میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 14 جولائی، 2017

15-اللہ کا نظامِ محاصل (بیت المال) قسط - 6

٭  قسط  1٭
5- ٹیکسوں کے موجودہ نظام   میں کِن تبدیلیوں کی ضرورت ہے ، کہ اسلامی تعلیمات سے ہم آہنگ ہو جائیں ؟
 ٹیکس   کے موجودہ نظام میں ! جو واحد تبدیلی کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ، ٹیکس کا نام مسلمانوں کے لئے زکوٰۃ  رکھا جائے  ، غیر مسلم کے لئے یہ ٹیکس رہے ۔ کیوں کہ  وہ نظام جو مجموعی طور پر انسان کی بھلائی کی طرف سے ہو ، اصل میں اللہ کی طرف سے ہے ، صرف اِس کے نظام کے لئے ہم دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ جبکہ اِس کی افادیت کے بارے میں کتاب اللہ  (کائینات اور الکتاب) کی آیات بتا رہی ہیں ، کہ اِنسانی بھلائی کے اِس نظام کا نام ، " نظامَ ٹیکس " نہیں ، بلکہ " نظامِ زکوٰۃ " ہے ۔ جس کے مطابق ہماری دولت میں دوسرے بھی حصہ دار ہیں ۔
 اگر

  ٭٭اگلا مضمون  ٭٭ اللہ کا نظامِ مصارف (بیت المال) -قسط 1 ٭٭٭٭٭٭
باقی اسباق  پڑھنے کے لئے اِس لنک پر جائیں شکریہ 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔