میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

ہفتہ، 24 اگست، 2013

کس کس کو یاد ہے- - - - !



 کس کس کو یاد ہے اس میں رھنا ۔
ایسی جگہ پر جہاں صرف دو موسم ہوتے ہیں ۔

ایک سردی اور دوسری بہت سردی
جہاں پانی کے خزانے ہیں لیکن بہت بھاری

جن کے نیچے ، خواب خرگوش میں صدیوں سے
لیٹے ہیں قافلوں کے لوگ

جنہوں نے اسے اپنی راہ گذر سمجھا
اور وہ فوجی جنہوں نے پہرا دیا راہ گذر پر

جن کے پہرے لمبے ہوگئے
گھر والوں کے لئے

انہوں نے بھی آنکھیں موند لیں تکتے تکتے ۔
بچے جواں ہوگئے ، انتظار کرتے کرتے

کس کس کو یاد ہے اس میں رھنا ۔
ایسی جگہ پر جہاں صرف دو موسم ہوتے ہیں ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔