میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 28 فروری، 2017

Talking Frog & a Veteran!

Dedicated to All Veterans:

A 75 year old Retired Army Officer  had one hobby - he loved to fish.

He was sitting in his boat the other day when he heard a voice say:
 'Pick me up'. He looked around and couldn't see anyone.

He thought he was dreaming when he heard the voice say again, ''Pick me up'.

He looked in the water and there, floating on the top, was a frog.

The Officer said, 'Are you talking to me'?

The frog said, 'Yes, I'm talking to you. Pick me up, then kiss me; and I'll turn into the most beautiful woman you have ever seen. I'll make sure that all your friends are envious and jealous, because I will be your bride!'

The Retired Officer looked at the frog for a short time, reached over, picked it up carefully and placed it in his shirt pocket.

The frog said, 'What, are you nuts? Didn't you hear what I said?'

I said, 'Kiss me, and I will be your beautiful bride'.

He opened his pocket, looked at the frog and said:

'Naaah. At my age, I'd rather have a talking frog listen to my stories'.

WITH AGE - COMES WISDOM

سوموار، 27 فروری، 2017

یہ ہے کراچی - ہمارا پاکستان !

کراچی کے چند ہسپتال جو مختلف امراض میں مبتلا مریضوں کو حتی الامکان مفت علاج فراہم کرتے ہیں۔

01- سوٹ  SUIT
گردوں کے تمام امراض کے علاج کے لئے ایک ورلڈ کلاس ہسپتال, مریض کے داخلے سے لے کر تمام ٹیسٹ, آپریشن, ڈائلاسس,  دوائیاں, یہاں تک کہ مریض اگر چھوٹا بچہ ہے تو اس کے پیمپرز تک ہسپتال مہیا کرتا ہے۔ پورے پاکستان سے مریض یہاں آتے ہیں واپس کسی کو نہیں کیا جاتا البتہ مرض کی شدت کے حساب سے وقت دیا جاسکتا ہے۔ ڈونرز ایک دو کے علاوہ سب نامعلوم۔ 
 http://www.siut.org/

02- انڈس ہسپتال
کورنگی میں انڈس ہسپتال 2007 سے خدمات انجام دے رہا ہے ابھی تک بھی اس کے احاطہ میں توسیع کا کام مسلسل جاری ہے۔ دل کے جملہ امراض کے لئے بالکل مفت علاج ۔https://en.m.wikipedia.org/wiki/Indus_Hospital

03- بیت السکون
ہل پارک پر واقع کینسر ہسپتال, پہلے ٹیسٹ سے لے کر آپریشن اور پھر کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور پھر دوائیاں بھی بالکل مفت۔ کوئ انکوائری نہیں آپ کا اتنا بتادینا کافی ہے کہ آپ مستحق ہیں ۔ 

http://www.kpws.org04- کرن ہسپتال
کراچی یونیورسٹی سے آگے حکومت پاکستان کے اٹامک انرجی کمیشن کے زیر انتظام چلنے والے ملک بھر کے بارہ ہسپتالوں میں سے ایک۔ تشخیص, آپریشن, کیمو تھراپی, ریڈی ایشن اور دوائیاں کل ملا کر تین سے پانچ لاکھ روپے میں کینسر کا مکمل علاج۔
http://www.kpws.org

04- جناح ہسپتال کراچی :
حال ہی میں چند مخیر حضرات کے تعاون سے کینسر کا علاج جدید مشینوں پر کرنے کے لئے کام جاری ہے اور یہ علاج بھی مکمل فری آف کاسٹ بتایا جارہا ہے ۔

اس کے علاوہ مختلف کمیونیٹیز کے زیر انتظام چلنے والے چھوٹے چھوٹے بیشمار ہسپتال کراچی میں موجود ہیں جو کسی نمود و نمائش کی چاہ کے بغیر خدمت خلق انجام دے رہے ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگر آپ اپنے شہر کے ایسے کسی بھی طبی مرکز سے واقف ہیں تو اسے سوشل میڈیا پر ڈالیں تاکہ عوام الناس کا بھلا ہو ! 
 
 مہاجرزادہ

یہ ہے میرا پاکستان

یہ ہے میرا پاکستان !
:::::::::::::::::::::::::
تحریر رعایت ﷲ فاروقی

2005ء کا ہولناک زلزلہ آیا تو اس سے خیبر پختون خوا میں واقع میرا ضلع بھی متاثر تھا۔ 
میں اور میرا بھائی اس ضلع میں مدد کو پہنچے تو ہمارے ساتھ ہمارے دو پنجابی اور دو مہاجر دوست بھی تھے جو اپنے ذاتی لاکھوں روپے وہاں خرچ کرنے آئے تھے۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

کچھ عرصہ قبل میرا ایک بھائی اپنے دوستوں کے ساتھ نصف شب کے وقت سندھ کی ایک ویران شاہراہ سے گزر رہاتھا تو ٹائر پنکچر ہو گیا۔ وہ ٹائر بدلنے کو روکے تو پیچھے سے ایک بڑی گاڑی بھی آ کر رک گئی، ایک وڈیرہ ٹائپ شخص اپنے گن مینوں کے ساتھ اترا اور وہیں کھڑا ہو گیا۔ میرے بھائی نے شکریہ ادا کرکے آگاہ کیا کہ کسی قسم کی مدد درکار نہیں تو وہ یہ کہہ کر آخر تک کھڑا رہا
"یہ علاقہ محفوظ نہیں، آپ کو تنہاء نہیں چھوڑا جا سکتا"
یہ ہے میرا پاکستان

میں نصف شب کے قریب اسلام آباد کے جی 8 سیکٹر سے ایک کرسچئن کی ٹیکسی میں بیٹھ کر پنڈی اپنے گھر آیا اور جیب میں صرف ہزار کا نوٹ تھا، چینج نہ ہونے کے سبب میں نے یہ کہہ کر وہ نوٹ اسے دیدیا 
"جب بھی اس علاقے میں آنا ہو بقایا دے جانا" 
وہ کرسچئن اگلے روز 700 روپے گھر دے گیا۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

اسلام آباد کے آئی 10 سیکٹر میں میرا بیٹا بیمار ہوا، میں ٹیکسی والے سے بھاؤ تاؤ کئے بغیر فورا اسے ٹیکسی میں ڈال کر پمز پہنچا اور ٹیکسی والے سے کرایہ پوچھا تو اس نے کہا 
"میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" 
عرض کیا "مجھے کوئی تنگی نہیں، آپ لے لیں"
 تو اس نے کہا "اللہ آپ کو اور دے مگر میں مریضوں سے کرایہ نہیں لیتا" 
یہ ہے میرا پاکستان

میں بہت ہی اداس کیفیت میں کراچی کے ایک چائے خانے پر بہت دیر سے بیٹھا تھا، دس برس کا کوئٹہ والا ویٹر بچہ میرے پاس آیا اور مسکراتے ہوئے پوچھا 
"تم کیوں اتنا پریشان بیٹھا ہے ؟" 
اور میرا سارا دکھ اسی لمحے ختم ہوگیا۔ 
یہ ہے میرا پاکستان

جو میرے اس پاکستان میں نفرت کا پرچار کرے وہ میرا دوست تو ہرگز نہیں ہو سکتا۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
تو پھر " رعایت ﷲ فاروقی " اپنے پاکستان کا قرض اتاریں ،
مہاجر ، سندھی ، بلوچی ، پنجابی اور پختون پاکستانیوں کو قتل کرنے والوں کو سہارا دیں ۔
اپنے پختون بھائیوں کو بتائیں ، کہ نفرت مت پھیلائیں ۔
پشتون یا افغان پشتون، نسل کَش دھشت گرد کو دہشت گرد کہیں ۔
اُسے معصوم اور بھٹکے ہوئے کہہ کر، منافقت کا لبادہ مت پہنائیں ۔
یاد رہے گمشدہ ماضی کے پشتون ، پختون خواہ نہیں ، دہشت گرد ہیں  

 مہاجرزادہ
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


جن کے ھاتھ پہ لگا ہے خون



ملک پر  ہےآسیب کا سایہ    
آؤ قلعوں میں جم کر بیٹھیں

کوئی یہاں نہ  گُھسنے پائے
کوئی یہاں نہ قدم جمائے

جپیں ہم سب امن کی مالا
ہمارا سکون رہے دوبالا

شیطانوں کی ہے کوشش
بدلیں چولا ، پہن کے پوشش

بھکاری کے روپ میں آئیں
ساتھ اپنے مصیبت لائیں

لیکن اِک پہچان ہے یارو
اپنی بولی کیسے چھپائیں

جن کے ھاتھ پہ لگا ہے خون
باڈر پار کے نہیں ہیں، اپنے پشتون
 

اتوار، 26 فروری، 2017

تاریخ ساز شخصیات - ملک معراج خالد

تقریباً ایک صدی  قبل یعنی20ستمبر1916ء کو لاہور کے ایک نواحی گاؤں میں ایک بچہ پیدا ہوا‘ چاربہن بھائیوں میں یہ سب سے چھوٹاتھا‘ پوراگاؤں ان پڑھ مگر اسے پڑھنے کا بے حد شوق تھا‘اس کے گاؤں میں کوئی سکول نہ تھالہٰذا یہ ڈیڑھ میل دور دوسرے گاؤں پڑھنے جاتا‘راستے میں ایک برساتی نالے سے اسے گزرناپڑتا‘چھٹی جماعت پاس کرنے کے بعد وہ 8میل دور دوسرے گاؤں میں تعلیم حاصل کرنے جاتا‘اس نے مڈل کا امتحان امتیازی نمبروں سے پاس کیا اور وظیفہ حاصل کیا‘مذید تعلیم حاصل کرنے لاہورآیا‘یہاں اس نے سنٹرل ماڈل سکول میں(جوکہ اس وقت کا نمبر 1سکول تھا) داخلہ لے لیا‘اس کا گاؤں شہر سے13کلومیٹر دور تھا‘ غریب ہونے کی وجہ اسے اپنی تعلیم جاری رکھنا مشکل تھی مگر اس نے مشکل حالات کے سامنے ہتھیار نہ پھینکے بلکہ ان حالات کے مقابلہ کرنے کی ٹھانی۔ اس نے تہیہ کیا کہ وہ گاؤں سے دودھ لے کرشہر میں بیچے گا اور اپنی تعلیم جاری رکھے گا چنانچہ وہ صبح منہ اندھیرے اذان سے پہلے اٹھتا‘ مختلف گھروں سے دودھ اکٹھا کرتا‘ڈرم کو ریڑھے پر لاد کر شہر پہنچتا‘ شہر میں وہ نواب مظفر قزلباش کی حویلی اور کچھ دکانداروں کو دودھ فروخت کرتا اور مسجد میں جا کر کپڑے بدلتا اور سکول چلا جاتا‘ کالج کے زمانہ تک وہ اسی طرح دودھ بیچتا اور اپنی تعلیم حاصل کرتا رہا‘ اس نے غربت کے باوجود کبھی دودھ میں پانی نہیں ملایا۔
بچپن میں اس کے پاس سکول کے جوتے نہ تھے‘ سکول کے لئے بوٹ بہت ضروری تھے‘ جیسے تیسے کر کے اس نے کچھ پیسے جمع کر کے اپنے لیے جوتے خریدے‘ اب مسئلہ یہ تھا کہ اگر وہ گاؤں میں بھی جوتے پہنتا تو وہ جلدی گھِس جاتے چنانچہ وہ گاؤں سے والد کی دیسی جوتی پہن کر آتا اور شہر میں جہاں دودھ کا برتن رکھتا وہاں اپنے بوٹ کپڑے میں لپیٹ کر رکھ دیتا اور اپنے سکول کے جوتے پہن کے سکول چلا جاتا۔ والد سارا دن اور بیٹا ساری رات ننگے پاؤں پھرتا‘ 1935ء میں اس نے میٹرک میں نمایاں پوزیشن حاصل کی اور پھر اسلامیہ کالج ریلوے روڈ لاہور میں داخلہ لیا‘ اب وہ اپنے تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لئے گاؤں سے ریڑھیمیں دودھ لاتا اور شہر میں فروخت کر دیتا ‘اس کام میں کبھی اس نے عار محسوس نہ کیا‘ فرسٹ ائیر میں اس کے پاس کوٹ نہ تھا اور کلاس میں کوٹ پہننا لازمی تھا چنانچہ اسے کلا س سے نکال کر غیر حاضری لگا دی جاتی‘ اس معاملے کا علم اساتذہ کو ہوا تو انہوں نے اس ذہین طالبعلم کی مدد کی‘ نوجوان کو پڑھنے کا بہت شوق تھا‘ 1939ء میں اس نے بی اے آنر کیا‘ یہ اپنے علاقہ میں واحد گریجویٹ تھا‘یہ نوجوان اس دوران جان چکا تھا کہ دنیا میں کوئی بھی کام آسانی سے سرانجام نہیں دیا جا سکتا‘ کامیابیوں اور بہتریں کامیابیوں کے لیے ان تھک محنت اور تگ و دو لازمی عنصر ہے۔
معاشی دباؤ کے تحت بی اے کے بعد اس نے باٹا پور کمپنی میں کلرک کی نوکری کر لی چونکہ اس کا مقصد اور گول لاء یعنی قانون پڑھنا تھا لہٰذا کچھ عرصہ بعد کلرکی چھوڑ کر قانون کی تعلیم حاصل کرنے لگا اور 1946ء میں ایل ایل بی کا امتحان پاس کر لیا۔ 1950ء سے باقاعدہ پریکٹس شروع کر دی‘ اس پر خدمت خلق اور آگے بڑھنے کا بھوت سوار تھا‘ اس نے لوگوں کی مدد سے اپنے علاقے میں کئی تعلیمی ادارے قائم کیے‘ اس جذبہ کے تحت 1965ء میں مغربی پاکستان اسمبلی کا الیکشن لڑا اور کامیاب ہوا‘ پیپلزپارٹی کے روٹی‘ کپڑا اور مکان کے نعرے سے متاثر ہو کر اس میں شامل ہو گیا۔ 1970ء میں پیپلزپارٹی کے ٹکٹ پر ایم این اے منتخب ہوا اور نواب مظفر قزلباش کے بھائی کو جن کے گھر یہ دودھ بیچتا کرتا تھا‘ شکست دی۔ 1971ء میں دوالفقار علی بھٹو کی پہلی کابینہ میں وزیر خوراک اور پسماندہ علاقہ جات بنا‘ 1972ء کو پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب کا وزیراعلیٰ بنا‘ وزارت اعلیٰ کے دوران اکثر رکشے میں سفر کرتا‘ اپنے گورنر مصطفی کھر کے ساتھ نبھانہ ہونے کی وجہ سے استعفیٰ دے کر ایک مثال قائم کی‘ 1973ء میں اقوام متحدہ میں پاکستانی وفد کی قیادت کی‘ 1973ء میں وفاقی وزیر قانون و پارلیمانی امور کا قلمدان سونپا گیا۔ 1976ء میں وفاقی وزیر بلدیات و دیہی مقرر گیا‘ دو دفعہ سپیکر قومی اسمبلی بنا اور 4 سال تک انٹر نیشنل اسلامک یونیورسٹی کا ریکٹر رہا۔
ایک مفلس و قلاش ان پڑھ کسان کا بیٹا جس نے کامیابی کا ایک لمبا اور کٹھن سفر اپنے دودھ بیچنے سے شروع کیا اور آخر کار پاکستان کا وزیراعظم بنا‘ یہ پاکستان کا منفرد وزیراعظم تھا جو ساری عمر لاہور میں لکشمی مینشن میں کرائے کے مکان میں رہا‘ جس کے دروازے پر کوئی دربان نہ تھا‘ جس کا جنازہ اسی کرائے کے گھر سے اٹھا‘ جو لوٹ کھسوٹ سے دور رہا‘ جس کی بیوی اس کے وزارت عظمیٰ کے دوران رکشوں اور ویگنوں میں دھکے کھاتی پھرتی ۔ میرے قارئین اور ہم وطنو! ملک معراج خالد تاریخ کی ایک عہد ساز شخصیت تھے‘ آپ 23 جون 2003 ء کو اس دار فانی سے رخصت ہوئے‘ ان کے ہم سے رخصت ہوئے  14 سال ہو گئے ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ایسے لوگ تاریخ میں کبھی کبھی پیدا ہوتے ہیں ، جو زمانے کی گرد سے اپنی محنت سے نمودار ہوتے ہیں ۔

ہفتہ، 25 فروری، 2017

آئیں اپنےگریبان میں جھانکیں

کروڑوں کے بجٹ میں غبن کرکہ دس لاکھ کی سڑک بنانے والا ایم پی اے...

لاکهوں غبن کرکہ دس ہزار کے ہینڈ پمپ لگانے والا جابر ٹهیکدار...

ہزاروں کا غبن کرکہ چند سو میں ایک نالی پکی کرنے والا ضمیر فروش ممبر صاحب...

مسجد کے ممبر  پر بیٹها ہوا بے عمل مولوی....

پوری رات دلالی کرکہ فاحشہ کو 30 ہزار میں 5 ہزار دینے والا منحوس دلال...

غلہ اگانے کے لیے بهاری بهرکم سود پہ قرض دینے والا ظالم چودهری صاحب..

زمین کے حساب کتاب و پیمائش میں کمی بیشی کرکہ اپنے بیٹے کو حرام مال کا مالک بنانے والا پٹورای.....

کم ناپ تول کرکہ دوسروں کا حق کم کرکے پورا پیسہ لینے والا دکاندار..

خالص گوشت کے پیسے وصول کرکہ ہڈیاں بهی ساتھ تول دینے والا قصائی...

خالص دودھ کا نعرہ لگا کر پانی پاوڈر کی ملاوٹ کرنے والا گوالا۰۰۰

500 یونٹ  کو 1500 یونٹ لکهنے والا میٹر ریڈر....

چائے کی پتی میں رنگ ملانے والا چائے فروش ۰۰

گاڑی کے اوریجنل سپیئر پارٹس نکال کر دو نمبر لگانے والا  مستری....

100 روپے کی رشوت لینے والا عام معمولی سا
سپاہی....

بے گناہ کے ایف آئی آر میں دو مزید ہیروئین کی پوڑیاں لکهنے والا انصاف پسند اور ہر دلعزیز ایس ایچ او...

معمولی سی رقم کے لیے سچ کو جهوٹ اور جهوٹ کو سچ ثابت کرنےوالا وکیل.....

گهر میں رہ کر اسکول میں حاضری لگوا کر حکومت سےتنخواہ لینے والا مستقبل کی نسل کا معمار استاد..

دس روپے کے سودے میں ایک روپیہ غائب کردینے والا بچہ..

آفیسر کے لیے رشوت لے جانے والا معمولی سا چپڑاسی...

کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں میچ فکسنگ کر کےملک کا نام بدنام کرنےوالا کھلاڑی ۰۰۰

دشمن ملک میں شہرت اور دولت کی خاطر ملک کی عزت خاک میں ملانے والا اداکار اور گلوکار۰۰۰

ماں باپ کی عزت نیلام کرکےکئی لڑکوں کے ساتھ تعلقات رکهنے والی بیٹی ...

ساری رات ننگا ناچ اور فحش فلمیں دیکھ کر فجر کو اللہ اکبر سنتے ہی سونے والا نوجوان ...



زکات، ڈونیشن اور بھیک سے اپنی خاندانی شان و شوکت بڑھا کر حساب نہ دینے والا ۔ ۔  ۔!

کرایہ دار سے ظلم کی کمائی کھانے والا مالکِ مکان۔ ۔ !

اور......

اپنے قلم کو بیچ  کر پیسہ کمانے والا صحافی.....

سب مل کر کہہ رہے ہیں ہمارا وزیر اعظم چور ہے..

کہیں ہم سب خود میں ایک پانامہ کیس  تو نہیں؟؟؟



آئیں اپنےگریبان میں جھانکیں کہ ہم کہاں کھڑے ہیں ۔

جمعہ، 24 فروری، 2017

Epic Bargain

Sorry Mr. Governor General you don't have permission.....!

This interesting history is attached to the picture below, which was taken on 21 February 1948, while Founder can be seen reviewing anti-aircraft guns (only trail of the gun is visible in picture) at Army Air Defense unit at PAF Malir Air Base Karachi. (It was Army Air Defense Unit, which was tasked to defend the PAF Base Malir)
The history of this unique picture, dates back to 1948, when during a curfew, the convoy of the Founder was stopped by an Army sentry. Due to curfew in city the convoy was being moved from the link road passing from the Cantonment. This road was not regularly used by Quaid. The sentry knew that Quaid is sitting in the car but out of his sheer love for Quaid, he stopped the convoy by not opening the barrier.
The sentry saluted Quaid and asked, if the founder had the permission to move about in the curfew? Founder was surprised on the question but with a fatherly smile he said, "No Son, I don't have Permission".  After receiving the answer in negative from the Founder, the sentry gladly offered him a deal for allowing him to pass through this road.
The Founder accepted that deal; which was to visit the unit, from which the sentry belonged to. The unit was 5 Heavy Anti Aircraft Regiment. (now known as 5 Light SAM - Surface To Air Missile Regiment).
Meanwhile the news spread like fire in Cantonment and military high-ups' rushed to 5 Heavy AD Regiment to extricate Founder from this situation. After arrival of perturbed Brigade Commander, he requested Founder to continue his journey but Founder smiled while looking towards the sentry and said, "No, we already had a deal"
Quaid visited 5 Heavy (AA) (Anti Aircraft) Regiment on 21 February 1948, where this picture was taken. Brigade Commander (Brig Akbar) is standing (right most) with Fatima Jinnah while the Commanding Officer of the Regiment is briefing Founder about Anti Air Craft Gun.
   
This was the first ever military unit to be visited by Founder. Owing to this unique honor of the unit, 5 light SAM is the only unit in Pakistan Army that is reviewed in Salaam Fung (Present Arms) position and not Bazu Fung as in case of rest of the Army, Navy and Airforce establishments.



جمعرات، 23 فروری، 2017

پشتو بولنے والا باجوڑ ایجنسی کا انوار الحق

انوار الحق کا تعلق باجوڑ ایجنسی سے تھا‘ یہ پندرہ سال کی عمر میں روزگار کے سلسلے میں لاہور آ یا‘ لاہور کا لنڈا بازار اس کا ٹھکانہ بنا‘ انوار الحق کے خاندان کے لوگ لنڈے کا کام کرتے تھے‘ یہ لوگ لاہور میں پرانے کپڑے‘ پرانے کمبل‘ پرانی جیکٹیں اور پرانے جوتے بیچتے تھے‘ انوار الحق کے چار بھائی اس  کاروبار سے منسلک تھے‘ یہ بھی لنڈے سے وابستہ ہو گیا‘ یہ شروع میں پرانے کپڑے کندھے پر رکھ کر پھیری لگاتا تھا‘ یہ بعد ازاں دکانوں کے سامنے ٹھیلا لگانے لگا اور یہ آخر میں تھوک کا کاروبار کرنے لگا.

یہ بیس سال لنڈے کا کام کرتا رہا‘ انوار الحق نے اس دوران شادی بھی کر لی اور اس کے بچے بھی ہو گئے‘ یہ سال چھ ماہ میں باجوڑ کا ایک آدھ چکر بھی لگا لیتا تھا اور یہ رشتے داروں سے ملاقات کے لئے افغانستان بھی چلا جاتا تھا. یہ 2010ء کے بعد زیادہ تواتر سے افغانستان جانے لگا‘ افغانستان میں اس کی ملاقات تحریک طالبان پاکستان کے لوگوں کے سے ہونے لگی. یہ ملاقاتیں رنگ لائیں اور یہ بھی ان لوگوں کے ساتھ شامل ہو گیا‘ یہ افغانستان سے ٹریننگ بھی لینے لگا‘ یہ لوگ اسے مالی معاونت بھی دیتے تھے‘ یہ سلسلہ چلتا رہا‘ تحریک کے لوگ ٹوٹتے بکھرتے رہے‘ یہ مختلف گروپوں اور گروہوں میں تقسیم ہوتے رہے یہاں تک کہ اگست 2014ء میں تحریک طالبان طالبان کے ایک گروہ نے جماعت الاحرار کے نام سے الگ گروپ بنا لیا‘ انوار الحق اس گروپ میں شامل ہو گیا‘ یہ لوگ پاکستان میں چھوٹی بڑی کارروائیاں کرتے رہے‘ جماعت الاحرار نے 2017ء کے شروع میں پاکستان میں بھرپور کارروائیوں کا فیصلہ کیا‘ انوار الحق کو اطلاع کر دی گئی‘ یہ تیار بیٹھا تھا‘ پہلا مرحلہ خودکش جیکٹ افغانستان سے لاہور پہنچانا تھا‘ جماعت الاحرار نے یہ ذمہ داری عارف نام کے ایک شخص کو سونپ دی‘ عارف نے باجوڑ ایجنسی کے ایک ٹرک ڈرائیور کی خدمات حاصل کیں‘ ٹرک ڈرائیور کو بتایا گیا ”ہم ہیروئن کی کھیپ لاہور پہنچانا چاہتے ہیں“ ڈرائیور مان گیا.
دو لاکھ روپے میں سودا ہوا‘ ڈرائیور نے یہ جیکٹ لاہور میں انوار الحق تک پہنچا دی‘ اگلا مرحلہ خودکش حملہ آور تھا‘ انوار الحق کو پیغام دیا گیا‘ خودکش فدائی تیار ہے‘ یہ فدائی طورخم پہنچا دیا جائے گا‘ یہ اسے طورخم سے وصول کر لے‘ انوارالحق خاندان سے ملاقات کے بہانے پشاور گیا‘ یہ طورخم پہنچا اور جماعت الاحرار کے لوگوں نے فدائی اس کے حوالے کر دیا‘ فدائی کا نام نصر اللہ تھا‘ یہ افغانستان کے صوبے کنڑ سے تعلق رکھتا تھا‘ وہ 16 سال کا نوجوان تھا‘ وہ پشتو کے علاوہ کوئی زبان نہیں جانتا تھا‘ انوار الحق فدائی کو بس کے ذریعے لاہور لے آیا۔
جماعت الاحرار نے انوار الحق کو پولیس پر حملے کا ٹارگٹ دیا تھا‘ اس نے لاہور میں زیادہ سے زیادہ پولیس اہلکاروں کو شہید کرنا تھا‘ انوار الحق کا خیال تھا یہ کام مال روڈ پر ہونا چاہیے‘ کیوں؟ اس کی دوجوہات تھیں‘ پہلی وجہ مال روڈ کی اہمیت تھی‘ لاہور کا مال روڈ پورے پاکستان میں مشہور ہے‘ اس مشہور روڈ پر خودکش حملے کا زیادہ اثر ہوتا‘ دوسرا مال روڈ پر ہر وقت پولیس کی کوئی نہ کوئی وین کھڑی رہتی ہے اور اس وین میں ہمیشہ دس بیس پولیس اہلکار بیٹھے رہتے ہیں‘ یہ لوگ بڑی آسانی سے خودکش حملے کا نشانہ بن سکتے تھے‘
انوارالحق مال روڈ لاہور کی ریکی کرنے لگا‘ یہ روز مال روڈ کا چکر لگاتا تھا اور ان جگہوں کا اندازہ کرتا تھا جہاں عموماً پولیس وینز کھڑی رہتی ہیں‘ مال روڈ پراسے پنجاب اسمبلی کی عمارت زیادہ مناسب جگہ محسوس ہوئی‘ اس اندازے کی بھی دو وجوہات تھیں‘ پہلی وجہ پنجاب اسمبلی کا سیاسی وقار تھا‘ پنجاب اسمبلی کے سامنے خود کش حملے کی خبر پوری دنیا میں پھیل جاتی اور یہ دہشت گردوں کا سب سے بڑا مقصد تھا‘ دوسرا پنجاب اسمبلی کے سامنے ہر وقت پولیس کی بھاری نفری موجود رہتی ہے چنانچہ پولیس کو اس جگہ ٹارگٹ کرنا آسان تھا‘ انوار الحق ریکی کرتا رہا یہاں تک کہ سوموار 13 فروری کا دن آ گیا.
انوار الحق نے ٹیلی ویژن پرفارما سوٹیکل انڈسٹری اور میڈیکل سٹورز ایسوسی ایشن کے کارکنوں کو مال روڈ پر جمع ہوتے اور درجنوں پولیس اہلکاروں کو ان کے گرد گھیرا ڈالتے دیکھا‘ یہ احتجاج اور پولیس کی یہ نفری انوارالحق کےلئے سنہری موقع تھا‘ یہ مال روڈ پہنچا‘ اس نے کھلی آنکھوں سے موقع دیکھا‘ یہ واپس گیا‘ فدائی کو اٹھایا‘ جیکٹ پہنائی اور اسے موٹر سائیکل پر بٹھا کر مال روڈ پہنچ گیا‘ یہ دونوں ٹمپل روڈ کے راستے مال روڈ تک پہنچے تھے‘ انوارالحق نے موٹر سائیکل کھڑی کی‘ فدائی نصراللہ کو ساتھ لیا‘ یہ دونوں باتیں کرتے ہوئے احتجاجیوں کے قریب پہنچے اور لوگوں میں گھل مل گئے‘ ڈی آئی جی احمد مبین مظاہرین سے ملاقات کے لئے 45 منٹ قبل وہاں پہنچے تھے جبکہ ایس ایس پی زاہد گوندل آدھ گھنٹہ پہلے وہاں آئے تھے‘ یہ دونوں باری باری مظاہرین سے گفتگو کر رہے تھے‘ انوارالحق نے فدائی نصراللہ کو پولیس افسروں کی طرف دھکیلا اور خود تیزی سے پیچھے ہٹ گیا‘ وہ ٹمپل روڈ کی طرف دوڑتا چلا گیا‘ وہ موٹر سائیکل کے پاس پہنچا‘ موٹر سائیکل سٹارٹ کی اور وہاں سے غائب ہو گیا.
انوارالحق کے روانہ ہوتے ہی زوردار دھماکے کی آواز آئی اور فضا دھوئیں سے بھر گئی‘ لاہور خون میں نہا گیا۔یہ دھماکہ خوفناک تھا‘ پورا ملک دہل کر رہ گیا‘ لاہور پولیس کا ایک حصہ لاشیں اٹھانے اور زخمیوں کو ہسپتالوں تک پہنچانے میں مصروف ہو گیا جبکہ دوسرا حصہ خود کش حملہ آور اور اس کے سہولت کاروں کی تلاش میں محو ہو گیا‘ پنجاب حکومت نے اکتوبر 2016ء میں سیف سٹی پراجیکٹ شروع کیا تھا‘ اس پراجیکٹ کے تحت لاہور شہر میں12ارب روپے سے سی سی ٹی وی کیمرے لگائے تھے.
یہ جدید ترین نظام تھا‘ پولیس نے کیمروں کی مدد لینا شروع کی تو پتہ چلا جہاں بم دھماکہ ہوا تھا وہاں کے کیمرے کام نہیں کر رہے تھے چنانچہ خودکش حملہ آورکو وہاں سے شناخت نہیں کیا جا سکتا‘ پولیس نے فوری طور پر قریب ترین علاقوں کے کیمروں کے ڈیٹا کا تجزیہ شروع کر دیا‘ پولیس کا دو قسم کے لوگوں پر فوکس تھا‘ وہ لوگ جو دن میں کم از کم دو تین بار دھماکے کی جگہ گئے اور یہ لوگ بعد ازاں شام کے وقت کسی اجنبی کے ساتھ دوبارہ وہاں آئے اور دوسرا یہ دھماکے سے چند لمحے قبل یا دھماکے سے فوری بعد واپس آئے, اور وہ اجنبی ان کے ساتھ نہیں تھا‘ پولیس نے ان دونوں سوالوں کو ذہن میں رکھ کر سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیج کا تجزیہ کیا اور یہ آدھ گھنٹے میں انوارالحق تک پہنچ گئے‘ یہ وہ شخص تھا جو دن میں تین بار اس جگہ اکیلا نظر آیا‘ یہ شام کے وقت ایک نوجوان کے ساتھ بھی وہاں آیا‘ یہ دونوں پیدل چلتے ہوئے دھماکے کی جگہ گئے‘ یہ بعد ازاں افراتفری کے عالم میں اکیلا واپس آیا‘ موٹر سائیکل پر سوار ہوا اور اس کے جانے کے چند سیکنڈ بعد دھماکہ ہو گیا‘ پولیس نے موٹر سائیکل کا ریکارڈ چیک کیا‘ پتہ چلا یہ موٹر سائیکل چوری شدہ ہے‘ مالک نے تھانے میں چوری کی باقاعدہ ایف آئی آر درج کرا رکھی ہے‘ چوری کی ایف آئی آر نے شک کی گنجائش ختم کر دی‘ پولیس نےانوارالحق کی تلاش شروع کر دی‘ پولیس کا روایتی طریقہ استعمال ہوا‘ وہ موٹر سائیکل جس طرف سے آئی تھی اور جس طرف گئی تھی وہ علاقہ خصوصی طور پر سرکل کر لیا گیا اور وہاں مخبر پھیلا دیئے گئے‘ پولیس کو انوارالحق تک پہنچنے میں دو دن لگ گئے یہاں تک کہ یہ لنڈا بازار پہنچی‘ انوارالحق کے کندھے پر ہاتھ رکھا اور یہ پولیس کی حراست میں آ گیا‘ دھماکے والے دن انوارالحق نے جو کپڑے پہن رکھے تھے پولیس نے وہ بھی برآمد کر لئے.
پولیس نے انوارالحق کو معمول کی کارروائی کے عمل سے گزارا اور انوارالحق نے تمام خفیہ معلومات پولیس کے حوالے کر دیں‘ وزیراعلیٰ پنجاب میاں شہباز شریف نے 17 فروری کو انوارالحق کا اعترافی بیان میڈیا کے سامنے رکھ دیا‘ یہ سارا آپریشن لاہور پولیس کے کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے کیا‘ یہ پولیس کی بہت بڑی کامیابی ہے اور یہ کامیابی ثابت کرتی ہے ہم اگر پولیس کو سہولتیں فراہم کریں‘ ہم اگر انہیں کام کی آزادی دیں اور ہم اگر ان پر اعتماد کریں تو یہ کمال کر سکتے ہیں‘ ہمیں ماننا ہو گا‘ دنیا کا ہر ملک جس طرح بیرونی جارحیت روکنے کےلئے فوج کا محتاج ہے یہ بالکل اسی طرح اچھی اور معیاری پولیس سروس کے بغیر اندرونی جارحیت نہیں روک سکتا‘ ہمیں بہرحال کبھی نہ کبھی پولیس کو بھی اتنی اہمیت اور ریسورسز دینا ہوں گے جتنے ہم افواج پاکستان کو دیتے آ رہے ہیں.
میں دل سے یہ سمجھتا ہوں ہم جب تک یہ توازن قائم نہیں کریں گے‘ ہم اس وقت تک یہ ملک نہیں چلا سکیں گے لیکن میں اس وقت سے پہلے لاہور پولیس بالخصوص کاﺅنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں‘ یہ لوگ ثابت کر چکے ہیں ہمارے ملک میں سسٹم بھی موجود ہے اور لوگ بھی کام کر رہے ہیں‘ ہمیں بس توجہ میں معمولی سا اضافہ کرنا ہوگا اور ہم دوبارہ ٹریک پر آ جائیں گے‘ لاہور پولیس کو بہت بہت مبارک ہو۔

مفتی چکرا گیا !

ﺍﻧﭩﺮﻧﯿﭧ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﻣﺬﮨﺒﯽ ﺳﻮﺍﻝ ﻭ ﺟﻮﺍﺏ ﮐﯽ ﻭﯾﺐ ﺳﺎﺋﭩﺲ ﭘﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﺑﮑﺜﺮﺕ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﻮ ﻣﻠﺘﮯ ﮨﯿﮟ۔ ﮐﭽﮫ ﺳﻮﺍﻻﺕ ﻣﻼﺣﻈﮧ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ !

** ﺍﮐﺜﺮ ﮔﮭﺮﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﮐﺌﯽ ﺳﺒﺰﯾﺎﮞ ﻣﮑﺲ ﮐﺮﮐﮯ ﭘﮑﺎﺋﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﻣﺜﻼً ﺁﻟﻮ، ﻣﭩﺮ ﺍﻭﺭ ﮔﺎﺟﺮﯾﮟ۔۔۔ﺳﻮﺍﻝ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﺮﻧﮯ ﺳﮯ ﮨﻢ ﻣﻼﻭﭦ ﮐﮯ ﻣﺮﺗﮑﺐ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﻗﺮﺍﺭ ﭘﺎﺗﮯ؟؟؟

** ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﮐﺜﺮ ﺳﻨﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻭﺿﻮ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﺩﯼ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻧﮑﺎﺡ ﺷﺮﻁ ﮨﮯ۔۔۔ ﭘﻮﭼﮭﻨﺎ ﯾﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﺎ ﮐﮩﻨﺎ ﺟﺎﺋﺰ ﮨﮯ؟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﺷﺮﻁ ﺗﻮ ﺍﺳﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺣﺮﺍﻡ ﮨﮯ !!

** ﻣﯿﺮﮮ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﮯ ﻭﺍﭨﺲ ﺍﯾﭗ ﻣﯿﮟ ﺍﮐﺜﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺩﻭﺳﺖ ﺑﯿﮩﻮﺩﮦ ﻭﮈﯾﻮ ﺑﮭﯿﺞ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ، ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺴﯽ ﻭﮈﯾﻮ ﻓﻮﺭﺍً ﮈﯾﻠﯿﭧ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﺩﻝ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ، ﺑﺮﺍﮦ ﮐﺮﻡ ﻓﺮﻣﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﮐﻮ ﭘﺎﮎ ﮐﯿﺴﮯ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ

** ﻣﺠﮭﮯ ﭘﺘﺎ ﭼﻼ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮﺗﻮﮞ ﭘﺮ ﻟﮕﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﯽ ﭘﺎﻟﺶ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﮑﻮﺣﻞ ﮐﺎ ﺑﮭﯽ ﺍﺳﺘﻌﻤﺎﻝ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﺍﺱ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﭘﺎﻟﺶ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮﺗﮯ ﭘﮩﻨﻨﺎ ﺣﻼﻝ ﮨﮯ؟ ﻧﯿﺰ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﻏﯿﺮ ﻣﺴﻠﻢ ﺳﮯ ﺟﻮﺗﺎ ﻣﺮﻣﺖ ﮐﺮﺍﻧﮯ ﺳﮯ ﮔﻨﺎﮦ ﺗﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ؟؟؟

** ﻭﯾﺴﮯ ﺗﻮ ﻣﯿﮟ ﺳﺎﺭﮮ ﮐﺎﻡ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮐﺮﺗﺎ ﮨﻮﮞ ﻟﯿﮑﻦ ﮔﺎﮌﯼ ﭼﻼﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﻣﺠﺒﻮﺭﺍً ﺑﺎﺋﯿﮟ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﮔﯿﺌﺮ ﻟﮕﺎﻧﺎ ﭘﮍﺗﺎﮨﮯ، ﮐﯿﺎ ﻣﯿﺮﯼ ﺑﺨﺸﺶ ﮨﻮﺟﺎﺋﮯ ﮔﯽ؟
** ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﺋﯿﮯ ﮐﮧ ﺍﻟﭩﮯ ﮨﺎﺗﮫ ﺳﮯ ﻣﻮﺑﺎﺋﻞ ﻓﻮﻥ ﺳﻨﻨﺎ ﺩﺭﺳﺖ ﮨﮯ؟

** ﺷﻠﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺟﯿﺐ ﺭﮐﮭﻮﺍﻧﺎ ﮐﯿﺴﺎ ﮨﮯ؟ ﺍﻭﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﯾﺴﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺟﯿﺐ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﺣﻼﻝ ﮨﯿﮟ؟


اور مُفتی ۔ ۔ ۔

ایک باپ کی فریاد !

 اے میرے بیٹے !
ماں کی آنکھوں کی ٹھنڈک !
میرے بڑھاپے کا سہارا !

 اے میرے بیٹے !
جس دن تو پیدا ہوا !
ہماری محنت کے دن شروع ہوگئے
تو روتا تھا ،
ہم جاگتے تھے،
تجھے خشک رکھنے کے لئے ۔
سردیوں میں بھیگ جاتی ۔
تیری ماں تجھے سلاتی تھی
تو کھاتا تھا ہم خوش ہوتے تھے ۔
تو نہیں کھاتا ہم پریشان ہوتے تھے۔

 اے میرے بیٹے !
تیری بیماری میں ہم در در پھرتے
کبھی اِس طبب کے پاس ،
کبھی اُس طبیب کے پاس ،
تیری ماں کی دعائیں اور وظائف
تیری ماں کی فریاد اور پکار
کہیں تجھے کچھ ہو نہ ہاجائے
کہیں تو مر نہ جائے
موت تو برحق ہے۔
لیکن بیماری کا راستہ
موت پر ختم ہوتا ہے ،
باپ کو کندھا دینا ،
اولاد کی اطاعت ہے
لیکن اولاد کو کندھا دینا
باپ کے صبر کا امتحان ہے ۔

 اے میرے بیٹے !
تجھے اپنے لئے پروان چڑھانے کے لئے۔
سینے سے لگا کر رکھا ۔
تھجے ٹھنڈ پہنچانے کے لئے ۔
پتھر توڑے تغاریاں اٹھائی ۔
سر سے بہنے والا پسینہ
ایڑیوں تک پہنچا ۔
اُس شدت کی گرمی میں ۔
جب پرندے انڈے چھوڑ دیتے ہیں۔

 اے میرے بیٹے !
جو کمایا تیرے لئے ،
جو بچایا تیرے لئے ،
تیرا بڑھتا ہوا قد،
میری جھکتی ہوئی قمر،
تیرے بازوؤں کی تڑپتی مچھلیاں
میری لرزتی ٹانگیں ،
میرے خواب کا حاصل ہیں،
جو تیری پیدائش پر دیکھا ،
تیری چھاؤں میں بیٹھوں ،
آخری سانسیں،
تیرے سہارے گذاروں

 اے میرے بیٹے !
میں وہ شجر ہوں ،
جس کے پتے جھڑنے لگے ہیں،
زمانے کی خزاؤں کے ستم سہتے ،
میں جھک گیا ،
تو سیدھا ہوگیا ،
تجھ پر جوانی آئی ،
مجھ پر بڑھاپا آیا ۔

پھر ،  اے میرے بیٹے !
تجھ پر جوانی آئی ،
تیرے تیور بدلے،
تیرے چہرے پہ شکنیں آئیں
تیرے ماتھے پہ آنکھوں آئیں ،
تیری آواز کا  کرخت لہجہ،
میرے دل کو تھرّا دیتا ہے ،
تیرا طعنہ میرے ذہن کو سُن کردیتا ہے۔
تیرا مخاطب کوئی اور نہیں باپ ہے تیرا
غلام نہیں ،

مگر، اے میرے بیٹے !
میں نے سوچا ، یہ عقدہ کھلا مجھ پر،
یہ سچ تو ہے کہ میں تھا غلام تیرا،
تیرے ہر ایک سوال کو پورا کرتا،
تیرے ہر حکم کو میں بخوشی بجالایا،
اپنی محنت سے تیری خوشیوں کو خریدا میں،
 غلام ہوں اب ، جو باپ ہوا کرتا تھا تیرا
غلام کی بس اِس کے علاوہ قسمت کیا ہے ،
روٹی کی خواہش اورتمناءِ خدمت آقا

منگل، 21 فروری، 2017

پتہ نہیں کب اسے انسان کھا گئے

میری اور اس کی ملاقات بہشت کے بند پڑے دروازے پر ہوئی تھی۔

میں اُس سے ذرا دیر پہلے، بڑی لمبی اور کٹھن مسافت کے بعد، پیچیدہ در  پیچیدہ راستوں سے گزرتی، اپنے لہولہان پُرزوں کا بوجھ اُٹھائے، تھکن سے چوُر بہشت کے بند پڑے دروازے تک پہنچی تھی اور ٹوٹ چکی سانس کے ساتھ دروازے کے سامنے یوں آ گری تھی، جیسے شکار ہو چکا پرندہ!

مجھ سے کچھ ہی دیر بعد وہ بھی لہولہان، ایک ہاتھ میں اپنا کٹا سر پکڑے ہوئے اور دوسرے ہاتھ سے اپنے ٹکڑوں کا ڈھیر گھسیٹتا، ہانپتا ہوا، میرے سامنے بہشت کے بند دروازے پر یوں اُترا تھا، جیسے بہت جلدی میں اندھا دھند دوڑا چلا آ رہا ہو! اپنے اِرد گِرد کا بھی ہوش نہ تھااُسے! بس پہنچتے ہی اُس نے بہشت کے دروازے سے اپنے پُرزے اور تن سے جُدا ہو چکا سر ٹکرانا اور چلّانا شروع کر دیا کہ “دروازہ کھولو ۔۔۔ میں آ گیا ہوں ۔۔۔۔ حوروں کو بتاؤ میں پہنچ چکا ہوں ۔۔۔ فرشتوں سے کہو میں بہشت کے دروازے پر کھڑا ہوں۔۔۔ فرشتو! ۔۔۔۔۔ حورو! ۔۔۔۔ آؤ ۔۔۔۔ مجھے سلام پیش کرو ۔۔۔ میں زیادہ دیر انتظار نہیں کر سکتا۔۔۔ میں بہت تھکا ہوا ہوں۔۔۔ سیدھا قربانی دے کر آ رہا ہوں۔۔۔ ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہوں۔۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔۔دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔۔ حورو!۔۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔۔فرشتو! ۔۔۔ دروازہ کھولو ۔۔۔۔۔ حورو! ۔۔۔فرشتو ! “

بڑا ہی مالکانہ انداز تھا اُس کا! جیسے یہ طے تھا کہ اس دروازے کو اُس کے لیے کھلنا ہی ہے!

مگر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔

انسان کی حدِ نگاہ سے بھی اونچا، خلا میں کہیں جا کر اوجھل ہوتا ہوا بھاری اور دبیز دروازہ یوں ساکت و جامد کھڑا تھا جیسے ایک سانس جتنی جنبش کی بھی اجازت نہ ہو اُسے! سیاہی مائل قدیم ترین لکڑی پر پڑی خراشیں بتا رہی تھیں کہ میری اور اُس کی طرح کے کئی اِس دروازے سے سر ٹکراتے رہے ہیں! کس پر یہ دروازہ کھلا اور کس پر نہیں، کسی بھی نشاں میں مگر کوئی جواب نہ تھا!

وہ اپنا تن سے جُدا ہو چکا سر بہشت کے بند دروازے سے ٹکراتے ٹکراتے جب نڈہال ہوا تو شاید پہلی بار میری طرف متوجہ ہوا۔ مگر یوں چونکا جیسے میری موجودگی اس کے لیے مقامِ حیرت ہو! اس کی کٹی پھٹی پیشانی پر بل سا پڑ گیا

” تو کون ہے؟”

“میں؟”

میں نے اپنے کٹ چکے پُرزوں پر نگاہ ڈالی تو لگا کہ کچھ بھی تو نہیں رہی میں! سوائے گوشت کے لوتھڑوں کے! پر جس احساس کی شدت کے ساتھ میں بارود، دھول اور دھویں سے تڑپ کر اُٹھی تھی اور آہ و بکا کرتی اِس طرف دوڑی چلی آئی تھی، وہی بے اختیار کہہ بیٹھی

” میں ایک ماں ہوں “

اُس نے مجھے سر سے پاؤں تک ایک حقارت بھری نگاہ سے دیکھا

” مگر توُ تو عورت ہے!”

“عورت ہی تو ماں ہوتی ہے” میں نے اُسے یاد دلانا چاہا

“مگر یہاں بہشت کے دروازے پر ایک عورت کا کیا کام! “

بہشت پر اُس کے مالکانہ انداز سے میں گھبرا گئی تھی کہ کہیں وہ اس دروازے سے مجھے ہٹانے کا اختیار نہ رکھتا ہو!

” میں تو بس اس دروازے کے راستے ایک ذرا سی فریاد بھیجنے آئی ہوں اپنے ربّ کے حضور”

” فریاد؟ کیسی فریاد؟ بہشت فریاد داخل کرنے کی جگہ نہیں ہے عورت! بہشت تو مومن کے عمل کا صلہ ہے۔۔۔۔جیسے میں اپنا صلہ لینے آیا ہوں”

ساتھ ہی اُس نے اپنے کٹے پھٹے کندھوں کو یوں چوڑا کیا جیسے اپنے سینے پر لگا کوئی تمغہ دکھانا چاہتا ہو مجھے! لمحہ بھر میں ہی اُس نے مجھے کسی ایسے ملزم کا سا کر دیا تھا جو پرائے گھر کے دروازے پر مشکوک حالت میں پکڑا گیا ہو اور اب اپنی صفائی پیش کر رہا ہو!

” نہیں نہیں ۔۔۔۔ میں کوئی صلہ مانگنے نہیں آئی۔۔۔۔

میں تو خودکُش دھماکے میں مارے گئے لوگوں میں سے ایک ہوں۔۔۔۔۔
پیچھے رہ گئے میرے چار چھوٹے چھوٹے سے بچّے دھماکے والی جگہ پر مجھے آوازیں دیتے پھر رہے ہیں اور بکھرے پڑے انسانی اعضاء میں مجھے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔۔۔۔
ماں ہوں نا۔۔۔ بے بسی کے ساتھ اُن کی بے بسی دیکھ نہیں سکتی۔۔۔ ابھی تو وہ خود سے جینا بھی نہیں سیکھ پائے کہ میں پُرزے پُرزے ہو کر بکھر گئی! بس یہی فریاد اپنے رب تک پہنچانے نکلی ہوں کہ دیکھ میرے ساتھ تیرے اس جہاں میں کیا ہو گیا!”

جواب میں اپنی کٹی گردن کو اونچا کر کے اُس نے ایک مغرور سی مسکراہٹ کے ساتھ مجھے دیکھا اور ایک متکبّر سی ہنسی ہنس دیا

” اس طرح کے دھماکوں میں تو ہوتا ہے اس طرح۔۔۔۔۔ کُفار اسی طرح کی اجتماعی موت مرتے ہیں”

” کُفار!”

مجھ سے اُس کا یہ الزام قبول نہ ہوا۔ تڑپ اُٹھی میں

” نہیں نہیں ۔۔۔۔۔ وہاں بہت سے مسلمان بھی تھے۔۔۔۔میں بھی مسلمان ہوں”

” اچھا! مسلمان ہے توُ! ۔۔۔۔ نماز پڑھتی ہے؟”

“کبھی کبھی۔۔۔ “

ساتھ ہی میں نے شرمندگی سے سر جھکا لیا

“پردہ کرتی ہے؟ “

میری ڈھلکی گردن انکار میں ہلی اور دوبارہ ڈھلک گئی

“نہیں ۔۔۔۔ “

“بازار جاتی رہی ہے نا؟”

“ہاں ۔۔۔۔”

“نا محرم مردوں کے منہ بھی لگتی ہوگی توُ؟ “

“ہاں ۔۔۔۔۔”

میں بہشت کے بند دروازے کی دہلیز پر گڑی جا رہی تھی اور وہ اپنے ٹکڑے جوڑتا جاتا تھا اور میرے گناہوں کی فہرست کھولتا جاتا تھا۔

” عورت ہی مرد کو گمراہ کرتی ہے، یہ جانتی ہے نا توُ!”

” عورت فتنہ ہے، یہ جانتی ہے نا توُ؟”

” عورت دنیا کی گندگی ہے، یہ بھی جانتی ہوگی توُ!”

” پھر بھی کہتی ہے کہ مسلمان ہے توُ! ۔۔۔۔۔ اور وہ جو لوگ دھماکے میں مرے ہیں نا۔۔۔۔۔ وہ بھی تجھ جیسے نام کے مسلمان تھے۔۔۔۔۔ تجھ جیسوں کے لیے بہشت کا دروازہ نہیں کھلے گا۔۔۔۔۔ جا۔۔۔ واپس چلی جا”

اب اس کے ٹکڑے ہم آواز ہو کر بول رہے تھے جیسے بہت سارے آدمی بول رہے ہوں!

‘ تیرے لیے بہشت کا دروازہ نہیں کھلے گا ۔۔۔۔ تیرے لیے بہشت کا دروازہ نہیں کھلے گا ۔۔۔۔۔۔ جا۔۔۔۔ واپس چلی جا۔۔۔۔۔ جا۔۔۔۔۔۔ واپس چلی جا ۔۔۔۔۔۔”

اک شور سا مچ گیا تھا چاروں اور، جیسے شام ڈھلے کے وقت بہت سے کوّے ہم آواز ہو کر چیخ و پکار مچا رہے ہوں! اس نے ایک حقارت بھری نگاہ مجھ پر ڈالی اور بڑے مغرورانہ انداز میں مسکرایا

” ابھی یہ دروازہ کھلے گا۔۔۔۔ مگر حوریں مجھے لینے آئیں گی، اس لیے۔۔۔۔۔۔ اور تمہیں یہاں سے ہٹانے کے لیے دوزخ کے داروغہ کو بلایا جائے گا”

میرے مضطرب دل میں اُمید کی ایک بجھی بجھی سی چنگاری پھر سے سُلگ اٹھی کہ میں نہ سہی، وہ تو بہشت میں اندر جائے گا ہی ۔۔۔۔ میری فریاد بھی اس کے زریعے وہاں تک پہنچ جائے شاید، جہاں تک پہنچانے کے لیے میں اس لامتناہی سفر میں اُتر پڑی ہوں!

میں نے اپنے پُرزے اس کے پیروں میں بچھا دیے

” تم تو بہشت میں داخل ہو گے ہی ۔۔۔۔ بس میری فریاد بھی ساتھ لیتے جانا۔۔۔ کسی حور یا فرشتے کے حوالے کر دینا، آگے میرے ربّ تک پہنچانے کے لیے”

اس نے فوراً اپنے پیر میرے پرُزوں سے پرے کرتے ہوئے سمیٹ لیے، جیسے برہمن اچھوت سے پرے ہٹتا ہے!

” میں اپنے تمام گناہ معاف کروا چکا ہوں۔۔۔۔۔۔ اب کسی عورت کا ذکر بھی اپنے ساتھ بہشت میں نہیں لے جا سکتا”

ایک متکبرانہ نگاہ مجھ پر ڈال کر وہ پلٹا اور اپنا تن سے جُدا سر بہشت کے دروازے سے ٹکراتے ہوئے اب کے اُس کا انداز اُس فاتح کا سا تھا جو مفتوح شہر کے دروازے پر کھڑا ہو!

” حورو! ۔۔۔ سُن رہی ہو! دروازہ کھولو ۔۔۔۔ یہ میں ہوں ۔۔۔۔ تمہارا حقدار ۔۔۔۔ میں نے ثواب جیت لیا ہے۔۔۔آؤ آ کر دیکھو ۔۔۔ میں نے گردن کٹا لی ہے۔۔۔ میرے گناہ دُھل چکے ہیں۔۔۔آؤ ۔۔۔ مجھے بہشت کے اندر لے چلو ۔۔۔۔ حورو ۔۔۔۔ فرشتو ۔۔۔۔۔سُن رہے ہو!۔۔۔”

دروازہ ہُنوز ساکت و جامد، حدِ نگاہ سے بھی اونچا، یوں کھڑا رہا جیسے دم نکلتے سانس جتنی جنبش کی بھی اجازت نہ ہو اُسے! اُس کی آواز بھی اُس سناّٹے تلے بلآخر دب گئی اور اُس کے لہولہان پُرزے، سارے کے سارے دروازے کی چوکھٹ کے باہر نڈھال ہو کر ایک ایک کر کے دوبارہ ڈھیر ہوتے چلے گئے۔ ایک طویل سکوت کے بعد اس کا سر اس کے پُرزوں پر سے زرا سا لُڑھک کر ایک بار پھر میری طرف مُڑا۔

نفرت کے ساتھ تھک چکی آواز میں وہ مجھ پر غرّایا

“بہشت کا یہ دروازہ صرف تیری وجہ سے نہیں کھل رہا گنہگار عورت! صرف تیری وجہ سے۔۔۔۔۔۔ کہا تھا نا تجھے کہ بہشت عورت کے لیے نہیں ہے۔۔۔۔۔ بہشت صرف مجھ جیسے مومن کے لیے ہے جو تجھ جیسے گناہگاروں کا خاتمہ کرتا ہے۔۔۔۔۔۔ اُٹھ۔۔۔ اُٹھا اپنی فریاد کی گٹھری ۔۔۔۔ واپس اسے پھینک دنیا کے کچرے میں، جہاں سے اُٹھا لائی ہے تو۔۔۔۔یا دوزخ کے دروازے پر جا کر بیٹھ ۔۔۔۔اور وہاں اپنی باری کا انتظار کر۔۔۔۔”

میں نے التجا آمیز نظروں سے اسے دیکھا

” اس گٹھری میں صرف میری فریاد نہیں ہے۔۔۔۔۔ جو لوگ اُس دھماکے میں مارے گئے ہیں نا۔۔۔ اُن کی ماؤں کی فریاد بھی اسی میں بھر لائی ہوں۔۔۔۔۔وہ بدنصیب پیچھے زندہ رہ گئی ہیں، اس لیے آ نہیں سکتی تھیں”

اپنی بات کا یقین دلانے کے لیے میں نے اُس کے سامنے گٹھری کھولنا چاہی مگر اُس نے نفرت سے منہ پھیر لیا

” نہیں نہیں ۔۔۔۔ میرے سامنے اتنی ساری عورتوں کی گٹھری کھولنے کی ضرورت نہیں ۔۔۔۔”

میں نے مایوس ہو کر فریاد بھری گٹھری واپس سے لپیٹ لی اور اپنے عورت پنے پر شرمندگی کے ساتھ بہشت کے بند پڑے دروازے سے لوٹ جانے کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ میں پلٹ چکی تھی اور وہ میرے عقب میں بہشت کے بند پڑے دروازے پر اب ایک نئے یقین کے ساتھ پھر سے پکار رہا تھا۔

” حورو! ۔۔۔ فرشتو! ۔۔۔ مبارک ہو۔۔۔ عورت جا چکی ہے۔۔۔اب صرف میں کھڑا ہوں دروازے پر۔۔۔ اب کھول دو دروازہ مجھ پر ۔۔۔۔ یقین کرو ۔۔۔۔ اب صرف میں ہوں۔۔۔صرف میں”

میں بھی اسی یقین کے ساتھ کہ میرے پیچھے بہشت کا دروازہ اُس کے لیے کھل ہی جائے گا، پیچھے مُڑ کر دیکھے بغیر پُل صراط کے پہلے موڑ کی طرف مڑی ہی تھی کہ پیچھے سے آتی آواز پر ٹھٹک کر ٹھہر گئی۔ کسی نے شاید مجھے ہی مخاطب کیا تھا، بھر آئے ہوئے بادلوں کی سی بھاری بھاری سی گرج آواز میں لیے ہوئے

” یہاں کوئی ماں آئی ہوئی ہے کیا؟”

پلٹ کر دیکھا۔ وہ پریشان اور چُپ سا، میری ہی طرف اُلجھی نظروں سے دیکھ رہا تھا

” تم نے پکارا مجھے؟” میں نے بے یقینی سے پوچھا۔ اُس نے اُسی حقارت کے ساتھ انکار میں صرف گردن ہلا دی۔ اگلے لمحے بدستور بند پڑے دروازے کے اندر کی جانب سے پھر وہی گرج سی گونجی

“یہاں کوئی ماں فریاد لائی ہے کیا؟”

ایک میں ہی تو ماں تھی وہاں! مجھے ہی پکارا جا رہا ہے! ۔۔۔۔۔۔ یقیناً مجھے ہی! مگر دروازے کے باہر تنا کھڑا وہ، اب بھی میرے راستے کی رکاوٹ بنا ہوا تھا اور میں دروازے کی طرف بے اختیار بڑھتے بڑھتے، دروازے سے کچھ فاصلے پر سہم کر ٹھہر گئی۔ اندر سے پھر آواز آئی

” دروازے کے قریب آؤ عورت”

” اسی لیے تو قریب نہیں آ رہی کہ میں عورت ہوں! “

میں بدستور خود پر گڑی اُس کی نگاہوں سے نگاہیں چُرائے ہوئے تھی

” معاملہ عورت اور مرد کا نہیں ہے اس وقت ۔۔۔۔۔۔ صرف ایک ماں کی فریاد سننے کا حکم ہے۔۔۔۔۔۔ اس لیے کہ تمہاری سسکیوں کی آواز بہت دور تک جا رہی ہے۔۔۔۔۔۔۔ دروازے کے قریب آؤ ۔۔۔ اور اپنی فریاد بیان کرو”

اس بار بند پڑے دروازے کے قریب ہوئی تو یوں لگا جیسے میں اپنی مر چکی ماں کے سینے کے قریب آ گئی ہوں! میری ماں جو بچپن میں ذرا ذرا سی چوٹ پر مجھے سینے سے لگا لیا کرتی تھی۔۔۔بلکل اسی طرح دل چاہا کہ دروازے سے لپٹ جاؤں۔ دروازے پر سر رکھ کر پھوٹ پھوٹ کر رو دوں۔ اتنی آہ و بکا کروں کہ دروازہ پگھل جائے اور میں اُس میں جذب ہو جاؤں!

جس طرح بچپن میں سسک سسک کر ماں کو اپنی چوٹ دکھایا کرتی تھی، اُسی طرح بہشت کے بند دروازے کی دہلیز پر اپنا زخمی ہو چکا دل رکھ دوں اور دروازے کے دوسری طرف جو بھی ہے اُسے کہوں کہ بس یہی آہ و بکا فریاد ہے میری۔۔۔۔۔ بس یہی آہ و بکا پہنچا دو میرے ربّ کی بارگاہ میں۔

مگر ابھی تک سہمی ہوئی تھی میں۔ وہ اب بھی میرے عقب میں اِستادہ تھا اور اُس کی نظریں مجھے اپنی پشت پر اب بھی گڑی ہوں محسوس ہو رہی تھیں، یوں جیسے وہ کسی بھی لمحے مجھے پشت سے گھسیٹ کر اس دروازے سے جُدا کر سکتا ہے!

” فریاد کرو”

اندر سے آنے والی گرج میں اب حکم تھا اور میری آواز میں سسکی

” جناب! میں خودکُش دھماکے میں کئی ٹکڑوں میں کٹ کر جان سے جا چکی ماں ہوں ۔۔۔۔ میرے چار چھوٹے چھوٹے بچّے۔۔۔۔۔۔۔”

” معلوم ہے۔ کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے۔۔۔ صرف فریاد کرو” گرج میں مزید گرج اُتر آئی۔

” میرے بچے مجھے بکھرے پڑے انسانی اعضاء میں تلاش کرتے پھر رہے ہیں۔۔۔۔”

” یہ بھی علم میں ہے۔۔۔۔ صرف فریاد کرو۔۔۔ماں کی فریاد سننے کا حکم ہے”

” خود کُش دھماکے کے اُس چوراہے پر کئی ماؤں کے بیٹے لہولہان بکھرے پڑے ہیں جناب! اور اُن کی ماؤں کی فریاد گٹھری میں بھر لائی ہوں ۔۔۔۔ مائیں برس ہا برس لہوُ پسینہ۔۔۔. جسم و جاں اور رت جگے بلو بلو کر۔۔۔۔۔ بڑی مشکل سے اولاد کو جوان کرتی ہیں جناب! یہ کیا کہ ماؤں کے پیروں تلے کا بہشت ابھی مکمل ہرا بھرا ہی نہ ہو کہ کوئی بھی آکر اُسے جلا دے! فریاد ہے ان سب کی میرے ربّ سے جناب!”

“ماؤں کی فریاد کی گٹھری کھول دو” اندر سے آواز آئی۔

زخمی، کٹے ہاتھوں کی اُنگلیوں کو سمیٹ کر میں نے گٹھری کھول دی۔ گٹھری میں بھری ماؤں کی فریاد سسکیوں میں بدل گئی اور سسکیاں گٹھری سے نکل نکل کر بہشت کے بند پڑے دروازے سے یوں لپٹتی گئیں، جیسے مسلسل برستی برسات کے قطرے در قطرے!

اچانک وہ میرے عقب سے چیخا

” دیکھا جناب! دیکھا! ۔۔۔۔ ان میں عیسائیوں اور ہندوؤں کی بھی مائیں ہیں! ان کا خاتمہ عین ثواب ہے اور خاتمہ کرنے والے پر بہشت کا دروازہ کھلنا چاہیے جناب!”

ساتھ ہی وہ اسی مالکانہ اختیار کے ساتھ اپنے کٹے ہاتھوں سے دروازے پر پھسلتی زار و قطار سسکیوں کو پونچھنے ہی لگا تھا کہ اندر سے آتی آواز اُس پر گرجی

” رک جاؤ ۔۔۔۔ “

وہ ساکت سا ہو کر ٹھہر کر رہ گیا۔ آواز کی گرج پر گو کہ اس کی طرح میں بھی سہم سہم سی جاتی تھی مگر اب وہ مجھ سے نظریں چرا رہا تھا، جیسے میں اس سے نظریں چراتی رہی تھی۔

” تم کون ہوتے ہو ماؤں کی فریاد کا مذہب چننے والے!”

“میں ۔۔۔۔!” وہ حیرت اور بے یقینی سے یوں چونکا جیسے حیران ہو کہ اسے کیسے نہیں پہچانا جا رہا!

” آپ نہیں جانتے جناب! کہ میں کون ہوں!”

” معلوم ہے اسی دھماکے کے خود کُش بمبار ہو ” اندر سے بے تاثر آواز میں جواب آیا

” پھر بھی آپ مجھے قریب آنے سے روک رہے ہیں! دروازہ کھولیے جناب اور مجھے اندر آنے دیجیے۔۔۔۔۔حوریں کب سے میری منتظر ہیں اور میں کب سے باہر کھڑا ہوں”

” حوروں کو تمہارے لیے قبولیت دینے کی اجازت نہیں دی گئی”

” کیسے قبولیت کی اجازت نہیں دی گئی! میں سر کٹا چکا ہوں۔۔۔ یہ رہا میرا سر ۔۔۔۔ میں پھٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو چکا ہوں ۔۔۔۔ یہ رہے میرے ٹکڑے ۔۔۔۔ “

وہ دیوانہ وار اپنا سر اور ٹکڑے اُٹھا اُٹھا کر بہشت کے بند دروازے کے سامنے لہراتا جاتا تھا اور چیختا جاتا تھا۔

” اپنا سر اور ٹکڑے واپس اُٹھا لو۔۔۔۔۔ سر حوروں اور بہشت کے لیے نہیں کٹایا جاتا۔۔۔۔۔۔ سر صرف راہِ حق میں کٹتا ہے ۔۔۔۔ راہِ حق بھی وہ جو کسی بے خبر اور بے گناہ پر موت بن کر نہیں ٹوٹتی ۔۔۔بلکہ سینہ تان کر ظلم اور ناحق کے سامنے کھڑی ہوتی ہے۔۔۔۔ اُس مقام پر سر کٹتا ہے۔۔۔۔۔ ورنہ جان جس کے قبضے میں ہے۔۔۔۔ اسے کسی کی جان کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ اور یہ جو تم لائے ہو ۔۔۔۔ یہ گندگی کا ڈھیر ہے۔۔۔۔ اور کچھ بھی نہیں”

اس کی خون آلود آنکھوں میں آنسوؤں کا سا پانی اُترنے لگا۔ وہ مزید کچھ بول نہیں پا رہا تھا اب ۔۔۔۔۔ گو کہ بار بار اپنے پھٹے ہونٹوں کو کھولتا بھی تھا۔ بس ایک گھُٹی گھُٹی سی آواز نکلی اس کے اندر سے

” پھر۔۔۔۔ میں ۔۔۔۔۔؟”

بہشت کے بند پڑے دروازے پر جیسے انگنت گھنے بادل گرجتے ہوئے اترتے چلے آ رہے تھے

” پھر یہ کہ ۔۔۔۔۔۔۔ فریاد کا معاملہ بڑا ہی سخت ہے لڑکے! ۔۔۔کوئی عورت اور مرد نہیں ہے فریاد کے معاملے میں ۔۔۔۔۔ فریاد کے معاملے میں کوئی مذہب بھی نہیں ہے۔۔۔۔۔ بہشت و دوزخ سے بھی پہلے ۔۔۔۔۔ ہر چیز فریاد کی چھلنی سے گزرتی ہے ۔۔۔۔۔ بڑی رفتار ہے فریاد کی ۔۔۔۔ وہاں تک پہنچتی ہے سیدھی، جہاں فرشتوں کے بھی پر جلتے ہیں ۔۔۔۔۔ اُٹھا اپنے پُرزے ۔۔۔۔۔ اور لوٹ جا ۔۔۔۔ابھی ایک ایک ماں کی فریاد کی چھلنی سے گزرے گا تیرا معاملہ ۔۔۔۔۔۔۔ حوریں اور فرشتے سب ہی فریاد کے سامنے بے بس ہیں ۔۔۔۔۔۔ اُٹھا اپنے پُرزے اور لوٹ جا”

اندر سے آتی آواز میں سرد مہری اُتر آئی تھی اور وہ شکست زدہ سا جوں جوں اپنے پُرزے سمیٹتا جاتا تھا، پُرزے مزید پُرزے ہو کر اس کے ہاتھوں سے نکلتے اور بکھرتے جاتے تھے۔

ان ہی بکھرتے سمٹتے پرزوں کے بیچ میں نے دیکھا، اس کی اپنی ماں کی سسکیاں بھی پڑی سسک رہی تھیں! مجھ سے رہا نہ گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اس کی ماں کی سسکیوں کو سمیٹا اور ساتھ لائی ہوئی فریاد کی پوٹلی پر رکھ دیا۔

وہ اپنے پُرزے سمیٹ کر پل صراط کی بال سے بھی باریک اور تلوار کی دھار سے بھی تیز پگڈنڈی کی طرف مڑ چکا تھا اور اس کی ماں کی سسکیاں بہشت کے دروازے سے لپٹ لپٹ کر سسک رہی تھیں ” میں نے اپنی کوکھ سے انسان جنا تھا جناب! ۔۔۔۔ پتہ نہیں کب اسے انسان کھا گئے اور پتہ نہیں کب وہ انسان نہ رہا"-

نور الہدی شاہ

چوری شدہ کار کی جلدی واپسی

 کار چوریاں پاکستان میں عام ہیں ، جس سے بچنے کے لئے ڈور لاک ، سٹیئرنگ لاک کے علاوہ مہنگا ٹریکنگ سسٹم لگوایا جاتا ہے ، لیکن کار پھر بھی نہیں ملتی ۔
چور جونہی کار چراتا ہے اِس سے پہلے کہ آپ کو خبر ہو وہ بہت دور نکل جاتا ہے ۔ پولیس اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود سراغ نہیں لگا سکتی ۔
کیوں کہ کار چور ٹریکنگ سسٹم خراب کرنے میں ماہر ہوتے ہیں ۔
ٹیکنالوجی کی جدّت کا توڑ ہی ٹیکنالوجی ہے ۔
بھارتیوں نے 2000 روپے کاایسانوٹ ایجاد کر لیا ہے کہ جس میں ٹریکنگ سسٹم چھپا ہوا ہے ، سنا ہے کہ کاروں میں بھی ایسا ہی ٹریکنگ سسٹم ایجاد کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ، اِس سے پہلے کہ وہ ٹریکنگ سسٹم مارکیٹ میں آئے ہم آپ کو نہایت کارآمد ٹریکنگ سسٹم بتاتے ہیں /
سامان :بہت پرانا سادہ موبائل ، یو فون کی سِم ۔ موبائل چارجر ۔
موبائل سے۔ رنگ اور بزر سپیکر نکلوادیں اور یو فون کی سِم ڈال کر اِسے اپنی کار میں کار چارجر سے منسلک کر کے چھپا دیں کہ آسانی سے تلاش نہ ہوسکے ۔ اپنے نمبر سے بیل دے کر اطمینان کرلیں کہ ، جب موبائل میں بیل جائے تو کوئی تھرتراہٹ پیدا نہ ہو ۔
اِس موبائل اور چارجرکو سیلوفین میں اچھی طرح محفوظ کریں تاکہ گرد اور پانی سے محفوظ رہے ۔
روزانہ صبح ، اِس موبائل کو مِس کال دے کر ، تسلی کریں کہ بیل جارہی ہے ۔
آپ کا سستا ترین اور بہترین ٹریکنگ سسٹم آپ کی کار میں نصب ہوچکا ہے ۔
یو فون کمپنی کا ریسکیو 15 پولیس سے موبائل نمبر شیئر کرنے کا رابطہ ہے ۔
 جونہی آپ کی کار چوری ہوتی ہے ، آپ فوراً ریسکیو 15 کو کال کرکے اپنی کار کے چوری ہونے کا بتائیں ، اور کار میں چھپا ہوا موبائل نمبر بھی بتائیں
جب ریسکیو 15 کا سٹاف اُس نمبر کو ملائے گا اور وہ نمبر مِس کال ریسیو کر رہا ہو تو پولیس کے پاس آپ کی کار کی لوکیشن آجائے گی ۔ 
اب آپ کی کار ڈھونڈھنے میں آسانی ہو گی !

اِس پوسٹ کو آپ شیئر کر سکتے ہیں !

ہفتہ، 18 فروری، 2017

ایرانی شعبدہ باز ۔ 1۔ جاوید چوہدری کی نظر میں

اسلام الدین اور اسلام مذہب ۔ دو الگ راستے ہیں ۔ ایک اللہ کا ترتیب دیا ہوا ، جو الکتاب میں محفوظ ہے اور کتاب اللہ (کائینات میں اللہ کی آیات) کی تصدیق کرتی ہے ۔ یوں سمجھیں کہ ، کسی ماورائی قوت کو مختلف اسمائے صفت (الہا) سے موسوم کیا گیا ، جب جھگڑے بڑھے تو ، ایک سپریم قوت ( ال الہہ ) کو ماننے کا انسانی فیصلہ کیا گیا ۔ تا کہ انسانی مذاھب میں ، کیوں اور کیسے کی وجوہات ختم کی جاسکیں ۔ دی مائیٹی الہہ ، کے مختلف انسانی اسماء دے دئے گئے ، پھر اُس کی طرف سے سُپریم ہدایت نامہ بھی جاری کروایا گیا اور اُس ہدایت نامے کے مطابق کام کروانے والے اُس کے مددگار بھی بنائے گئے ، جن کے اپنے اپنے ہدایت نامے تھے ۔ چنانچہ سپریم ہدایت نامہ اور اُن کی روشنی میں جاری کردہ مددگاروں کے ہدایت ناموں پر عمل کروانے کے لئے ۔ پیشوائیت انچارج بنی ۔ سپریم ہدایت نامہ ۔ مددگاروں کے ہدایت نامے اور پیشوائیت کی اُن کی تفسیر نے مذاہب انسانی کو جنم دینے کا سلسلہ شروع کیا ۔
جنہوں نے پیشوائیت کے ہدایت ناموں سے بغاوت کی اور سپریم ہدایت نامہ اور مددگاروں کے ہدایت نامے خود کھوجنے کی کوشش کی وہ ، دماغی دنیا کے مقیّد بن کر صوفی ، قلندر ، درویش ، سادھو ، گیانی اور مجنون بن گئے ۔
اِن کی بغاوت کی بنیادی وجہ میری تحقیق کے مطابق صرف ایک ہوسکتی تھی وہ یہ کہ وہ صنف مردانگی سے محروم (مخنث) تھے ۔ دنیا کی بے ثباتی کی تیز لہروں کا مقابلہ نہ کرسکے اوربنت حواؤں سے کہیں بہت دور بیابانوں کی راہ لی ۔ ایک دسوری وجہ بھی ہو سکتی تھی ، وہ یہ کہ انسانی قتل کا بوجھ اور فرار نے اُنہیں خوف میں گپھاؤں کا راستہ دکھایا ۔ اُن کی انسانی لاتعلقی نے اُنہیں ، اُن انسانوں میں ممتاز کرنا شروع کیا جو خود گناہوں یا ضرورت کے بوجھ تلے دبے تھے ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ مسلمانوں میں پائے جانے والے اِس قبیل کے افراد کے قبیلے کا سلسلہءِ نسب مختلف راہوں سے گذرتا ۔ کوفہ میں جا ملتا ۔ اب اللہ جانے کہ اِن صوفی ، قلندر اور درویش نے خود جوڑا یا اُن کے مزار کے مجاوروں نے " تپسوی مہاراج " کی راہ پر چلتے ہوئے اُن کا ٹانکا لگایا اور اُس ٹانکے میں اتنی مہارت سے سلمیٰ و ستارے سجائے کہ انسانوں نے اُنہیں رسالت کے قدموں سے جوڑ دیا اور مذہبِ اسلام کی بنیاد پڑی جس کو سارا شیرہ واقعہ کربلا کی نہروں سے نکالا گیا ۔ جس کی چاشنی میں قلم ڈبو کر قلمی فنکاروں نے اپنی اپنی روزی کا بندوبست کیا ۔ (مہاجرزادہ )
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

لعل شہباز قلند ر کے نام سے شہرت پانے والی بزرگ ہستی کا نام ان کے والد نے سید عثمان رکھا مگر بعدمیں انہوں نے لعل شہباز قلند رکے نام سے دنیا میں شہرت پائی۔ آپ کی ولادت آذر بائیجان کے گاؤں مروند میں ہوئی۔ آپ کا سلسلہ نسب حضرت امام جعفر صادق رضی اللہ تعالی عنہ سے جاملتا ہے۔

جس طرح ہندوستان میں حضرت خواجہ غریب نواز معین الدین چشتی اجمیری کی وجہ سے اجمیر کو شناخت حاصل ہوئی ہے اسی طرح سندھ میں سیہون شریف کو حضرت لعل شہباز قلندر کی وجہ سے غیر معمولی عظمت حاصل ہے۔
سر زمینِ سندھ کی بھی یہ بڑی خوش نصیبی ہے کہ عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں سے اللہ تعالیٰ جل شانہ کے مقرب اور برگزیدہ بندے یہاں تشریف لائے اور رشدوہدایت کے دریا جاری کیے۔ ان بزرگانِ دین نے اپنے علم وعمل کی روشنی سے صرف سرزمین سندھ کوہی نہیں بلکہ گردونواح کو بھی منور کیا۔
باب الاسلام! سندھ میں ہزاروں بزرگانِ دین، اولیاء اللہ اور صوفیائے کرام کا سلسلہ رشد وہدایت فیوض وبرکات جاری رہا ۔
آذربائیجان کے ایک چھوٹے سے قصبے مروند میں حضرت کبیر الدین احمد تقویٰ اور پرہیزگاری میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے۔ حضرت سید محمد کبیرا لدین احمد شاہ کی کوئی اولاد نہیں تھی۔
آپ کی اہلیہ اس مسئلہ کی وجہ سے اْداس رہنے لگی تھیں۔ سید محمد کبیر الدین ہر شب تہجد کے بعد بارگاہِ ایزدی میں مناجات کرتے اور ایک حالتِ گریہ طاری ہوجاتی۔

ایک شب اْنہوں نے خواب میں حضرت علیؓ کو دیکھا اور عرض کی ‘‘یا امیر المومنین! آپ میرے حق میں اللہ تعالیٰ سے اولاد کے لئے دعا کیجئے کہ وہ مجھے فرزند عطا فرمائے’’۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے تسلی دیتے ہوئے آپ کو ایک فرزند کی بشارت دی۔
کچھ عرصہ بعد570 یا 573ھ بمطابق 1177ء میں سیدکبیرالدین احمد کے گھر ایک فرزند کی ولادت ہوئی جس کا نام ‘‘محمد عثمان’’ رکھا گیا اسے آنے والے زمانے میں آسمانِ ولایت کا شہباز بننا تھا۔
محمد عثمان کی ابتدائی تعلیم آپ کی والدہ ماجدہ کی نگرانی میں ہوئی۔ سات برس کی عمر میں کلام پاک حفظ کرلیا۔ حضرت شیخ منصور کی نگرانی میں علومِ ظاہری کی تکمیل کی۔ عربی اور فارسی زبانوں میں آپ نے بہت کم عرصے میں خاصی مہارت حاصل کرلی۔ آپ کی والدہ صاحبہ آپ کی اوائل عمری میں وفات پاگئیں اور والد کا سایہ بھی والدہ کی وفات کے کچھ عرصہ کے بعد آپ کے سر سے اْٹھ گیا۔
ظاہری علوم کی تحصیل کے بعد آپ کا میلان طریقت و معرفت یعنی روحانی علوم کی طرف ہوا ، چنانچہ آپ نے اس تعلیم کے لیے مروند سے سبزوار کا بھی سفر کیا۔ ان دنوں وہاں جلیل القدر شخصیت سید ابراہیم ولی مقیم تھے۔ آپ حضرت امام موسیٰ کاظم کی اولاد سے تھے۔ آپ بڑے عابد وزاہد اور جیّد عالم تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر حضرت ابراہیم ولی کی خدمت میں رہ کر تحصیل علم میں مشغول ہوگئے۔ حضرت ابراہیم ولی نے حضرت لعل شہباز قلندر کی صلاحیتوں کو پرکھ کر جلد ہی مشائخ اور علماء کی ایک محفل میں حضرت لعل شہباز قلندر کو خلافت کی دستار سے نواز دیا۔

غیبی اشارہ ملنے پر اپنے وطن مروند سے عراق تشریف لے گئے اور وہاں سے ایران تشریف لائے۔ حضرت امامِ رضا سے روحانی وقلبی وابستگی کی وجہ سے آپ کے مزار پر انوار پر حاضر ہوئے۔ چندروز تک مراقبے کا سلسلہ جاری رہا، آپ کو باقاعدہ گوشہ نشینی کا حکم ہوا۔ آپ خانقاہِ رضویہ میں مصروفِ عبادت رہے یہ سلسلہ چالیس روز تک جاری رہا اور آخری ایّام میں آپ کو حکم ہو ا کہ حج بیت اللہ اور زیارتِ روضہ رسو ل اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا شرف حاصل کریں۔ اس طرح آپ امام رضا سے روحانی اجازت ملنے کے بعد حجازِمقدس روانہ ہوگئے۔ اس سفر میں عراق پہنچنے پر حضر ت لعل شہباز قلندر، حضرت عبدالقادر جیلانی کے مزار پر حاضر ہوئے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے بغداد سے حجاز تک راستے میں کئی مقامات مقدسہ کی زیارت کی۔ آپ تین ماہ تک مکہ مکرمہ میں مقیم رہے حج کی ادائیگی کے بعدمدینہ منورہ تشریف لے گئے۔ مسجد نبویؐ میں جب روضہ اطہر کے قریب پہنچے تو دیر تک بارگاہِ رسالت میں سرجھکائے سلام پیش کرتے رہے۔ آپ گیارہ ماہ مدینہ منورہ میں مقیم رہے۔غیبی اشارہ ملنے پر آپ سندھ کی طرف روانہ ہوگئے۔
سفر کے دوران شہباز قلندر مکران کے ساحل پر پہنچے ، جب آپ وادی پنج گور میں داخل ہوئے تو ایک سرسبز میدان نے آپ کے قدم پکڑلیے۔ آپ نے یہاں چلہ کشی کی اور اس میدان کو یادگار بنا دیا۔ مقامی مکرانیوں نے اس ویرانے میں ایک فقیر کو چلہ کشی کرتے دیکھا تو دیدار کے لیے امڈ کر آگئے۔ آپ کی عبادت و ریاضت سے متاثر ہو کر ہزاروں مکرانیوں اور بلوچوں نے اسلام قبول کرلیا اور آپ کے مرید ہوگئے۔

یہاں ایک عرصہ قیام کرنے کے بعد آپ اس دشت کو ‘‘دشت شہباز’’ بنا کر آگے بڑھ گئے۔ آپ جب پسنی سے گزرے تو ایک گڈریا اپنی بکریوں کا ریوڑ لے کر جا رہا تھا۔ آپ عالم جذب میں تھے۔ وہ گڈریا اپنی بکریوں کو بھول کر آپ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔ آپ نے چند دن کے ساتھ میں اسے اپنے رنگ میں ایسا رنگا کہ آپ کے جانے کے بعد وہ گڈریا ‘‘لعل’’ کے لقب سے مشہور ہوگیا۔ پسنی بندرگاہ کے ٹیلے کی دوسری جانب گڈریا لعل کا ایک مزار آج تک اسی گڈریے کی یاد دلاتا ہے۔
یہاں سے آپ سندھ میں داخل ہوئے لیکن رکے بغیر سیدھے ملتان پہنچے اور شہر ملتان کے مضافات میں قیام فرمایا۔ آپ کی شخصیت سے متاثر ہو کر ملتان اور گرد و نواح کے لوگ آپ کے پاس آنے لگے۔ ہر وقت لوگوں کا ایک ہجوم رہنے لگا۔ یہ لوگ طرح طرح کے مسائل لے کر آپ کے پاس آتے۔ قلندر شہباز کی دعاؤں سے بے شمار مریضوں کو شفا ملی، لاتعداد دکھیاروں کے دکھ دور ہوئے، ان خوش نصیب لوگوں کی زبانی قلندر شہباز کی کرامات کا شہرہ بھی دور دور تک ہونے لگا۔
ملتان کے قاضی علامہ قطب الدین کاشانی کی سماعت بھی ان قصوں سے آشنا ہوئی۔ علامہ قطب الدین کاشانی ایک عالم فاضل شخص تھے لیکن صوفیت اور درویشی پر یقین نہیں رکھتے تھے۔ انہوں نے آپ کے خلاف فتویٰ جاری کردیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر کے کسی عقیدت مند نے قاضی کا یہ فتویٰ آپ تک بھی پہنچا دیا۔آپ چند خدمت گاروں کے ساتھ ملتان کی طرف روانہ ہوگئے۔

حضرت بہاؤ الدین زکریا کی روحانی ولایت سے اس وقت ملتان جلوہ افروز ہو رہا تھا۔ ہر روز مجلس ارشاد کا انعقاد ہوتا تھا۔ ہزاروں طالبان حق کسب فیض کے لیے حاضر ہوتے تھے۔آپ مسند ارشاد پر جلوہ افروز تھے کہ کسی نے اطلاع دی :
‘‘حضرت عثمان مروندی قلندر نام کے کوئی بزرگ علامہ قطب الدین کاشانی سے مناظرے کے لیے تشریف لارہے ہیں۔’’
آپ نے کہا ‘‘جاؤ اور قلندر کو نرمی سے سمجھا بجھا کر میرے پاس لے آؤ۔’’ حضرت لعل شہباز قلندر ابھی ملتان کے دروازے پر پہنچے تھے کہ بہاؤالدین زکریا ملتانی کے مریدین آپ کے استقبال کے لیے پہنچ گئے۔
اب آپ کے قدم قاضی کی عدالت کے بجائے حضرت بہاؤ الدین زکریا کی خانقاہ کی جانب تھے، حضرت بہاؤالدین زکریا سے پہلی ہی ملاقات دوستی میں تبدیل ہوگئی۔ حضرت لعل شہباز قلندر ایسی صحبتوں کے متلاشی تھے۔ خانقاہ میں بیٹھے تو اٹھنا بھول گئے۔ دن رات صحبتیں رہنے لگیں۔ اسی خانقاہ میں آپ کی ملاقات حضرت فرید الدین گنج شکر اور حضرت سرخ بخاری سے ہوئی۔
اس زمانے میں خطہ پنجاب اور سندھ میں قرامطہ فرقے کا بہت زیادہ اثر تھا۔ ان کے عقائد بنیادی اسلامی تعلیمات کے منافی تھے۔ خطہ پنجاب میں کئی علاقے ایسے تھے جہاں ابھی تک اسلام کی روشنی نہیں پہنچی تھی۔

ان حالات کے پیش نظر حضرت بہاؤ الدین زکریا نے رشد و ہدایت اور اسلام کی تبلیغ کا ایک عملی منصوبہ تیار کیا۔ ایک طرف اپنے مریدوں کو مختلف تبلیغی دوروں پر روانہ کیا تو دوسری جانب حضرت لعل شہباز قلندر، حضرت فرید الدین گنج شکر اور سید جلال سرخ بخاری کے ہمراہ تبلیغی دوروں پر روانہ ہوئے۔ یہ چارروں بزرک کافی عرصہ ایک ساتھ رہے۔بعد میں یہ چاروں بزرگ چار یا رکے نام سے بھی مشہور ہوئے۔
حضرت لعل شہباز قلندر کی شخصیت میں ایک خاص کشش تھی جس کی وجہ سے لوگ آپ سے بہت متاثر ہوتے تھے۔ آپ ان تبلیغی دوروں میں جہاں بھی گئے ، آپ سے بے پناہ کرامات بھی ظاہر ہوئیں، جن سے عوام الناس میں آپ کو بے حد مقبولیت حاصل ہوئی ان اولیاء اللہ کی تبلیغی کوششوں نے لوگوں کو بہت سکون اور اعتماد عطا کیا اور لوگ کثرت سے اسلام قبول کرتے چلے گئے۔
ہندوستان کے مختلف شہروں کی حضرت لعل شہباز قلندر سیاحت کرتے ہوئے جونا گڑھ تشریف لائے ان دنوں یہاں کے لوگ ایک عجیب مصیبت میں گرفتار تھے۔ دن کی ایک خاص گھڑی میں ایک زنبیل اور ڈنڈا نظر آتا تھا۔ اسے کون پکڑے ہوئے ہے، کچھ نظر نہ آتا تھا۔ بس ایک آواز آتی تھی :
‘‘جسے جو کچھ دینا ہے، اس زنبیل میں ڈال دے۔’’
لوگوں میں یہ بات بھی مشہور ہوگئی تھی کہ اگر کوئی اس زنبیل میں کچھ نہیں ڈالے گا تو نقصان اٹھائے گا۔

اس لیے لوگ خوف زدہ ہو کر کچھ نہ کچھ اس زنبیل میں ڈال دیاکرتے تھے۔ یہ زنبیل کہنے کو ایک چھوٹا سا کاسہ تھا لیکن اس میں بہت سارا سامان سما جاتا تھا۔ لوگ اس زنبیل سے متاثر تو تھے لیکن روز روز کی طلب سے تنگ آچکے تھے۔ انہوں نے بہت سے بزرگوں سے رابطہ کیا لیکن کوئی بھی اس زنبیل اور ڈنڈے کو نظر آنے سے نہ روک سکا۔
یہ قصہ چل ہی رہا تھا کہ حضرت لعل شہباز قلندر شہر سے باہر آ کر مقیم ہوئے۔ آپ کی شہرت سن کر ایک درویش آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ اس درویش نے پورا واقعہ آپ کے گوش گزار کرتے ہوئے اپنی بے بسی ظاہر کی۔
وہ درویش آپ کو اس محلے میں لے گیا جہاں وہ زنبیل ظاہر ہوتی تھی۔ کھیل شروع ہوچکا تھا۔ زنبیل اور ڈنڈا ہر دروازے پر، ہوا میں اْڑتا ہوا پہنچ رہا تھا اور لوگ اپنی نذریں اس میں ڈال رہے تھے۔ قلندر شہباز نے اپنا دست مبارک بڑھا یا۔ زنبیل اور ڈنڈا دونوں آپ کے ہاتھ میں آگئے۔ لوگ دم بخود کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے۔
حضرت شہباز قلندر نے ڈنڈا اپنے پاس رکھا اور زنبیل اس درویش کے حوالے کرتے ہوئے فرمایا : ‘‘زنبیل تم رکھ لو۔ آج سے تم زنبیل شاہ ہو۔ جو بھی تمہاری زنبیل سے کھائے گا، فیض یاب ہوگا۔’’
جوناگڑھ میں آج بھی زنبیل شاہ کا مزار موجودہے۔

دوران سیاحت آپ گرنار اور گجرات بھی تشریف لے گئے اور لوگوں کو توحید اور حقانیت کا درس دیا۔ جس زمانے میں آپ گرنار میں مقیم تھے،آپ کے گرد حاجت مندوں کا ہجوم رہتا تھا۔ یہ زمانے بھر کے ستائے ہوئے، بیمار اور مفلس انسان تھے جنہیں قلندر کے تسکین آمیز کلمات جینے کا حوصلہ دیتے تھے۔آپ دکھی لوگوں کے آنسو پونچھتے، انہیں تسلی دیتے، غمخواری فرماتے۔
ایک روایت یہ ہے کہ اسی سیاحت کے دوران میں آپ نے حضرت بوعلی شاہ قلندر سے بھی ملاقات کی اور یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حضرت بوعلی شاہ قلندر ہی نے آپ کو مشورہ دیا تھا کہ آپ سندھ میں سیوستان (سہون) میں سکونت اختیارفرمائیں۔ ملتان کے لوگوں کی خواہش تھی کہ آپ واپس جاکر ملتان میں ہی قیام کریں لیکن آپ نے سیہون جانے کا ارادہ ظاہر کیا اور سندھ کا رْخ کیا۔ حضرت لعل شہباز قلندر 649 ہجری  (1251 عیسوی) میں سندھ تشریف لائے۔
سیہون میں اس وقت ہندو راجہ جیسر جی(جو عرف عام میں راجاچوپٹ کہلاتا تھا) کی حکومت تھی۔ راجہ چوپٹ ایک عیاش طبع آدمی تھا۔ راجہ رعایا کے حال سے بے خبر رہتا۔ لاقانونیت اور ظلم و تشدد ہر طرف عام تھا کسی کی کوئی فریاد نہیں سنی جاتی تھی۔ اسی وقت کا یہ مقولہ بھی مشہور ہے‘‘اندھیر نگری چوپٹ راج’’۔
لوگوں کو بے بس اور لاچار دیکھ کر ایک مجذوب جس کا نام سکندر بودلہ تھا وہ اکثر ایک نعرہ مستانہ لگایا کرتاتھا۔’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘۔

سکندر بودلہ سیوستان کی پہاڑیوں میں عبادت و ریاضت کرتے تھے۔ ایک رات بزرگ نے خواب میں آوازِ غیبی سْنی کہ ‘‘ایک مرد قلندر آرہا ہے جو ظلمت کو نور میں تبدیل کردے گا’’ پھر اکثر اْن بزرگ کی زبان پر یہ ورد رہتا کہ ‘‘میرا مرشد سائیں آرہا ہے‘‘
اس نعرے کو سن کر شہر کے لوگوں کے دلوں سے دعا اْٹھتی کہ خدا کرے ہمارا نجات دہندہ جلد آئے اور ہمیں راجہ کے ظلم سے بچائے۔
مجذوب کی آواز میں ایسی کڑک تھی کہ راجہ کے قلعے کی دیوار کو چیرتی ہوئی اندر آجاتی تھی۔ رات کے اندھیرے اور سناٹے میں یہ پر سوز آواز اہل قلعہ کی نیندیں اڑادیتی تھی۔ شروع شروع میں تو راجہ اور قلعہ کے لوگوں نے نعروں کو سن کر نظرانداز کردیا تھا۔ جب نعروں میں شدت آگئی تو وہ بھی بوکھلا اٹھے۔ ان فلک شگاف نعروں نے نجانے کیوں راجہ جیسرکونہ صرف مشتعل کرتا بلکہ خوفزدہ کردیا تھا ، بالآخر راجا کے سپاہی گئے اور اس مجذوب کو گرفتار کرکے راجہ کے پاس لے آئے۔
راجہ کے سامنے بھی سکندر بودلہ کی زبان پر یہی الفاظ تھے ’’میرا مرشد آنے والا ہے، ظلم کا زوال ہونے والا ہے‘‘ تو راجہ غضبناک ہوگیا اور اْس نے سکندر بودلہ کو قید کروادیا، لیکن قید خانے میں بھی اس کے فلک شگاف نعرے بند نہ ہوئے۔
راجہ رات بھر اذیت کی آگ میں جلتا رہا۔ صبح ہوئی تو اس نے وزیروں کو طلب کیا۔ وزیروں نے کہا کہ اس شخص کی کھال ادھیڑی جائے آپ ہی دماغ ٹھکانے آجائے گا۔

راجا نے اجازت دے دی۔ سکندر بودلہ پر تازیانوں کی بارش کردی گئی لیکن وہ یہی کہتے رہے
’’میرا مرشد آنے والا ہے۔‘‘
سکندر بودلہ پر وحشیانہ تشدد جاری رہا۔ تقریباً روزانہ ان پر تازیانوں کی بارش کی جاتی تھی لیکن آپ کے ہونٹوں پر ایک ہی نعرہ جاری رہتا تھا۔
سندھ کا علاقہ حضرت شہباز قلندر کے لیے انجان تھا۔ آپ یہاں کی زبان اور ثقافت سے واقف نہیں تھے۔ اس کے باوجود آپ سرزمین سندھ کی طرف تشریف لے آئے۔ حالات کا مشاہدہ کرکے آپ نے کسی ایک جگہ مستقل سکونت اختیار کرنے کا ارادہ ترک کرکے پہلے ارد گرد علاقوں میں تبلیغی دوروں کاآغاز کیا۔
آپ نے ٹھٹھے کے قریب ‘‘آرائی’’ کے مقام پر ایک بزرگ پیر پیٹھ سے ملاقات کی۔یہ بزرگ ایک پہاڑی کے غار میں مصروف عبادت رہتے تھے۔ حضرت لعل شہباز قلندر نے اسی غار میں آپ سے ملاقات کی اور کامرانی کی دعائیں لے کر رخصت ہوئے۔ آپ نے سندھ کے ایک گاؤں ‘‘ریحان’’ میں بھی کچھ دن قیام فرمایا تھا۔ بعد میں یہی گاؤں حضرت رکن الدین ملتانی کی نسبت سے رکن پور کہلایا۔ جب حضرت لعل شہباز قلندر اس گاؤں میں تشریف لے گئے تو اس کی زمین بنجر تھی۔ پھر اللہ نے آپ کی برکت سے اس زمین کی سرشت بدل ڈالی۔ علاقہ آباد ہوگیا۔ سرسبزوشادابی کی وجہ سے بنجر زمین بھی خزانے اگلنے لگی۔

کراچی کے قریب منگھوپیر کا مزار ہے۔ بعض روایات کے مطابق صاحب مزار حضرت فرید الدین گنج شکر کے خلیفہ ہیں۔ اسی پہاڑ پر لعل شہباز قلندر کے نام سے ایک بستی آباد ہے۔ بعض لوگ کہتے ہیں حضرت لعل شہباز قلندر یہاں تشریف لائے اور کچھ عرصہ قیام کیا۔

آپ کی ایک چلہ گاہ حیدرآباد کے نزدیک گنجہ ٹکر کے نزدیک ٹنڈو غلام حسین میں بھی موجود ہے۔ مشہور ہے کہ آپ یہاں چلہ کش ہوئے تھے آپ نے حیدرآباد کے اطراف میں بھی کئی تبلیغی دورے کیے تھے۔ یہ بھی ایک روایت ہے کہ دوران سیاحت قلندرپاک نے ‘‘پاٹ’’ شہر میں حاجی اسماعیل منوہر سے بھی ملاقات کی تھی۔‘‘پاٹ’’ دراصل سندھ کا ایک قدیمی شہر تھا۔
بہت سے علمائے کرام دور دراز کی مسافت طے کرکے اس شہر میں آتے تھے۔ قدیم تذکروں میں اس شہر کو اسی وجہ سے ‘‘قبتہ الاسلام’’ کہا گیا ہے۔ دریا کے قریب ہونے کی وجہ سے یہاں باغات کی کثرت تھی جس میں انار بہت کثرت سے ہوتے تھے۔
سیہون شریف کے ریلوے اسٹیشن کے جنوب میں ایک بلند پہاڑ ہے جس کے اندر ایک قدیم غار موجود ہے۔ روایت ہے کہ اس غار میں حضرت لعل شہباز قلندر نے چلہ کشی کی تھی۔سیہون کے ر یلوے اسٹیشن کے قریب آپ کے نام سے منسوب ایک ‘‘لال باغ’’ بھی ہے ۔روایات کے مطابق اس باغ کے قریب ایک پہاڑی پر بھی آپ نے چلی کشی کی تھی۔

مقامی لوگوں میں یہ روایت مشہور ہے کہ حضرت لعل شہباز قلندر کی آمد سے قبل نہ یہ باغ تھا اور نہ یہ چشمہ۔ لوگ اس مقام پر چشمے کی موجودگی کو شہباز قلندر کی کرامت سمجھتے ہیں۔
یہ چند نشانات جو تاریخ میں محفوظ رہ گئے ہیں، صاف بتاتے ہیں کہ آپ نے سندھ کے دور دراز علاقوں کے دورے کیے۔ اس دور کے سفر آج کی طرح باسہولت نہیں تھے۔ دین کی تبلیغ کے لیے ہمیں آپ کے عزم اور حوصلوں سے رہنمائی اور ترغیب لینی ہوگی۔
آپ کی بہت سی کرامات لوگوں میں مقبول ہیں۔
روایات ہیں کہ جب کبھی آپ کے پاس کوئی لاعلاج مریض آتا تو آپ اس پر گہری نظر ڈالتے اور فرماتے۔
‘‘اے بیماری! میں تمہیں اللہ تعالیٰ کا واسطہ دیتا ہوں کہ تو اسے چھوڑے دے‘‘۔
لعل شہباز قلندر کا یہ جملہ مریض میں تندرستی کے آثار پید ا کردیتا۔ اس کے علاوہ بعض اوقات پانی پر دم کرکے بھی مریض کو دیتے اور فرماتے یہ پانی بیمار کو پلاؤ اور آنکھوں کو لگاؤ آپ کی ہدایت پر عمل کرکے بیمار صحتیاب ہوجاتے تھے۔
ایک مرتبہ سندھ اور اس کے قرب وجوار میں اتنا شدید قحط پڑا کہ مخلوقِ خدا سخت پریشان ہوئی۔ اس قحط سے نجات حاصل کرنے کے لیے لوگوں نے قلندر سے عرض کی کہ آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کریں کہ ہمیں اس قحط سے نجات دیدے۔

حضرت لعل شہباز قلندر نے بارگاہِ ایزدی میں دعا کی، ابھی دعا میں مصروف ہی تھے کہ بارش شروع ہوگئی اور اتنی شدید بارش ہوئی کے تمام خشک کھیت پانی سے بھر گئے۔ ندی نالے پُر ہوگئے۔ اور مخلوقِ خدا نے سکون کاسانس لیا۔
وادی مہران سندھ کے مختلف علاقوں کو فیضیاب کرنے کے بعد حضرت لعل شہباز قلندر’’سیوستان‘‘ یعنی سیہون میں مقیم ہوئے جہاں آپ کو بڑی پزیرائی حاصل ہوئی اور آپ کے حسن اخلاق کی بہت دور دور تک شہرت ہوگئی۔
لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے جس میدان میں پڑاؤ ڈالا تھا، اس کے قریب ایک بستی میں شراب و شباب کی خرید و فروخت ہوتی تھی۔ درویش کے پڑاؤ کی وجہ سے اس بستی کے مکینوں نے خوف محسوس کیا اور راجہ کے پاس جاکر ان کی شکایت کی۔
ان لوگوں کی دروغ گوئی سن کر راجہ غصہ سے تلملا اْٹھا۔ اس نے بہت مغرور لہجے میں اپنے کوتوال کو حکم دیا کہ ان مسلمان فقیروں کوبے عزت کرکے اس کی ریاست سے نکال دیا جائے۔
راجہ جیر جی کے سپاہی گدڑی پوشوں کے خیمے میں داخل ہوئے اور انہیں حاکم سیوستان (سیہون) کا حکم سنایا۔  گدڑی پوشوں نے کہا کہ ہم صرف اپنے مرشد کے حکم کی پابندی کرتے ہیں۔اگر تمہیں کچھ کہنا ہے تو ان سے کہو۔

راجا جیر جی کے سپاہی اسی حالت غضب میں قلندر شہباز کے خیمے کی طرف بڑھے مگر اندر داخل نہیں ہوسکے۔ سپاہیوں کو ایسا محسوس ہوا جسے ان کے پیروں کی طاقت سلب ہوچکی ہے اور وہ اپنے جسم کو حرکت دینے سے قاصر ہیں۔ پھر جب سپاہیوں نے واپسی کا ارادہ کیا تو ان کی ساری طاقت بحال ہوگئی۔ سپاہیوں نے دوبارہ خیمے میں جانے کی کوشش کی اس بار بھی ان کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ مجبوراً سپاہی کچھ کیے بنا واپس چلے گئے۔
راجا جیر جی اپنے سپاہیوں کی مجبوریوں کا قصہ سن کر چراغ پا ہوگیا۔ اس نے فوری طور پر اپنے وزیروں، مشیروں اور درباری نجومیوں کو طلب کرلیا۔تمام واقعات سن کر حاکم سیہون کی طرح اراکین سلطنت اور ستاروں کا علم جاننے والے بھی حیران وپریشان تھے۔
پھر درباری نجومیوں نے ستاروں کی چال اور زائچے وغیرہ بنائے تو یکا یک ان کے چہروں پر خوف کے گہرے سائے لرزنے لگے۔نجومیوں نے راجا جیر جی سے عرض کیا۔ ‘‘زائچے بتاتے ہیں کہ ایک شخض حدود سلطنت میں داخل ہوگا اور پھر وہی شخص اقتدار کے ساتھ ساتھ آپ کی زندگی کے لیے بھی ایک سنگین خطرہ بن جائے گا۔ شاید وہی شخص ہے جس کے ایک مجذوب شاگرد کو آپ نے قید میں ڈال دیا ہے۔’’
نئی چال سوچی گئی، وزیروں کے کہنے پر ہیرے جواہرات اور اشرفیوں سے بھرا ہوا خوان لے کر شہباز قلندر کی خدمت میں پیش کیا گیا کہ اسے قبول فرمائیں اور کسی دوسرے جگہ قیام فرمالیں۔

آپ نے حکم دیا کہ ان جواہرات کو آگ میں ڈال دو، خدمت گار نے اپنے مرشد کے حکم کے مطابق خوان اٹھا کر آگ میں ڈال دیا۔ دیکھتے ہی دیکھتے ایک شعلہ سا بھڑکا، اور واقعی تمام ہیرے جواہرات اور سونے کے ٹکڑے کوئلے اور لکڑی کی طرح آگ میں جل کر خاک ہوگئے۔
حاکم سیہون کا نمائندہ کچھ دیر تک پتھرائی ہوئی آنکھوں کے ساتھ یہ ناقابل یقین منظر دیکھتا رہا۔ وہ سونا جو تپتی ہوئی بھٹی میں بہت دیر کے بعد پگھلتا ہے، اسے معمولی آگ کے شعلوں نے چند لمحوں میں جلا کر خاک کر ڈالا تھا۔ مسلمان درویش کی یہ کرامت دیکھ کر وزیر نے قدموں پر سر رکھ دیا اور گداگرانہ لہجے میں عرض کرنے لگا۔ پھر جب وزیر کانپتے قدموں کے ساتھ واپس جانے لگا تو آپ نے نہایت پر جلال لہجے میں فرمایا۔
’’اپنے راجا سے کہہ دینا کہ ہم یہاں سے واپس جانے کے لیے نہیں آئے ہیں۔ اگر حاکم سیہون اپنی سلامتی چاہتا ہے تو خود یہاں سے چلا جائے‘‘۔
وزیر دوبارہ حاکم سیہون کی خدمت میں پہنچا اور اس نے لعل و جواہر کے راکھ ہوجانے کا پورا واقعہ سنایا تو راجا جیر جی اور زیادہ غضبناک ہوگیا اور کہنے لگاتو بزدل ہے کہ ایک معمولی سی بات سے ڈر گیا۔ میں نے اس سے بھی بڑی شعبدہ بازیاں دیکھی ہیں۔

میری سلطنت میں ایسے ایسے کامل جادوگر موجود ہیں جو مسلمان سنیاسی کے طلسم کو پارہ پارہ کردیں گے۔’’
عشاء کی نماز میں ایک عجیب واقعہ پیش آیا۔ حضرت شہباز قلندر نے خدمت گاروں کی موجودگی میں قلعہ کی جانب رخ کرتے ہوئے فرمایا ’’بودلہ! اب تم ہمارے پاس چلے آؤ‘‘خدمت گار حیران تھے کہ مرشد کسے پکار رہے ہیں؟
سکندر بودلہ جو راجہ جیر جی کی قید میں تھے اور کئی مہینے سے درد ناک سزائیں برداشت کررہے تھے۔ ادھر آپ کی زبان مبارک سے یہ کلمات ادا ہوئے اور ادھر بودلہ کا جسم اچانک زنجیروں سے آزاد ہوگیا۔ بودلہ ابھی اسی حیرانی میں تھے کہ یکایک زنداں کا دروازہ کھل گیا۔ بودلہ کو اپنے مرشد کی آواز سنائی دی، بودلہ سمجھ گئے کہ یہ مدد کے سواء کچھ نہیں۔ اس نے بے اختیار نعرہ لگایا۔
‘‘میرا مرشد آگیا، میرا مرشد آگیا۔’’
شدید زخمی ہونے کے سبب بودلہ تیزی سے اْٹھے اور قید خانے سے باہر کی جانب دوڑنے لگے۔ آخر اس میدان میں پہنچ گئے جہاں لعل شہباز قلندر اور ان کے ساتھیوں نے قیام کیا ہوا تھا۔بودلہ سے مل کر لعل شہباز قلندر نے اپنے مریدوں کو بتایا کہ ‘‘یہی تمہارا بھائی بودلہ ہے۔ اسے حاکم سیہون نے ناحق ستایا ہے۔ انشاء اللہ ! وہ بہت جلد اپنے عبرتناک انجام کو پہنچے گا۔’’

شدید مخالفتوں کے باوجود آپ نے سیہون شریف میں رہ کر اسلام کا نور پھیلایا ہزاروں لوگوں کو راہِ ہدایت دکھائی، لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق او ر محبت کی تعلیم دی۔ سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں اجاگر کی۔ آپ کی تعلیمات اور حسن سلوک سے سیہون کی ایسی کا یا پلٹی کہ بہت بڑی تعداد میں غیر مسلموں نے اسلام قبول کرلیا آپ نے لاتعداد بھٹکے ہوئے افراد کا رشتہ خدا سے جوڑا، لوگوں کو اخلاق کی تعلیم دی، سچائی اور نیکی کی لگن انسانوں کے دلوں میں پیداکی۔
لعل شہباز قلندر کی وجہ سے راجہ کو اپنا اقتدار خطرے میں نظر آرہا تھا۔
راجہ جیر جی کی نیندیں حرام ہوگئی تھیں۔ سیہون میں ایک مسلمان درویش کی موجودگی اس کے لیے مستقل عذاب بن کر رہ گئی تھی۔ راجہ جیر جی کئی مرتبہ اپنی طاقت کا مظاہرہ کرچکا تھا مگر ہر مرتبہ اسے ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا تھا۔ آخر حاکم سہون نے اپنے علاقے کے کچھ جادوگروں کو طلب کرکے ان سے مسلمان درویش سے مقابلے کا کہا، لیکن سیہون کے ساحروں نے مقابلے سے پہلے ہی اپنی شکست تسلیم کرلی تھی کہ انہیں ہرانا ہمارے بس کی بات نہیں۔ البتہ جادوگروں نے راجہ کو مشورہ دیا کہ اگر کسی طرح مسلمان درویش کے شکم میں حرام غذا داخل کردی جائے تو اس کی ساری روحانی قوت زائل ہوجائے گی اور پھر ہمارے جادو کی طاقت اس پر غالب آجائیگی۔

راجہ نے ایک روز کسی حرام جانور کا گوشت پکوایا اور کئی خوان سجا کر مسلمان درویش کی خدمت میں بھیج.دیے۔
جب یہ خوان حضرت شہباز قلندر کی خدمت میں پیش ہوا تو کھانا دیکھتے ہی شیخ کا رنگ متغیر ہوگیا اور آپ نے یہ کہہ کر کھانے سے بھرا ہوا خوان الٹ دیا۔
’’ہمارا خیال تھا کہ وہ کافر اتنی نشانیاں دیکھنے کے بعد ایمان لے آئے گا مگر جس کی تقدیر میں ہلاکت و بربادی لکھی جا چکی ہو، اسے اللہ کے سوا کوئی نہیں ٹال سکتا‘‘۔
مرشد کے اس عمل سے خدام پر لرزہ طاری ہوگیا۔ پھر دوسرے ہی لمحے زمین بھی لرزنے لگی۔ سہون شدید زلزلے کی لپیٹ میں تھا۔ زمین نے دو تین کروٹیں لیں اور طاقت و اقتدار کا سارا کھیل ختم ہوگیا۔ ادھر شیخ کے سامنے خوان الٹا پڑا تھا راجہ جیر جی کے قلعے کی بنیادیں الٹی ہوگئی تھیں۔

حضرت لعل شہباز قلندر ناصرف صوفی باعمل بزرگ تھے بلکہ آپ نے علم کی ترویج کے لئے بھی گرانقدر خدمات سرانجام دیں۔ حضرت لعل شہباز قلندر صرف ونحو کے بھی ماہر تھے۔
ایک مغربی مورخ سررچرڈ برٹن کی تحقیق کے مطابق حضرت لعل شہباز قلندر ایک عظیم ماہر لسانیات بھی تھے آپ نے چار کتابیں گر امر اور لسانیات کے حوالے سے فارسی زبان میں تحریر کی تھیں۔

مشہور سیاح ابن بطوطہ دنیا کا سفر کرتے ہوئے 734ھ (1333 عیسوی) میں جب سیہون پہنچا تو اس نے آپ کے مزار مبارک کی زیارت کی تھی اور آپ کی خانقاہ میں ٹھہرا۔
مشہور محقق شیخ اکرم نے بھی اپنی کتاب موجِ کوثر میں برٹن کی ہسٹری آف سندھ کے حوالے سے دومشہور کتابوں، میزان الصرف اور صرف صفر کا تذکرہ کیا ہے جو کہ حضرت لعل شہباز کی تحریرکردہ تھیں۔
حضرت لعل شہباز قلندر ایک معروف شاعر بھی تھے۔ آپ کے کلام میں معرفتِ الٰہی اور سرکارِ مدینہ کی مدح سرائی، عشق حقیقی کے والہانہ انداز جا بجا نظر آتا ہے۔ آپ کی شاعری میں روحانی وارفتگی اور طریقت و تصوف کے اسرار و رموز بے حد نمایاں اور واضح ہوکر سامنے آتے ہیں جو اکابر صوفیاء کرام کا ایک خاص طرۂ امتیاز ہے۔ حضرت لعل شہباز قلندر اپنے کلام میں عبدو معبود کے رشتوں کی ترجمانی اتنے حسین پیرائے میں کرتے ہیں کہ پڑھنے اور سننے والوں کے قلوب میں گداز اور عشق و محبت کا جذبہ فروزاں ہونے لگتا ہے۔
آپ کو ‘‘لعل’’ کہنے کی مختلف روایات ہیں۔ بعض مؤرخین کا کہنا ہے کہ لعل شہباز قلندر کا خطاب آپ کے پیرومرشد نے عطا فرمایا تھا۔ ایک روایت یہ بھی ہے کہ آپ اکثر لال رنگ کا لباس زیب تن فرماتے تھے کیونکہ یہ اہل مروند کا مخصوص لباس تھا۔
جب آپ اپنی عمر کے سو سال مکمل کر چکے تھے کہ آپ کو ملتان جانے کا خیال آیا۔ آپ کے دوست حضرت بہاؤ الدین زکریا اب اس دنیا میں نہیں رہے تھے۔ ان کے فرزند حضرت صدرالدین عارف ان کے جانشین تھے۔

حضرت صدرالدین عارف کو جیسے ہی معلوم ہوا کہ حضرت لعل شہباز قلندر چند خدمت گاروں کے ہمراہ ملتان آرہے ہیں تو آپ کو نہایت تزک و احتشام کے ساتھ اپنی خانقاہ پر لے آئے۔ اس وقت شہزادہ سلطان محمد تغلق حاکم ملتان تھا ، اس نے بھی اپنے دربار میں محفلِ سماع رکھی اور حضرت لعل شہباز کو اپنے دربار میں مدعو کیا۔ آپ نے دعوت قبول کرلی۔ کہتے ہیں اس محفل میں دوران سماع اچانک حضرت لعل شہباز قلندر پر وجد کی کیفیت طاری ہوگئی۔ آپ حالت وجد میں اٹھے اور رقص کرنے لگے۔ آپ یہی وجدانہ رقص اس دھمال کی بنیاد بنا جو آج بھی آپ کے مزار پر دیکھا جاسکتا ہے۔

( محمد بن تغلق سلطانِ دہلی تھے۔ وہ 1325 تا 1351ء تک تخت افروز رہے۔ وہ تغلق سلطنتی خانوادے کے سلطان غیاث الدین تغلق کا بڑا بیٹا تھا۔  غیاث الدین تغلق تغلق سلطنتی خانوادے کا بانی اور پہلا حکمران تھے۔ وہ غازی ملک کے نام سے مشہور تھے۔ وہ 8 ستمبر 1320ء میں تخت افروز ہوئے۔ ان کا دورِ حکومت 8 ستمبر 1320ء سے فروری 1325ء تک رہا۔ دہلی کا تغلق آباد اُنھوں نے تعمیر کی۔ مہاجرزادہ )
سلطان نے خواہش ظاہر کی کہ آپ ملتان میں ہی قیام فرمائیں مگر آپ نے فرمایا کہ آپ سیہون میں ہی رہیں گے۔

آپ کے ساتھ سلطان محمد تغلق کو اتنی عقیدت تھی کہ سلطان کی وفات کے بعد سلطان کی میت کو ٹھٹھہ سے سیہون لایاگیا اور آپ کی خانقاہ کے قرب وجوار میں دفن کیا گیا۔

حضرت لعل شہباز قلندرنے تقریباً 103 برس (بعض تذکروں کے مطابق 112 برس )کی عمر پائی ، آسمانِ ولایت کا یہ شہباز اور سیہون اور سندھ کے گردونواح کے تاریک علاقوں کو نورِ اسلام سے منور کرنے والا یہ آفتاب 18شعبان المعظم673ھ بمطابق1275ء میں غروب ہوگیا لیکن لوگوں کے دلوں میں تاقیامت اس آفتاب کی روشنی باقی رہے گی۔
(جاوید چوہدری)

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔