میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

سوموار، 22 مئی، 2017

شیطان نامہ - قسط نمبر- 45-تاریخ کی بریکنگ نیوز

بلا شبہ تاریخ اور ادبیات کی اکثر کتابوں میں جو عباسی عہد میں تالیف ہوئیں اور ہم تک پہنچیں ان میں بنو امیہ کی مخالفت اور تنقیص کا انبار لگا ہوا ہے خلفا بنی امیہ کے ظلم و ستم ، فسق و فجور اور طرح طرح کے گناہوں کے الزامات ان پر لگاۓ گئے ہیں - مگر ان روایتوں کے مولفین اور راؤی نہ تو عباسی ہیں نہ علوی اور نہ ہی ان کی سر پرستی میں یہ کتابیں تالیف ہوئیں اور نہ ان راویوں سے ان کا کوئی واسطہ ہے جو اکثر بیشتر سبائی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور خود عباسیوں کے خلاف ان کے اقوال موجود ہیں اور اس عہد کی تاریخ خراب کرنے والے یہی سبائی راوی اور مولفین ہیں جن کی من گھڑت اور جھوٹی روایات کو مورخ ابن جریر طبری نے بلا کسی جانچ پڑتال اور تنقید کے اپنی کتاب میں نقل کر دیا-

طبری (سمیت) بعد والے مورخین نے( آنکھیں بند کرکے ، چھاپے پر چھاپہ مار کر ، اپنا قد بلند کیا اور بریکنگ نیوز کا ایسا شعبہ کھولا جس نے ، حقیقی نیوز کا گلہ گھونٹ دیا -مہاجرزادہ)  تاریخ لکھی نہیں بلکہ چھاپی ہے جن میں ابو محنف، لوط بن یحیی، الکلبی اور انکا بیٹا ہشام ، اور عمار الدہنی ایک اور شیعہ راوی ہیں ۔طبری کی روایات کو بغیر جانچے اور پرکھے نقل کر دیا .جنگ صفین کے بعد سے ان سبائی پارٹی نے جو تہمت تراشنے کا سلسلہ بنی امیہ اور شامیوں کے خلاف شروع کر دیا تھا اور اس کے تردید میں حضرت علی کو ایک گشتی مراسلہ ان ممالک میں بھیجنا اور اعلان کرنا پڑا تھا ،
"ہمارا اور ان دین ، کہا اور رسول ایک ہے الله پر ایمان رکھنے اور اس کے رسول کی تصدیق کرنے میں نہ وہ ہم سے زیادہ ہیں نہ ہم ان سے زیادہ"
اِس کا تفصیلی ذکر پچھلی پوسٹ میں کیا جا چکا ہے .(نہج البلاغہ جز ثانی صفحہ 159 ).
کربلا کے بعد تو اس تہمت تراشی نے بہت ہی زیادہ شدت اختیار کر لی اور اس کے نصف صدی بعد ان سبائی مورخین نے جو کتابیں تالیف کیں اور جو روایتیں خود گھڑیں اِن میں اُن کی توہین کی کوئی کسر نہیں چھوڑی گئی اور اُن اہل شام حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں کو کہ جنہیں حضرت علی اپنے جیسا مومن کہتے تھے ان ہی کی زبان سے کافر اور فاسق و فاجر کہلوایا گیا اور حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں پر ایسے ایسے جھوٹے الزامات لگاے گئے کہ شارح ابن ابی الحدید نہج البلاغہ نے ایک موقح پر معاذ الله ثم معاذ الله کہا (صفحہ 560 خطبہ 195 نہج)
حضرت معاویہ جیسے بزرگ صحابی ، کاتب وحی کو دوزخی اور جہنمی لکھ مارا .اور علی کی مخالفت یا ان سے جنگ کرنے کی وجہ سے نہیں بلکہ یہ کہا گیا کہ معاذ الله ان کا عقیدہ اور ایمان ہی درست نہ تھا .(خطبہ نمبر 195 صفحہ 5قسط نمبر 45)
اس میں کوئی شک نہیں کہ تاریخ کی اکثر کتابیں جو عباسی عہد میں تالیف ہوئیں اور ہم تک پہنچیں ان میں بنو امیہ کی توہین ہی کی جاتی رہی ہے بنو امیہ کے خلفا کے ظلم و ستم ، فسق و فجور اور ہر قسم کے گناہ کا زمہ دارٹھہرا دیا گیا ہے مگر ان کتابوں کے راوی نہ عباسی ہیں نہ علوی اور نہ ان کی سر پرستی میں یہ کتابیں تالیف ہوئیں .نہ ان راویوں سے ان کا کوئی واسطہ ہے جو اکثر و بیشتر سبائی فرقہ سے تعلق رکھتے تھے اور خود عباسیوں کے خلاف ان کے اقوال موجود ہیں اور اس عہد کی تاریخ مسخ کرنے والے یہی سبائی ہیں جنہوں نے ہزاروں حدیثیں اور روایتیں خود گھڑیں اور ابن جریر طبری نے ان کو بلا کسی تنقید اور جانچ پڑتال کے اپنی کتاب میں نقل کر دیا اس لئے ہم یہ کہتے ہیں کہ طبری نے تاریخ لکھی نہیں تاریخ نقل کی ہے (ہم بھی یہی کہتے ہیں کہ جھوٹ کو، قصہ خوانوں نے اِس کثرت سے بھیلایا کہ اب وہ نسیم حجازی کے ناولوں کی طرح تاریخ کا روپ دھار چکا ہے ۔ مہاجرزادہ )
ابو محنف ، محمّد الکلبی اس کا بیٹا ہشام اور اس قماش کے راویوں کی روایات کو بغیر جانچے اور بلا سوچے سمجھے اپنی کتاب میں نقل کر کے امت کی گمراہی کا سامان فراہم کر دیا. اور اس کا ذکر پہلی پوسٹوں میں تفصیل کے ساتھ کیا جا چکا ہے .ان میں ایک اور شیعہ راوی عمار الدہنی بھی شامل ہے اور ان کے اس پروپیگنڈے کے جواب میں حضرت علی کو ایک گشتی مراسلہ بھیجنا پڑا تھا تا کہ ان کی تردید ہو سکے اور اس کا بھی ذکر (نہج البلاغہ صفحہ 159 کے حوالے سے) پچھلی ایک پوسٹ میں کیا جا چکا ہے .
کربلا کے سانحہ کے بعد تو اس پروپیگنڈے نے انتہائی شدت اختیار کر لی اور نصف صدی بعد ان سبائی مورخین نے جو کتابیں تالیف کیں ان میں تو ان من گھڑت روایات کا انبار لگا دیا .اور ان ہی حضرت معاویہ اور ان کے ساتھیوں کو جنہیں حضرت علی60 نہج البلاغہ .
اور یہی تہمت تراشی کا انبار پڑھ کر لوگ مغالطہ میں مبتلا ہو جاتے ہیں جیسے دے خوے نے بیان کیا .فرماتے ہیں تہمت اور الزام تراشی کا جو منظم پروپیگنڈہ بنی امیہ کی خلافت کی جڑیں کھوکھلی کرنے کی غرض سے علویوں اور عباسیوں کی طرف سے مسلسل طور پر ہوتا رہا اور جس پیمانے پر جاری رہا اس کی مثال شاید ہی دنیا میں کہیں اور ملے ان کے ایجنٹوں نے ہر قسم کی برائی اور گناہ جس کا تصور کیا جا سکتا تھا بنو امیہ سے منسوب کر دیا اور یہ الزام لگایا کہ مذھب اسلام ان ہاتھوں میں محفوظ نہیں ہے ان لئے یہ ایک مقدس فریضہ ہو گا کہ دنیا سے انہیں نیست و نابود کر دیا جاۓ اس عہد کی جو بھی مستند تاریخ ہم تک پہنچی ہے اس میں ان ہی خیالات اور تاثرات کی اس حد تک رنگ آمیزی کی گئی ہے کہ سچ کو جھوٹ سے تمیز نہیں کیا جا سکتا.
انساکلو پیڈیا برٹانیکا .جلد 5 گیارواں اڈیشن.
ان ہی من گھڑت الزام تراشیوں کی تردید ہاشمی خاندان خاص کر علویوں کی وہ مسلسل رشتہ داریاں اور قرابتیں ہیں جو شروع زمانے سے لے کر صفیں اور کربلا کی خانہ جنگیوں کے بعد تک بد ستور جاری رہیں .اموی خلیفہ اگر ایسے ہی ظالم ، فاسق و فاجر اور منافق و کافر تھے جیسا کہ یہ راوی باور کرانا چاہتے ہیں تو یہ کیوں کر ممکن تھا کہ ہاشمی اور علوی اپنی بیٹیاں ان کو بیاہتے اور ان کی بیٹیاں اپنے یہاں بیاہ کر لاتے .اس کی تفصیل اگلی قسط میں ملاحضہ فرمائیں۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔