میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 دسمبر، 2016

شیطان نامہ - قسط نمبر- 43- پہلا حصہ ۔علی بن الحسین( زین العابدین )

 ان راویوں کا ایک طرف تو یہ بیان ہے کہ عمر بن سعد نے خواتین اور ان خیموں کو تاراج نہ ہونے دیا نابالغوں کو اور علی بن الحسین کو یہ کہہ کر کہ اس مریض لڑکے سے کوئی تعرض نہ کیا جاۓ ان کو قتل ہونے بچا لیا حالانکہ وہ اس وقت 23 برس کے ، شادی شدہ اور صاحب اولاد تھے 
اور دوسری طرف ابن سعد پر بہتان باندھا ہے کہ دس سواروں کے گھوڑوں کی ٹاپوں سے پامال کروا کے سینہ اور پشت کو چور چور کرا دیا اور پھر اس بات کی خوشخبری سنانے کے لئے ایک آدمی کو اپنے اہل و عیال کی طرف بھیجا کہ الله نے فتح مند کیا .(صفحہ 262 جلد 6 طبری )

حضرت عمر بن سعد کی اہلیہ مریم بنت عامر بن ابی وقاص تھیں یعنی ان کے چچا عامر کی صاحب زادی اور حضرت عامر رسول الله کے دوسرے ماموں تھے سابقوں الاولون میں سے اور ایمان لانے والے گیارویں مسلمان تھے . انہوں نے حضرت جعفر طیار کے ساتھ حبشہ ہجرت کی تھی اور ان ہی ساتھ مدینہ واپس آئے تھے .اور حضرت مریم ایسے جلیل القدر صحابی کی بیٹی عمر بن سعد کی زوجہ تھیں جن کو خوشخبری سنانے کے لئے یہ من گھڑت روایت تراشی گئی ہے۔

 ان راویوں کا جو بغض صحابہ اکرام اور ان کی اولادوں سے جو تابعین کے زمرے میں آتی ہیں وہ ان کی بہتان تراشیوں سے ظاہر ہو جاتا ہے . 
 حضرت عمر بن سعد عہد فاروقی کے غازیوں میں سے تھے اور حضرت عمر فاروق سے اس درجہ عقیدت تھی کہ اپنی دو بیٹیوں کا نام حضرت عمر کی بیٹی ام المومنین حفضہ کے نام پر حفضہ کبرہ اور حفضہ صغرہ رکھا. اور ایک بیٹے کو ابو حفض سے منسوب کیا شاید حضرت فاروق اعظم سے اس عقیدت کی بنا پر ایسی بہتان تراشیں کی گئیں-
 ان تمام جھوٹی کہانیوں اور من گھڑت روایتوں کی پوری تکذیب علی بن الحسین (زین العابدین ) اور آپ کے اہل خاندان کے موقف اور ان مسلسل قرابتوں سے ہو جاتی ہے جو امیر یزید کے خاندان سے کربلا کے حادثے کے بعد ہوتی رہیں .

موقف علی بن الحسین ( زین العابدین )
حضرت زین العابدین اپنے جذبات اور خیالات و فرائض ملت کی ادائیگی میں اپنے بزرگ حضرت حسن سے مشابہت رکھتے تھے سیاسی امور میں کبھی مدانہت سے کام نہیں لیا ، سبائیوں کی بڑی کوشش رہی کہ ان کو اپنے جال میں پھانس لیں لیکن آپ ان کے دھوکے میں نہیں آئے۔ یہی وجہ ہے کہ ان لوگوں میں آپ کا نام عزت سے نہیں لیا جاتا اور ان کے نزدیک ،
آپ نے اموی خلفا سے جو بیعت کی وہ محض  خود کو محفوظ رکھنے کے لئے کی تھی ورنہ حقیقت میں باغیانہ جذبات ہی رکھتے تھے . 
اس کے علاوہ آپ کی طبیعت کی کمزوری اور صحت کی کمزوری کی داستانیں مشہور کی گئیں اور ایسی داستانیں مشہور کی گئیں کہ آپ کو اپنے بزرگوں کی شجاعت اور بہادری میں سے وراثت کا حصہ نہیں ملا ،
لیکن حالات واقعات سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ امت زین العابدین کے کردار پر جتنا فخر کرے اور آپ کے طریقہ کار کی پیروی میں جتنی سعادت برتے وہ درست ہے آپ ہمیشہ جماعت سے وابستہ رہے اور تفرقہ کی کاروائیوں سے بیزار اور علیدہ رہے .
حادثہ کربلا میں آپ موجود تھے اول سے آخر تک سب منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا پھر جب آپ کو دمشق لے جایا گیا 
اور جس خلوص اور محبت کا برتاؤ آپ کے ساتھ اور آپ کے عزیزوں کے ساتھ ہوا وہ جو آپ کے ذاتی تجربہ بھی تھا وہ ان من گھڑت روایتوں سے دھندلا نہیں پڑسکا. آپ نے دمشق میں امیر یزید سے اپنے دوسرے عزیزوں کے ساتھ بیعت کی اور اس بیعت پر ہمیشہ قائم رہے 
اور پھر جب بعض اہل مدینہ نے امیر المومنین کے خلاف بغاوت کی آگ بھڑکائی اور بنی امیہ کے تمام افراد کو شہر بدر کر دیا گیا تو دوسرے ہاشمی ، قریشی اور انصاریوں کی طرح آپ بھی اس بغاوت سے الگ رہے۔
 آپ کے تین حقیقی بھائی محمّد ، جعفر ، عمر حضرت حسین کے بیٹے اورآپ کے تین چچا زاد بھائی ، حسن ، عمر اور زید حضرت حسن کے بیٹے یزید کی بیعت میں آپ کے کے ساتھ شامل تھے اور یزید پر آزمائش آنے کے بعد بھی بیعت نہیں توڑی اور اس پر ہمیشہ قائم رہے.بغاوت سے ہمیشہ الگ رہے اور نہ محض الگ رہے بلکہ بارگاہ خلافت کو اپنے موقف سے بزریعہ تحریر آگاہ بھی کیا.(صفحہ 208 البدایه و النہایه .علامہ ابن کثیر)
امیر یزید نے مدینہ کے باغیوں کی سر کوبی کے لئے ایک معمر صحابی مسلم بن عقبہ المزنی کی سر کردگی میں فوجی دستہ بھیجا تھا اور اس وقت جو تقریر کی تھی اس کو طبری نے نقل کیا ہے ایک جملہ سنیئے .
" دیکھو تم علی بن الحسین( زین العابدین ) سے مراعات سے پیش آنا اور ان کے ساتھ نیک برتاؤ کرنا ، توقیر کے ساتھ بٹھانا وہ ان مخالفت سے علیحدہ ہیں جو ان لوگوں سے ہماری ہے اور ان کی تحریر بھی میرے پاس آئی ہے.(طبری جلد 7 صفحہ 20 )
بلا زری نے بھی مسلم کا یہ فقرہ نقل کیا ہے .(صفحہ 39 جلد 4 .مطبوعہ یروشلم ) کہ امیر یزید نے زین العابدین کے ساتھ توقیر اور احترام کا مجھے حکم دیا ہے.
حضرت علی زین العابدین نے اس حسن سلوک پر خوشنودی کا اظہار کیا اور امیر یزید کو دعائیں دیں کہ الله آپ کو اپنی رحمت میں ڈھانکے .
طبقات ابن سعد جیسی مستند کتاب میں بھی یہ روایت آپ کے صاحب زادے حضرت ابو جعفر محمّد ( الباقر ) سے ان الفاظ میں بیان ہوئی ہے .کہ یحیی بن شبل نے ابو جعفر الباقر سے واقعہ حرّہ کے بارے میں دریافت کیا کہ اس گھرانے کا کوئی فرد بھی آپ کے ساتھ لڑنے نکلا تھا ؟
تو آپ نے فرمایا نہ ان کا نہ ابو طالب کے گھرانے کا نہ عبد المطلب ( یعنی بنی ہاشم ) کے گھرانے کا کوئی فرد لڑنے نکلا سب اپنے اپنے گھروں میں گوشہ نشین رہے . 
جب صحابی رسول مسلم بن عقبہ قتال کر کے وادی عتیق میں ٹھہرے تو میں موجود تھا انہوں نے فرمایا کہ کیا بات ہے؟ میں زین العابدین کو نہیں دیکھتا!
 یہ خبر جب علی بن الحسین (زین العابدین ) کو پہنچی یعنی میرے والد کو تو میرے والد ان سے ملنے آئے اور ان کے ساتھ ابو ہاشم عبدللہ اور حسن (محمّد ابن الحنیفہ کے بیٹے ) بھی تھے، آپ نے میرے والد زین العابدین کو دیکھا تو خوش آمدید کہا اپنے برابر تخت پر بٹھایا اور فرمایا کہ آپ کے ساتھ حسن سلوک کا مجھے حکم دیا گیا ہے تو میرے والد نے کہا کہ الله پاک امیر المومنین کو اپنی رحمت سے ڈھانکے.
(الامامہ و السیاسہ نے بھی جلد 1 صفہ 230 پر یہی روایت نقل کی ہے )
یہ باتیں یزید دشمنی کے ہزار سالہ پروپیگنڈے سے متاثر لوگوں کو نئی معلوم ہوتی ہوں گی کہ حسین کے بیٹے نے یزید کو امیر المومنین کہا اور دعائیں دیتے تھے .مگر بقول شیخ الاسلام ابن تیمیہ . کہ زین العابدین ان کو امیر المومنین کہتے اور دعائیں دیتے تھے اس لئے کہ یزید اپنے زمانہ ہجری 61 سے 64 تک با اختیار حکران تھے بہت سخی اور طاقتور تھے عدل و انصاف کرتے تھے اپنے حکموں کو جاری کرنے کی پوری قوت رکھتے تھے
حدود شریعہ قائم رکھتے تھے کافروں پر جہاد کرتے تھے اور یہ ایک ایسی بات ہے جس سے انکار ممکن نہیں ، یزید کے صاحب اختیار ہونے کا انکار کرنا ایسا ہی ہے جیسا کوئی اس بات سے انکار کر دے کہ حضرت ابو بکر ، حضرت عمر و حضرت عثمان حکمران نہیں تھے یا قصر و کسریٰ نےکبھی حکومت نہیں کی .(منہاج السنہ و رسالہ حسین و یزید ملاحظہ فرمائیں.)


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔