میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 30 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی - 3

                
ارے بیٹے ذرا جلدی سے پانی پلا“ انہوں نے گڈو  سے کہا،
گڈو پانی لینے دوڑا۔
آپا میں نے نعیم کو آپ کا جواب بتا کر ابھی کراچی کے لئے نکلنا ہے“ 
امی نے پوچھا ُ ”بہن کیا فون آیا ہے؟ ّ“ 
نعیم کی امی بولیں، ”جی، آپانعیم نے پنڈی سے فون کیا ہے، وہ کہہ رہا ہے میں کل گھر چھٹی آرہا ہوں۔ آپ سے پوچھ کر بتائیں کہ پانچ یا سات نومبر کو شادی رکھ دیں
 اس سے پہلے کہ امی بولتیں، بڑی بھابی بولیں، ”خالہ ایسے تھوڑا شادی کی تاریخ لیتے ہیں اسے آنے دیں، ہم مشورہ کر کے بتا دیں گے
ہاں تو خالہ اور کیا؟ ایسی کیا مجبوری ہے“  چھوٹی بھابی نے لقمہ دیا۔
 ”خالدہ مجبوری ہے وہ کہہ رہا ہے کہ بڑی مشکل سے چھٹی ملی ہے اگرآپ لوگ نہیں مانتے تو وہ واپس چلا جائے گا
منجھلی بھابی بولیں،”خالہ تو وہ دوبارہ آجائے گا، دونوں بھائی باہرہیں، لقمان اور ابا کیسے انتظامات سنبھالیں گے، آپ اسے کہیں کہ بعد میں چھٹی لے کر آجائے“۔
                 میں کمرے میں بیٹھی سب سن رہی تھی اور مجھے غصہ بھی آرہا تھا، کہ کہاں تو موصوف شادی لٹکارہے تھے اوراب ہمیں وقت نہیں دے رہے، آج سے پانچ یا سات دن بعد بارات لے کر آنے پر تلے ہوئے ہیں۔ 
                کہ ان کی امی نے بم پھاڑا،”نعیم کہہ رہا ہے کہ اگر لڑکی والے نہیں مانتے تو بے شک پھر اُس کی طرف سے منگنی ختم کر دیں۔ آپا یہ سن کر تو میرے ہول اُٹھ رہے ہیں اور اس کے ابا بھی پریشان ہیں۔میری تو کچھ سمجھ نہیں آرہا۔ میں تو اِس لڑکے سے تنگ ہوں،آپ فیصلہ کریں“۔
                امی معاملے کی نزاکت سمجھتے ہوئے بولیں،”ٹھیک ہے بہن، اس کو کہیں آجائے، ان دونوں میں سے کوئی تاریخ رکھ لیں گے
 ”بہت بہت شکریہ۔ بس اب اس کا فون آئے گا میں اسے بتا کر نکل جاؤں گی، گل کہاں ہے َ
                یہ کہتے ہوئے دوسرے کمرے میں آئیں میری بلائیں لیں اوربرقعہ سنبھالتے ہوئے اپنے گھر چلی گئی۔ لیکن اب ہم سب کو ہول اٹھنے شروع ہو گئے۔ نہ کوئی انتظام نہ لوگوں کو بلاوہ اور دونوں بھائی بھی باہر۔ بھابیاں پریشان اور ہم حیران۔
                امی نے سب کی ہمت یہ کہہ کر بڑھائی،”کہ اللہ مالک ہے سب کام ہو جائیں گے۔تاریخ پانچ کے بجائے سات رکھ لیں گے۔ اس طرح دو دن اور مل جائیں گے، فوجاں میں ایسے ہی چھٹی ملے“۔  ہماری امی اور ابو حیدرآباد دکن میں ہبلی شہر کے ہیں۔
سب نے اپنے اپنے ذمے مختلف کام بانٹ لئے دوسرے دن یکم نومبر تھی اور دو نومبر کو بقر عید تھی، عید کے انتظام کے ساتھ شادی کے انتظامات بھی شروع ہو گئے۔
                لفٹین صاحب،دوپہر تک جہاز سے کراچی پہنچ گئے۔  ارے  ہاں میں یہ بتانا بھول گئی کہ 19اکتوبر کو یہ کپتان صاحب ہو گئے تھے۔ کپتان صاحب،  پر یاد آیا۔ کہ جب ان کے کپتان بننے کا معلوم ہوا تو مجھے اپنے کالج میں این سی سی کی ٹریننگ کرانے کے لئے آنے والے کپتان صاحب یاد آگئے۔ جن کے جسم کو اگر آدھا کیا جاتا تو دو کپتان بنتے۔ میرے خیال میں لفٹین اس وقت کپتان بنتا ہے جب تک اس کی توند نہ نکلے،  ویسے سیانیاں کہتی تھیں کہ شوہر کے دل کا راستہ اس کے پیٹ سے ہو کر گذرتا ہے۔ اسی لئے میں نے کھانوں میں مہارت حاصل کر لی تھی۔حیدرآبادی کھانے، بمبئی  کے کھانے اور دلّی کے کھانوں کے علاوہ چینی کھانوں میں، سوپ بنانا آگیا تھا۔ لیکن میں سوچتی کہ اگر لنگر کے کھانے (بارڈر پر آبزرور کو لنگر کا کھاناملتا ہے) نے ان کو گول مٹول بنا دیا تو پھر، میرے کھانوں کی گنجائش تو ختم ہو جائے گی۔ 
                یکم نومبر کی رات ہم سونے کی تیاریاں کر رہے تھے کہ کراچی سے آنے والی ریل کار مہران کی کوک سنائی دی۔ چھوٹے بھائی، نعیم کی امی کے ساتھ کراچی چلے گئے تھے۔ کیوں کہ انہوں نے تمام رشتہ داروں کے ہاں جا کر شادی کی دعوت دینی تھی۔ اور آج واپس آنا تھا۔ ان دنوں نہ موبائل ہوتا تھا اور ٹیلیفون تو کم گھروں میں ہوتا تھا۔ لوگ ٹیلی پیتھی سے ہی کام چلاتے تھے۔ چھوٹی بھابی کو یقین تھا کہ چھوٹے بھائی شائد آدھے گھنٹے بعد آجائیں تو انہیں اٹھ کر کھانا دینا ہو گا۔ کیوں کہ کل عیدہونی تھی ۔ لہذا ان کا سونے کا پروگرام لیٹ تھا۔ مہران کی کوک سن کر منجھلی بھابی بولیں کی اُن کی دائیں آنکھ پھڑک رہی ہے شاید گڈو کے آبا آجائیں، بڑی بھابی نے کہا ابھی چھوٹی عید پر تو ہو کر گئے ہیں اتنی جلدی کیسے آئیں گے؟ آپ آنکھوں میں عرق گلاب ڈالیں آنکھیں دکھنے کو آئیں گی۔ سواگیارہ بجے گھنٹی بجی اور چھوٹے بھائی جان کی آواز آئی۔ بھابی نے مجھے کہا دروازہ کھو لو میں کھانا گرم کرتی ہوں۔ دونوں بھابیاں بھی اس امید پر اٹھ کر چارپائی پر بیٹھ گئیں۔ کہ شائد اُن کے شوہر بھی آئے ہوں۔مگر صرف چھوٹے بھائی اندر آئے انہوں نے دروازہ بند کیا اور صحن میں آکر سب کو سلام کیا اور واش روم میں چلے گئے۔ بھابیاں جواب دے کر ناامید ہو کر لیٹ گئیں۔ میں بھی لیٹ گئی اچانک میں نے دو سایوں کو کمرے سے نکل کر دبے پاؤں بڑھتے دیکھا۔ میرے منہ سے ایک خوفناک چینخ نکلی، سب گھبرا کر اٹھ گئے، اچانک صحن کی لائٹ جلی، تو سامنے بڑے بھائی جان اور منجھلے بھائی جان ہنس رہے تھے۔
                گھر میں ایک ہنگامہ مچ گیا۔ ہم سب کی خوشی ؤؤعالم مت پوچھیں،معلوم ہوا کہ مسقط میں ان کی کمپنی کے مالک کے ہاں بیٹا ہوا تھا تو اُس نے سب کو تین تنخواہوں کے برابر بونس دیا۔ چنانچہ دونوں بھائیوں نے 30تاریخ کو دس بجے پاکستان آنے کا پروگرام بنایا اور یکم کودو بجے کی فلائیٹ سے کراچی پہنچ گئے۔چھوٹے بھائی کو یہ دونوں کراچی میں مہران پر ملے تھے، چھوٹے بھائی بھی ان کو اچانک دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ لیکن ہمیں شک کہ اچانک یہ سارے اتفاقات کیسے ہو گئے، کہ نعیم کا اچانک شادی کا کہنا اور بھائیوں کا آجانا۔ کہیں ملی بھگت تو نہیں؟ لیکن یہ ملی بھگت نہیں تھی، امی کے ایمان کی وجہ سے کہ اللہ مالک ہے سب کام ہو جائیں گے اور سب کام خود بخود ہو گئے۔  
                عید کا پہلا دن تو قربانی کے ہنگامے میں گذرا شام کو نعیم کے ابو اور امی۔چھوٹی دونوں بیٹیوں کے ساتھ ہمارے گھر باقائد ہ شادی کی تاریخ لینے آئے جو پروگرام کے مطابق 7نومبر قرار پائی۔ہمارے چھوٹے بھائی کا پروگرام تھا کہ چار تاریخ کو گانے شروع ہو جائیں، نعیم سے کہہ کر حیدرآباد سے فوجی بینڈ بلوائیں گے۔ ان کا گھر ہمارے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر تھا کوئی تین سو گز کا فاصلہ ہو گا۔لہذا بارات پورے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں گھوم کر ہمارے گھر آئے گی  وغیرہ  وغیرہ ۔
                 نو بجے رات یہ بھائیوں اور ابا سے ملنے آئے۔ان کے جانے کے بعد معلوم ہو ا کہ کپتان صاحب نے سخت قسم کے مارشل لاء کا اعلان کر دیا ہے۔ شادی بالکل سادگی سے ہوگی۔ کسی قسم کا گانا بجانا نہیں ہو گا۔ ٹھیک پانچ بجے نکاح ہو گا۔ مغرب کے بعد کھانا اور بارات کی واپسی۔ تمام رسموں، کا خاتمہ کوئی مذاق نہیں وغیرہ وغیرہ۔ چھوٹے بھائی جان کو سخت غصہ آئے کہ یہ کوئی شادی ہے۔ مگر بڑے بھائی نے سمجھایا کہ نعیم کی بات بالکل صحیح ہے کہ اُن کے امی اور ابو، درسوں میں ہندوانہ رسومات سے پرہیز اور سادگی کا درس دیتے ہیں
لہذاہمیں نعیم کی بات ماننی پڑے گی۔ چنانچہ نعیم صاحب کی بات مانی گئی۔


                میری سہیلیوں نے ایک کمرے میں ڈھولک بجا کر اپنے ارمان پورے کئے۔شادی کے دن گھر کے
 باہر چھوٹے بھائی کودوستوں کے ساتھ کھڑا ہونا پڑا کہ مہمان گھر آکر یہ سمجھ کر واپس نہ جائیں کہ شادی ملتوی ہو گئی ہے۔کیوں کہ میرپورخاص مہمانوں کو صرف محلہ بتانا پڑتا ہے۔ کان پھاڑتے لاوڈ سپیکر باقی راستہ خود بتاتے ہیں۔ بارات میں صرف ان کے گھر کے لوگ تھے۔ کیوں کہ ان کے دوست میرے تینوں بھائیوں کے بھی دوست تھے۔وہ سیدھے ہمارے گھر آگئے۔بارات پونے پانچ پہنچ گئی  7نومبر کو ٹھیک جب گھڑی نے پانچ بجائے، قاضی شوکت مرحوم نے نکاح شروع کیا۔ نکاح کے بعد آرسی مصحف اور دودھ پلائی ہوئی پھر یہ نماز کے لئے مسجد چلے گئے کھانا ہوا اور تقریبا ً  آٹھ بجے رخصتی کا شور مچا، ہمیں اٹھایا گیا کپڑوں کی سلوٹیں بہن اور بھابیوں نے دور کیں، سسرال سے آیا ہوا برقعہ پہنایا گیا، جونہی کمرے سے نکلے، اچانک احساس ہوا کہ، بس اب بابل کا گھر چھوٹا اور اس کے ساتھ ہی آنسو چھاجوں برسنے لگے، کہاں خوشی اب تو رونے کا سماں ہو گیا، ہم تو ہر شادی پر یہ سمجھتے تھے کہ رخصتی کے وقت رفیع کی آواز میں جو گانا لگایا جاتا ہے،
بابل کی دعائیں لیتی جا جا تجھ کو سکھی سنسار ملے،
میکے کی کبھی نہ یاد آئے سسرال میں ایسا پیار ملے
               دلہنیں یقیناً یہ گاناوہ سن کر روتی ہیں، لیکن ہمارے آنسو تو گانے کی غیر موجودگی میں نکل رہے تھے، ابا جان، بڑے بھائی،  منجھلے بھائی اور چھوٹے بھائی سب رو رہے تھے، اور یہاں تک کہ ہمارے دولہا بھائی بھی اپنی آنکھیں رومال سے صاف کر رہے تھے، کمرے سے دروازے تک کا سفرروتے اور بہن بھائیوں سے گلے ملتے ہوئے جاری رہا، چھوٹی بھابی ہمارے سر پر سبز غلاف میں لپٹے ہوئے قرآن کا سایہ کر رہی تھیں، گھر کے گیٹ کے بعد حقدار بدل گئے، ان کی چھوٹی بھابی بانو اور دونوں بہنوں نے، سنبھال لیا، ہماری سسکیاں جاری تھیں کہ بانو بولی، ”بھابی زیادہ نہ روئیں میک اپ خراب ہوجائے گا“  یہ سننا تھا کہ ہماری ہنسی چھوٹنے والی تھی کہ بڑی مشکل سے روکی، ہمیں کار میں بٹھایا گیا،یہ،  ان کی امی، چھوٹے بھائی کی بیوی بانو لے کر واپس روانہ ہوئی۔ باقی سب باراتی پیدل اپنے اپنے گھروں کو واپس گئے  یہ بھی پیدل جانے پر بضد تھے لیکن بڑے بھائی جان نے زبردستی انہیں کار میں بٹھایا۔ یوں ہم بابل کے گھر سے پیا گھر سدھارے۔



٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 پچھلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 2  ٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔  فوجی کی بیوی - 4
 
٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭


ہفتہ، 21 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی - 2


        غالباً 10جولائی تھی اِن کا خط اپنی بہن سعیدہ کے نام آیا۔ وہ خط لے کر ہمارے گھر آئی اور بتایا کہ بھائی کا خط آیا ہے۔ میں گھبرا گئی کہ نہ معلوم میرے بارے میں کیا لکھا ہو میری چھوٹی بہن فردوس، خط پڑھنے پرمُصراور میں منع کروں کہ دوسروں کا خط نہیں پڑھتے۔ بہرحال سعیدہ کے کہنے پر اُس نے اونچی آواز میں خط پڑھنا شروع کیا۔ جو ریل کے سفر سے شروع ہو کر کرم ایجنسی میں پارا چنار میں ختم ہوا اور راستے میں یہ جن رشتہ داروں سے ملے اُن کی تفصیل، سب سے مزیدار اِن کا کوہاٹ سے ٹل تک کا سفر تھا۔ چار گھنٹوں کا یہ سفر انہوں نے ناک پر رومال رکھ کر سفر کیا کیوں کہ پوری بس میں نسوار اور تھوک کی بو میں سانس دوبھر تھا۔ مجھے بڑا ترس آیا۔ آخر میں ایک جملہ،”محلے والوں کو سلام“  پر مجھے بہت غصہ آیا کہ میرے متعلق ایک بات بھی نہیں لکھی  اور "اپنے محلے والوں" کے لئے سلام بھجوا دیا ہے۔  

       کالج میں میری دوسری پوزیشن آئی، میں تھرڈ ایر سے فورتھ ایر میں اپنی سہیلوں کے ساتھ چلی گئی۔ فردوس نے چپکے سے اپنی طرف سے خط لکھ کر سعیدہ کو دیا اُس نے وہ اِن کو بھجوا دیا۔ جواب میں، فردوس کے نام خط آیا، اُس میں ایک روپے کے نوٹ پر اپنے دستخط کے ساتھ لکھا،”اعلی کامیابی پر“  اور خط کے آخر میں پھر وہی  جملہ،”محلے والوں کو سلام“  تب عقدہ کھلا کہ،”محلے والے“  ہمارے لئے استعارہ ہے۔ اِن کے خط آتے رہے نومبر 77کی بات ہے ہم لوگ دس بجے دھوپ سینکنے کے لئے سامنے والے صحن میں بیٹھے تھے  میں کسی کام کے لئے اُٹھی تھی کہ دروازے پر دستک ہوئی، چھوٹی بھابی گئیں اور پوچھا کون ہے؟ جواب میں پوچھا،”لقمان صاحب ہیں“ بھابی نے دوبارہ پوچھا آپ کون؟ آواز آئی، ”عبدا لغنی“۔ بھابی حیران کہ اس نام کا تو بھائی کا کوئی دوست نہیں اور پھر بھائی گھر پر نہیں تھے۔ بتا دیا کہ وہ نہیں ہیں۔ بھابی نے واپس ہونے والے کو دیکھا، اِن کا انداز نظر آیا مجھے بلایا دیکھو یہ کون ہے میں نے دروازے کے سوراخ سے جھانک کر دیکھا۔ یہ سامنے سڑک پر کھڑے کسی سے بات کر رہے تھے۔ میں گھبرا کر پیچھے ہٹی اور اندر دوڑ گئی۔

        فردوس باہر نکلی انہیں بلایا مگر یہ چلے گئے، معلوم ہوا کہ مہینے کی چھٹی لے کر آئے ہیں ۔ امی کو معلوم ہوا تو نارض ہوئیں کہ اندر کیوں نہیں بلایا۔ شام کو بھائی آئے تو منجھلے بھائی کے بیٹے گڈّوکو بھیج کر بلوایا، یہ گھرپر نہیں تھے مغرب کے بعد اپنے ہمزاد، آزاد بھائی کے ساتھ آئے۔امی نے کھانے کا پوچھا تو معلوم ہوا کھانا کھا کر آئے ہیں، حال احوال پوچھا اور چائے بھجوائی۔ تھوڑی دیر میں ناہید اور اس کی بہن آگئی۔ اُن کا پروگرام اِن سے مذاق کرنے کا تھا۔اِن کے لئے چائے اہتمام سے بنائی گئی۔ ناہید نے گڈّو کو بتایا کہ یہ کپ اِن کے سامنے رکھنا اور ہنسنا بالکل نہیں۔ گڈّو چائے رکھ کر پلٹا، ناہید، اس کی بہن اور فردوس سٹول رکھ کر دروازے کے اوپر بنے روشندان سے جھانکنے لگیں۔چائے اُن کے سامنے رکھی یہ پیالی نہیں اُٹھا رہے، یہاں سسپنس بڑھتا جارہا تھا۔بھائی نے اصرار کیا بھئی چائے پیو انہوں نے کہا پہلے پانی پیوں گا۔بھائی پانی لینے اُٹھے۔آزاد بھائی نے اُٹھ کر سامنے بڑی میز سے اخبار جہاں اُٹھایا اور واپس بیٹھ گئے۔ چائے کی پیالیاں ویسے ہی پڑی تھیں۔ بھائی نے پانی دیا انہوں نے پانی پیا۔آزاد بھائی نے چائے کی چسکی لی اور پیالی واپس رکھتے ہوئے میز پر گر گئی۔آزاد بھائی نے، بھائی سے معذرت کی اور اِن سے کچھ کہا، انہوں نے اپنی چائے دینے کی کوشش کی۔ شکر ہے آزاد بھائی نے انکار کر دیا۔انہوں نے پیالی اُٹھا کر چسکی لی تھوڑا سا منہ بنایا، بات بات کی خبر اوپر سے ہماری طرف آرہی تھی۔امی، باورچی خانے میں تھیں اور ہم سب منہ میں دوپٹے ٹھونسے ہنس رہے تھے اور یہ منہ بنا بنا کر چائے پیتے جا رہے تھے، تھوڑی دیر بعد ہم حیران ہوئے پھر ہمارے چہرے پر ہوائیاں اُڑنے لگیں۔ کہ چار چاول کے چمچے نمک ملی چائے پینے کے بعد انسان کی کیا حالت ہو گی، بہر حال وہ چائے انہوں نے پی لی اور جاتے ہوئے کہا،”لقمان بھائی چائے بڑی مزیدار تھی“۔ ہم سب پریشان اب کیا ہوگا۔ مجھے غصہ بھی آرہا تھا کہ مذاق تھا ساری چائے پینے کی کیا ضرورت تھی، عجب ڈھیٹ آدمی ہے اگر کچھ ہو گیا تو پھر۔  دوسرے دن معلوم ہوا کہ اِن کی طبیعت خراب ہو گئی اور یہ اپنی امی کے ساتھ حیدآباد سی ایم ایچ گئے ہیں۔ مجھے خود پر غصہ آیا کہ منگیتر تو میرے تھے میں نے کیوں مذاق کرنے دیا اور ندیدوں کی طرح ساری چائے پینے کی کیا ضرورت تھی۔ کیا گھر میں چائے نہیں ملتی۔ 

         امی سے ہمیں بہت جھاڑ پڑی ناہید کو بھی باتیں سنی پڑیں اور سب نے وعدہ کیا کہ آئیند ہ کوئی ایسا مذاق نہیں کریں گے۔ہمیں افسوس کہ شاید سسرالی چائے کا بھرم رکھنے میں یہ مجنوں سے آگے نکلنے کی کوشش کر رہے تھے وہ تو بعد میں معلوم ہوا کہ آزاد بھائی سے گرنے والی چائے دراصل نمکین چائے تھی جو سیکنڈ کے وقفے میں آزاد بھائی کے روشندان کی سامنے سے ہو کر اخبار جہاں اُٹھانے کے وقت تبدیل کردی۔ یہ پہلے سے تیار ہو کر آئے تھے کہ مذاق ہو نہ ہو پیالیاں کسی طرح تبدیل کرنی ہیں اور کسی بھی چیز کو پہلے آزاد چکھے گا اور بعد میں یہ، چنانچہ آزاد بھائی نے چائے  پی کر بتا دیا کہ نمک ڈالا ہے یہ ویسے ہی منہ بنا بنا کر پیتے رہے۔ پہلے ہم اپنی کامیابی پر خوش ہوئے اور بعد میں اِن کی حالت کا اندازہ کر کے پریشان اور باقی کسر، سعیدہ نے فردوس کو یہ کہہ کر پوری کر دی کہ بھائی کی طبیعت خراب تھی،امی کے ساتھ حیدآباد سی ایم ایچ گئے ہیں۔ بعد میں سعیدہ نے بتایا کہ بھائی کو اِس قسم کا مذاق پسند نہیں،جس میں نقصان پہنچے۔بہرحال مذاق سے ہم نے جزوی  توبہ کی لیکن کہتے ہیں کہ چور چوری سے جاتا ہے ہیرا پھیری سے نہیں وہ سالیاں ہی کیا جو دلہابھائی کو زچ نہ کریں۔ لیکن ہونے والی دلہن کی آشیرباد کے بعد۔اُن کی پلاننگ کے بعد ہماری اپروول کے بعد کاروائی ہوتی۔لیکن انہوں نے اپنے بھائی اور آزاد بھائی کے ساتھ مل کر ایک دفعہ لوہاری مذاق کیا۔ یعنی سو سنار کی اور ایک لوہار کی۔

      انہیں آئے ہوئے کوئی بیس بائیس دن ہو گئے تھے،ہر تیسرے چوتھے دن مغرب کے بعد آزاد کے ساتھ ہمارے ہاں چائے پینے آتے۔کہانیاں اور مختلف واقعات سنانے میں انہیں مہارت حاصل تھی، کیوں کہ ہر قسم کے ڈائجسٹ، ناول، تاریخی کہانیا ں اور عمران سیریز پڑھتے، چنانچہ گڈو اور فردوس فرمائش کر کے قصے سنتے، جن میں اِن کے دونوں چھوٹے بھائی اور بہنیں بھی شامل ہو جاتیں۔کبھی کسوٹی بھی کھیلا جاتا، ہم لوگ دروازے کے دوسری طرف روشندان سے آنے والی آوازیں سنتے رہتے، بعد میں فردوس اور گڈو تفصیل بتاتے۔

       میرپور خاص میں توہم پرستی بہت زیادہ ہے، چنانچہ وہاں جنوں، بھوتوں اور چڑیلوں کا بھی راج ہے اب معلوم نہیں کہ وہی حال ہے یا لوگ تعلیم کی وجہ سے بہادر ہو گئے ہیں۔ہمارے گھر کے سامنے بڑی سڑک ہے اور پچھلی طرف چھوٹی گلی ہے جس میں لوگوں نے اپنی بھینسیں باندھی ہوتی ہیں، یہ گلی آٹھ بجے کے بعد سنسان ہو جاتی ہے۔ہاں ہم جو اِن سے مذاق کرتے اُس میں چھوٹے بھائی بھی شامل ہوتے ۔ اُس دن انہوں نے جنوں، بھوتوں اور چڑیلوں کی خوفناک کہانی سنائی، رات ساڑھے دس بجے کا وقت تھا، یہ تینو ں  بعد میں اپنے گھر چلے گئے، گھر میں چھوٹے بھائی، اور ہم سب تھے ابا کراچی گئے ہوئے تھے۔ہم سونے کی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے۔ چھوٹے بھائی نماز پڑھ کر تھوڑی دیر ہوئی اٹھے تھے اور صحن میں گھومتے ہوئے دعائیں پڑھ رہے تھے۔ گیارہ بجے ہماری پچھلی گلی کے دروازے کی کنڈی کسی نے بجائی، ہم سب چارپائیوں پر لیٹے ہوئے تھے۔ چھوٹے بھائی نے پوچھا کون ہے، ہمیں انّا خالہ کی لرزتی  آواز سنائی دی ”لقمان دروازہ کھولو“  بھائی نے کمرے سے چابی لا کر دروازے کے اندر لگا ہوا تالا کھولا، ہم سب بھی صحن میں آگئے، چھوٹی بھابی اور بھائی نے دروازہ کھول کر باہر اندھیرے میں جھانکا، دروازے کے باہر کوئی نظر نہیں آیا، چھوٹی بھابی نے آواز دی  انّا کہاں ہو۔ سامنے دائیں طرف دیوار کی طرف سے آواز آئی ”یہاں ہوں“  انہوں نے سامنے دیکھا۔ اچانک ایک سفید ٹھگنا سا سایہ بھائی کی طرف لپکا اور بھائی کے سر سے ٹوپی اتار کر تاریکی میں گم ہو گیا۔ اُس کے گم ہوتے ہی سامنے سے گھٹی گھٹی آواز میں ہنسنے کی آوازآئی۔ بھابی نے لپک کر بھائی کو اندر کھینچا۔ دروازے کو کنڈی لگائی تو دروازے کو دھکا دینے اور کھرونچنے  اور انّا خالہ کے رونے کی آواز آئی۔ بھائی،بھابی اور ہم سب چھلانگیں مارتے اور ہانپتے کانپتے کمرے میں گھس کے دروازے کو کنڈی لگا دی  اور ہماری رات سوتے اور ڈرتے گذری، دوسرے دن شام سعیدہ اور حمیدہ  ہمارے گھر آئیں۔اُنہیں ہم نے ساری کہانی سنائی وہ بھی حیران ہو کر ہماری کہانی سنتی رہیں بعد میں سعیدہ نے کہا کہ نعیم بھائی نے یہ ٹوپی بھجوائی ہے۔اُس نے لفافے سے لقمان بھائی کی ٹوپی نکال کر دی جو سایہ لے کر بھاگ گیا تھا اور ہمیں سب کو چیئیں (املی کی گٹھلیاں) پڑھنے پر لگا گیا۔

    آزاد بھائی اِن کے میٹرک کے کلاس فیلوہیں اور دونوں گہرے دوست ہیں، آزاد بھائی صحافت میں چلے گئے اور یہ فوج میں، دونوں ایک جیسے کپڑے پہنتے اور چشمہ لگاتے تو ہم شکل جڑواں بھائی نظر آتے، اِن کی امی آزاد بھائی کو ہمزاد کہتیں۔کئی دفعہ شہر سے گھر آنے کے بعد پوچھتیں "نعیم کہاں ہے؟ " سعیدہ بتاتی کہ بھائی تو نہیں آئے تو کہتیں میں نے خود شہر میں دیکھا ہے۔ 

      وقت گذرتا رہا ہم 1978میں گریجوئیٹ ہو گئے۔ انہوں نے دس روپے کا نوٹ دستخط کر کے فردوس کو بھجوایا اور تنبیہ کی کہ”محلے والوں“ کو بتائیں کہ اِس کے پکوڑے مت کھانا۔ آگے پڑھنے کے لئے ہمیں حیدرآباد جانا پڑتا جس کی اباجان نے اجازت نہیں دی، چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کیوں کہ اِس سال شادی ہونی ہے لہذا پرائیویٹ کوشش کی جائے۔ یہ اُن دنوں نوشہرہ میں کورس کر رہے تھے کہ ایک بری خبر ملی وہ یہ کہ اپریل 1978میں افغانستان میں انقلاب آیا اور کچھ روسی دستے افغانستان میں داخل ہو گئے۔اور ہماری مغربی سرحد جو ایک پر سکون سرحد تھی، سورش زدہ علاقے میں تبدیل ہوگئی۔ اِن کی یونٹ کے آبزرور کو سرحد پر دفاعی پوزیشن سنبھالنے کا حکم ہو ا جو پارا چنار اور علی زئی کے علاقوں میں بنائی گئیں یہاں سے پاکستان میں گاڑیوں کے راستے آتے تھے۔ کورس کے بعد یہ اپنی بیٹری کی آبزرویشن پوسٹ پر چلے گئے۔ یہ ستمبر میں چھٹی آئے۔ اپنے اباجان سے مل کر انہیں سارا حال بتایا۔ اِن کے ابا نے ہمارے ابو کو بتایا کہ حالات کی وجہ سے سال تک شادی ممکن نہیں، ابو نے کہا کوئی بات نہیں۔  یہ واپس چلے گئے۔

      خاندانی سازشوں سے شائد کوئی خاندان بچا ہو، جہاں دوست ہوتے ہیں وہاں حاسد بھی بہت، فروری یا مارچ 1979کی بات ہے کہ ابو جان کے نام ایک خط آیا جو اِن کی طرف سے تھا اور ہمارے صحن میں پڑا تھا ابو نے خط کھولا، پریشان ہو گئے، امی اور بھائیوں نے پڑھا۔ اُن کی بھی یہی حالت ہمیں بھی سن گن ملی کہ اِنہوں نے کوہاٹ میں کسی کیپٹن  لیڈی ڈاکٹر سے شادی کر لی ہے۔ مجھے بھی دکھ ہو ا۔ بس یوں سمجھ لیں کہ ریجیکشن کا جو احساس ایک لڑکی کو ہوتا ہے اُس نے ہمیں بھی افسردہ کر دیا۔ فیصلہ ہوا کہ اِن کے ابو سے بات کی جائے، امی اور ابو اِن کے گھر گئے۔

         ہمارے ابو نے اِن کے ابو کو وہ خط دے دیا اِن کے ابو نے وہ خط پڑھا  اور ابو سے پوچھا،
" عبدالغفورصاحب آپ نے یقین کر لیا۔ ابو نے جواب دیا، یقین نہ کرنے کی کوئی وجہ؟"
اِ ن کے ابو نے کہا،  "پہلی بات تو یہ نعیم ایسا نہیں کر سکتا، اگر اُس نے لیڈی ڈاکٹر سے شادی کرنی ہوتی تو حیدرآباد میں میرے دوست کی بیٹی لیڈی ڈاکٹر تھی انہوں نے رشتے کاکہلوایا تھا ۔ مگر نعیم نے انکار کر دیا ، وہ مکمل گھریلو بیوی چاہتا ہے دوسرے یہ   اُس کیلکھائی نہیں، اُس کا لفافہ کہاں ہے؟"
 میرے ابو نے کہا " وہ تو گھر پڑا ہے"

        بھتیجے گڈّو کو بھیجا کہ لفافہ لے کر آئے۔سعید لفافہ لے کر آیا۔ انہوں نے لفافہ دیکھا تو اُس پر مہر کے بجائے دوات کے ڈھکن سے گول مہر لگائی گئی تھی۔ اِن کے ابو نے بتایا، کہ کوئی فساد پھیلانے کی کوشش کر رہا ہے اور اپنی میز کی دراز سے ایک خط نکال کر دیا اور کہا کہ ایسے تین خط پہلے بھی مجھے مل چکے ہیں جو میں پڑھ کر پھاڑ چکا ہوں یہ چوتھا خط ہے جو کل ملا ہے آپ گھر لے جائیں اور پڑھیں لیکن اُن دونوں خطوں کی لکھائی ایک ہے۔

         ابو معذرت کر کے خط گھر لے آئے پڑھا، بلکہ ہم نے بھی دراز سے نکال کر پڑھا بہت غصہ آیا لیکن تھوڑی سی خوشی بھی ہو ئی کہ چلو کوئی تو ہمارے لئے خودکشی کرنے کے لئے تیار ہے اور ایک یہ ہمارے منگیتر صاحب ہیں کہ بیس ماہ کی منسوبیت کے باوجودہمارا رتبہ ”محلے والوں“ سے آگے نہیں بڑھا اور ایک ہم ہیں کہ ہم نے اپنے بھتیجے  گڈّو کے ہاتھوں، اِن کے پینے والے پائپ کا تمباکو، سگریٹ، فردوس کو لکھے ہوئے اِن کے خط جمع کر کر کے رکھے۔ اور یہ سوچ بھی آتی تھی کہ انہوں نے ہمیں ایک دفعہ بھی نہیں دیکھا اور نہ ہی دیکھنے کی خواہش ظاہر کی، کہیں ایسا تو نہیں کہ یہ ماں کی مجبوری سے بند گئے ہیں۔خدانخوستہ کہیں وہ خط سچ نہ ہو اِنہوں نے شادی نہ کر لی ہو! وسوے دبے پاؤں آتے رہے ، 

       وقت آہستہ آہستہ رینگتا رہا،اِن کے گھر والے شادی کا نام نہیں لیتے، جب امی، ان کی امی سے پوچھتیں تو وہ کہتیں کہ دیکھیں نعیم کب راضی ہوتا ہے۔ اور نعیم صاحب تھے کہ شادی سے زیادہ شہادت کی طرف راغب تھے۔ افغانوں کے ساتھ مل کر روسیوں سے لڑ رہے تھے۔ستمبر 1979کی بات ہے بھابی کی انّا خالہ نے امی کو رائے دی۔ کہ مجھے لڑکے والوں کا شادی کا ارادہ نہیں لگتا اُس سے پہلے کہ لڑکے والے انکار کریں آپ لوگ خود منگنی توڑ دیں۔یہ بات امی، انّا اور چھوٹی بھابی کے درمیان خفیہ طور پر گردش کر رہی تھی ابھی تک کسی اور کو ہوا نہ لگی تھی۔ لڑکا بھی تلاش کر لیا گیا، چھوٹی بھابی کا ماموں زاد رضاعی بھائی سعید عرف گلّو، لڑکے میں کوئی برائی نہ تھی سوائے ایک بات کے کہ اُس کے والد گالیاں دینے کے ماہر تھے۔ جو امی کے لئے قابل قبول نہ تھی۔

        نہ جانے یہ بات کس طرح ”وکی لیکس“ بن گئی  اور ناہید کے ذریعے نہ صرف ہم تک پہنچی بلکہ میری منجھلی بھابی کے ذریعے اُن کی امی تک، وہاں سعید ہ سے ہوتی ہوئی۔اِن تک پہنچ گئی۔اِن کا خط آیا کہ اگر ”گل“ کی خواہش ہے تو مجھے کوئی اعتراض نہیں انہیں یہ منگنی توڑنے کی اجازت ہے۔  مجھے معلوم ہوا تو پھر شدید دکھ ہوا  نہ کوئی شور نہ کوئی ڈائیلاگ، اُن دنوں سدھیر اور محمد علی کے ظالم سسر یا باغی حسینہ کے خلاف بولے جانے والے ڈائیلاگ  زیادہ گونجتے تھی یہ فوجی تو ڈائیلاگ بولنے میں واقعی وحید مراد نکلا۔ 

        لفٹین صاحب نے کتنی آسانی سے بات ہم پر ڈال دی اور خود صاف بچ گئے۔ تاکہ خود نیک نام ہوں اور ہم بدنام۔ کہ لڑکی نے ایک شریف آدمی سے منگنی توڑ ڈالی۔ اور وہ بھی 23ماہ بعد، ہم نے انّا خالہ کی بات ماننے سے صاف انکار کر دیا، ہم پر بڑا زور ڈالا جانے لگا، ہم اپنی جگہ پر قائم تھے لیکن دل میں خوف بھی تھا کہ کہیں ہم شرمندہ نہ ہوجائیں،  میری گہری سہیلی نے اپنی خدمات پیش کیں کہ وہ  نعیم کو خط لکھ کر پوچھتی ہے کہ وہ شادی کیوں نہیں کرتے ایک شریف لڑکی کو انتظار کی صلیب پر کیوں لٹکایا ہوا ہے۔میں نے سختی سے منع کر دیا کہ نہیں اُنہوں نے گیند میری طرف لڑھکا دی ہے اور فیصلہ میں نے کرنا ہے اور وہ یہ کہ میں انتظار کروں گی۔

 وہ 30اکتوبر 79کی بات ہے، صبح کے نو بجے تھے  امی، انّا خالہ ،تینوں بھابیاں، میں اور فردوس  بیچ کے کمرے میں بیٹھے ہوئے تھے کہ گیٹ بجا۔ گڈّو  دروازہ کھولا، اِن کی امی گھبرائی ہوئی داخل ہوئیں، دادی کہاں ہیں، گڈّو نے جواب دیا اندر بڑے کمرے میں بیٹھی ہیں ۔


 امی ”یا اللہ خیر“  کہتے ہوئے اُٹھیں، ”آپا سلام"
 "وعلیکم“ نعیم کی امی بولیں ”نعیم کا پنڈی سے فون آیا ہے“

 وہ بھرائی ہوئی سانس میں بولیں، ایسا لگتا تھا کہ تقریباً دوڑتی ہوئی آئی ہیں۔  


٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 پچھلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 1٭٭ ٭٭  اگلا مضمون ۔ ۔  فوجی کی بیوی - 3
 

٭٭٭٭٭٭٭ ٭٭٭٭٭

 

فوجی کی بیوی کا اعزاز





میں وردی نہیں پہنتی، لیکن میں فوج میں ہوں، کیوں کہ میں اس کی بیوی ہوں 
میں اس عہدے پر ہوں جو دکھائی نہیں دیتا، میرے کندھوں پر کوئی رینک نہیں 

میں سلیوٹ نہیں کرتی، لیکن فوج کی دنیا میں میرا مسکن ہے 
میں احکام کی زنجیر میں نہیں،لیکن میرا شوہر اس کی اہم کڑی ہے 

 میں فوجی احکام کا حصہ ہوں، کیوں کہ میرا شوہر ان کا پابند ہے 
میرے ہاتھ میں کوئی ہتھیار نہیں، لیکن میری دعائیں میرا سہارا ہیں 

میری زندگی اتنی ہی جانگسل ہے، کیوں کہ میں پیچھے رہتی ہوں 
میرا شوہر، جذبہ حریت سے بھرپور، بہادر اور قابل فخر، انسان ہے 

تپتے صحرا ہوں، ریگستان ہوں، برفیلے میدان یا کھاری سمندر 
ملک کی خدمت کے لئے اس کا بلاوہ، کسی کی سمجھ میں نہیں آسکتا

میرا شوہر، قربانی دیتا ہے اپنی جان کی، میں اور میرے بچے بھی 
میں سرحدوں سے دور، امیدوں کے ہمراہ، اپنے پر آشوب مستقبل کی 

میں محبت کرتی ہوں اپنے شوہر سے، جس کی زندگی سپاہیانہ ہے 
لیکن میں، فوج کے عہدوں میں نمایا ں ہوں، کیوں کہ میں فوجی کی بیوی ہوں 



جمعہ، 20 دسمبر، 2013

میں سو نہ سکی





وہ  بچی تھی
چھوٹی سی پیاری سی
میری نواسی عالی جیسی

اپنے باپ کی گود میں سہمی سی
نرم و نازک کونپل کی طرح لرزاں 

وہ کھیل رہی تھی ہنس رہی تھی 
اپنی دادی کی گود میں چند لمحے پہلے 

اپنی ماں کو شرارت سے چڑاتی ہوئی 
دادی کی گود میں چُوری شوق سے کھاتی ہوئی 

اب وہ خاموش ہے انے باپ کو گود میں 
سر سے بہتا خون، جسم سے رستا خون 

کپڑوں کو بھگوتا، ایڑیوں کو بھگوتا ٹپ ٹپ گرتا 
غزہ کی سڑک پر لمبی سی  اک لکیر  

سرخ رنگ کے قطروإ کی دور معدوم ہوتی جاتی ہے 
وہ ننھی معصوم سی پیاری بچی 

قطر قطرہ خالی ہوتی ہے 
انکھیں بند ہوتی ہیں 

میری آنکھیں بھی دھندلی ہوتی ہیں 
قطرہ قطرہ وہاں خون ہے یہاں آنسو ہیں 

وہ ننھی پیار ی معصوم بچی سو گئی 
ہسپتال پہنچنے سے پہلے اک ابدی نیند میں 

وہ ننھی پیاری معصوم سی بچی 
میری نواسی عالی جیسی

میں سو نہ سکی، انسانوں کے ظلم پر 
جو وہ کرتے ہیں اپنے بچوں کے امن کی خاطر 


بدھ، 18 دسمبر، 2013

فوجی کی بیوی- 1

       


    وہ 29جون  1977 کا دن تھا میں چھوٹے بھائی جان اور بھابی کے ساتھ کراچی مہینے کی چھٹیاں گذار کر مہران سے واپس رات گیارہ بجے میرپورخاص خاص پہنچی۔ آج سے ٹھیک پینتیس سال پہلے کا واقعہ ہے۔ یوں لگتا ہے کل کا دن ہو۔ ریلوے سٹیشن سے تانگے پر اپنے گھرسیٹلائیٹ ٹاؤن پہنچے۔ نہا کر کھانا کھایا، امی، ابا، بڑے بھائی، بھابی، منجھلی بھابی، چھوٹے بھائی، بھابی اور چھوٹی بہن سب صحن میں چارپائیوں پر بیٹھ گئے۔ بھتیجے اور بھتیجیاں سو چکی تھیں ہم کراچی کے واقعات سنا رہے تھے۔ 

         کہ چھوٹی بہن نے میرے کان میں ایٹم بم پھاڑا، ”باجی وہ سعیدہ باجی ہیں نا ۔ 
"ہاں کیا ہوا ان کو " میں نے پوچھا ۔
 بہن بولی ، "ان کے بھائی ہیں نا وہ جو فوج میں ہیں“ 
میں نے فوراً کہا،”ہاں وہ لمبے کانوں والا فوجی؟“
 ”جی ہاں“ چھوٹی بہن نے مسکراتے ہوئے کہا۔
”کیا ہوا اُس کو اور تم دانت کیوں نکال رہی ہو؟“ میں نے پوچھا۔
 ”کل آپ کی اُن سے منگنی ہو رہی ہے!“ چھوٹی بہن نے جواب دیا۔  میں  حیرت سے چیخی ”کیا، نعیم الدین خالد سے؟ " 
       نہیں وہ ایٹم بم نہیں غالبا نیوٹرون بم کا دھماکہ تھا۔ میرے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی۔ مجھے کسی کی آوازنہیں آرہی تھی۔ جب یہ بھائی سے ملنے آتے تو ہم بھابی کو چھیڑتے کہتے،
”بھائی کے وہ لمبے کانوں والے  اور لمبے نام والے نعیم الدین خالد صاحب آئے ہیں اور ساتھ ان کے ہمزاد بھی ہے آپ چائے بنائیں“ 
اور بھابی چڑ جاتی تھیں، ان کے گہرے دوست اور کلاس فیلو کو ہم ہمزاد کہتے تھے وہ بھی ساتھ ہوتے۔ 
امی نے پوچھا،”گل تمھیں اعتراض تو نہیں“
میں کچھ نہ کہہ سکی۔اگلے دن میں ہونق بنی پھرتی رہی۔ ہر کام روبوٹک ایکشن پر ہو رہے تھے۔ جب مجھے منگنی کی انگوٹھی غالباً پانچ بجے  اِن کی امی نے پہنائی۔ یہ باقی مردوں کے ساتھ بیٹھک میں تھے۔ تب مجھ پر ایک خوفناک آگہی ہوئی کہ میں اُس لمبے کانوں والے فوجی کی بیوی بنوں گی۔ اب سب مجھے چھیڑیں گے کہ”لمبے کانوں والے کی بیوی“  مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کہ کیا کروں۔ مجھے اپنے بچپن کا زمانہ یاد آگیا جب ہم  والکرٹ میں ایک گروپ کی صورت میں بیٹھے ہوئے ایک دوسرے کواونچی آواز میں چھیڑا کرتے تھے۔ 
" لمبے کانوں والا ، تیرے لمبے لمبے کان ، تیری حلوائی کی دکان ، کھاتا رہتا ہے تو پان ، بیوی نکالے گی تیری جان "

       کان چھوٹے نہیں کرائے جا سکتے اور نعیم کے بال ایسے کٹے ہوتے تھے کی جیسے کسی رنگروٹ نائی نے سر پر پیالہ رکھ کر مشین چلا دی ہو۔  مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کیا کروں میٹرک پاس کرنے کے بعد میرے رشتے آنے شروع ہو گئے۔ کسی پر امی ابا نے اعتراض کیا کسی پر بہن بھائیوں نے اور کسی کو ہم نے قابل اعتراض گردانا۔ ابھی کراچی میں خالہ کی بیٹی کی شادی میں دو خواتین نے ہم کو پسند کر لیا ایک تو جولائی کے پہلے ہفتے میں رشتہ لے کر آنے والی تھیں۔ اب کیا ہوگا۔ نعیم کے ہم نے ماردھاڑ کے بہت قصے سنے ہوئے تھے اور دیگر وہ قصے بھی مشہور تھے جو نہیں ہونے چاہییں۔ جن میں کچھ تو ہماری کلاس فیلو تھیں اور کچھ ان کی محلہ دار اور ایک تو پڑوسن تھیں، جن کے ساتھ بیٹھ کر یہ اپنی امی کے سامنے گپ شپ لگایا کرتے تھے۔ یہ بات خود ان کے چھوٹے بھائی نے ہمیں بتائی۔
         انگوٹھی پہننے کے بعد ہم نے اپنے  چھوٹے بھائی جان کی طرف دیکھا، شاید ان کی آنکھوں میں افسردگی ہو۔ کیوں کہ وہ ان کے گہرے دوست  اور راز و نیاز کے ساتھی تھے۔ شاید ان کے مشہور کرتوتوں کے بارے میں جانتے ہوں۔ لیکن چھوٹے بھائی ان کے نمبر دو بھائی سے ہنسی مذاق کر رہے تھے ان کی باچھیں کھلی ہوئی تھیں۔ میری گہری سہیلی ناہید مجھ سے چپکے چپکے  مذاق کر رہی تھی اور میں ابھی تک دھماکوں کی زد میں تھیں۔  

        امی کو دیکھو ہر آنے والے رشتے کو ایسے پھٹکتی تھیں جیسے چھاج میں گندم ۔ ایک رشتے کو تو صرف اس لئے انکار کردیا کہ لڑکا ، پان بہت کھاتا ہے ۔ کمال ہے، انہوں نے بھی کوئی قانونی شق نہیں نکالی۔ صرف دولہا بھائی نے اعتراض کیا تھا کہ لڑکا سگریٹ پیتا ہے اور بزرگوں کو (یعنی انہیں) سب کے سامنے سگریٹ پینے پر اکساتا بھی ہے ،  مزید ستم یہ کہ ٹانگ پر ٹانگ رکھ بھی بیٹھتا ہے۔ یعنی ایک نہیں تین تین خامیاں تھیں اور اس پر ستم یہ کہ دولہا بھائی کو فوج کے لطیفے بھی سناتا ۔ بڑوں کا ادب لحاظ نہیں تھا ۔ بعد میں معلوم ہوا کہ ان کی امی اور بہنوں کو دیکھ کر یہ رشتہ قبول کر لیا کہ بیٹی نے رہنا تو سسرال میں ہے ۔ 

        ان کی چھوٹی دونوں بہنیں، سعیدہ اور حمیدہ خوشی سے نہال ہو رہی تھیں، دونوں چھوٹے بھائی نسیم اور وسیم  میرے دائیں بائیں گھسے ہوئے تھے سب سے چھوٹاوسیم، جو آٹھ سال کا تھا میری گود میں سر رکھ کر لیٹا تھا، ان کی امی میری بلائیں لے رہی تھیں۔ آہستہ آہستہ میرے کان میں کل رات ہونے والے دھماکے کی آواز کی شدت میں کمی محسوس ہونے لگی۔

           میں نے غور کیا تو کانوں کو چھپانے کا حل سمجھ میں آگیا۔ جیسی ٹوپی ہمارے دولہا بھائی پہنتے تھے میں بھی شادی کے بعد اِن کے لئے وہی ٹوپی خرید کر تحفے میں دوں گی جس سے کان چھپے رہتے ہیں اور سردیوں میں منہ کے لئے ایک گول سا سوراخ ہوتا ہے۔ میرپورخاص کے باہر بے شک وہ یہ ٹوپی نہ پہنیں ۔ لیکن یہاں تو یہ ٹوپی ہر خاص و عام میں سردیوں میں مقبول تھی خاص طور پر جب کوئیٹہ کی ہوا آتی ۔ یہ اُن دنوں ٹل کوہاٹ میں تھے جہاں سخت سردی پڑتی ہے۔ یہ وہاں بھی کام آسکتی تھی۔

     ابھی میں اِن سوچوں میں گم تھی کہ اِن کی چھوٹی بہن سعیدہ نے ایک تصویر دکھائی، بھابی یہ دیکھیں۔ میں نے دیکھا اور بولی، ”شاید یہ وحید مراد کے بچپن کی ہے“۔
جب ہم والکرٹ میں تھے تو، دلیپ کمار اورراج کپوردور تھا ہمارے سب سے بڑے بھائی، دلیپ کمار کی ایسی نقل اتارتے کہ ہم بچیاں حیران رہ جاتیں اور سوچتیں کہ فلم والوں کی نظر ہمارے بھائی پر کیوں نہیں پڑتی، اُ ن دنوں سڑکوں پر وحید مراد، محمد علی اور ندیم نظر آتے تھے،
”نہیں!نعیم بھائی کی ہے جب میٹرک میں تھے کوئٹہ میں کھنچوائی تھی“ سعیدہ نے جواب۔
میں نے غور سے دیکھا سات سال پہلے کی تصویر تھی جب انہوں نے میٹرک کیا تھا۔ مجھے ان کے لمبے بالوں میں کان نظر نہیں آئے۔
” کیا کان میٹرک کے بعد بڑھے ہیں؟“ میں نے پوچھا۔
”کون سے کان بیٹی؟“ اُن کی امی نے پوچھا۔
میں ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ کیا بہانہ کروں۔ میری چھوٹی بہن فوراً بولی،”خالہ، نعیم بھائی کے کان بہت بڑے ہیں“۔
ان کی امی کھلکھلا کر ہنسیں  اور بولیں،”گل، تمام فوجی جب بال کٹواتے ہیں تو اُن کے کان نکل آتے ہیں، میرے بیٹے کے کان تو بہت چھوٹے ہیں“۔ میری سانس میں سانس آئی۔

        ”سعیدہ یہ کونسی تصویر ہے دکھانا ذرا“  ان کی امی نے تصویر مانگی، تصویر دیکھ کر ہنس پڑیں اور واپس کر دی۔’’امی یہ وہی والی ہے“  سعیدہ نے بتایا۔ ”اچھا ٹھیک ہے“۔ اِن کی امی نے جواب دیا۔  " وہی والی " یہ کوڈ ورڈ ہمیں سمجھ نہ آیا ، بعد میں معلوم ہوا کہ ان کے سر پر لمبے بالوں کی یہ آخری یادگار تصویر ہے ، کیوں ان کے والد نے کوئیٹہ میں غصے میں آکر قینچی لے کر ، خود ان کی ٹنڈ کر دی تھی، اس کے بعد غالباً ان کے بالوں نے لمبے ہونے سے انکار کردیا یا پھر انہوں نے والد کے ڈر سے بال ہی نہیں بڑھائے ۔ 

         اِن کے امی اور ابو ”جماعت اسلامی میں تھے“۔  امی کونسلر بھی تھیں اور تھرپارکر کی غالبا ً عورتوں کی امیر بھی، دو تین ماہ پہلے ”نظام مصطفیٰ کی تحریک“  میں باقی لوگوں کے ساتھ ان کے ابو گرفتار بھی ہوئے، عورتوں کو بھی گرفتار کیا تھا۔ اُسی جلوس میں اُن کی امی بھی تھیں۔ اِن کی امی بھی بینر اُٹھا کر آگے آگے چل رہی تھیں دونوں بہنیں بھی تھیں۔جلوس جب، بلدیہ کے آفس کے سامنے پہنچا تو وہاں رک گیا تقریریں شروع ہوئیں۔ ان کی امی چِوڑی گلی میں رشتے کی بھتیجی کے ہاں دونوں بیٹیوں کو ساتھ لے کر پانی پینے دو اور عورتوں کے ساتھ گئیں، وہاں، انہوں نے اُن کو کھانا کھلایا، گھر کی کھڑکی سے جلوس نظر آرہا تھا۔جلوس چلنے لگا تو انہوں نے سوچا نماز پڑھ جلوس میں ملتے ہیں۔ جلوس تھوڑا آگے چل کر پولیس لائن کے پاس پہنچا تو، پولیس نے نکل کر ہلا بول دیا اور سارے اگلی صفوں کے شرکاء کو گرفتار کر لیا۔ یہ عورتیں باہر نکلنے لگیں تو ”بھتیجی“ نے منع کیا جب یہ باہر نکلنے لگیں تو وہ تیزی سے باہر نکلی اور دروازے کو تالا لگا کر نیچے اتر گئی۔ باہر ہنگامہ مچا ہو اتھا۔ دوڑ بھاگ ہو رہی تھی۔پو لیس نے خوب لاٹھی چارج کیا۔ بہت سے لوگ زخمی ہوئے۔ جب ہنگامہ تھما تو بھتیجی واپس آئی اور ہنستے ہوئے بولی،”ممانی“، اب گھر جائیں اور ماموں کے لئے، تھانے میں کھانے پکا کر بھیجیں۔ 

 مجھے یاد ہے کہ میں اور باجی گورنمنٹ گرلز مڈل سکول میں المعروف”لال سکول“ میں پانچویں تک پڑھے۔ باجی مجھ سے دو تین کلاس آگے تھیں جب انہوں نے آٹھویں اور میں نے پانچویں کلاس پاس کی تو ہمیں گورنمنٹ گرلز ہائی سکول، شفٹ کر دیا، دھندلی دھندلی یادیں آنکھوں کے سامنے لہراتی ہیں۔اسی وقت ہم والکرٹ سے سیٹلائیٹ ٹاؤن میں گھر بننے کے بعد ہم 1968میں شفٹ ہوئے تھے۔ باجی تو برقع پہنتی تھیں مجھے بھی گیارھویں سال میں برقع پہنا دیا گیا اور ایسا سخت پردہ کہ ہاتھوں پر دستانے پہننے کا حکم تھا  ہم تین بھائی اور تین بہنیں ہیں، تینوں بہنیں بھائیوں سے چھوٹی ہیں۔ 

         1974میں میرے سب سے چھوٹے بھائی کی شادی ہوئی تو یہ شہ بالے بنے تھے۔ ہاں یاد آیا، چھوٹے بھائی نے اپنی سالی کے لئے اِن کو کنونس کرنے کی کوشش کی تھی بلکہ شادی کے ہجوم میں دکھائی بھی تھی۔ مگر اُن دنوں اِن کی نظر کہیں اور تھی۔ ہم تو اچانک اِن کی امی کی لسٹ میں اچانک 27جون کو آگئے۔جب اِن کی امی نے میرپورخاص سے باہر شادی کو قطعاً ممنوع کر دیا اور اپنی ایک خاص سہیلی کی بیٹی کے لئے اِن کو کہا۔ مگر اِنہوں نے انکار کر دیاتین، چار اور لڑکیا ں ہٹ لسٹ پر لائی گئیں، سب میٹرک یا ایف اے تھیں۔ صرف دو لڑکیا ں اِن کے جانے والوں میں کوالی فائی کر رہی تھیں، ایک کی بات چل رہی تھی، باتیں تو سب ہی لڑکیوں کی چل رہی تھیں۔ کہتے ہیں کہ بیری ہو تو پتھر آتے ہیں۔

        اِنہوں نے شرط لگا دی۔ کہ لڑکی گریجویٹ ہونی چاہیئے۔
ان کی امی نے کہا،”شیخ صاحب! کی بیٹی ہے وہ ابھی تھرڈ ایر کا امتحان دے رہی ہے“۔
یہ بولے،”کون!  لقمان کی بہن؟“ ۔ ہاں، ان کی امی جواب دیا۔

         اِنہیں معلوم تھا کہ، لقمان کی امی کبھی بھی رشتہ نہیں دیں گی۔ کیوں کہ، 1971میں چھوٹے بھائی سے ملنے آنے پر،  ہمارے کتے کے بھونکنے اور ان کو لپک کر کاٹنے پر انہوں نے لات مار کر اُسے دور پھینک دیاتھا۔ اور ہماری امی کو یہی دکھ تھا کہ بے زبان جانور کو مارا۔ اِن کی امی سے شکائیت کی۔ اِنہوں نے کافی صفائی پیش کی کہ امی مجھ میں چودہ ٹیکے اور وہ بھی پیٹ میں لگوانے کی ہمت نہیں تھی اور اُس نے مجھے پہچاننے کے باوجود مجھ پر حملہ کیوں کیا۔ اسے معلوم نہ تھا کہ میں لقمان کا دوست ہوں ؟ اس کے بعد ہمارا کتا انہیں دیکھتے ہی دم دبا کر ، اندر بھاگ آتا اور یہ زور سے قہقہہ لگاتے ۔ 

         بہرحال اِنھیں سو فیصدیقین تھا کہ، ہماری امی اِن کا نام لیتے ہی، نہ کہہ دیں گی۔اور اِن کی جہاں ”نظر“ تھی وہاں کے لئے شائد راضی ہو جائیں ۔ کیوں کہ اِن کی امی کے علاوہ سب راضی تھے بلکہ، اِن کی چچی کوئی مہینہ پہلے راولپنڈی سے چکر لگا کر گئیں۔ اور ان کی امی کو کافی منایا۔ کہ آپا راضی ہو جائیں۔ اِن کی امی کا کہنا تھا کہ اگر بیٹے کی شادی پنڈی میں کر دی تو میں بیٹے کا منہ دیکھنے کو ترس جاؤں گی۔ کیوں کی اِس نے رہنا تو پنجاب میں ہے۔ ہر چھٹی پھر یہ پنڈی گذارے گا۔بڑی مثالیں دی لیکن اِن کی امی ٹس سے مس نہ ہوئیں۔ تنگ آکر انہوں نے چچی کو کہا کہ ”ساجدہ“ تم شادی کروا دو میں نہیں آؤں گی۔

       اِن کا کہنا تھا کہ امی نہ آئیں تو میں شادی ہی نہیں کروں، اور نہ رشہ مانگنے کے لئے امی کے علاوہ کسی کو بھیجوں گا۔ بلکہ پاس آؤٹ ہونے کے بعد انہوں نے اسلام آباد میں پلاٹ کے لئے ایڈوانس جمع کروا دیا تھا، امی کی دھمکی کی وجہ سے پلاٹ کینسل کروانا پڑا۔ صرف ان کی امی کی ایک”نہ“ کی وجہ سے یہ ”پنڈی وال“ نہ بن سکے۔ بلکہ بعد میں السر کے مریض بن گئے۔ خیر دوسرے دن اِن کی امی ہمارے ہاں آئیں میں تو کراچی میں تھی۔ اِن کی امی نے رشتہ مانگا۔میری امی نے ایک دن مانگا۔ اور دوسرے دن انہوں نے ہاں کردی۔اور اِن کی تمام امیدیں ختم ہو گئیں۔  یہ بار بار پوچھیں مذاق تو نہیں کر رہیں۔ اِ ن کی امی جواب دیں ہرگز نہیں اور 30 تاریخ کو منگنی ہے۔

 منگنی کے دوسرے دن یہ اپنی یونٹ ٹل کے لئے روانہ گئے۔ ناہید نے اپنے گھر جاتے ہوئے محلے میں رہنے والی ساری کلاس فیلوز کو بتا دیا ۔ میں تھرڈ ایر میں تھی کالج گئی تو سب نے مبارکباد دی اور مٹھائی کا تقاضا کیا اور پوچھا کہ منگنی کس سے ہوئی ہے۔ میری ایک کلاس فیلو۔”خالدہ قمر“جو  مڈل سکول میں مجھ سے ایک سال سینئیرتھی اور اب ہمارے ساتھ تھی، ہمارے گھر سے دو گلیاں چھوڑ کر رہتی تھی۔اُس نے اپنے پرس سے ایک تصویر نکالی اور ساری لڑکیوں کو دکھاتی ہوئی بولی”اِس سے“-

    میری نظر تصویر پر پڑی۔کاٹو تو بدن میں لہو نہیں، خجالت سے میں زمین میں گڑی جارہی تھی۔تصویر میں یہ سمندر کے کنارے، اپنے دو اور دوستوں کے ساتھ، سوئمنگ کاسٹیوم میں کھڑے تھے یہ اِن کی 1972کی تصویر تھی۔ ناہید، خالدہ قمر کا مذاق سمجھ گئی اور اس سے تصویر لیتے ہوئے بولی،”یہ دو کانگڑی پہلوان کون ہیں۔ ان میں سے غالباً  ایک تمھارے ماموں ہیں؟“

          پھر اپنے پرس سے اِن کی سرمونیل ڈریس میں سیکنڈ لیفٹننٹ کی تصویر نکالی جو ناہید نے اپنی امی کو دکھانے کے لئے مانگی تھی۔”یہ ہیں پاک فوج کے آفیسر“  ناہید نے سب کو دکھاتے ہوئے کہا ”جس سے ہماری کلاس پریفیکٹ کی منگنی ہوئی ہے“۔ لڑکیوں نے وہ تصویر اچک لی اور خوب تعریف کی، اتنے میں مس”سکندر عسکری“ کا مسلم ہسٹری کا پیریڈ شروع ہوا وہ کلاس میں داخل ہوئیں، انہوں نے تصویر دیکھی اور مجھے مبارکباد دی اور سر پر ہاتھ رکھ کر دعا دی۔

           اب بھی میں اپنے سر پر اُن کا مامتا جیسا لمس محسوس کر رہی ہوں۔ وقت کتنی جلدی گذرجاتا ہے اور فاصلوں کی دھند میں کتنے اچھے، کتنے پیارے اور حوصلہ دلانے والے چہرے چھپ جاتے ہیں۔ وہ چہرے جنہوں نے مستقبل سے مقابلہ کرنے کا حوصلہ دیا ہوتا ہے، وہ ہنس مکھ چہرے جو ناامیدی میں حوصلہ بڑھاتے،  آج وہ چہرے ایک ایک کرکے میری آنکھوں کے سامنے سے گذرتے جا رہے ہیں۔کتنے شفیق چہرے تھے جنہوں نے قدم قدم پر میری راہنمائی کی۔

٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

اگلا مضمون ۔ ۔فوجی کی بیوی - 2
 

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔