میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 2 جولائی، 2017

تخلیقِ کائینات اور انسان !

 کائینات کی تخلیق پر، کوئی بھی انسان حتمی رائے نہیں دے سکتا ، بلکہ اپنا مشاہدہ
2- الکتاب کی محکم آیات سے، اور
3- انسانی سائنسی تحقیق کے درمیان،
نسبت و تناسب کے اصولوں پر جانچ کر بتا سکتا ہے ۔ 
مؤخرالذکر یعنی انسانی تحقیق کے جانچنے کے پیمانوں کی تبدیلی کے وجہ سے حتمی اصول نہیں کہا جا سکتا ۔ ہم نے  اکثر پڑھا کہ ، فلاں سائنسی تحقیق ( کسی بھی میدان میں) :
  ٭ -  درست  نہیں  یا  
٭ -  میں مزید  درستگیاں  تلاش کر لی گئی ہیں   یا
 ٭ -   کا استعمال ، انسانی یا انسان کے ارد گرد پھیلی ہوئی حیات  کے لئے متروک کر دیا گیا ہے ۔
جبکہ پہلی دونوں  یعنی ،
٭ -  کتاب اللہ (کائینات و الارض )  اور الکتاب   (  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ سے لے کر مِنَ الْجِنَّةِ وَالنَّاسِ   ) تک  ، عربی  میں   ،  اپنی تخلیق کے دن سے  الدِّينُ الْقَيِّمُ (ناقابلِ تبدیل)   ہیں ۔ 
خرابی یہاں پیدا ہوتی ہے ۔ کہ کتاب اللہ پر تو انسانی دسترس نہیں،  اُس کے تراجم میں اپنی تمام سائنسی  یا غیر سائنسی تحقیق کو  حتمی قرار دے کر  ٹھونس دیتے ہیں ، جو سراسر  انسانی بددیانتی ہے ، جب سائنس خود  اپنی تحقیق کو قابلِ تبدیل    سمجھتا ہے جبھی تو اُن میں تحقیق جاری ہے ، لیکن رسولِ ہاشمی کی قوم نے  اپنی تحقیق،  اللہ کی آیات  کے تراجم میں ڈال کر اُنہیں  رکّاز(Fossilized   ) کر دیا ہے ،  جبھی تو محمدﷺ   کی طرف ، اپنی قوم کو پیغام بلواسطہ - In-direct Message، الکتاب سے     بار باردیا جا رہا ہے  ۔ اگر وہ اِسے سننے کے لئے تیار ہوں !   

    ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


 تخلیق ِ کائینات  اور   الدِّينُ الْقَيِّمُ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔