میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 4 جولائی، 2017

زندہ قوم کا پہلا فرد !



استادوں سے مار کھا کر آتے اور وہ بھی بُری طرح ، تو سوال ہوا ۔
"کیا شرارت کی ؟ "
اور یہ سول کرنے والی ماں ہوتی کیوں کہ اُس نے گرم اینٹ پر کپڑا لگا کر سینکنا ہوتا ، وہ بھی  مردہ قوم کی ایک فرد تھی ۔
والد نے مردہ قوم کا ثبوت دینے اپنے ہمدردوں کے ساتھ ، کبھی ماسٹر صاحب پر چڑھائی نہیں کی ، کبھی پرنسپل کے خلاف کوئی جھوٹی ایف آئی آر اِس بنا پر  نہیں کٹوائی ۔ کہ وہ   مردہ  قوم کے فرد  تھے ۔
کھیل میں آپس میں لڑائی ہونا معمولی بات تھی ۔ لیکن وہ محلاتی گالیوں سے کبھی آگے نہ بھی -
 میں نے اپنی زندگی میں زندہ قوم کا پہلا فرد دیکھا ۔
  وہ ہمارا محلہ دار تھا ۔  ہاکی کھیلنے کے دوران اُس کو میری گیند لگ گئی تو وہ لپک کر مجھے مارنے آیا ، لیکن دوستوں نے بیچ بچاؤ کروا دیا ۔ 
مغرب پڑھ کر میں مسجد سے واپس آرہا تھا ۔ کہ اُس نے مجھے روک لیا۔
" تم خود کو بدمعاش سمجھتے ہو ؟" اُس نے اپنی چپل پیروں سے نکالتے ہوئے کہا ۔
" شکل گم کرو ، کل گروانڈ میں دیکھیں گے " ۔ میں نے جواب دیا ۔
میرے منہ پر ایک زور کا گھونسہ لگا ۔
 اُس کے بعد مجھے معلوم نہیں کیا ہوا وہ زمین پر تھا اور محلے والے ہمیں چھڑا رہے تھے - ہم دونوں کی ناکوں سے خون بہہ رہا تھا -
واپس مسجد کے نلکے سے منہ دھو کر ، گھر آگیا ، بجلی تو اُس وقت تک آئی نہیں تھی ، لالٹین کی روشنی میں والدہ نے دھیان نہیں دیا ۔ 
کہ برخوردار کی ناک سوجی ہوئی ہے - 
تب مجھے معلوم ہوا کہ زندگی کیا ہوتی ہے !
دو سال پہلے ۔ محلے کا دوست  رائیونڈ سے راولپنڈی ، مری تک پہنچا واپسی میں فون کیا ۔
" اوئے میجر ۔ میں نے اپنے بچوں کے ساتھ تمھیں ملنا ہے!  "
"آجاؤ " میں نے کہا
" نہیں کل دوپہر کو آئیں گے ابھی مری میں ہیں " وہ بولا ۔ 
 " کھانا ساتھ لاؤ گے ۔ یا مجھے دیگ بنوانا پڑے گی " میں نے پوچھا ۔
" زیادہ نہ بنانا ، بس دو دیگیں کافی ہوں گی ، زردے  کی دیگ کے علاوہ ۔ ارے ہاں ہم پلاؤ اور نان کھاتے ہیں ۔"
" آجاؤ ، آجاؤ  ، اب سال بھر روزہ رکھنا پڑے گا ، تم نے روز روز کب آنا " میں نے جواب دیا
دوسرے دن ، وہ دوست بمع جماعت  حاضر تھا  ، کھانا کھانے کے بعد  ، ایک نوجوان نے پوچھا ۔
"میرپورخاص مں آپ دونوں ایک دوسرے  سے واقف تھے ؟"
" مکہ مسجد  کے ساتھ گذرنے والی ، والی سڑک کے پار شمالی محلّے میں   یہ زندہ قوم کا فر دتھا اور جنوبی محلّے میں میں !
جَنوں کا نام خِرد رکھ دیا ۔ خِرد کا جَنوں 
جو چاہے آپ کا حُسن کرشمہ ساز کرے

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔