میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 2 اگست، 2013

دہشت گردی


 انسان،  اللہ تعالیٰ کی تخلیق ہے۔ اللہ نے جب  آدم کو زمین پر وارد کیا تو اسے جو ہدایت دی وہ یہ تھی :-
   قُلْنَا اہْبِطُواْ مِنْہَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مَّنَّیْ ہُدًی فَمَن تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ -(2/38) 
    تم سب، اس(جنت) میں سے (زمین پر)  اتر جاؤ۔پس جب میری طرف سے تمھارے پاس ہدایت آئے۔ پس جو کوئی میری ہدایت پر عمل کرے تو اسے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ محزون ہو گا "
 اللہ کی تمام ہدایات ”کتاب اللہ“   میں موجود ہیں اِن کی اتباع کرنے پر کوئی خوف اور حزن نہیں ہوتا جبکہ ان سے اختلاف انسان کو ہدایت سے بہت دور لے جاتا ہے۔ اختلاف کا مادہ  ’خ۔ ل۔ ف‘ ہے ۔ جوکسی عمل کی راہ میں مزاحمت کرنے کا مفہوم دیتا ہے۔  اختلاف تعمیری  بھی ہو سکتا ہے اور تخریبی بھی۔ کسی غلط حکم پر اختلاف تعمیری ہے اور اچھے حکم پر اختلاف تخریبی ہے۔ اختلاف انسان کی سرشت میں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب اللہ نے ملائکہ کو اطلاع دی۔
وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلاَئِکَۃِ إِنِّیْ جَاعِلٌ فِیْ الأَرْضِ خَلِیْفَۃً۔۔۔۔۔۔   (2/38) 
  ”میں زمین پر ایک خلیفہ بناؤں گا۔۔“  
 اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو اتنی بصیرت اور علم دیا  جتنا ان کے لئے ضروری ہے۔ چنانچہ انہوں نے تخلیقِ خلیفہ کا سنتے ہی اسی علم کے بل بوتے پر اپنی اختلافی رائے کا اظہار کیا
۔۔۔  قَالُواْ أَتَجْعَلُ فِیْہَا مَن یُفْسِدُ فِیْہَا وَیَسْفِکُ الدِّمَاء  وَنَحْنُ نُسَبِّحُ بِحَمْدِکَ وَنُقَدِّسُ لَکَ ۔۔   (2/38) 
  کیا تو اس (خلیفہ) کو  بنائے گا جو اس (زمین پر)  فساد پیدا کرے گا اور خون بہائے گا؟۔ اور ہم تیری سبح تیری حمد کے ساتھ  اور تیری تقدیس کرتے ہیں۔۔۔
 خَلِیْفَۃً ،کا مادہ  خ۔ ل۔ ف۔ ہے۔ جس کا مفہوم ، " اختلاف کرنے(یا اختلاف دور کرنے)  والا  یا بعد میں آنے والا"ہو سکتے ہیں۔
زمین پر فساد اور خون بہانا،  انسانی سرشت ٹہری۔ زمین پر فساد کی بنیادی وجہ انسانی اختلاف کی بھیانک صورت ہے۔
 اختلاف،خواہ  تعمیری ہو (جو باعث رحمت ہے) یا تخریبی ہو (جو باعث زحمت ہے)  اختلاف کا تعلق علم سے ہے خواہ علم کم ہی کیوں نہ ہو لیکن  ہر دو اختلاف دلیل کے مرہون منت نہیں۔ دلیل صرف تعمیری اختلاف میں دی جاتی ہے۔  اس سے یا تو اختلاف کرنے والے کا اختلاف ختم ہو جاتا ہے  یا جس سے اختلاف کیا جاتا ہے وہ  اختلاف کرنے والے کی دلیل کو مان لیتا ہے۔ جبکہ تخریبی اختلاف  دلیل کا نہیں بلکہ نفسانی خواہشات اور ہٹ دھرمی(انا) کا نام ہے۔ چنانچہ  اختلافِ ملائکہ پر اللہ نے ان کے علم کی محدودیت سے آگاہ کیا۔اور ان کے اختلاف کو اللہ نے  اس دلیل سے ختم کیا۔
۔۔۔۔۔۔۔ قَالَ إِنِّیْ أَعْلَمُ مَا لاَ تَعْلَمُونَ - - - --(2/38)
 ”جس کا مجھے علم ہے اس کا تمھیں علم نہیں“ 
چنانچہ ا ختلا ف پیدا ہونا علم کا شاخسانہ ہے  خواہ یہ علم کی کمی کے باعث ہو یا زیادتی کے سبب۔
لیکن جب دلیل دی جاتی ہے تو کم علم و بصیرت شخص اپنی کم علمی و کم فہمی کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اختلاف کو تسلیم میں بدل لیتا ہے اور ہدایت پاتا ہے۔ لیکن جو شخص اپنے علم اور بصیرت کی کمی کے باوجود اختلاف پر ڈٹا رہتا ہے  ۔کیونکہ وہ خود کو اس حکم یا قانون سے ماوراء اور ارفع سمجھتا ہے  اوراس حکم یا قانون کو  ماننے سے انکار کر دیتا ہے۔  جو بصارت اور بصیرت کا مرہون منت ہوتا ہے۔ تو وہ فرد اس جماعت سے علیحدہ ہو جاتا ہے اور ہدایت سے بھٹک جاتا ہے۔ اس روش کی وضاحت اللہ تعالیٰ نے اس مثال سے کی ہے۔
وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلاَئِکۃِ اسْجُدُواْ لآدَمَ فَسَجَدُواْ إِلاَّ إِبْلِیْسَ أَبَی وَاسْتَکْبَرَ وَکَانَ مِنَ الْکَافِرِیْنَ -(2/34)
 اور جب ہم نے  ملائکہ سے کہا ،”آدم کے لئے سجدہ کرو" ۔ پس انہوں نے سجدا کیا۔ سوائے ابلیس کے، اُس نے تکبر کرتے ہوئے رد کیا اوروہ کافروں میں (شامل) ہوا
ملائکہ اور ابلیس دونوں کی علمی بصیرت،   اللہ کے مقابلے میں محدود ہے ایک نے اپنی کم فہمی کو تسلیم کیا اور دوسرا کم فہمی کے باوجود اپنے اختلاف پر ڈٹ گیا۔ اللہ نے وجہ پوچھی۔
قَالَ یَا إِبْلِیْسُ مَا مَنَعَکَ أَن تَسْجُدَ لِمَا خَلَقْتُ بِیَدَیَّ أَسْتَکْبَرْتَ أَمْ کُنتَ مِنَ الْعَالِیْنَ۔ -( 38/75)  
”اے ابلیس۔ تجھے کس نے منع کیا  یہ کہ تو اسے سجدہ نہ کرے جسے میں نے اپنے ہاتھ سے تخلیق کیا؟“ 
اس سے پہلے کہ ہم ابلیس کی آدم کو سجدہ نہ کرنے کی دلیل پڑھیں جو اس نے دی  ایک واضح آیت کا ترجمہ پڑھتے ہیں
  إِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَۃِ إِنِّیْ خَالِقٌ بَشَراً مِن طِیْنٍ -( 38/71)
جب تیرے ربّ  نے ملائکہ سے کہا۔”بے شک میں طین میں سے ایک بشر کا خالق ہوں۔
 فَإِذَا سَوَّيْتُهُ وَنَفَخْتُ فِيهِ مِن رُّ‌وحِي فَقَعُوا لَهُ سَاجِدِينَ-( 38/72)
پس جب میں اُسے ہمہ صفت کروں۔ اور اُس میں اپنی روح  میں سے پھونکوں۔ تو تم اس  (روح) کے لئے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونا۔
پہلے مرحلے میں بشر کی طین سے تحلیق،  دوسرا مرحلہ ِاس کی ہمہ صفاتی تکمیل اور تیسرے مرحلے میں اِس میں روح کا پھونکا جانا۔اللہ نے ملائکہ کو اُس وقت بشر کو سجدہ کرنے کو نہیں کہا جب وہ صورت طین میں مکمل بشر تھا۔ بلکہ ُاس وقت سجدہ کرنے کو کہا جب اِس میں اللہ نے اپنی روح پھونکی۔ گویا مسجود ملائکہ بشر نہیں بلکہ ”روح اللہ“ ہے  اس طرح 
  آدم =  بشرِطین + روح اللہ  کا مرکب ہے ۔ 
اب ہم ابلیس کی اُس دلیل کو دیکھتے ہیں جو اُس نے آدم کو سجدہ نہ کرنے کے لئے دی۔
قَالَ أَنَا خَيْرٌ‌ مِّنْهُ ۖ خَلَقْتَنِي مِن نَّارٍ‌ وَخَلَقْتَهُ مِن طِينٍ-( 38/76 )  
 میں اِس سے بہتر ہوں۔ تو نے مجھے نار سے تخلیق کیا اور اسے طین سے
”ابلیس“جو دلیل دے رہا ہے اس میں وہ اپنے تخریبی اختلاف سے کام لے رہا ہے۔ کہ میں ”بشر“ (مرکب طین) کو سجدہ کیوں کروں کیونکہ میں اس سے بہتر ہوں وہ ”طین“ اور میں ”آگ“۔  ”روح اللہ“ کووہ ایک طرف ہٹا رہا ہے۔ حقیقت میں بشر کے اندر اگر”روح اللہ“ ہے تو وہ آدمی ہے ورنہ  ”مٹی کا مادھو“ ۔ ملائکہ (تعمیری قوتیں) آدم ہی کو سجدہ کرتی ہیں اور تخریبی  قوتوں (ابلیس) کی کوشش ہوتی ہے کہ وہ آدم سے”روح اللہ“ منہا کرتے ہوئے  اس کی اہمیت کم کرکے یا اپنے برابر لا کر پہلے ”بشر“ ثابت کریں اور پھر اس سے اختلاف کریں۔ کیونکہ  بحیثیت ''بشر" دونوں برابر ہوتے ہیں۔
فَقَالَ الْمَلأُ الَّذِیْنَ کَفَرُواْ مِن قِوْمِہِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَراً مِّثْلَنَا وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِیْنَ ہُمْ أَرَاذِلُنَا بَادِیَ الرَّأْیِ وَمَا نَرَی لَکُمْ عَلَیْْنَا مِن فَضْلٍ بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِیْنَ ۔ (11/27)
 توہمیں ہماری ہی طرح ایک بشر نظر آتا ہے۔اور ہم یہ بھی دیکھ رہے ہیں کہ تیری اتباع کم حیثیت اور کم فہم لوگوں نے کی ہے۔ اور ہم تم لوگوں کو خود سے افضل بھی نہیں پاتے بلکہ ہمارا قیاس ہے کہ تم کاذب ہو ۔
ہماری ہی طرح ایک بشرلیکن اس کی وجہء امتیاز اللہ تعالیٰ نے اس سے جو کہلوائی ہے،
قُلْ إِنَّمَا أَنَا بَشَرٌ مِّثْلُکُمْ یُوحَی إِلَیَّ أَنَّمَا إِلَہُکُمْ إِلَہٌ وَاحِدٌ فَمَن کَانَ یَرْجُو لِقَاء  رَبِّہِ فَلْیَعْمَلْ عَمَلاً صَالِحاً وَلَا یُشْرِکْ بِعِبَادَۃِ رَبِّہِ أَحَداَ- (18/110) 
 کہہ۔ بے شک میں تمھا ری ہی طرح ایک بشر ہوں۔ میری طرف وحی ہوئی ہے  کہ حقیقت میں تمھارا الہہ، واحد الہہ ہے۔ پس جو کوئی اللہ سے ملاقات کے لئے رجوع کرتا ہے۔ تو اس کے لئے(اس) عملِ صالح پر عمل کرنا (ضروری)ہے۔ (وہ یہ کہ) وہ اپنے ربّ کے ساتھ عبادت (من و عن حکم ماننے)میں کسی ایک کو بھی شریک نہ کرے۔
بشر کا اعلان ِ حق اور اللہ کی تائیدِ حق۔
مَا کَانَ لِبَشَرٍ أَن یُؤْتِیَہُ اللّہُ الْکِتَابَ وَالْحُکْمَ وَالنُّبُوَّۃَ ثُمَّ یَقُولَ لِلنَّاسِ کُونُواْ عِبَاداً لِّیْ مِن دُونِ اللّہِ وَلَ کِن کُونُواْ رَبَّانِیِّیْنَ بِمَا کُنتُمْ تُعَلِّمُونَ الْکِتَابَ وَبِمَا کُنتُمْ تَدْرُسُونَ ۔  (3/79)
 ” ایک بشر کے لئے یہ ممکن نہیں کہ اللہ اسے الکتاب۔الحکمت اور النبوّت دے۔ پھر وہ لوگوں سے کہے کہ تم اللہ کے علاوہ میرے عبد (من و عن حکم ماننے والے)  بن جاؤ۔ بلکہ وہ تو یہ کہے گا کہ تم خود ربّانی ہو جاؤ۔ اس لئے کہ تم الکتاب کا علم رکھتے ہو اور تم درس دیتے ہو۔
    کتاب اللہ جو عربی میں ہے اُس میں کوئی اختلاف نہیں۔  اگر انسان کو اس میں کوئی اختلاف نظر آتا ہے تو وہ انسان میں موجود مثبت اورمنفی  قوتوں کی کشمکش کے باعث ہوتا ہے۔ تمام کائنات(آفاق) میں دو قوّتیں کار فرما ہیں مثبت اور منفی دونوں (مخالف قوّتیں) اللہ کی تخلیق ہیں۔ مثبت قوّت، تعمیری قوّت اور منفی قوّت، تخریبی قوت کہلاتی ہے۔ ہمارے جسم میں روزانہ خون کے ذرّات بن رہے ہیں اور روزانہ تباہ بھی ہو رہے ہیں یہ مثبت اور منفی دونوں قوّتوں کا کام ہے۔ دونوں قوّتیں انسانی جسم کو فائدہ پہنچا رہی ہیں۔ گویا منفی قوّت، تخریب برائے تعمیر میں معاون ثابت ہو رہی ہے۔اب اگر کسی وجہ سے انسانی جسم کو نقصان پہنچنا شروع ہو جائے، تو عموماً کہا جاتا ہے کہ منفی قوّت کا عمل دخل زیادہ ہو گیا ہے۔ منفی قوّت کا یہ عمل،تخریب برائے تخریب کا نتیجہ ہے۔جو ناپسندیدہ ہے۔ چنانچہ اس کی درستگی ضروری ہے۔انسانی جسم سے باہر انسانی زندگی میں تمام تعمیری اعمال، (خواہ تخریب برائے تعمیرہوں) پسندیدہ ہو تے ہیں۔جواللہ کے احکامات(من اللہ) کا نتیجہ ہیں اور تمام منفی اعمال(تخریب برائے تخریب) ناپسندیدہ ہو تے ہیں۔ اللہ کے احکامات کی مخالفت(من دون اللہ) کا نتیجہ ہیں۔ تخریب خواہ کیسی بھی ہو مگر اس کے نتائج تعمیری نکلیں تو وہ ”من اللہ“ہے اور اسی طرح تعمیر خواہ کیسی بھی ہو مگر اس کے نتائج تخریبی نکلیں تو وہ ”من دون اللہ“ ہے۔انسانی قتل ایک تخریبی عمل ہے۔ لیکن اگر اس تخریبی عمل کو روکنے کے لئے انسانی قتل ہو تووہ تعمیری عمل ہے۔ اس فلاسفی کو سمجھنے کے لئے ہم جن اصولوں کو دیکھیں گے ۔ وہ آفاقی(Universal) ہونے چاہیئں ورنہ جانبداری سے بتائے یا سمجھائے جانے والے اصول قابلِ تقلید نہیں بلکہ قابلِ رد ہونے چاہیئں۔ ایک چھوٹااور نہایت اہم قصہ جو  غیب کی خبروں سے ہم تک پہنچا۔
وَاتْلُ عَلَيْهِمْ نَبَأَ ابْنَيْ آدَمَ بِالْحَقِّ إِذْ قَرَّ‌بَا قُرْ‌بَانًا فَتُقُبِّلَ مِنْ أَحَدِهِمَا وَلَمْ يُتَقَبَّلْ مِنَ الْآخَرِ‌ قَالَ لَأَقْتُلَنَّكَ ۖ قَالَ إِنَّمَا يَتَقَبَّلُ اللَّـهُ مِنَ الْمُتَّقِينَ ﴿5/27﴾
  اور ان پر بنی آدم کے دو بیٹوں کی خبر حق کے ساتھ تلاوت کر۔ جب انہوں نے قربانی کا قرُب کیا۔اُن میں سے ایک کی قربانی قبول ہوئی اور دوسرے کی قبول نہیں ہوئی۔ دوسرے نے کہا میں تجھے ضرور قتل کر دوں گا۔ (پہلے) نے کہا۔بے شک اللہ متقین سے قبول کرتا ہے 
لَئِن بَسَطتَ إِلَيَّ يَدَكَ لِتَقْتُلَنِي مَا أَنَا بِبَاسِطٍ يَدِيَ إِلَيْكَ لِأَقْتُلَكَ ۖ إِنِّي أَخَافُ اللَّـهَ رَ‌بَّ الْعَالَمِينَ ﴿5/28﴾
اور اگر تو نے  میری طرف میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھایا تو میں تیری طرف تیرے قتل کے لئے ہاتھ نہیں بڑھاؤں گا۔ بے شک میں اللہ رب العالمین سے ڈرتا ہوں۔  
إِنِّي أُرِ‌يدُ أَن تَبُوءَ بِإِثْمِي وَإِثْمِكَ فَتَكُونَ مِنْ أَصْحَابِ النَّارِ‌ ۚ وَذَٰلِكَ جَزَاءُ الظَّالِمِينَ ﴿5/29﴾
  میری خواہش ہے کہ تو میرے گناہ اور اپنے گناہ  سمیٹ کر  اصحاب النار میں شامل ہو جائے۔ اور ظالمین کی یہی جزاء ہے۔“۔ 
آدم کا ایک بیٹا اللہ رب العالمین سے ڈرنے والا اور دوسرا بیٹا قوم ِ ظالمین کا ایک فرد۔ تاریخ نے انہیں نام عطا کر کے انہیں  رکازیت (fossilization)  بنادیا۔ جبکہ یہ دونوں کردار ہر زمانے میں موجود ہیں اور رہتی دنیا تک موجود رہیں گے۔ کتاب اللہ زمان و مکان سے آزاد ہے کیوں کہ کلام اللہ ہے۔ وہ اللہ جو  Time and Space سے ماوراء ہے۔ اخبارِ غیب کی اتنی بڑی خبر جس سے ہم سب بے خبر تھے اللہ نے اسے ہمارے لئے بشارت اور تنذیر بنا دیا۔مقتول کے گناہ، قاتل کے پلڑے میں اور قاتل اصحاب النار۔ مقتول کی اللہ رب العالمین سے ڈرنے والی روش نے قاتل کے لئے آسانی پید کر دی۔
فَطَوَّعَتْ لَہُ نَفْسُہُ قَتْلَ أَخِیْہِ فَقَتَلَہُ فَأَصْبَحَ مِنَ الْخَاسِرِیْنَ - (5/30) 
 ” پس  اِس کے نفس نے اِس کے لئے اپنے بھائی کے قتل کو آسان بنا دیا  اور اِس نے اُس کو قتل کر دیا اور وہ خاسرین میں شامل ہو گیا“۔
قوم ِ خاسرین کا ایک عمل، اللہ رب العالمین سے ڈرنے والوں کا قتل۔اس عمل کی اجل، اللہ نے جس قوم کو بتائی ہے ۔
مِنْ أَجْلِ ذَلِکَ کَتَبْنَا عَلَی بَنِیْ إِسْرَاءِیْلَ أَنَّہُ مَن قَتَلَ نَفْساً بِغَیْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِیْ الأَرْضِ فَکَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِیْعاً وَمَنْ أَحْیَاہَا فَکَأَنَّمَا أَحْیَا النَّاسَ جَمِیْعاً وَلَقَدْ جَاء تْہُمْ رُسُلُنَا بِالبَیِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ کَثِیْراً مِّنْہُم بَعْدَ ذَلِکَ فِیْ الأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ - (5/32)
 اس (ارادی قتل) کی اجل میں۔ ہم نے  بنی اسرائیل کے لئے لکھ دیا ہے۔ کہ جس کسی نے کسی نفس کو قتل کرنے ِ یا زمین میں فساد کرنے  کے (جرم کے) علاوہ  (کسی اور وجہ سے) قتل کیا تو گویا اُس نے تمام انسانوں کو قتل کردیا۔ اور جس نے اُس (نفس) کو حیات بخشی تو گویا اُس نے تمام  انسانوں کو حیات بخشی۔اور حقیقت میں اُن(بنی اسرائیل) کے پاس  ہمارے رسول بیّنات کے ساتھ آئے اس کے باوجود اُن میں سے اکثر  زمین پر اسراف کرنے والے ہیں۔
  کتاب اللہ میں درج  بنی اسرائیل کے لئے اللہ کے احکامات،  اللہ کے رسولوں کے ذریعے  ان تک پہنچائے۔ اس کے باوجود انہوں نے اسراف کرتے ہوئے انسانی جان کو بلاوجہ قتل کیا۔ لہذا اب اُن کی اللہ اور اس کے رسول کے درمیان حرب چھڑ چکی ہے۔
إِنَّمَا جَزَاء  الَّذِیْنَ یُحَارِبُونَ اللّٰہَ وَرَسُولَہُ وَیَسْعَوْنَ فِیْ الأَرْضِ فَسَاداً أَن یُقَتَّلُواْ أَوْ یُصَلَّبُواْ أَوْ تُقَطَّعَ أَیْدِیْہِمْ وَأَرْجُلُہُم مِّنْ خِلافٍ أَوْ یُنفَوْاْ مِنَ الأَرْضِ ذَلِکَ لَہُمْ خِزْیٌ فِیْ الدُّنْیَا وَلَہُمْ فِیْ الآخِرَۃِ عَذَابٌ عَظِیْمٌ - (5/33) 
 بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے حرب کرتے ہیں  اور زمین میں فساد کی سعی کرتے ہیں۔اُن کی جزاء یہ کہ وہ قتل کئے جائیں ِ یا مصلُوب کئے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاؤ ں (جرم کے) خلاف (بعد)میں کاٹے جائیں۔ یا اُن کوملک بدر کیاجائے۔ یہ ان کے لئے دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں ان کے لئے ؑعذاب عظیم ہے
سب سے اہم حکم جس کو انسانی فسادی سرشت رد کر دیتی ہے۔
إِلاَّ الَّذِیْنَ تَابُواْ مِن قَبْلِ أَن تَقْدِرُواْ عَلَیْہِمْ فَاعْلَمُواْ أَنَّ اللّٰہَ غَفُورٌ رَّحِیْمٌO  یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ اتَّقُواْ اللّٰہَ وَابْتَغُواْ إِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ وَجَاہِدُواْ فِیْ سَبِیْلِہِ لَعَلَّکُمْ تُفْلِحُونَ۔(5/34-35) 
  سوائے ان لوگوں کے جو تمھارے قابو میں آنے سے پہلے توبہ کر لیں (ہتھیار ڈال دیں)  اور جان لو کہ اللہ غفور اور رحیم ہے۔ O۔ اے ایمان والو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی راہ میں جھد کرتے ہوئے اسی کی طرف خاص وسیلہ تلاش کرو تاکہ تم مفلحون ہو
کیا ایمان والے اللہ کی طرف وسیلہ تلاش کرتے ہیں یا انسانوں کی طرف؟۔بہرحال بنی اسرائیل کے پاس اللہ کے رسول بیّنات کے ساتھ آئے اور بیّنات اللہ کے احکامات ہیں۔ کتاب اللہ میں لکھے ہوئے تمام قصص اور ان سے متعلق افراد ایک حقیقت ہیں۔انسانی تاریخ میں ان سے مشابہ کہانیاں اور واقعات موجود تھے جن میں انسانوں نے اپنی کہانت گری سے انہیں۔ دلربائی، دلفریبی، عیاری و مکاری کے قصہ خوانی میں تبدیل کرتے ہوئے اُن میں شکوک و شبہات اور محیر العقول واقعات ڈالتے  ہوئے، انہیں آفاقی سطح سے بشری سطح پر گرا دیا۔ جو خاصیتِ ابلیس ہے۔اب انسانوں کی مرضی ان کہانتوں کو مانیں یا نہ مانیں۔ کیونکہ انسان  اپنی ارتقائی منزل طے کرتے ہوئے بلوغت کی طرف بڑھ رہا  ہے اور ابھی بڑھے گا۔اس کی یہ ترقی کب رکے گی کسی بھی انسان کو اس کا ادراک نہیں اور ہو بھی نہیں سکتا، شائد اس دن سے پہلے جب ایک پرشور دھماکے (Big Bang) سے وجود میں آکرکائینات کی وسعتوں میں پھیلنے والی کائنا ت دوبارہ لپیٹ دی جائے۔ ہرحال اخبارِ غیب پر کہانت گری اور شاعری کا باطل ملمع چڑھتا رہا۔ یہاں تک کہ حق کے ایک گھونسے نے وہ ملمع اتار دیا۔
بَلْ نَقْذِفُ بِالْحَقَّ عَلَی الْبَاطِلِ فَیَدْمَغُہُ فَإِذَا ہُوَ زَاہِقٌ وَلَکُمُ الْوَیْلُ مِمَّا تَصِفُونَ (21/18)
 بلکہ ہم حق کے ساتھ باطل کے دماغ کے اوپر قذف کر تے ہیں۔ پس وہ شکست خوردہ ہو جاتا ہے۔اور تمھارے لئے افسوس ہے جو تم (باطل)گھڑتے ہو۔
    تاریخِ انسانی نے انبیاء۔الرسل کے کلمات تو الگ، اللہ کے  کلمات کوبشری کلمات میں بدل دیا  یہ جانتے ہوئے بھی کہ۔
وَاتْلُ مَا أُوحِیَ إِلَیْکَ مِن کِتَابِ رَبِّکَ لَا مُبَدِّلَ لِکَلِمَاتِہِ وَلَن تَجِدَ مِن دُونِہِ مُلْتَحَداً  (18/27)
”تلاوت کر۔ تیرے ربّ کی کتاب میں سے جو تجھ پروحی ہوا اُس کی کلمات(وحی) کا کوئی بدل نہیں ۔ تو اُس کے علاوہ کوئی  ملتحد نہ پائے گا“۔
اس ملتحد تعالیٰ نے جو وحی کی۔
ذَلِکَ مِنْ أَنبَاء  الْغَیْبِ نُوحِیْہِ إِلَیْکَ وَمَا کُنتَ لَدَیْہِمْ إِذْ أَجْمَعُواْ أَمْرَہُمْ وَہُمْ یَمْکُرُونَ (12/102)  
”یہ غیب کی خبریں  ہیں جو ہم نے تجھ پر وحی کیں۔ جب وہ جمع ہو کر ان کے ایک امر پر مکاریاں کر رہے تھے۔ تو،تو اُن میں موجود نہ تھا-
وَمَا أَکْثَرُ النَّاسِ وَلَوْ حَرَصْتَ بِمُؤْمِنِیْنَ(12/103)
 اور اگر تو کتنا بھی چاہے،انسانوں کی اکثریت اس (وحی ء  اخبارِ  غیب) پر ایمان نہیں لائے گی“  
ان کاایک زبان ہو کرجو جواب ہو گااُسے اللہ نے الکتاب میں مکانیت دے دی ہے۔
 وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّہُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْنَا عَلَیْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ شَیْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ ۔(2/170) 
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ”اتّباع کرو اُس کی جو اللہ نے نازل کیا“ تو وہ کہتے ہیں ”ہم تو اُس کی اتباع کریں گے۔ جس پر ہم نے اپنے آباو اجداد کو پایا“ اُن کے آباو اجداد نہ تو عقل رکھتے تھے اور نہ ہی وہ ہدایت پر تھے ۔ 
    یہ وہ آفاقی سچ ہے۔جو زمان اور مکان کی قید سے آزاد، کل بھی حقیقت تھا۔ آج بھی حقیقت ہے اور رہتی دنیا تک اپنی اِسی شان کے ساتھ باطل کے مغز پر قذف کرتا رہے گا۔ کہ ”اُن کے آباو اجداد نہ تو عقل رکھتے تھے اور نہ ہی وہ ہدایت پر تھے“ آبا و اجداد کے احکامات،ہدایاتِ زندگی اور اُ ن کے فلسفہء حیات اور حیات بعد از ممات میں اتنی چاشنیاں اور رنگینیاں ہیں جو اللہ کی نزول کردہ  وحی کی اتباع نہیں کرنے دیتی۔ کیونکہ اُن کے نزدیک اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ اخبارِ غیب نا مکمل ہے۔ چنانچہ عملِ شیطان نے فتاووں کی آڑ میں مقدس لبادہ اوڑھ لیا ہے۔
 وَلَمَّا بَلَغَ أَشُدَّہُ وَاسْتَوَی آتَیْنَاہُ حُکْماً وَعِلْماً وَکَذَلِکَ نَجْزِیْ الْمُحْسِنِیْنَ - (28/14)
اور جب  اس کی بلاغت میں شدت اور (وہ) ہمہ صفت ہوا۔ تو ہم نے اُسے حکم اور علم عطا کیا۔ اور ہم اسی طرح محسنین کو جزا دیتے ہیں۔

وَدَخَلَ الْمَدِیْنَۃَ عَلَی حِیْنِ غَفْلَۃٍ مِّنْ أَہْلِہَا فَوَجَدَ فِیْہَا رَجُلَیْنِ یَقْتَتِلَانِ ہَذَا مِن شِیْعَتِہِ وَہَذَا مِنْ عَدُوِّہِ فَاسْتَغَاثَہُ الَّذِیْ مِن شِیْعَتِہِ عَلَی الَّذِیْ مِنْ عَدُوِّہِ فَوَکَزَہُ مُوسَی فَقَضَی عَلَیْہِ قَالَ ہَذَا مِنْ عَمَلِ الشَّیْطَانِ إِنَّہُ عَدُوٌّ مُّضِلٌّ مُّبِیْنٌ ۔ (28/15)
  اور وہ المدینہ میں عین اُس وقت داخل ہو ا جب غفلت اُس (المدینہ)کے اہل میں تھی۔ اِس (موسیٰ) نے اُس(المدینہ) میں دو مرد   شیعان   (منفی صفتِ انسان)    کو ایک دوسرے کو قتل کرتا ہو اپایا۔  یہ اِس(موسیٰ) کے شیعہ میں ہے اور یہ اِس(موسیٰ) کے دشمن کے۔ پس اس نے اِس(موسیٰ) سے استغاثہ کیا۔وہ جو اِس (موسیٰ)کے شیعہ میں ہے اُس کے اوپر جو  اِس (موسیٰ)کے دشمنوں میں سے ہے۔ پس موسیٰ نے اُسے مکہ مارا، پس اُس (دشمن)پر قضاء ہوئی اِس کی۔(موسیٰ نے)کہا  یہ عملِ الشّیطان میں سے ہے۔ بے شک وہ ایک مبین، گمراہ کیا گیا دشمن ہے“

اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ  کو حکمت اور علم عطا کیا ۔ ان کادشمن جماعت کے انسان کے  مکّہ  مارنا اور دشمن کا مر جانا ، قتل خطا کی ایک مثال ، ۔ چنانچہ حضرت موسیٰ نے اُسی وقت بیان دیا اور اس عمل کو، عملِ الشیطان قرار دیا۔
قَالَ رَبِّ إِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ فَاغْفِرْ لِیْ فَغَفَرَ لَہُ إِنَّہُ ہُوَ الْغَفُورُ الرَّحِیْمُ - (28/16 )  
 (موسیٰ نے)کہا، اے میرے ربّ میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا، پس تو میری مغفرت کر۔ پس اُس (ربُّ) نے اس کی مغفرت کی۔ بے شک وہ (ربّ) الغفور اور الرّحیم ہے۔
 قَالَ رَبِّ بِمَا أَنْعَمْتَ عَلَیَّ فَلَنْ أَکُونَ ظَہِیْراً لِّلْمُجْرِمِیْنَ-  (28/17)  
 کہا، اے میرے ربّ جو تو نے مجھ پر (مغفرت کا)ا نعام کیا ہے اِس کی وجہ سے میں آئیندہ کبھی مجرمین کے لئے ظہیر (معاون) نہیں ہوں“

ان افراد کے تمام اعمال  اللہ نے انباء الغیب قرار دے کر انہیں الکتاب میں درج کروا کے اور انہیں متشابہات سے نکال کر محکمات میں تبدیل کر دیا۔حکم نہایت مختصر اور مفصل ہوتا ہے جبکہ متشابہات(محکمات سے ملتے جلتے احکامات) کے لئے تفاسیر (
PLDs)  کی ضرورت پڑتی ہے۔
أَفَغَيْرَ‌ اللَّـهِ أَبْتَغِي حَكَمًا وَهُوَ الَّذِي أَنزَلَ إِلَيْكُمُ الْكِتَابَ مُفَصَّلًا ۚ وَالَّذِينَ آتَيْنَاهُمُ الْكِتَابَ يَعْلَمُونَ أَنَّهُ مُنَزَّلٌ مِّن رَّ‌بِّكَ بِالْحَقِّ ۖ فَلَا تَكُونَنَّ مِنَ الْمُمْتَرِ‌ينَ - ( 6/114)
”کیا میں غیر اللہ سے احکامات لوں،حالانکہ وہ (اللہ ہی) ہے جس نے تم پر‘ مفصل الکتاب! نازل کی  اور وہ لوگ جنھیں‘  الکتاب  !  عطا کی گئی جانتے ہیں کہ وہ نازل کی ہوئی ہے تیرے رب کی طرف سے پس الممترین میں سے مت ہو جانا۔
وَتَمَّتْ كَلِمَتُ رَ‌بِّكَ صِدْقًا وَعَدْلًا ۚ لَّا مُبَدِّلَ لِكَلِمَاتِهِ ۚ وَهُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ  - ( 6/115)
 ۔اور تیرے ربّ کے کلمات کاا تمام صدق اور عدل سے ہوا۔ اُ س کے کلمات کا کوئی بدل نہیں اور وہ السّمیع اور العلیم ہے“۔ 
 ہمارے تیرے ربّ کے کلمات کاا تمام صدق اور عدل سے ہوا۔ اُ س کے کلمات کا کوئی بدل نہیں۔
وَمَا کَانَ ہَذَا الْقُرْآنُ أَن یُفْتَرَی مِن دُونِ اللّٰہِ وَلَ کِن تَصْدِیْقَ الَّذِیْ بَیْنَ یَدَیْہِ وَتَفْصِیْلَ الْکِتَابِ لاَ رَیْبَ فِیْہِ مِن رَّبَّ الْعَالَمِیْنَ۔(10/37)
”اور یہ قرآن ایسا نہیں کہ من دون  اللہ، اسے افتریٰ کر سکے بلکہ یہ اس کی تصدیق ہے جو ہاتھوں کے درمیان ہے اور الکتاب کی تفصیل،جس میں کوئی شک نہیں  رب العالمین کی طرف سے ہے“
 انسانی قتل سے متعلق کتاب اللہ میں دیا ہوا ایک مفصل حکم۔
وَمَن یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُّتَعَمِّداً فَجَزَآؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِداً فِیْہَا وَغَضِبَ اللّٰہُ عَلَیْہِ وَلَعَنَہُ وَأَعَدَّ لَہُ عَذَاباً عَظِیْماً۔(4/93)
’اور جو کوئی کسی مومن کوجان بوجھ کر(قتلِ عمد)  کرے گا تو اُس کی جزاء جہنم ہے۔ اُس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اور اُس پر اللہ کا غضب اور لعنت۔ اور اُس کے لئے عذاب ِ عظیم تیار ہے۔ “
کیااللہ کا یہ حکم کسی انسانی فتوٰے سے تبدیل کیا جاسکتا ہے؟
ممکن ہے کہ قاتل یہ کہے کہ ”مجھے شک تھا کہ مقتول مومن نہیں ہے“۔
سوالاً پوچھا جائے کہ”بھئی، اس کا نام تو تم جانتے ہو وہی ہے جو سب مسلمانوں کا ہے“۔
بجائے اس کے ندامت اختیار کی جائے ڈھٹائی سے جواب ملے گا کہ”ہاں میں صحیح کہہ رہا ہوں۔ یہ مسلمان تو ہو سکتا ہے مومن نہیں۔ مومن کی تو بڑی شان ہوتی ہے۔ بالکل ہماری جماعت والوں جیسا۔ جو ہمارے علما (آباء و جداد) کی اتباع کرتا ہو۔ اُن کی کتابیں پڑھتا ہو۔ اور اُن کے اعمال کی لوگوں میں تبلیغ کرتا ہو“ ۔
یہی  ہے   نا ! مومن کی تعریف جو قاتل کی نظر میں ہے بلکہ اُس کو صبح و شام  رٹائی  جاتی ہے ۔
اب ہم ”اللہ کی مومن“ کے بارے میں تعریف دیکھتے ہیں۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا ضَرَبْتُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ فَتَبَیَّنُواْ وَلاَ تَقُولُواْ لِمَنْ أَلْقَی إِلَیْکُمُ السَّلاَمَ لَسْتَ مُؤْمِناً تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا فَعِندَ اللّٰہِ مَغَانِمُ کَثِیْرَۃٌ کَذَلِکَ کُنتُم مِّن قَبْلُ فَمَنَّ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ فَتَبَیَّنُواْ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً۔(4/94)
”اے مومنو۔ جب تم فی سبیل اللہ نکلو تو پس تمھیں (اس کی  امر)  وضاحت ہو۔ کہ جب تم پر کوئی سلام کا القاء کرے تو تم اُس کو مت کہو”کہ تو مومن نہیں“۔ کیا تمھیں حیاتِ الدّنیا کے اثاثے چاہیئں۔ جبکہ اللہ کے پاس (تمھارے لئے) کثرت میں مغانم ہیں۔ تم بھی مومن ہونے سے قبل اسی طرح تھے۔ پس اللہ نے تم پر احسان کیا۔ پس تمھیں (اِس کی تاکیداً) وضاحت ہو۔ بے شک اللہ تمھارے اُن اعمال کی خبر رکھتا ہے جو تم کرتے ہو“ 
 سر  پر کیس سجائے بوٹاسنگھ ہو۔بودی والا رام پرشاد یا  پیٹر ہو۔ اگر اُس نے سلام القا کر دیا تو اللہ کی تعریف کے مطابق”وہ مومن ہے“۔اب اُس سلام کرنے والے کو ارادتاً قتل کرنے والے کے لئے فتویٰ لینے کے لئے کسی خاتم النبیین کو تلاش کرنا پڑے گا۔جو اِس کرہ ارض پر رہنے والوں کے لئے میرے خیال میں ممکن نہیں۔آپ اجماع مفتیان کے ذریعے اللہ کی کسی آیت کو اپنی مرضی کے مطابق نہیں ڈھال سکتے۔ہاں تلوار ہاتھ میں لے کر آپ کچھ بھی کرا سکتے ہیں۔ کیونکہ اِس دنیا کا دستور ہے، ”بھینس اُس کی جس کے ہاتھ میں کلا شنکوف ہے“  کیونکہ :
 وَإِذَا قِیْلَ لَہُمُ اتَّبِعُوا مَا أَنزَلَ اللّہُ قَالُواْ بَلْ نَتَّبِعُ مَا أَلْفَیْنَا عَلَیْہِ آبَاء نَا أَوَلَوْ کَانَ آبَاؤُہُمْ لاَ یَعْقِلُونَ شَیْئاً وَلاَ یَہْتَدُونَ ۔ (2/170) 
اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ”اتّباع کرو اُس کی جو اللہ نے نازل کیا“ تو وہ کہتے ہیں ”ہم تو اُس کی اتباع کریں گے۔ جس پر ہم نے اپنے آباو اجداد کو پایا“ اُن کے آباو اجداد نہ تو عقل رکھتے تھے اور نہ ہی وہ ہدایت پر تھے  (جب ہی تو اُن کے تمام اقوالِ زریں آفاقی سچائیوں کے خلاف  ہیں)۔


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔