میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 3 اگست، 2013

ہماری منزل ایک ہے۔


ہم سب ایک ہی منزل کے راہی ہیں جو اس کرہ ارض کے مکین ہیں۔ہمیں اپنی منزل کے راستے کا پتہ نہیں لیکن منزل معلوم ہے۔ اُس منزل کی طرف سب نے جانا ہے۔ ہاں ہم ایک ہی منزل کے راہی ہیں۔

٭۔    کچھ نے سامانِ مسافت اپنے سر پر اُٹھایا ہوا ہے۔ کچھ اسے گھسیٹ رہے ہیں اور کچھ نے دوسروں کے کندھوں پر لادا ہوا ہے۔
٭۔    کچھ نانِ جویں لے کر چلے ہیں۔  کچھ مال و متاع  اور کچھ، کہ کچھ مل گیا تو ٹھیک ورنہ جو مقد ر۔
٭۔    کچھ جلد باز ہیں۔کچھ میانہ رو  اور کچھ سست رفتار۔
٭۔    کچھ اپنے احباب و عشیروں کے ہمراہ روانہ ہیں۔ کچھ صرف اپنے ہی کنبے کے ساتھ ہیں اور کچھ اکیلے ہی منزل کی طرف رواں ہیں
٭۔    کچھ اپنے تھوڑے سے عمل پر شادیانے بجاتے جارہے ہیں۔ کچھ پھونک پھونک کر قدم رکھ رہے ہیں اور کچھ ہر قدم پر لرزاں ہیں۔
٭۔    کچھ ہجوم میں جارہے ہیں۔ کچھ نے نقشے اٹھائے ہوئے ہیں اور کچھ اپنی یاداشت پر خضر راہ بنے ہیں۔
٭۔    کچھ سب کا حوصلہ بڑھا رہے ہیں۔ کچھ ہاتھ بٹا رہے ہیں اور اکثر صرف اپنے پیچھے لوگوں کو چلا رہے ہیں۔

ہاں ہم سب ایک ہی منزل کے راہی ہیں۔ 


مضمون پڑھنے کے بعد اگر پسند آئے تو نیچے خانے میں کمنٹ لازمی دیں ، اور باقی دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔ شکریہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔