میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

بدھ، 22 جنوری، 2020

بیسن کے قتلے، کھنڈویاں اور بیلے ۔



بیسن میں حسبِ منشا مصالحے ملا کر،  اُسے گرم پانی میں گوندھ کر لئی سی بناتے ہیں۔ 
پھر اُسے کسی تھال میں ڈال کے ، برفی کی طرح یا چوکور اور یا انگلیوں کی موٹائی کے برابر رول بنا کر ۔
 بیسن ہی کے سالن ہی میں بناتے ہیں ۔
 انہیں قتلے ، کھنڈویاں یا بیلے کہتے ہیں۔
بیسن  سے قتلے ۔کھنڈویاں بیلے اور چیلے ،  بنانے کے نئے نئے طریقے چکے ہیں۔

1- قتلے - کئی خواتین اِسے گھی میں تل لیتی ہیں ، بڑھیا بھی ایسا ہی کرتی تھی ۔ 
اتوار کو بوڑھے نے کہا ،"انہیں  تلے بغیر سالن میں ڈال دو ۔" 
کہنے لگی ، " یہ  بغیر تلےگھل جائیں گے "۔
بوڑھے نے کہا،" نہیں گھلیں گی اور اگر گھل بھی گئیں تو سالن گاڑھا ہوجائے گا "۔
بوڑھا  چم چم  کی فرمائش پر  کرپسی سپائیسی  فرائیڈ چکن بنانے میں مصروف تھا ، تو بڑھیا نے اُنہیں ہاتھوں سے بیل کر قتلے بنا لئے ، جس سے وہ سخت ہوگئیں ۔ لیکن مزیدار رہیں۔

بڑھیا، چم چم اور اُس کی ماما نے ، چاولوں کے ساتھ کھائیں ، بوڑھے نے روٹی کے ساتھ  ۔

 2- کھنڈویاں- اگر قتلوں   کو تل لیں  ،  تو یہ کھنڈویاں کہلائیں گی ۔

٭- بیسن ۔ دو کپ 
٭- لال مرچ ۔ ایک چائے کا چمچ 
٭- سفید زیرہ  ۔ ایک چائے کا چمچ
 اِس آمیزے کو اچھی طرح ملا لیں ۔ اب اِس میں گرم پانی ملائیں اور لئی بنا کر اُسے تھال میں پھیلا لیں اور ٹھنڈا ہونے پر قتلوں کی طرح کاٹ لیں ۔
اب  ایک پتیلے میں   :
٭-سفید زیرہ  -ایک چائے کا چمچ  ۔
٭-لہسن اور ادرک کا پیسٹ - ایک کھانے کا چمچ -

٭-لال مرچ - ایک کھانے کا چمچ -
٭-پسا دھنیا  - ایک کھانے کا چمچ  -
 ٭-ہلدی- ایک کھانے کا چمچ -
٭-پسا گرم مصالحہ - ایک کھانے کا چمچ  -
٭-سوکھی میتھی  -2کھانے کے چمچ -
اب اِن سب کو تیل میں اچھی طرح بھون لیں ۔ بھوننے کے بعد ، اِس میں
 ٭-بیسن- آدھا کپ ۔
٭- دو کپ  دہی ۔
  ٭- نمک حسبِ ذائقہ ۔
اب مزید بھونے  ، تیل اوپر آنے کے بعد اِس میں  3 گلاس پانی ڈالیں ۔ اور اُبلنے پر قتلے ڈال دیں، اِسے مزید 10 منٹ پکائیں -
٭٭٭٭٭٭

بوڑھے کا بنایا ہوا ۔ پاکھنڈی اوہ مکھنڈی حلوہ

بوڑھے کا بنایا ہوا پاکھنڈی اوہ معذرت مکھنڈی حلوہ !
شاہی ٹکڑوں کے لئے ڈبل روٹی کے ٹکڑے کاٹے وقت بوڑھے نے سوچا یہ تو رزق کا ضیاع ہے کیا کیا جائے ؟

جو کفرانِ نعمت میں آجائے گا ۔
کیوں نہ اِن کی کھیر بنائی جائے؟
بوڑھے نے بڑھیا کو آئیڈیا بتایا،

 بڑھیا نے ڈانٹ دیا،" مت پکھنڈ پھیلائیں اور بھی کام کرنے ہیں "
بوڑھے نے ڈبل روٹی کے ٹکڑوں کو مسل کر چورا بنایا ۔
بڑھیا نے شاپر دیتے ہوئے کہا ،" یہ لیں اس میں ڈال دیں اور اِنہیں چڑیوں کو ڈال دیں۔ "
" بھئی دو چڑیاں آتی ہیں ، اُن کے لئے ایک چمچ کافی ہے "۔ بوڑھا منمنایا ۔
"آپ ایسا کریں انہیں خشک کریں اور کرمپ کے طور پر فرائیڈ چکن میں استعمال کرنا" ۔بڑھیا نے تجویز دی ۔

تو جناب بوڑھے نے بڑھیا کے تمام آئیڈیاز ایک طرف رکھے اور ایک گلاس دودھ اور ایک گلاس پانی کا مکسچر بنایا اور اِن مَسلے ہوئے ڈبل روٹی کے ٹکڑوں پر ڈالا اور گھوٹنے لگا ۔
"آپ باز نہیں آئیں گے پہلے ہی وقت کم ہے 12 بجے مہمان آجائیں گے ، آپ نے چم چم کو بھی سکول سے لینے جانا ہے ، صفائی والی آئے گی لاونج بھی سیٹ کروانا ہے ، یہ رہنے دیں اِسے فریج می رکھ دیں ۔ اور ہاں یہ دیگچہ مجھے چاھئیے ۔ زیادہ پاکھنڈ کیوں پھیلا رہے ہیں "۔ بڑھیا غرّائی
بڑھیا ، ڈبل روٹی کے ٹکڑے تل چکی تھی اور بریانی کے لئے چاول تیار کر رہی تھی ۔

 بوڑھے نے فرائیگ پین میں پڑے ہوئے نیم گرم تیل میں سے آدھا تیل پیالے میں ڈالا اور باقی تیل میں ، ڈبل روٹی اور دودھ کے ٹکڑوں کا آمیزہ ڈالا اور بھوننے لگا ۔
اب کیا کر رہے ہیں ؟ بڑھیا نے پوچھا ۔
حلوہ بنا رہا ہوں !

کون سا ؟
"پاکھنڈی حلوہ " ! بوڑھا بولا ۔
"نام بھی بولنا نہیں آتا ، مکھنڈی حلوہ ہوتا ہے مکھنڈی !"بڑھیا بولی ۔
" وہ سوجی سے بنتا ہے اور پاکھنڈی حلوہ ڈبل روٹے کے دھتکارے ہوئے ٹکڑوں سے ۔ امی بھی روٹی کے بچے ہوئے ٹکڑوں سے  فقیری ٹکڑے   بناتی تھیں ۔" بوڑھے نے بڑھیا کی معلومات میں اضافہ کیا۔
"میں نے کبھی نہ کھائے اور نہ سنے "۔ بڑھیا تُنک کر بولی۔
"میں سنے تو نہیں البتہ کھائے ضرور ہیں شاہی ٹکڑوں کے نام سے ۔ بوڑھا بولا ۔

بوڑھا ، فرائینگ پین میں چمچ چلاتا ہوا بولا ۔


تم نے "شربتِ نقریٰ" پیا ہے ؟
ہاں ۔ بڑھیا بولی ۔
میں نے " شربتِ فقراء" پیا ہے ۔ 

"وہ کیا ہوتا ہے ؟" بڑھیا نے پوچھا
"پانی میں چینی اور کیوڑا ڈال کر ہمارے بچپن میں بنایا جاتا تھا اور اُس میں روح افزاء کا چھینٹا بھی مارا جاتا تھا۔" بوڑھا بولا
" آپ کیسی بہکی بہکی  باتیں کر رہے ہیں ؟" بڑھیا بولی
"ماضی دھرا رہا ہوں" ۔ بوڑھا ڈوئی چلاتا ہوا بولا ۔
" یہ بھن گیا ہے اب اسے اتار لیں ۔" بڑھیا بولی 


تو دوستو ، بوڑھے نے وہ حلوہ اتارا، اُسے ڈونگے میں ڈالا اور بڑھیا کا کترا ہوا میوہ چھڑکا اور میز کے سب سے دور کونے پر رکھ دیا ۔


مہمانوں کو پسند نہ آیا تو آپ کو کھانا پڑے گا ، بڑھیا نے وارننگ دی ۔
کوئی بات نہیں ، بوڑھا اپنے بنائے ہوئے کھانے شوق سے کھاتا ہے ۔


"واہ ، ایکسیلنٹ " ۔ کے نعرہ ہائے تحسین نے ثابت کیا کہ کینیا اور یوگنڈا کے مہمان ذائقہ شناس ہیں ۔

یہ آنٹی آپ نے بنایا ؟ ایک مہمان خاتون نے پوچھا۔
نہیں آوا نے بنایا ہے ۔ چم چم فوراًبولی ۔
واؤ انکل ، آپ تو بہترین شیف ہیں ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭

بڑھیا کے پکوان-شاہی ٹکڑے ۔

بڑھیا کے بنائے ہوئے شاہی ٹکڑے ۔
تصاویری معلوماتِ عامہ و طریقہءِ ترتیب:

1- بوڑھے نے ڈبل روٹی بڑی احتیاط سے کاٹی اُس کے بچے ہوئے ٹکڑے ایک طرف رکھے ۔ 

2- بڑھیا نے، "پریرنہ عرف غنچہ" کا انڈیا سے لایا ہوا ، ماوا آدھا کاٹا، اُسے پگھلایا ۔ اُس کو گرم کر کے مزید گاڑھا کیا ۔

 3- بڑھیا نے ، ڈبل روڑی کے ٹکڑوں کو تیل میں تلا ۔ اور پاکستانی ڈالڈے کو یاد کیا-

 4- ڈش میں خوبصورتی سے جمایا ۔
 5- ڈبل روٹی کے ٹکڑوں پر ایک ترتیب سے ماوے کا آمیزہ ڈالا ۔
 6- پھر اِس کے اوپر کترا ہو خشک میوہ ڈالا ۔

 لو جی بڑھیا کے شاہی ٹکڑے تیار ۔ 
اور میز پر سج گئے !
 ٭٭٭٭٭٭٭٭

کرسپی فرائیڈ چکن

بوڑھے نے آج زندگی میں پہلی بار، کرسپی فرائیڈ چکن بنایا اور اُسے سجایا اور
 بڑھیا نے کھنڈویاں بنائیں
 اور چم چم نے لی تصاویر ۔
 سب نے مزے سے کھایا اور دو پڑوسیوں کو بھی بھجوایا ۔

ترکیب !
چکن کے 12 پیس  بنا کر اُسے صاف کر نے کے بعد اُس کے ہر پیس میں اِس طرح کٹ لگائیں کہ اُن کی شیپ بگڑنے نہ پائے ۔
چکن کو میرینیٹ کرنے کے لئے :
٭- انڈا ایک عدد۔
٭-ادرک لہسن کا پیسٹ  -ڈیڑھ کھانے کا چمچ۔
٭- لال پسی مرچ - ایک
کھانے کا چمچ-
٭- کالی مرچ  -آدھا  کھانے کا چمچ-
٭- بیکنگ پوڈر  ۔  آدھا چائے کا چمچ -
٭- نمک ۔ آدھا  کھانے کا چمچ-یا حسبِ ضرورت ۔ 
بالا آمیزے کو  بڑے ڈونگے میں اچھی طرح ملائیں  یہ میرینیشن آمیزہ بن جائے گا اوراُس میں  باری باری چکن  پیس ڈال کر خوب مصالحہ لگائیں  ، یقیناً  آخر میں میرینیشن آمیزہ بچ جائے گا ۔ آپ اب اِس میں تمام بوٹیاں ڈال کر فریج میں   15 سے 20 منٹ کے لئے رکھ دیں ۔

اب چکن کاکرپسی آمیزہ  تیار کریں گے ۔
٭- میدہ یا چاول کا آٹا -ایک کپ ۔
٭- کارن فلاور -ایک کپ ۔
٭- لال پسی مرچ - ایک کھانے کا چمچ-
٭- کالی مرچ  -آدھا  کھانے کا چمچ-
٭- بیکنگ پوڈر  ۔  آدھا چائے کا چمچ -
٭- نمک ۔ آدھا  کھانے کا چمچ-یا حسبِ ضرورت ۔

 اُس میں  باری باری چکن  پیس ڈال کر خوب   کورنگ لگائیں  ۔ جب ہم اِنہیں  تیل میں تلیں گے تو یہ کرپسی بن جائیں گے ۔
 اب  ایک ایسی دیگچی میں یا فرائینگ پین میں تیل ڈال کر گرم کریں جس کے اوپر بھاپ نکلنے کے لئے سوراخ بنا ہو ۔ 

دیگچی میں اتنے پیس ڈالیں کہ تیل اُبل کر باہر نہ گر جائے ۔  تیل کو پہلے  گرم کریں پھر تیل کی آنچ کو کم کر دیں ،
اب  باری باری کر کے چکن پیس ڈالیں  اور دیگچی یا فرائینگ پین کا ڈھکن 8 سے 10 منٹ کے  بند کردیں  اور چکن پیس کو آرام سے پکنے دیں ۔اُسے بالکل نہ ہلائیں ۔  اگر آگ تیز ہوئی تو تمام پیس اندر سے کچے رہ جائیں گے  اور جل بھی جائیں گے ۔ 

8 منٹ بعد دیگچی یا فرائینگ پین کا ڈھکن اتار کر دیکھیں ۔پک گئے ہیں تو اتار دیں یا مزید دو منٹ اور فرائی ہونے دیں۔ 
سلاد کے لئے کھیرا، ٹماٹر ، پارسلے ،بندھ گوبھی ، لال ابلا ہوا لوبیا ،  شملہ مرچ ،نمک اور کالی مرچ  استعمال کریں ۔
اور مزے سے کھائیں !
٭٭٭٭٭٭٭٭

بوڑھے کا وزن کو قابو رکھنے کے بے بہا نسخہ

سادہ ناشتہ:

 شیشے کے ڈھکن والے ڈونگے میں:
٭- ایک چائے کس چمچ اولیو آئیل ڈالیں،
٭- چار چائے کے چمچ دودھ ڈالیں،اُسے مکس کریں ۔
٭-اس میں ایک انڈا توڑ کرڈالیں، اور اوون میں دو منٹ کے لئے رکھ دیں، اور نکال لیں ۔

٭- دو ڈبل روٹی کے آگ پر سینک لیں ۔
اور ناشتہ کریں ۔ چائے اگر آپ گرین پئیں یا     لیمن منٹ ٹی (تین پودینے کے پتے ، آدھا لیموں اورسبزچائے ایک چمچ ) تو زیادہ بہتر ہے ۔


 دس بجے صرف ایک کیلا کھائیں

 دوپہر کو ایک روٹی یا چاول ہم وزن سالن یا ترکاری کے ساتھ کھائیں ۔

 شام کی چائے سے پہلے ایک کیلا ضرور کھائیں ۔

 رات کے کھانے میں دوروٹیاں سالن یا ترکاری کے ساتھ کھائیں۔

 رات کو بوڑھے کی طرح 12 بجے کے بعد سونے والے، بوڑھے کے ہم وزن نوجوان، ایک کیلا کھا سکتے ہیں ۔

 اس سے آپ کا معدہ چھوٹا ہو جائے گا ، اور اس کی ھل من مزید کی عادت ختم کرنے کی کوشش کامیاب ہوجائےگی ۔
 اس طرح آپ کا وزن تین مہینے میں، اگر آپ نے ڈنڈا نہیں مارا تو 95 کلو گرام سے 80 کلوگرام ہو جائے گا۔
معدے کی قدرتی گنجائش، 900 گرام ہے، جتنا ڈالیں گے اس کا ہجم بڑھتا جائے گا۔ 
میٹا بولک سنڈروم ، دو کلو گرام سے چار کلوگرام ایک دن میں کھانے سے پیدا ہوتا ہے ۔ اور زندگی بھر کے لئے آسیب کی طرح چمٹ جاتا ہے ۔ کسی بھی سنڈروم سے نکلنا ہمالیہ چڑھنے کے مترادف ھے ۔
 روزانہ دو کلومیٹر رن واک رن یا واک رن واک، ضرور کریں اور واپس آکر جتنا مرضی پانی پیئں مگر کمزوری دور کرنے کے لیئے کسی چیز یہاں تک پھل کو ہاتھ نہ لگائیں ۔
 کیوں کہ آپ اپنے معدے کے سکون میں خلل ڈال دیں گے۔
 اور میرے عزیز اور پیارے دوستو، وہ آپ کے آرام میں خلل ڈال دے گا، 
کیوں کی آفاقی اصول ہے، جیسا کروگے، ویسا بھروگے،
 نوٹ: انسانی جسم کو اللہ نے ساری عمر کے لئے، مشقت کے لئے نہیں بنایا۔ 
ریسنگ کار بھی، تھک جاتی ہے اور مقابلوں سے باہر ہو کر انٹیق میں رکھ دی جاتی ہے ۔ عام استعمال کی کار بھی 200 کلو میٹر بلا آوز جوانی میں فراٹے بھرنے کے بعد ، بڑھاپے میں صرف سودا سلف لانے میں استعمال کی جاتی ہے ۔ آپ خوش رہیں اپنی صحت کے ساتھ!

٭٭٭٭٭٭٭٭

منگل، 21 جنوری، 2020

ماش کی دال -ایک سکن ٹانک

 
بوڑھے کو ستمبر 2010 میں گھریلو بجلی سے ایک حادثہ پیش آیا تھا  جس سے اُس کے دونوں ہاتھ اور چہرہ جل گیا تھا اور بوڑ ھےنے اپنے 57 ویں سالگرہ سی ایم ایچ راولپنڈی میں منائی تھی۔
 چم چم اُس وقت 6 ماہ کی تھی ، بوڑھا صحت یاب ہو گیا ، لیکن بوڑھے کے پاؤں کے دونوں تلوں کے ٹشو کئی جگہ سے بے کار ہوگئے ۔

ڈاکٹروں کو دکھایا  وہ ،  Psoriasis بتاتے  تھے ۔لیکن سورائسز تو  موروثی بیماری ہے اور بوڑھے  کے دادا ، دادی نانا، نانی ، ابا اور امی سے کسی کو بھی نہیں تھی ۔
  لہذا بوڑھا اپنے تلوں میں نمی پیدا کرنے کے لئے ، چائینا کے 100 روپوں میں ملنے والے  ،ربڑ کے بوٹ ، میں پانی ڈال کر پہنتا ہے اور دوائیاں لگاتا ہے ، اور جب کاہلی کرے، تو تلوے خُشک ہونے سے  بوڑھے کا بُرا حال ہوجا تا ہے۔

یوں سمجھیں کہ بوڑھے نے کافی علاج کروایا  ۔ایلو پیتھ ، ہومیو پیتھ اور حکیم لیکن کوئی افاقہ نہیں ہوا ، کم ہو جاتا تھا لیکن ٹھیک نہیں ہوتا تھا۔ 
جون 2018 میں بڑھیا کے بیٹی کے پاس ہفتہ  رہنے  کا پروگرام بنا ، بوڑھے اور ملازم کے لئے پورے ہفتے کا کھانا بنا کر فریج میں رکھ کر اور چٹیں لگا کر چلی گئی کہ کون سا کھانا  کِس دن کھانا  ہے ۔ 
بوڑھے نے  ڈائیو پر بٹھا یا یوں بڑھیا  ہمت کرکے اکیلی   ایبٹ آباد  پہنچ گئی ، ایبٹ آباد میں  بیٹی نے اُسے ڈائیو  اڈے  سے لےلیا ۔    یہاں تک تو سب ٹھیک تھا ، لیکن 5 دن بعد  بڑھیا بیمار ہوگئی  ۔ سی ایم ایچ میں داخل ہوئی اور ٹھیک ہونے تک مزید  وہیں رہنے کا پروگرام بنا لیا۔
ہفتے کی شام ملازم  غلام حسین نے  بتایا ، ، " سر !فریج میں رکھے تمام سالن ختم ہوگئے ہیں ۔"
بوڑھے نے پوچھا ،" اچھا  تمھیں کچھ بنانا آتا ہے ؟"
غلام حسین،" سر دال وغیرہ بنا لوں گا ۔"
بوڑھا ، " ماش جی دال بنا لوگے ؟"


غلام حسین،" جی کوشش  کروں گا "۔
غلام حسین نے ماش کی دال بنائی جو بوڑھے کو پسند آئی  ، پورے ایک ہفتہ ڈٹ کر کھائی اور سوپ کی طرح پی بھی ،  بڑھیا کو بیٹی چھوڑنے آئی ۔
بڑھیا کو بے حد افسوس ہوا کہ اُس کا بوڑھا پورے ہفتہ ماش کی دال کھاتا رہا ۔
بڑھیا ،" آپ کو  صرف ماش کی دال کھانے سے پریشانی نہیں ہوئی "
بوڑھا ،" مجھے تو پریشانی نہیں ہوئی ،
غلام حسین سے پوچھو ۔"قصہ مختصر ،   بوڑھے کو احساس ہوا  کہ بوڑھے  پیر کی تکلیف میں تسلی بخش کمی آئی ، ماش کی دال یا  ماش کی دال کا سوپ ، بوڑھے کے روزانہ شام کے کھانے کا ایک جزو بن چکی ہے ۔ 
فرق صاف ظاہر ہے !


ماش کی دال کے بارے میں چاچا گوگل کے بتائے ہوئے فوائد:
٭- ماش کی دال     غذائیت اور فائدے کے لحاظ سے مفید ہے۔
٭-اس میں وٹامنز، پو ٹاشیم، کیلشیم، آئرن اور فائبر پایا جاتا ہے۔ 

٭- اناجوں کے مقابلے میں دالوں میں نمکیات زیادہ ہوتے ہیں۔
٭- دال  کی طاقت اس کے چھلکے میں مو جو د ہو تی ہے۔ چھلکوں میں وٹامن E پایا جاتا ہے جو بانجھ پن کو دور کر تا ہے۔
٭- آنتوں اور معدے کے لیے مفید ہے۔ قبض کو دور کر تی ہے۔

٭-  بلڈ پریشر کم رکھنے میں مدد دیتی ہے کیو نکہ اس میں پو ٹاشیم پایا جاتا ہے۔
٭-  خون میں شریانوں پر پڑنے والے دباؤ کو کم کر تا ہے۔ ا س سے خو ن آسانی سے گر دش کر تا ہے اور دل پر دباؤ نہیں پڑتا۔
٭- اس میں وافر مقدار میں آئرن ہو تا ہے جو خو ن کی کمی کو پورا کر تا ہے۔ شو گر لیو ل کو کم کر تا ہے۔ 

٭- یہ خون میں انسو لین کے لیو ل کو بر قر ار رکھتی ہے۔
٭-  خو ن میں سرخ ذرات بننے کا سبب بنتی ہے۔ 
٭-  ماش کی دال شوگر کے مریضوں کے لیے بہترین ہے ۔ 
٭- مر دانہ طاقت اورا سپر م بڑھانے کے لیے ماش کی دال بہترین دواہے۔
٭-  اس میں فو لیٹ ہو نے کی وجہ سے حمل کے دوران اس کا استعمال بچہ جسمانی خر ابی سے محفو ظ رہتا ہے۔
٭- ادویات میں بطورِ سفوف ، بطورِمعجون اور میٹھے پکوانوں میں استعمال ہوتی ہے۔سفوف مغلظ میں بھی استعمال کی جاتی ہے۔
٭- ثابت ماش کی کھیر پکا کر بچے والی عورت کو دودھ زیادہ پید ا کرنے کے لیے کھلاتے ہیں۔
٭-بیرونی  ورم     یا درد کے لئے، اس کے آٹے میں ہینگ ، تخم سویا اور مین پھل،   باریک پسے ہوئے ملا کر روٹی  بناتے ہیں جو ایک طرف سے کچی  رکھی جاتی ہے اور دوسری طرف سے آدھی پکائی جاتی ہے ۔  پھر نیم گرم ، کچی طرف سرسوں کا تیل یا  کسٹرآئل  لگا کر سوجن ، درد معدہ ، قولنج اور درد گردہ  کی جگہ رکھ کر کپڑا باندھ دیتے ہیں ۔
٭-  ابال کر پانی میں پیس لیں اور اس پانی سے بال دھوئیں تو بال عمدہ ، لمبے اور گھنے ہو جاتے ہیں۔



ماش کی دال پکانے کا آسان طریقہ :
پانی میں ماش کی دال چند گھنٹوں کے لیے بھگو دیں۔حسبِ ذائقہ  مصالح جات  ڈالیں  اور  ماش کی دال کو    اتنی دیر پکائیں کہ یہ کھیر کی طر ح یکجا ہو جائے۔ اب اس کو ٹھنڈا کر کے کھائیں۔


 نوٹ:
یہ عموماً کہا جاتا ہے کہ ماش کی دال، انسانی خوراک کے لئے نقصان دہ ہے ، لیکن بوڑھا اِس سے متفق نہیں ۔

خوراک کے لئے اللہ کی کوئی تخلیق   انسان کے لئے مضر نہیں !


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

پیر، 20 جنوری، 2020

فیض احمد فیض کا خاندان

  فیض احمد فیض کو اور اس کی شاعری کو جاننے کے لئے  ، اُس کی فیملی  والد ،  والدہ ، بھائیوں اور بہنوں کے بارے میں کچھ معلومات حاصل کرنا ضروری ہے۔ جو کہ لوگوں کے لئے یقیناًحیرت انگیز ہو گی   ۔

 ضلع سیالکوٹ میں نارووال سے تقریبا   آٹھ میل دور کالا قادر کا گاؤں  تھا اور اب بھی ہے ۔  یہ  ایک  چھوٹا سا گاؤں ہے ۔ یہاں  تھوڑی سی زمین  کی ملکیت رکھنے والی جاٹ کسانوں کی آبادی تھی    ۔وہ سب اپنے آپ کو چوہدری  کہلواتے تھے ، اُن  میں ایک  چودھری سلطان احمد بھی تھے، جن کے کئی بھائی تھے  ۔ لیکن سلطان احمد  اپنے دیگر بھائیوں سے مختلف تھے کیوں کہ وہ    ہر روز ناروال کے گورنمنٹ   اسکول  میں پڑھنے کے لئے پیدل جاتا   ، سکول کے بعد ضلعی عدالتوں میں کام کرتا  یوں اِس نے ھائی سکول کا امتحان پاس کرکے ،  گاؤں میں چوہدری کے ’پڑھے لکھے‘ بیٹے کے طور پر  اپنا نام منوایا ۔  یہ  فیض احمد چوہدری کے والد ماجد تھے ۔

سلطان احمد کے  بھائیوں کے درمیان زمین کے تنازعے پر اختلاف ہو گیا ، یہ بیٹوں کے جوان ہونے پر ایک معمولی بات سمجھی جاتی تھی ، لیکن اِس اختلاف نے  سلطان احمد کو مشتعل کردیا  اور وہ گھر سے بغیر کچھ کسی کو بتائے غائب ہو گیا  ۔ پولیس اور دیہاتیوں نے  اس کو  بہت ڈھونڈا   لیکن کوئی سراغ نہیں ملا۔ کہ  کالا قادر کے چودھری کا یہ، ذہین اور پڑھا لکھا بیٹا  کہاں غائب ہوگیا تھا؟
ہمیں بعد میں یہ معلوم ہوا  کہ سلطان احمد ، گھر سے نکل کر  افغانستان پہنچ  گیا ،  جہاں وہ افغانستان کے نئے  امیر ، امیر عبد الرحمٰن ،( جو انگریز کے ذریعہ تسلیم شدہ حکمران  تھا) کی خدمت میں حاضر ہوا۔اور اُس کے دربار میں ملازم ہو گیا ، اپنی محنت اور قابلیت کے بل بوتے وہ          ترقی کرتا کرتا  میر منشی یعنی چیف سیکرٹری - افغانستان  کے عہدے تک پہنچ گیا ۔ 
اپنی ملامت کے دوران  سلطان احمد نے کئی افغا ن عورتوں سے شادیاں کیں ، جن سے اس کی متعدد بیٹیاں تھیں ، لیکن کوئی بیٹا نہیں تھا۔اس  نے  کابل کے پوش  علاقے میں ایک خوبصورت مکان بھی بنوایا ۔ پھر ایک دن افواہ اُڑی  کہ چوہدری سلطان احمد ، میر منشی ،   ایک برطانوی جاسوس تھا۔ اس نے انکار کیا ، لیکن امیر کے شبہات بڑھتے گئے۔
 اس سے پہلے کہ امیر کے سپاہی اُسے گرفتار کرتے ، چوہدری سلطان احمد کابل سے فرار ہوگئے اور مولوی کا بھیس بدل کر ، وہ ڈیورنڈ لائن کے  پار   پہنچ گیا ، جہاں اُس نے  امیر کا نمائندہ بن کر  انگریزوں سے مذاکرات کئے ۔انگریزوں اور امیر کابل  کے درمیان بڑھتے ہوئے شکوک و شبہات کو کم  کیا ۔ 
  سلطان احمد اپنے گاؤں جانے کے بجائے سیدھے بمبئی کی طرف روانہ ہوا ، جہاں سے اس نے انگلینڈ جانے والے بحری جہاز پر بیٹھا ، کابل کے چیف سیکریٹری کا  خوشدلانہ  استقبال کیا گیا   اور جلد ہی اُس نے  برطانوی شاہی کے ساتھ دوستانہ  تعلقات بنا لئے ، سلطان احمد نے  اردو ، پنجابی ، فارسی ، عربی ، انگریزی ، پشتو اور روسی زبان میں عبور حاصل کیا۔ انگلینڈ میں اُس  نے کیمبرج یونیورسٹی میں داخلہ لیا اور انگلش ادب میں ایم اے پاس کیا۔ اس کے بعد اس نے قانون  کا امتحان پاس کیا اور اُسے بار میں بلایا گیا۔ 
  اس طرح کالا  قادر کے چودھری سلطان احمد برطانوی اشرافیہ میں جا پہنچے ۔ کالاقادر کے گاؤں میں رہنے والے  سلطان احمد  کے اہل خانہ کے پاس اب بھی اس کی  برطانوی رائل خاندان کے ساتھ متعدد تصاویر موجود ہیں ، جو اُن کے لئے ایک اعزاز ہے ۔
ملکہ برطانیہ نے سلطان احمد کو  خان بہادر کا خطاب دیا اور اُسے  سرگودھا میں کئی مربع اراضی مختص کی گئیں۔
سلطان احمد نے سیالکوٹ میں قانونی پریکٹس شروع   اور علامہ اقبال سمیت متعدد بااثر دوست بنائے۔ اس دور میں اُس نے  نے افغانستان کے امیر عبد الرحمن کی سوانح عمری لکھی جو آج تک کلاسیکی ہے۔جس  کاپی شاید اب بھی کہیں بھی اچھی  بُک شاپ میں مل سکتی ہے۔
 سلطان احمد کی والدہ نے،  ان سے پنجابی لڑکی سے شادی کرنے کو کہا ،  چنانچہ پنجابی بیوی   فاطمہ سلطان سے ، اس کے چار بیٹے تھے اور کوئی بیٹی نہیں۔ سب سے بڑا چوہدری طفیل احمد تھا ، جس نے علی گڑھ سے طبیعیات میں ایم ایس سی کیا ، دوسرے بیٹے چوہدری فیض احمد ، تیسرے نمبر پر چوہدری عنایت احمد ، ایک بیرسٹر ، اور سب سے چھوٹے چوہدری بشیر احمد تھے۔

 اس وقت تک افغانستان کے امیر کو یہ احساس ہوچکا تھا کہ اس نے اپنے میر منشی سلطان احمدکے ساتھ زیادتی کر دی تھی  جو اس وقت تک خان بہادر چوہدری سلطان احمد بن چکا تھا۔لہذا  اُس نے سلطان احمد کی افغان بیویوں  اور بیٹیوں کو اُس کے پاس  لاہور بھیجنے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح  افغانستان سے آنے والا ، پورا خاندان ان کے فیروز پور روڈ کے گھر پر اترا۔
سلطان احمد کی  پنجابی بیوی  فاطمہ سلطان جسے ان کے بیٹے ’بی بی جی‘  کہتے تھے   کو یہ کریڈٹ جاتا ہے  ، جس نے اپنے شوہر سلطان احمد کے  افغانی خاندان کی دیکھ بھا ل کی ۔ خان بہادر سلطان احمد کی موت کے بعد ،   فاطمہ سلطان  اس خاندان کی برائے نام سربراہ ہوگئیں۔ وہ ایک غیر معمولی عورت تھی۔ اس نے اپنے شوہر کی افغان بیویوں سے فارسی بولنے والی بیٹیوں کو تعلیم دی۔ وہ پورے کنبے کی دیکھ بھا ل اور تعلیم کے سلسلے میں سرگودھا میں زمینیں بیچتی رہی   ۔
فیض احمد نے سکاچ مشن اسکول سیالکوٹ میں داخلہ لیا اور یہاں میٹرک تک تعلیم حاصل کی۔ میٹرک کے امتحانات کے بعد   فیض  نے ایف اے کا امتحان مرے کالج سیالکوٹ سے پاس کیا۔ فیض  کے اساتذہ میں میر مولوی شمس الحق ( جو علامہ اقبال کے بھی استاد تھے) بھی شامل تھے۔  بی اے  فیض نے گورنمنٹ کالج لاہور سے کیا اور پھر وہیں سے انگریزی میں ایم اے کیا۔ بعد میں اورینٹل کالج لاہور سے عربی میں ایم اے کیا۔
تیسرے ماسٹر   فلسفہ  کے دوران ، فیض احمد کو   پرنسپل ، ایم اے او کالج   امرتسر ، ایم ڈی تاثیر نے  کالج میں عربی لیکچرر کی نوکری دی۔ 
 جس گھر میں فیض پروان چڑھا تھا ، وہاں اس کی سوتیلی بڑی  بہنیں  فصیح  فارسی  بولتی تھیں اور وہ اُن سے فارسی  میں بات کرتا تھا ۔   یہ بات بہت سے لوگوں کو حیرت کی بات ہوگی  کہ اس کے والد  سلطان احمد نے،  گاؤں کالا  قادر میں  ایک چھوٹی سی  لیکن بہت خوبصورت ، مسجد بنائی۔ جب فیض بیروت میں جلاوطنی پر تھے ، انہوں نے کلاسیکی فارسی میں حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعریف میں ایک ’نعت‘ بھیجی ، جسے بہت سے لوگ ان کی عمدہ نظم سمجھتے ہیں۔ وہ نظم سنگ مرمر  کی تختی پر کندہ  کروا کر اُسے مسجد کے دروازے پر لگایا گیا تھا۔
اپنی وفات سے قبل ، فیض احمد فیض  اپنے آبائی گاؤں کالا  قادر گئے ،  کھیتوں میں گھومتے پھرے گاؤں کے تمام بوڑھے لوگوں سے ملاقات کی۔ وہ کافی دیر تک مسجد کے سامنے بیٹھے رہے  ، دروازے پر لگی تختی کو بے یقینی سے دیکھا  اور  سر ہلایا۔ 
  ایک ممتاز اِشتراکیت سٹالنسٹ فکر کا کمیونسٹ ،جو  زندگی میں ایک لمبا فاصلہ طے کرچکا تھا  لیکن پھر بھی اس کی جڑیں مضبوطی سے اسی مٹی میں تھیں جہاں سے اس نے جنم لیا تھا۔ 
شاید اس کے لئے یہ ایک صوفیانہ لمحہ تھا۔ ساری زندگی وہ بہت پر سکون آدمی رہا۔ اب بھی  وہ  پرسکون تھا۔ وہ لاہور واپس آیا اور دو دن بعد  وہ ہمیشہ کے لئے خاموش ہو گیا ۔ 
فیض احمد فیض کی پہلی نظم جو 1929 میں لکھی گئی ۔ 

میرے معصوم قاتل
 ہیں لبریز آہوں سے ٹھنڈی ہوائیں
 اداسی میں ڈوبی ہوئی ہیں گھٹائیں
 محبت کی دنیا پہ شام آ چکی ہے
 سیہ پوش ہیں زندگی کی فضائیں
 مچلتی ہیں سینے میں لاکھ آرزوئیں 
تڑپتی ہیں آنکھوں میں لاکھ التجائیں 
تغافل کی آغوش میں سو رہے ہیں
 تمہارے ستم اور میری وفائیں
 مگر پھر بھی اے میرے معصوم قاتل
 تمہیں پیار کرتی ہیں میری دعائیں
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اتوار، 19 جنوری، 2020

انسان کے مطابق- کائینات اور زمین کی تخلیق-1


سائینس دانوں،  ہیئت  دانوں  اور مذاہب عالم   کے مطابق  تخلیق کائینات اور زمین    کے بارے میں مختلف   مفروضوں  کے مطابق  اپنی اپنی سوچ ہے  ، لیکن یہ سوال سب کے لئے نہایت اہم ہے کہ :
 لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ کائینات کو   کس نے تخلیق کیا :

٭- مذاہب کی انسانی تاریخ کے مطابق ، 
٭-ہندو دھرم کے اوتار رام کا تعارف رامائن سے ہوتا ہے کچھ اسے خیالی کردار کہتے ہیں مگر وہ اپنے دور میں ایک بادشاہ تھا جس نے بھرہمن سپرمیسی کی بنیاد رکھی۔ جس کے اثرات آج تک ہندو معاشرے میں موجود ہیں ۔ اس کے دور کے متعلق اختلاف پایا جاتا ہے مگر یہ سات ہزار سال قبل مسیح کے لگ بھگ ہے۔
چونکہ آریا ، ہندواستھان  میں آنے کے بعد چند صدیوں میں اپنی زبان بھول گئے۔ اس وقت انھوں نے ویدوں کی تفسیر لکھنی شروع کی، جو براہمن کے نام سے مشہور ہوئیں۔ مگر یہ بھی ناقابل فہم ہوتی گئیں اور تشفی بخش ثابت نہیں ہوئیں تو انہوں نے ایک نیم مذہبی ادب ویدانگ کی بنیاد رکھی۔ اور کلپا کے زمرہ میں چار ، رسالے سروثہ ستر، سلو ستر، گریہ ستر اور دھرم ستر تصنیف کیے۔
ـ وشنو مت میں ، وشنو نے برہما کو تخلیق کیا اور اسے باقی کائنات بنانے کا حکم دیا ۔ 
ـشیو مت میں ، شیو کو خالق سمجھا جاسکتا ہے۔
ـ شکتی ازم میں ،  تری مورتی     اِس کی وجہ ہیں ۔ یہ تین مورتیاں یعنی برہما  (تخلیق )، وشنو (  پرورش)  اور  شِوا  (تباہی  ) کی  قوت رکھتی ہیں ۔
 ہندو دھرم کے مطابق   کائنات کی تخلیق،9  یعنی یوگ چکر ، کے بعد ، مہایوگ شروع ہوتا ہے، اس سے پہلے تین یوگ، ست یوگ، ترتیا یوگ اور دواپر یوگ گزر چکے ہیں، اب آخری یوگ کلی یوگ چل رہا ہے۔ ہر یوگ 43لاکھ سال کا ہوتا ہے۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭
 ٭- جیوش ازم  کی بائیبل  کے مطابق ، یہوواہ  (Jehovah) ہی ایک حقیقی قادر خدا ہے ۔
جیوش ازم کی  کتاب، عہد نامہ ءِ قدیم   میں   کتابِ پیدائش   میں کل 50 ابواب ہیں ، جن میں پہلاباب  تخلیق کائینات اور اور دوسرا باب تخلیق انسان کے متعلق ہے ۔ 
کتاب پیدائش: باب نمبر 1 
پہلا دن -خُدا نے اِبتدا میں زمِین و آسمان کو پَیدا کیا اور زمِین ویران اور سُنسان تھی ، گہراؤ کے اُوپر اندھیرا تھا اور خُدا کی رُوح پانی کی سطح پر جُنبِش کرتی تھی،  خُدا نے کہا روشنی ہوجا ،روشنی ہوگئی ،  خُدا نے دیکھا کہ روشنی اچھّی ہے، خُدا نے روشنی کو تاریکی سے جُدا کیا،خُدا نے نے روشنی کو دِن کہا ،  تاریکی کو رات اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی یوں پہلا دِن ہُؤا۔(1 تا 5)
دوسرا دن۔ پھر  خُدا نے کہا پانیوں کے درمیان فضا ہو تاکہ پانی پانی سے جُدا ہوجائے۔ پس خُدا نے فضا کو بنایا اور فضا کے نِیچے کے پانی کو فضا کے اُوپر کے پانی سے جُدا کِیا اور اَیسا ہی ہُؤا۔ خُدا نے فضا کو آسمان کہا اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی۔یوں  دوسرا دِن ہُؤا۔(6 تا 8)
تیسرا دن۔  خُدا نے کہا آسمان کا پانی ایک جگہ جمع ہو کہ خُشکی نظر آئے اور اَیسا ہی ہُؤا  اور خُدا نے خُشکی کو زمِین کہا اور جو پانی جمع ہوگیا تھا اُسکو سمندر اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے   اور خُدا نے کہا کہ زمِین گھاس اور بیج دار بُوٹیوں کو پھلدار درختوں کو جو اپنی اپنی جِنس کے مُوافِق پھلیں اور جو زمِین پر اپنے آپ ہی میں بِیچ رکھّیں اُگائے اور اَیسا ہی ہُؤا۔  تب زمِین نے گھاس اور بُوٹیوں کو جو اپنی اپنی جِنس کے مُوافِق بِیج رکھّیں اور پھلدار درختوں کو جنکے بیج اُن کی جِنس کے مُوافق اُن میں ہیں اُگایا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔ اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی۔ یوں تیسرا دِن ہُؤا۔
(9 تا 13)
چوتھا دن ۔  خُدا نے کہا کہ فلک پر نیّر ہوں کہ دِن کو رات سے الگ کریں اور وہ نشانوں اور زمانوں اور دِنوں اور برسوں کے اِمتیاز کے لِئے ہوں  اور وہ فلک پر انوار کے لِئے ہوں کہ زمِین پر روشنی ڈالیں اور اَیسا ہی ہُؤا۔  سو خُدا نے دو بڑے نیّر بنائے ایک نیّر اکبر (سورج)کہ دِن پر حُکم کرے اور ایک نیّر اصغر(چاند) کہ رات پر حُکم کرے اور اُس نے ستاروں کو بھی بنایا   اور خُدا نے اُن کو فلک پر رکھا کہ زمِین پر روشنی ڈالیں   اور دِن پر اور رات پر حُکم کریں اور اُجالے کو اندھیرے سے جُدا کریں اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔ شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔یوں چَوتھا دِن ہُؤا۔(14 تا 19)
 پانچواں دن۔ خُدا نے کہا پانی جانداروں کو کثرت سے پَیدا کرے اور پرندے زمِین کے اُوپر فضا میں اُڑیں۔  خُدا نے بڑے بڑے دریائی جانوروں کو اور ہر قِسم کے جاندار کو جو پانی پر بکثرت پَیدا ہُوئے تھے اُن کی جنس کے مُوافِق اور ہر قسِم کے پرندوں کو اُن کی جِنس کے مُوافق پَیدا کِیا اور خُدا نے دیکھا کہ اچھّا ہے۔  خُدا نے اُن کو یہ کہہ کر برکت دی کہ پھلو اور بڑھو اور اِن سمندروں کے پانی بھردو اور پرندے زمِین پر بہت بڑھ جائیں۔  شام ہُوئی اور صُبح ہُوئی۔ یوں پانچواں دِن ہُؤا۔(20 تا 23)
چھٹا دن ۔ خُدا نے کہا کہ زمِین جانداروں کو اُن کی جِنس کے مُوافق چَوپائے اور رینگنے والے جاندار اور جنگلی جانور اُن کی جِنس کے مُوافِق پَیدا کرے اور اَیسا ہی ہُؤا۔  خُدا نے جنگلی جانوروں اور اور چَوپایوں کو اُن کی جِنس کے مُوافِق اور زمِین کے رینگنے والے جانداروں کو اُن کی جِنس کے مُوافِق بنایا اور خُدا نے دیکھّا کہ اچھّا ہے۔ پھر خُدا نے کہا کہ ہم اِنسان کو اپنی صُورت پر اپنی شبِیہ کی مانند بنائیں اور وہ سمندر کی مچھلیوں اور آسمان کے پرندوں اور چَوپایوں اور تمام زمِین اور سب جانداروں پر جو زمِین پر رینگتے ہیں اِختیار رکھّیں۔  خُدا نے اِنسان کو اپنی صُورت پر پَیدا کیا۔ خُدا کی صُورت پر اُس کو پَیدا کیا۔ نرو ناری اُن کو پَیدا کیا۔  خُدا نے اُن کو برکت دی اور کہا کہ پَھلو اور بڑھو اور زمِین کو معمُور و محکُوم کرو اور سمُندر کی مچھلیوں اور ہوا کے پرِندوں اور کُل جانوروں پر جو زمِین پر چلتے ہیں اِختیار رکھّو۔ خُدا نے کہا کہ دیکھو میں تمام رُوئے زمِین کے کُل بیج دار سبزی اور ہر درخت جِس میں اُس کا بِیج دار پھل ہو تُم کو دیتا ہُوں۔ یہ تمہارے کھانے کو ہوں۔  زمِین کے کُل جانوروں کے لئے اور ہوا کے سب پرندوں کے لئے اور اُن سب کے لئے جو زمِین پر رینگنے والے ہیں جِن میں زندگی کا دم ہے سب ہری بُوٹیاں کھانے کو دیتا ہُوں۔ اورایسا ہی ہُؤا۔  خُدا نے سب پر جو اُس نے بنایا تھا نظر کی اور دیکھا کہ بہت اچھّا ہے اور شام ہوئی اور صُبح ہوئی۔ یوں چھٹا دِن ہُؤا۔(24 تا 31)
کتاب پیدائش: باب نمبر 2 
ساتواں  دن ۔ سو آسمان اور زمِین اور اُن کے کُل لشکر کا بنانا  (  چھ دن میں )ختم ہُؤا۔  خُدا نے اپنے کام کو جِسے وہ کرتا تھا ساتویں دِن ختم کِیا اور اپنے سارے کام سے جِسے وہ کررہا تھا ساتویں دِن فارِغ ہُؤا - خُدا نے ساتویں دِن کو برکت دی اور اُسے مُقدس ٹھہرایا کِیُونکہ اُس میں خُدا کی ساری کائنات سے جِسے اُس نے پَیدا کِیا اور بنایا فارِغ ہُؤا۔  یہ آسمان اور زمِین کی پَیدائش جب وہ خلق ہُوئے جِس دن خُداوند خُدا نے زمِین اور آسمان بنایا۔   زمِین پر اب تک کھیت کا کوئی پَودا نہ تھا اور نہ میدان کی کوئی سبزی اب تک اُگی تھی،  کِیُونکہ خُداوند خُدا نے زمِین پر پانی نہیں برسایا تھا اور نہ زمِین جو تنے کو کوئی اِنسان تھا۔  بلکہ زمِین سے کہر(دھند) اُٹھتی تھی اور تمام رُویِ زمِین کو سیراب کرتی تھی۔ خُداوند خُدا نے زمِین کی مٹی سے اِنسان کو بنایا اور اُس کے نتھنوں میں زِندگی کا دم پھُونکا تو اِنسان جیتی جان ہُؤا۔ (1 تا 8)

٭٭٭٭٭٭٭٭
٭- کرسچین ازم  کی بائیبل کے مطابق ، خدا ،  روح القدّس ( خدا کی متحرک قوت) اور کرائسٹ  ، کائینات کی تخلیق کا سبب ہیں ۔ لیکن  جیوش ازم کی  کتاب، عہد نامہ ءِ قدیم   ان کے مذہب میں شامل ہے ، جس کے ساتھ   عہد نامہ ءِ جدید بھی شامل ہے ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭
٭- مسلم ازم   کے القرآن ، کے مطابق اللہ  اِس کائینات اورزمین  کا خالق ہے ۔لیکن اِس کی جوتفسیرات   لکھی ہیں اُن کے مطابق ،     صحاح ستّہ میں بائبل قدیم و جدید سے بھی مواد لیا گیا ہے ۔ یہی وجہ ہے  کہ قرآن کو بائیبل کا چربہ کہا جاتا ہے ۔
 (جس سے مہاجرزادہ متفق نہیں ۔ اگلے مضمون میں اِس پر اپنے مفروضے کو دلیل سے نظریہ بنائے گا)-
 لیکن تمام مذاہب ،  اِس بات پر متفق ہیں ،    کہ کائینات کسی قوت نے تخلیق کی ہے  ، اُسےکوئی بھی نام دیں۔ 
  ٭٭٭٭٭٭٭٭٭
سائینسی مفروضات و نظریات :
 ٭- جدید سائنسی نظریہ جو ،  زمانہ قدیم یعنی 13.8  بلیئن سال پہلے کائینات میں موجود ،سرخ  بل دار    نیبولا   میں  خود بخود بِگ بینگ ہوا تھا  ، جس کی وجہ سے   یہ  تمام  کائینات وجود میں آئی ۔-


 بِگ بینگ  کے بارے میں نظریہ ، اس مشاہدے سے پیدا ہوا تھا کہ دوسری کہکشائیں ، ہماری زمین سے بڑی تیزی سے دور ہوتی جارہی ہیں ، گویا کہ ان سب کو کسی قدیم دھماکہ خیز قوت نے آگے بڑھایا ہے، حقیت میں یہ اُس دھماکے کے مرکز سے دور ہوتی جارہی ہیں ۔ یہ نظریہ 1927 میں ، بیلجئیم،کیتھولک پادری اور  کاسمولوجسٹ  (فلک پیما)جارجس لیماتری(Georges Lemaîtreنےپیش کیا ۔ 
بگ بینگ سے پہلے   کائینات کیسے تخلیق ہوئی ؟
بگ بینگ نظریہ 1927 میں ، وجود میں آیا لیکن اُس سے پہلے کائینات  کی تخلیق  مفروضہ مبہم تھا ۔ لہذا سائینس دانوں،ہیئت دانوں  اور فلک پیماؤں  کے مختلف نظریات تھے ۔ 
 سب پہلے  یہ  نظریہ کہ شمسی توانائی کا نظام ایک نیبولا سے شروع ہوا ،  1734 میں سویڈش سائنس دان اور مذہبی ماہر ایمانوئل سویڈن برگ نے کی تھی۔ امانوئل کانٹ ، جو سویڈن برگ کے کام سے واقف تھے ، نے اس نظریہ کو مزید ترقی دی اور اسے اپنی یونیورسل نیچرل ہسٹری اینڈ تھیوری آف دی  ہیون  (1755) میں شائع کیا۔
  نیبولا خلا میں دھول اور گیس کا ایک بڑا بادل ہے۔ کچھ نیبولا (ایک سے زیادہ ایک نیبولا) گیس اور دھول سے آتے ہیں،  جو سُپر نووا جیسے مرتے ہوئے ستارے کے پھٹنے سے خلا میں بکھر جاتی ہے ۔ دوسرے نیبولا وہ خطے ہیں جہاں نئے ستارے بننے لگے ہیں۔
اگر ہم کائینات کو کائینات کے باہر سے دیکھیں  تو یہ ہمیں  نیبولا ہی نظر آئے گی ۔ اور تمام ستارے ہمیں اِس میں موجود ذرے دکھائی دیں گے ۔


بہرحال ، بگ بینگ نظریئے نے سائینس دانوں کو ایک راہ بتا ئی اور کائینات کی پھیلاؤ کے نظریئے کو ایک ٹھوس    دلیل ملی اور  یہ مفروضہ   بھی وجود میں آیا کہ جس طرح یہ کائینات پھیل رہی ہے ، ایک حد پر جاکر یہ کشش ثقل  کی وجہ  واپس  ہوناشروع   یعنی اُس سپرنگ کی طرح جو اگر کھینچا جائے تو پہلے پھیلتا ہے اور چھوڑنے پر  واپس اپنی پہلی حالت پر آجاتا ہے ۔
اِسی طرح بگ بینگ کی انتہائی حد پر جا کر  ، کائینات کا " بگ کرنچ "ہو گا !

کائینات کے بارے میں جوسائینس دانوں بھی مفروضات ہوں  ، اُنہیں  دلیل بنانے کے لئے اُن کی تگ و دو جاری ہے اور مفروضات(Supposition) ، دلیل (شہادت )ملنے پر نظریات(Hypothesis) میں تبدیل ہو جاتے ہیں ۔  لیکن زمین کی تخلیق کے بارے میں اُن کا نظریہ ، ایک ہے کہ بِگ بینگ کے بعد  زمین بھی  کائینات کے دیگر سیاروں کی طرح ،   نیبولا( خلا میں دھول اور گیس کا ایک بڑا بادل  ) سے  دہکتے ہوئے گولے کی طرح وجود میں آئی،   اور پھر یہ اپنے سرد ہونے کے سفر کی طرف گامزن ہو گئی ،  چاند اور زمین کے درمیان  خلا میں ٹمپریچر   منفی 454.75  ڈگری فارن ہائیٹ یا  منفی  270.42 ڈگری  سنٹی گریڈ ہے ۔


اتنی ٹھنڈک کے باوجود ، زمین کی حد سے باہر ہمیں  دور دور تک بادل نظر نہیں آتے ، یہاں تک کہ سورج میں ہونے والے ایٹمی دھماکوں سے پیدا ہونے والی  آکسیجن اور ھائیڈروجن کو پانی میں تبدیل نہ کرسکی  ، اور اگر زمین پریہ دونوں گیسیں تھیں ، تو دھکتی ہوئی زمین پر تو آگ کے گولے اُس وقت تک بلند ہونے چاھئیے تھے جب تک کہ کسی عمل سے یہ  دونوں گیسیں پانی میں تبدیل نہ ہوجاتیں ۔ 
لیکن کیا ایسا ہی تھا ؟
کیوں کہ زمین اُس وقت نظام شمسی کا حصہ نہ تھی ، بلکہ باقی سیاروں کی طرح بِگ بینگ کی جگہ سے  کسی توپ کے گولے کی طرح وہاں سے دور جا رہی تھی ۔
سائینس دانوں کا خیال تھا ، کہ زمین کے اِس سفر پر ایک  ٹھوس سیارہ ، اِس سے آ ٹکرایا ، جس کی وجہ سے  زمین پر گردو غبار کا بادل اُٹھا اور فضا کی طرف  روانہ ہوا یہاں تک کہ زمین کی کشش نے اُس  گرد و غبار کو روک لیا اور وہ جمع ہو کر زمین کا چاند بن گیا ۔ 

یہاں تک تو زمین  دوسرے سیاروں کی طرح تھی ،لاوہ جو زمین کے ذرا سے تڑخنے اُبل پڑتا  اور اور اندر کا تمام غبار اُس وقت تک نکالتا رہتا جب تک ٹھنڈا نہ ہوجاتا ۔لیکن زمین پر حیات نہ تھی ، حیات کو وجود زمین پر پانی سے ملا ۔جو ہماری معلومات  کے مطابق بگ بینگ  سے بننے والے سیاروں   میں،نظام شمسی میں موجود  واحد زمین کے حصے میں آیا  ۔
 لیکن سوال پیدا ہوتا ہے کہ زمین پر پانی کہاں سے آیا ؟
سائینس دانوں  نے جو مفروضہ بنایا تھا وہ یہ کہ خلاء میں جو شہاب ثاقب ہیں ، ان کی اکثر ٹھوس برف کے تھے جو زمین سے ٹکرائے ،  جن میں موجود پانی سمندر جیسا ہے ، یعنی کھارا ہے ۔ لیکن یہ اتنے زیادہ نہ تھے ، کہ زمین پر پانی کا اتنا بڑا ذخیرہ پیدا کر سکیں ، جو زمین پر حیات  کا وجود بر قرار رکھ سکے !
دوسرا مفروضہ یہ تھا کہ،چونکہ پانی ہائیڈروجن جمع  آکسیجن ہے ، اور زمین پر آکسیجن وافر مقدار میں ہے ، ہائیڈروجن  بنانے کا کوئی بھی ذریعہ زمین کے پانی کی وجوہ بن سکتا تھا ۔ 
 مہاجر زادہ کے خیال میں یہ ایک بودامفروضہ ہے ، کیوں کہ زمین پر آکسیجن کا وجود  آتش فشاں سے اُٹھنے والی گیسوں سے نہیں بلکہ  ،  گھاس  ،، پودوں اور درختوں سے ہے۔
زمین پر پانی کا وجود ، زمین پر خلاء سے آکر ٹکرانے والے اُس  بڑے برف نما سیارے سے  ہوا جس نے  زمین کے ایک بہت بڑے  حصے کو  نہ صرف فضا میں بکھیر دیا ، جو بالآخر چاند بن گیا ،  بلکہ زمین کو نظام شمسی  کے مدار  کا حصہ بنا دیا  اور زمین کو  23.5ڈگری کا جھکاؤبھی دے دیا۔  کیوں کہ اِس سے پہلے زمین نظام شمسی کا حصہ ، اگر ہوتی تو میرے ناقص فہم کے مطابق ،  اِس زور دار ٹکڑاؤ کی صورت میں زمین  سورج کے مدار سے نکل کر خلاء کی وسعتوں میں کھو جاتی ۔

سائینس دانوں کے مطابق ، خلا سے زمین پر اترنے والا یہ برفانی تودہ ، سمندر کے پانی کی طرح کھارا تھا یا میٹھا ، لیکن  گرم زمین نے اُس کھارے پانی کو  گرم زمین سے بھاپ کی صورت میں زمین سے اوپر اُٹھا دیا  یہ پانی وہاں تک گیا جہاں تک جا سکتا تھا  کیوں کہ اُس وقت تک زمین کی فضا اور اوزون  کی پرت نہیں بنی تھی اور پھر واپس ٹھنڈا ہو کر ، بارش  یا  اولوں  کی طرح زمین میٹھا بن کر اترا  اور زمین کو مزید ٹھنڈا کرتا گیا۔ یہ چکر یقیناً  شدت کے ساتھ صدیوں تک چلتا رہا ،   پانی سخت لاوے کو  ٹھنڈا کرتا  ، اُسے  توڑتا اور  چھوٹے حصوں میں تبدیل کرتا  اور  سیلاب کی صورت میں بہا کر مزید ریزہ ریزہ کرتا  اور نشیبی علاقوں  جمع کرتا رہا ۔  پانی نے زمین پر شکست و ریخت کا عمل جاری رکھا  ۔یہاں تک کہ زمین پر حیات نمودار ہونا شروع ہوئی ،جو سبزے کی صورت میں اور بیکٹیریا  کی شکل میں تھی،اب یہ بیکٹیریا  خلاء سےآئے ،یا زمین پر پیدا ہوئے ۔ لیکن ایک بات طے ہے کہ سائینس دانوں کے مطابق زمین پر حیات بیکٹیریا کی مرہون منت تھی ۔ جنہوںنے زمین کے تقریباً پورے حصے کو سبز کائی نے ڈھانپ لیا ۔ اور زمین کی فضاء میں اوزون گیسس پھیلنا شروع ہوگئیں ۔
معلوم نہیں کتنی صدیوں بعد زمین پر  حیوانی حیات کی ابتداء ہوئی ، لیکن  جب  سب سے پہلے زمین کو جنگلات نے ڈھکا ،  تو  اوزون کی چھتری اُس سے پہلے بن چکی تھی  اور جب یہ زمین پوری طرح تیار ہوگئی  ، تو حضرت انسان کی آمدہوئی ۔
جس کا اندازہ25 لاکھ سال لگایا جاتا ہے ۔

میں نے  مضمون کے شروع میں ،   تخلیق سماوات اور الارض کے بارےمیں مذہبی خیالات لکھے لیکن بحث سائنسی مفروضات  اورنظریوں پر کی ۔مفروضے اور نظریہ کے درمیان کیا فرق ہوتا ہے ۔
٭-  سائینی مفروضات(Supposition) علم کی بنیاد پر  معمولی سی دلیل ملنے پر نظرئیے (Hypothesis) بنتے ہیں  اور تجربات کی بنیاد پرحقائق میں تبدیل ہوتے ہیں ۔اِن میں لچک ہوتی ہے ، قبول ہوتے ہیں ، بہتر کئے جاتے ہیں یا رَد کئے جاتے ہیں ۔ کیوں کہ سائینسی  مفروضات، اور نظریئے   دلیل کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں ۔
٭- جبکہ مذہبی مفروضات  بھی  علم ہی کی بنیاد پر بنتے ہیں اور کثرت  کے استعمال سے نظریئے میں تبدیل ہوجاتے ہیں ، لیکن حقیقت نہیں بنتے بلکہ  مِتھ بن کر لوگوں کے دماغوں میں محفوظ ہو جاتے ہیں  ،   اِن میں لچک نہیں ہوتی  کیوں کہ یہ دلیل کی نہیں بلکہ جذبات کی کسوٹی پر پرکھے جاتے ہیں ۔لہذا جامد ہوتے ہیں ، اِن کو متحرّک بنانے کے لئے مزید مفروضات تخلیق کئے جاتے ہیں ۔  اور مذہبی مفروضات کا ایک انبار لگ جاتا ہے  جو ایک دوسرے کو مسترد کرتے ہیں  لیکن اُن کو قبول کرنے والے اُن کو رد کرنے کی ہمت نہیں کرتے ۔

٭- لیکن وہ مذہبی  مفروضات  جو  سائینسی وجوہات کی ساتھ میل کھاتے ہیں  ،  ہٹ اور ٹرائل کی بنیاد پر   نظریات  میں تبدیل اور  رَد  کی منزلوں سے گذرتے ہیں ہوتے ہیں ، وہ  جامد نہیں ہوتے  بلکہ متحرّک  ہوتے ہیں ۔


 مضمون بالا میں ، میں نے جو میں نے سائنسی نظریات دئیے ہیں وہ  موجود ہیں۔ جن کا میں نے گوگل لنک بھی  دیا ہے ، لیکن جو مفروضہ(Supposition)  میں نے  پکچر 5 میں  دیا ہے ، وہ کُلّی مہاجر زادہ  کا  ہے ، اُس کو نظریہ (Hypothesis) بنانے کی کوشش کروں گا اور مجھے یقین ہے کہ میں کامیاب ہو جاؤں گا ۔
کیوں کہ اب میں کائینات  اور زمین کی تخلیق  کی وضاحت  اپنے   عقیدے کے مطابق  کروں گا ۔
اور میرے  اِس  عقیدے کی دلیل ،  کتاب اللہ  اور الکتاب   ہے ۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
اگلا مضمون :
٭-انسان کے مطابق-  کائینات اور زمین کی تخلیق-2
پچھلا مضمون:
٭-  کتاب اللہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔