میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے !( خالد نعیم الدین)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 7 جولائی، 2017

سرایت کر گیا مجھ میں ،ہم نشینی کا جمال

گِلے خوش بوئے در حمّام روزے
رسید از دستِ مخدومے بہ دستم
خوشبودار مٹی حمام میں تھی، ایک دن
میرے مخدوم  کے ہاتھو ں وہ مجھ تک پہنچی 

بدو گفتم کہ مشکی یا عبیری
کہ از بوئے دل آویزِ تو مستم
مشک ہے یا عبیر ، یہ پوچھا ،میں نے  اُس سے
دل میں آویزاں ہو ئی  مہک تیری ، مستی بھری

بگفتا من گِلے ناچیز بُودم
و لیکن مدّتے با گُل نشستم
میں تھی اِک  ناچیزمٹی صدیوں سے، وہ بولی
مگر مجھ کو ملی صحبت  اِک پھولِ خوش بو دار کی 

جمالِ ہمنشیں در من اثَر کرد
وگرنہ من ہمہ خاکم کہ ہستم
سرایت کر گیا  مجھ میں ،ہم نشینی  کا جمال
 ورنہ میری ہستی تھی ہمیشہ خاک کی 

(شیخ سعدی شیرازی )
(ترجمہ: مہاجرزادہ  )

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔