میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 23 نومبر، 2017

زندگی گذری آرام کے ساتھ !


اور میری جان نکل گئی

دوستوں کی محفل تھی  جوزی ہم سب میں عمر والا تھا !
کیوں کہ 60 سال کا ریٹائر ہوکر ، پنشن پر گذارا کر رہا تھا ۔
عمر میں دوسرا نمبر میرا کیوں کہ  فوج نے 48 سال کی عمر میں ریٹائر کر دیا تھا ، ہم سب، جی 6   مرکز میں ، ایک چرغے والے ٹھیّے  کی پلاسٹک کی کرسیوں پر بیٹھے آرڈر کا انتطار کر رہے تھے
یار جوزی صاحب ، اِس عمر میں  بوڑھے لوگ کیا کرتے ہیں ۔  راؤ نے پوچھا
 راؤ جی  مرد اور گھوڑا کبھی بوڑھا نہیں ہوتا ۔ جوزی نے فلسفیانہ اندازِ مردانی میں جواب دیا ۔
جوزی صاحب ،  ٹھیک ہے لیکن  جوان گھوڑے اور عمر رسیدہ گھوڑے  کی چال  میں کچھ تو فرق ہو گا نا
کہاں سرپٹ دوڑتا ہوا    اور کہاں مریل سی چال اور وہ بھی ہانپ ہانپ کر -
جمیل صاحب بولے
جوزی صاحب ،  خاص چارہ کھاتے ہیں  - شجاعت نے گرہ لگائی 
جوزی ، بڑا چھپا رُستم ہے  - امجد بخاری نے اپنی رائے کا اظہار کیا 
جوزی ، دبی دبی مسکراہٹ سے یہ سب کی باتیں سُن رہا تھا، جن میں  خادم حسین رضوی کے خطیبانہ  جوَاہر ِخاص ، بلا کم و کاست دُھرائے جا رہے تھے  ۔ جن سے پاس گذرنے والے ویٹروں کی معلومات میں کچھ خاص اضافہ نہیں ہورہا تھا ۔ جب سب اپنی اپنی رائے کا اظہار کر چکے  تو میں نے کہا،
جوزی ، صاحب  سب نے اِس عمر  میں پہنچنا ہے ، ہماری معلومات کے لئے اپنے تجرباتِ خاص سے مستفید فرمائیں   - میجر صاحب ، یہ سب بچے ہیں عمر کے کچّے ہیں   - جوزی نے  لوہے پر چوٹیں مارتے ہوئے کہا 
،یہی سوال میں نے اپنے سے ایک سینئیر دوست سے پوچھا تھا ۔ آج میں شیئر کرتا ہوں ! گو کہ یہ پنجابی میں ہے اور ایسی باتوں کا لطف پنجابی میں آتا ہے   ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یار جوزی ،  یہ عمر بھی کیا عمر ہے ؟
اخبار پڑھتے ہیں ، ماضی یاد آجاتا ہے تصویریں دیکھ کر ،
ٹی وی دیکھتے ہیں تو سوچتے ہیں کہ یہ عورت ہے یا حور ؟
یا   عورتیں ایسی بھی ہوتی ہیں ؟
ہم تو ساری عمر بھینسوں میں گذارتے رہے ۔
بستر پر جاتے ہیں ، وہ ڈبل بیڈ جو ہمارے لئے جنت ہوتا تھا ، اب ایک وسیع میدان نظر آتا ہے ۔ جس کے ایک کونے پر بیوی اور دوسرے کونے پر ہم ہوتے ہیں !
لیکن مردانگی  ہے کہ باز نہیں آتی ۔
بستر پر لیٹتے  تو یہ معمول بنا لیا ، کہ بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھتے ، وہ کسمکساتی ،
چھوڑ جی پاگل ہوئے ہو!
بچے کیا سوچیں گے !
صبح نماز قضا ہوجائے گی ۔
اِس عمر میں  ، کچھ بہووں کا خوف کرو !
اللہ اللہ  کرنے کے دن ہیں ۔

یار جوزی، یہ جملے سنتے اور آرام سے سو جاتے ، کہ چلو آج کے دن مردانگی کا بھرم رہ گیا ۔
ایک دن ہو یہ کی ہم دونوں ٹی وی دیکھ رہے تھے ، پوتا اور پوتی ، بیٹے اور بہو کے ساتھ باہر گئے تھے ۔
ٹی وی پر ایک بھڑکیلا اشتہار آیا  تو یہ جملہ کھسکا دیا ، بیوی   ایک شادی بڑھاپے میں بھی مرد کو کرنا چاھئیے !
کھانا وغیرہ کھایا ،  جب ٹی وی پر جھنڈا لہرایا ، گھر میں خاموشی تھی ۔ 
کمرے میں گیا ، بیوی دیوار کی طرف منہ کرکے شاید سوگئی تھی ۔
میں بھی بستر پر لیٹ گیا ۔
بے دھیانی میں ، عادتاً بیوی کے ہاتھ پر ہاتھ رکھا ۔
اُس نے کروٹ بل کر میری طرف دیکھا اور مسکرائی !

،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
،
میرا تے ساء   نکل  گیا !

منگل، 21 نومبر، 2017

کیا تمھاری محبّت میں وہ پناہ ہے !

مرد کو اللہ نے  بہت سی خوبیوں   سے حصہ دیا ہے ۔
رزاق بنایا ہے ، متکبّر بنایا ہے ، قابض بنایا ہے ، عادل بنایا ہے ، لیکن عورت کو وہ صفت  دی  جو مرد کو نہیں دی 
وہ کون سی صفت بابا جی ؟   میں نے حیرت سے پوچھا ۔
 بابا جی دور خلاؤں میں گھورتے ہوئے گویا ہوئے ،
نوجوان :
عورت کو اللہ نے ہمتِ تخلیق دی ،
بیٹے اور بیٹیاں پیدا کرنے کی قوت دی ،

اُنہیں اپنے جسم سے سینچنے
  کی قدرت دی،
اُنہیں سردی  اور گرمی میں سنبھالنے کی طاقت دی ۔
پھر میرے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے  کہنے لگے ،
یہ طاقت عورت کی انا کو دوام بخشتی ہے ، قوت دیتی ہے اور اپنی اولاد کی حفاظت میں مرد کے مقابلے پر لاکر کھڑا کردیتی ہے  ۔
آپ کی بات سو فیصد درست ہے بابا جی  میں نے کہا  ،
لیکن  وہ مجھے کیوں چھوڑ گئی ؟ 
میں نے اپنا سوال  بے صبری سے دھرایا ۔
بتاتا ہوں نوجوان بتاتا ہوں ۔   بابا جی مسکراتے ہوئے بولا
 اپنے سوال پر غور کرو ! جو عورت کی ایک اہم ضرورت سے منسلک ہے !
وہ ضرورت ہے ، ایک پناہ گاہ کی ، جہاں وہ زمانے بھر کے طوفانوں سے چھپ سکے ،ہر  عورت کو اپنی اِس پناہ گاہ سے بہت محبّت ہے !  
  بابا جی نے مجھ پر تائیدی نظر ڈالی۔
جی آپ نے درست فرمایا  ۔ میں نے دھیمی آواز میں جواب دیا 

بابا جی نے میری طرف سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا :
اب مجھے یہ بتاؤ ! کیا تمھاری محبّت میں وہ پناہ تھی ؟

میری نظریں زمین پر گڑھ گئیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 نقل کیا مہاجرزادہ نے ۔
نقل کیا ایک خاتونِ دانا نے ،
کہا ایک مردِ دانا  کی ۔
نوٹ: اِسے نقل کرکے مزید آگے پھیلانے میں  کوئی قباحت نہیں !


سوموار، 13 نومبر، 2017

احساسِ کمتری ختم ، مبارک ہو

پیرا ڈائز لیک ۔ قرعہ اندازی میں خوش نصیبوں کے نام ۔ کیا آپ بھی اِن خوش نصیبوں میں ہیں ؟
جنرل (ر)مرزا اسلم بیگ ، لیفٹیننٹ جنرل (ر)زاہد علی اکبر ، ایڈمرل (ر) منصور الحق ، ایڈمرل (ر) سعیدمحمد خان ، ائیر چیف مارشل (ر) انور شمیم ، بریگیڈئیر (ر) امتیاز ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) فضل حق ، ائیر چیف مارشل(ر) عباس خٹک ، میجر جنرل (ر) شجاعت علی بخاری، کیپٹن ایس ایچ اطہر ، کیپٹن نصیر احمد،  بریگیڈئیر (ر)اسلم حیات قریشی ، کیپٹن ایس ناصر ،میجر (ر) جہانگیر خان،   لیفٹننٹ جنرل زاہد علی اکبر  (چئیر مین واپڈا )، کیپٹن (ر)  ، گوہر ایوب،  میجر (ر)  آفتاب احمد شیرپاؤ۔ پسران جنرل اختر عبدالرحمٰن   ۔ میجر (ر)    مسعود شریف۔ 
  بریگیڈئیر (ر) اے آر صدیقی ،

سب کو مبارک ہو کہ اُن کے  عظیم قائدین  نے اُنہیں شرمندگی سے بچا لیا ۔
لکھا ایک منچلے نے :
سر جی ! مبارک باد قبول فرمائیں ۔ بس اسی بات کی کمی تھی اور اکثر احساس کمتری ہوتا تھا۔ بہرحال اب یہ مسئلہ بھی حل ہو ہی گیا۔
بیوروکریٹس:
جاوید خانزادہ ، احمد صادق ، جاوید قریشی ، ایم بی عباسی ،  شریف ،سلمان فاروقی ،شفیع شہوانی ، عثمان فاروقی ، شاہد رفیع ، واجد شمس الحسن ، شوکت علی کاظمی ۔
   
بزنس مین:  

 صدر الدین ہاشوانی، بہرام ڈی آواری، سعید شیخ، سلطان لاکھانی، امین لاکھانی، ذوالفقار لاکھانی، اقبال لاکھانی، یونس ڈالیا، عبدالرزاق یعقوب(ARY) ، علی جعفری، اسد اللہ شیخ، اصغر ملک ، آصف میمن، حسین لوائی، اقبال میمن، جاوید سلطان، ریاض لعل جی، نسیم الرحمن، آصف اقبال، ہارون حاجی کباڈیا، آصف سہگل، عارف سہگل، عابد سہگل، شیخ عبدالشمویل قریشی، محفوظ مصطفیٰ، ماجد بشیر، محمد آصف، محمد رضی، محمد صالح، جاوید سلطان، بدرالزمان، میاں فاروق احمد شیخ، میاں سہیل احمد شیخ، عبدالشکور اسماعیل کلوڈی، عبداللہ کلوڈی، صدر الدین گانجی، ہاشم گانجی، چوہدری زاہد احمد، چوہدری شاہد حمید، بشرازاہد حمید، میاں شہزاد اسلم، میاں شمیم انور، میاں فرخ نسیم، میاں محمد احمد، جاوید اشرف، سعید جاوید طارق، اختر وقار عظیم ، نصرت وقار عظیم ، شوکت  وقارعظیم ، سجاد  وقارعظیم ، شفیق سہگل ، شاہد سہگل ، شہزاد سہگل، سرور علی، رفیق سہگل ، چوہدری محمد انور حسین سندھو، انور نسرین ، خالد حسین چوہدری، فوزیہ بی بی ، نسیم منور، سید ثمینہ ابرار، ضیاء الرحمٰن ،سید شہزاد ظہور ، فوزیہ حیدر ،جاوید احمد شاہ ،دردانہ شاہ ،فوزیہ علی کاظمی ، عبدالستار کیریو، ڈاکٹر غنی انصاری ، فرید ویریانی ،فرید عطاءاللہ ، حبیب اللہ خان کنڈی ، میاں محمد علی طارق،  محمدصالح، مسلم لاکھانی ، ناہید خان ،  ناصر وسیم خان ،نیئر باری ،ایس ایم اسحٰق،سید جاوید طارق ،سجاد حسین ،شجاع الحسن ،سراج شمس الدین ،طاہر خان نیازی، طفیل شیخ ،مسعود شاہ ، سید طاہر حسین ، ناہر حسین ،سید عامر حسین ،انجم طاہر حسین ،فرح ناصر حسین ، فرناز عامر حسین ، شیخ ضمیر احمد ،عائشہ آفتاب ، ایم ایم اسلم خان ،مریم آفتاب ، ایس جے او فاطمی ، بیگم پروین حیات، ڈاکٹر جریر ایس دجانی ، ایم ابراہیم فیاض حمید ،حیدر علی خان ،حسن محمود سیال ، کے ایچ ایم عبدالرحمان جامی ،بلقیس اختر، نور جہاں، کے ایچ ایم یوسف ، کے ایچ ایم عبداللہ ،عائشہ فرزانہ ، مہر فاطمہ ،کنیز فاطمہ ، عبدالشکور ،حاکم شیخ ، اختر علی ، قمر جہاں، محمد بہاؤالدین پرویز،محمد سعید خان ، شلیم انڈریوز۔

بلاڈی سویلیئن ،  سیاستدان:
میاں محمد شریف ، میاں محمد نواز شریف ، میاں محمد شہباز شریف ،میاں محمد عباس شریف ، میاں حسین نواز،میاں حسن نواز،میاں حمزہ نواز، بیگم کلثوم نواز، شمیم اختر ، آصف علی زرداری ، بینظیر بھٹو ، آفتاب احمد، جہانگیر بدر، خاقان عباسی ، سید غوث علی شاہ ، سید عبداللہ شاہ ، شاہدہ فیصل ، زوجہ فیصل صالح حیات ، سید اسد  صالح حیات ، سید    فیصل صالح حیات ،عامر مگسی ، انور سیف اللہ ، اعظم  خان ہوتی ، چوہدری شیر علی، غلام مصطفیٰ کھر ،گلزار احمد (سینیٹر)، ہارون اختر، ہمایوں اختر، جام معشوق علی ، جاوید ہاشمی ، منظور وٹو ،منور حسین منج، نادر مگسی ،نواب یوسف تالپور ، رانا شوکت محمود ، وقار احمد، ذوالقار مگسی ، احمد مختار ،ڈاکٹر ذوالفقار مرزا،خالد کھرل ،راؤسکندر، رحمان ملک ، سردار مہتاب احمد خان ،فوزیہ یوسف رضا گیلانی ، آفتاب اے شیخ ، نسرین آفتاب، اسلام الدین شیخ ، نورمحمد شیخ ، نورالدین شیخ ، نورین شیخ  ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭ اطلاعات جاری ہیں ٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ : یہ ایک معلوماتی پوسٹ ہے جو فیس بُک پر ، کسی  ، انصاف پسند پوسٹ ماسٹر نے جاری کی ، اِس کی تصحیح یا  درستگی  ہوتی رہے گی ۔ املاء کی اغلاط ، قابل درگزر ہیں ۔ وہ جن کے مزید نام شامل کئے جائیں گے ، اُن میں بھی مقصد معلومات کی فراہمی ہے ۔ (مہاجرزادہ)
 











ہفتہ، 11 نومبر، 2017

الذِّكْرَ کے حافظون کون ہیں ؟

ایک سوال :   
جب قرآن کی ذمہ داری اللہ نے خود لی ہے تو قرآن کو کتاب کی صورت میں جمع کرنے کا کام صحابہ سے کیوں لیا اگر اللہ تعالی چاہتے تو یہ کام فرشتوں سے بھی کروا سکتے تھے؟
مفسروں نے انسانوں کو تراجم میں جوکچھ باور کروایا یا کرایا جارہا ہے ، اُس سے یہ سوال یقینی پیدا ہوتا ہے !


جس کا جواب نہایت سادہ ہے !
حافظوں کے حافظے میں " الکتاب " کا   قیامت تک ایک ہی ٹیکسٹ رہے گا !
مکمل اعراب و نقاط کے ساتھ اور وہ بھی صرف عربی ٹیکسٹ !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

آپ کرہءِ ارض کے ہر ملک سے ایک ایک حافظ بلا لیں  اور اُنہیں    الکتاب کا ایک ایک رکوع ، زبانی تلاوت کرنے کو کہیں ، جہاں عربی ٹیکسٹ میں  کوئی غلطی  کرے ، اُسے نوٹ کریں اور دیکھیں کہ ،
الکتاب کو القرآن کرنے میں کتنی اغلاط نکلتی ہیں !
وہاں سے دنیا کو اندازہ ہوگا کہ ، ایک ایسا پیغام جو صدیوں پہلے محمدﷺ کو روح القدّس نے اللہ کی طرف سے دیا تھا  اور محمدﷺ نے اِسے  اللہ کی طرف سے منتخب کردہ انسانوں کو حفظ کروایا   وہ اپنی پوری صحت کے ساتھ موجود ہے ۔
یہی ختمِ نبوّت ہے !


 لیکن یہ  غلط العام کروایا گیا  کہ الْقُرْآنَ   ہی     الذِّكْرِ ہے 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یاد رہے کہ اللہ کے ہاں آپ پکڑ عربی میں الکتاب کا فہم سمجھنے میں نہیں ہوگی !
روح القدّس نے  محمدﷺ کو اللہ کی طرف سے بتایا کہ ، الْقُرْآنَ،  الذِّكْرِکے لئے ہے ،
وَلَقَدْ يَسَّرْنَا الْقُرْآنَ لِلذِّكْرِ فَهَلْ مِن مُّدَّكِرٍ[54:17]
  اورحقیقتاً ہم نے الذِّكْرِکے لئے الْقُرْآنَ آسان کرتے رہتے ہیں  ، پس ،کوئی  مُّدَّكِرٍمیں سےہے ؟
٭٭٭٭٭٭٭٭ 
     خارج  الْقُرْآنَ      انسانی   صنعت کردہ ، ذکر و اذکار ،    اللہ  کو قابلِ قبول نہیں ۔
یاد رہے : الکتاب سے منتخب       الْقُرْآنَ   کیا گیا   الذِّكْرِ ہی  اللہ کو قبول ہے ، جس پر ختمِ نبوت ہے ۔اور جو الْفَحْشَاءِ  اور الْمُنكَرِ سے منع کرتا ہے ! اِس عمل کواللہ نے  أَقِمِ الصَّلَاةَ       کہا ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ ، سمجھنے کے لئے ۔ 
سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 سورۃ 1 ۔ آیت ۔3۔الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ( آیت 1 میں شامل ہے )
سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ

اتوار، 5 نومبر، 2017

Guru Nanak's visit to Baghdad

 The Gurdwara was founded by Mohammad Pasha Amoot follower of Peer Bakol at the time of visit of Guru Nanak's(1469 – 1539) visit to Baghdad in year 927 AH(1520-1 AD) where Guru Nanak Dev had arrived on way back from Mecca and Madina.

Note: The gunmbud like dome on the sharine.

It was built by a Sikh from Sikh regiment, during the World War-I that was stationed there for shikh, as their Gurdwara (worship place).

Later on it was related to the tale of Mohammad Pasha Amoot follower of Peer Bakol Lodhi.

To strengthen the it an inscription as:

ਬਾਬਾ ਗਿਆ ਬਗਦਾਦ ਨੂੰ ਬਾਹਰ ਜਾਇ ਕੀਆ ਅਸਥਾਨਾ॥
ਇਕ ਬਾਬਾ ਅਕਾਲ ਰੂਪ ਦੂਜਾ ਰਬਾਬੀ ਮਰਦਾਨਾ॥

Baba went to Baghdad and stayed outside the city , Firstly, Baba himself was in Timeless form and
Secondly, he had his companion Mardana, the rebeck player Bhai Gurdaas Ji’s Vaars,
Page1


 The Gurdwara was founded by Mohammad Pasha Amoot follower of Peer Bakol at the time of visit of Guru Nanak's visit to Baghdad in year 927 AH(1520-1 AD) where Guru Nanak Dev had arrived on way back from Mecca and Madina.

It is said that  Guru Nanak Dev stayed outside the city of the west of Dajala (Tigris) River, about two kilometers north of Baghdad West railway station. He held discourses with Sajjadanashins (caretaker of mausoleum) of the mausoleums of Abdul Qadir gilani and Bahlol the Wise, who were greatly impressed by his views on God and religion. 
After the Guru's departure, they raised a memorial in the form of a platform where the Guru had sat and discoursed. After some time when a room was constructed over the platform, a stone slab with the following inscription in Turki was installed in it: Lo ! the Great God hath fulfilled the wish. 
A new building for Baba Nanak Darvesh has been constructed. Seven holy men extended their help in the construction. Its date as reckoned comes to 927. The lucky disciple caused a new current of water from the earth. The last sentence is the customary phrase to work out the date according to alphabetical key. The date is 927 A.H. which correspond to A.D. 1520. 
This inscription was first noticed by "Swami Ananda charya" who mentioned it in his book "Snow Birds". 
Sikh soldiers who went to Iraq during the First World War, 1914-18, raised a Gurdwara here, but now only the room exists which is visited by Sikh and non-Sikh Punjabis who have gone to the oil-rich Iraq as workmen during decades. However, as it is located within the graveyard, visitors are banned from staying overnight, cooking meals, holding Langar and Kirtan in view of the sensitivities of the majority of Muslim community.
After having travelled to Madina, Guru Nanak Dev ji soon arrived in Baghdad and took up a position, along with Mardana, outside the city. 
Guru Nanak Dev ji shouted the call to prayer, on which the whole population became wrapt in silent astonishment – the Guru omitted the usual words Muhammad ar Rasul Allah, and substituted Arabic words of a similar sound to express his own ideas, hence the astonishment.
The pir (saint) of Baghdad, Bahlol Dana on meeting face to face with the enthusiastic stranger, inquired who he was and to what sect he belonged. The Guru greeted him with his customary ‘Sat Kartar’ and replied, 
“I have appeared in this age to indicate the way unto men. I reject all sects, and only know one God, whom I recognise in the earth, the heavens, and in all directions.”
Upon this the Guru began to repeat the Japji.
As the pir listened to his doctrines he said,
“This is a very impious fakir. He is working miracles here, and informing us, contrary to the authority of our Holy Quran, that there are hundreds of nether and upper regions, and that at last men grow weary of searching for them.”
There are nether worlds beneath nether worlds, and hundreds of thousands of heavenly worlds above. The Vedas say that you can search and search for them all, until you grow weary. The scriptures say that there are 18,000 worlds, but in reality, there is only One Universe. If you try to write an account of this, you will surely finish yourself before you finish writing it. O Nanak, call Him Great! He Himself knows Himself. ||22||
The pir then called upon the Guru to give a manifestation of his power. Upon this, it is said, the Guru laid his hand on the high priest’s son and showed him the upper and lower regions described in the Japji.
Baghdad, the capital of Iraq, on the bank of the river Dajala, visited by Guru Nanak Sahib and Bhai Mardana, during their visit to Mecca, in 1519-20. Here, Guru Sahib had a discourse with Bhai Behlol Dana and Sheikh Abdul Qadir Jilani (or their successors). A Gurdwara, about two km from railway station Baghdad, preserves the memory of the visit of Guru Sahib. A stone with inscription in Turkish, mentioning the visit of Guru Sahib refers that the water in that area was not worth drinking before the visit of Guru Nanak Sahib
Address: Near Baghdad West Railway Station (on Baghdad-Samarra rail line), Baghdad (Iraq)
A monument built by the successors and followers of a Muslim Sage Abdul Kadir better known as Pir Dastgir (1078-1166 AD) and Behlol stands one and a half miles east of railway station in Baghdad. The translation of the Arabic inscription on a slab on the wall behind the monument, where Guru Nanak had discourse with the Muslim sage Behlol, reads some-what like this-
"In Guru, that is the divine sage Baba Nanak Fakir's commemoration, this monument has been rebuilt. The holy sage bestowed the spring of divine benediction in 927 Hijri, 1520/1 AD".

The caption on the painting reads as below:
 "Guru Nanak Dev. Ji's original painting."
 The painting is stated to have been made by Kamal-ud-din Behzad (1450-1535) of Tabriz, in Baghdad, IRAQ when he was returning from Haz on his way to Tabriz and accompanying Jiwan Qazi. Almighty Satguru Nanak Sahib was in Baghdad from November 1519 to January 1520. Jiwan Qazi of Uch Multan Division, brought it to Multan in 1521 AD.
( Courtesy: BEDI CLAN)"

Satguru Nanak Sahib in Greece 1520
The village Hassan Baba is located in The Valley of Temps, between Mount Olympus and Larissa.
Sultan Selim-I: accompanied Almighty Satguru Nanak Sahib and Bhai Sahib Mardana Ji in 1520.Sultan Selim-I was the son of Sultan Bayzeid-II, who went to India in 1511 alongwith Pir Bahlol.
This Sultan and Pir Bahlol were given night dinner at Lahore by Sultan Sikander Lodhi of Delhi. Daulat Khan Lodhi and Rai Bular attended the Dinner.Sultan Bayzeid-II told the congregation that The Pir Guru Nanak met them in Ajmer Sharif in Rajputana(Ref.Mughal Records, 1511).
This Pir Bahlol died in Baghdad in 1511, and his disciples built a Memorial both of Pir Bahlol and Satguru Nanak Sahib's praise.
The Turkey Sultan, Selim-I had met with Guru Nanak Sahib(Ref. the historian, Sayyad Mohammed Latif, 1891 and Prof.Davinder Singh Chahal,1997.)
This Sultan Selim -I accompanied Satguru Nanak Sahib. British Museum has obliged to give the portait of this famous disciple of Satguru Nanak Sahib.
The son of this Sultan, Suleiman-II built a memorial in Istanbul( Turkey), which was detected by Prof. Davinder Singh Chahal.
I am greatful to this learned Prof. for clicking this Sikh monument. Sultan Selim-I, The First Caliph, died in September 1520, after the saparation from Satguru Nanak Sahib From Kastoria (Greece).His portrait was made on the request of Sultan Suleiyman-II, by his famous painter Gasper in 1565.
Sultan Selim-I, The Disciple of Satguru Nanak Sahib.
*************************************
Satguru Nanak Sahib in Asthrakhan ( Russia)
The real story goes like this. Japu vanshi of Multan went to Russia in early part of sixteenth century. Both Satguru Nanak Sahib and Bhai Sahib Mardana Ji went to third Oddessey ( Udhasi) in the north of the world in 1516-17. 
They visited Asthrakhan and stayed at the house of Japu Vanshi, a trader from Sukkur, Sindh ( Ref. Varan Bhai Gurdas, Var 11, Pauri 14), where Bhai Sahib writes---"Bhagat Jo Bhagata Ohri Japu Vanshi Sev Kamave--". At Astrakhan Satguru addressed the traders to do "Nek Kirat" (Fair trade) . Satguru spend some days with Japu-Vanshi and made him the Preacher of China, Korea and Japan etc. 
They left for Nanking and Shanghai (China), North Korea and Kobe ( Japan).
In 1556 the Astrakhan was won by Russia. in 1556, the English traveller, A. Jenkinson went to Asthrakhan, who confirmed the Mangole trader, Iranian traders etc. Another traveller, S. Herberstein was of the different opinions. He ( S. Herberstein) Wrote"---the importance of Asthrakhan about 1520s, stating that ' Asthrakhan is a wealthy city, and the great emporium( Traders House) of the Tarters, which give its name to all surrounding country-----, being heirs of merchants, craftsmen, fishermen and farmers---"( Ref. PP No. 207 of " Islam in Russia").
In 1625 an Indian Serai was built in 1625, and an Indian Square was built by local govt. in 1649.There were traders in Moscow and Volga region of Russia even before 1580 ( Ref. " The Merchant of Moscovy 1580-1650).
The Russian census in 1556 confirms some Indian traders in the south of Russia. 
Asthra Khan is in the south region of Russia and Volga river. in 1469 a Russian traveller, Afanasij Nikitin, reached India. He was a trader too. From 1469, the Indo- Russian trade started ( Ref. " Indian Dispora in Central Asia and its Trade, 1550-1900").
Gurdwara Sahib at Calmai Market or Principal Squre in Asthrakhan ( Russia).

*************************************
The First Meeting of Babur And Satguru Nanak in Khurasan.

This is actually the first meeting of Zahiru-din-Mohammed Babur and the Prince Humanyun at the Ismail Mosque in Bukhara(Khurasan). 
Humanyun was about 14 years old at that time. Babur and the others came to the Mosque to read the Namaz in the evening in the month of Ramzan of 1520.
In that year the Month of Ramzan began in the middle of September and the Idul-Fitter was in the middle of October,1520 A.D.Note:First Ranzan 927 was on 20 December 1520 and First Shawwal was on 19 Jan 1521 - (Mohajirzada)

Babur mentioned that he is said to be a Marad(Purakh) who takes wine, bhang and other intoxicants.But fearless Satguru made the defintion of "Marad" and uttered the two Saloks of Mardana -I here.This definition of "Marad" is again clarified by the fifth Nanak, Satguru Arjan Sahib as----"Soi Marad Marad Mardana ----" Holy Page 1084 of SGGS.

In these Holy Saloks ther Satguru clarifies that in this Kaliyug(Dark Age) the wine is being given the wrong ones.This painting is taken as a courtesy from"The Guru'S Word & Illustrated Sikh History by Dr. Santokh Singh, published by Spiritual awakening Studies,Princton, Ontario, Canada,2000.

****************************************
A Sikh soldier receiving a garland of flowers from a nurse, 1946.
During the Second World war the Indian Army expanded to over two million troops, 300,000 of whom were Sikhs. This was probably the largest volunteer army in history. Indian troops served in Western Europe, East and North Africa, the Middle East, Italy and the Far East. They played a decisive role in winning the war.

One of 233 official photographs collected by Captain Roy Wiltshire in his capacity as Editor of the Indian Army Review.
Source: National Army Museum
*************************************
The Sikh guard statues are a fine example of this, where the once living, then impressed with the diligence, loyalty and bravery of the Sikh guards brought in by the British colonial masters then to provide security, decided that they would also be adequate guardians of their final resting when they pass on.


The Sikhs were first brought into Singapore by the British as soldiers. When the British left Singapore for good, these Sikh soldiers then became bodyguards for wealthy Chinese merchants due to their big built and loyalty. In fact, the Chinese were so impressed with their bravery and loyalty that when someone from a wealthy Chinese family died in those days, a pair of statues of Sikh soldiers used to be erected on both sides of their tombs. This meant that even in death, the Sikhs were guarding them.'




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔