میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

ہفتہ، 15 جون، 2019

سورت بنا کر لاؤ ۔ اللہ کا چیلنج


روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم قطعی بتایا :

وَإِنْ كُنتُمْ فِي رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُواْ بِسُورَةٍ مِّن مِّثْلِهِ وَادْعُواْ شُهَدَاءَكُم مِّن دُونِ اللّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ [2:23]


روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کے دو حکم قطعی بتائے : 

وَمَن يَهْدِ اللَّهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ أَلَيْسَ اللَّهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ [39:37

مَن يُضْلِلِ اللّهُ فَلاَ هَادِيَ لَهُ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ [7:186

معلوم نہیں کِن خبیث مشرکوں نے اللہ کا چیلنج قبول کیا
 اور انسانوں کو بھٹکانے کے لئے اللہ کی دو آیات میں قطع و بُرید کر کے ، اپنی سور ملا کر اللہ کے حکم کے مواضع تبدیل کرنے کے بعد اِن منکرین الکتاب نے محمدﷺ پر تھوپ دیئے:
 إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَ نَسْتَعِیْنُہُ
 مَنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ھَادِيَ لَہُ، 
وَ أَشْھَدُ أَن لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ  أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، 
کیا اِن مشرکوں کو، الذین آمنوا اپنا امام بنا سکتے ہیں ؟

 ذرا سوچیں !!!٭٭٭

٭
رسول اللہ ﷺ سے درج ذیل خطبہ مطلقاً ثابت ہے:
 ((إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ وَ نَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّھْدِہِ اللہُ فَلاَ مُضِلَّ لَہُ وَ مَنْ یُّضْلِلْ فَلاَ ھَادِيَ لَہُ، وَ أَشْھَدُ أَن لاَّ إِلٰہَ إِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَ [أَشْھَدُ] أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَ رَسُوْلُہُ، أَمَّا بَعْدُ:)) (صحیح مسلم: 868، سنن النسائی 6/ 89۔ 90 ح 3280 وسندہ صحیح والزیادۃ منہ)((فَإِنَّ خَیْرَ الْحَدِیْثِ کِتَابُ اللہِ، وَ خَیْرَ الْھَدْيِ ھَدْيُ مُحَمَّدٍ (ﷺ) وَ شَرَّ الْأُمُوْرِ مُحْدَثَاتُھَا وَ کُلَّ بِدْعَۃٍ ضَلاَلَۃٌ)) (صحیح مسلم: 867)
٭٭٭٭٭٭
 روح القدّس نے الذین آمنو کو اللہ کے حکم ، وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۗ کے مکمل مواضع بتائے :

أَلَيْسَ اللَّـهُ بِكَافٍ عَبْدَهُ ۖ وَيُخَوِّفُونَكَ بِالَّذِينَ مِن دُونِهِ ۚ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِنْ هَادٍ ﴿39:36﴾

وَمَن يَهْدِ اللَّـهُ فَمَا لَهُ مِن مُّضِلٍّ ۗ أَلَيْسَ اللَّـهُ بِعَزِيزٍ ذِي انتِقَامٍ ﴿39:37﴾

وَلَئِن سَأَلْتَهُم مَّنْ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ لَيَقُولُنَّ اللَّـهُ ۚ قُلْ أَفَرَأَيْتُم مَّا تَدْعُونَ مِن دُونِ اللَّـهِ إِنْ أَرَادَنِيَ اللَّـهُ بِضُرٍّ هَلْ هُنَّ كَاشِفَاتُ ضُرِّهِ أَوْ أَرَادَنِي بِرَحْمَةٍ هَلْ هُنَّ مُمْسِكَاتُ رَحْمَتِهِ ۚ قُلْ حَسْبِيَ اللَّـهُ ۖ عَلَيْهِ يَتَوَكَّلُ الْمُتَوَكِّلُونَ ﴿39:38﴾

روح القدّس نے الذین آمنو کو اللہ کے حکم ، مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ کے مکمل مواضع بتائے :

وَمِمَّنْ خَلَقْنَا أُمَّةٌ يَهْدُونَ بِالْحَقِّ وَبِهِ يَعْدِلُونَ ﴿7:181﴾


وَالَّذِينَ كَذَّبُوا بِآيَاتِنَا سَنَسْتَدْرِجُهُم مِّنْ حَيْثُ لَا يَعْلَمُونَ ﴿7:182﴾

وَأُمْلِي لَهُمْ ۚ إِنَّ كَيْدِي مَتِينٌ ﴿7:183﴾

أَوَلَمْ يَتَفَكَّرُوا ۗ مَا بِصَاحِبِهِم مِّن جِنَّةٍ ۚ إِنْ هُوَ إِلَّا نَذِيرٌ مُّبِينٌ ﴿7:184﴾

أَوَلَمْ يَنظُرُوا فِي مَلَكُوتِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا خَلَقَ اللَّـهُ مِن شَيْءٍ وَأَنْ عَسَىٰ أَن يَكُونَ قَدِ اقْتَرَبَ أَجَلُهُمْ ۖ فَبِأَيِّ حَدِيثٍ بَعْدَهُ يُؤْمِنُونَ ﴿7:185﴾

مَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَا هَادِيَ لَهُ ۚ وَيَذَرُهُمْ فِي طُغْيَانِهِمْ يَعْمَهُونَ ﴿7:186﴾

احسن الحدیث بمقابلہ لھو الحدیث !


جمعہ، 14 جون، 2019

پیر کی دُعا ۔

پیر   کی شادی تھی:
جب لاگ لینے نائی آیا تو پیر بولا:" او بتا شکور، پیسے لینے یا دعا ؟؟"
نائی بولا: " مرشد میں تو دعا ہی لوں گا. پیسے آپ سے لے کہ کیا کرنے؟؟"


کمہار آیا، پیر بولا،" اؤے بتا اشرف تو نے بھی دعا لینی ہے یا پیسے؟؟"
کمہار:"  باوا جی میں نے بھی دعا ہی لینی ہے "

مراثی کی باری آئی تو پیر بولا:   
" او ئے ڈوم بتا اوئے پیسے چاہیئے   یا دعا ؟؟"
مراثی : " باوا جی 50 روپے  دعا دے دیں  اور   500 نقد دے دیں  " 
ہوں ں ں ں ں ں  ں  " ۔  پير نے لمبی سے ہوں بھری !

اور دعا دى اور تھوڑى دير بعد بولا،
 " مجھے سے غلطی ہوگئی, ميں 500 کی  دعا دے دی ,تو ایسا کر اپنے 50 روپے کاٹ کر باقی 450 روپے مجھے واپس کر دے ۔""
بجٹ 2019
سرکاری ملازمین کیلیے
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

باپ اور بیٹی !


بدھ، 12 جون، 2019

دھماسہ -کینسر تھیلاسیمیا اور ہیپاٹائٹس کا علاج

دھماسہ ویران علاقوں میں پایا جانے والا ایک پودا ہے۔
 اسے اردو میں دھماسہ یا سچی بوٹی، عربی میں " شوکت البیضأ  "
پشتو میں ازغاکے ، پنجابی میں دھماں، ہندی میں دھماسہ، پوٹھوہاری میں دھمیاں ، سندھی میں ڈراماؤ، اور انگریزی نام فیگونیا   (Fagonia laevis )یونانی زبان سے لیا گیا ہے۔


دھماسہ کے پودے میں تھوڑے تھوڑے فاصلے پر چار چار کانٹوں کا ایک سیٹ ہوتا ہے جس میں ہر دو کانٹوں کے درمیان پتلا اور لمبوترا پتہ ہوتا ہے۔ یہ کانٹےتین بھی ہو سکتے ہیں، اور چار بھی۔ اس کی شاخیں بہت پتلی ہوتی ہیں، اس لئے یہ براہ راست بڑھ نہیں سکتے ہیں اور ایک چھوٹی سی جھاڑی کی شکل اختیار کر لیتے ہیں۔
 یہ پودا اٹلی، جرمنی، مشرق وسطیٰ کے ممالک، پاکستان اور بھارت میں بھی پایا جاتا ہے۔ 
 اس کے پھولوں کا رنگ ہلکاجامنی ہے۔ 
پھول جھڑنے کے بعد اس کے کانٹوں کے قریب 00 شکل کے چھوٹے بیج بڑی تعداد میں ہوتے ہیں۔ 

 دھماسہ کی  کئی اقسام ہیں   لیکن اِن کی تمام اقسام کے فوائدیکساں ہیں، لیکن جس قسم میں پھول اور پتے زیادہ ہونگے، وہ زیادہ جلد اثر کرے گی۔ 
دھماسہ کے فوائد :
 طبِ یونانی کے مطابق  ،
٭-  یہ سب سے اچھا مصفّا خون ہے اور خون کے لوتھڑوں کو پگھلاکر خون کو پتلا کرتا ہے جس کی وجہ سے برین ہیمبرج، ہارٹ اٹیک، اور فالج وغیرہ سے حفاظت ہوتی ہے۔
٭-   اس کے پھول اور پتیوں سے کینسر اور تھیلاسیمیا کی ہر قسم کا علاج ممکن ہے۔
٭-  جسم کی کی گرمی کو زائل کرنے اور ٹھنڈک کے اثرات کے لئے استعمال کیا جا سکتا ہے۔ 
٭۔ اس کے ذریعے ہیپاٹائٹس کی تمام اقسام کا علاج ممکن ہے۔ 
٭- جگر کو طاقت دے کر جگر کے کینسر کا بھی علاج کیا جا سکتا ہے۔ 
٭-  دل اور دماغ کی صلاحیتوں میں بہتری لانے میں معاون ہے۔
٭- جسمانی دردوں کے علاج میں مددگار ہے۔
٭-  مختلف قسم کی الرجی کا علاج ہے۔ 
٭۔ کیل، مہاسے، چھائیاں اور دیگر جلدکے امراض سے نجات دلاتا ہے۔
٭۔ معدہ کو تقویت دے کر بھوک بڑھاتا ہے۔
٭ ۔ اس  کےاستعمال سے قے، پیاس اور جلن، وغیرہ جیسی علامات ختم ہو جاتی ہیں۔
٭۔ کمزور جسم کو طاقت دے کر فربہ بناتاہے، اور موٹے افراد کے لئے وزن کو کنٹرول کرنے میں مددگار ہے۔
٭۔ منہ اور مسوڑھوں کے امراض علاج ہے۔ 
٭۔ بلڈ پریشر کو معمول پر لاتا ہے۔ 
٭۔ پولن الرجی ،  دمہ اور عمومی سانس لینے میں دشواری کا علاج کرتا ہے۔
٭- تمباکو نوشی کےضمنی اثرات سے بحالی میں مدد ملتی ہے۔ 
٭۔ دھماسہ کا قہوہ چیچک روکنے کے لئے دیا جاتا ہے۔ 
٭ ۔ پیشاب کو بڑھاکر گردوں اور پیشاب کے نظام کو بہتر بناتا ہے۔
٭ ۔ یہ گردن کے پٹھوں کے کھچاؤ میں بھی دیا جاتا ہے۔ 
٭۔ مردانہ سپرم کی تعدادمیں بہتری اور عورت کے تولیدی نظام کو معمول پر لانے میں معاون ہے۔
٭ ۔ لیکوریا سمیت عورتوں کےعوارض کو کنٹرول کرتا ہے۔ 
٭ ۔ اٹھرا کا شافی علاج کرتا ہے، جب کہ ایلوپیتھی میں یہ لاعلاج مرض ہے۔  یہ خواتین کی ایسی بیماری ہے کہ جس میں جسم پر نیلے یا سیاہ دھبےطاہر ہوتے ہیں۔جس کی وجہ سے  اسقاط حمل ہو جاتا ہے، مردہ بچے پیدا ہوتے ہیں یا پیدا ہونے کہ بعد نیلے کالے ہو کر مر جاتے ہیں۔ کچھ خواتین میں صرف لڑکیاں تو بچ جاتی ہیں لیکن لڑکے زندہ نہیں رہتے۔ اس کے علاوہ کچھ خواتین میں اٹھرا کی وجہ سے معدہ اور جگر کی خرابی کی وجہ سے وہ کمزور ہو جاتی ہیں۔ ایسی خواتین حمل کی تکالیف برداشت نہیں کر سکتیں جس کی وجہ سے اسقاط حمل ہو جاتا ہے۔ 
٭۔ ایک اچھا اینٹی آکسیڈینٹ ہونے کی وجہ سے ذہنی دباؤکو کم کرنے میں مدد ملتی ہے۔

 استعمال کرنے کا طریقہ :
دھماسہ کے پھول، پتے اوربیج اکٹھے کرلیں۔ اسے نیم گرم پانی سے دھونے کے بعد ہوادار سایہ میں خشک کر لیں۔ مکمل طور پر خشک  ہونے کے بعد اسے پیس کر پاؤڈر بنا لیں۔
صبح دوپہر شام اس پاؤڈر کے ایک چائے کے  چمچ کے برابر وزن  کو ،بچے کی خوراک میں شامل کرکے کھلائیں۔
 بڑوں کے لئے اسی پاؤڈر کا ایک چھوٹا یا بڑا چمچ (عمر اور جسم کے وزن کے مطابق) بڑے کیپسولز میں بھر کے یا کسی خوراک میں ملا کر صبح دوپہر شام پانی کے ہمرا کھلائیں۔ 
٭۔ دھماسہ کے تازہ پتے، پھول اور بیج سب کو پانی میں گھوٹا لگا کر ایک کپ یا گلاس دن میں تین بار کھانے کے فوری بعد نوش فرمائیں۔
 پندرہ سے تیس دن تک بیماری سے شفا ہوگی۔ 
  مکمل صحت کے لئے ، بیماری کی نوعیت  وقت کو طویل کردیتی ہے ،  اِسے زیادہ مدت کے لئے سال بھر بھی مسلسل استعمال کیا جاسکتا ہے۔
٭۔ اگر پتے پھول اور بیج کم ملیں تو دھماسہ کی مکمل سبز شاخیں، کانٹوں سمیت بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔ 
٭ ۔ دھماسہ کو پیس کر تھوڑا سا شہد شامل کرکے آٹے کی طرح تیار کریں اور اس کی چنے کے بڑے دانے کے سائز کی گولیاں بنا لیں۔ یہی تین یا چار گولیاں دن میں تین بار کھانے کے فوراً بعد پانی سے نوش فرمائیں۔ 
٭ ۔ اٹھرا کےمرض میں مبتلا خواتین صحت مند بچے کو حاصل کرنے کے لئے حمل کے تمام نو ماہ اسے استعمال کریں۔ زچہ و بچہ دونوں صحت مند رہیں گے۔ 

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

جمعرات، 6 جون، 2019

احد پہاڑ سے بڑے گناہ، اللہ سے معاف کروائیں

 ٭ -  گناہِ   کبائر (کبیرۃ) و گناہ صغائر (صغیرہ)
  روح القدّس نے محمدﷺ کو اللہ کا حکم بتایا:
الَّذِينَ يَجْتَنِبُونَ كَبَائِرَ الْإِثْمِ وَالْفَوَاحِشَ 
 إِلَّا اللَّمَمَ
إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ
هُوَ أَعْلَمُ بِكُمْ إِذْ أَنشَأَكُم مِّنَ الْأَرْضِ
وَإِذْ أَنتُمْ أَجِنَّةٌ فِي بُطُونِ أُمَّهَاتِكُمْ
فَلَا تُزَكُّوا أَنفُسَكُمْ هُوَ أَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقَى [53:32]

٭ گناہِ   كَبَائِرَاور الْفَوَاحِشَ   کے لئے  ا للہ کا -   توبہ کا معیار 

  ٭ -  گناہِ صغیرہ

إِلَّا اللَّمَمَ ؟؟؟؟؟؟؟ 
 


٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 4 جون، 2019

جاسوسوں کی زندگی

سویلیئن بلکہ عام فوجی کیا جانیں  جاسوس کی زندگی کیا ہوتی ہے ؟ 
وہ جو دشمن کے ممالک میں اہم اطلاع دینے کی غرض سے اپنی عمریں گذار دیتے ہیں ۔  لیکن کسی کو ہوا نہیں لگتی کی وہ  اُن کے دشمن اور جاسوس ہیں  ۔

جو بنیادی سبق  اُنہیں بتایا جاتا ہے کہ جب آپ کو دشمن کے ملک میں لانچ کردیا  تو ہم آپ کی سلامتی کے ذمہ دار نہیں آپ خود ہیں ، آپ کو تمام تر احتیاط کے ساتھ خود کو محفوظ رکھنا ہے بلکہ آپ کو کسی قسم کی بھی معلومات اپنے ، اپنے خاندان، اپنی ملازمت یا اپنے ادارے کے خلاف نہیں دینی ۔
ایک سخت زندگی سے گذرنے کے بعد اُنہیں دشمن ملک میں بھجوادیا جاتا ہے ۔ 

کیوں کہ اُنہیں معلوم ہوتا ہے اگر وہ پکڑے گئی تو وہ  ٹارچر سیل میں گمنامی کی موت مارے جائیں گے ۔
جاسوسی ناول  لکھنے والے یا جاسوسی کہانیاں پڑھنے والے !
کیا جانیں کہ ٹارچر سیلز کی سختی ہوتی کیا ہے؟
جاسوسی تنظیم پر انگلیاں اُٹھانے والے، کیا جانیں کہ پلاس سے ناخن کھینچنے سے کیا ہوتا ہے ؟
اِنہیں چیونٹی کاٹ جائے تو اِنہیں بخار ہوجاتا ہے  ، اِنہیں کیا معلوم  کہ بہتے زخم پر چیونٹیاں چھوڑ دی جائیں تو  جاسوس پر کیا گذرتی ہے ؟
یہ چلتی ڈرل دیکھ کر  بے ہوش ہوجانے والے اس کا کیا مقابلہ کریں گے؟ 
 جس کی دائیں ٹانگ کی ہڈی کو پہلے باریک برمے سے آر پار سوراخ کیا گیا۔ پھر ،
  برمے کے سائز بڑھتے گئے اس حد تک کہ ٹانگ خود ہی الگ ہوگئی پر،
  اس کے ہینڈلر تک  کا نام اس کی زبان پہ نہ آیا ،

 اسکے مشن کے بارے میں وہ ایک لفظ نہ جان سکے.
اگر کسی کو دلچسپی ہےتو   جائے اور جا کر دیکھے ۔
 دہلی کی تہاڑ جیل کے وارڈ سی ، ڈی ، ای ، ایف سے لیکر کابل کی پل چرخی اور غزنی جیل تک۔ 

سپاہی مقبول حسین جاسوس نہیں تھا بلکہ ایک عام سپاہی اور سچا محب الوطن پاکستانی اور جنگی قیدی تھا ۔
 پاکستان کے بیٹوں کی بیسیوں داستانیں ایسی ہیں جو اگر منظر عام پر آجائیں تو میں دعویٰ سے کہتا ہوں کہ اس قوم کے محب الوطن بیٹوں کے  آنسو نہ رُکیں ۔
 ان جیلوں کی بیرکوں کی دیواریں اس بات کی گواہ ہیں کہ وطن کے یہ بیٹے جیت گئے اور دشمن ہار گیا ، استقامت کے یہ پہاڑ معمولی نہ تھے ، استقامت میں یہ   پہاڑ تھے ، جنہیں نہ جھکایا جا سکا اور نہ ہلایا جاسکا ۔  
بلا کی قوتِ برداشت کے یہ بیٹے  پاکستان کا سرمایہ ہیں ۔ 
آنکھوں پر عینک لگائے ، میز کی دراز میں ڈالر رکھے  ، جب یہ انگلیوں میں پنسل پکڑے  لکھتے ہیں ۔ کہ پاکستان کی جاسوسی تنظیم نے پاکستان کو تباہ کردیا ہے ۔

اگر اِن کی دو انگلیوں میں پنسل رکھ کر ذرا سا دبایا جائے تو یہ اپنے ڈالر دینے والے ہینڈلر   کو دوسرے دباؤ پر  ماں بہن کی گالیاں دینے لگ جائیں ۔
یہ جذبوں سے محروم  ہیں اِنہیں صرف اپنی عیاشی کا ہوش ہے ۔ 
اِن کی بہادری یہ عالم ہے ، یہ 28 مئی یوم تکبیر کے دن یہ ڈر کر ملک سے باہر جا بیٹھے ۔ 

یہ رات کے اندھیرے میں اپنے ہی کمروں میں ڈر جانے والے کیا جانیں کہ خوف ہوتا کیا ہے ؟
وہ خوف کہ جس میں  جنگلی جانور یا بھوت پریت نہیں ہوتے۔ 
یا سینما ھال میں مغربی فلموں سے پیدا کردہ مصنوعی خوف نہیں ہوتا ۔
گولیاں ، گرنیڈ ، آر پی جیز و مائنز  سے جسم کے ٹکڑے ہوجاے کا خوف بھی نہیں ہوتا ۔
بس یہ خوف ہر وقت ذہن پر سوار رہتا ہے کہ ملک کی طرف سے دی گئی ذمہ داری  کی تکمیل میں   کہیں زبان نہ پھسل پڑے !
ایک لفظ نہ  نکل جائے،  جو اسے مجاھد سے غدار بنا ڈالے !
 دنیا بھر کی ایجنسیوں کے ایجنٹ اپنے ساتھ زہر رکھتے ہیں ، اور خودکشی کرنا اُن کے لئے نہایت آسان ہوجاتا ہے ۔ایک آرام موت مگر مسلمانوں کے لئے حرام موت !

لہذایہ اللہ کے شیر شدید اذیت کو آسان موت پر ترجیح دیتے ہیں ،
یہ وہ  افراد ہیں ، جو ہماری نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کے محافظ ہیں۔
کبھی یہ موچی، خاک روب  یا چپڑاسی  کے روپ میں ،
تو کبھی یہ مزدور،  دکاندار یا  بزنس مین کے روپ میں،
 کبھی یہ شاگرد، استاد  یا جوگی  کے روپ میں،
 تو کبھی یہ کسی ادارے میں اعلیٰ عہدے پر بیٹھا ہماری حفاظت پر مامور ہو گا۔

ان کی  وجہ سے ہم  بڑے آرام سے اپنے سکون کمرے میں بیٹھے ہیں ، اپنے بیوی  بچوں کے  ساتھ   شاپنگ کرتے ہیں  ،  غیر ملکی دورے کرتے ہیں ۔
جب   کوئی اُن کے خلاف بولتا ہے ۔

تم اپنا قد بلند کرنے کے لئے یا انتخاب جیتنے کے لئے ، اُن کے  ہی خلاف بولتے ہو تو ،
 واللہ دل کرتا ہے کہ تمہیں چوکوں میں لٹکا دیا جائے ۔
وہ جو تمھارے سکون یا تمھارا وجود برقرار رکھنے کے لئے ، اپنی باقیات کو کہیں دور  اپنوں سے دور کسی گمنام گڑھے یا بے نام  قبر  میں سمو دیتے ہیں ۔
یہ وہ ہیں کہ جو ہیں تو تم ہو
یہ نا ہوں تو تمہارا نشان نہ ہو ،
یاد رکھیں  وہی فوجیں جیتی ہیں  جن کا جاسوسی کا نظام اُنہیں دشمنوں کا چالوں سے باخبر  رکھتا ہے ۔

وہی ملک اپنی معاشی اور سماجی پالیسیوں میں کامیاب ہوتا ہے۔ جس کے جاسوس اپنوں کی آڑ میں دشمنوں کے جاسوسوں کو اپنی جان پر کھیل کر  ڈھونڈھتے ہیں۔ 
پڑھیں ۔ کراچی ایٹمی بجلی گھر کا راز  ۔

  آئی ایس آئی زندہ باد
پاکستان پائندہ باد

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 2 جون، 2019

ایٹمی پروگرام ۔ ایک محسنہ

٭٭٭٭٭٭٭٭٭
ڈاکٹر صاحبہ نے اُٹھ کر اُس کی پیٹھ پر تھپکی دی  اور پانی پلایا ۔ جب اُس کے دل کا غبار نکا تو میں نے پوچھا ،

" کیا آپ وہ خطرناک خفیہ راز مجھے بتانا پسند کریں گی  ؟"
اُس نے آہستگی سے سر ہلایا ، میں نے ڈاکٹر صاحبہ کی طرف دیکھا ، وہ سر ہلا کر باہر نکل گئیں ۔ 
"  منشی کراچی یونیورسٹی میں ،  انگلش ڈیپارٹمنٹ  میں میرا کلاس فیلو تھا ۔ 
ہم دونوں لٹریچر میں ماسٹر کر رہے تھے ۔ لہذا   ہمارا زیادہ تر وقت ایک ساتھ گذرنے لگا ۔ جو آہستہ آہستہ محبت میں تبدیل ہوگیا ۔ میں نے اپنی ممی کو منشی سے اپنے لو افیئر کے بارے میں بتا دیا  ، اُنہوں نے منشی سے ملاقات  کی وہ بھی راضی تھیں  ۔  وقت گذرنے لگا  اور ہم دونوں میں محبت بھی  بڑھنے لگی ۔
 یہاں تک کے اُس کے   شادی کے وعدے (ایجاب و قبول ) پر میں نے اپنا سب کچھ اُس کے حوالے کردیا  ۔
 ہمارا پروگرام تھا کہ رزلٹ آنے کے بعد ہم شادی کر لیں گے ۔ یونیورسٹی کے سال پلک جھپکتے گذر گئے ۔
 امتحان کے بعد  منشی غائب ہو گیا ۔ اُسے میں نے بہت ڈھونڈھا ، اُس کے دوستوں سے پوچھا ، لیکن کسی کو کچھ نہیں معلوم کہ منشی کہاں چلا گیا ۔
تھک ہار کر میں نے مقامی کالج میں جاب  تلاش کرلی ۔ اور اُس کاانتظار کرنے لگی  ۔ بہت رشتے آئے لیکن میں نے انکار کر دیا  کیوں کہ منشی میری زندگی کا پہلا اور آخری مرد تھا ۔میں کسی اور کی دُلہن کیسے بن سکتی تھی ؟
دن اُس کے فون کا انتظار رہتا  ، کہ وہ سرپرائز دے گا۔

میں کالج کے بعد گھر جاتی پھر شام کو  ٹیوشن پڑھاتی او ر اتوار کو اپنی کسی سہیلی کے گھر چلی جاتی ۔یوں سمجھیں میں نے   خود کو بہت مصروف کر لیا ۔
چار سال کیسے گذرے میں نہیں بتا سکتی ۔
 پھر اچانک منشی کا فون آیا ، میں خوشی سے بے حال      ہم دونوں  شام کو ملے ، اُس کے پاس کار تھی  ، وہ مجھے لے کر ایم پے اے ہاسٹل کے ایک خوبصورت سوئیٹ میں لایا ۔
  اِن چار سالوں میں وہ غریب منشی بہت تبدیل ہوچکا تھا ۔
 یونیورسٹی کے زمانے میں اُس کی کینٹین کا بِل بھی میں دیا کرتی تھی ۔اب وہ  بہت امیر و کبیر ہوچکا تھا ۔ڈالروں سے کم بات ہی  نہیں کیا کرتا۔  وہ چار سال   کہاں رہا اُس نے نہیں بتایا،
 لیکن اب  وہ   انگلش لٹریچر کے ساتھ انجنیئرنگ  بھی  کر چکا تھا اور  کراچی ایٹمی  بجلی گھر میں بطور انجنئیر جاب کر رہا تھا۔
  ممی کو معلوم تھا کہ منشی آگیا ہے اور اپنی جاب کی وجہ سے بہت مصروف ہے ، کیوں کہ ہفتے میں ایک بار وہ لاہور یا اسلام آباد ضرور جاتا ۔
چھ  مہینے پہلے  غالبا اتوار کے دن  شام کو میں  اُس کے سوئیٹ  میں  بستر پر لیٹی  تھی  کہ اُسے ایک فون کال آئی ، جسے سُن کر وہ   اچانک اُٹھ کر واش روم گیا ۔ اُس کا بٹوہ میز پر پڑا تھا۔  
میں نے اٹھا کر کھولا  تو اُس میں نے اُس کے بٹوے میں ڈالروں کے ساتھ ایک خوبصورت  مغربی خاتون کی تصویر بھی دیکھی ، میر ا دل ٹوٹ گیا ۔
میرے دل میں جیسے کوئی کانچ کی چیز ٹوٹی ہو میں نے وہ واپس ٹیبل پر رکھ دیا ۔ میرے ذہن میں آندھیاں چلنے لگیں ۔
 یہ کون ہے کیا منشی نے شادی کر لی ہے ؟
 اور مجھ سے کھیل رہا ہے ؟
وہ کپڑے پہن کر باہر نکلا  ۔ میز سے اپنا پرس اور کار کی چابیاں اُٹھائیں  اور یہ کہتا ہوا چلا گیا ، کہ تم بیٹھو میں گھنٹے میں آتا ہوں۔  
میں پریشان بستر پر بیٹھی تھی ۔ سوچا اُٹھو اور گھر چلی جاؤں ۔
بستر سے اُٹھی  ،ڈریسنگ روم میں گئی تاکہ وہاں سے اپنے کپڑے نکالوں اور نہا کر اپنے گھر چلی جاؤں ۔ 
کپڑے نکالتے وقت میری نظر  الماری میں لگے سیف پر پڑی  ،  وہ تھوڑا سا کھلا نظر آیا ، شاید جلدی میں منشی اُسے بند کرنا بھول گیا تھا۔ ، 
میں  نے نسوانی تجسس کی وجہ سے سیف کو تھوڑا اور کھولا کہ دیکھوں اِس میں کیا ہے ۔
 میری آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں ۔
 سیف ڈالروں  کی گڈیوں سے بھرا ہوا تھا جو ایک ترتیب سے لگی ہوئی تھیں ۔ اور کچھ فائلیں تھیں ۔
میں نے ایک فائل اُٹھائی۔
 اُس میں کسی علاقے کی کھینچی ہوئی فضائی تصویریں  اور نقشے تھے جن پر ہاتھ سے کچھ نشانات  اور نمبر لگے ہوئے  تھے ۔اور ایک سوالنامہ تھا ۔
میں اُنہیں لے کر  واپس بیڈ روم میں لے آئی تاکہ پڑھوں   ،   وہ سوالنامہ  پاکستان کی نیوکلئیر سائٹس   سے متعلق تھا ۔
میرا دل دھک دھک کرنے لگا ۔ میں جلدی سے اُٹھی۔
 وہ تمام کاغذات واپس سیف میں رکھے اور سیف کو بندکردیا ۔  اور بغیر کپڑے تبدیل کئے  اپنے گھر کی طرف بھاگی ۔ 
ٹیکسی میں بیٹھے ہوئے ، میرا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا ۔
  کیا  میرا منشی کسی دوسرے ملک کا جاسوس بن چکا ہے ؟  
میرا دماغ سُن ہوگیا  اور اب تک سُن ہے "۔ 

اُس نے     میر ی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا ۔
میرے لئے اتنا ہی کافی تھا ۔  میں سمجھ گیا کہ یہ حساس خاتون محبت کی ناکامی  نہیں بلکہ منشی کی  خفیہ معلومات تک رسائی  کے راز کی وجہ سے ذہنی خلفشار میں مبتلاء ہوچکی ہے ۔
میں نے اُس سے پوچھا، " کیا وہ مجھے  منشی کے سوٹ میں داخل ہونے میں مدد کر سکتی ہے ؟ "
"کیوں  ؟ " وہ یک دم بھڑک کر بولی ۔
" تاکہ میں بھی دیکھوں کہ وہ معلومات کس نوعیت کی ہیں ؟
   وہ انجنیئر ہے۔ ہوسکتا ہے کہ کینوپ کی کچھ ڈرائینگز آپ نے دیکھی ہوں یا وہ کسی پراجیکٹ پر کام کر ہا ہو  اور پریشان ہوگئیں "  میں نے اُسے تسلی دی
اُس نے اثبات میں سر ہلایا ۔ " آپ کو یقین ہے کہ مجھے غلط فہمی ہوئی ہے ؟" 

" یقیناً ، کیوں کہ کسی بھی پراجیکٹ پر کام کرنے والے انجنیئر کے پاس  ایسی معلومات ہوتی ہیں اور وہ یقیناً عام نوعیت کی ہوں گی اگر وہ اتنی اہم ہوتیں  تو وہ اپنے سوئیٹ میں کیوں رکھتا اور لاکر کو کھلا کیوں چھوڑتا؟ میں نے اُسے یقین دلایا ۔ "
اچھا اب یہ بھول جاؤ  کہ تم نے منشی کے لاکر میں کیا دیکھا ، نہ اُس سے ذکر کرنا اور نہ ہی کسی اور کو بتانا ، لوگ خواہ مخواہ آپ کی طرح غلط فہمی کا شکار ہوجائیں گے ، اور بے چارے منشی کو اپنی جاب سے ہاتھ دھونا پڑیں " 
"لیکن وہ ڈالر ؟ جو اُس کی سیف میں ہیں "اُس نے  شکّی لہجے میں پوچھا ۔
"ہوسکتا ہے اُس نے  چار سالوں میں باہر جمع کئے ہوں اور اب خرچ کر رہا ہو " میں نے کہا  ، "اور  آپ پریشان ہوگئیں "
تم مانو گے کہ یکدم وہ  پرسکون ہوگئی  جیسے اُس کے ذہن پر پڑا بھاری بوجھ اُتر گیا ہو ۔
اور اُس نے مجھے  متبادل چابیاں دے دیں جو منشی نے اُسے دی ہوئی تھیں ۔ 

میں نے ڈاکٹر صاحبہ کی میز پر پڑی گھنٹی بجائی ، چپڑاسی آیا تو اُس ڈاکٹر صاحبہ کو بلوانے کا کہا ۔
ڈاکٹر صاحبہ سے پہلے چائے آگئی ، جب ڈاکٹر صاحبہ آئیں۔  تو ہم دونوں کسی بات پر ہنس رہے تھے  ۔
" ار ے ، بھئ شکر ہے میں نے تمھارے  چہرے پر مسکراہٹ کیا  ، ہنسی بھی دیکھی " ڈاکٹر صاحبہ بولیں  " کرنل صاحب کیا جادو کردیا ہے آپ نے ؟"
"  یہ  کسی غلط فہمی کا شکار ہوکر رائی کو پہاڑ سمجھ بیٹھیں اور اپنی سر پر سوار کر لیا" ۔  میں نے کہا ،" اچھا اب اپنے ہشاش بشاش  مریض کو سنبھالیں ، میں چلتا ہوں " 
اور اُٹھ کر باھر نکل آیا  اور سیدھا ایم پی اے ہاسٹل کا رُخ کیا ، مجھے مِس میمن نے بتا دیا تھا کی منشی  لاہور گیا ہوا ہے  اور تین دن بعد آئے گا ۔
ہم ایم پی اے ہاسٹل میں منشی کے سوئیٹ  میں داخل ہوئے ۔
 وہ سوئیٹ  کِس کے نام تھا  ؟ 
اِسے جانے دو !
 لیکن وہاں ڈریسنگ روم کی الماری   کی دیوار میں پیوست  موجود  70 سالہ پرانا غیر ملکی کمپنی کا سیف ہمیں کھولنے میں کوئی پریشانی نہیں ہوئی ،  چند منٹوں میں  سیف کھول لیا واقعی وہ ڈالروں سے بھرا ہوا تھا ، میں نے تمام فائلیں دیکھیں ۔
یہ پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹس  اور وہاں کام کرنے والے افراد کے بارے میں  سوال نامہ تھا ، جس کے جوابات  منشی کو لینے اور سوال کرنے والے کو بھجوانے تھے ۔
 گویا سرخ کار میں سوپر پاور کی کونسلیٹ میں بلا روک ٹوک داخل ہونے والا خود منشی تھا ۔ جس کو سیکرٹ معلومات مہیا کرنے کا مشن دیا گیا تھا۔
 لیکن اِس سے پہلے اُسے  ، کراچی نیوکلیئر پلانٹ  میں ملازمت دلوائی گئی۔ تاکہ اُسے کہوٹہ میں بننے والی  پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹس تک پہنچنے میں کوئی مشکل پیش نہ آئے ۔  
میں نے تمام کاغذات کی فوٹو کاپی کروائی ۔ اور سیف کو واپس اُسی طرح بند کردیا تاکہ اُسے کسی قسم کا شک نہ ہو ۔ 
" لیکن سر کیا اتنی اہم جگہ پر ملازم ہونے کے لئے کیا سکیورٹی کلیئرنس نہیں کی جاتی ؟   میں نے حیرانگی سے پوچھا
"کیوں نہیں کی جاتی  ؟  مکمل کی جاتی ہے۔   خوب چھان پھٹک کی جاتی ہے  لیکن جب ماضی پر کوئی سوالیہ نشان نہ ہو  تو پریشانی کی کیا بات ہے ؟"
اب میرا پروگرام تھا کہ پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹ  میں موجودمنشی کے ساتھیوں اور کے مددگاروں کو تلاش کیا جائے ۔ 
کیوں کہ منشی   پاکستانی   سائنس دانوں اور غیر ملکی  انٹیلیجنس ایجنسی کے درمیان  ہینڈلر  تھا  اور میں  اِس رابطےکو خبردار نہیں کرنا چاہتا تھا۔
مجھے معلوم تھا کہ اِس ہینڈلر کی اہمیت جاسوسوں سے زیادہ ہے ، یہ رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تو  اِس سے ہینڈل ہونے  والا تمام نیٹ ورک ہماری مُٹھی میں ہوگا

میں میمن خاتون سے دوبارہ ملا۔  اُس تاکید کی کہ  کہ وہ منشی کو کچھ نہ بتائے ، 
" ہم  منشی کے چار سالہ ماضی کو دیکھنا چاھتے ہیں  ۔جس کے متعلق ہمیں ابھی تک کچھ زیادہ معلوم نہیں ہوا ۔ لیکن اُس کے کاغذات سے اتنا معلوم ہوا ہے   کہ اُس نے شادی نہیں کی ہے ۔ہاں آپ اُس کی زندگی کو زیادہ نہیں کریدنا ۔ اور ہاں مہینے دو مہینے اُس سے دور رہنا ، کہیں آپ کے منہ سے کوئی ایسی بات نکل جائے جو اُسے پریشان کردے  اور جو اہم نوعیت کے کام کر رہا ہے اُس میں غلطیاں کرنا شروع کردے "
  میمن خاتون، منشی کے  شادی نہ کرنے   کا سُن کر خوش ہوئی   اور وعدہ کیا   کہ وہ منشی کو کوئی بات نہ بتائے  گی ۔ 
دس مہینے کی کوششوں کے بعد ہم منشی کے تمام گروہ کو ٹریس کرنے میں کامیاب ہوگئے  تھے ۔ پھر ہمیں معلوم ہوا کہ منشی نے کسی غیر ملکی جاسوس سے کینوپ کے راستے میں  ہاکس بے کے علاقے میں کسی جاسوس کو معلومات دینے کا پروگرام بنایا ہے ۔ چناچہ اُن دونوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنے کا پروگرام بنایا ۔

اتوار کا دن تھا ہاکس بے پر کافی رش ہوتا ہے مقامی اور غیرملکی لوگ وہاں پکنک منانے آتے ہیں ۔ غیر ملکیوں کے لئے وہاں   مقامی ہٹس سے دور ہٹس بنائی ہوئی ہیں جس کی بکنگ منشی نے کروائی تھی ۔
 میں اور میرا ڈرائیور پہلے سے وہاں ساتھ والی ہٹ میں موجود تھے  .جس کی دیوار منشی کی ریزرو کروائی ہوئی ہٹ کے ساتھ تھی ۔
 منشی   دس بجے وہاں پہنچا اور ہٹ میں داخل ہوا ۔ منشی پر نظر رکھنے کا میں نے پورا انتظام کیا ہوا تھا ۔ 
ٹھیک 11 بجے  ایک کار  آ کر رکی ایک سادہ سا عام دھکائی دینے والا  غیر ملکی شخص وہا ں پہنچا ۔ منشی نے اُسے ویلکم کہا ،دونوں ہٹ میں داخل ہوئے۔
 ہوا کی آمد ورفت کے لئے ہٹ کے دروازے اور کھڑکیاں کھلی رکھی جاتی تھیں ، چوروں یا اٹھائی گیروں کو روکنے کے لئے کھڑکیوں پر مضبوط گرل تھی  ہٹ میں داخل ہونے کا صرف ایک دروازہ تھا ، جس کا رخ سمندر کی جانب تھا جہاں سے ٹھنڈی ہوا ہٹ میں داخل ہورہی تھی ۔
 دونوں ایک سنٹر ٹیبل کے آمنے سامنے بیٹھ گئے ، منشی نے کاغذات نکالے اور اُس کے سامنے پھیلائے ۔
   میں اپنی ہٹ سے منشی کی ہٹ میں داخل ہوا ۔غیر ملکی جاسوس  مجھے دیکھ کر چونکا اور یک دم کھڑا ہوا ۔  وہ سمجھ گیا کہ اب اُس کا کام ختم۔
 اُس نے پھرتی سے پسٹل نکالا اور مجھ پر فائر جھونک دیا ، لیکن میں نے اُس سے پہلے ہی اُسے غچہ دے چکا تھا ۔
فائر کی آواز سنتے ہی میرا ڈرائیور بھی اند داخل ہوا اور ہم دونوں نے اُسے قابو کر لیا  ،منشی اور جاسوس کو ہم نے ہاتھ پاؤں باندھ کر اپنی گاڑی میں پھینکا اور سیف ہاؤس منتقل کر دیا ۔

جلد ہی منشی نے کہوٹہ میں کام کرنے والے 12  سائنس دانوں اور انجنیئروں  کے نام  اُگل دئیے ۔ جن کے ذمے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو  ٹیکنیکلی تباہ کرنے کا پرگرام تھا  تاکہ کوئی بھی دوبارہ اُس کو اپنے پاؤں پر کھڑا نہ کر سکے اور ناقابل   عمل سمجھ کرترک کردیا جائے ۔ 
یہ سب غدار مختلف جگہوں سے گرفتار کرلئے گئے ۔
میں نے اُس میمن خاتون کو فون پر  بتادیا کہ منشی گرفتار ہوچکا ہے ،اُس کی رہائی ناممکن ہے اب وہ  اُس کا انتظار مت کرے ۔
پاکستان کی نیوکلیئر سائیٹ پر کام کرنے والوں کے سکیورٹی چیکس کے پیرا میٹرز بڑھادیئے گئے   اور اُسے   کسی بھی حملے یا جاسوسوں کے داخلے سے حفاظت کے لئے فوج  کے حوالے کردیا گیا اور  کہوٹہ کو اتنا محفوظ کر دیا کہ آج 28 مئی کو  ، سچے پاکستانی  ایٹم بم  کو دنیا پر ظاہر کرنے  کی 11 سالہ یاد منا رہے ہیں ۔
 اگر وہ میمن خاتون اپنے نسوانی حسد اور وطن کی محبت  کے ملے جلے جذبات سے ذہنی  بیمار نہ پڑتی  تو شاید   پاکستان اپنےنیوکلیئر اثاثے کبھی نہ بنا پاتا ۔  ۔ ۔
یہ کہہ کر بوڑھے ویٹرن نے میری طرف فخریہ نظروں سے دیکھا اور آنکھیں بند کر لیں ۔
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
یہ بوڑھا ویٹرن ، جس نے اپنی پوری زندگی پاکستان کی حفاظت میں گذار دی۔    پاکستان آرمی میں بریگیڈئر امتیاز کے نام سے پہچانا جاتا ہے ۔  جس نے پاکستان کی نہ صرف حفاظت کی بلکہ 
منشی جو اِ س گرو کا رنگ لیڈر تھا اُسے پھانسی کی سزا ہوئی اور باقیوں کو عمر قید ۔ سیاسی چالوں نے منشی کو بھی بچا لیا اور باقی بھی ۔
 لیکن اِس سے کیا فرق پڑتا ہے ۔ پاکستان کا ایٹمی پروگرام بریگیڈئر امتیاز اور دیگر محب الوطن پاکستانیوں کی وجہ سے " یومِ تکبیر " کے دن  اپنی تکمیل کو پہنچا ۔ 
صدر پاکستان نے    بریگیڈئر امتیاز کو تمغہءِ بسالت سے نوازا ۔
بے نظیر حکومت نے  " آدھی رات کے بھیڑیئے " کا اعزاز دے کر تین سال جیل میں رکھا ۔ 
مشرف نے بھی چار سال جیل میں رکھا ۔ کیوں کہ     بریگیڈئر امتیاز نے نواز شریف کو"   ملٹری کُو " کے بارے میں خبردار کیا تھا ، ہائی کورٹ  نے جعلی مقدمات سے رہائی دلوائی ۔
 غیر ملکی انٹیلیجنس ایجنسی نے پاکستان کے نیوکلیئر پروگرام کو سبوتاژ کرنے کے لئے اپنے 5 ایجنٹس پاکستا ن بھیجے ، جن میں سے ایک وہ خوبصورت  لڑکی تھی جس کی تصویر منشی کے پرس میں دیکھ کر میمن لڑکی حسد میں مبتلاء ہوگئی اور منشی سے انتقام لے لیا ۔ 
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

کراچی ایٹمی بجلی گھر کا راز

تمھیں معلوم ہے کہ پاکستا ن کا نیوکلیئر  پروگرام جس کی  آج سالگرہ منائی جارہی ہے ۔ 30 سال پہلے تباہ کردیا جاتا  اگر ایک عورت  کے حسد اور تجسس کا جذبہ بیدار نہ ہوتا ! " بوڑھے  ویٹرن نے    ٹی وی سے نظر ہٹائے بغیر   دھیمی آواز میں   سرگوشی کی ۔
 " سر وہ کیسے ؟ " میں نے اشتیاق سے پوچھا ،" کیا  یہ بھی کوئی آپ کی زندگی کا خفیہ راز ہے ؟"
" بہت راز ہیں نوجوان ، اتنے کہ میں سنانے لگوں  تو  ۔ ۔ ۔ ۔!  "  بوڑھے ویٹرن نے گہری سانس لی ، دور خلاؤں میں نظر گاڑھ دی ۔" پاکستانی  سانس روکے اپنی  دانتوں تلے زبان دبا ئے حیرت کا اظہار کریں۔  تمہیں تو معلوم ہے کہ ہم اپنے کاموں کا ڈھنڈورا نہیں پیٹتے  ۔"
 " سر اگر یہ  راز ، ملکی سلامتی کے خلاف نہیں تو میں سننا پسند کروں گا " میں ادب سے بولا 
" راز تو نہیں ، بس جو ہمارا کام تھا ہم نے کیا ، اور بھول گئے۔ آج  یومِ تکبیر  کی گونج  میں  شعور نے ،  تحت الشعور میں غوطہ لگایا ، اور مجھے آج سے ٹھیک 30 سال پہلے  1978 میں  کھینچ کر لے گیا    ۔ جب میں  کراچی میں تھا اور  بطور لیفٹنٹ کرنل آئی ایس آئی سندھ کا چیف تھا ۔ بوڑھے ویٹرن نے اپنی یاداشت  کی گرہیں کھولتے ہوئے بتایا ۔ 

مجھے مشہور سائیکالوجسٹ اے کے بروہی  بہن   کی کال آئی ، اُنہوں نے بتایا کہ آج کل اُن کے زیر علاج ایک خاتون ہے۔ جس کو     ایک ایسی بیماری ہے ، کہ جو معلومات اُس کے پاس ہیں اگر کسی کو نہ بتائی  وہ بیماری بڑھ بھی سکتی ہے ۔ اور اُس کا واحد علاج کہ وہ کسی نہایت  اعتبار والے شخص کو وہ راز بتائے جو اُس کے ذہن میں موجود ہے اور اُسے مسلسل بیمار کرتا جارہا ہے ۔
  " کیا ایسا ممکن ہے، سر ! کہ کوئی  راز انسان کو ذہنی   بیمار کردے  " میں نے اشتیاق سے پوچھا۔  
" سائیکالوجی  ، حساس انسانوں کو  لگنے والی بیماری کی تشخیص ہے ۔ اور عورتوں میں یہ زیادہ ہوتی ہے ، وجہ یہ کہ وہ مردوں سے زیادہ حسا س اور  ارادوں میں کمزور ہوتی ہیں۔ یہی وجہ اُس خاتون کے ساتھ بھی تھی ۔  
خیر ، میں جب ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک پہنچا تو ا یک  نوجوان اور نہایت خوبصور ت میمن  خاتون  ، سامنے کی کرسی پر بیٹھی  تھی۔ چہرے پر مجھے دیکھتے ہی پریشانی کی لکیریں مزید گہری ہوگئیں  ۔  ڈاکٹرصاحبہ مجھے بتا چکی تھیں کہ وہ اُن کی تمام کوششوں کے باوجود  اُنہیں کسی ایسے   راز کی ہوا تک نہیں لگنے دی، جو اُسے مہینوں سے پریشان کر رہا تھا  ۔ 
ڈاکٹر میڈم بروہی کے تعارف کروانے کے بعد معلوم ہو ا، 
مقامی یونیورسٹی سے انگلش لٹریچر میں ماسٹر کرنے اور مقامی کالج میں پڑھانے والی یہ  میمن خاتون  کسی بھی طور پر  وہ کچھ بتانے کے لئے تیار نہیں تھی، جِس کے لئے  اُس کا دعویٰ تھا کہ یہ انتہائی خفیہ راز ہے  اور اتنا خطرناک خفیہ راز ہے۔ اگر اُس نے کسی کے سامنے اُگل دیا تو وہ قتل بھی کی جاسکتی ہے ۔ 
جب   ڈاکٹر  صاحبہ نے اُسے بتایا کہ  میں انٹیلیجنس کا سربراہ ہوں ، لہذا اُسے اعتماد کرنا چاھئیے ، تو اُس نے کہا ،
" یہ لوگ سب سے زیادہ ناقابلِ اعتبار ہوتے ہیں ۔ لوگوں کو اپنے مقصد کے لئے استعمال کرتے ہیں اور پھر بھول جاتے ہیں کہ اُن کا کیا حشر ہوا !"
 میں نے خاتون کو تسلی دی ، 
"  چلو   ایسا کرتے ہیں کہ میں آپ کی میٹنگ ڈی جی آئی ایس آئی  جنرل محمدریاض ( شاہد خاقان عباسی کے چچا )  سے کروا دیتا ہوں ،"
 اُس نے انکار کردیا ۔
میں نے ہار نہ مانی اور بولا، 

" جنرل ضیاء الحق  کے  چیف اف سٹاف ، جنرل کے ایم عارف ہیں ۔ اُن سے آپ کی ملاقات کروادی جائے  ، آپ اُنہیں بتا دیں " میں نے کہا ۔ وہ پھر بھی نہ مانی ۔
" خاتون  میرا خیال ہے کہ صدر پاکستان  جنرل ضیاء الحق   سے زیادہ قابلِ اعتماد مجھے کوئی نظر نہیں آتا ، میں اُن سے آپ کی ملاقات  کا بندوبست کروا دیتا ہوں ، آپ یہ خطرناک راز اُنہیں بتا دیں "۔ قتل ہو جانے کے خوف سے  اُس نے یہ بات بھی ماننے سے انکار کردیا ۔ 
میرے لئے نہایت آسان تھا کہ میں اُسے سیف ہاؤس لے جاتا ، جہاں تین چار دن کی تنہائی کے بعد وہ ساری معلومات مہیا کر دیتی ۔
  لیکن میں نے مناسب نہ سمجھا   ، کہ ایک قابلِ عزت  لیکچرر کو پریشان کروں اور راز کی نوعیت بھی ابھی تک معلوم نہ ہوئی  تھی ، نہ ہی کوئی ہنٹ ملا تھا ، 
پھر یہ بھی سوچ آئی کہ ایک لیکچرر کے پاس ایسا کو نسا خفیہ راز ہوسکتا ہے ، جس کا افشاء اُس کی زندگی کے لئے نہایت خطرناک  ہوسکتا تھا  ؟ ۔ 
میں نے اِس معاملے کو کچھ دنوں کے لئے ملتوی کرنے کا ارادہ کیا ، کہ شائد ڈاکٹر میڈم   بروہی  کی کونسلنگ سے وہ یہ راز بتانے پر آمادہ ہوجائے ۔

دو تین دن بعد میں ڈاکٹر صاحبہ سے پوچھ لیتا کہ کیا مریضہ کچھ بتانے کے لئے تیار ہوئی یا نہیں ۔
  کوئی ہفتے یا دس دن بعد ، میں کلفٹن جانے کے لئے   ایک سوپر پاور  کی کونسلیٹ کے سامنے والی سڑک سے گذر رہا تھا  کہ ایک پرائیویٹ نمبر کی سرخ رنگ کی مزدا کا ر تیز رفتاری سے کونسلیٹ کے گیٹ سے اندر داخل ہوئی ۔ مجھے اُس کی رفتار پر حیرت ہوئی  ۔ عموماً کاریں کسی بھی گیٹ میں آہستگی کے ساتھ داخل ہوتی ہیں۔ لیکن خیر میں نے  زیادہ توجہ نہیں دی ۔
جب میں کلفٹن میں جس شخص سے ملنے گیا تھا ، اُس کے ساتھ بیٹھے ہوئے مجھے یک دم خیال آیا کہ سرخ مزدا کار کو چیک کرنا چاھئیے۔جو صرف چند سیکنڈ میں کونسلیٹ میں داخل ہوگئی تھی ۔ جیسے کسی نے پہلے سے ہدایت دی تھی کہ اُس ایک سیکنڈ کے لئے بھی نہ روکا جائے ۔ ایسا کون سا شخص  ہو سکتا ہے ، اگر کوئی ایمبیسڈر ہوتا تو کار کی نمبر پلیٹ عام نہ ہوتی ۔
میں  نے فوراً ہدایات دیں کہ سوپر پاور کی کونسلیٹ سے نکلنے والی تمام سرخ رنگ کی مزدا کاروں  کو چیک کیا جائے  ۔ کہ کب نکلتی ہیں ؟ 
مزدا کار رات کو بہت دیر بعد نکلی ۔
اب چونکہ میں نے پیچھا کرنے کا نہیں کہا تھا ، لہذا چیک کرنے والے نے صرف وقت نوٹ کر کے رپورٹنگ ڈیسک پر بتا دیا ۔
 دوسرے دن  میں آفس گیا ،وہاں میں نے کراچی میٹروپولیٹن شہر کانقشہ لیا، اُسے 8 سیکٹرز میں تقسیم کیا ۔
میں نے اپنی ٹیم کو ہدایت جاری کیں کہ وہ گھوم پھر کر سرخ رنگ کی مزدا کار کی رجسٹریشن نمبر نوٹ کریں  اور بتائیں ۔
 اُن دنوں سرخ مزدا کاریں بہت کم ہوا کرتی تھیں ، ایک مہینے کی  ایکسرسائز کے بعد بھی ہمیں کوئی کامیابی  نہیں ہوئی ۔ لیکن ہم نے کار کی تلاش جاری رکھی ۔
ایک دن ہمیں معلوم ہوا کہ طارق روڈ کی ایک دکان پر سرخ مزدا کا کھڑی ہے ۔جو عموماً رینٹ پر دی جاتی ہے ۔ جس کو   رفیق منشی نام کا شخص کرائے پر لے جاتا ہے ۔ 
جب  ہمارے نمائیندے نے ، رفیق منشی کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو معلوم ہوا کہ وہ  کراچی نیوکلیئر پاور پلانٹ میں  انجنیئر ہے  اور گارڈن ایسٹ  میں قائم ایم پی اے ہاسٹل کے ایک سوٹ میں قیام پذیر ہے ۔
یہ معلومات ملتے ہی  میں نے ڈاکٹر میڈم   بروہی  کو فون کیا اور پوچھا کہ کیا وہ میری اپنی  " خفیہ راز " رکھنے والی مریضہ سے  آج ملاقات کروا سکتی ہیں ؟

میں جب میمن خاتون سے  ڈاکٹر صاحبہ کے کلینک پہنچا ، تو   کچھ زیادہ بہتر دکھائی نہیں دی ، میں نےاِدھر اُدھر کی باتیں کرنے کے بعد یکدم اُس  کی آنکھوں میں دیکھ کر  پوچھا ،
" کیا وہ خانوپ میں کام کرنے والے انجنیئر منشی کو جانتی ہے ؟
یک دم اُس کی آنکھوں میں خوف کے سائے لہرائے  وہ پلکیں چھپکائے بغیر میری طرف دیکھتی رہی ۔ پھر یکدم پھوٹ پھوٹ کر رونا شروع کر دیا۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔