میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 14 جولائی، 2017

فراڈ - ستاروں سے کمائی !

Image may contain: 1 person
 مجھے سمجھ نہیں آتی کہ اس استحصال کے متعلق لوگوں کو کیسے آگاہ کروں جو ٹائنز نام کی چائینہ پراڈکٹ کمپنی اور اسی جیسی دیگر کمپنیاں کر رہی ہیں؟
ان کے ڈسے ہوئے غریب لوگ انتہائی غریب لوگوں کو تاڑتے ہیں اور ان کو اچھے اور امیرانہ مستقبل کی جھلک دکھاتے ہیں۔ اور کہتے ہیں کہ تم کو "جاب" مل جائے گی اور تھوڑے سے کام اور تھوڑی سی محنت سے دولت کی ریل پیل ہو جائے گی۔
وہ لوگ ان کے بتائے ہوئے پتے پر رکشے یا موٹرسائیکل رکشے پر کرایہ خرچ کر کے پہنچتے ہیں۔ تو انہیں وہاں "ٹریننگ" دی جاتی ہے۔
یہ ٹریننگ داڑھی رکھ کے مونچھیں مونڈ کر معزز، دیندار، نیک، صالح اور پرھیز گار نظر آنے والے ایسے "پینٹ مولوی" دیتے ہیں جنہوں نے ٹخنوں سے پینٹیں فولڈ کر کے اونچی کی ہوتی ہیں۔
یہ ان کو قران اور حدیثیں سناتے ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فراڈ لگانے کے گُر بھی۔
یہ ان کو یقین دلا دیتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے اب ان کی سنی گئی ہے اور ان کے ہر مسئلے کا حل نکل آیا ہے۔
پہلے ان سے سولہ سو سے دو ہزار تک رجسٹریشن کے نام پر رقم اینٹھ کر انہیں پکا کر لیا جاتا ہے۔
پھر ان کو چھتیس ہزار کا مزید بندوبست کرنے کو کہا جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ ان کو بہت سی
success stories دکھائی جاتی ہیں کہ یہ لوگ دیکھیں ان کو اتنے "ستارے" مل چکے ہیں اور یہ اتنے لاکھ روپیہ مہینے کا کما رہے ہیں۔
پھر ان کو اس بات پر بھی پکا کیا جاتا ہے کہ اس بات کا کسی سے بھی ذکر نہیں کرنا اور پوچھنا نہیں کہ میں یہ پیسے دینے لگا یا دینے لگی ہوں۔
زیادہ تر عورتیں عورتوں کو پھنساتی ہیں۔
یہ لوگ زیادہ تر بے روزگار ڈھونڈتے ہیں۔ جو کسی نہ کسی طرح پینتیس چھتیس ہزار روپیہ کہیں سے کر لائیں۔
یہ لوگ کسی بھی قانون کی زد میں سیدھے سیدھے نہیں آ سکتے کیوں کہ یہ جن کاغذوں پر انگوٹھا لگواتے ہیں، ان کی رو سے (میں نے ایک ان پڑھ اور غریب عورت کا کیس دیکھا ہے جو کہ کسی چھوٹے سے نجی ہسپتال میں صفائی کرتی تھی، اور ایک عورت کو اس پر یہ دیکھ کے "ترس" آیا تھا کہ وہ اتنی سردی میں ننگے پاؤں کام کر رہی ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے "اللہ کا خوف" آ گیا ہے اس لئے میں تم کو یہ کام بتا رہی ہوں۔ صفائی والی نے اپنے بہنوئی کے باہر سے بھیجے ہوئے پیسے یہ سوچ کر ادھر دے دیئے کہ چند دن کی تو بات ہے، واپس کر دوں گ٭ی۔ ۔ ۔ اس نیک عورت کا ایک سٹار لگ گیا، اس کو حصہ مل گیا ہو گا، اور اس صفائی والی کو رسیدیں مل گئیں کہ اس نے بازار میں نوے روپے میں ملنے والا عام بلڈ پریشر نامنے کا وہ آلہ سو ڈالر میں خریدا ہے، اور کدوشریف دھونے کا بجلی کا وہ برتن ڈھائی سو امریکی ڈالر میں خریدا ہے، جو کہ اس کو ملا ہی نہیں) ان لوگوں نے اپنی "آزاد مرضی" سے سرمایہ دارانہ اخلاقیات کے عین مطابق آزاد منڈی سے خریداری کی ہے۔
۔
میں تمام دوستوں سے اس پر بات کرنے اور اس موضوع پر لکھنے یا اس کو شیئر کرنے کی گذارش کرتا ہوں۔ ہو سکتا ہے کہ کوئی غریب اس گھناؤنے استحصال سے بچ جائے.
٭ مجھے اس کہانی کا علم ہوا تو میں نے بہت کوشش کی کہ اس کے پیسے کسی طرح واپس مل جائیں۔ اپنے ایک ایسے دوست سے بھی مدد کو کہا تھا جو کہ ایک بڑے اخبار کا ایڈیٹر تھا۔ لیکن وہ بے چارہ بھی نظام کے ہاتھوں مجبور نکلا۔ ۔ ۔ اس عورت کو اپنا گھر چھوڑ کے بھاگ جانا پڑا تھا۔ ۔ ۔ اور یہ میرے سامنے کا واقعہ ہے۔ تین سال پہلے کا۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔