہیں عوام کو لوٹا اور عوام بھی کون سے  ؟
لالچی اور بے وقوف !
نیا سپہ سالار کیا  آیا ،  لوگوں کی رال ٹپک پڑی ، پرانے کارتوسوں میں بارود ڈال کر چلانے کی کوشش شروع ہو گئی ۔  یہ سنتے ہی ہی کینیڈین شہری جو انگلینڈیئے کی طرح کشکول کے ذریعے   امراء و روساء کی صف میں شامل ہوا  ۔ نے اسلام آباد میں دھرنے لگا دئیے ۔
تمام نو دولتیئے ، مما اور ڈیڈی  کے پالے ہوئے ، رنگین کپڑے پہنے سڑکوں پر مٹک مٹک کر حکومت کو بدعائیں دینے لگے ۔
جن  کی بغل  میں ، برقعاؤں میں ملبوس دیہاڑی دار دوشیزائیں و مشکیزائیں ، ٹخنوں سے اوپر شلوار ، بے ہنگم داڑھیوں والے   بھی اسلامی ڈانس  کے جلترنگ بکھیرنے لگے  ، اور پھر  جب دیکھا کہ ایمپائر کی انگلی نہیں اٹھی  تو  اِن پڑھی لکھی ایلیٹ کلاس  اور معصوم ، پارسا  قادری دین پر گامزن  پیروکاروں نے  ، پورس کے رتھ سمیت پارلیمنٹ کی بلڈنگ پر دھاوا بولنا شروع کیا ۔
عدالتِ عظمیٰ کپڑے دھونے کا گھاٹ بن گئی ۔
جہاں پولیس والا نظر آیا ، اُس کو پنجاروں کی طرح ایسا دُھنا   ، کہ وہ اب ساری عمر روئی کی طرح پلپلا رہے گا ۔
مزے کی بات ، نمک مرچ  بمع شکر چھڑک  کر میڈیا  کے زنخوں اور قلمی طوائفوں نے سونامی کو اتنا بلند کیا کہ وہ آکاش تک خبر لانے لگا ۔
سپہ سالا ر  نے پُچ پُچ کیا -
تو ماڈرن ڈسکو اسلامی انقلاب کی ، نوید سنا کر  دونوں گداگر ، نعرہ مار کر  راولپنڈی گالف گراونڈ کے پاس مہمان خانے میں پہنچے  ، جہاں انہیں گرم گرم کافی پلائی گئی اور باہر میڈیا انقلاب  کے طوفان کی خوشخبری دے چکا تھا ۔ 
 طوفان تو نہ آیا ، کیوں ؟
میری رائے میں ،طوفان لانے والوں  کی ، قوتِ مردانگی کی کمی کا شکار ہوا ، جنہوں نے   چلے ہوئے کارتوسوں کو آزمانے کی کوشش کی ۔
انہیں نہیں معلوم تھا ، کہ چھ سالہ اقتدار میں رہنے کے بعد جب  سپہ سالار اپنی چھڑی دوسرے سپہ سالار کو دے کر ، رخصت ہوا ، تو  اُس کے پیچھے  بیگ لے کر کھڑا ہونے والا کمانڈو ، دو قدم  لیفٹ مار کر ، نئے آنے والے سپہ سالار کے پیچھے کھڑا ہوگا ۔
تو وہ جو طاقت ور تھا  اُس کی طاقت دوسرے میں سرایت کر گئی ۔
پہلا والا بھی جب  ،
٭ -  اُس چھڑی کو ھلاتا،  تو طاقت کا توازن لرز جاتا ۔
٭ - ابرو کو جنبش دیتا ، تو اُس کی جنبش متضاد المعنی کبھی نہ ہوتی ۔٭ - گردن گھما کر بولنے والے کی طرف دیکھتا ، تو اُس کی زبان لڑکھڑانے لگتی ۔
میڈیا  کے جموندرے ، کیاؤں کیاؤں تو کرتے  لیکن اُن کی غُرّانے کی ہمت نہ ہوتی ، حالانکہ
طاقتور اور فیصلہ کُن شخصیات یا اُن کے بھائیوں اور بیٹوں کو رشوت کے پنجرے میں بند کرنے والا ملک ریاض اُس وقت بھی تھا  ۔
جب اُس نے  انٹلیکچول سٹی کی بے شمار فائلیں ، اے کے ڈی کی شئیرنوازی  کی طرح پاکستان آرمی کے اکثر جرنیلوں اور بیشتر ججوں کو مُفت دی تھیں ۔ جنھوں نے اگلے دن مارکیٹ میں بیچ دیں ۔ جس کے کندھے پر  سابقہ چیف جسٹس کے بیٹے سمیت ، سپہ سالار کے بھائیوں کے علاوہ  محل و فارم ھاؤس والے صدرِ مملکت بھی تھے ۔
اور اب  نیا چیف اور پرانا چیف دونوں کی خوبیوں اور ناکردہ خامیوں کا موازنہ ہوگا ۔
لیکن یہ کیا ۔
پرانا چیف تو سبھی چیفوں کو مات دے گیا ،
نئے چیف کو چھڑی دیتے ہی ، لاہور کی طرف روانہ ہو گیا جہاں اُس کا آبائی گھر ہے ۔






راحیل شریف کا ٹین کا بکس



ٹین کا بکس لے کر 18 نومبر 1974 کو پاکستان ملٹری اکیڈمی کے گیٹ سے داخل ہونے والے ، جنٹل مین  کیڈٹ نمبر 14538 راحیل شریف نے
 29 نومبر 2016 تک فوج کے دوران سروس میں ملنے والے، ایک رہائشی پلاٹ ۔ ایک کمرشل پلاٹ اور ایگریکلچرل زمین ، اپنے ٹین کے بکس سے نکال کر !
مبلغ 8 کروڑ روپے میں بیچ کر، پاکستان آرمی کے شہداء کے فنڈ میں فی سبیل اللہ دے دئے !



ہمارا پیارا میڈیا اور آرمی چیف!

پاکستان کے دیسی میڈیا کا آخری وقت تک بس نہیں چلا کہ خود ہی نئے آرمی چیف کا تقرر کر دے اور اگر ایسا واقعی ممکن ہوتا تو آج چار جرنیل آرمی چیف ہوتے۔
وزیرِ اعظم نے اس بار بھی اتنی ہی احتیاط برتی جیسے جنرل قمر جاوید باجوہ کا نہیں ضیا الدین بٹ کا تقرر کر رہے ہوں۔ آخر وقت تک سادے پانی سے دہی جمانے کی حکمتِ عملی جاری رہی۔

جانے کب ترکمانستان سے واپس آئے، کب ذاتی طور پر فائل لے کر صدر ممنون کے پاس گئے اور پھر کوئی رسمی پریس ریلیز جاری کرنے سے پہلے پہلے خبر لیک ہو گئی۔ تاکہ بریکنگ نیوز کے عادی میڈیا کی کچھ تو تشفی ہو جائے۔
میڈیا کے پاس ککھ ایکسکلوسیو نہ تھا۔ چنانچہ اس طرح کے تبصروں پے گزارا ہو رہا ہے۔

جنرل قمر جاوید باجوہ پروفیشنل سولجر ہیں۔ گویا ان سے پہلے کے سپاہ سالار واپڈا سے ادھار میں مانگے گئے تھے؟
جنرل باجوہ کو کمان اور ایڈمنسٹریشن کا وسیع تجربہ ہے۔ گویا کوئی ایسا سپاہ سالار بھی تھا جسے فوج کی کمان اور ایڈمنسٹریشن کے بجائے اریگیشن کا تجربہ تھا؟
وہ ایک راسخ العقیدہ مسلمان ہیں۔ یعنی کیا پچھلوں کے ایمان کمزور تھے؟
جنرل باجوہ کا تقرر میرٹ پر ہوا ہے۔ تو کیا جنرل راحیل شریف دیہی علاقوں کے کوٹے پر اور جنرل کیانی پرچی پر آئے تھے؟
نئے آرمی چیف غیر سیاسی سوچ رکھتے ہیں۔ اب تک جو 15 سپاہ سالار مقرر ہوئے ان میں سے کچھ تقرری سے پہلے کیا کسی سیاسی تنظیم کے کارڈ ہولڈر بھی رہ چکے تھے؟
جنرل باجوہ چیف کی دوڑ میں ڈارک ہارس تھے۔ اس بات کا اردو ترجمہ شاید یہ ہے کہ وہ میڈیا خواہشات کی فیورٹ امیدواری فہرست سے باہر تھے یا جس اینکر و تجزیہ کار کی پیش گویانہ امیدوں پر ان کی تقرری سے پانی پھر گیا اس کے لیے ڈارک ہارس ہو گئے۔
جب میڈیا کو اندازہ ہو گیا کہ جنرل راحیل شریف کے عہدے کی مدت میں توسیع نہیں ہو رہی، جب یہ افواہ بھی دم توڑ گئی کہ آرمی چیف کے عہدے کی مدت تین برس سے بڑھا کر چار برس کی جا رہی ہے تاکہ راحیل شریف ایک سال اور رہ سکیں، جب اس اندازے نے بھی کھڑکی سے کود کے خود کشی کر لی کہ جنرل صاحب کو ان کی بے پناہ قومی مقبولیت اور شاندار خدمات کے عوض فیلڈ مارشل بنایا جا رہا ہے اور جب یہ امید بھی نوزائیدگی میں مر گئی کہ سعودی عرب نے جنرل شریف کو 34 رکنی مسلمان فوجی اتحاد کا سربراہ بننے کی پیش کش کی ہے اور جب بعض اینکروں نے ٹی وی سکرین سے کود کر جنرل صاحب کے پیر پکڑ کے ’رک جا او جانے والے رک جا‘ گایا اور پھر بھی کوئی چمتکار نہ ہو سکا تو میڈیا پر افسردگی سی چھا گئی مگر ایک آدھ دن کے لیے۔
اور پھر یہ ادھیڑ بن شروع ہو گئی کہ چاروں امیدواروں میں سینیئر کون ہے؟
حالانکہ چاروں کو ایک ساتھ ہی فوج میں کمیشن ملا اور سنیارٹی کا سبب کوئی لاجواب کارکردگی نہین بلکہ پاسنگ آؤٹ سے پہلے دو سالہ پاکستان ملٹری اکیڈمی میں بحیثیت مجموعی کارکردگی کی بنیاد پر، پی اے نمبر تفویض کئے جاتے ہیں ، جو میرٹ میں نمبر ایک سے آخری کیڈٹ تک جاتے ہیں ۔ پہلے نمبر پر پاس آؤٹ ہونے والا، پی اے نمبر کے حساب سے سب سے سینئیر ہوتا ہے ۔  لیکن ایک کورس میں آخری نمبر پر پاس آؤٹ ہونے والا بھی جنٹل مین کیڈٹ کہلاتا ہے۔
لیکن سینیارٹی کا کوئی فرق اگر پیدا ہوا بھی تو بال کی کھال کے برابر تھا پھر بھی اس نکتے پر روزانہ شام سات سے بارہ بجائے جاتے رہے کیونکہ روزنامہ نکالنا یا 24 گھنٹے کا نیوز چینل چلانا مذاق نہیں ہے۔
آپ کا کیا خیال ہے کہ اگلے تین برس کے لیے میڈیا کے تجزیے ختم ہو گئے؟
ارے نہیں صاحب! نئے آرمی چیف سے وزیرِ اعظم کی پہلی ملاقات کی تصویر سے ہی تشریحی دوڑ شروع ہو چکی ہے۔
دونوں کے درمیان حائل میز خالی کیوں تھی؟
کیا نئے سپاہ سالار کے آنے سے پہلے فائلیں دراز میں چھپا دی گئی تھیں؟
کم ازکم ایک خالی صفحہ ہی میز پر رکھ دیتے تاکہ یہ جتا سکتے کہ آج سے ہم دونوں ایک پیج پر ہیں۔
ملاقات کے دوران نواز شریف کا ایک ہاتھ اپنے گھٹنے پر کیوں تھا؟
جنرل باجوہ گود میں رکھی چھڑی دونوں ہاتھوں کی انگلیوں میں بار بار گھما کر وزیرِ اعظم کو کیا ان کہا پیغام دینا چاہ رہے تھے؟
ملاقات میں کیا گفتگو ہوئی؟
تفصیلات میڈیا سے کیوں چھپائی جا رہی ہیں ؟
وغیرہ وغیرہ۔۔۔۔
امید فاضلی کے ایک مشہور شعر میں تحریف کو جی چاہ رہا ہے۔
چیف بنا کر سو مت جانا

سوموار، 28 نومبر، 2016

الفاظ کا جادو !

بچے عموماً شرارتی ہوتے ہیں لیکن بعض بچے بے حد ضدی بھی ہوتے ہیں جن سے کوئی کام کرانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہوتا ہے. 

امریکی نیورولینگویسٹک اور ہپناٹزم کی ماہر خاتون ہارلے ، کا کہنا ہےکہ اگر بچے کہنا نہ مانتے ہوں تو ان سے الفاظ تبدیل کرکے اپنی مرضی سے کام لیا جا سکتا ہے۔
ہارلے کے مطابق الفاظ کا انداز بچوں کو فرمانبردار بنا سکتا ہے اور اس کے ذریعے وہ کوئی بھی کام کر سکتے ہیں۔
ھارلے نے اپنی نئی کتاب ’’ورڈز دیٹ ورک‘‘ میں اس کا تفصیلی جائزہ پیش کیا ہے اور وہ بچوں کے رویوں سے پریشان والدین کے لیے یہ تجاویز پیش کرتی ہے جنھیں آزمانے میں کوئی حرج نہیں۔ سائنسی پیمانے پر ثابت یہ الفاظ بچوں پر اثر کرتے ہیں۔ مثلاً :
’مت کرو‘ کی جگہ ’شکریہ‘ کہہ کر بچوں کو کوئی حکم دیا جائے تو اس کا فوری اثر ہوگا۔
’’ناں‘‘ کی جگہ ’’ہاں‘‘، منفی کی جگہ مثبت:
’’اپنا کمرہ گندا مت کرو‘‘ اور ’’یہ نہ کرو اور وہ نہ کرو‘‘
کی بجائے مثبت جملے استعمال کئے جائیں جو بچوں پر جادو کی طرح اثر کرتے ہیں کیونکہ انکاری جملے بچوں پر منفی اثر ڈالتے ہیں. اس لیے اس کی بجائے بچوں سے کہیں کہ
'چلو کمرہ صاف کرتے ہیں، جوتے سٹینڈ پر اور کھلونے الماری میں
رکھتے ہیں ۔'
یہ جملے بچے پر مثبت اثر ڈالیں گے اور وہ عمل کرنے لگیں گے۔
روزانہ مائیں بچوں کو یہ کہتی ہیں
’ جلدی کرو سکول یونیفارم پہنو،‘ اور یہ جملہ بچوں پر اثر نہیں کرتا. اس کی جگہ بچوں کے سامنے بہت سے انتخاب پیش کریں، مثلاً "
"اچھا میری بیٹی ، آج سکول میں کھانے کے لیے کیا لے جائے گی؟ یا
آج نیا یونیفارم پہنو گے یا پرانے والا؟ "
اور بچوں سے اس کو سوالیہ انداز میں پیش کریں اس طرح کے جملے بچوں پر بہت اچھا اثر ڈالتے ہیں۔
بچوں کو ہوم ورک کرانے کے لیے بھی چوائس پیش کریں، مثلاً:
"کیا تم پہلے اردو کا کام کرو گے یا اپنے ہفتہ وار پروجیکٹ کرنا چاہو گے؟۔"
ان الفاظ سے بچے ذہنی طور پر کام کے لیے تیار ہو جاتے ہیں. اسی طرح کھانا کھلانے کے لیے بچوں سے معلوم کرنے کی بجائے ان کے سامنے بہت سے کھانوں کے آپشن رکھیں۔

ماہرین کے مطابق ’’کب‘‘ کا لفظ اگر درست طور پر استعمال کیا جائے تو وہ ایک اہم قوت رکھتا ہے۔ والدین بچوں کے لیے اس لفظ کو درست جگہ استعمال کرکے اہم کام لے سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر 
" تم اپنا ہوم ورک کب ختم کرو گے، ہمیں کھانا کھانا ہے" یا
" اوکے ، جب تم یہ کام کرلو گے تو ہم باہر چکر لگانے چلیں گے۔"
اس جملے میں بچے کے لیے ایک کام ہے اور ایک پرکشش تفریح۔ اچھے سیلزمین بھی ان ہی جملوں کو استعمال کرتے ہیں۔ 
بچوں کو سکول کا کام کرواتے وقت یہ کہیں کہ
"جب تم سبق یاد کرلو گے تو تمھیں خود ہی احساس ہو جائے گا کہ یہ کتنا آسان کام تھا۔"
والدین اور بچوں کے درمیان زبان کا رشتہ نہایت اہم ہے ، والدین جو زبان استعمال کرتے ہیں بچہ وہی زبان سیکھتا ہے ۔ چنانچہ ، درست زبان استعمال کرکے آپ اپنے اور بچے کے درمیان بہترین سمجھ بوجھ کا ایک مضبوط رشتہ بنائیں۔ بچوں سے اس طرح کے جادوئی جملے کہیں کہ
"بہت کام ملا ہے ، مگر میری بیٹی کے لئے مشکل نہیں ، آؤ اسے چٹکیوں میں کرتے ہیں پھر پارک چلیں گے "
  یا
" میں جب تمھاری طرح تھی تو ، تمھاری طرح میرے لئے بھی ہوم ورک کرنا بہت آسان تھا ۔"
میرے جیسا یا تمھارے جیسا لفظ بچے کا حوصلہ بڑھاتے ہیں اور وہ کام پر آمادہ ہوتا ہے۔
'شکریہ' کا لفظ پہلے ادا کریں نہ کہ بعد میں:
بچے اپنے والدین کو خوش کرنا چاہتے ہیں اور وہ اس کی پذیرائی بھی چاہتے ہیں۔ اس لیے اگلی مرتبہ بچوں کو ہاتھ دھونے، ٹی وی بند کرنے یا پانی دینے سے قبل ’شکریہ‘ کا لفظ کہیں جس سے اُن کا حوصلہ بڑھتا ہے اور کام دلچسپی سے کرتے ہیں۔
لہذا بچوں سے کروانے والے ہر کام میں دلچسپی پیدا کریں ، انہیں احساس دلائی کہ وہ گھر میں بہت اہم فرد ہیں ۔
ہر کام کی وجہ بیان کریں:
بچے تجسس رکھتے ہیں اور ہر کام کی وضاحت چاہتے ہیں اس لیے ان میں ایک حد تک کاموں کی سمجھ پیدا کرنا ضروری ہے۔ اسی لیے کوئی بھی کام کروانے سے قبل بچوں کو اس کی مختصر وجہ بیان کرنا ضروری ہوتا ہے۔ مثلاً:
" اس ماہ کپڑے نہیں خرید سکتے کیونکہ ایک بڑا خرچ سامنے آگیا ہے۔"
اس سے بچہ مطمئن ہو جاتا ہے۔
’سنو‘ اور ’اگر سوچو‘ جیسے جملے بچوں کو کام کی تحریک دینے والے طاقتور الفاظ ہیں۔ مثلاً
" سنو ہمیں یہ کام کرنا ہے کیونکہ نہ ہونے کی صورت میں یہ نقصان ہو سکتا ہے" یا
"سوچواگرہوم ورک کرلو گے تو کتنا اچھا ہوگا۔؟"
ایسے جملے بچوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اور اس طرح آپ ان سے کوئی بھی کام کروا سکتے ہیں۔
بچوں کا شکایتی لہجہ:
بہت سے بچے والدین سے ہر معاملے کی شکایت کرتے ہیں. اس کا ایک حل یہ ہے کہ آپ ان کی وہی شکایت ان پر دوبارہ لوٹا دیں لیکن اس میں اس کا حل ہو اور وہ بھی بہت اچھے انداز میں پیش کیا جائے۔ اگر بچہ کہے کہ
'گرمی لگ رہی ہے'
تو آپ کہیے ’ اوہ! تو آپ کو قدرے ٹھنڈ چاہیے تو اس کے لیے کھڑکی کھول دیتے ہیں' یا 'اپنی جیکٹ اتار دو۔ ‘
آپ دیکھیں کہ اس طرح بار بار شکایت کرنے والا بچہ مطمئن ہوکر خاموش ہو جاتا ہے ۔
(انتخاب ، رانا اکمل )

ہفتہ، 26 نومبر، 2016

Shorts Cut.

Do we know actual full form of some words???

🔗News paper = 
North East West South past and present events report.
🔗Chess =
Chariot, Horse, Elephant, Soldiers.
🔗Cold =
Chronic Obstructive Lung Disease.
🔗Joke =
Joy of Kids Entertainment.
🔗Aim =

Ambition in Mind.
🔗Date =
Day and Time Evolution.
🔗Eat =
Energy and Taste.
🔗Tea =
Taste and Energy Admitted.
🔗Pen =
Power Enriched in Nib.
🔗Smile =
Sweet Memories in Lips Expression.
🔗SIM =
Subscriber Identity Module
🔗etc. =
End of Thinking Capacity
🔗OK =
Objection Killed
🔗Or =
Orl Korec (Greek Word)
🔗Bye =♥
Be with you Everytime.

گرم پانی افق کے پار

1978 کاذکر ہے میں نوشہرہ میں کورس کر رہاتھا ، اطلاع ملی کے روسی ٹروپس دریائے آمو پار کر کے ، افغانستان میں داخل ہوگئے ہیں ۔ جہاں سے اُن کا ارادہ عظیم بلوچستان بنانے کے بعد گرم پانیوں میں ، گوادر کے راستے بحیرہ عرب پہنچے ۔
ٹل پہنچنے کے بعد میں علی زئی کے پاس انظر گڑھ پر اوپی سنبھالنے کا حکم ہوا ۔
پھر کمیونسٹ اور اسلام کی جنگ پاکستان میں چھڑ گئی اور بالآخر روس کا آخری فوجی دل میں حسرت اور اداس سوچوں سمیت ، افغانستان میں اُفق کے پار گرم پانیوں تک پہنچنے کا خواب بسائے ، اپنے تین سو ہیلی کاپٹر،  سو جنگی جہاز اور ڈیڑھ سو لوہے کے ٹینک اسکریپ بنوا کر ،
واپس دریائے آمو پار کر رہاتھا کمیونسٹ ملک چین بھی ہے ، لیکن اُس کے کمیونزم سے امریکہ کو اتنا خطرہ نہیں تھا جتنا بھیانک تصوّر، یہودی میڈیا نے دنیا کے دماغوں میں بٹھایا -
 
کمیونسٹ چین نے جو راستہ چنا وہ بھی گرم پانیوں کی طرف پاکستان ہی سے جاتا تھا ۔ جس میں ہر سال گوادر سے یورپ، افریقہ، وسطی ایشیاء اور خلیج تک چار سو بحری جہاز مستقبل میں جائیں گے

آج چین دنیا کی سب بڑی سافٹ پاور ہے جس کی بدولت وہ کوئی ملک طاقت کی بنیاد پر فتح کرنا تو دور کی بات،  ایک گولی چلائے بغیر ہی سپر پاور بننے جارہاہے، چین کی یہ طے شدہ پالیسی ہے کہ دنیا کے کسی جھگڑے، باہمی چپقلش اور قتل و غارت کا حصہ نہیں بنے گا۔
بلکہ اقتصادی میدان میں سپرپاورز کی پیچھے چھوڑ دے گا جن کی اقتصادی ترقی کا دارومدار ، جنگی ہتھیار بنانے اور جنگ کروانے پر ہے -
چین کی اِس سوچ نے "چین پاکستان اقتصادی راہداری"  کے خواب کو اُفق کے پار سے کھینچ کر اپنی گود میں لاکرحقیقت میں ڈھالا -

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔