میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 30 جون، 2017

اللہ کا لفظ خرق انسانی قربان گاہ پر !

 لوگ پوچھتے ہیں کہ اِس مضمون کا سیاق و سباق کیا ہے ؟
اِس مضمون کا سیاق ۔ 
یہ خوارق کیا ہوتا ہے ؟
اور یہ لفظ کس کی ایجاد ہے ، انسانوں کو بہکانے کے لئے ؟
شائد خرقہ پوشوں نے ایجاد کیا ہو !  اللہ  کے لفظ ،   خ ر ق   کے بارے میں ، درج ذیل کتابوں سے دی جانے والے غلط معلومات ہیں :

اللہ نے محمدﷺ کو اپنے کلام میں انسانی لفظ " خوارق العادت " کا بیڑہ غرق کرنے اور اُسے اپنی طرف موسوم کرنے کے لئے الکتاب میں اِن آیات میں بیئن کیا ۔

" خوارق العادت " حرکات  پر ایمان لانے والوں ، کو انسانوں کو بھٹکا کر کفار میں شامل ہونے، سے پہلے درج ذیل آیات پر ضرور نظر ڈالنا چاھئیے:
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 اِس مضمون کےتین سباق ۔  
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 1.  خوارق العادات، لفظ پر  اسلامی رنگ چڑھانے کے لئے ، سب سے پہلے اللہ کو مبتلاء کرنے والوں  کے لئے تنذیر :
 
اتَّبِعْ مَا أُوحِيَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ ۖ وَأَعْرِضْ عَنِ الْمُشْرِكِينَ ﴿6:106
وَجَعَلُوا لِلَّـهِ شُرَكَاءَ الْجِنَّ وَخَلَقَهُمْ وَخَرَقُوا لَهُ بَنِينَ وَبَنَاتٍ بِغَيْرِ عِلْمٍ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يَصِفُونَ ﴿6:100﴾
 
2.   اللہ کی آیات  کو خرق کرنے والوں کے لئے ، اللہ انباء   :وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا إِنَّكَ لَن تَخْرِقَ الْأَرْضَ وَلَن تَبْلُغَ الْجِبَالَ طُولًا ﴿17:37﴾
3.   اللہ کی آیت   سے لفظ " خرق "     کی تفصیل :

فَانطَلَقَا حَتَّىٰ إِذَا رَكِبَا فِي السَّفِينَةِ خَرَقَهَا قَالَ أَخَرَقْتَهَا لِتُغْرِقَ أَهْلَهَا لَقَدْ جِئْتَ شَيْئًا إِمْرًا  ﴿18:71﴾
 
 ٭٭٭٭٭٭یہ بھی سیاقی مضمون ہے ٭٭٭٭٭

اللہ کو معجزے دکھانے والے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔