میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 12 اگست، 2013

عربی و عجمی


  الکتاب ،جسے عام فہم میں  قران مجید کہا جاتا ہے۔ عربی میں لکھی ہوئی ہے۔ مادری زبان کے علاوہ کسی دوسری زبان کو سیکھنا، ناممکن نہیں تو کم از کم مشکل ضرور ہے۔ کچھ زبانیں ایسی ہوتی ہیں جو آسان ہوتی ہیں جو آسان ہوتی ہیں اس کی وجہ متماثل الفاظ ہوتے ہیں جو دوسری زبان میں پائے جاتے ہیں۔ لیکن اگر ایک زبان دوسری زبان سے یکسر مختلف ہو تو مشکلات بڑھ جاتی ہیں۔ مثلاََ، ایک چینی زبان  بولنے والے کو عربی‘ اردو یا انگلش سیکھنے میں کافی وقت لگانا پڑے گا۔ مگر اردو بولنے والے کو عربی اور فارسی زبانیں سیکھنے میں زیادہ دشواری کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔ کیونکہ اردو زبان میں عربی اور فارسی کے الفاظ کی بہتات ہے جو فرق ہے وہ تلفّظ کا ہے۔
           ہر  عجمی  زبان میں الفاظ کا ذخیرہ ہوتا ہے،  جو ایک مفہوم کو مختلف طریقے سے ادا کرنے کے لئے استعمال ہوتا ہےاورہر زبان کے کچھ قواعد و ضوابط ہو تے ہیں ۔
 جملے کے معنی اور مفہوم کے اعتبار سے  ترجمے کے لئے مخصوص مترادف کو  جملے میں استعمال کیا جائے تو جملے کا مطلب سمجھنے والے کو غلط معنی کی طرف لے جا تا ہے۔

مثلاََ اردو زبان میں ”مسلسل“ کے لئے مختلف ہم معنی الفاظ   ،لگاتار،  متواتر،پے درپے،یکے بعد دیگرے،غیر منقطع،سلسلہ وار،متصل اور زاروقطار۔ یہ تمام الفاظ کسی ایک جملے میں ہم نہیں استعمال کر سکتے۔ جملے کے اعتبار سے ہر لفظ اپنے اسی جملے میں زیادہ بہتر معنی ادا کرے گا۔
ٌ٭-  وہ زارو قطار رو رہا تھا۔
٭-   اس نے لگا تار خطوط لکھے۔
٭-  وہ یکے بعد دیگرے پیغامات بھجواتا رہا۔
٭-   صبح سے متواتر بارش ہو رہی ہے۔
٭-   اس نے پے درپے گھونسے لگائے۔

    لیکن ”مسلسل“ ایک ایسا لفظ ہے جو کسی بھی جملے میں استعمال کیا جائے تو اس جملے کے بنیادی معنی میں فرق نہیں پڑے گا۔ جبکہ کچھ مترادف دوسرے جملوں میں استعمال نہیں ہو سکتے۔ مثلاََ۔ اگر ہم یہ کہیں کہ:-
بارش صبح سے زاروقطار ہو رہی ہے  یا   وہ یکے بعد دیگرے رو رہا ہے۔
        تو ہمارا جملہ یکسر غلط ہو گا۔ اس کی وجہ مترادفات کا غلط استعمال ہے۔ اس طرح جب ہمیں کہا جاتا ہے کہ عربی نہایت فصیح زبان ہے اور اس میں ایک ایک لفظ کے کئی مترادفات ہیں تو اس کی بھی بعینہی یہی حالت ہے کہ الفاظ کا غلط استعمال جملے کو یکسر بدل دیتا ہے۔

اللہ کی  کُن سے تخلیق پانے والا، کتاب اللہ کا ایک کلمہ جو ہمارے سامنے    ایک مکمل آیت کی شکل  میں آتاہے ، بذریعہ:
1۔   بذریعہ   آنکھ :ہم  اُس کی شبیہ  دیکھتے ہیں ۔
2۔ بذریعہ  کان : اُس کی   آواز   سنتے ہیں  ۔

3- بذریعہ  ناک اُس  کی والی بو سونگھتے ہیں ۔
4- بذریعہ  ہاتھ اُسے محسوس کرتے ہیں ۔5- بذریعہ زبان  چکھتے ہیں ۔اِس پانچوں  حواس   ہمارے دماغ میں  محفوظ ہوجاتے ہیں ، جس کی صفات  ہم اپنے ذہن میں  تسلیم کرنے کے بعد اُسے ایک صفت (اِسم)  دیتے ہیں ۔  وہ اِسم  ہم اپنی  زبان میں، مکمل یقین کے ساتھ ،  اللہ کی اُس آیت سے منسلک کر دیتے ہیں ۔
اُس کی دیگر صفات  ، اُس بنیادی صفت کو تبدیل نہیں  کرتی ۔ جیسے  درخت   ایک صفت  ہے ، پودا ،  بیل   اور  جھاڑی  دیگر صفات ہیں  ، اِسی طرح پرندہ    یا پتنگے   الگ صفات ہیں  ہے ،
غرض کہ  کتاب اللہ میں ، اللہ کی ہر آیت کی بنیادی صفات ہیں  جو اللہ نے الکتاب میں انسانوں کی بنیادی ہدایت کے لئے ، بنیادی الفاظ بتائیں ہیں ۔تاکہ ایک  اُمّی  انسان اُسے بآسانی عمل کے لیے سمجھ لے ! کیوں کہ سب انسانوں میں  سوچنے سمجھنے کی صلاحیت  والدین اور معاشرے میں رہتے ہوئے ، اُن کی عمر  ، سماجی ، معاشی  اور اخلاقی معلومات  اور   اُن کی روزمرہ مصروفیات   پر منحصرہیں ۔
جس طرح ہر انسان کے والدین الگ ہوتے ہیں ۔ لیکن سب  والدین کی بنیادی صفت ایک ہوتی ہے ۔جن کا اظہار بچے کے رویے پر ہوتا ہے ۔
اِسی طرح، ہر انسان کا اپنا ”الہہ“ ہے۔ لیکن”ال الہہ“ صرف ایک ہوتا ہے جسے عربی میں ”اللہ“  اور انگریزی میں The God کہتے ہیں۔ اور اِس ہستی کی خصوصیات بہت ہیں۔ الکتاب میں انسانوں 99  خصوصیات  تلاش کی ہیں۔ ہم ترجمے  میں ”القہار“ کی خصوصیت کو ”الرحمٰن“ کی جگہ تبدیل نہیں کر سکتے  اور نہ ہی دو ہستیاں قرار دے سکتے ہیں، جیسا کہ ”ہندو مت“ میں ہیں۔ 
    کسی بھی خطے میں بولی جانے والی زبان میں الفاظ کی یہ پیچیدگیاں علماء ادب کی پیدا کردہ  ہیں ورنہ روز مرہ بولی جانے والی زبان نہایت سادہ ہوتی ہے یوں سمجھئے کہ ”امّی“  یا دوسری زبان بولنے والے افراد اپنا مطلب بہتر طریقے سے واضع کر سکتے ہیں۔
یہاں ایک غلط فہمی کہ اُمّی  کا ترجمہ اُن پڑھ یا کم علم کیا جاتا ہے ، جس انسان میں اللہ کی عطاکردہ پانچوں حواس میں سے  ایک بھی حس ہوگی ، اُس کے تحت الشعور میں اُس حس  کے ذریعے جمع ہونے والی معلومات  ضرور ہوں گی ۔
لہٰذا کسی ہمہ گیر اور جامع زبان کی یہ بنیادی خوبی ہوتی ہے کہ وہ آسان ہو۔
روح القّدس نے اللہ کا پیغام محمدﷺ  کو بتایا  ::

وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً أَعْجَمِیّاً لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیَاتُہُ أَأَعْجَمِیٌّ وَعَرَبِیٌّ قُلْ ہُوَ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا ہُدًی وَشِفَاء  وَالَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُونَ فِیْ آذَانِہِمْ وَقْرٌ وَہُوَ عَلَیْہِمْ عَمًی أُولَـٰئِكَ یُنَادَوْنَ مِن مَّکَانٍ بَعِیْدٍ (41/44)   
اگر ہم اُس  (الکتاب )  کو عجمی ( عربی کے علاوہ  کوئی  اور زبان) میں قُرْآناً   قرار دیتے  تو وہ (ضرور) کہتے کہ اس کی آیات مفصّل کیوں نہیں؟
کیا عجمی اور عربی؟ کہہ!  وہ ان  لوگوں کے لئے جو ایمان لائے ھدایت اور شفا ہے   .  اور جو ایمان نہیں لاتے ان کے کانوں میں بوجھ ہے اور اِن کے اوپر اندھا پن ہے  انہیں یہ دور کی نداء محسوس ہوتی ہے ۔
  

         اب صورتحال یہ ہے کہ ہم ”الکتاب “ سمجھنا چاہتے ہیں لیکن علماء ادب کہتے ہیں کہ ”عربی“ بہت مشکل زبان ہے۔
اتنی مشکل کہ عام آدمی اس کو نہیں سمجھ سکتا اور پھر کتاب اللہ کو سمجھنے کے لئے ”سولہ علوم“ پڑھنے پڑھتے ہیں پھر کہیں جا کر کچھ شدھ بدھ پیدا ہوتی ہے۔ اب وہ لوگ جو دل میں یہ  جذبہ رکھتے ہیں کہ ”الکتاب “  کو سمجھیں وہ اِسے بھاری پتھر سمجھ کر چھو ڑ دیتے ہیں یا رسمی عربی میں پڑھتے رہتے ہیں اور انہیں،یہ نہیں معلوم ہوتا کہ اس میں کیا لکھا ہے۔
         اگر کوئی با ہمت کمر باندھ لے تو وہ بھی مختلف تراجم کے گرداب میں پھنس جا تا ہے۔ ہر ترجمہ دوسرے سے مختلف، عربی گرامر کو اپنی سوچ کی گرامر کے مطابق مترجم نے تبدیل کیا ہو تا ہے نیز بامحاورہ ہوتا ہے اور ہر مترجم نے محاورے اپنی سوچ کے مطابق استعمال کئے ہوتے ہیں۔ جب کسی عالم سے وضاحت لی جاتی ہے تو ایک عالم کا مشورہ ہوتا ہے کہ فلاں عالم کی تفسیر پڑھو۔ دوسرا کہتا ہے کہ نہیں فلاں عالم بہت ماہر ہے۔ علم و ادب اس کے سامنے ہاتھ باند ھے کھڑے ہیں اور فصاحت و بلاغت اس نے کوزے میں بند کر کے اپنے زانو تلے دبایا ہوا ہے۔ بہرحال اگر وہ بے چارہ کمر کس کے علماء ادب کے تالاب میں غوطہ زن ہوتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ آگے محیط، تاج، راغب، لین اور نجانے کون کون بیٹھے ہیں۔
اور سب سے بڑے دکھ کی بات تو یہ ہے کہ جس کلام کو اللہ نے شدت سے شاعری سے الگ اسلوب کہا ہے۔  ہم اسی کلام اللہ کو جہلائے عرب کی شاعری سے سمجھنے کہ کوشش کرتے ہیں۔ استغفراللہ:

            قارئین:  معلوم ہوتا ہے کہ میں نے بھی آپ کو پریشان کر دیا ہے اور آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بھئی اب تو ہمارے ہاتھ پاؤں بالکل بندھ گئے ہیں۔ اب کریں تو کیا کریں۔ دراصل لوگ آپ کو سورج،روز روشن میں ٹارچ کی مدد سے دکھا رہے ہیں۔ جب کہ سورج تو دیدہ بینا کو بغیر اشارے کے نظر آتا ہے۔ ہاں دیدہ کور کو وضاحت سے بتانا پڑتا ہے کہ سورج کیا ہے۔ کیسا ہے؟ اور اس کے کیا کیا فائدے ہیں؟ اب ہم آتے ہیں ”کتاب اللہ“ کی طرف۔ اللہ تعالیٰ کے مطابق:
:
وَلَوْ جَعَلْنَاہُ قُرْآناً أَعْجَمِیّاً لَّقَالُوا لَوْلَا فُصِّلَتْ آیَاتُہُ ۔ ۔ ۔ ۔  ۔۔ ۔ (41/44)
اگر ہم اُس  (الکتاب )  کو عجمی ( عربی کے علاوہ  کوئی  اور زبان) میں قُرْآناً   قرار دیتے  تو وہ (ضرور) کہتے کہ اس کی آیات مفصّل کیوں نہیں؟  
       اب یہ آیت اتنی جامع اور واضع ہے اور ہمیں اس تردد سے نکالتی ہے کہ


”بھئی قرآن کی عربی بہت یہ مشکل زبان ہے“

اس بات کا خیا ل رہے کہ اللہ تعالیٰ عربوں سے مخاطب نہیں بلکہ الناس سے مخاطب سے اور خود کہہ رہا ہے، ”اگر ہم قران کو (عربی کے بجائے) عجمی (یعنی دنیا کی کسی اور زبان میں) میں نازل کرتے تو وہ (لوگ جو اس کو مشکل سمجھتے ہیں ضرور) کہتے کہ اس کی (الحمد سے لے کر والناس تک جتنی بھی) آیات ہے مفصل نہیں ہیں؟“۔ یہ اللہ کے الفاظ ہیں جو ”الکتاب “ میں درج ہیں مگر اس کے باوجود وہ کہتے ہیں کہ ”الکتاب “ کی تمام آیات تفصیل یا تفسیر کے بغیر سمجھ نہیں آتیں۔(نعوذ بااللہ) القرآن مجمل ہے۔
کِتَابٌ فُصَّلَتْ آیَاتُہُ قُرْآناً عَرَبِیّاً لَّقَوْمٍ یَعْلَمُونَ  ﴿41/3فصلت

کِتَابٌ، جس کی آیات مفصّل  ہیں قَوْمٍ یَعْلَمُونَ کے لئے قُرْآناً عَرَبِیّاً  ہے۔
      
اللہ کے مطابق ”الکتاب “ کی آ یات ”مفصل“ ہیں۔ یعنی ہر آیت عربی پڑھائی میں تفصیل لئے ہوئے ہے مگر اس کے لئے شرط یہ ہے کہ یہ علم والوں کے لئے مفصل ہے۔ بے علم اسے " مجمل "  ہی سمجھیں گے۔
       علم والا بننے کی سب سے بڑی شرط یہ ہے کہ اِس مضمون میں جتنی آیات لکھی ہیں اُن کے حوالے بھی ہیں آپ ”الکتاب “ میں لکھی ہوئی آیات سے اِن کو ملائیں۔ اپنے حافظے سے کام مت لیں آپ کی آنکھیں اور دماغ اس آیت کی تصدیق کرتے ہیں۔ تو آپ کے پاس جو علم آیا (کہ یہ آیت ”الکتاب “ کی ہی ہے) کس نے دیا؟
یعنی عالم کون ہے جو آپ کو علم دے رہا ہے؟
آئیے دیکھتے ہیں:-
٭-       اگر ہماری لکھی ہوئی آیت ”الکتاب“ کی عربی آیت سے نہیں ملتی تو یہ ”الکتاب“ کی آیت نہیں۔ تو عالم ہم ہوئے۔ (آیت سے مراد مکمل آیت ہے نہ کہ اس کے اپنے مرضی سے منتخب حصے۔ جو ”الکتاب“ میں لکھی ہوئی آیت کا مفہوم ہی تبدیل کر دیں)
٭-       اگر ہماری لکھی آیت ”الکتاب“ کی آیت سے ملتی تو یہ اللہ کی آیت ہے۔ لہٰذا عالم اللہ ہوا۔
٭-       اگر ہماری لکھی ہوئی آیت ”الکتاب“ کی آیت سے نہیں ملتی اور آپ ہماری آیت کو ”الکتاب“ کی آیت میں ترمیم مان کر چھوڑ دیتے ہیں اور ”الکتاب“ کی آیت کو صحیح مانتے ہیں تو عالم اللہ ہوا ہم نہیں۔ کیوں کہ آپ نے ہماری آیت کو قبول نہیں کیا ۔

بالا آیت  (29/45)   کا ترجمہ آپ نے آیت کے ساتھ پڑھا ، جس میں  روح القدّس نے الصلاۃ کی وضاحت کی ہے ، یہ حکم میرے یا آپ کے لئے نہیں محمدﷺ کے لئے ہے ، جس میں  اللہ نے اہمیت ،    الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِ کی طرف جانے سے  منع   کرنے کے لئےالکتاب سے بذریعہ   ،     ذِكْرُ اللَّـهِ أَكْبَرُ    دی ہے  جو  أَقِمِ الصَّلَاةَ سے ہی ممکن ہے ، اِس کے علاوہ ، جلد باز ، بھلکّڑ ، ناشکرا، عہد کی پاسداری  ،اللہ کی آیات  سے کذب اور انکار  کرنے والا ا انسان کوئی  طریقہ صنعت کر لے،    لیکن وہ       الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِسے نہیں بچ سکتا!
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
   اب آپ نے الْفَحْشَاءِ وَالْمُنكَرِسے  رُکنے کے لئے  کس عالم کو پکڑنا ہے؟
یہ فیصلہ آپ کا ہے۔ ہمارا نہیں لیکن ہم آپ کو شدت سے کہتے ہیں کہ آپ نے  الکتاب کی آیات تلاوت  کرتے ہوئے ، اپنا عالم ، اللہ  بنانا ہے کسی انسان کو نہیں۔  انسان تو عالم بن ہی نہیں سکتا !
ہم نے اللہ کو عالم مانا ہے آپ بھی اللہ کو عالم بنائیں۔

الرَّحْمَنُ  O عَلَّمَ الْقُرْآنَ  (2-1/ 55 )
الرحمٰن۔ القران کا علم دیا۔

     آپ کو معلوم ہو گیا کہ عالم کون ہے۔ الرحمٰن: اس نے القران کا علم دیا۔ کیوں دیا؟ کیوں کہ اس نے انسان کو خلق لہٰذا اس نے انسان کو اسے بیان کرنے کا علم بھی دیا۔
خَلَقَ الْإِنسَانَ  O عَلَّمَہُ الْبَیَانَ  (4-3/ 55 )
 انسان کو خلق کیا۔ اسے بیان کرنے کا علم دیا۔

وَاتَّبِعُوا أَحْسَنَ مَا أُنزِلَ إِلَیْکُم مِّن رَّبِّکُم مِّن قَبْلِ أَن یَأْتِیَکُمُ العَذَابُ بَغْتَۃً وَأَنتُمْ لَا تَشْعُرُونَ  (39/55)  
اور اس بہتر چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے ”تمہاری طرف نازل کی گئی ہے“۔  اس سے پہلے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو اس کا شعور نہ ہو۔
    اِن آیات کو غور سے پڑھیں۔ اللہ کہہ رہا ہے کہ اگر میرے عذاب سے بچنا چاہتے ہو شیطان کی اتباع کر کے تم نے اپنے نفسوں پر جو اسراف کر لیا ہے۔ اس کوختم کرنے کا واحد طریقہ یہ ہے کہ میری طرف رجوع کر لو اور اسلام لے آؤ اور اس بہتر چیز کا اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے
”تم پر نازل ہوئی ہے“۔ تو اس صورت میں اللہ سارے گناہ معاف کرے گا ورنہ حسرت آہ بن کر نکلے گی۔ کاش اگر اللہ مجھے ہدایت دیتا تو آج کے دن میں بھی متقین کی صف میں کھڑا ہو تا۔ اللہ علم سکھاتا ہے اور اللہ ہی ہدایت دیتا ہے۔ کیا آپ کو یہ بات پہلے معلوم تھی؟ اگر ہاں تو کیا آپ نے اللہ سے علم سیکھا اور اللہ ہی سے ہدایت لی یا من دون اللہ سے علم سیکھا اور انہیں سے ہدایت لی!!
اگر آپ نے اللہ ہی سے علم سیکھا اور اللہ ہی سے ہدایت لی تو پھر آپ سورۃ الزمر کی آیت
(39/55) میں اللہ، جو حکم دے رہا ہے۔
”اور اس بہتر چیز کی اتباع کرو جو تمہارے رب کی طرف سے تمہاری طرف نازل کی گئی ہے“۔

 اس آیت پرتو آپ ضرورچونکے ہوں گے۔ کہ یہ بہتر چیز (الکتاب) تو ہم سے بہت پہلےماضی بعید  میں  نازل ہوئی ہے۔ 
ہم پر کہاں نازل ہوئی ہے ؟      کیا اِس آیت میں نقص ہے  ؟
”الکتاب“ ہم پر اس وقت نازل ہو گی جب ہم اللہ کا حکم ہو بہو ما نیں گے۔
قُرآناً عَرَبِیّاً غَیْرَ ذِیْ عِوَجٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَّقُونَ   (39/28)
عربی میں قُرآناً کسی عیب (یا نقص) کے بغیر ہے تا کہ وہ متقی بن جائیں۔
نقص القرآن کو عربی میں پڑھنے پر نہیں بلکہ عجمی میں پڑھنے پر ہے کیونکہ عربی میں ہونے کی وجہ سے اس کی آیات مفصل ہیں۔ جب ہم اسے عجمی میں پڑھتے ہیں تو اس کی تفاسیرمیں  تاریخ سے ہمیں دوسروں کا ذکر ملتا ہے۔ با ئیبل کے قصے کہانیاں ملتی ہیں۔ جبکہ عربی میں پڑھنے سے ہمیں اِس میں ہمارا اپنا ذکر ملتا ہے اور با ئیبل کے نہیں بلکہ خود اللہ کے بتائے ہوئے ”احسن القصص“ ملتے ہیں۔
نَحْنُ نَقُصُّ عَلَیْکَ أَحْسَنَ الْقَصَصِ بِمَا أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ ہَذَا الْقُرْآنَ وَإِن کُنتَ مِن قَبْلِہِ لَمِنَ الْغَافِلِیْنَ    (12/3)
ہم تجھے ان قصوں میں سے  أَحْسَنَ الْقَصَصِ بتاتے ہیں جو ہم نے وحی کئے تجھ پر اس الْقُرْآنَ  میں۔ اور اس سے پہلے تو اس سے بے خبر تھا۔
گو یا القرآن میں اللہ تعالیٰ نے خود بہترین قصے بتائے ہیں۔ بہترین اس لئے کہ:-
    اول۔ یہ اللہ نے  روح القدّس  کے ذریعے خود بتائے ہیں۔
    دوئم۔ ان تمام قصوں پر ختم النبوت ﷺہے۔

      ان کے علاوہ وہ قصے جو قرانی مماثلت کے مطابق پائے جاتے ہیں۔ خواہ کتنے ہی مفصل کیوں نہ ہوں، یا ان کی تصدیق کے لئے کتنے ہی مصدقہ حوالے کیوں نہ دئے گئے ہوں، بائیبل میں ہوں یا انسانی بیان کردہ یا تحریری تاریخی قصے ہوں۔ جن کی اللہ نے کوئی سند نہیں دی۔ کسی بھی صورت میں ”احسن القصص“ نہیں ہو سکتے۔ کیونکہ ان کی سچائی کے بارے میں القرآن کا قاری بے خبرہے۔ صرف القرآن میں اسے ”احسن القصص“ ملتے ہیں۔ جن کے اوپر ”ختم النبوت“ ہے۔
لَقَدْ أَنزَلْنَا إِلَیْکُمْ کِتَاباً فِیْہِ ذِکْرُکُمْ أَفَلَا تَعْقِلُونَ (21/10)  
حقیقت میں ہم نے تمہاری طرف جو کتاب نازل کی ہے اس میں تمہارا ذکر ہے، کیا تم عقل نہیں رکھتے!
    اس کتاب میں ہمارا ذکر ہے جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے۔ کسی اور کا نہیں! صرف ہم نے خود کو پہچاننا ہے کہ ہم ”الکتاب“ کے مطابق کن لوگو ں کی صف میں کھڑے ہیں۔ ہم اپنے تنیں خود کو جو مرضی کہیں۔ یہ فیصلہ تو اللہ نے پہلے سے کر دیا ہے اور ہمارے کردار کے بارے میں ”الکتاب“ میں لکھ دیا ہے۔ وہ ”الکتاب“ جو متقین کے لئے ہدایت ہے کیونکہ اس میں ان کے لئے بلند پایہ پڑھائی ہے اور یہ بلند پایہ پڑھائی کتاب اللہ کی لکھائی میں مکان کی گئی ہیں۔ اگر یہ لکھائی ہم پر آشکار ہو جائے تو ہم تب ہم طاہر ہیں ورنہ نہیں۔
 إِنَّہُ لَقُرْآنٌ کَرِیْمٌ (77) 
 یقینا وہ قُرْآنٌ کَرِیْمٌ کے لئے ہے۔
 فِیْ کِتَابٍ مَّکْنُونٍ (78)
(جو)  کتاب میں مَّکْنُ(مکان)  کیا گیا ہے۔
لَّا یَمَسُّہُ إِلَّا الْمُطَہَّرُونَ (79)
اس کو سوائے مُطَہَّرُونَ کے کوئی نہیں مَسُّکر سکتا
تَنزِیْلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِیْنَ (80)
 
رَّبِّ الْعَالَمِیْنَکی طرف سےتَنزِیْلٌ ہے۔
أَفَبِہَذَا الْحَدِیْثِ أَنتُم مُّدْہِنُونَ (81) 
 کیا تم اس الْحَدِیْثِ کو       دْہِنُ   ( سرسری )  سمجھتے ہو۔
وَتَجْعَلُونَ رِزْقَکُمْ أَنَّکُمْ تُکَذِّبُونَ (82) الواقعة
 اور اس کے کَذِّبُکو تم اپنا    رِزْقَ  بناتے ہو۔
    کتاب اللہ کو سمجھنے کے لئے آپ نے خود کو طاہر بنانا ہے۔ وہ اس طرح کہ تمام من دون اللہ خیالات کو اپنے ذہن کی سلیٹ سے بالکل صاف کر دیں۔ کتاب اللہ میں جو کلام اللہ لکھا ہوا ہے اس کی ایک ایک آیت پر خود غور کریں اس کا لفظی ترجمہ کریں تو آپ کو الکتاب کا علم آئے گا۔ کہ جو آیت آپ نے پڑھی وہ کتاب اللہ کی ہے۔ آپ نے ان کی کتاب اللہ سے تصدیق کر لی کہ واقعی یہ کتاب اللہ کی ہی آیات ہیں۔
    کتاب اللہ میں جو کلام اللہ لکھا ہوا ہے اس کی ایک ایک آیت پر خود غورکریں اس کا لفظی ترجمہ کریں تو آپ کو اپنے نفس سے اللہ کا پیغام  رسول اللہ کی تلاوت کی صورت میں مبعوث ہوتامحسوس ہوگا۔آپ کو
”الکتاب“ کا علم آئے گا۔آپ میں ”الحکمت“ پیدا ہوگی۔(کہ اللہ کی کس”آیت“ کا کس موقع پر استعمال کیا جائے)  اور (اس طرح) آپ کا ”تزکیہ“ ہوگا۔اور ہمارے تزکیہ کے لئے ابراہیم ، خلیل اللہ ، اما م الناس  اللہ سے دعا مانگ رہے ہیں کہ  رسول ہمارا تزکیہ اللہ کی آیات تلاوت کرتے ہوئے ،     الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ سے کرے ۔
رَبَّنَا وَابْعَثْ فِیْہِمْ رَسُولاً مِّنْہُمْ یَتْلُو عَلَیْہِمْ آیَاتِکَ وَیُعَلِّمُہُمُ الْکِتَابَ وَالْحِکْمَۃَ وَیُزَکِّیْہِمْ إِنَّکَ أَنتَ العَزِیْزُ الحَکِیْمُ (2/129)
ہمارے رب! تو بعث کر اِن میں رسول، اُن میں سے۔ وہ اُن پر تیری آیات تلاوت کرتا رہے اور اُن کو الْکِتَابَ  اور الْحِکْمَت  کا علم دیتا رہے اور اُن کا تزکیہ کرتا رہے۔بے شک تو العزیز اور الحکیم ہے۔
     جس زبان کو آپ سمجھ سکتے ہیں۔ وہ آپ کے لئے عربی ہے اور جس زبان کو آپ مشکل سے مختلف الفاظ و معانی کا سہارا لے کر سمجھتے ہیں وہ آپ کے لئے عجمی  ہوتی ہے۔ مثلاََ دو پٹھان آپس میں عربی ہیں اور پنجابی ان کے لئے عجمی۔ جبکہ پنجابیوں کے لئے پشتو اوربلوچی عجمی زبان ہے۔ اسی طرح کتاب اللہ کی زبان عربی ہے اور خطہ ء عرب میں بولی جانے والی زبان کتاب اللہ کے لئے عجمی ہے۔ آپ یقیناََ حیران ہوں گے۔ لیکن یہ حقیقت ہے۔

    اگر آپ کو وہ بات سمجھ آ گئی ہے جس کی اوپر  وضاحت ہوئی ہے تو
”الکتاب“ اٹھائیے اور اللہ سے علم سیکھئے۔ ”الکتاب“  کی عربی مشکل زبان نہیں نہایت سادہ اور آسان ہے آج کل آپ کو بازار سے ایسے نسخے مل جائیں گے جن میں ہر الفاظ کا الگ الگ اردو میں ترجمہ کیا ہوا ہے۔ یہ الگ الگ ترجمہ عربی متن کے نہایت قریب ہے سوائے چند الفاظ کے۔ جہاں آپ کو شک لگے کے ”الکتاب“ سے پہلے صحوف میں اس لفظ کا ترجمہ اور تھا اور اب اور ہے تو آپ اپنے لئے اردو ترجمے میں ”عربی“ لفظ کو ہی شامل رکھیئے۔ آپ کو تھوڑی مشکل ضرور ہو گی لیکن آپ کلام اللہ کو غلط سمجھنے کے مرتکب نہیں ہو گے۔ ایک اور اہم بات، کہ اہمیت اس بات کی نہیں، کہ آپ کو ایک یا کچھ مشکل الفاظ کا ترجمہ سمجھ میں نہیں آیا بلکہ اہمیت اس بات کی ہے جو آیات آپ کی سمجھ میں آئی ہیں ان پر آپ نے کتنا عمل کیا؟۔
      آپ نے خطہء عرب میں بولی جانے والی زبان اور
”الکتاب“ کی زبان میں کچھ فرق ضرور محسوس کیا ہوگا۔ خطہء عرب میں بولی جانے والی زبان ”الکتاب“ کی زبان  کے لئے "عجمی "ہے۔ تو آئیے من دون اللہ کی زبان، قواعد اور گرامر بھول جا ئیں اور اللہ کی زبان قواعد اور گرامر پڑھیں اور سمجھیں۔ جس میں آج بھی اللہ کے احکامات اور اس کے رسولوں کی بشارت اور تنذیر، ماضی۔ حال اور مستقبل کے بارے میں موجود ہیں اور آج سے دس ہزار سال بعد کے لوگوں کو بھی انہی صیغوں میں یہ احکامات اور تنذیرات ملیں گی۔
       اگر آج اللہ کہہ رہا ہے ”وہ کہتے ہیں“ تو اپنے اردگرد نظر ڈالیے آپ کو اکثر لوگ مل جائیں گے جو ”کہتے ہیں یاکہیں گے“۔  مجھے امید ہے کہ اگر آپ نے سورۃ البقرہ بالفاظ ترجمہ پڑھ لی تو پھر آپ کے لئے باقی الکتاب نہایت آسان ہو جائے گی۔
”الکتاب“ ہماری ٹیکسٹ بک ہے ہمارا امتحان اس میں سے ہو گا۔
    اللہ ہمیں قلب ِ محمدﷺ پر نازل کی جانے والی وحی، بذبانِ محمدﷺ بتا رہا ہے۔ کیا اس ”الحدیث“ کی تبدیلی ممکن ہے؟ کبھی آپ نے غور کیا؟
وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّہَا وَوُضِعَ الْکِتَابُ وَجِیْء َ بِالنَّبِیِّیْنَ وَالشُّہَدَاء  وَقُضِیَ بَیْنَہُم بِالْحَقِّ وَہُمْ لَا یُظْلَمُونَ (39/69)
اور الْأَرْضُ   اپنے رَبِّ کےنُورِ سے جگمگا اٹھے گی۔ اور الْکِتَابُ ، وُضِعَ کردی جائے گی۔ النَّبِیِّیْنَ اور الشُّہَدَاء  لائے جائیں گے اور ان لوگوں کے درمیانالْحَقِّ کے ساتھ قُضِیَ ہو گا اور ان پر ظُلَم  نہیں کیا جائیگا۔ 
 وَوُفِّیَتْ کُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَہُوَ أَعْلَمُ بِمَا یَفْعَلُونَ (39/70)
اور ہر نفس کو اس کا  پوراعمل  دیا جائے گا۔ اور  ہراُس (نفس) کو علم ہے جو فعل وہ کرتے  رہتے ہیں۔

أَلَمْ یَأْنِ لِلَّذِیْنَ آمَنُوا أَن تَخْشَعَ قُلُوبُہُمْ لِذِکْرِ اللَّہِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقَّ وَلَا یَکُونُوا کَالَّذِیْنَ أُوتُوا الْکِتَابَ مِن قَبْلُ فَطَالَ عَلَیْہِمُ الْأَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوبُہُمْ وَکَثِیْرٌ مَّنْہُمْ فَاسِقُونَ (57/16)
کیا ایمان والوں کے لئے ابھی وقت نہیں آیا کہ ان کے دل عاجزی کے ساتھ اللہ کی یاد  اور اس کے نازل کردہ حق کی جانب جھک جائیں؟  اور وہ ان لوگوں کی مانند نہ ہو جائیں جنھیں اس سے قبل‘  الکتاب! دی گئی اور ایک عرصہ دراز گزرنے کے بعد ان کے دل سخت ہو گئے  اور ان کی اکثریت فاسق ہے۔
آئیے پھر ”الکتاب“ کی عربی سمجھتے ہیں۔ خود کو اِس سے پہچانتے ہیں۔ اللہ کے احکامات پر عمل کرتے ہیں۔ اللہ کے رسولوں کے بشارت اور تنذیر پر غور کرتے ہیں۔ مگر ٹھہرئیے! اس سے پہلے ہم اللہ کے احکام میں سے ایک حکم مانتے ہیں۔
فَإِذَا قَرَأْتَ الْقُرْآنَ فَاسْتَعِذْ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطَانِ الرَّجِیْمِ  (16/98)
پس جب توالقران کی قرات کرے تو الشیطان الرجیم سے اللہ کی پناہ مانگ۔

 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

نوٹ :
ہر انسان اپنے دنیاوی علوم کے سہارے ، الکتاب کو سمجھنا چاھتا ہے ۔ جو اتنا آسان نہیں ، جتنا کہ وہ " اُمّی ُ ہو کر سمجھے ۔

یعنی دنیاوی علوم کو ایک طرف رکھے اور کلین سلیٹ بن کر ذہن کی تختی پر، الرحمٰن کا سہارا لے، الکتاب کو پڑھتا جائے ، انشاء اللہ قواعد اور ضوابط سمجھ آجائیں گے ۔
یہ میرا تجربہ ہے ۔ میں نے اپنے لئے ایسا ہی سمجھا !

الکتاب کی گرائمر جو اللہ کی گرائمر ہے ۔ نہایت آسان ہے، جس میں پیغام ( سپیچ )
1- پیغام بلا واسطہ - Direct Message
2- پیغام بلواسطہ - In-direct Message
3- پیٖام بذریعہ بیغام بر - Message though Messenger ہیں ۔

 کیا ہم نے کبھی وصول ہونے والےانسانی پیغاموں کو گرائمر یا لسان کی کتابیں کھول کر سمجھا ہے ؟ 


٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

سورۃ الفاتحہ کے 36 آسان الفاظ ، سمجھنے کے لئے ۔ 
سورۃ 1 ۔ آیت ۔2 ۔  الْحَمْدُ لِلَّـهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ
 سورۃ 1 ۔ آیت ۔3۔الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ ( آیت 1 میں شامل ہے )
سورۃ 1 ۔ آیت ۔4 ۔  مَالِكِ يَوْمِ الدِّينِ 

کتاب اللہ 
الکتاب اور القرآن  
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔