میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

پیر، 5 اگست، 2013

قومی وقار کا سودا


    ”میجر صاحب میں قومی وقار کا سودا کیسے کر سکتا تھا، میں صرف اور صرف پاکستانی ہوں اور پاکستانی رہوں گا“  ظہیر الدین خواجہ کے اِن الفاظ نے مجھے چونکا دیا، مجھ سے عمر میں بڑا یہ شخص سعودی عرب میں نوکری کرتا رہا وہاں سے امریکہ چلا گیا۔ امریکی نظام تعلیم میں پڑھنے والے بیٹے نے امریکہ کی ہر بہترین ملازمت ناسا کو مسترد کرتے ہوئے پاکستان نیوی میں شمولیت اختیار کر لی۔ خواجہ صاحب بھی پاکستان آگئے۔ میرے داماد نے اُن سے میرا تعارف کرایا۔ جب بات چیت میں اجنبیت دور ہوئی تو میں نے سوال کیا ِ”خواجہ صاحب آپ نے گرین کارڈ نہیں بنوایا“۔ ”بھائی میں نے درخواست ہی نہیں دی“۔خواجہ صاحب نے جواب دیا۔ ”کیوں لوگ تو مرتے ہیں ہر جائز اور ناجائز ذریعے سے گرین کارڈ بنوانے کی کوشش کرتے ہیں؟“ میں نے پوچھا تو خواجہ صاحب نے اسے قومی وقار کا سودا قرار دیا ۔ خواجہ صاحب نے پوچھا کیا ”آپ نے امریکی قوم سے حلف وفاداری پڑھا ہے ّ“۔ ”نہیں“ میں نے جواب دیا۔خواجہ صاحب نے کہا  ”آپ انٹر نیٹ پر پڑھ لیں، آپ کو معلوم ہو جائے گا“۔

    گھر واپس آکر میں نے نیٹ پر  ا مریکی قوم سے حلف وفاداری پڑھا۔ جو مجھے سمجھ آیا آپ بھی پڑھئے۔



میں قسمیہ حلف پر یہ اعلان کرتا(کرتی) ہوں  کہ میں بقائم ہوش وحواس میں وفاداری کا اعلان کرتا ہوں اور اپنے پچھلی قومیت سے دستبرداری کا علان کرتا ہوں جس کا میں باشندہ تھا-
(
اس لائن کا حلف اُٹھانے سے میری وفاداری آئیندہ پاکستان کے بجائے امریکہ سے ہو گی)
   
میں اس کا بھی اعلان کرتا ہوں، کہ میں آئین اور قوانین ِ امریکہ کا تمام ملکی اور غیر ملکی دشمنوں سے دفاع کروں گا، (اس لائن کا حلف اُٹھانے سے میں نے پاکستان کا آئین اور قانون ردی کی ٹوکری میں پھینک دیا ہے اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں:
(ا) اگر امریکہ پاکستان کو دشمن قرار دیتا ہے تو میں پاکستان کے خلاف لڑوں گا -
(
۲)۔  اگر امریکہ یہ اعلان کرتا ہے کہ سارے مسلمان ہمارے دشمن ہیں تو میں امریکہ کی طرف سے مسلمانوں کے خلاف لڑوں گا)
    یہ کہ میں خلوص دل سے اس ایمان کی وفاداری کروں گا۔
(اس لائن کے مطابق میرا،ایمان وہ ہے جو آئین اور قانون امریکہ مجھے بتائے گا)

 اور میں یہ بغیر کسی ذہنی اور جسمانی دباؤ کے بغیر اِس کی ذمہ داری قبول کرتا ہوں۔
(اس لائن کے مطابق میں ہوش و حواس میں ہوں اور مجھ پر کوئی دباؤ نہیں)
    خدا میری مدد کرے ۔
(اس لائن کے مطابق،میں نے امریکی آئین اور قانون کے مطابق خدا سے مدد مانگی ہے۔ کیوں کہ میرا سابقہ اللہ مجھ سے یہ توقع رکھتا تھا کہ میں ”یہود اور نصاریٰ کو اپنا مدد گار نہ بناؤ اگر میں نے ایسا کیا تو میں بھی اُن جیسا ہو جاؤں گا۔ حالانکہ امریکہ یہودی اور نصرانیوں کا ملک ہے  جو فرزندِ زمین ہیں۔ لہذا میں اپنے سابقہ اللہ کے آئین اور قوانین جو پرانے اور فرسودہ ہیں دستبرداری کا حلف پر اعلان کرتا ہوں)
    ثبوت کے طورپر میں اپنے دستخط کرتا ہوں۔
(اس لائن کے مطابق، میں نے وہ تمام ماضی کے رابطے ختم کرتا ہوں اور امریکی تھرڈ کلاس شہری کے حقوق قبول کرتا ہوں۔ اس کے لئے مجھے، یہودیت، عیسائیت، کی طرح نژرادیت کی قومیت عطا کی گئی ہے)
--------------------------------------------------
یہ دستخط کرتے ہی ، محمد عبداللہ پاکستانی سے امریکن شہری بن جاتا ہے
 --------------------------------------------------


نوٹ: سرخ الفاظ میں تشریح کئے گئے الفاظ میرے نہیں لیکن میں اُن سے متفق ہوں۔ آپ کا متفق ہونا ضروری نہیں۔


کیا ا مریکی قوم سے حلف وفاداریاُٹھانے کے بعد اُن کے ملک میں موجیں اُڑانے کے بعد کوئی اُن سے غداری کا تصّور کر سکتا ہے؟


 ڈالروں، عیاش زندگی اور امریکی خدا کے زیر سایہ رہنے والی فری سوسائیٹی میں،”قومی وقار کا سودا“ کرنے کے بعد کیا یہ لوگ:
٭۔    ہماری رہبری کر سکتے ہیں؟
٭۔    ہم سے مخلص ہو سکتے ہیں؟


نوٹ :       مضمون پڑھنے کے بعد اگر پسند آئے تو نیچے خانے میں کمنٹ لازمی دیں
               اور باقی دوستوں کے ساتھ بھی شئیر کریں ۔ شکریہ


   

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔