میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعرات، 8 اگست، 2013

بلوچستان میں ٹپکایا جانے والا نفرتوں کا زھر



بلوچستان میں ہونے والے خود کش حملوں نے کئی خاندانوں کی عید کو دکھوں میں تبدیل کردیا ہے ۔
میرے بچپن میں بلوچستان ایک پر امن اور محب الوطن لوگوں کا صوبہ تھا ،  1967 میں نے اپنے والد کے ساتھ ،  ژوب سے لے کر دالبندین تک ، کوئٹہ سے ڈیرہ مراد جمالی ، لورا لائی گویا نصف بلوچستان دیکھا -
پھر ، فوج میں آنے کے بعد بقیہ نصف بلوچستان دیکھنے کا موقع ملا ۔ مجھے یاد ہے کہ 1977 میں ہم چند دوست ، کوئیٹہ سے کراچی موٹرسائیکلوں پر گئے ۔

مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ مستونگ ، قلات سے گذر کر ہم خضدار پہنچے ، جہاں ہم نے آفیسر میس، میں رات کو قیام کیا ہم تین موٹرسائیکلوں پر چھ دوست تھے اور دو اکیلے اکیلے موٹر سائکلوں پر تھے ۔ نہا کر ہم خضدار گھومنے نکلے ، شام کا وقت تھا ، چھوٹا سا شہر ، بند ہوچکا تھا ، بس اڈے پر رونق تھی ، وہاں کڑھائی گوشت کھایا ۔ جس کا لطف ابھی بھی یاد ہے ۔
  پھر واپسی پر روہڑی تک ٹرین میں آئے اور روہڑی سے کوئیٹہ پھر موٹرسائیکلوں پر سفر کیا ۔

کوئیٹہ تا کراچی اور جعفر آباد کے تمام راستے میں ، بلوچوں کی محبت سمیٹتے آئے ، ہمیں کہیں بھی احساس نہیں ہوا ، کہ کسی نے ہم کو بلوچستان کا فرد نہ سمجھا ۔

اپنی پوسٹنگ کے دوران میں تین دفعہ مہینے کی چھٹیوں پر فیملی کے ساتھ، کار میں کوئیٹہ سے کراچی اور واپسی ، سکھر ، سبی کوئیٹہ آیا - کہیں بھی کسی قسم کا کوئی حادثہ نہ ہوا ۔
پھر سیاسی لوگوں کے مفادات نے ، معصوم عوام کے ذہنوں میں زھر بھرنا شروع کیا ۔ اب وھاں موت کا رقص ہے ، وہ محبتیں خوف میں تبدیل ہو گئیں، زبانوں کی مٹھاس میں نفرت کا زہر بھر گیا ۔

ایسا کیوں ہوا ؟ کسی کے پاس کوئی جواب نہیں لیکن بس ہو گیا ۔ نفرتوں کا زھر بھرنے والے اس دنیا سے جاچکے ہیں ، لیکن زخموں سے زھر ٹپک کر ، فضا کو مزید زہریلا کر رہا ہے ۔

کیا اسے روکا جا سکتا ہے ؟

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔