میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 16 اگست، 2013

بالاچ بلوچ کے نام !



بالاچ بلوچ بھائی : معذرت کے ساتھ ، بلوچستان میں بلوچوں سے ہونے والی زیادتیوں کا سبسب خود بلوچ سردار ہیں :

1- ان کے بچے ہر قسم کی تعلیم حاصل کرتے ہیں ، لیکن ان کے زیر سایہ بلوچ قوم کے ، بچوں کو ان پڑھ رکھا ۔ نواب بگٹی کو تعلیم کی افادیت کا اندازہ تھا ، جبھی انہیں ان کے والد نے ، بغیری امتحان پاس کئے ، " سول سروسز اکیڈمی " لاہور میں اعلیٰ افسری تعلیم دلائی
۔
2- حکومت پاکستان نے ، بلوچ سرداروں کے بے اندازہ پیسہ دیا ، انہوں نے کراچی ، لاہور ، اسلام آباد ، دبئی میں اپنے بنگللے بنائے اور بلوچ ، قوم کے بچے آج بھی غربت میں دبے ہیں روزگار نہ ملنے کی وجہ سے ۔

3- بلوچی آج بھی ، پاقی قوموں کے برابر کھڑے ہوکر اپنی معاشی حالت بہتر بنا سکتے ہیں ، اگر وہ رقم جو ، غیرملکی قوموں ، مختلف این ، جی اوز کو بلوچ بچوں کی تعلیم کے لئے دے رہی ہیں ۔

4- بلوچی بچے ، جاہل نہیں اللہ تعالیٰ نے انہیں بہترین دماغ دیا ہے ، ان کی صلاحیتوں کا مجھے اندازہ ہے ، کیوں کہ میرا بچپن، میری جوانی اور میری فوجی ملازمت کے تیرہ سال بلوچستان میں گذرے ہیں ۔

اب بھی وقت ہے ، بندوق کی آوازر اپنا حق چھیننے کے بجائے ، صلح حدیبیہ ، کا نمونہ اپناتے ہوئے ، اپنی ڈوبتی قوم کو ایک نئی زندگی دیں ۔

یاد رکھیں کہ بلوچ بھی مہاجر ہیں وہ کیسپئین کے علاقے سے افغانستان اور پھر ایران سے ہوتے ، موجودہ بلوچستان آئے
مير جَلال حان بلوچ نے 1300 میں بلوچ حکومت کی بنیاد رکھی ،اس کا والد میر جائیند خان کے بارے میں تاریخ خاموش ہے ۔ میر الائی اور میر نوس اس کے بیٹے تھے ۔
مير جَلال حان بلوچ کے چار بیٹے ۔ رند، لاشار، ہوتھ اور کورائی اور ایک بیٹی "جتوئی" تھی (غلالم مصطفیٰ جتوئی کی کئی پشتوں پہلے نانی، دادا مراد بلوچ کو تو کوئی جانتا نہیں )۔ سب سے بڑا بیٹا رند میر جلال خان کے بعد سردار بنا اور یہ کہانی آگے چلی ۔ ان سے آگے قبیلے بنے ۔ بلیدی ، بعد میں بنے  - بلوچیوں کی جس شاخ نے کیسپیئن کے علاقے سے ، مصر ہجرت کی اور وہاں ، حبشی عورتوں سے شادیاں کی یہ ان کی اولاد ہیں ، جنہوں نے عرب سوداگروں اور فوجوں کے ساتھ ، برصغیر میں ورد ہوئے ، یہاں ان کو ایتھوپین حبشی (مکرانیوں ) نے رہنے کی راہ دکھائی ۔
اسی طرح مکرانی بلوچ ، ایتھوپیا ، یمن سے ہوتے ہوئے ، مسقط اور پھر ، مکران آئے ۔

بروہی
Barohi، بلوچ نہیں وہ وسطی ہندوستان سے آئے ، ان کی بلوچوں سے لڑائی ہوئی ، دونوں اپنے اپنے علاقوں میں پرسکون ہو گئے ۔

پاکستان کی سرزمین مہاجروں سے بھری ہوئی ہے ، ہر قوم کہیں نہ کہیں سے آئی اور اپنے اپنے علاقوں پر قابض ہو کر بود باش اختیار کر لی -

یاد رکھیں ، کلہاڑی کو لکڑیاں کاٹنے کے لئے دستہ ، لکڑی ہی دیتی ہے ۔

کوئی قوم آپ کے حقوق غصب نہیں کر سکتی ، اگر آپ کے ہاتھ مضبوط ہوں اور آپ کی ٹانگوں میں دم ہو ۔ تلوار دوسروں ، کی زمین، دولت اور عورتیں چھیننے کے کام آتی ہے لیکن اب وہ زمانہ نہیں ۔ اب علمی اور معاشی ترقی ہی ، ہاتھ اور پاؤں مضبوط کر سکتی ہے ۔
جن قوموں نے اپنے بچوں پر توجہ دی وہ معاشی اور سماجی لحاظ سے خوش حال ہیں ، اور جو "جھینگر" کی طرح "پدرم سلطان بود" کی لے پر خود کو رکھتی رہیں وہ ، ھبوط آدمیت کی طرف جارہی ہیں ۔

اگر آپ واقعی ، " بالاچ بلوچ " ہیں تو ، اس "ھبوط آدمیت " بلوچی اقوام کو روکئے ۔

اگر نہیں تو ، نفرت پھیلانے کے لئے ، اس نام کو خدارا مت استعمال کریں ۔ شکریہ

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔