میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

جمعہ، 2 اگست، 2013

مربوط تعلیمی انقلاب

مربوط تعلیمی انقلاب   (Unified Educational Renaissance)
 1 -   تمہید 

    تعلیم ایک نظام حیات ہے جو انسانی زندگی کے ارد گرد کے ماحول سے پروان چڑھتا ہے۔  خواہ یہ ماحول اُ س کے رہائشی علاقے کا ہو یا نزدیکی شہر کا، جو طریقہ ء تعلیم میں تبدیلی کا سبب بنتا ہے۔ ٹیلیویژن اور کمپیوٹر کی جدید دریافت کے سبب انسانی دنیا سمٹ کر گھر کے ایک کمرے میں سما گئی ہے۔ جس نے انسان کو انسانی ترقی  یافتہ ماحول سے،اپنے ماحول کے فرق کو سمجھنے اور اُسے قابل قبول حد تک تبدیل کرنے کے مواقع  فراہم کئے ہیں۔ اِس کے باوجود یہ قابل قبول ترقی سوسائٹی کے اُن رویوں پر منحصر ہے جس کی بنیاد پر وہ اِس تبدیلی کو اپنانا چاہتی ہے یا اُس سے اجتناب کرنے کے موڈ میں ہے ؟۔کیا وہ سوسائٹی نئے زمانے میں اُسکی ترقی کے ساتھ قدم بہ قدم چلے  یا اسلاف کی میراث سے چمٹ کر اُس کا ماتم کرے؟۔”ایک عقلمند اور دانا شخص ہزار بے وقوفوں پر بھاری ہوتا ہے“۔ کیوں کہ یہ جمہوریت کا نہیں بلکہ آفاقی سچائیوں کا سنہری اصول ہے۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی ساخت اور زبان عطا کر کے اُسے ایک امتیازی حیثیت دی۔جس کے باعث وہ اپنے خیالات دوسروں کو سمجھا سکتا ہے اور دوسروں کے خیالات سمجھ کر اُن پر عمل کر سکتا ہے۔ انسان کے دماغ میں پیدا ہونے والے تصورات، خوابوں کی دنیا سے اُس وقت نکلتے ہیں جب وہ اُن پر عمل کرنے کے ٹھان لیتا ہے، جس کا انحصار اُسکی قوتِ فیصلہ پر ہے اور قوتِ فیصلہ وہ عظیم الشان طاقت ہے جس کی بدولت، انسانی خواب ایجادات میں تبدیل ہو گئے۔ قوتِ فیصلہ کے تین عوامل ہیں۔ میں یہ کام کر سکتا ہوں۔ مشکل ہے لیکن کر سکتا ہوں۔ نہیں  بہت مشکل ہے، میرے لئے یہ کام کرنا ممکن نہیں۔پہلے دو عوامل نے انسان کے ارد گرد کے ماحول میں حیرت انگیز تبدیلیاں کیں۔ یہ تبدیلیاں کسی اچانک کھل جاسم سم کی وجہ سے وجود میں نہیں آئیں۔ اِس میں انسان کی بتدریج کوششیں شامل تھیں، جن کا بنیادی مقصد، روزگار اور اپنی زندگی کو آسان بنانا تھا۔ مثلاً نیزے یا بھالے سے کاشت کے لئے زمین کھودنے سے لے کر جدید ٹریکٹروں تک کا سفر اِس کی بہترین مثال ہے۔ جس میں ٹیکنیکل تعلیم ایک بنیادی  عنصر رہی ہے۔ لیکن اِن میں ایک بات جو سب سے اہم ہے کہ اِس میں انسانی قوتِ فیصلہ کے اُس عنصر کا سب سے زیادہ عمل دخل تھا جسے ہم رُجحان(Apptitude) کہتے ہیں اِس رجحان نے انسانوں کے مختلف طبقات بنا دیئے۔اِن انسانی طبقات نے دنیا میں انقلاب برپا کر دیا۔ ہر انسان نے اپنے اپنے رجحان کے مطابق اپنی اپنی ذمہ داری سنبھال لیں۔ یوں ایک معاشرہ چیونٹیوں کی اُس کالونی کی مانند ہو گیا جس کا ہر فرد اپنی کالونی کی بھلائی کے لئے اپنی ذمہ داریوں کے دائرے میں جُتا ہوا ہے۔لیکن جہاں کسی نے اپنی ذمہ داری سے کو تاہی برتی تو معاشرے کا سفر اُس کے تمدّنی زوال پر ختم ہو گیا۔ کیونکہ  آفاقی سچ ہے: ”کرہ ارض پر وہی قائم رہے گا جو انسان کے لئے نفع بخش ہو گا“۔

    کسی بھی معاشرے کا تمدّنی زوال اُس کی معاشی ذمہ داریوں کی زنجیر کی کسی کڑی کے کمزور ہونے یا ٹوٹنے کی بنیادی وجہ ہوتا ہے۔پاکستان میں معاشی زوال یا سست رفتاری کی وجہ تعلیمی نظام کی وہ کمزور کڑیاں ہیں جن کی وجہ سے رُجحان نہ ہونے کے باعث ایک اہم فرد کوغلط ذمہ داری سونپ دی جاتی ہے یا وہ معاشرے کی بھیڑ چال کا شکار ہو کر خود انتخاب کرتاہے، اُسے بعد میں احساس ہوتا ہے کہ وہ کیا غلطی کر بیٹھا، یوں اُس کی واپسی ممکن نہ ہونے کی وجہ سے وہ اہم فرد بننے کی بجائے ایک عام فرد بن کر معاشرے کی مضبوط معاشی زنجیر کی کڑیوں کی کمزوری کا سبب بنتا ہے۔ قوتِ فیصلہ ہر انسان میں موجود ہے جس سے وہ اپنے انفرادی راستے کا انتخااب کر سکتا ہے۔ لیکن کیوں کہ انسان معاشرے کی ایک بنیادی اکائی ہے لہذا اُس کی قوتِ فیصلہ کو اُس کے رُجحان کے مطابق صحیح نتائج کا حامل بنانے کے لئے باقی اکایؤں کا عمل دخل و اشتراک نہایت ضروری ہے۔ پاکستان میں سب ڈاکٹر یا انجنیئر نہیں بن سکتے ورنہ ”تو بھی رانی میں بھی رانی کون بھرے اب پانی“  سے پیدا ہونے والے نتائج کا معاشرہ متحمل نہیں ہو سکتا۔

    ہمارے تعلیمی نظام میں اِس کی بہترین مثال دیکھی جا سکتی ہے۔ جہاں ایک فرد کے ذہن میں تعلیمی نظام نے یہ نقش کر دیا ہے کہ سفید کپڑے پہن کر میز کے پیچھے کام کرنے والا شخص صرف اُس تعلیمی نظام سے بنتا ہے جو ہمارے سکولوں میں رائج ہے۔ جہاں میٹرک تک دس سال ضائع کرنے والا ایک بچہ امتحان پاس نہ کرنے کی وجہ سے معاشرے کا ایک ناکارہ فرد بن کر بے روزگاروں کی قطار میں اضافہ کرتا ہے۔ کیوں کہ اُسے کسی عقل مند نے بتایا ہی نہیں کہ وہ اپنے رُجحان اور ذہنی استعداد کے مطابق معاشرے کی معاشی زنجیر کی کون سی کڑی بنے جو اُس کے مستقبل کے لئے بہترین ہو۔جس سے اُس کو روزگار حاصل ہو اور جو اُسکی مزید تعلیم اور پھر اعلیٰ تعلیم کی بنیاد بھی ہو۔ جو اسکی اُن صلاحیتوں کو بیدار کرے جو قدرت نے انسانیت کی بھلائی کے لئے اُس میں الہام کی ہیں۔

    انسانیت کی بھلائی کا آغاز اُس کے کنبے کے معاشی سکون سے وابستہ ہے۔ یہ ایک ایسی کڑی ہے جس کو کمزور رکھ کر دنیا کا کوئی انسان اپنی ذہنی صلاحیتوں کا صحیح استعمال نہیں کر سکتا اِس وقت بین الاقوامی سطح پر تعلیمی نظام کا نتیجہ ٹیکنیکل ایجادات ہیں۔ خواہ یہ سوئی سے لے کر خلا میں چہل قدمی کے لئے ہو۔ لیکن اِن سب کے لئے افرادی قوت کا ٹیکنیکل نظام تعلیم سے گذر کر اپنی صلاحیتوں کے مطابق مقرر ہ نظام میں پیوست ہونا ضروری ہے۔ تمام ترقی یافتہ اقوام ٹیکنیکل تعلیمی نظام کی بدولت اپنی معاشی ترقی عروج پر پہنچانے میں مصروفِ عمل ہیں۔ جس کے باعث وہاں انفرادی معاشی بدحالی کا تناسب ترقی پذیر قوموں کی نسبت بہت کم ہے۔

    زبان ذریعہ ء اظہار ہے۔ وہی زبانیں دنیا میں باقی رہیں گی جو کامیاب انسانی معاشی نظام سے منسلک ہوں گی۔اِس وقت انگلش بین الاقوامی زبان ہے۔ جس نے ٹیکنیکل تعلیمی نظام کی ترقی میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ زندہ زبانوں کی یہ خوبی ہے کہ وہ  دوسری زبانوں کے الفاظ اپنے اندر سمو کر بین الجزائر سے بین الاقوامیت کا لبادہ اوڑھ لیتی ہیں۔  اردو زبان کی یہ خوبی ہے کہ یہ ہر زبان کو اپنے اندر سمو لینے کی خاصیت رکھتی ہے۔ ترکی کے ”اَردوُ“ سے نکلنے والی اِس زبان نے عربی اور فارسی کے آسان الفاظ کو اپنا کر  ہندی اور دوسرے الفاظ کو اپنے اندر جگہ دی پھر انگلش کے الفاظ کو اپنے قالب میں ڈھالنے کی وجہ سے، آہستہ آہستہ اصولِ گرائمر سے آزاد پاکستان کے تمام صوبوں میں بولی اور سمجھی جانے لگی۔ پھر بولنے والوں نے آہستہ آہستہ غیر محسوس طریقے سے اپنی گرائمر اور تلفظ کو اُس حد تک ٹھیک کرنے کی کوشش کی جہاں تک اُن کے لئے  قابل قبول ہوا۔ اگر ہماری علاقائی زبانیں اپنے کلچرل اثاثوں کے ساتھ بین الاقوامی ٹیکنیکل تعلیمی نظام کے ساتھ مربوط ہو جائیں تو ہمارے ملک کا معاشی ڈھانچہ رینگنے کی بجائے دوڑنا شروع کر دے گا اور ممکن ہے کہ ہمارے اسلاف کی میراث جو یورپ کے اقتصادی نظام کے ہم رکاب ہے شائد ہمیں اپنے ساتھ شامل کرلے، امریکہ، کینیڈا، یورپ اور انگلستان میں پچھلے  چار عشروں سے اُن کی ترقی میں مدد کرنے والے پاکستانیوں کے بتدریج اخراج اور اُن کے متبادل دوسرے ملکوں سے لینے کی وجہ سے ہمارا معاشی نظام مستقبل میں ڈوبنا شروع ہوجائے۔ جس کے لئے ہر مخلص پاکستانی کو ابھی سے جنگی بنیادوں پر وہ علوم حاصل کرنے پڑیں گے جو ایک فرد کی معاشی ترقی کے ضامن ہیں۔ ہمیں ایک سب سے اہم نکتے کو نظرانداز نہیں کرنا چاہیئے کہ ہم دوسروں کی جنگ لڑتے لڑتے اقوامِ عالم میں تنہائی کی طرف دھکیلے جا رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود اقوام عالم کو ہمارے محنتی افراد کی ضرورت ہے۔  ہمیں اِس سمت بھی دیکھنا ہو گا جہاں جزیرہ نماعرب واقع ہے، جہاں تعمیراتی ترقی اپنے عروج پر ہے۔ جو ہمارے محنت کشوں کے لئے بہترین معاشی میدان ہے۔ لیکن اِس کے لئے ہمیں عربی زبان کو انگلش سے زیادہ اہمیت دینی ہو گی اور اِس کا دوسرا اور اہم فائدہ ہماری روحانی ترقی کی بنیاد ہو گا۔

    لیکن یہ سب حاصل کرنے کے لئے ہمیں اپنے اہداف مقرر کرنے ہوں گے اور پھر اُن سے مقاصد کی طرف آسانی سے بڑھا جا سکے گا۔

 2   -  اہداف
 2.1  -   تعلیمی نظام میں ہم آہنگی۔    تعلیمی نظام کی ہم آہنگی کے ہدف کا مقصد مختلف تعلیمی اداروں (ووکیشنل، سائینسی، پروفیشنل اور عمومی تعلیم) کو اِس طرح مربوط کرنے کی کوششیں کی جائیں تاکہ ایک بااعتماد، بنیادی تخلیقی سوچ اور تجزیاتی قوت  سے مالا مال فرد تیارہو کر علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی مفید شہری کا کردار ادا کر سکے۔نیز یہ لازمی ہے کہ ایک بچے میں اتنی خود اعتمادی ہو کہ وہ اپنے مستقبل کے لائحہ عمل کا چارٹ خود بنا کر اُس پر عمل کر سکے۔ ہر معاشرے کی اپنی سیاسی، سماجی اور معاشی اقدار ہیں جو ہر بچے کی تربیت میں خود بخود سرایت کر جاتی ہیں۔ لیکن ان اقدار کو علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی اقدار سے متحارب نہیں کرنا چاہیئے۔ اچھی اقدار کسی کی میراث نہیں بلکہ قدرت کی دین ہیں جو انسانی فطرت میں الہام کر دی گئی ہیں۔انہیں جھوٹی انا کی صلیب پربغض کی رسی سے نہیں لٹکانا چاہیئے۔ تعلیمی نظام کا بنیادی مقصد سیاسی، سماجی اور معاشی  ترقی کی مضبوطی ہے لیکن سب سے اہم،  فرد کو ذریعہ ء روزگار مہیا کرنے کے مواقع پیدا کرنے ہیں تاکہ وہ اپنی تعلیم کی بدولت تندرست معاشرے کا ایک فرد بن سکے۔ بدقسمتی سے ہمارے سرکاری تعلیمی نظام میں داخل ہونے والے 60سے 65فیصد طلباء کسی نہ کسی وجہ سے میٹرک سے آگے نہیں پڑھ سکتے۔ چنانچہ جب وہ روزگار کے لئے نکلتے ہیں تو انہیں مزید کئی سال خود کو اپنے مضبوط قدموں پر کھڑا ہونے کے لئے درکار ہوتے ہیں۔

  2.2  -   خواندگی میں اضافہ۔    خواندگی کا مطلب صرف یہ نہیں کہ ایک فرد صرف اخبار پڑھ لے یا اپنے دستخط کرسکے یا کسی سیاسی بحث میں خود کو منوا سکے یہ صرف خود کو دھوکہ دینے کے علاوہ کچھ نہیں خواندگی تمام زندگی پر محیط عمل ہے۔ جس کی بدولت ایک فرد، ایک گروپ  اور قوم اپنی سوسائٹی کی معاشی ترقی میں متاثر کن اور مثبت کردار ادا کر سکے۔ غیر میعاری خواندگی کی کئی وجوہات ہیں  جن میں رسوم و رواج، مذہبی اور سماجی بندشیں، غربت، کسی وجہ سے بچے کا تعلیم منقطع کرنا، عام پڑھائی کی طرف رجحان نہ ہونا، والدین کی ناخواندگی،خاندانی معاشی ضرورتوں کے باعث بچے کا روزگار پر توجہ نہ دینا، اور خواندگی بڑھانے والے اداروں کی کمزوریاں۔ خواندگی کی شرح بڑھانے والے اداروں کا آپس میں ربط نہ ہونے کی وجہ سے یک سمتی کو ششوں کا نہ ہونا۔ ہر سمتی عمل بھی خواندگی کی شرح کو غیر محسوس انداز میں نیچے لے جاتے ہیں۔جس کی وجہ سے ملک کا معاشی گراف بھی نیچے اترتا ہے۔ خواندگی کی لئے ضروری ہے کہ عمر، ذہانت اور جنس کے اعتبار سے گروپ بنائے جائیں  اور انہیں کھیل اور پڑھائی (Play & Learn)کے انداز میں عمومی  تعلیم حاصل کرنے والوں سے ہٹ کر تعلیم دی جائے۔اِس کے لئے خصوصی نصاب، سیکھنے والی اشیاء  کی موجودگی، غیر عمومی تعلیم سکھانے کے لئے مختلف قابلِ عمل طریقے اور تعلیمِ بالغاں کے مناسک (پروگرام) اختیار کرنے پڑتے ہیں۔

 2.3  -   طفلی تعلیم  بچوں میں جلدی تعلیم Early Childhood Education (ECE) شروع کرانے سے اُن میں سماجی اور جذباتی شعور بیدار ہوتا ہے۔ انسانی ذہن پرریسرچ کرنے سے معلوم ہوا ہے کہ ڈھائی سال سے تین سال کی عمر کے لگ بھگ بچوں کا ذہن سیکھنے اور یاد رکھنے کے لئے مکمل تیار ہو چکا ہوتا ہے۔جب اُس کے ذہن کو سوچنے، سمجھنے اور یاد رکھنے کے عمل سے گزارا  جاتا ہے تو دماغ میں موجود خلیے اُس عمل سے بڑھنا شروع ہو جاتے ہیں اور دماغ کا سائز بھی بڑھنے لگتا ہے۔ وہ افراد جو ٹیکسی چلاتے ہیں اُنہیں پورے شہر کا نقشہ ازبر ہو جاتا ہے۔ ٹیکسی ڈرائیوروں کی پوسٹ مارٹم ریسرچ کے دوران اُن کے دماغ کے کچھ خلیے عام افراد کے دماغ کے انہی خلیوں سے  سائز میں بڑھے ہوئے پائے گئے نیز کئی پوسٹ مارٹم ریسرچ سے معلوم ہوا کہ انسانی ذہن میں اللہ تعالیٰ نے ہر یاداشت کو ازبر کرنے اور اِسے رکھنے کے لئے الگ الگ یاداشت کے خانے رکھے ہیں اور دماغ میں جانے والی معلومات اپنے اپنے خانوں میں جاکر محفوظ ہو جاتی ہیں۔ اِس عمل کا تعلق رجحان  سے ہوتا ہے۔ طفلی تعلیم کے دوران مستقبل کی معاشی زندگی کو اختیار کرنے کی کوششیں کرنا ایک مثبت عمل ہے جس کے لئے تعلیم حاصل کی جاتی ہے گویا ہر تعلیم کا مرکز ِ اول روزگار کا حصول ہے۔ اگر تعلیم،رُجحان اورمستقبل میں دستیاب وسائل ِ روزگار کو مد نظر رکھ کر پلان کی جائے تو ہمیں لیبر فورس، ٹیکنیکل ماہر، ٹیکنیکل پلانر، پیرا میڈیکل سٹاف،  ایجادات کے مصوّر، اور دیگر ہنر مند ملک کی معاشی ترقی کے لئے مہیا ہونے لگیں گی اور وسیلہء روزگار میں خود احتسابی سے وسیع سماجی ماحول، غیر سماجی ماحول کو کم کرنے اور معاشرتی میل جول بڑھانے میں مدد  ملے گی۔ 

    طفلی تعلیم کا بنیادی مقصد بچوں میں کھیل کھیل میں تعلیم کا حصول ہے جس سے اُن کے تعلیمی میلان میں اضافی ہوتا ہے  اُن کے رُجحان کے متعلق معلوم ہوتا ہے۔ بچوں کے آپس میں مشغولات سے سماجی اور شعوری تعلق میں اضافہ ہوتا ہے۔ پڑھائی اور کھیل کا مقصد اُن میں عام نظامِ تعلیم سے ہٹ کر دلچسپی پیدا کرنا ہے۔تاکہ آئیندہ سالوں میں اُن کا دل تعلیم سے اُچاٹ نہ ہو۔

    بچوں میں بڑھتے ہوئے تعلیمی معیار کو جانچنے کے موجودہ طریقے میں کئی خامیاں ہیں۔ جن میں سے سب سے اہم تجرباتی اور تجزیاتی تعلیم کا فقدان ہے۔جس کی وجہ سے بچے میں تخلیقی اور جدّت پسندی کا رُجحان ختم ہو کر صرف اور صرف رٹّا کلچر جنم لیتا ہے جو کئی بچوں کو سرسری تعلیمی معیار پر گرا دیتا ہے۔ جب کہ تعلیم کا مقصد نہ صرف بہتر روزگار حاصل کرنا ہے بلکہ اپنے ماحول کو دنیا کی جدید اور تخلیقی نظام معیشت کے قدم بقدم رکھنا ہے۔ رٹّے سے بچے میں خود غرضی کا رُجحان پیدا ہوتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا ہے اور دوسرے بچوں کو اپنے ساتھ لے کر چلنے کی صلاحیت مفقود ہو جاتی ہے۔کوشش کی جانی چاہیئے کہ بچوں میں نقّادی تجزیاتی صلاحیتیں بیدار ہوں تاکہ پوری زندگی پر محیط تعلیمی کوشش میں اضافہ ہو جو ایک لمبی ”میراتھن“ ریس ہے جس کا اختتام زندگی کے خاتمے پر ہوتا ہے۔ لہذا تعلیم کو جانچنے کامعیار،  نظام تعلیم اور طالبعلم کی انفرادی کوششوں پر مشتمل ہوتا ہے جس کے ذریعے طالبعلم معاشی زندگی کے حصول کے لئے آگے بڑھتا ہے۔چنانچہ جانچنے کا معیارایسا ہونا چاہیئے جس میں تخلیقی سوچ، تجزیاتی صلاحیت اور مشکلات سے زور آزمائی کی قوت کو بھی مد نظر رکھا جاسکے۔ہر صلاحیت کو مختلف اوزان دیئے جائیں جس میں سب سے زیادہ فوقیت تجرباتی کاوشوں کو عام امتحانات پر دی جائے۔ بچپن ہی سے شروع ہونے والی تخلیقی، تجزیاتی، تجرباتی اور مشکلات سے نبر و آزما ہونے کی خفتہ صلاحیتوں کو بیدارکرنے والی تعلیم آئندہ آنے والے بڑے بڑے امتحانات میں مددگار ثابت ہو گی۔ یہاں ملک کے دو افراد کا حوالہ دیا جا سکتا ہے۔ مشہور صحافی نذیر ناجی صاحب اور ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب دونوں الگ الگ میدان کے ماہر ہیں۔ ایک کے پاس آٹھویں جماعت کا سرٹیفکیٹ ہے اور دوسرے کے پاس سرٹیفکیٹ اور ڈگریوں کی بھرمار ہے، دونوں نے اپنی  تخلیقی اور تجزیاتی قوّتوں کو استعمال کیا مگر ڈاکٹر صاحب نے تجرباتی اور مشکلات سے نبر و آزما ہونے کی خفتہ صلاحیتوں کوبھی آزمایا۔ دونوں نے اپنے اپنے اہداف حاصل کئے۔

 2.4   -   تعلیم کا ہنگامی آغاز ہمارے ملک میں مختلف سیاسی حالات کے سبب تعلیم میں جو رکاوٹ پیدا ہوتی ہے اُس سے سب سے بڑی رکاوٹ بچوں کو عام تعلیم کی طرف دھکیلنا ہے۔جس سے ایک بچہ اپنے اردگرد کے مختلف حالات کی وجہ سے اپنی تعلیم جاری نہ رکھنے  کے باعث ذاتی اور ملکی معاشی ترقی میں ذہین ہونے کے باوجود کوئی کردار نہیں ادا کر سکتا۔جب کہ اگر ہم اُسے شروع ہی سے ایسے نظام تعلیم میں ڈالتے جو اُسے ہر قدم کوئی نہ کوئی فائدہ پہنچاتا۔ مثلاً اگر ہم اپنے تعلیمی نظام میں ہنگامی تبدیلی لاتے ہوئے پرائمری، مڈل اور سیکنڈری لیول پر ایسا تعلیمی نظام نافذ کریں جو ہر طالب عمل کو کسی بھی لیول پر تعلیم چھوڑنے پر حاصل کردہ تعلیم کی مناسبت سے روزگار فراہم کرنے کا ذریعہ بنے  نیز اگر وہ  اپنی تعلیم کو وقفے کے بعد مزید جاری رکھنا چاہے تو اُس کو دوبارہ وہیں سے شروع کرنے کی بجائے  اُس کا پریکٹیکل ایکسپیرئینس جانچ کر اُسے، اُس درجے میں شامل کیا جائے جس کے مطابق اُس کا پریکٹیکل ایکسپیرئینس ہو  یا اگر کوئی ایسا طالب علم جو نہایت ذہین ہو اُسے اپنی ذھانت کے مطابق اگلے درجے یا درجوں میں ترقی دیتے ہوئے، اُسے خصوصی نظام تعلیم میں ڈالا جائے جہاں اُس جیسے اعلیٰ ذہانت کے حامل دیگر بچے ہوں۔اس تعلیمی نظام کے تحت تربیت حاصل کرنے والے بچوں کے لئے چھوٹے چھوٹے پریکٹیکل ایکسپیرئینس کے پروگرام ترتیب دیئے جائیں اور مقامی اداروں، صنعتوں اور گورنمنٹ کے شعبوں کے تعاون سے انہیں ورکنگ ماحول سے واقفیت دلائی جا سکے جو بعد میں انہیں اپنے رُجحان کے مطابق روزگار یا مزید تعلیم حاصل کرنے میں معاون ثابت ہو سکے۔

2.5   -   تعلیم معیار  ۔  تعلیم کا معیار کیا ہونا چاہیئے یہ ایک قابلِ بحث مضمون ہے۔ کسی بھی ملک کی ترقی کا انحصار سب سے زیادہ، پڑھے لکھے  افراد کی تعداد اور اُن کے معیار پر ہوتا ہے۔ جس معیار کا گنّا آپ مشین میں ڈالیں گے اُسی معیار کا رس نکلے گا۔ اُس کو مزید میٹھا کرنے کے لئے اُس میں اگر آپ چینی یا شکر ملانے سے آپ اُس کا معیار گرا دیں گے، گنّے سے میٹھا قدرتی رس لینے کے لئے اُس کے بیج سے لے کر اُس کے کٹنے تک ہر چیز اگر معیاری ہو گی تو لازماًہمیں اعلیٰ معیار کا رس ملے گا۔ اِسی طرح تعلیمی نظام میں،معیار کی بہت اہمیت ہوتی ہے۔لیکن انسان گنّے کی فصل نہیں، کہ ایک دفعہ اُگ جائے تو پھر اُس میں تبدیلی نہیں ہو سکتی، انسان کی زندگی حالات و واقعات کے مطابق مسلسل تبدیلی کے عمل سے گزرتی ہے۔لیکن ایک بات طے ہے کہ بنیادی تعلیم کا معیار اگلے درجوں کی تعلیم پر گہرا اثر ڈالتا ہے۔جس کی وجہ ٹیچر کا تعلیمی و تدریسی معیار، تدریسی نصاب، درسی کتب کا معیار، جانچنے کا طریقہ، تدریسی ماحول اور سہولتیں۔ ہمارے معاشرے میں طفلی تعلیم میں طالبعلم  کی دو تہائی (2/3)کار کردگی کا انحصار اُس کے سکول کے باہر کے ماحول، یعنی: 
(1)گھر(والدین کا معاشی، سماجی و تعلیمی درجہ، خصوصاً والدہ کا تعلیمی معیار، گھر پر تعلیمی ماحول کے ذرائع کی دستیابی) - 
(2)  محلہ یا سوسائٹی پر منحصر ہے۔ اور  ایک تہائی (1/3) کار کردگی ٹیچر کے تدریسی رُجحان پر منحصر ہے۔ 
اگر ہم طالبعلم کے سکول کے باہر کے ماحول کو کنٹرول کر لیں تو یقینا ہم اپنے ملک میں تعلیم کے معیار بلند کرتے ہوئے ملک کی معاشی ترقی میں معاون ثابت ہوں۔ ہمیں اپنے تعلیمی نظام کے بنیادی ستونوں کو مضبوط بنیادوں پر استوار کرنا پڑے گا۔ جن میں تدریسی نصاب، درسی کتب کا معیار، ذہانت و قابلیت جانچنے کا طریقہ، ٹیچر، تدریسی ماحو ل اور سہولتیں، تدریسی ادارے، اور سب سے اہم معاشی اور عملی زندگی سے متماثل روزگار کی ملکی و غیر ملکی مارکیٹ شامل ہیں۔ تدریسی معیار میں اصلاح کی اہمیت سب سے زیادہ ہے۔

2.6   -  ٹیچر کا معیار  ۔  ایک عام رائے شماری کے مطابق ہمارے ملک میں ٹیچر کا تدریسی معیار نہایت ناقص ہے۔ تدریس ایک ذریعہ ِ روزگار بن چکا ہے گو کہ اِس میں برائی نہیں اگر اِس میں تربیت یافتہ اور تدریسی رُجحان رکھنے والے افراد آئیں۔کم نمبروں سے پاس ہونے والے جب کہیں روزگار نہیں پاتے تو وہ تدریسی شعبے میں شامل ہو جاتے ہیں۔ چنانچہ سکول اُن کی ڈگریوں اور سرٹیفکیٹ سے فائدہ اُٹھاتے ہیں اور اُنہیں تعلیم میں حاصل کئے ہوئے گریڈ کے مطابق تنخواہ دیتے ہیں۔خصوصی طور پر لڑکیوں کو اِس شعبے میں زیادہ کشش محسوس ہوتی ہے۔ سکول انتظامیہ بھی ایک ٹیچر کو زیادہ سے زیادہ مضمون پڑھانے کو دیتی ہے۔کلاس میں بچوں کی تعداد بھی ٹیچر کی استعداد کو متاثر کرتی ہے۔طفلی تعلیم میں ٹیچر کے تدریسی معیار کو بہت اہمیت حاصل ہوتی ہے۔ کیوں کہ یہ بچے کی تعلیم کی بنیاد ہوتی ہے۔ 

2.7  -   تعلیمی نصاب  ۔
تعلیم کے سفر میں طلباء کو راستہ بتانے والے راہنماء، تعلیمی نصاب کی اہمیت اولین ہے۔ جس کا مرکز ٹیچر ہوتا ہے اور درسی کُتب کی ترقی نصاب کی مرہونِ منت ہے۔ نصاب کی ترقی اہداف اور نتائج کے حصول سے منسلک ہے۔ نصاب کی ترجیحات میں مبادیات کے بجائے نتائج کو اہمیت حاصل ہو، تاکہ بین الاقوامی مارکیٹ کا مقابلہ کرنے کے ساتھ ملکی سماجی معاملات بھی مدنظر ہوں۔نیز اِس میں اتنی لچک ہو کہ خود تدریسی، تفتیش کی روح، تجزیاتی سوچ، مسائل کا حل، ٹیم ورک اور علاقائی نصابی مٹیریل کو زیادہ سے زیادہ جگہ مل سکے۔نصاب کو شہریوں کی بنیادی معاشرتی حقوق کی اطلاعات بھی فراہم کرنی چاہیئے تاکہ ہر فرد کی اپنی اور سوسائٹی کی ترقی میں مدد ملے اور معاشرتی کلچر اتنا مضبوط ہو جائے تاکہ وہ غیر آئینی خطرات کی دخل اندازیوں سے اپنے حقوق کا تحفّظ کر سکے۔ ماحولیاتی نظام کی تعلیم کو طفلی تعلیم کا حصہ بنایا جائے۔نصاب میں حفظانِ صحت کو شامل کیا جائے۔ وہ تمام عظیم افراد جنہوں نے اپنی زندگیاں مختلف علمی، تجرباتی، تجزیاتی،تعمیراتی اور سائنسی میدانوں میں انسانوں کی بہتری، بھلائی اور اُن کی ترقی کے لئے وقف کر دیں اُن کے کارناموں کو نصاب کا لازمی حصہ بنایا جائے تاکہ اُن کے رول ماڈل سے متاثر ہو کر اپنے رُجحان کے مطابق طالبعلم اپنی تعلیمی زندگی اپنے رول ماڈل کے مطابق ڈھالیں۔تجرباتی تعلیم کو تھیوری پر فوقیت حاصل ہو۔نصاب کو بہتر بنانے کے لئے کمروں میں بیٹھے ماہرین کی بجائے، طالبعلم، والدین، ٹیچر، مارکیٹ کا رُجحان، انتظامی افراد، غیر ملکی تعلیمی و معاشی رُجحان کے علاوہ ملک میں وسائلِ روزگار سے مدد لی جائے۔ تعلیمی نصاب کو ہر سال پرکھا جائے اُسے جانچا جائے اور مستقبل میں مفید رہنے کے لئے اُسے ہر دو سالہ تبدیلی کے لئے لچکدار بنایا جائے۔

2.8  -   زبانوں کا ملاپ  ۔   سائنسی اور ٹیکنیکل زبان کے قبول نہ کرنے کے باعث،۔ قومی زبان اردو غیر ملکی تو کیا ملکی سطح پر بھی اپنا مقام حاصل نہ کر سکی۔ علاقائی زبانوں کے دلداداؤں نے مادری زبان میں تعلیم دینے کا نعرہ بلند کیا وہ بھی مقابلے کی دوڑ میں انگلش کا مقابلہ نہ کر سکیں۔ جس کی وجہ سے ہمارا تعلیمی نظام رکاوٹوں کا شکار رہا۔ بالآخر ہمارا تعلیمی نظام دو جزیروں میں بٹ گیا۔ انگلش جزیرہ ء تعلیم اور اردو جزیرہ تعلیم (جس میں علاقائی پیوند بھی لگے ہوئے ہیں) اِن دونوں جزیروں کے درمیان معاشی تفاوات کا سمندر حائل ہے۔ گو کہ ماہرینِ تعلیم کو اصرار ہے کہ نہ صرف طفلی بلکہ تمام تعلیم مادری زبان میں دینی چاہیئے۔ لیکن وہ یہ بھول جاتے ہیں کہ اِس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ ٹیکنیکل اور طبّی نصاب کو مادری زبان میں کیسے ڈھالیں گے؟ نیز مادری زبان میں تعلیم حاصل کرنے والے بچے جب اعلیٰ تعلیم کے لئے غیر ملکی یونیورسٹیوں میں جائیں گے تو اُن کی مشکلات کا حل وہ کیا تجویز کریں گے؟ اور سب سے تلخ سوال، کہ کیا اُن کے اپنے بچوں نے  فی الوقت رائج مادری زبان کا کون سا درجہ پڑھا؟ 

    زندہ زبانوں کا سفر کسی دریا کی طرح بہت طویل ہوتا ہے۔ جس میں علاقائی و دیگر زبانوں کے کثیر الاستعمال الفاظوں کی ندیاں اور نالے اُس میں شامل ہوتے رہتے ہیں اور وہ خود سست روی سے تمام ذخیرہ ء الفاظ کو اپنے اندر سموتی جاتی ہے۔آج سے 55سال پہلے فارسی اور عربی کے امتزاج سے ”اَردو“کا ایک لفظ ڈالتے ہوئے، ابوالاثر حفیظ جالندھری نے قومی ترانہ تحریر کیا، آج یہ”اُردو“کے محلول میں حل ہو چکا ہے۔ اِسی طرح گلاس، بیرل، ریلوے سٹیشن، آکسیجن، کاربن ڈائی آکسائیڈ، پلاس فیکٹری اور فلور مل جیسے کئی الفاظ اُردو کے لئے اجنبی تھے۔اب اِن کے متماثل اردو کے الفاظ اردو بولنے والوں کے لئے اجنبی ہو گئے ہیں۔ ”آلہ مکبر الصوت“ شائد ہی کوئی بتا سکے۔ اردو، انگلش کے ہم پلہ زبان ہے، جو فرانسیسی، ڈچ، پرتگالی، عربی اور دیگر کئی زبانوں بشمول اردو سے مل کر بنی ہے۔ چنانچہ اردو میں بھی انگلش کے تمام ٹیکنیکل الفاظ ترجمہ کئے بغیر شامل کئے جائیں تو یہ جدید انگلش کے ہم رکاب ہو جائے گی۔ پھر اردو جزیرہء تعلیم کے رہنے والے آسانی سے انگلش جزیرہ ء تعلیم میں معاشی تفاوات کا سمندر کسی وقت بھی اپنے ذخیرہ ء الفاط کی مدد سے پھلانگ کر آ سکتے ہیں۔ اِس کے لئے اُنہیں چھوٹا سا کورس کرنا پڑے گا۔جسے(
TOEFL) Test of English as a Foreign Language کہتے ہیں۔

وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْ‌ضِ وَاخْتِلَافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوَانِكُمْ ۚ إِنَّ فِي ذَٰلِكَ لَآيَاتٍ لِّلْعَالِمِينَ - ﴿30/22﴾
اُس کی آیات میں زمین اور آسمان کی تخلیق اور تمھاری زبانوں اور رنگوں کا اختلاف ہے۔ بے شک یہ آیات علم والوں کے لئے ہیں-

2.9 -    معیار تعلیم کے فاصلوں میں کمی   ۔  پہلے ذکر ہوا کہ ہمارے نظامِ تعلیم میں دوجزیرے ہیں، 
انگلش جزیرہ ء تعلیم اور اردو جزیرہء تعلیم۔
لیکن ہر جزیرہ اپنے اندر بھی دو جزیرے رکھتا ہے، جن کے درمیان تعلیمی فاصلے کو بڑھانے میں گورنمنٹ اور پرائیویٹ تعلیمی ادارے اپنا نمایاں کردار ادا کر رہے ہیں۔ جو انگلش میڈیم۔انگلش کم اردو میڈیم۔ اینگلو اردو میڈیم۔ اردو میڈیم۔ اردو کم علاقائی زبان میڈیم قسم کے سکولوں پر مشتمل ہیں۔

    ملک میں موجود تمام طلباء اپنے والدین کی معاشی استطاعت کے مطابق اِن اداروں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جن کو ہم سکول کہہ سکتے ہیں لیکن ملک کی معاشی ترقی میں اِن کا کردار 20%  سے زیادہ نہیں۔ ایک ہی اہلیت کے حامل اور ایک ہی جیسے نمبر حاصل کرنے والے بچوں کو معاشی دوڑ میں جیتنے کے لئے کوٹہ سسٹم کی بجائے اگر تحریری امتحان میں اضافی نمبر (ہینڈی کیپ) دئے جائیں تو تقسیم کچھ اِس طرح ہو گی۔
انگلش میڈیم(0%)۔انگلش کم اردو میڈیم(10%)۔ اینگلو اردو میڈیم (15%)۔ اردو میڈیم (20%)۔ اردو کم علاقائی زبان میڈیم (25%)۔

لیکن اِس کے باوجود  انٹرویو میں صرف انگلش میڈیم۔انگلش کم اردو میڈیم کے درمیان مقابلہ ہو گا۔ جبکہ باقی سکولوں کے 83%طلباء مقابلے کی دوڑ سے باہر ہو جائیں گے۔  چنانچہ ہمارے اندازے کے مطابق پروفیشنل ٹیسٹوں میں کامیابی کا تناسب کچھ اِس طرح ہو گا۔

انگلش میڈیم(45%)۔انگلش کم اردو میڈیم(38%)۔ اینگلو اردو میڈیم (10%)۔ اردو میڈیم (5%)۔ اردو کم علاقائی زبان میڈیم (2%)۔

 2.10 -    ذہین طالبعلموں کا چناؤ  ۔   پاکستان میں بہترین جاب اُن طالبعلموں کے لئے ہیں جنہوں نے تعلیم اچھے سکولوں میں حاصل کی ہو۔ اچھے سکولوں کا انتخاب  طالبعلم نہیں بلکہ اُس کے والدین کے معاشی حالات، شہر، تحصیل، قصبے اور گاؤں میں رہائش پر منحصر ہوتا ہے۔ اِس کے علاوہ والدین کا تعلیم بلکہ اچھی تعلیم کی افادیت سے آگاہ ہونا نہایت ضروری ہے۔ اگر انہیں تعلیم کی افادیت اور اپنے بچے کے جوہر کا اندازہ ہو تو وہ اپنی معاشی تنگی کے باوجود اپنے بچوں کو اچھے سکول میں تعلیم دلائیں۔ 70% والدین اپنی معاشی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے بچوں کو عام  اردو میڈیم سکولوں میں داخل کرواتے ہیں۔ جب پانچویں کلاس کے بعد بچے کے جوہر اُن پر کھلتے ہیں تو وہ مجبوراً انہیں اسی سکول میں پڑھانے پر مجبور ہوتے ہیں کیوں کہ ہمارے تعلیمی نظام میں اردو میڈیم سے انگلش میڈیم میں بچے کی تبدیلی ”کفر“ سمجھی جاتی ہے خواہ وہ داخلہ ٹیسٹ میں 90%نمبر حاصل کرے۔ لہذا کئی ذہین بچے تعلیمی پالیسی کی نذرہو جاتے ہیں لیکن اگر اِن ذہین اور محنتی بچوں کے لئے ہم ایسا نصاب ترتیب دیں کہ وہ اُسے پڑھنے کے بعد بچے کی اردو میڈیم سے انگلش میڈیم میں تبدیلی آسان ہو سکے۔ یہ ناممکن تو نہیں البتہ مشکل ضرور ہے اور اِس کا کلّی انحصار، والدین، ٹیچر اور بچے کی محنت پر ہو گا۔

  2.11  -   ٹیکسٹ بکس اور پڑھائی جانے والی اشیاء کا معیار  ۔
    اپنے اہداف کو مد نظر رکھتے ہوئے ہمیں چاہیئے کہ ہم اپنی ٹیکسٹ بکس میں شامل مضامین کو آسان، سادہ، خود تعلیمی اور مقاصد کے نزدیک بنائیں۔کتابوں کی طباعت اچھی اور سستی ہو۔ سلیٹ اور تختی کا استعمال چھوڑ کر ہم نے نہ صرف اپنے طلباء کے ساتھ زیادتی کی بلکہ تعلیم کو بھی مہنگا کر دیا۔
3 -    مقاصد ۔   اِس پیپر کا مقصد تعلیمی ترقی کے لئے یہ رائے دینا کہ:۔
 3.1  -   مربوط تعلیمی نظام (Unified Educational System)  بنایا جائے۔ جس میں تعلیم کا ایک وسیع لیکن مربوط نظام ہو جو ووکیشنل، ٹیکنیکل، سائنسی، پروفیشنل اور جنرل تعلیم سب کو ساتھ لے کر چلے اور کسی موقع پر طالبعلم کو وقت کے ساتھ پیدا ہونے والے رُجحان کی وجہ سے ایک تعلیم سے دوسری تعلیم کی طرف شفٹ  ہونے میں دقت پیش نہ آئے۔ تاکہ ایک باعتماد، بنیادی سوچ  اور تجزیاتی قوت سے مالامال فرد تیار ہو کر علاقائی، ملکی اور بین الاقوامی شہری کا کردار ادا کر سکے۔

  3.2  -   مربوط تعلیمی نظام کا نصابی ڈھانچہ ,  اِس طرح بنایا جائے۔کہ جس میں رہتے ہوئے طالبعلم اپنے رُجحان کے مطابق اپنے آئیندہ  پیشے کا تعین کر سکے۔  

 3.3  -   مربوط تعلیمی نظام کا نصاب , کلاس ون سے کلاس  8 تک اِس طرح بنایا جائے کہ وہ سیکنڈری سکول تعلیمی بورڈاورٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ کے امتحانوں سے متعلق ہو۔   
 
 3.4     مربوط تعلیمی نظام میں اردو میڈیم کے ذہین طلباء جو 65%سے زیادہ نمبر لیتے ہوں اور وہ پانچویں کلاس کے بعد انگلش میڈیم نظام تعلیم میں شامل ہونے کے خواہشمند ہوں اُن کا نصاب کلاس  6سے کلاس  8 تک ایسا بنایاجائے جو اُن کو میٹرک میں امتحان دینے کے قابل بنا دے۔

 3.5     مربوط تعلیمی نظام میں سکھلائی جانے والی اشیاء، مثلا ً ٹریننگ ایڈز، پرائمری اور سیکنڈری لیول پر موثر تربیت  میں مدد فراہم کرنے والی ہوں اور اِس کا زیادہ سے  زیادہ استعمال کیا جا سکے۔   

3.6 -    مربوط تعلیمی نظام کے نصاب کی مسلسل نگرانی  اور اُس کی ملکی اور بین الاقوامی افادیت کے لئے، پیشہ ورانہ مارکیٹ میں تبدیلیوں کو نظر میں رکھنا تاکہ تعلیمی نظام اپنی سمت درست رکھے۔ 
  
3.7  -   مربوط تعلیمی نظام کے انتظامی سربراہوں کے لئے معلومات فراہم کرنے والا تیز اور صحیح نظام ترتیب دینا۔   

3.8  -   مربوط تعلیمی نظام کے ٹیچرز کی تربیت اور اُن کی استعداد میں اضافہ کرنا۔   

3.9  -   مربوط تعلیمی نظام میں زیادہ سے زیادہ تجرباتی ماحول
فراہم کرنے کے لئے سیکھنے کی مختلف اشیاء Learning Resource Materiel (LRM)، مثلاً آڈیو اور وڈیو آلات، تجبوں میں کام آنے والی اشیاء کو قابلِ حصول بنانا۔

3.10  -  مربوط تعلیمی نظام میں تدریس کے لئے اشیاء   Teaching Resource Materiel (TRM) کو سستا اور قابلِ حصول بنانا.

3.11  -   مربوط تعلیمی نظام کو کامیاب بنانے کے لئے ایک مقامی تنظیم کاقیام، جو مقامی انڈسٹری میں طلباء کو پیشہ سے متعلق پریکٹیکل تربیت کا انتظام کروا سکے اور ملکی و بین     الاقوامی مارکیٹ میں قابلیت کے مطابق نوکری کی جگہوں پر نظر رکھے اور اُن میں کھپانے کے لئے مناسب انتظامات گورنمنٹ کے اداروں سے مل کر کرے۔ نیز مختلف پراجیکٹ، سکیم اور پروپوزل، انتظامیہ کے لئے تیار کرے۔    
 
3.12  -   مربوط تعلیمی نظام کی افادیت کے متعلق علاقے میں موجود مختلف سکولوں میں اِن کی افادیت کے لئے سمینار، ورکشاپس اور لیکچرز رکھیں تاکہ وسیع پیمانے پر ملکی اور         غیر ملکی، خصوصاً مشرقِ وسطیٰ میں ہنر مند افراد کی کمی کو پورا کیا جا سکے۔ 
4  -   مربوط تعلیمی نظام (Unified Educational System)  کو اپنانے کا طریق کار
4.1 -    حاصل وسائل اور ذرائع ۔
     اِس وقت ملک کے ہر تحصیل اور ضلع میں پرائیویٹ سکول عمومی تعلیم کی روشنی پھیلا رہے ہیں۔ اساتذہ اور طالبعلم دونوں اپنی اپنی بساط سے ملک کی خواندگی میں اضافے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اور اِ ن کی سمت ایک ہے وہ یہ کہ ہر طالبعلم اپنی تعلیم حاصل کر کے روزگار حاصل کر سکے۔ خواہ یہ گورنمنٹ اداروں کے ذریعے ہو یا پرائیویٹ اداروں کے۔ لیکن کیا تمام طالبعلم تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار حاصل کر لیتے ہیں؟

    روزگار کا مقصد صرف نوکری ہی نہیں بلکہ کاروبار بھی ہے۔ کاروبار کے لئے طالبعلم کو عام تعلیم سے ہٹ کر کاروباری تعلیم دینا چاہیئے تاکہ وہ میٹرک یا انٹر کے بعد اپنے کاروبار کے لئے مفید اضافہ ثابت ہو۔ چنانچہ سائنس، آرٹس یا کامرس کا انتخاب ایک طالبعلم نویں جماعت میں کرتا ہے۔ ٹیکنیکل تعلیم کے لئے اُسے نویں جماعت میں سائنس کی تعلیم حاصل کرنی پڑتی ہے۔ جب کہ میٹرک کے بعد وہ ٹیکنیکل شعبے میں جانے کے لئے تین سال کا  پولی ٹیکنک کاکورس کرکے ڈپلومہ حاصل کرتا ہے جو
FScکے برابرسمجھا جاتا ہے۔ اگر وہ بیچلر آف انجنیئرنگ میں داخلہ  لینا چاہے تو وہ نہیں لے سکتا۔ اگر ہم ایسا نصاب بنائیں جو سیکنڈری سکول تعلیمی بورڈاورٹیکنیکل ایجوکیشن بورڈ  دونوں کو مطمئن کر سکے اور طالبعلم کو بھی وسیع مواقع ہوں کہ اگر ناگہانی وجوہات کی بنیاد پر وہ تعلیم کو چھوڑے اور روزگار پر لگ جائے اور کچھ عرصہ بعد وہ دوبارہ تعلیم جاری رکھنا چاہے تو اُسکا زیادہ نقصان نہ ہو۔
 5  -   خلاصہ
    رومن شاعر Ovid  نے 17 عیسوی  میں کہا تھا، ”سالوں سے زیادہ کوئی چیز تیز نہیں چل سکتی“ لہذا اِس تیز رفتار دنیا کا ساتھ دینے کے لئے ہمیں اپنے ملک کی فنّی تعلیمی ترقی میں ایک بڑا قدم، بلکہ چھلانگ لگانی پرے گی، کیوں کہ 60سالہ مسافت کی کھائی ہم دو چھلانگوں میں عبور نہیں کر سکتے۔ اِس کھائی کے پار وہ دینی علوم ہیں جن کے متعلق اللہ نے ”کتاب اللہ“ میں انسانوں سے سوال کیا ہے۔

”وہ اِن پر غور و فکر، تعقل اور تدبّر کیوں نہیں کرتے؟“

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔