میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 12 جولائی، 2017

پاکستانی مافیا گروپ کا خاتمہ!

"( مافیا کے لوگو )تم گواہوں کی بنیاد پر مجھ سے جھوٹے فیصلے کروا لیتے ہو ، جس کا وبال تم پر ہو گا مجھ پر نہیں!"
 1400 سال پہلے بولا گیا آفاقی سچ
 

 ہر وہ شخص جس کے مالیاتی اخراجات اُس کی آمدنی سے نہیں ملتے،  وہ صادق اور امین نہیں   
  پاکستانیو ہوشیار:
اپنی تمام جائداد 2016-2017 کے ٹیکس گوشواروں میں ظاہر کریں ،  ورنہ آپ مافیا گروپ کا حصہ بن جائیں گے ! جن کی جائداد کا حساب ، ٹیکس ڈاکومنٹ سے نہیں ملتا ۔مافیا گروپ ، کا قیام انکم ٹیکس وکیلوں اور چارٹرڈ اکاونٹنٹ کے ہاتھوں ہوتا ہے۔
 پاکستانی مافیا گروپ، کے خاتمے میں تعاوّن کریں ۔ خود کو اُس گروپ سے اللہ کو حاضرو ناظر جان کر نکالیں ۔ ٹیکس دینے والے بنیں ۔
  
 پاکستانی  مالیاتی مافیا گروپ کے خاتمے کے لئے تجاویز :
1-   مالیاتی اکاونٹ:
٭ - قومی شناختی کارڈ نمبر  ہی  مالیاتی   اکاونٹ  (بنک اکاونٹ ) نمبر ہو ۔ ہر پاکستانی شہری وہ اکاونٹ مُفت کھولنے کا حقدار ہو !
٭ - تمام   رقومات ۔ مالیاتی اکاونٹ  میں جمع کروائی جائیں ۔
 
 2- مالیاتی حساب-( ہر قسم کی حاصل ہونے والی خام   رقم) 
٭ - قومی شناختی کارڈ کو   انکم ٹیکس نمبر قرار دیا جائے۔
٭-  موجودہ مالیاتی  گوشوارے کرپشن کے معاون ہیں ، جسے ختم کرنے کے لئے،   سادہ جائداد و آمدنی کے گوشوارے بنائے جائیں ۔ جن کے ساتھ  حسبِ ضرورت  ضمیمے لگائے جا سکتے ہوں ۔
٭- تمام تنخواہوں ، خدمات  اور اخراجات    کی ادائیگی  بنک اکاونٹ سے کی جائے  -
٭- تمام بھیک(ڈونیشنز)  کی ادائیگی  بنک اکاونٹ سے کی جائے  ، 500  روپے کیش  یا کم   میں دی جانے والیبھیک(ڈونیشنز)   کے  اوپن ووچرز  بیت المال  سے لئے جائیں ۔
٭-ٹیکس اکاونٹ میں ہر خرید و خرچ شامل کیا جائے۔
٭- تمام جائداد  (منقولہ یا غیر منقولہ)    جائداد کا نمبر ڈالنے سے کمپیوٹر پر  دیکھی جاسکے ۔جیسے اسلام آباد کی گاڑیوں کا نمبر ڈالنے سے مالک کا نام اور ماڈل سامنے آجاتا ہے۔
 
3- پاکستانی  بھیک(ڈونیشنز) مافیا گروپ (انفرادی یا اجتماعی)، کے  خاتمے کے لئے :
٭- پاکستان میں ایک بیت المال اکاونٹ کا قیام ۔
٭ -  بھیک مانگنے والے گروپس کو ملنے والی ملکی وغیر ملکی بھیک، بیت المال میں جمع کرائی جائے ۔
٭- بیت المال کا انتظام، بھکاریءِ اعظم "ایدھی فاونڈیشن" سنبھالے۔
٭- تمام بھکاری تنظیموں کا ٹرسٹی بیت المال ہو ۔
 ٭- بھکاریوں کی این جی اوز کو بیت المال سے، اُن کے بھیک اکاونٹ میں شفٹ ہو!
٭- بھکاریوں کی  این جی اوز  کے تمام  خدمت گذاروں کو ملنے والا محنتانہ  ، پاکستان میں دی جانے والی سب سے کم تنخواہ کے برابر ہو !
٭- بھکاریوں کی  این جی اوز ، صرف اپنی تحصیل جہاں سے شناختی کارڈ ایشو ہوا ہے ، خدمت انجام دے سکتی ہے ۔
 ٭- بھکاریوں کی  این جی اوز ،  کا کوئی  بھی خدمت گزار یا اُس کی اولاد ، کسی قسم کی سیاست میں  حصہ نہ لینے  کے پابند ہوں ۔
٭- جس کے تمام اخراجات   ، کمپنی اپنے لوکل آڈٹ کے بعد جمع کرائے ، اگر بیت المال کے آڈٹ سے کوئی ہیرا پھیری پکڑجائے ، تو  وہ این جی او ۔"ایدھی فاونڈیشن"  میں ضم کر دی جائے ۔

نوٹ: کتاب اللہ کے مطابق ، بیت المال  میں جن ذرائع سے اضافہ ہوتا ہے ، وہ :زکوٰۃ ، فئے(محنت  سے حاصل ہونے والے اموال ) ، غنم   (محنت کے بغیر حاصل ہونے والے اموال ) ،  خراج ، صدقات اور   جزیہ(ٹیکس)     ہیں
 
نوٹ :  نذر  (بھیک)  بیت المال  کی مشتملات میں نہیں ، یہ ذاتی رحم ہے جو آپ خود سے ، غریبوں  کے لئے مستحق افراد کو دیتے ہیں ۔ اِس لئے کہ آپ  کی سادہ دعائیں ، برائے  خیر قبول ہوں-
بیت المال  کا چارج ، محمدﷺ کے پاس ، بحیثیت سٹیٹ مین  تھا ۔ جسے   (تاریخ کے مطابق) ریاست میں نہیں ، بلکہ مدینہ میں موجود   ، مسلمانوں کے لئے استعمال کیا جاتا تھا ۔ باقی  گاؤں ، تحصیل  ، اپنا انتظام خود کرتی تھیں  ۔  
4-نظامِ زکوٰۃ کا نفاذ ۔
٭- پاکستان میں ایک زکوٰۃ   اکاونٹ کا قیام ۔
٭-انکم ٹیکس کا نام مسلمانوں کے لئے، زکوٰۃ میں تبدیل کر دیا جائے ۔ تمام زکاۃ اکاونٹ میں جمع کروائی جائے - غیر مسلموں کے لئے یہ ٹیکس ہی کہلائے- کیوں کہ :

ٹیکس   کے موجودہ نظام میں ! جو واحد تبدیلی کی ضرورت ہے وہ یہ کہ ، ٹیکس کا نام مسلمانوں کے لئے زکوٰۃ  رکھا جائے  ، غیر مسلم کے لئے یہ ٹیکس رہے ۔ کیوں کہ  وہ نظام جو مجموعی طور پر انسان کی بھلائی کی طرف سے ہو ، اصل میں اللہ کی طرف سے ہے ، صرف اِس کے نظام کے لئے ہم دھوکہ کھا رہے ہیں ۔ جبکہ اِس کی افادیت کے بارے میں کتاب اللہ  (کائینات اور الکتاب) کی آیات بتا رہی ہیں ، کہ اِنسانی بھلائی کے اِس نظام کا نام ، " نظامَ ٹیکس " نہیں ، بلکہ " نظامِ زکوٰۃ " ہے ۔ جس کے مطابق ہماری دولت میں دوسرے بھی حصہ دار ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔