میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 5 اگست، 2013

چھوٹی سی کہانی



     سنا ہے کہ انسانوں کے ایک محلے میں ایک مرد دانا و بینا پایا جاتا تھا۔ اس کے کئی بیٹے تھے مگر معاشی یا دیگر مجبوریوں کی بنا پر اس نے اپنی حویلی میں صرف  آٹھ بڑے حصے بنائے اور متضاد الطبیعت اولادوں کو صرف اس بنیاد پر مشترک حصے دئے کہ وہ اس کی اولاد ہیں۔ گو کہ یہ آپس میں متحد تھے لیکن مختلف بھی، مختلف ہونے کی وجہ کمیونیکیشن گیپ  اور علمی گیپ تھا۔ اور گیپوں یا خلاؤں کی وجہ سے میعار عقل کی بھی کمی تھی۔ جب تک یہ مرد دانا ان میں موجود رہا وہ اپنی عقل استعمال کرتا یہ اس پر عمل کرتے لیکن اس مرد دانا کے رخصت ہونے کے بعد انہوں نے اپنی عقل استعمال کرنا چھوڑ دی  گو کہ انہوں نے اپنے بڑے بھائی کو والد کی جگہ دے دی مگر وہ والد کی جگہ حاصل نہ کر سکا چنانچہ یہ بھائی محلے کے باقی لوگوں کی عقلوں سے فائدہ اٹھانے لگے۔

    ایک دفعہ رات کو کسی نقب زن یا چور نے ان کے احاطے میں چھلانگ لگائی۔ گھر میں بڑے بھائی کے حفاظتی نظام کی وجہ سے وہ بھاگ گیا۔ کچھ عرصہ بعد دو تین چوروں نے یہی حرکت دھرائی اور گھر کے صحن میں پڑی ایک کرسی اٹھا کر بھاگ گئے۔اس کرسی نے احاطے کے لوگوں میں کھلبلی مچا دی۔ کرسی کی چوری نہایت اہم چوری تھی کیونکہ اسی کرسی پر بیٹھ کر کوئی دوسرا احکام جاری کر سکتا تھا۔ چنانچہ فیصلہ یہ ہوا کہ اس کرسی کو دوبارہ حاصل کرنے کے لئے پڑوسیوں سے مشورہ کیا جائے۔  چنانچہ کافی لوگوں سے مشورہ کرنے کے بعد یہ طے پایا کہ آپس میں بین الپڑوس ایسا نظام قائم کیا جائے کہ آئیند ہ کسی بھی کاروائی کا سدباب کیا جاسکے۔ لیکن ایک پڑوسی نے پوچھا کہ چوروں نے راستہ کیسے دیکھا جبکہ گھر کی تمام دیواروں پر آنکھیں لگی ہوئی تھیں؟

    چوروں کی راستہ دکھانے والا دراصل وہ چھوٹا گیٹ تھا جو ایک دوسرے گھر میں کھلتا تھا۔ گیٹ کے اس طرف وہ بھائی رہتا تھا جو ذرا تند خو مزاج کا تھا اس نے پڑوس والے گھر میں ایک خفیہ شادی کر رکھی تھی اور تمام بھائیوں اس کا علم تھا۔ دراصل وہاں سے چور اس گھر میں داخل ہوتے اور اس امید پر کہ شائد کوئی قیمتی چیز ان ے ہاتھ لگ جائے چنانچہ وہ چھوٹی موٹی واردات کرتے رہتے لیکن کرسی کی چوری بڑی واردات تھی اور یہ واردات سالے کے سالے نے کی تھی۔ جورو کی طرف سے رشتے تو ویسے بھی مقدّم ہوتے ہیں۔ چنانچہ دولہا بھائی نے مٹی پاؤ  والی رعایت پر عمل کروانا چاہا لیکن وہ پڑوسی جو اس گھرانے میں کچھ نہ کچھ عمل دخل رکھتے تھے۔ انہوں پتوں کو پتوں سے ہوا دینی شروع کر دی چنانچہ طے یہ پایا کہ آئیندہ ایسی صروت حال میں پڑوسیوں کو مدد کے لئے بلایا جاسکتا ہے۔

    اب سالوں اور سالے کے سالوں اور اس کے سالوں نے دہشت بٹھانے کے لئے ہر چوری کی واردات کو اپنی کاروائی بتانا شروع کیا یہاں تک کہ ایک دور دراز پڑوسی کے تخت کے پائے اس کے اپنے رشتہ داروں نے ہلائے تو ان سالوں نے اسے بھی اپنی کاروائی قرار دیا کیونکہ دوردراز پڑوسی نے کچھ چوریوں پر سالوں کے سالوں کی مدد کی تھی۔ تو جناب دوردراز کا پڑوسی سالوں کے سالوں پر چڑھ بیٹھا۔ اب سالوں کو غصہ آیا انہوں نے مزید بڑھکیں مارنی شروع کر دی اور، دولہا بھائی نے اپنے بھائیوں پر رعب جھاڑنا شروع کر دیا۔ چنانچہ بھائیوں نے سالوں کے سالوں کے شر سے بچنے کے لئے  دور دراز پڑوسی  کے پڑوسی سے معاہدہ کر لیا کہ اگر سالے کے سالوں سے انہیں خطرہ ہو یا ہمیں خطرہ ہو تو مل کر ان کا مقابلہ کریں گے۔

    ایک دفعہ سالے کے سالے کے دولہا بھائی نے،  دور دراز پڑوسی کے پڑوسے کو بھیانک قسم کی بڑھک ماری۔  دور دراز پڑوسی کا پڑوسی عقلمند تھا اسے معلوم تھا کہ یہ خالی بڑھک ہے لیکن کیا پتا اس میں اعشاریہ صفر صفر صفر ایک فیصد حقیقت ہو چنانچہ اس نے سالے کے گھر کی چھت پر اپنے پہریدار بٹھا دئیے جو سالے کے گھر میں تانک جھانک کرتے اور دولہابھائی کے گھر میں بھی۔ دولہا بھائی نے اپنے گھر والوں کو پردے میں رکھنا شروع کر دیا۔ اور ساتھ سالے کے سالے کے دولہا بھائی کو بھی، اب  دور دراز پڑوسی  کے پڑوسی کونہیں معلوم کہ وہ بڑھک لگانے والا کہاں گیا۔

    چنانچہ ایک دن بڑھک لگانے والی کی جھلک  دور دراز پڑوسی  کے پڑوسی کو نظر آئی تو اس نے سالے کے گھر سے دولہا بھائی کے گھر چھلانگ ماری اور بڑھک لگانے والے کی بڑھک کو ہمیشہ  کے لئے ختم کر کے اس کی باقیات کو ساتھ لے کر چلا گیا۔

    جب دولہا بھائی کو یہ معلوم ہوا کہ  دور دراز پڑوسی  کا پڑوسی اس کے احاطے سے اس کے مہمان کو لے گیا ہے تو اس نے بڑے بھائی کو نکما اور ناکارہ کہنے کے لئے یہ بنیاد بنائی کہ وہ چادر اور چاردیواری کا تحفظ کرنے کے قابل نہیں۔ لہذا اسے کرسی ہے اتر جانا چاہیئے اور کرسی اس کے لئے خالی کر دینی چاہیئے۔

    تو جناب آپ ہی بتائیے کہ قصور کس کا ہے نور جہاں کا یا ظہیر عباس کا    ؟
   
   
نوٹ :       مضمون پڑھنے کے بعد اگر پسند آئے تو نیچے خانے میں کمنٹ لازمی دیں
              اور باقی دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔ شکریہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔