میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 9 جولائی، 2017

الکتاب ، ام الکتاب اور متشابھات !



 الْكِتَابَ اورأُمُّ الْكِتَابِ کا فرق اور آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ کی مُتَشَابِهَاتٌ  میرے فہم کے مطابق ؟ 



هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ [3:7]
آیت کا یہ حصہ ، اہمیت کا حامل ہے ، أُمُّ الْكِتَابِ (اوریجنل ٹیکسٹ) کی تفسیر کے لئے :

1- هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ ۔ ۔ ۔ ۔ 

 وہ جس نے تجھ  پر الکتاب نازل کی ہے ۔ اُس (الکتاب) میں آیات محکمات ہیں  وہ    ( آیات محکمات)   اُم الکتاب ہیں!
اور ، آیت کے اِس حصے کا تعلق، الکتاب کی مُتَشَابِهَاتٌ کی تفسیر کے لئے ہوئے ہے :
2 -۔ ۔ ۔
وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ  ۔ ۔ ۔ ۔  

اور   دیگر  ( آیات )       مُتَشَابِهَاتٌ ہیں ۔ پس جن لوگوں کے قلوب میں زیغ   ہے  پس وہ جو اُن  ( آیات محکمات) کے   تَشَابَهَ ہیں ، کی اتباع کرتے رہیں گے  ( صرف )بغاوتِ     الْفِتْنَةِ اور    بغاوتِ تَأْوِيل کے لئے۔
کیوں کہ
آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ  کی   تاویلات نہیں   بنائی جا سکتی ہیں ؟  ۔


 اور ، آیت کے اِس حصے کا تعلق،  مُتَشَابِهَاتٌ  کی تاویل کے بارے اللہ کا حتمی فیصلہ ہے ۔

3۔ ۔ ۔ ۔ ۔ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ۔ ۔ ۔ ۔ 
 اور سوائے اللہ کے  اُن   (مُتَشَابِهَاتٌ)کی تاویل   کا علم کسی کو نہیں۔

جن میں انسانوں کے قُلُوب میں  زَيْغٌ  ہے انہوں سعی ،ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ  کی راہ پر چلتے ہوئے انسانوں کو اپنی تاویلات سمجھانے کے لئے ، اُن تاویلات کو محمدﷺ سے منسوب کر دیا ۔
اِس آفاقی سچ کے باوجود کہ وہ رسول اللہ سے بالمشافہ نہیں ملے ، یعنی اُنہیں اصحابِ رسول کا درجہ حاصل نہیں !
آیت کے اِس حصے میں " ۔ ۔ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ۔ ۔ ۔ کا تعلق،آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ (کنفرمیشن) اور اُن کی مُتَشَابِهَاتٌ (فوٹو کاپیوں) سے ہے ، 
 انسانی تاویلات سے نہیں :
4۔ ۔ ۔ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا۔ ۔ ۔ [3:7]
 اور   جو الْعِلْمِ میں  الرَّاسِخُ ہیں وہ یہ کہتے رہتے ہیں  ہم   كُلٌّ (الکتاب) کے ساتھ ایمان لائے  جو ہمارے ربّ کے نزدیک ہے  ۔
میرا فہم شاید ، آیت کے اِس حصے کے مطابق ہو :

5 ۔ ۔ ۔ وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ  [3:7]



 اور اس سےسوائے     أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ  کوئی   ذَّكَّرُ نہیں کرتا رہتا ۔ 

اگر نہیں ! تو میرے فہم پر مٹّی پاؤ ، اور 
اللہ کی یہ آیت جو اسوہءِ محمد ﷺ ہے ، پر عمل کر کے ، خود اپنا فہم صرف اِس آیت سے بنائیں ۔ 
هُوَ الَّذِي أَنزَلَ عَلَيْكَ الْكِتَابَ مِنْهُ آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ هُنَّ أُمُّ الْكِتَابِ وَأُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ فَأَمَّا الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ زَيْغٌ فَيَتَّبِعُونَ مَا تَشَابَهَ مِنْهُ ابْتِغَاءَ الْفِتْنَةِ وَابْتِغَاءَ تَأْوِيلِهِ وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلاَّ اللّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ يَقُولُونَ آمَنَّا بِهِ كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا وَمَا يَذَّكَّرُ إِلاَّ أُوْلُواْ الْأَلْبَابِ [3:7]



زیر تدبّر آیت میں ۔ ہر لفظ ۔أُمُّ الْكِتَابِ  ہے بشمول أُخَرُ مُتَشَابِهَاتٌ کے !کیوں کہ  كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ہیں ۔

یہ تصوّر ، کہ کتاب، صحوف پر لکھ کر موچی دھاگے سے سیئے ہوئے مجموعے کو کہتے ہیں ، کمپیوٹر کی ایجاد کے بعد ، غلط  ہو گیا ہے ۔
ہر وہ چیز جو حواسِ خمسہ سے انسانی دماغ میں داخل ہوتی ہے ، لکھی جاتی ہے ، الواحِ محفوظ پر ، جن کو ذہن ، مختلف صحوف میں ترتیب دیتا ہے ، جسے " پیجنگ " کہا جاتا ہے ۔ 
ہر پیج یا صفحہ ، بنیادی لکھائی (أُمُّ الْكِتَابِ) سے منسلک ہوتا ہے ، 
جب انسانی ذہن میں سوال اُٹھتا ہے تو اُسے اُس کا جواب ، ذہن میں موجود بنیادی معلومات (أُمُّ الْكِتَابِ) سے ملتا ہے ، اگر نہیں تو وہ ، اپنے سے پہلے معلومات رکھنے والوں سے یہ معلومات حاصل کر کے ، معلومات نہ رکھنے والوں میں " اوّل" ہو جاتا ہے !

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  مُتَشَابِهَاتٌ کا ڈی این اے " ش ب ہ " سے جڑا ہوا ہے ۔  جس کے  مزید  الفاظ الکتاب میں اللہ نے درج کئے ہیں !
نوٹ :   شُبِّهَ ، شَكٍّ اور رَيْبَ  ، آپس میں مترادفات نہیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
  وَقَوْلِهِمْ إِنَّا قَتَلْنَا الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللَّـهِ وَمَا قَتَلُوهُ وَمَا صَلَبُوهُ وَلَـٰكِن شُبِّهَ لَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ اخْتَلَفُوا فِيهِ لَفِي شَكٍّ مِّنْهُ ۚ مَا لَهُم بِهِ مِنْ عِلْمٍ إِلَّا اتِّبَاعَ الظَّنِّ ۚ وَمَا قَتَلُوهُ يَقِينًا ﴿4:157 
اور    اُن کا قول ، یقیناً ہم نے  الْمَسِيحَ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ رَسُولَ اللّهِ کو  ہم نے  قتل کر دیا ۔  اور نہ اُنہوں نے اُس کو قَتَلُ کیا اور  نہ اُنہوں نے اُس کو صَلَبُ  کیا، اور لیکن   اُن کے لئے اُس کا    شُبِّهَ (شک  نہیں بلکہ فوٹو کاپی) ہے  ۔ اور وہ لوگ جنہوں نے اِس   (شُبِّهَ ) میں اختلاف کیا ، اُن کے لئے اِس(شُبِّهَ ) میں  شَكٍّ ہے ، اُن کے لیے اِس (شُبِّهَ )میں عِلْمٍ  نہیں سوائے اتِّبَاعَ الظَّنِّ   کے  اور اُسے       يَقِينًا قتل نہیں کیا گیا  !
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
نوٹ:  الْكِتَابَ کی آيَاتٌ مُّحْكَمَاتٌ کی مدد سے ،میری یہ تحریر بھی  مُتَشَابِهَاتٌ (فوٹو کاپیوں) میں سے ، اور   كُلٌّ مِّنْ عِندِ رَبِّنَا ہے  - کیوں کہ  اللہ نے مجھے ،    عقل و دانش ، فہم و فکر ،  شعور و تدبّر ،  عطا کیا ہے،
اِس تحریر کو پڑھ کر بھٹکنے والوں کی کُلّی ذمہ داری   میری ہے  اور  اپنی ہدایت پر لانا اللہ کے ذمہ ہے ۔

إِنَّ عَلَيْنَا لَلْـهُدَىٰ ﴿92:12

 یقیناً   الْـهُدَىٰ ہمارے پاس ہے 
 (فوٹو کاپی کرنے والے کے  پاس نہیں)
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭




 



 



خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔