میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

بدھ، 5 جولائی، 2017

امریکہ سے اعلانِ جنگ !

جڑاں والا کے نوجوان ، اللہ بخش نے  نے اوبامہ کو وٹس ایپ پر پیغام دیا ۔
" مسٹر اوبامہ ! ایک نہ ختم ہونے والی خونی جنگ کے لئے تیار ہوجاؤ" 
اوبامہ نے اوول آفس میں بیٹھے اپنے لیپ ٹاپ کا فلیش پیغام دیکھا اور اُس کی پسینے چھوٹ گئے ! اُس نے  ٹھنڈا پانی پیا ، ٹائی ڈھیلی کی اور قمیض کا اوپر کا بٹن کھولا ، ریموٹ اٹھایا ، اے سی کو مزید ٹھنڈا کرنے کا بٹن دبایا ۔ 
دوسرا ریموٹ اٹھایا اور بٹن دبایا تو سامنے کی دیوار مختلف سکرینوں سے جگمگا اُٹھی ۔ اوبامہ نے سب سکرینوں کو بڑا کر کے دیکھا ، اُسے کہیں بھی فوجوں کی ڈیپلائمنٹ نظر نہیں آئی ،
مختلف ممالک کے ایٹمی ہتھیاروں کی نشاندھی کرنے والا الیکٹرونک چارٹ دیکھا ، کسی جگہ بھی سُرخ نشان موجود نہ تھا ۔
دشمن بحری جہازوں ، آبدوزوں  ، خلاء میں موجود  ممکنہ اہداف پر نظر ڈالی ۔ سب اپنی  عام جگہوں پر موجود تھے ۔
اوبامہ نے  ۔ پنٹاگون کے چارٹ پر نظر دوڑائی  کوئی غیر معمولی بات نہ تھی ۔
سی آئے اے کی روزانہ کہ رپورٹ پر بھی ، " سب اچھا ہے " کا نشان جگمگا رہا تھا ۔
اوبامہ نے دوبارہ وٹس ایپ پر نظر ڈالی ۔ کہ پاس پڑے ہوئے فون کا بزر بجا ۔
فون اُٹھا
" ہیلو مسٹر اوبامہ " ایک بھاری اور مشرقی لہجے والی آواز گونجی"
" میں خدا بخش   ولد مولا بخش  سپیکنگ  فرام   نانک پور ،تحصیل جڑاں والا،  ڈسٹرکٹ فیصل آباد  ۔ ہم نے  امریکہ کے خلاف جنگ کا اعلان کردیا ہے ،  دشمن کو ہوشیار کرنا ہمارے گراں والوں  کا اصول ہے "
اوبامہ نے گہرا سانس لیا  اور بولا
"  ویل مسٹر اللہ بخش ، تمھاری فوج کتنی بڑی ہے ؟"
" مسٹر اوبامہ !  میں یعنی 
خدا بخش   ولد مولا بخش، میرا کزن اللہ بخش ولد اللہ دتّہ ، میرا پڑوسی اور بوٹے والہ کی پوری کبڈی کی ٹیم  سب ملا کر آٹھ لڑاکے ہیں "
" مسٹر  
خدا بخش   ولد مولا بخش" اوبامہ بولا " کیا آپ یہ سن کر اپنی وارننگ واپس لیں گے ، کہ میرے پاس  ایک کروڑ  ، لڑاکا فوجی ہیں "
" میں آپ کو مشورہ کر کے دوبارہ رنگ کرتا ہوں " خدا بخش   ولد مولا بخش نے کہا ۔ اور فون رکھ دیا ۔
 دوسرے دن ، اوبامہ کے اوول آفس کے فون کا بزر بجا ، اوبامہ نے فون اُٹھایا اور سپیکر فون کا بٹن دبا دیا  ۔اوول آفس میں آواز گونجی ۔
" مسٹر اوبامہ  ،
خدا بخش   ولد مولا بخش  سپیکنگ  فرام   نانک پور ،تحصیل جڑاں والا،  ڈسٹرکٹ فیصل آباد  ۔  جنگ کا طبل بج چکا ہے ، اب واپسی ممکن نہیں ، آپ پھر نہ کہنا ہمیں بتائے بغیر  ، ہم نے حملہ کر دیا "  خدا بخش نے سپاٹ آواز میں اوبامہ کو اطلاع دی ۔
اوبامہ نے سامنے بیٹھی اپنی  جنگی کابینہ کی طرف دیکھا  ۔
 " ہمارے پاس  نہایت تباہ کُن ہتھیار ہیں " خدا بخش نے معلومات دیں ۔ کابینہ کے تین ممبروں ڈیفنس سیکریٹری آف سٹیٹ ،   فارن منسٹر ، سیکریٹری ہوم لینڈ سکیورٹی اور سی آئی اے کا  جنوب مشرقی ایشیا   کا نمائندہ  سب نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔
 " کون  کون سے ہتھیار  ہیں ؟" اوبامہ نے تشویش آمیز لہجے میں پوچھا ۔
" میرے پاس ڈبل بیرل گن ہے ۔ اللہ بخش کے پاس جدید چھرے والی بندوق ہے جس پر دوربین لگی ہے ، نذیر کا ٹریکٹر اور ایک ٹرالی بھی شامل کر ولو "

خدا بخش نے  مزید معلومات دیں ۔
" میرے پاس سولہ ہزار ٹینک  اور  چودہ ہزار  اے پی سیزہیں جو اِس وقت تم سے صرف  700 کلو میٹر دور افغانستان میں موجود ہیں "  اوبامہ ،  پُر اعتماد لہجے میں بولا ،  "کیا تم اپنے اعلانِ جنگ پر دوبارہ غور کرو گے ؟ "

" میں آپ کو مشورہ کر کے دوبارہ رنگ کرتا ہوں " خدا بخش   ولد مولا بخش نے کہا ۔ اور فون رکھ دیا ۔

تیسرے دن ، اوبامہ کے اوول آفس کے فون کا بزر بجا ، اوبامہ نے فون اُٹھایا اور سپیکر فون کا بٹن دبا دیا  ۔اوول آفس میں آواز گونجی " مسٹر اوبامہ  ، خدا بخش   ولد مولا بخش  سپیکنگ  فرام   نانک پور ،تحصیل جڑاں والا،  ڈسٹرکٹ فیصل آباد  ۔ مجھے یہ بتاتے ہوئے افسوس ہو رہا ہے ، کہ میں نے اعلانِ جنگ واپس لے لیا ہے "
اوبامہ اور
کابینہ کے تین ممبروں ڈیفنس سیکریٹری آف سٹیٹ ،   فارن منسٹر ، سیکریٹری ہوم لینڈ سکیورٹی اور سی آئی اے کا  جنوب مشرقی ایشیا   کا نمائندہ  سب  کے چہروں پر سکون کا  رنگ پھیل گیا  ۔
" مسٹر   خدا بخش   ولد مولا بخش" اوبامہ بولا " میں پوچھ سکتا ہوں کہ اِس ہمدردی کی کیا وجہ ہے ؟" 
"  مسٹر اوبامہ ،  ہم نے   پیپل کے درخت کی ٹھنڈی چھاؤں  غور خوص کے دوران، خالص  لسی  گلاس پی کر  اِس نتیجے پر پہنچے ہیں  کہ
،
،
،
،
،
کسی بھی طریقے سے ہم   ، ایک کروڑ ،
،
،
،
،
،
،
،
،
جنگی قیدیوں کو روزانہ تین وقت تو کیا ایک وقت  بھی  کھانا نہیں کھلا سکتے"!

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔