میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 13 اگست، 2013

حاکم اور قوانین




    پرانی بات ہے۔رات گیارہ بجے مجھے میری ایک شاگرد ”امِ سلمیٰ“(یہ اور بات کہ امِ سلمیٰ کی ابھی شادی نہیں ہوئی ہے) کا ایس ایم ایس ملا۔ ”لفظ بلفظ فوزیہ وہاب کا بیان۔”حضرت عمر ؓ کو عدالت میں اِس لئے طلب کیا گیا کیونکہ اُن کے پاس آئین نہیں تھا قرآن تھا۔جبکہ صدر زرداری کے پاس آئین ہے لہذا  عدالت اُنہیں طلب نہیں کر سکتی ویسے صدر زرداری کوئی عام آدمی نہیں“ ۔ یقینا اِس ایس ایم ایس کو پڑھ کر میرے ذہن میں بھی وہی خیالات اور الفاظ امنڈنے لگے جو فیروز اللغات کے آخری صفحوں کے لئے لکھے گئے اور چھپنے سے رہ گئے۔ اِس لئے نہیں کہ کاغذ ختم ہو گیا تھا بلکہ اِس لئے کہ اُس کے بعد فیروز صاحب کے ساتھ۔۔۔!

اچھا چلیں چھوڑیں فیروز صاحب کو، بڑھاپے میں ویسے بھی انسان پر بلند فشارِ خون غلبہ پاجاتا ہے۔”لُغوی اور لّغوی“ دونوں اقسام کے جملہ ہائے معترضہ،اُس کے دہان سے برآمدہونا شروع ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ ہمیں محترمہ فوزیہ وہاب کی کم عقلی پر نہایت شدید غصہ آیا۔ ہم نے وہ الفاظ اُن کی شان میں دہرانے کی گستاخی تو نہیں کی البتہ اپنے بلڈ پریشر کو کم کرنے کے لئے ٹیرس  پر آ بیٹھے۔ تھوڑی دیر بعد موصوف آ دھمکے۔ موصوف کا ہمارا بچپن کا ساتھ ہے اور پچپن کے بعد بھی وہ ہماری مشکلات میں ہمیں مفید مشوروں سے نوازتے ہیں۔ یہ اور بات کہ وہ مشورے ہم آج تک دوسروں کو سنانے کے متحمل نہیں ہو سکے۔ اب چونکہ حالات اُس نہج پر آچکے ہیں کہ ہماری پاؤں کی انگلیاں قبر کے کنارے کے چھ کلومیٹر قریب آ پہنچی ہیں۔کیونکہ قبرستان ہمارے گھر سے تقریباً اتنا ہی دور ہے  اور موصوف نے اپنا تعارف ہم سے زمانہ قدیم  سے موجود فرد کی حیثیت سے کروایا جو صدیوں سے اِس دنیا میں ہے اور لوگوں کی راہنمائی کے لئے دقتاً فوقتاً اُن کو ملاقات کا شرف بخشتا ہے۔ ہمیں اَس کو پتھر کے زمانے کا انسان ماننے پر تامل ہے کیونکہ وہ کسی سالخوردہ بوڑھے کے بجائے ایک تازہ تازہ نوجوان لگتا ہے لیکن اُس کی معلومات اور تجزیئے میں صدیوں کا نچوڑ ہوتا ہے میں نے اُسے ”صدیوں کا مسافر“ کے اِسم سے موسوم کیا ہے۔

    ہم اپنا بلند فشارِ خون کو درمیانے درجے پر لانے کے لئے ایک تیز بہدف وظیفہ پڑھ رہے تھے جو ہمیں  ”صدیوں کے مسافر“ ہی نے بتایا تھا۔ اُس کا فرمان تھا کہ یہ بلند فشارِ خون دراصل ڈرپوک قسم کے لوگوں کو ہوتا ہے۔ جنھیں ہر دم کوئی نہ کوئی خوف لاحق رہتا ہے۔ اِس خوف سے نجات پانے کا واحد طریقہ یہ”وظیفہ“ہے۔ ویسے بھی انسانی زندگی میں خوف کا دم چھلا بندھا ہوا ہے۔ اُس کا ہر عمل خوف کا ہی مرہونَ منت ہے۔ شروع میں تو ہم نے حسبِ عادت اُس کی مخالفت کی تاکہ گفتگو میں روانی پیدا ہو ونہ موافقت میں تو بات دو جملوں میں ختم ہو جاتی ہے، یعنی،”آپ نے صحیح کہا“۔یا ”میں آپ سے متفق ہوں“۔ مگر جب آپ ”لیکن“کہتے ہیں تو الفاظ کی روانی میں پہاڑی نالے کی طرح تندی اور جولانی آجاتی ہے۔ لوگ گزرتے ہوئے ٹہر جاتے ہیں کہ شائد اب کوئی ایکشن دیکھنے کو ملے، گھنٹہ دو گھنٹہ کھڑے رہنے کے بعد وہ بے چارے بے نیل و کامراں اپنے گھر کی طرف روانہ ہو جاتے ہیں۔  کہ کوئی مزیدار سین دیکھنے کو نہیں ملا۔

    بہرحال ذکر ہو رہا تھا فوزیہ وہاب کا، جو اب ماضی کی بات ہو گئی  ”صدیوں کے مسافر“ سے ہماری کیا بحث ہوئی ہم جانے دیتے۔ لیکن رات پھر اُسی شاگرد کا ایک ایس ایم ایس ملا، جس میں اُس نے پوچھا، ”اگر کوئی غیر مسلم قران کو چھو لے تو اُسے اسلامی شریعہ کیا سزا دے گی؟

    ”کوئی نہیں ، کیونکہ فلوجل، مارٹن لنگ، موریس بوکائلے اور دیگر کئی غیر مسلموں نے قرآن کو چھو ا۔ اِ س لئے کہ دیکھیں اِس میں کیا لکھا ہے اور  وہ اِس پر ایمان لے آئے۔ چھاپہ خانہ غیر مسلموں کی ایجاد ہے۔ شروع میں ساری پرنٹنگ وہی کرتے تھے۔ تاج کمپنی وغیرہ تو بہت بعد کی پیداوار ہے۔ بہر حال آپ یہ بتائیے کہ آپ کے ذہن میں یہ سوال کس نے پیدا کیا؟“
    جواب آیا،”ایک عیسائی خاتون نے قرآن کو ہاتھ لگایا تو اُس پر مقدمہ چلا اور اُس کے شوہر پر اِس لئے مقدمہ چلا کہ اُس نے اپنی بیوی کو اِ س ”مقدس“ کتاب کو ہاتھ لگانے سے منع نہیں کیا۔دونوں اب بہاولپور جیل میں 25سال کے سزا کاٹ رہے ہیں“۔قرآن کو چھونے پر غیر مسلوں کے لئے 25سال کی سزا، گیتا کو چھونے پر شودر زندہ جلا دئیے گئے۔ سر! یہ سب کیا ہے؟ ہم کِس طرف جا رہے ہیں؟

    بیٹی امَ سلمیٰ، ہم اُسی طرف جا رہے ہیں جہاں، ہمیں صدیوں پہلے ”من دون اللہ“ قوانین نے ڈال دیا ہے۔ ہم اونٹوں کا وہ قافلہ ہیں جس کی لگام ایک عجمی نے ہاتھ میں صدیوں پہلے لی۔ بالکل اُسی طرح جیسے ایک غیر نبی۔النبیﷺ کو بتائے کہ شانِ النبیﷺ کیا ہوتی ہے۔ہماری کتابیں متضاد البیان الفاظ کا مجموعہ ہیں۔ ہمارے اسلاف نے، چاہا تو، سلام کرنے پر پھانسی پر لٹکوا دیا اور چاہا تو، گالیاں دینے پر انعام و اکرام سے نوازا  اور شاہی خلعت عطا ہوئی۔

    لیکن سر! میری سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا۔ آپ نے کہا تھا کہ،”کچھ فروعی  معلومات کو کنفرم کرنے کے لئے بائیبل کا مطالعہ کر لو تمھیں کئی اقوال کا منبع معلوم ہو جائے گا۔ تو کیا کہیں ایسا تو نہیں کہ میرے پاس بائیبل دیکھ کر عیسائی مجھے تنگ نہ کریں“۔

    ”نہیں نہیں پاکستان میں تو نہ کریں لیکن شاید امریکہ یا برطانیہ میں وہ تمھیں صلیب پر لٹکا دیں، میں وہاں نہیں گیا لہذا مجھے کنفرم نہیں ہے۔ یہاں تو وہ کچھ نہیں کر سکتے۔ ویسے بھی : " مومن کے جہاں کی حد نہیں ۔  مومن کا مقام ہر کہیں “ اور  تم تو مومنہ ہو تنگ کرنے پر آواز لگاؤ گی تو بہت ایمان والے مدد کو آجائیں گے۔آزمائش شرط ہے مگر صرف پاکستان میں امریکہ میں نہیں " ۔

لیکن سر کیا ہمارا یہ عمل صحیح ہے؟۔

    بیٹی معذرت چاہتا ہوں۔ عدالت نے چونکہ فیصلہ کر دیا ہے۔ دنیا ٹی وی پر میں نے بھی یہ نسیم زہرہ کے پروگرام میں دیکھا ہے۔ اِس پر میں کچھ کہوں تو،توہینِ عدالت ہو جائے گی نیز،جج صاحب حاکم نہیں ہوتے اگر صدرِ پاکستان زرداری صاحب نے یہ سب کچھ کیا ہوتا تو شائد میں کچھ بولتا کیوں،کہ، ”ظالم حاکم کے سامنے بولنا جہاد ہے“  اور ریٹائر فوجی ہونے کے ناطے سے  پرانے صدرِ پاکستان نے جہاد ہمیں گھٹی میں گھول کر پلایا تھا، اور ہمیں بتایا ”ایمان، تقویٰ اور جہاد فی سبیل اللہ“  اور ہمیں کفارِاعظم سے لڑوا دیا کیونکہ وہ مشرک تھے اور اہلَ کتاب نے ہماری دامے، درمے اور سخنے مدد کی۔مگر یہ وہ اہلِ کتاب تھے جو راتوں کو اُٹھ اُٹھ کر ہمارے ساتھ روتے تھے۔ اُس کے بعد جو اہلِ کتاب آئے وہ، ”پانچوں شرعی عیب رکھتے تھے“

لہذااب ہمارے لوگ اُن کے خلاف جسموں پر بم باندھ کر جہاد کرتے ہیں یہ اور بات اُنہیں معلوم ہو جاتی ہے وہ وہاں سے بھاگ جاتے ہیں اور بے چارے جو اُن کی تقریر سنتے ہیں، پیوند خاک ہو جاتے ہیں اور اگر کچھ ملتا بھی ہے تو اُسے تابوت میں بند کر کے دفن کر دیا جاتا ہے۔ اگر ہماری روحانی آنکھیں ہوتیں تو ہم اُن کا”مرنے کے بعد موت کا منظر“ دیکھتے ِ کیونکہ ایک مسلمان کے تابوت میں، دھماکہ کرنے والے، دھماکے سے اُڑنے والے اور صفائی کرنے والے نچلے درجے کے کالے اہلِ کتاب کی باقیات بھی ہوتی ہیں جیسے، بقول راوی، فیصل مسجد کے پاس رات گذارنے والوں کو ایک جگہ سے سابق صدر پاکستان اور اُن کے ایک مصاحب کی لڑائی کی آوازیں آتی ہیں اور خاص طور پر جب الیکشن کا دور دورہ ہوتا ہے کیونکہ دونوں اپنے اپنے پسماندگان کے لئے "خفیہ امدادی قوتوں" کو مدد کے لئے اُکساتے ہیں۔ ہاں اور کچھ پوچھنا ہے؟

    نہیں سر! آپ تو کہاں سے کہاں لے گئے؟ یہ بتائیے کہ کیا وہ عیسائی عورت اور اُس کا شوہر اہلِ کتاب نہیں ہیں؟
 
  بیٹی کمال کرتی ہو۔ کیا تم نے کبھی کسی بڑے پاکستانی سچے مسلمان کو اِن سے شادی کرتے دیکھا ہے جیسے کامران خان نے کی تھی؟

    نہیں سر!

    تو پھر یہ اہلِ کتاب کیسے ہوئے؟ کالے عیسائی یا یہودی اہل ِکتاب نہیں ہوتے۔ صرف گورے ہی اہلِ کتاب ہوتے ہیں۔ وہ چاہے اپنی قوم کے بھنگی ہی کیوں نہ ہوں۔ اور اگر وہ مسلمان ہو کر پھر یہودی یا عیسائی ہو جائیں تو وہ ”مرتد“ بھی نہیں کہلاتے۔جیسے مسٹر گولڈسمتھ کی صاحبزادی۔لیکن اُن کے واپس عیسائی ہونے میں سارا قصور،”ظہیر عباس“کا نہیں بلکہ”پرویز مشرف“ کا ہے۔ ااِس لئے نہیں کہ اُس نے وہاں کے سارے پلاٹ خرید لئے ہیں بلکہ،وہ اُس کے مسلمان شوہر کو وزیراعظم پاکستان بنا دیتا تو وہ دوبارہ اپنے مذہب میں نہ جاتی یہی وجہ ہے کہ جس پر موجودہ علماء جمہور کا ”اجتحاد“ ہو گیا ہے۔ لہذا انہوں نے فتویٰ جاری نہیں کیا اور اِس احسان پر پرویز مشرف نے اُن کو بھاری مراعات دیں جو تم اُس دور کے اخبارات میں پڑھ سکتی ہو۔

اچھی بچی، میں اب اجازت چاہوں گا میرے پاس ایک مہمان ”صدیوں کا مسافر“ آگئے ہیں اُن سے ایک اہم معاملے پر گفتگو کرنی ہے ۔ تم ایسا کرو ،  " جہاں ہے اور جیسے ہے کہ بنیاد پر کام چلالو" ۔ یہی بہتر ہے۔

ہاں ایک منٹ ٹہرو۔ اچھا ایک بات  ”صدیوں کے مسافر“  نے بتائی ہے، کہ ”صاحب القرآن“ پر ایک غیر مسلم عورت، وہی کچرا پھینکتی تھی(جس کی وجہ سے ہمارے ہاں کے کالے،”اہل کتاب“ انسان نہیں سمجھے جاتے) لیکن اُنہوں نے تو کیا اُن کے السابقون الاولون، عشرہ المبشرہ،خلفائے راشدین  نے کبھی تلوار تو کیا تھپڑ کے لئے بھی ہاتھ نہیں اُٹھایا، میں خود(صدیوں کامسافر) وہاں موجود تھا۔ اور یہ اُس کا معمول تھا اور جب ایک دفعہ ”صاحب القرآن“  اُس کی گلی میں سے گذرے تو اُس نے کچرا نہیں پھینکا آپﷺ کو حیرت ہوئی پڑوس سے پوچھا، تو معلوم ہوا کہ خاتون بیمار ہیں۔ تو ”صاحب القرآن“  فکر مند اور غمزدہ ہوئے۔ خاتون کی عیادت کرنے چلے گئے۔ کیونکہ وہ ”عالمین کے لئے رحمت تھے“  لیکن چودہ سو سال بعد اُن کو ماننے کا پرچار کرنے والے ”عالمین کے لئے زحمت بن گئے“

    تم ماشاء اللہ تاریخ کی ماہر ہو۔ ذرا یہ بتاؤ کہ 8 جون 632 سے لے کر 5 جولائی 1975 تک،  مسلمان حاکموں نے کتنے غیر مسلموں کو سزا دی ہے؟  

    جس حساب سے مسلمانوں نے فتوحات کی اور ”فتح مکہ“ کے برخلاف جس بے دردی سے قتلِ عام کیا  تو کیا وہ سب گونگے تھے۔ یا انہیں ماتم کرتے ہوئے بین کرنا نہیں آتا تھا ۔ جب کہ ایرانی عورتیں تو اِ س کام کی ماہرتھیں اور آج بھی ہیں۔ پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ اُن کے باپ، بھائی، شوہر اور بیٹے مومنوں کے ہاتھوں قتل ہوئے اور انہوں نے کوئی گستاخانہ کلام ادا نہیں کیا۔ حیرت ہے ہزار حیرت ہے۔ اور اپنے  باپ، بھائی، شوہر اور بیٹوں کے قاتلوں سے شادیاں بھی کر لیں۔

    امِ سلمیٰ،ہماری مہار غلط ہاتھوں میں ہے۔ بالکل اِسی طرح جیسے تمھاری امّاں نے تمھارا نام امِ سلمیٰ رکھا کہ شائد تم اپنی ہونے والے بیٹی کا نام سلمیٰ رکھو۔ تاکہ تم کہہ سکو کہ میری ماں ”پہنچی“ہوئی تھی اُس نے اپنی نواسی کا نام بہت پہلے سے سوچ رکھا تھا اور یوں تمھارے خاندان میں ایک "ولیہ"  کا اضافہ ہو جائے گا۔میری تو اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ تمھاری جلد شادی ہو جائے اور تم اپنی ماں کی مراد پوری کر سکو۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔