میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر, اگست 5, 2013

کتاب اللہ!


اللہ کے علاوہ کائینات میں پھیلی ہوئی ۔ اللہ کی وحی " کتاب اللہ " کا حصہ ،  "کن" جو اللہ کا کلام ہے ۔  "کن" جو اللہ کی آیات کی ابتداء کو "یکن" کی انتہا تک پہنچاتا ہے ۔






"اللہ کی آیات " جو انسان کے چاروں طرف بکھری ہوئی ہیں، جو حاضر بھی ہیں اور ہماری نظروں سے غائب بھی ۔  وہ انتہائی چھوٹا جاندار ، جس کو ہم دیکھ نہیں سکتے ، اللہ کی ایک مکمل آیت ہے ، جس پر کتابوں کی کتابیں لکھی جارہی ہے تحقیق ہے کی جاری ہے سب سر جوڑے یہ سوچ رہے ہیں کہ اس ننھے وائریس کی، حشر سامانیوں سے کیسے بچا جائے ، جو ایک موج ظفر موج کی طرح ، انسان پر حملہ آور ہورہا ہے ۔ جانے کہاں غیب میں تھا اور کیسے آزاد ہوا کس نے آزاد کرایا ؟ ایک تاریخی حقیقت ہے ، ان قصص کا حصہ ہیں ، جن سے پہلے ہم بے خبر تھے ۔



سب خالق کائینات کے "کن" سے اس کے "امر" کی ابتداء اور پھر آیات کا سلسلہ اتنا طویل ہے ۔ کہ اللہ کے "کلمات" کا شمار نہیں ۔ ناممکنات میں سے ہے ۔




قُل لَّوْ كَانَ الْبَحْرُ‌ مِدَادًا لِّكَلِمَاتِ رَ‌بِّي لَنَفِدَ الْبَحْرُ‌ قَبْلَ أَن تَنفَدَ كَلِمَاتُ رَ‌بِّي وَلَوْ جِئْنَا بِمِثْلِهِ مَدَدًا ﴿الكهف: ١٠٩﴾

وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْ‌ضِ مِن شَجَرَ‌ةٍ أَقْلَامٌ وَالْبَحْرُ‌ يَمُدُّهُ مِن بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ‌ مَّا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ ﴿لقمان: ٢٧﴾




تو پھر فانی انسان ، نا ممکن کو ممکن کیسے بنا سکتا ہے ؟

ہمارے جسم کا ایک ایک خلیہ اللہ کے "کن" کا مرھون منت ہے ، انسانی جسم ، ایک مکمل کتاب ہے ، اسی طرح کائینات کی  ہر شئے ایک قیم کتاب ہے ۔ :کتاب اللہ " کا حصہ ہے  ۔ انسانی حواس خمسہ اسے محسوس کرتے ہیں ۔ ان کی تصدیق کرتے ہیں اور اپنے علم میں اضافہ کرتے ہیں ۔ جس سے انسان کو بصیرت آتی ہے اور وہ " کتاب اللہ " کی مدد سے اپنے لئے نئی راہیں دریافت کرتا ہے ۔






غور کریں کتنی"  قیم کتب " ہمارے ارد گرد موجود ہیں ۔ یہ سب وحی (کلام اللہ ) کی کرشمہ سازیاں ہیں ، ان سب کے لئے فلاحی ریاست قائم ہے ۔ جس میں یہ رہ رہے ہیں ۔ اور فلاح پارہے ہیں ۔ ہر جاندار اپنی ذات میں ایک مکمل ، حیات ہے اپنے کام سے آگاہ ہے ۔ اور "کتاب اللہ" سے راہنمائی حاصل کر رہا ہے ۔ اور اپنی فلاحی ریاست کو خوب سے خوب تر بنا رہا ہے ۔ جو رزق مل جائے ، کھا لیتا ہے ، پیٹ بھر جائے تو بچا ہوا چھوڑ کر آگے بڑھ جاتا ہے ۔ اپنی فلاحی ریاست کی چہار دیواری جو اس نے بنائی ہے ۔ اس کی حفاظت کرتا ہے ، ہمت نہیں پاتا تو ھجرت کر جاتا ہے ۔ کیوں کہ اس کے لئے اللہ کی زمین بہت وسیع ہے ۔

 ہمارے پیروں تلے کچلی جانے والی جیونٹی یا تالی کی زد میں مسلا جانے والا مچھر ، اللہ کی فلاحی ریاست کے مقیم ہیں-


  جن کی مکمل آبادیاں ، شوشیالوجی ، کے اصولوں پر قائم ہے ، جن میں سیاست نہیں سیادت ہے ۔ جن کی بستیاں ، انجئیرنگ کے بہترین پیمانوں پر قائم ہیں ، ان فلاحی ریاستوں  ، کے ذمہ داران ، ہر نفس کو اس کی خوراک ، اس کی نشونما کے مطابق دیتے ہیں اور ان آبادیوں کا ہر نفس اس کے خالق کی طرف سے تفویض کئے ہوئے اپنے کام میں مگن ہے ۔ اپنی تمام تر مہارت اور جانفشانی کے ساتھ ۔ کیوں کہ یہ سب ان کے اس پروگرام کا حصہ ہے جس کو یہ تبدیل نہیں کرسکتے ۔ 

تمام جانداروں کی یہ فلاحی ریاستیں اس وحی کی مرہون منت ہیں جس کا آغاز ہر جاندار کے لئے "کن" سے ہوتا ہے ، اور اس "کن" کے حکم میں نہ کوئی ، تبدیلی ہو سکتی ہیں اور نہ ہی اس میں کوئی ڈھیل ہو سکتی ہے ۔ تمام کام وحی کے ایک خود کار نظام کے تحت ہیں ، جو وقت کے ہر قدم کے ساتھ آگے کی طرف بڑھ رہے ہیں اور ایک تاریخ رقم ہو رہی ہے ، جس کا ہر لفظ سو فیصد درست ہے ، نہ لفظ تبدیل ہو سکتا ہے اور نہ اس کا مکان یا مقام اور نہ ہی ترتیب ۔
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

1- کتاب اللہ !
2- نزول الکتاب !
3- وحی القرآن !
4- الحدیث !
5- کتابت ِوحی!
6-کتابتِ سنت !
7- قول منسوب الرسول !
ا- قیاسِ  ( ظن)    !
ب-اجماع ِ  !
ج- اجتحاد  !
د- فقہ !
 ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭جاری ہے ٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

              

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔