میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 9 جولائی، 2017

عَلَّمَ الْأَسْمَاءَ

وَعَلَّمَ آدَمَ الْأَسْمَاءَ كُلَّهَا ثُمَّ عَرَضَهُمْ عَلَى الْمَلَائِكَةِ فَقَالَ أَنبِئُونِي بِأَسْمَاءِ هَـٰؤُلَاءِ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ ﴿2:31
          انسانوں میں زبان انسانی اظہار اورانسانی ترقی کے لئے اللہ تعالیٰ کی سب سے بڑی نعمت ہے۔انسان کو عموماً حیوانِ ناطق کہا جاتا ہے۔ قوتِ گویائی جانوروں میں بھی پائی جاتی ہے لیکن اُن کے لئے اِس کا استعمال صدیوں سے محدود ہے۔ 
اللہ تعالیٰ نے انسان کو بھی قوت ِ گویائی سے نواز ا لیکن اُسے ایک ایسی اضافی قوت دی جس نے اُس کی گویائی کو قوتِ لسان میں تبدیل کیا اور وہ عطائے ربّانی عَلَّمَ الْأَسْمَاءَ  تھا۔اللہ کی تخلیق کی گئی اشیاء کو ”بذریعہ اسم (خصوصیت) سے پہچاننے کا علم۔زمین پر انسان اللہ کی جس تخلیق کو دیکھتا اُسے اپنا فہم پہناتا ، اُن کی خصوصیت کے مطابق اُنہیں مختلف  خاندانوں میں رکھتا ۔  
 عَلَّمَ الْأَسْمَاءَ   کی وجہ سے اِس کی لسان نے اُس کی قوتِ خامسہ سے مل کر  انسان کو محدود حیوانی  زندگی سے نکال کر  لامحدود شاہراہ زندگی پر لا ڈالا۔ اُس نے اپنی پہچان کے لئے ہر معلوم شئے کو ایک اسم دیا۔دوسرے انسان کو سمجھانے کے لئے سب سے آسان زبان جو تحریر میں آئی وہ  اشکال   میں تھی۔کسی بھی چیز کو سمجھانے کا پہلا ذریعہ بنا۔

عَلَّمَ الْأَسْمَاءَ  کی خصوصیت کے باعث "تصویری زبان"   ترقی کرتے کرتے  حروف میں تبدیل ہو گئے۔ (حروف بھی اشکالِ ہیں ہی کی ایک قسم ہیں۔)

مشکل سے مشکل زبان ،آسان سے آسان ہونے لگی۔چند الفاظ سے انسان پورا مافی الضمیر بیان کر دیتے۔اُن الفاظ کا تلفظ اور ادائیگی انہیں اور آسان بنا دیتا۔

اس  پر مزید فصاحت اِس طرح ہوتی کہ اِن الفاظ میں ایک یا دو حروف کا اضافہ، ایک لفظ کو مکمل جملہ بنا دیتا۔

 
بہر حال کسی بھی زبان کی فصاحت  سے مراد کم از کم الفاظ میں اپنے خیالات، احکامات اور رائے کا اظہار ہے۔جب ایک انسانی گروہ دوسرے انسانی گروہ سے الگ ہوا تو اُس نے اپنی   عَلَّمَ الْأَسْمَاءَ  کی خصوصیت کے باعث  اپنے اظہار کے لئے نت نئی زبانیں ایجاد کیں۔
زبانوں میں اختلاط اور نئی زبانوں کا وجود مقبوضہ عورتوں اور غلاموں سے ہو ا۔جنہوں نے  قابض آقاؤں کی زبان کو اپنی زبان میں ملا کر انہوں نے نئی زبان وجود میں لائی۔بچوں نے ماں کی زبان میں مافی الضمیر کا اظہار کرنے کو فوقیت دی یوں پدری زبان،  مادری زبان میں مل کر نئی زبان بنی۔
مدرسوں نے زبان کی حفاظت کے فرائض سنبھالے۔ علمائے ادب نے زبان کو چاشنی دی اور ایک لفظ کے کئی مترادفات بنا لئے یو ں لغت میں آہستہ آہستہ اضافہ ہوتا گیا۔ اِس طرح بولی جانے والی زبان قیودِ تحریر میں آکر ایک چیستان بن گئی۔




خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔