میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ, اگست 3, 2013

آپ کے اند رایک ہیر و ہے



    ”عمران بم دھماکوں سے مرتا ہے نہ گولی اُس کا کچھ بگاڑ سکتی ہے“،
ایک کثیر المطالعہ اخبار میں لکھے ہوئے سعید نوابی صاحب کے مضمون کا یہ پہلا جملہ پڑھتے ہی ذہن نے ایک طویل زقند لگائی۔ نمّو نے خود کو چار بزرگوں کے بیچ پایا ۔وہ سب زمین پر بچھے ہوئے ٹاٹ پر بیٹھے تھے۔نمّو کے  ہاتھ میں اُس وقت کے مشہور ادیب کی کتاب تھی اور  وہ اُسے پڑھ رہا تھا۔ یہ دسمبر 1968کی بات ہے نمّو کلاس آٹھ کا طالبعلم تھا۔ کوئٹہ سے سردیوں کی چھٹیا ں گذارنے اپنی خالہ کے گھر میرپورخاص آیا ہوا تھا۔ یہ ایک چھوٹی سے ادبی بیٹھک تھی جس کے سربراہ   خالوتھے۔جو مغرب کا کھانا کھانے کے فوراً بعدچھت پر جمتی تھی جہاں بچوں کا داخلہ ممنوع تھا۔ نمّو خالو کو دوائیاں دینے اوپر گیا۔ دیکھا کہ چاروں بزرگ بیٹھے ہیں اور خالو ایک کتاب پڑھ رہے ہیں۔ خالو نے کتاب ایک دم  بوری کے نیچے چھپا لی جس پر وہ بیٹھے تھے ۔لیکن جلدی میں وہ پوری طرح نہ چھپ سکی ،سب نے مشکوک نظروں سے نمُوطرف دیکھا۔ نمُو نے خالو کو دوائیوں کی تھیلی دی اور بیٹھ گیا۔دوائیاں کھانے کے بعد اُنہوں نے تھیلی واپس کی اور  کہا شاباش جاؤ۔

نمّو حیرت سے دنگ رہ گیا۔
نمّو   اِسی ادبی محفل میں صبح اخبار پڑھ کر سناتا تھا اور  بھگایا جا رہا ہے۔ نمّو  ڈھیٹ بن گیا ، بولا،" آپ لوگ ابنِ صفی پڑھ رہے ہیں نا "
اُن چاروں کا منہ چوری پکڑے جانے پر ایسا کھلا جیسا ہم بچوں کا کھلتا تھا ۔
"میں بھی کہانی سنوں گا"
نمّو  بولا 
 آنکھوں ہی آنکھوں میں فیصلہ ہوا۔"
ٹھیک ہے لیکن تم نے اگر یہ بات کسی کو بتائی تو پٹائی کرں گا" خالو بولے
نمّو  نےاقرار میں سر ہلا کر اُس خفیہ ادبی محفل کا ایک لائف ممبر بن گیا۔  
خالو نے کتاب نکالی اور ، اٹک اٹک کر پڑھنا شروع کیا۔
”عمران نے کہا وہ چوہا کالا صفر میرا کیا بگاڑے گا میں اُسے چٹکی بجاتے بل سے باہر گھسیٹ لوں گا“۔
عمران کی یہ بڑھک،اپنے باس بلیک زیرو کے بارے میں سنتے ہی خوف سے جولیا، صفدر  اور جوزف کے منہ خوف سے کھل گئے“
نمّو نے خالو سے کہا ، " خالو مجھے دیں میں پڑھتا ہوں "۔
جی ہاں یہ خفیہ ادبی محفل ابنِ صفی  کے جاسوسی ناول، عمران سیریز کے پڑھنے اور سننے والوں کی تھی۔ جو سرِ محفل پڑھنا ایک جرم سمجھا جاتا تھا۔ کتب فروشوں کے پاس پہلے سے چوّنی جمع کرادی جاتی تھی۔تاکہ ناول ختم نہ ہوجائے۔ ابنِ صفی کے جاسوسی ناول کبھی ردّی کے ڈھیر پر نہیں پھیکے گئے۔خالو کی مقفل الماری میں عمران سیریز کا ایک خزانہ چھپا ہوا تھاہر ناول مجلد تھا۔عمران اور میجر آفریدی  مرحوم ابنِ صفی کے دو ایسے طلسماتی کردار تھے۔جن میں وطن کی محبت، اخلاقی قدریں  اور فرض  کی پاسداری تھی جنہوں نے  مجھے نہ صرف ایک علمی اور ادبی سمت دی بلکہ مادر ِ وطن کی حفاظت کی خاطر میں ایک ذہین، فطین،وقت کی نزاکت کو پہچان کر کام کرنے والے سویلین کی بجائے ایک بے وقوف (ویسے تو اللہ نے سب کو ہی بے وقوف کہا ہے)، صراطِ مستقیم پر چلنے والا گویا لکیر کا فقیراورحکم کا پابند فوجی بن گیا۔

     اکیڈمی میں پہلے دن جب ہم نے اپنا سارا سامان سر پر اُٹھا کر پورے پریڈ گراونڈ کا چکر لگایا تو ذہن نے یہ تسلیم کرنے سے انکار کر دیا کہ میں اکیڈمی میں افسربننے آیا ہوں۔اُس پر مزید ستم یہ کہ بہتریں سوٹ زمین پر لوٹ پوٹ ہونے سے، پہننے کے قابل نہیں رہا۔ ہم میں سے اکثر نے یہ فیصلہ کیا کہ اگر دوسال یہی ہوتا رہا تو اِس سے بہتر ہے کہ واپس سویلین لائف میں جایا جائے۔جہاں راوی چین ہی چین لکھتا ہے۔

یہاں تو ایسا لگتا تھا کہ سینئرز،میں کوئی ظالم بے چین روح حلول کر چکی ہے۔شام کو کھانے کے بعد، ایک سینئیر نے کیڈٹوں کوپُر جوش لیکچردیا جس کی وجہ سے تمام نے پروگرام تبدیل کر دیا گیا۔ بہر حال  اِس دو سالہ زندگی میں تخیلاتی ہیرو عمران اور آفریدی کی جگہ، حقیقی ہیروز کا مطالعہ شروع کیا۔ جن میں خالد ؓبن ولید، موسیٰ بن نصیر، صلاح الدین ایوبی، میک آرتھر، منٹگمری، رومیل،لارنس آف عریبیہ، ماتا ہری، سلطان ٹیپو شہید اور پاکستانی نشانِ حیدر، نجانے کن کن کا مطالعہ کیا اِن میں سے جو جنگوں میں مارے گئے انہوں نے ہیرو ازم کی تکمیل کی، جو بچ گئے انہوں نے یااُن کے بعد والوں نے اُن کے واقعات عام آدمی کے لئے محّیرالعقول انداز میں قلمبند کئے۔

     اکیڈمی میں کم و بیش ہر کیڈٹ کے بستے پر،
من جانبازم  یا  Heroes die young مختلف رنگوں میں پیرا ٹروپر یا کمانڈو،ونگ کی تصویرکے نیچے لکھا ہوتا تھا۔ کالج کے لابالی اور کھلنڈرے طالبعلموں کو، حکم کا گیارہواں پتا بنانے کے لئے، جس دھیمی رفتار سے سائیکو لاجیکل طریق کار اختیار کیا جاتا ہے۔ وہ فوجی زندگی کا صدیوں کا نچوڑ ہے۔ سو گز دور ایک ٹارگٹ سے شرو ع ہونے والی چاند ماری اِس کی پہلی پیش رفت ہے۔ ہر فوجی کو یہ بتایا جاتاکہ تمھارے سامنے جو یہ ٹارگٹ ہے اِس کے درمیان  چھ انچ قطر کے مرکز میں ہی گولیاں مارنے سے تمھاری کامیابی  ہے مرکز سے جتنی زیادہ دور نشانہ لگے گا تمھاری کامیابی کے نتائج اُتنے ہی کم ہو جائیں گے۔ اپنی تما م حسّیات، توجہ  اور خیالات کو مرکز پر مرتکز کرنا ہے اور سانس روک کر جتنے اطمینان سے ہوسکے ٹریگر کو اتنی آہستہ سے دبانا ہے کہ انگلی کا مہین سا دباؤ اُس”لائن آف فائر“ کو خراب نہ کرے۔جس کے ایک سرے پر آپ اور دوسرے سرے پر ٹارگٹ کا مرکزہوتا ہے۔

یعنی”فوجی+اسباب+ٹارگٹ“ انِ تینوں کو ایک مناسب وقت میں ہم آہنگ ہونا چاہئے تو  مقصد حاصل ہوتا ہے۔

     لیکن کیا، کیا جائے ٹارگٹ عام زندگی میں کسی ساکت شئے کا نام نہیں۔ ایک سویلین کی زندگی کے ٹارگٹ محدود ہوتے ہیں۔ لیکن ایک فوجی کی فوجی زندگی کے ٹارگٹ لامحدود ہوتے ہیں۔ اِس کے باوجود  ہر دو طرز زندگی گذارنے والے سویلین اور فوجی کے تمام ٹارگٹ ملکی جغرافیائی سرحدوں اور آئین کی چھتری کے اندر ہوتے ہیں۔ جن کی حفاظت دونوں کا فرض ہوتا ہے۔ سویلین طرزِ زندگی  اور فوجی (ہر وہ شخص جو سرکاری رائفل اُٹھاتا ہے) طرزِ زندگی میں قدم قدم پر ہنگامے اور حادثات  پیش آتے رہتے ہیں۔ لیکن فوجی زندگی میں اِن کا تناسب انتہائی زیادہ ہوتا ہے۔ اگر ہم یہ کہیں کہ پاکستان کا ہرشخص اپنی زندگی کے ایسے واقعات ہمیں لکھ بھیجے جس میں اُس کی جان کو  درپیش ہونے والے خطرے سے اُسے کسی آفاقی ہاتھ نے بچایا ہو یا جس سے وہ اپنی ذہانت اور بروقت فیصلے سے بچ نکلا ہو تو جنرل پرویز مشرف کے واقعات اُن کے سامنے کچھ نہیں ہوں گے۔ بلکہ وار رپورٹرز، کے واقعات  کے سامنے عمران اور  میجر آفریدی کے واقعات بھی ہیچ نظر آئیں گے۔اگر شک ہو توحامد میر سے پوچھ لیں۔ جو افغان واراور  طالبان وار میں بحیثیت نامہ نگار شامل رہے تھے۔ ہاں جہاں تک  دھوکے کے لئے گیٹ اَپ تبدیل کرنے اور لوگوں کو بے وقوف بنانے کے افسانوی کرداروں کا تعلق ہے کسی آئی ایس آئی والے سے پوچھیں تو الف لیلہ ہزار داستان چھوٹی دکھائی دے گی۔

     سیاچین کے میدان سے واپس آنے والوں سے پوچھیں یا جنگوں، انٹرنل سکیورٹی میں مصروف محبِ وطن سپاہیوں سے دریافت کریں ”ہر شخص اپنی ذات میں ہیرو ہوتا ہے“۔خواہ وہ سیلاب زدگان کی مدد کرنے والا پولیس کا سپاہی، رضارکار یا والنٹئیر ہی کیوں نہ ہو۔ایسے لوگ بڑی مشکل سے تیار کئے جاتے ہیں۔ خاص طور پر انسانوں کے اُس ریوڑ میں جسے ایک قوم کہنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ جو خود پر مسلمان کا لیبل لگاتے ہیں اور دوسروں پر کافر گری کے فتوے چسپاں کرتے ہیں۔ کیوں کہ بہتر (72)فرقوں میں سے صرف ایک اُنہی کا فرقہ مسلمان ہے۔ پاکستانی مجتہدین  اپنے مذھب کے مطابق اپنے اجتہاد کی بدولت 1964میں عورت کی سربراہی کو خلاف اسلام قرار دیتے ہیں اور 1989میں اسے اسلام کے عین مطابق قرار دے دیتے ہیں۔

    میں نے اپنی پچیس سالہ فوجی زندگی میں رنگ، نسل، زبان اور مذہب سے بے نیاز ایک، جراءت مند،بہادر، ایک دوسرے کے درد کاخیال رکھنے والے، منافقت سے پاک لوگوں کی قوم دیکھی ہے جسے ”فوج“کہتے ہیں۔ جو بھان متی کا کنبہ یا پانی کا ”جان ور“ نہیں  جو ڈبکی لگا کر کبھی اِس کنارے  اور کبھی ڈبکی  لگا کر اُس کنارے پر۔

    جغرافیائی سیادت ہمیشہ متحد قوم کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ ”میثاقِ ضرورت ہو یا آرمی ریلیٹڈ ڈیموکریسی  (
ARD)“سب وردی ہی کو جھک کر سلام کرتے ہیں مگر ہو اصلی،چاہے وہ تھانیدار ہی کی کیوں نہ ہو۔صرف وسل بجانے کی ضرورت ہے سب کاسۂ گدائی لئے سنگل لائن میں ”فال اِن“ ہو جائیں گے۔سو فیصد ایمان دار اور اصول پرست وہ ہے جس کے ہاتھ کہیں نہیں پڑسکتے۔ویسے بھی تما م جمہوریت پسند لوگ اپنے سے طاقتور کی آشیر باد کے بعد ہی تخت پر چڑھتے ہیں۔آشیر باد کے بغیر تخت پر چڑھنے والوں کا تختہ ہوتے دیکھا ہے۔ شیر کی کھال شیر ہی کو جچتی ہے۔کیونکہ وہ حاضر سروس شیروں کا سربراہ ہوتا ہے۔ریٹائرڈ تو اُسے دیکھ کر ہنھ ہنھ ہی کرتے ہیں۔

    رہا آئین!تو یہ بات پتھر پر لکیر ہے کہ یہ تبدیل ہونے والی چیز ہے تبدیل ہوتی رہے گی۔ تو پھر کیوں نہ اِس میں ایک لائن کا اضافہ کر لیا جائے کہ،”ہر چیف آف آرمی سٹاف  اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد  تین سال تک ملک کا صدر رہ سکتا ہے اور وہ بھی بغیر وردی میں“ کیونکہ وردی  تو نئے چیف آف آرمی سٹاف نے پہن لی ہو گی۔ اس طرح  ہمارے  سارے، جھگڑے ختم ہو جائیں گے کیونکہ شمشیر ابنِ شمشیر ابنِ شمشیر ابنِ شمشیر کا شجرہ تو اُس وقت سے چلا آرہا ہے جب پہلے فوجی نے لوہار سے شمشیر اپنی گرفت میں لی تھی اگر لوہار میں ہمت ہوتی تو شمشیر دیتا ہی کیوں؟

    کراچی سے سیاچین گلیشئر کے آخری کنارے تک اِس رائے پر ہنسنے والوں کو سوچنا چاہیئے کہ 1967عرب اسرائیل جنگ میں،ایک مصری انجنئیر کے مثانے میں وقتی پیدا ہونے والی فنّی خرابی کوایک ٹیلے کی آڑ میں دور کرنے والی کوشش سے دریافت ہونے والے  آئیڈیا کی بدولت،نا قابلِ شکست بارلیف لائن کو دھاروں (پانی کی) سے گرانے کی صورت میں لڑی گئی اور مصر نے اپنا آدھا کھویا ہوا صحرائے سینا حاصل کیااور شائد میری اِس رائے  کے نتیجے میں ملک کی کھوئی ہوئی وہ اصلی جمہوریت واپس آجائے جہاں سروں کو گننے کے بجائے تولا جائے! تاکہ پھر ہمیں بھی یورپی اور امریکی جمہوا ریت پسندوں کی طرح تخت سے برضاورغبت اترنے والوں کی آپ بیتیاں پڑھنے کو ملیں۔

    جیسا کہ شہاب نامہ۔ جس میں شہاب صاحب، دوسروں کی رائے نہ سننے والے وزیر اعظم ذوالفقارعلی بھٹو کے منہ پر جواب دینے کے بعداپنی گردن کے ساتھ اُن کے گرد گھومتے ہوئے کچھ عرصہ اپنی نوکری پر قائم رہے۔اِسی کو جمہوریت کہتے ہیں کیونکہ دونوں کے سر تولنے میں بہت وزن دار تھے،حاکم فوجیوں کے گرد گھومنے والے سرداروں کے سر میں تو ویسے ہی بہت وزن ہوتا ہے! 57 سالہ پاکستانی تاریخ اِس کی گواہی دے گی کہ کس طرح  نوّے دنوں کو اِن سرداروں نے الاسٹک کی طر ح کھنچوایا۔ کیوں کہ انہیں اِسی طرح ہیرو  بننا ہے۔ اور ہیرو بننے کا یہ آسان طریقہ ہے۔

    رہی بات کہ۔ازل سے حسن پرستی لکھی تھی قسمت میں، میر امزاج لڑکپن سے عاشقانہ تھا۔ جوانی میں تو ہر کالج میں پڑھنے والا نوجوان دو دو تین تین یا چار چار معاشقے لڑاتا ہے خوا ہ یہ پچاس فیصد ہی کیوں نہ ہوں (لڑکا راضی لڑکی کو لعلوم ہی نہیں)  اور ہیرووں کی صف میں گھسنے کی کو شش کرتا ہے۔ مدرسوں میں پڑہنے والوں کے بارے میں ہمیں علم نہیں۔عموماً وہ معاشقے کی عمر تک نہیں پہنچتے تو اُن کی شادی کر دی جاتی ہے۔یہ تو اچھے لوگوں کی ہمت ہے کہ وہ بڑھاپے میں کھلے اعتراف کر لیتے ہیں۔ کہ یہ وہ عورت ہے جس سے ہم نے جوانی  میں محبت کی تھی اور آج کل اِس کے بچے ہمیں ماموں کہتے ہیں۔ کہاجاتا ہے کہ اعتراف سے گناہوں کا بوجھ کم ہوجاتا ہے جبھی تو پادری کے سامنے اگنی پنت کے ہیرو نے اپنی ایک فلم میں اعتراف کیا تھا۔

    ویسے لکھاریوں میں پہلے نمبر پر اعتراف کرنے والے دیانت دار  بزرگ عطاالحق قاسمی صاحب ہیں جو اپنے کالموں میں اکثر اعتراف کر لیتے ہیں۔ہمیں ایک لکھاری کے اعتراف کا اور انتظار ہے جنہوں نے کشمیر کے کسی پہاڑی راستے پر پل اوور میں پھدکتے ہوئے دو خرگوش دیکھے تھے۔اب انہوں نے انہیں پکڑا، یا نہیں ابھی تک راز ہے۔

    ویسے بھی ہمارے ملاؤں نے ہمارے معاشرے میں اعتراف  کا دروازہ بند کیا ہوا ہے جب کہ چھوٹے موٹے گناہ جو بھولے سے سرزد ہو جاتے ہیں اور اُن پر انسان شرمند ہ ہوتا ہے۔ اُسے کسی ہمدرد کے سامنے بیان کر دینا چاہیئے اِس سے دل اور ضمیر دونوں کابوجھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ ایسے لوگ منافقت سے کچھ دور ہوتے ہیں۔ ویسے جوانی میں ایک سفید سر والے بزرگ نے ہمیں ایک قولِ زریں بتایا تھا کہ سفید ہونے والے بالوں کے حق کو باطل کی سیاہی میں رنگنے والوں بچنا۔ ویسے تو پاکستان میں ایسے لوگوں کی تعداد کروڑوں تک جاپہنچتی ہے۔جو سینگھ کٹوا کر بچھڑوں میں  مل کر ہیرو بننے کی کوشش کرتے ہیں اور گھڑے میں منہ ڈال کر شور مچانے سے صرف اپنے ہی کانوں کا نقصان ہوتا ہے۔

     جمہوریت میں تو اِس شور میں کان پڑی آواز بھی سنائی نہیں دیتی،سائیکل، رکشا، ٹانگا  پارٹیوں کے علاہ ملک خداد پاکستان میں پیدل چلنے والی پارٹیاں بھی ہیں جو سنگل ممبر پر مشتمل ہیں  اور سب ہیرو بننے کی امید میں زرداری کوہٹانا چاہتی ہیں لیکن اب صرف گیلانی پر گذارا کرنے کے موڈ میں ہیں مگر اُنہیں نہیں معلوم کہ زرداری رگوں میں امریکی تجربات کا لہو دوڑ رہا ہے، جن کے آگے تمام لیڈران ڈالروں سے حقہ بھرتے ہیں۔ اور اب سے نہیں 63 سال سے۔ کل بھی امریکہ ہمارا محافظ تھا آج بھی وہ ہماری حفاظت کر رہا ہے۔اور ہم امریکہ کے ہر شہری کو ”جان ریمبو“ بن کر للکار رہے ہیں۔




        کیونکہ سب کے اند ایک ہیرو ہے جو مظلوموں کے کشتوں کے پشتے لگاتا ہے۔   

نوٹ: یہ مضمون ، اپریل 2008 میں لکھا تھا ۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔