میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

پیر، 30 ستمبر، 2013

جنوب مغربی ایشیاء اور امریکی کھیل




حال میں نیٹ پر ریلیز ہونے والی یہ وڈیو ضرور دیکھئے  تو آپ  کو یقین آجائے گا ۔ کہ 1980 سے کی گئی انویسٹمنٹ کا صلہ امریکیوں کو لازماً چاھئیے ۔


    یہ مضمون مارچ    2012 میں لکھا گیا تھا ۔
ایک فورم میں ”امریکہ اور ہمارا مستقبل“ کے تحت ہونے والی بحث میں جو میرا نقظہء نظر تھا، اُس کے مطابق آئیندہ  ہمارے ملک اور اُس سے ملحقہ ملکوں میں جن تبدیلیو ں کے متعلق امریکی پچھلے ساٹھ سالوں  غور کر رہے ہیں۔ اُن کے خد وخال اب واضح ہونے لگے ہیں۔ جس کا پہلا حصہ 15فروری 1989 کو مکمل ہوا جس وقت  دریائے آمو کے پل سے گزرتے ہوئے روسی علاقے میں داخل ہوتے ہوئے روسی جنرل نے مڑ کر حسرت بھری نگاہوں سے افغانستان کی سرزمین کو دیکھا تو پنٹاگون میں معلوم مسرت کی لہر دوڑ گئی۔ اب امریکہ بلا شرکت، غیرے انسانی دنیا کا حاکم بن چکا تھا۔ کیونکہ اُس کی بچھائی ہوئی بساط  پر گھوڑے  اور فیل مارے جاچکے تھے، پیادوں کا تو کوئی شمار ہی نہیں تھا  شاہ بھی خوشگوار امریکن مستقبل کی بھینٹ چڑھ چکے تھے۔


    1979میں جب میں ایک نیم لفٹین تھا۔ ایک کورس سے واپس آیا تو کمانڈنگ آفیسر نے انٹرویوکے دوران بتایا کہ میں نے  اگلے چھ مہینے ٹل اور پارا چنار کے درمیان اڑاولی فورٹ کے نزدیک پاک افغان بارڈر پر ایک آبزرویشن پوسٹ پر گذارنے ہیں۔لہذا مجھے ٹی بریک کے بعد روانہ ہو جانا چاہیئے۔ تقریباً گیارہ بجے ٹل سے اپنی آبزرویشن پوسٹ کی طرف  روانہ ہو گیا چار گھنٹے کے سفر کے بعد جب میں گن پوزیشن میں پہنچا تو بیٹری کمانڈر نے خوش آمدید کہا اور بتایا کہ 5بجے پولیٹیکل ایجنٹ پارا چنار نے ایک جرگہ بٹھایا ہے ہم سب افسروں نے وہاں جانا ہے۔ جرگے میں پہنچے وہاں کوئی اندازاً تین سو افراد ہوں گے۔ جن میں مقامی اور افغان مہاجر تھے۔ سردار اور معززین اُن کرسیوں پر بیٹھے تھے جو کرم ملیشیاء نے بچھائی تھیں باقی سب قالینوں یا اپنی چادروں پر براجمان تھے۔ پولیٹیکل ایجنٹ نے جرگے کا مقصد بتایا۔ جو پشتو میں تھا۔ والد مرحوم کے فوج میں ہونے کی وجہ سے میری  تعلیم ایبٹ آباد، نوشہرہ، پشاور اور کوئیٹہ میں گذری تھی لہذا پشتو میرے لئے مانوس زبان ہے۔ چنانچہ باقی افسروں کی طرح  میں اُن کے ہر الفاظ اچھی طرح سمجھ رہا تھا۔ لیکن جس تقریر نے مجھ میں بجلیا ں پیدا کیں وہ ایک 25سالہ امریکن مسلمان کی تھی جس نے فصیح و بلیغ پشتو میں مسلمان اور جہاد کے بارے مدلل دلائل سے ہم سب کے خون کو گرما دیا اور فضا ء جو شیلے نعروں سے گونج اُٹھی۔ میں اُس امریکن مقرر سے بہت متاثر ہوا اور خود کو کوسا کہ ایک نو مسلم ہم پیدائشی مسلمانوں سے زیادہ  جذبہ جہاد اور اسلام کے بارے میں معلومات رکھتا ہے، کھانے کے دوران میں نے اُس سے کئی سوال کئے۔ اُس سے معلوم ہوا کہ اُس کا باپ پٹھان اور ماں امریکن تھی۔ اُس کو پشتو اُس کی دادی نے سکھائی۔وہ سنّی عالم نہیں بلکہ اُس نے یونیورسٹی میں نہ صرف  اسلامی علوم کا تفصیلاً مطالعہ کیا تھا  بلکہ وہ  دیگر مذاہب کے بارے میں بھی بہت معلومات رکھتا تھا، لیکن میں اُس کی پاکستان اور اُس کے لوگوں بارے میں معلومات سے بہت متاثر ہو ا۔ میری  زندگی کا یہ پہلا ”لارنس آف عریبیا“تھا۔اِس کے بعد مجھے تین اور لارنس آف عریبیا ملے جن کی رگوں میں مخلوط امریکی خون دوڑ رہا تھا۔افغان وار میں ہم  ”لارنس آف عریبین“ سے اسلام سیکھتے رہے۔  پھر امریکی مبلغین نے پاکستان کی مغربی سرحدوں کو دنیا بھر کے جہادیوں سے بھر دیا۔پاکستانی قوم کسی کے پیچھے کیوں رہتی۔ نسیم حجازی کے ناول جو  70کی دہائی میں طفننِ طبع کے لئے پڑھے جاتے اچانک،  اسلامی تاریخ اور اسلام پر مصدّقہ دستا ویز بن گئے۔ حسن بن سبّاح اپنے فدائین کے ساتھ دوبارہ تاریخ کی گرد سے نکال کر عالمِ غیب سے عالمِ وجود میں نمودار ہو گیا۔بے روزگار نوجوانانِ مسلم کی ایک فوجِ ظفر موج نے ”ڈالروں کی تلاش میں شہادت کے مزےلینے کے لئے کرائے کے گوریلوں کی فوج میں شمولیت اختیار کرنی پڑی۔ امریکیوں نے  ساری دنیا کو ڈرانا شروع کیا کہ روسی ریچھ سرد علاقوں سے نکل کر گرم پانیوں میں جاکر غسل کرنا چاہتا ہے۔ جس کے لئے وہ  مستی میں دندناتا افغانستان سے پاکستان میں مغربی بلوچستان کو روندتا، کاٹتا اور رگیدتا بذریعہ آر۔سی۔ڈی  ہائی وے  بحیرہ عرب میں سونمیانی کے پاس نکلے گا، اُس کے بعد جب وہ اپنی ٹانگیں پسارے گا تو شائد نہیں بلکہ حقیقتاً اُس کے پاؤں ایرانی بلوچستان میں  قیلولہ فرمائیں گے۔  لہذا یہ تما م دنیا کا فرض عین ہے کہ وہ  روسی ریچھ کو روکے۔ امریکی مشورے کو بلوچیوں نے دل پر لگا لیا اور اُن کے سردار اپنے قبیلوں کے ساتھ کابل پہنچ گئے تاکہ روسی ٹینکوں پر بیٹھ کر عظیم بلوچستان میں داخل ہوں۔ مگر امریکیوں نے روسیوں اور بلوچ سرداروں کا یہ خواب پورا نہ ہونے دیا اور وسی دریائے آمو کے پار چلے گئے۔

     ایک دوسرے کی پگڑیاں اچھالنے والے سرداروں کو ملا عمر نے راکٹ لانچروں، کی مدد سے قابو میں کیا، سرداروں کے سر ”دار“ پر لٹکا دئے گئے، امریکہ کی پشت پناہی سے پلنے والے ہیروئین کے سوداگروں زمین میں دفن کر دیا گیا پورا ایک سال ایک گرام ہیروئین افغانستان سے باہر نہ نکلی۔ بلوچی سردار کو پاکستان محافظ قوتوں نے ہیلی کاپٹروں پر وہاں سے نکالا کہ شائد وہ اب عظیم بلوچستان کو بھول کر متحد پاکستان کے شانہ بشانہ چلنے لگیں اور امریکی ابلاغ کئے ہوئے اسلام نے ایک نیا لبادہ اوڑھ لیا۔ جب تما م وارلارڈ امریکی پلاننگ کے مطابق شہادت کا رتبہ پا کر دوسری دنیا کے پار جا پہنچے تو امریکہ کے ڈہین اور فطین لوگوں نے  اپنے چند افریقی باشندوں کو امریکن قرار دینے اور دیگر بے وقوف اقوام کے افراد کو امریکی شہریت  دینے کے بعد،مروا کر اپنی پلاننگ کا دوسرا ایکٹ شروع کیا۔ ”لارنس آف عریبین“ نے صدام کی طرح ملا عمر کو کہا ”ڈٹ جاؤ۔ ہم بریف کیس میں ایٹم بم لے کر پھرتے ہیں، امریکہ ہم سے لرزتا ہے“،  اِ سے پہلے کہ ہم امریکہ کے ایکٹ ٹو کی طرف چلیں ذرا امریکی شہریت اختیار کرنے والوں کی بے بسی ملاحظہ کریں۔

    ہم دونوں نے میٹرک تک ساتھ پڑھا ،پھر ہماری ملاقات ، اتفاقاً ایک شادی کی محفل میں ہو گئی۔ عرفان انجنئیرنگ کے بعد امریکہ شفٹ ہو گیا میں پاکستان میں رہا۔ مدت کے بعد ملنے کی وجہ سے پرانی یادیں دہرائیں گئیں دوستوں کے متعلق معلومات کا تبادلہ ہوا، میں نے پوچھا کہ وہ بایر کیوں شفٹ ہوا۔ عرفان بولا،”کسی تھرڈ کلاس ملک میں پہلے درجے کا شہری بن کر رہنے سے بہتر ہے کہ کسی فرسٹ کلاس ملک کا تھرڈ کلاس شہری بن کر رہا جائے“۔  مجھے عجیب سا لگا لیکن کچھ نہ بولا۔ البتہ، اُس کے بعد جب بھی ملاقات ہوتی تو میں مذاقاً اُسے”تھرڈ کلاس شہری“ کہتا۔  بہرحال وقت پر لگا کر اُڑتا رہا  2005میں میں اپنے آفس میں بیٹھا تھا کہ دروازے سے ایک جانا پہچانا ہیولا  اندر داخل ہوا۔ جو لمبائی اور چوڑائی میں تقریباً برابر تھا،  یہ عرفان تھا ماہ و سال  نے اُس کے خد وخال پر گہرا اثر ڈالا تھا۔ دونوں گرم جوشی سے ملے۔ چائے پیتے ہوئے میں نے مذاقاً کہا،” تھرڈ کلاس شہری“  کھانا کہاں کھانے چلیں۔ اُس نے دکھی آنکھوں سے میری طرف دیکھا۔ میرا مذاق اُڑانے کے بجائے اُس نے ایک لمبی سانس لی اور بولا،”اِس تھرڈ کلاس شہری کو جو کھلانا ہے کھلا دو“۔  تفصیل جاننے پر  بتایا،”امریکہ کو لاکھوں ڈالر 29سال تک ٹیکس دینے کے باوجود اُس کا سٹیٹس روزگار الاؤنس میں پلنے والے امریکن شہری سے کم ہے۔ کیوں  تمام وعدے وعید، قصے کہانیاں ثابت ہوئے، ”ہم رہے پیاسے کے پیاسے لاکھ ساون آ گئے“۔ امریکن آئین کے قسم کھاتے وقت میں بہت پر جوش تھا۔ اُس کے بعد میں نے سوچا ہی نہیں کہ امریکہ میں رہنے کے لئے میں نے اپنے آئین اور اپنی دھرتی کو چھوڑ دیا۔  جب افغان جہاد شروع ہوا تو چندہ دینے والوں میں میں بھی شامل تھا 9/11 کے بعد چندہ دینے والے مجرم بن گئے۔ اُنہوں نے ہم سے ایسے ایسے سوال پوچھے کہ ہم اپنی نگاھوں میں مجرم بن گئے۔ ہم وہاں اب مشکوک لوگ ہیں، وہ جب چاہیں ہمیں یہاں سے اٹھا کر لے جا سکتے ہیں کیونکہ ہم حلفِ وفاداری اُٹھانے کے بعد امریکی شہری بن گئے ہیں۔ امریکی بیوی سے ہونے والے بچوں کے زیادہ حقوق ہیں  ہمارے بچوں کے کم اور ہم پاکستان میں پیدا ہونے والے اگر اسلام سے دور ہیں تو اچھے امریکن شہری ہیں“۔ عرفان نے اور بہت باتیں بتائیں ۔

    کسی بھی قوم کی طرف ہجرت کرنے والی قوم اپنے ماضی کو بھول جاتی ہے جبھی وہ دوسری قوم میں ضم ہو کر اُس کا حصہ بن جاتی ہے  اُس کی دوسری اور تیسری نسل اپنے اسلاف کی جنم بھومی سے تعلق ختم کر لیتی ہے، لیکن پدرم سلطان بود“ کا نعرہ لگانے والی اقوام نہ ہی تیتر بنتی ہے اور نہ ہی بٹیر۔ بہر حال اپنے آئین کو ردی کا ٹکڑا سمجھنے والوں نے امریکی آئین سے اپنا رشتہ جوڑتے وقت  امریکیوں کو جو حلفِ وفاداری  دیا ہے اُس کے الفاظ نیٹ پر کچھ ایسے ہیں،اآپ بھی دیکھیں۔
 Oath of Allegiance for Naturalized Citizens

 "I hereby declare, on oath, that I absolutely and entirely renounce and abjure all allegiance and fidelity to any foreign prince, potentate, state, or sovereignty of whom or which I have heretofore been a subject or citizen; that I will support and defend the Constitution and laws of the United States of America against all enemies, foreign and domestic; that I will bear true faith and allegiance to the same; that I will bear arms on behalf of the United States when required by the law; that I will perform noncombatant service in the Armed Forces of the United States when required by the law; that I will perform work of national importance under civilian direction when required by the law; and that I take this obligation freely without any mental reservation or purpose of evasion; so help me God.\"

Signed by
:_________
میں اپنی تمام وفا داری  اور اعتماد جو میں نے، کسی غیر ملکی شہزادے،  بادشاہت،  ریاست یا خود مختار ریاست کو دی جس کا میں باشندہ تھا،سے مکمل دستبرداری  کا قسمیہ اعلان کرتا ہوں۔اور یہ کہ میں ریاستہائے متحدہ امریکہ کے قانون اور آئین کی حفاظت اور مدد تمام غیر ملکی اور ملکی دشمنوں سے کروں گا ۔ اور پر میں پورے ایمان اور خلوص سے عمل کروں گا  اور میں یہ ذمہ داری  کسی ذہنی دباؤ یا مجبوری کے بغیر آزادانہ قبول کرتا ہوں،  خدا میری مدد کرے۔ اور میں اِس کا اقرار اپنے دستخطوں کے ساتھ کرتا ہوں“ 

    اِن دستخطوں کے ساتھ ہی اِس فرد کا اپنے مادرِ وطن سے رشتہ ٹوٹ جاتا ہے اور یہ فرد کاغذوں میں امریکی شہری کہلانے لگتا ہے اُسے امریکن پاسپورٹ مل جاتا  وہ اپنے ملک کے راز، خبریں اور دیگر معلومات اپنے نئے ہم وطنوں کو دینا شروع کرتا ہے۔اور امریکی رازوں، خبروں اور دیگر معلومات کا امین بن جاتا ہے، امریکی مفادات کا تحفظ کرتا ہے اور اپنی مادرِ وطن کی سلامتی کوداؤ پر لگا دیتا ہے تب حقیقت میں  وہ اُس وقت امریکی شہری کہلانے کا حق دار ہوتا ہے۔ لیکن اگر یہ فرد امریکیوں کو ہاتھ دکھانے لگے تو پھر امریکی قانوں حرکت میں آجاتا ہے۔ چنانچہ  اُس کے مادرِ وطن کے معصوم لوگوں کو امریکی ڈالروں بذریعہ این جی اوز، پر پلنے والے  یہ ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ معصوم فرد ہمارا باشندہ ہے اِس کو قانون کے مطابق سزا دینا ہمارا فرض بنتا ہے، انہیں یہ نہیں معلوم کہ یہ فرد توغیر ملکی  شہریت حاصل کرنے کی خاطر اپنے ملک کی شہریت بیچ چکا ہے۔ بکی ہوئی چیز کو دوبارہ آسانی سے واپس خریدا نہیں جاسکتا۔ 

    بہر حال امریکہ میں داڑھیوں کی پیمائش ہونی شروع ہوگئی  اور پلاننگ کا دوسرا حصہ شروع ہوا۔ وہ تمام  امریکی شہریت زدہ افراد جنہوں نے امریکی پہلے پلان کا حصہ روسیوں کے خلاف لڑنے والے مجاہدین کو امدادی رقوم بھجوا کر کیا انہیں نے امریکی پلان دوئم کو سمجھنے میں دقت پیش آئی اور جب تک وہ اسے سمجھتے امریکی جاسوسی اداروں نے انہیں مجاہدین کا دایاں بازو سمجھتے ہوئے اُن کے خلاف گھیرا تنگ کرنا شروع کیا کیوں کہ امریکی۔ ”لارنس آف عریبین“  کی جوشیلی تقاریر نے  مجاہدوں کی  فصلوں کی فصلیں تیار کر دیں اور اِن فصلوں نے اپنی جڑیں ہر اُس جگہ گہری کر دیں جہاں کی فضا انہیں موافق آئی۔ مجاہدین کی پہلی نسل جہاں جاتی،اِسلامی شریعت کے مطابق نکاح کے سبزہ زاروں سے ضرور گزرتی۔یہ امریکی پلان کا حصہ نہ تھی امریکی پلانر یہ بھول گئے کہ پہلی نسل کے بعد دوسری نسل بھی آتی ہے اور یہ دوسری نسل وہ ہوتی ہے جو میدان جنگ کے پچھواڑوں میں، گھوڑوں کی ٹاپوں یا موجودہ دور میں، بموں کے دھمکوں، بارود کی بدبو اور مسلسل ہجرت  کی بھول بھلیوں میں بڑھتی اور پروان چڑھتی ہے۔ اگر دوسری نسل کو لانے والے مرد میدان جنگ میں مارے جائیں، تو انتقام کے گیت اور کہانیاں اِنہیں پروان چڑھاتی ہیں۔

ٰ    دوسری نسل آج سے 23 سال کے عرصے یعنی 1990میں جوانی کی طرف قدم بڑھاتے ہوئے، کلاشنکوف سے راکٹ لانچر کا وزن اٹھانے اور ان کے مہلک خیز اسلحے کو نشانے پر مارنے کے قابل ہو چکی تھی۔اور خاص طور پر جب اُن کے دل و دماغ میں انتقام کا جذبہ کافر غاصبوں کو اپنے ملک سے نکالنے کے لئے مسجدوں اور ہجروں میں کوٹ کوٹ کر بھرا گیا ہو  پھر انہوں نے اپنی ماؤں کو کسمپرسی کے عالم میں زمانے کے حالات سے نبر و آزما دیکھا ہو۔ یہ دوسری نسل پہلی نسل سے زیادہ جذبہ ء جنگ والی تھی، پہلی نسل نے اپنے مقصد کو پانے کے لئے لوگوں کو خریدنا شروع کیا۔ ہر امریکی نقصان پر امریکی ڈالروں کی تقسیم اور بے تحاشا تقسیم، جس نے قلعہ الموت کے بے شمار حسن بن سباؤں کو جنم لیا۔  اِن حسن بن سباؤں کے پیروکاروں نے اپنے مقصد کو حاصل کرنے کے لئے، ملک میں موجود مدرسوں کا رخ کرنا شروع کیا اور ڈالر کے بدلے فدایوں کی خرید شروع ہوگئی، جیب سے ڈالر جاتے سب کو برے لگتے ہیں، جب اُن بے وقوف لوگوں کی جیبوں میں جائیں جنہیں استعمال کرنے کا سلیقہ نہ آتا ہو۔ چنانچہ، ملک میں گھروں سے بھاگ کر پھرنے والے بے تحاشہ تعداد میں دستیاب مال سے فائدہ اُٹھانے کا سلسلہ شروع ہوا، پیار، محبت۔ دھونس و دھمکی اور لالچ سے دوسری نسل کے ساتھی تلاش کئے گئے۔ جب یہ لوگ تربیت گاہوں میں پہنچے تو انہیں، تربیت نے دوآتشہ کر دیا اور انہیں ظالم معاشرے سے انتقام لینے کی تربیت دی گئی، یہ انتقام اور جذبہ شہادت سے لبریز لڑکپن سے جوانی کی طرف جانے والے، اپنے جسموں پر بارود باندھے، انسانی ہجوم میں چیتھڑوں کی صورت میں بکھر گئے اور اُن کی روحوں کو اُن کے ”استادوں“ کے مطابق حوریں اٹھا کر سیدھا جنت میں لے گئیں۔ تربیت گاہ سے اُن کے ساتھ نکلنے والے مگر آدھے راستے سے لوٹ آنے والے، پہلی یا دوسری رات سو کر اُٹھنے کے بعد، خوابوں میں ُ ان زمین پر بکھرنے والوں کو آسمان میں حوروں کے ساتھ کھیلتے ہوئے دیکھتے، بالکل ایسے ہی جیسے 1965کی جنگ میں لوگوں نے، ہرے لباس میں گھوڑوں پر سوار، سرزمین ِ حجاز سے چل کر لاہور پہنچنے والوں کو، لاہوریوں سے واہگہ یا سیالکوٹ کی سمت پوچھتے دیکھا، شاید لاہور پہنچ کر اُن کی سمت بتانے کی قوت جواب دے جاتی یا اُن کا مقناطیسی کمپاس جواب دے جاتا۔

    امریکی شایدیہ بھول گئے کہ غلطیاں بانجھ نہیں ہوتی وہ بچے جنتی چلے جاتی ہیں۔ روس کے خلاف، امریکیوں کا پاکستانیوں اور خاص طور پر مغربی پہاڑوں میں رہنے والے باسیوں کو جہاد کا سبق دینا اِن کی ایسی غلطی تھی کہ جس کے بچے چنتے چنتے نہ صرف پاکستان بلکہ امریکہ بھی تھک چکا ہے۔ امریکیوں نے اپنے عظیم پلان کو کامیاب کرنے کے لئے 9/11سے بہت پہلے  ایک اور پلان شروع کیا تھا۔

1990 کا ذکر ہے۔شہید صلاح الدین مدیر تکبیر نے ایک مضمون شائع کیا جس میں
مستقبل کی اسماعیلی ریاست  کے مکمل پلان کے متعلق تفصیلاً اعداد و شمار کے ذریعے اپنی رائے کا اظہار کیا تھا۔۔ 1993 میں سیاچین جانا ہوا تو معلوم ہوا کہ مدیر تکبیر کا اندازا کچھ غلط نہ تھا۔گلگت اور بلتستان صوبے میں اسماعیلیوں نے  ہر آبادی  میں ہسپتال اور سکول تعمیر کر دیئے۔ اُن علاقوں میں رہنے والے مذہب کے اتنے نزدیک تھے جتنا سورج اُن سے گرمیوں میں چند دن کے لئے نزدیک ہوتا ہے۔ اسماعیلیوں نے سب سے پہلے وہاں فری ہسپتال کھولے، انگریز مشنریوں نے بھی یہی طریقہ اختیار کیا۔ پھر سکول کھول کر وہاں ایسی تعلیم کا آغاز کیا جو پاکستان میں اعلیٰ درجے کے مقابلے میں تھی، جس کے لئے بے تحاشا انگریز بوڑھے اُن علاقوں میں آنے لگے۔ اس کے علاوہ، اپنے علاقوں میں پاکستانیوں کو زمین خریدنے پر پابندی لگانے والوں نے شاہرہ ریشم کے ساتھ ساتھ آباد علاقوں میں زمین خرید کر گھر بنانے شروع کر دئے۔ اُس کے بعد اِن لوگوں نے اپنے پاؤں اسلام آباد میں پھیلانے شروع کر دئے ہیں، مستقبل میں آنے والے سیلاب کا پانی ابھی ٹخنوں تک پہنچا ہے، جب یہ گردن تک پہنچے گا تو پھر،ہمارے پلاننگ کرنے والوں کو ہوش آئے گا، لیکن اُس وقت اِن کی دوسری نسل جوان ہو چکے گی بالکل اُسی طرح جیسے مغرب سے آنے والے بے خانماں برباد لوگوں کی دوسری نسل پاکستانی شناختی کارڈ بنا کر، پاکستانیوں کے ہجوم میں کھو چکی ہے لیکن جب اِس قوم کو کوئی خطرہ ہو تو یہ ایک دم کھمبیوں کی طرح اچھل کر اُگتے ہیں اور مخالفوں کے خلاف صف آرا ء ہوجاتے ہیں۔
حال میں نیٹ پر ریلیز ہونے والی یہ وڈیو ضرور دیکھئے  تو آپ  کو یقین آجائے گا ۔ کہ 1980 سے کی گئی انویسٹمنٹ کا صلہ امریکیوں کو لازماً چاھئیے ۔


http://www.yesofpakistan.com/videos/Bitter_Truth.mp4 

بدھ، 25 ستمبر، 2013

کتاب اللہ اور تصور ملکیت ۔ حصہ 3



موجودہ زمانے میں، مال کو چار قابل ذکر اقسام میں تقسیم کیا ہے۔
  1- اباحت  اور حرمت کے لحاظ سے۔
کسی شے کا استعمال حرام ہو  یا  مباح  اورجائز ہو ۔  لہذا ان صورتوں کے پیش نظر  مال کو دو اقسام میں تقسیم  کیا جا سکتا ہے ۔
 مال متقوم ۔
وہ مال ہے جس کی معاشرے میں کوئی قیمت اور منفعت  ہو۔ جن کی ان کے چوری ہونے کے خدشے کے پیش نظر حفاظت کی جاتی ہو۔
 مال غیر متقوم ۔
وہ مال ہے جس کی معاشرے میں کوئی قیمت نہ ہو۔ جن کی حفاظت نہ  کی جاتی ہو۔  مثلاً کھلے سمندر میں تیرنے والی مچھلیاں،  ہوا  میں اڑنے والے آزاد پرندے،  زیر زمین پائے جانے والے معدنی ذخائر(بشرطیکہ یہ کسی دوسرے ملک کی جغرافیائی حدود کے اندر نہ ہوں)۔
 

2- حرکت و تغیر کے لحاظ سے

 منقولہ ۔
ایسے تمام  متقوم اموال جو ایک جگہ سے دوسری جگہ بآسانی لے جائے جا سکیں۔ چاہے منتقلی  کے عمل میں ان کی ہیت تبدیل ہو جائے یا وہی رہ (مثلاً پھلوں کا ایک جگہ سو دوسری جگہ جاتے ہوئے پک جانا)۔ سودا خوا ہ تحریری طور پر ہو ا ہو یا زبانی  ہر دو صورت میں سودے کے مکمل ہو جانے کے بعد مالک کی مرضی ہے کہ وہ مال منقولہ پہلے مالک کے گودام میں پڑا رہنے دے یا وہاں  سے کہیں اور منتقل کرا لے۔ وہ اس مال کو کہیں اور منتقل کرانے سے پہلے کسی اور کو بیچ بھی سکتا ہے۔
 غیر منقولہ ( عقار ) ۔
ایسے تمام  متقوم اموال جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ ہوسکیں۔  جیسے،کھیت، مکانات، اور کھڑے درخت۔ ان اشیاء کو ”عقار“  بھی کہتے ہیں ۔  شفعہ اور پڑوس کے حق  تصرف ”عقار“ کے ساتھ منسلک ہیں ۔ بیع الوفا کا معاہدہ بھی صرف  ”عقار“  کی صورت میں واقع ہو سکتا ہے۔
3- قدر (Value) کے لحاظ سے
 مثلی ۔
وہ تمام اشیاء جن کی متماثل اشیاء مارکیٹ میں موجود ہوں۔کسی نقصان کی صورت میں وہی اشیا ء  بلحاظ حجم، وزن،  تعداد  یا پیمائش دی جاسکے۔
 قیمی ۔
وہ تمام اشیاء جن کی متماثل اشیاء مارکیٹ میں موجود نہ  ہوں اور کسی نقصان کی صورت میں وہی اشیا ء  بلحاظ حجم، وزن، تعداد  یا  پیمائش نہ دی جاسکے  البتہ جن کی ادائیگی  سکہ رائج الوقت میں ہو سکے۔  
4-   استعمال کے لحاظ سے
 اشیائے صرف،  دوران استعمال صرف ہو جانے والا مال(Expendable items
ایسا مال جو استعمال ہو کر ختم ہو جائے  یعنی جس کا منافع اس کا  خرچ ہے ۔ مثلاً غذائی اشیاء، تیل صابن، کاغذ  اور پیٹرول وغیرہ۔
 محض استعمال ہونے والا مال ۔
جو ما ل منفعت حاصل کرنے کے عمل میں صرف نہ ہو بلکہ باقی رہے ۔ البتہ وقت کے لحاظ سے ان کی بوسیدگی (
Depreciation)  میں اضافہ ہو۔ مثلاً کتابیں، کپڑے، مشینیں، گاڑیاں، فرنیچر وغیرہ۔ تجارت اور قرض، کے معاہدات صرف استعمالی مال کے بارے میں کئے جا سکتے ہیں۔

  ٭۔         ایک سوال، مال کے بارے میں اسلام کا بنیادی تصور کیا ہے ؟

        اسلام ،ایک عام فہم لفظ ہے جو آج کل زیادہ بولا جاتا ہے، کہ فلاں بارے میں اسلام کیا کہتا ہے ؟  جبکہ اسلا م بذات خود کچھ نہیں کہتا اس میں جو قول قابل تقلید ہیں وہ "قول اللہ" اور " قول رسول اللہ" ہیں۔ ان پر عمل کرنا اسلام ہے۔  اب  "قول اللہ" اور " قول رسول اللہ" کے سامنے کسی فرد کی خواہ وہ صداقت اور تقویٰ کی منزل پر کیوں نہ ہو رائے قابل قبول نہیں ہو سکتی اور نہ ہم اسے قابل تقلید کہ سکتے ہیں ۔ اگر ہم نے ایسا کیا تو ہم اللہ کے اس قول کے منکر ہوں گے۔

لَقَدْ کَانَ لَکُمْ فِیْ رَسُولِ اللَّہِ أُسْوَۃٌ حَسَنَۃٌ لِّمَن کَانَ یَرْجُو اللَّہَ وَالْیَوْمَ الْآخِرَ وَذَکَرَ اللَّہَ کَثِیْراً (33/21)
 حقیقت میں تمھارے لئے رسول اللہ میں اسوۃ حسنہ ہے۔ جو اللہ اور یوم الاخر کے لئے رجوع کرتا ہے اور اللہ کی نصیحت (کتاب اللہ میں سے) کثرت سے کرتاہے۔

٭۔    اسوہ ء رسول پر عمل کرنے کے بارے میں خود  اللہ نے رسول اللہ سے کہلوایا ۔
قُل لاَّ أَقُولُ لَکُمْ عِندِیْ خَزَآءِنُ اللّہِ وَلا أَعْلَمُ الْغَیْْبَ وَلا أَقُولُ لَکُمْ إِنِّیْ مَلَکٌ إِنْ أَتَّبِعُ إِلاَّ مَا یُوحَی إِلَیَّ
 کہہ!
٭۔    نہ میں تم سے کہتا ہوں میرے پاس  اللہ کے خزانے (علم یا مال)     ہیں !
٭۔    نہ یہ کہ میں عالم الغیب ہوں۔
٭۔    نہ میں تم سے کہتا ہوں کہ میں ملک ہوں۔
٭۔    میں تو اسی کی اتباع کرتا ہوں جو مجھ پر وحی ہوئی۔


قُلْ ہَلْ یَسْتَوِیْ الأَعْمَی وَالْبَصِیْرُ أَفَلاَ تَتَفَکَّرُونَ(6/50)
کہہ!
٭۔    کیا بے بصیرت اور با بصیرت دونوں برابر ہو سکتے ہیں۔
٭۔     کیا تم تفکر نہیں کر سکتے؟

     ہم بھی اسوہ ء رسول پر عمل کرتے ہوئے اسی کی اتباع کرتے ہیں جو کتاب اللہ میں مال کے بارے میں اللہ نے مال کے بارے میں ایک مومن کو بنیادی تصور بتایا ہے
 
إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللَّہُ عِندَہُ أَجْرٌ عَظِیْمٌ( 64/15)
 

بے شک تمھارے اموال اور اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے نزدیک اجر عظیم ہے –

فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِیْعُوا وَأَنفِقُوا خَیْراً لِاّئَنفُسِکُمْ وَمَن یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَـٰئِكَہُمُ الْمُفْلِحُونَ (64/16 )
پس اللہ سے ڈرو جتنا ہو سکے اور سنو اور اطاعت کرو اور اور اپنے نفسوں کے لئے خیر انفاق کرو اور جو کوئی بچ گیا نفس کی بخیلی سے۔ پس وہی فلاح پانے والے ہیں۔
٭۔     حیرت کی بات ہے کہ کائینات کے خزانوں کا مالک۔ اپنی مخلوق سے قرضہ مانگ رہا ہے۔
  مَّن ذَا الَّذِیْ یُقْرِضُ اللّٰہَ قَرْضاً حَسَناً فَیُضَاعِفَہُ لَہُ أَضْعَافاً کَثِیْرَۃً وَاللّٰہُ یَقْبِضُ وَیَبْسُطُ وَإِلَیْہِ تُرْجَعُونَ (2/245)
 ہے کوئی جو اللہ کو قرض حسنہ دے؟ اور وہ اس کے لئے اس کو کئی گناہ کر دے۔ اور اللہ قبض کرتا ہے اور بصط کرتا ہے اور اس کی رجوع ہے۔
إِن تُقْرِضُوا اللَّہَ قَرْضاً حَسَناً یُضَاعِفْہُ لَکُمْ وَیَغْفِرْ لَکُمْ وَاللَّہُ شَکُورٌ حَلِیْمٌ (64/17)
 اگر تم اللہ کو قرض حسنہ دو وہ تمھارے لئے اس کو دگنا کر دے گا اور تمھاری مغفرت(بھی) کرے گا اور اللہ شکور اور حلیم ہے۔

مَّثَلُ الَّذِیْنَ یُنفِقُونَ أَمْوَالَہُمْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ کَمَثَلِ حَبَّۃٍ أَنبَتَتْ سَبْعَ سَنَابِلَ فِیْ کُلِّ سُنبُلَۃٍ مِّءَۃُ حَبَّۃٍ وَاللّٰہُ یُضَاعِفُ لِمَن یَشَاء ُ وَاللّٰہُ وَاسِعٌ عَلِیْمٌ (2/261)
   جو لوگ فی سبیل اللہ اپنے مال انفاق کرتے ہیں ان کی مثال ایسی ہے جیسے حبہ (بیج) کی مثال، جب اگتا ہے تو اس میں سات بالیاں ہوتی ہیں اور ہر بالی میں سو حبہ(بیج)۔ اور اللہ  کئی گناہ(1=700) کرتا ہے اپنی مرضی کے ساتھ۔ اور اللہ واسع اور علیم ہے۔
وَأَنفِقُواْ فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ وَلاَ تُلْقُواْ بِأَیْدِیْکُمْ إِلَی التَّہْلُکَۃِ وَأَحْسِنُوَاْ إِنَّ اللّٰہَ یُحِبُّ الْمُحْسِنِیْنَ (2/195)-
O
اور اللہ کی راہ میں انفاق کرو اور اپنے ہی ہاتھوں سے(انہیں روک کر) خود کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔ بے شک اللہ محسنیں سے محبت کرتا ہے۔ 

٭۔   اللہ کو اس سے غرض نہیں کہ تمھارے حاکم تم سے رویوں میں کیسا برتاؤ رکھتے ہیں۔ البتہ وہ اِس عمل کا ضرور ردعمل ظاہر کرتا ہے جو وہ اپنی قوم کے ساتھ ” فی سبیل اللہ انفاق“ کا رویہ کیسے رکھتے ہیں۔ زبانی دعوے کرتے ہیں یا حقیقت میں  ” فی سبیل اللہ انفاق“  کرتے ہیں۔
 ہَاأَنتُمْ ہَؤُلَاء  تُدْعَوْنَ لِتُنفِقُوا فِیْ سَبِیْلِ اللَّہِ فَمِنکُم مَّن یَبْخَلُ وَمَن یَبْخَلْ فَإِنَّمَا یَبْخَلُ عَن نَّفْسِہِ وَاللَّہُ الْغَنِیُّ وَأَنتُمُ الْفُقَرَاء  وَإِن تَتَوَلَّوْا یَسْتَبْدِلْ قَوْماً غَیْرَکُمْ ثُمَّ لَا یَکُونُوا أَمْثَالَکُمْ (47/38)-
O
آگاہ رہو تم وہ لوگ ہو! جنہیں دعوت دی جاتی ہے کہ فی سبیل اللہ انفاق کرو تو تم میں سے کچھ بخل کرتے ہیں۔ پس جو بخل کرتا ہے اپنے نفس سے (بخل کرتا ہے) اور اللہ تو غنی ہے اور تم فقراء ہو۔ اور اگر تم (دعوتِ انفاق فی سبیل اللہ سے) رکے رہو گے تو وہ(اللہ) تمھیں غیر قوم سے تبدیل کر دے گا اور وہ تمھاری طرح (بخیل) نہ ہوں گے۔

 ” فی سبیل اللہ انفاق“  سے پہلو تہی کروانے کے لئے اپنی  انسانی راہنمائی کی کتابوں میں، ” ابواب و حیلہ و جوازات “  تحریر کرواتے ہیں اور اِس کو،  محمد الرسول اللہ کی طرف یہ کہہ کر منسوب کرواتے ہیں کہ ”یہ شریعت ِ محمدیہ“ میں ہے۔ جب کہ، محمد الرسول اللہ نے الاعلان انسانوں سے جو کہا ہے۔

وَإِذَ أَخَذَ اللّٰہُ مِیْثَاقَ الَّذِیْنَ أُوتُواْ الْکِتَابَ لَتُبَیِّنُنَّہُ لِلنَّاسِ وَلاَ تَکْتُمُونَہُ فَنَبَذُوہُ وَرَاء  ظُہُورِہِمْ وَاشْتَرَوْاْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً فَبِءْسَ مَا یَشْتَرُونَ (3/187)-
O
 اور جب اللہ نے ان لوگوں سے میثاق لیا جنہیں ”الکتاب“ ایتاء کی تا کہ وہ اسے لوگوں کے لئے بیان کریں اور اسے مت چھپائیں۔ پس انہیں نے اسے (الکتاب کو) پسِ پشت پھینک دیا  اور اس کے بدلے تھوڑے مول کا سودا کیا  پس انہوں نے کیا ہی برا سودا کیا۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّ کَثِیْراً مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَأْکُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ (9/34)-
O
اے ایمان والو! بے شک الاحبار(Doctors of Law)اور رہبان میں سے اکثر سبیل اللہ سے روکتے ہیں تاکہ وہ الناس کے اموال باطل کے ساتھ کھائیں۔ اور وہ لوگ جو الذھب اور الفضہ کا ذخیرہ کرتے ہیں اور انہیں فی سبیل اللہ انفاق نہیں کرتے، پس انہیں عذاب الیم کے ساتھ بشارت  دو۔

الَّذِیْنَ یَبْخَلُونَ وَیَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبُخْلِ وَیَکْتُمُونَ مَا آتَاہُمُ اللّٰہُ مِن فَضْلِہِ وَأَعْتَدْنَا لِلْکَافِرِیْنَ عَذَاباً مُّہِیْناً(4/37)-
O
اور وہ لوگ جو بخل کرتے ہیں اور لوگوں کو بخل کرنے کا امر کرتے ہیں (حیلے و جوازات بتاتے ہیں) اور جو اللہ نے ان کواپنے فضل میں سے  ایتاء کیا اس کو چھپاتے ہیں۔  اور ہم نے کافرین کے لئے عذاب مھین تیار کر رکھا ہے۔

فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُونَ الْکِتَابَ بِأَیْْدِیْہِمْ ثُمَّ یَقُولُونَ ہَ ذَا مِنْ عِندِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُواْ بِہِ ثَمَناً قَلِیْلاً فَوَیْلٌ لَّہُم مَّمَّا کَتَبَتْ أَیْدِیْہِمْ وَوَیْلٌ لَّہُمْ مَّمَّا یَکْسِبُونَ (2/79)-
O  
افسوس اُن لوگوں پر! جو ”الکتاب“ اپنے ہاتھ سے لکھتے ہیں اور کہتے ہیں،”یہ (الکتاب) اللہ کی طرف سے ہے“  تاکہ اُس پر وہ چند ٹکے کما سکیں، افسوس اُن کے لئے جو انہوں نے لکھا! افسوس اُن کے لئے جو اُنہوں نے کسب کیا۔  O

 ٭۔  اپنی لکھی ہوئی کتابوں سے وہ اس طرح پڑھتے ہیں کہ جیسے الکتاب کی تلاوت کر رہے ہوں۔

وَإِنَّ مِنْہُمْ لَفَرِیْقاً یَلْوُونَ أَلْسِنَتَہُم بِالْکِتَابِ لِتَحْسَبُوہُ مِنَ الْکِتَابِ وَمَا ہُوَ مِنَ الْکِتَابِ وَیَقُولُونَ ہُوَ مِنْ عِندِ اللّٰہِ وَمَا ہُوَ مِنْ عِندِ اللّٰہِ وَیَقُولُونَ عَلَی اللّٰہِ الْکَذِبَ وَہُمْ یَعْلَمُون(3/78)-
O  
اور ان میں سے ایک فرقہ، اپنی بولی کو الکتاب کے ساتھ اس طرح  ملاتا ہے کہ تم اُ س کو الکتاب میں شمار کرو جبکہ وہ الکتاب میں نہیں ہے  اور وہ کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے نزدیک ہے، جبکہ وہ اللہ کے نزدیک نہیں اور وہ اللہ پر الکذب کہ رہے ہیں۔ اور وہ اِس(الکذب) کا علم رکھتے ہیں۔

 ٭۔  جب ہی توھادوا،  الاحبار(Doctors of Law)، ربانیوں اور رہبان  کی لکھی ہوئی کتابوں میں ”ریب“ ہے اسی لئے ہر نیا، ہادو، حبر، ربّانی اور راہب،(ڈرانے والا)، ماضی کے  ”ریب“  ٹھیک کرنے  کے لئے ایک ”الکتاب“ لکھ دیتا ہے اور دعوے سے کہتا ہے کہ یہ "کتاب اللہ" کے بعدسب سے صحیح کتاب ہے (اصح الکتاب بعد الکتاب اللہ)، اس طرح اللہ کے کے دین میں ایک نئے فرقے اور  شریعت کا اضافہ ہو جاتا ہے،  کیوں کہ "کتاب اللہ" ہماری ساری کائنات ہے ۔ جس میں اللہ کے کلمات ، "کن"  ہو کر "فیکن " ہوتے جارہے ہیں ۔

جب کہ اللہ کی نباء جو محمد الرسول اللہ نے ہمیں دی ہے:۔

شَرَعَ لَکُم مِّنَ الدِّیْنِ مَا وَصَّی بِہِ نُوحاً وَالَّذِیْ أَوْحَیْنَا إِلَیْکَ وَمَا وَصَّیْنَا بِہِ إِبْرَاہِیْمَ وَمُوسَی وَعِیْسَی أَنْ أَقِیْمُوا الدِّیْنَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِیْہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکِیْنَ مَا تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ اللَّہُ یَجْتَبِیْ إِلَیْہِ مَن یَشَاء ُ وَیَہْدِیْ إِلَیْہِ مَن یُنِیْب  (42/13)-
O  
تمھارے لئے دین میں ”شرع“ جو ہم نے وصیت کی نوح کو اور وہ جو ہم نے وحی کی تیری طرف، اور جو ہم نے  اِس کو وصیت کیا، ابراہیم، اور موسیٰ اور عیسیٰ کو، یہ کہ وہ الدین قائم رکھیں اوروہ تفرقہ نہ کریں۔ منافقوں کے لئے (یہ وصیت)  کُبر (گراں)  ہے جس کی طرف تم اُن کو دعوت دیتے ہو۔ اللہ اپنی طرف اجتباء(توجہ) دلاتا ہے اپنی یشاء سے اور وہ اپنی طرف ھدایت کراتا ہے جس کا  نِیبُ (دھیان)  ہے۔

ہُوَ الَّذِیْ أَرْسَلَ رَسُولَہُ بِالْہُدَی وَدِیْنِ الْحَقِّ لِیُظْہِرَہُ عَلَی الدِّیْنِ کُلِّہِ وَلَوْ کَرِہَ الْمُشْرِکُونَ (9/33)-
O
 وہ، جس نے اپنے رسول کو ارسال کیا الھدی اور دین الحق کے ساتھ تاکہ وہ (رسول)  اُن کے لئے دین پر مکمل (کاملیت کے ساتھ)  ظاہر ہو،  خواہ  وہ (کاملیت) مشرکوں کے لئے کراہت ہو۔

إِنَّ الَّذِیْنَ فَرَّقُواْ دِیْنَہُمْ وَکَانُواْ شِیَعاً لَّسْتَ مِنْہُمْ فِیْ شَیْء ٍ إِنَّمَا أَمْرُہُمْ إِلَی اللّہِ ثُمَّ یُنَبِّءُہُم بِمَا کَانُواْ یَفْعَلُونَ(6/159)-
O
بے  شک وہ لوگ جنہوں نے اپنے دین میں فرقہ کیا اور وہ  شیعا ہو گئے ۔ اُن کا کسی شئے میں کچھ نہیں، بے شک اُن کا امر اللہ پر ہے۔ پھر ہم انہیں اُن کے ہونے والے افعال کی خبر دیں گے۔

وَأَنزَلْنَا إِلَیْکَ الْکِتَابَ بِالْحَقَّ مُصَدَّقاً لَّمَا بَیْنَ یَدَیْہِ مِنَ الْکِتَابِ وَمُہَیْمِناً عَلَیْہِ فَاحْکُم بَیْنَہُم بِمَا أَنزَلَ اللّٰہُ وَلاَ تَتَّبِعْ أَہْوَاء ہُمْ عَمَّا جَاء کَ مِنَ الْحَقَّ لِکُلًّ جَعَلْنَا مِنکُمْ  شِرْعَۃً وَمِنْہَاجاً وَلَوْ شَاء  اللّٰہُ لَجَعَلَکُمْ أُمَّۃً وَاحِدَۃً وَلَ کِن لَّیَبْلُوَکُمْ فِیْ مَا آتَاکُم فَاسْتَبِقُوا الخَیْرَاتِ إِلَی اللّٰہ مَرْجِعُکُمْ جَمِیْعاً فَیُنَبَّءُکُم بِمَا کُنتُمْ فِیْہِ تَخْتَلِفُونَ(5/48)-  
اور ہم نے تجھ پر حق کے ساتھ (ایک)  الکتاب! نازل کی، تصدیق کرتی ہے الکتاب میں سے جو ہاتھوں میں موجود ہے۔ وہ اُس پر محافظ بھی ہے۔ پس حکم کر ان کے درمیان جو اللہ کی طرف سے نازل ہوا ہے تیرے پاس حق آنے کے بعد ان کی خواہشات کی اتباع نہ کر  تم میں ہر ایک کے لئے ہم نے”ایک شریعت اور ایک منھاج“ دی ہے  اور اگر اللہ چاہتا تو تمہیں ایک امت بنا دیتا لیکن جو اس نے تمھیں دیا آزمائش ہے تمھاری پس الخیرات کے کاموں میں سبقت لو تم سب اللہ کر طرف لوٹنے والے ہو پھر وہ تمھیں ان کی اطلاع دے گا جن میں تم اختلاف کرتے تھے ۔ 

إِنَّ الَّذِیْنَ یَکْفُرُونَ بِاللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیُرِیْدُونَ أَن یُفَرِّقُواْ بَیْنَ اللّٰہِ وَرُسُلِہِ وَیْقُولُونَ نُؤْمِنُ بِبَعْضٍ وَنَکْفُرُ بِبَعْضٍ وَیُرِیْدُونَ أَن یَتَّخِذُواْ بَیْنَ ذَلِکَ سَبِیْلاً(4/150)- 
بے  شک وہ لوگ جو اللہ اور اُس کے رسولوں کا کفر کریں گے (کرتے ہیں) اور چاہیں گے (چاہتے ہیں)  کہ وہ اللہ اور اُس کے رسولوں میں (اپنی لکھائیوں یا اقوال سے)  فرق کریں اور وہ کہتے ہیں ہم بعض کا ایمان لاتے ہیں اور ہم بعض کا کفر کرتے ہیں اور وہی چاہیں گے (چاہتے ہیں) کہ وہ درمیانی رہ اختیار کریں۔

آمَنَ الرَّسُولُ بِمَا أُنزِلَ إِلَیْہِ مِن رَّبِّہِ وَالْمُؤْمِنُونَ کُلٌّ آمَنَ بِاللّٰہِ وَمَلآءِکَتِہِ وَکُتُبِہِ وَرُسُلِہِ لاَ نُفَرِّقُ بَیْنَ أَحَدٍ مِّن رُّسُلِہِ وَقَالُواْ سَمِعْنَا وَأَطَعْنَا غُفْرَانَکَ رَبَّنَا وَإِلَیْکَ الْمَصِیْرُ (2/285)-
O
ایمان لایا الرسول جو اُس کی طرف نازل ہوا اور المومنون، سب اللہ پر اور اُس کے ملائکہ پر اور اُس کی کتب پر اور اُس کے رسولوں پر اور وہ اُس کے رسولوں میں سے کسی کے درمیان فرق نہیں کرتے اور وہ کہتے ہیں ہم نے سنا اور ہم نے اطاعت کی، اے ہمارے ربّ  تو ہماری مغفرت کر اور تیر ی طرف الْمَصِیْر ہے۔

تَبْصِرَۃً وَذِکْرَی لِکُلِّ عَبْدٍ مُّنِیْبٍ (50/8)-
O
  ہر ایک دھیان  دینے والے، عبد کے لئے، ایک تبصرہ اور میرا ذکر ہے

ذَلِکَ الْکِتَابُ لاَ رَیْبَ فِیْہِ ہُدًی لِّلْمُتَّقِیْنَ
O
وہ ”الکتاب“  اُس میں کوئی ریب نہیں ۔  المتقین کی ہدایت کے لئے


- - -- -تمت بالخیر  ۔ ۔ ۔۔ ۔
- - -- -پچھلی اقساط  ۔ ۔ ۔۔ ۔
  قسط -2 :  http://alkitab-truths.blogspot.com/2013/09/2.html

 قسط -1 :  http://alkitab-truths.blogspot.com/2013/09/1.html

کتاب اللہ اور تصور ملکیت ۔ حصہ 2



٭۔   جھوٹے مقدمہ میں موکل کی پیروی کرنا
     
   قانون کی نظر میں جھوٹا مقدمہ وہ ہوتا ہے ۔کہ جس میں مدعی کے پاس کوئی ثبوت  نہ ہوں  یا  مدعی  جھوٹے ثبوت کے باعث مقدمے کو اپنے حق میں کروانا چاہتا ہو۔ مروج قانون کے مطابق اگر مدعی کی طرف سے پیش کی گئی جھوٹی شہادتوں کے باعث ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو جج کے پاس کسی قسم کا  صوابدیدی  اختیار(Discretionary Power)  نہیں ہوتا  کہ وہ جھوٹی شہادتوں کو قبول نہ کرے۔ کیونکہ جج کے فیصلے کا مکمل دارومدار شہادتوں پر ہوتا ہے ۔ انسانی فطرت ہے کہ وہ لالچی ہے اور اس کی پوری کوشش ہوتی ہے کہ وہ دوسرے کے مال کو کسی نہ کسی طرح ہڑپ کر جائے خواہ یہ بذریعہ چوری ہو یا سینہ زوری ہو ۔ جو  نہ صرف انسانی معاشرے میں قابل مذمت و سزا جرم سمجھا جاتا ہے  بلکہ اللہ تعالیٰ نے  ایک مومن کونہ صرف  اس گناہ سے بچانے کے لئے بلکہ دوسرے گناہوں سے بھی بچانے کے لئے اپنی کتاب میں اس کے لئے مثالیں بیاں کر دی ہیں۔
وَلَقَدْ ضَرَبْنَا لِلنَّاسِ فِیْ ہَذَا الْقُرْآنِ مِن کُلِّ مَثَلٍ لَّعَلَّہُمْ یَتَذَکَّرُونَ (39/27)
 اور ہم نے اس القرآن میں ہر قسم کی مثالیں بیان کر دی ہیں تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں  ۔
 جھوٹے مقدمہ میں موکل کی پیروی کرنے کے بارے میں کتاب اللہ میں، اللہ  علیم و خبیر نے کیا مثالیں دی ہیں دیکھتے ہیں۔ جھوٹے مقدمے کے تین حصے ہوتے ہیں ۔
٭۔     جھوٹا مقدمہ ۔
٭۔     جھوٹے گواہ ۔
٭۔      جج کا فیصلہ ۔


 ٭۔ جھوٹا مقدمہ
 وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (2/188)
  اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال باطل (طریقے)کے ساتھ مت کھاؤ۔اور تم کھینچ کر لے جاؤ(الناس کو) اس (باطل طریقے) کے ساتھ احکام کی طرف(جھوٹے مقدمے میں)  تاکہ تم لوگوں کے اموال میں سے ایک فریق (حصہ) گناہ کے ساتھ کھاؤ۔ اور تمہیں اس کا علم ہو۔ 

٭۔ جھوٹے مقدمہ کے گواہ
        انسانی  قانون  شہادت  کا  یہ  اصول  ہے۔  گواہان  جب  بھی  گواہی  دینے  کے  لیئے  بلائے  جائیں  تو نہ تو جھوٹی  گواہی دیں اورنہ ہی  وہ  پیچھے  (ڈر  یا  خوف  یا  لالچ  یا  رشتہ  داری  کے  باعث)  نہ  ہٹیں  ورنہ  وہ  شہادت  نہ  دینے  یا  چھپانے  کے  مجرم  قرار  پائے  جائیں  گے اور یہ  اصول  بلا تخصیص  مسلم  یا  غیر  مسلم  معاشرے  میں  لاگو  ہے۔  غیر  مسلم  معاشرے  میں  اسے  معاشرتی   اخلاقیات  کہتے  ہیں۔  جبکہ  مسلمان  کے  لئے  یہ  اللہ کا  حکم  ہے اور کتاب  اللہ میں  درج  ہے۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ بِالْقِسْطِ شُہَدَاء  لِلّٰہِ وَلَوْ عَلَی أَنفُسِکُمْ أَوِ الْوَالِدَیْنِ وَالأَقْرَبِیْنَ إِن یَکُنْ غَنِیّاً أَوْ فَقَیْراً فَاللّٰہُ أَوْلَی بِہِمَا فَلاَ تَتَّبِعُواْ الْہَوَی أَن تَعْدِلُواْ وَإِن تَلْوُواْ أَوْ تُعْرِضُواْ فَإِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِیْراً(4/135)
اے ایمان لانے والو! اللہ کے لئے قسط (انصاف)کے ساتھ ہے شھداء ہوتے ہوئے قوامین ہو جاؤ! خواہ یہ تمھارے نفس، یا والدین اور الاقربین کے اوپر کیوں نہ ہو۔ کوئی غنی ہو یا فقیر ، پس اللہ اُن دونوں کے ساتھ اُولیٰ (اوّل)ہے۔عدل کرتے ہوئے  خواہشات (Discretionary Thoughts) کی اتباع مت کرو! اگر تم خرابی (Distort)کرو گے یا تم اعراض (Decline) کرو گے۔ تو بے شک اللہ کوتمھارے اعمال کی خبر ہے۔  O

  گواہی کے لئے سخت اور واضح اصول ہیں۔ ہو بہو یہی اصول غیر مسلم معاشرے میں بھی پائے جاتے ہیں۔ سوائے اس فرق کہ وہ اللہ کے ڈر سے قانون شہادت پر عمل نہیں کرتے۔ بلکہ ان کے مدنظر صرف اور صرف ضمیر ہے۔ ضمیر ایک قابل تغیر چیز ہے اس کے تغیرات میں ڈر، خوف، لالچ، رشتہ  داری، نسلی تفاخر اور خونی رشتے شامل ہیں۔اور سچ صرف اپنی قوم کے لوگوں کے لئے بولتے ہیں دوسری قوم کے لئے وہ نہایت مکار اور دھوکے باز ہوتے ہیں ۔ تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا ایک مومن بھی اپنے مسلمان بھائی کوجھوٹا حق دلانے کے لئے  دشمن  قوم کے خلاف جھوٹی شھادت دے سکتا ہے؟
 
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ کُونُواْ قَوَّامِیْنَ لِلّٰہِ شُہَدَاء  بِالْقِسْطِ وَلاَ یَجْرِمَنَّکُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَی أَلاَّ تَعْدِلُواْ اعْدِلُواْ ہُوَ أَقْرَبُ لِلتَّقْوَی وَاتَّقُواْ اللّہَ إِنَّ اللّٰہَ خَبِیْرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ  (5/8)
        اے وہ  لوگو جو ایمان لائے: تم اللہ  کے لئے عدل سے شہادت  (گواہی) دینے والے بنو۔ اور تمہیں قوم کی دشمنی اس جرم  سے آمادہ نہ کرے کہ تم عدل نہ کرو۔ عدل  کرو::  وہ  تقوی  کے  قریب  ہے۔  اور  اللہ سے ڈرتے رہو۔ بے شک  اللہ  اس  بات  سے خبردار ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔

٭۔      جج کا فیصلہ ۔
     مروج قانون کے مطابق اگر مدعی کی طرف سے پیش کی گئی جھوٹی شہادتوں کے باعث ایسا کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو جج کے پاس کسی قسم کا  صوابدیدی  اختیار(
Discreationary Power)  نہیں ہوتا کہ وہ جھوٹی شہادتوں کو قبول نہ کرے۔ کیونکہ جج کے فیصلے کا مکمل دارومدار شہادتوں پر ہوتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود اگر جج بک جائے، خوف کے باعث یا کسی وقتی مصلحت کے باعث گواہیوں کے متضاد فیصلہ دیتا ہے  تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے اس اعتماد کو دھوکہ دیا جو مدعی نے اس پر کیا ۔ اور یہ اللہ کے نزدیک قابل گرفت ہے۔
وَمَا کَانَ لِنَبِیٍّ أَن یَغُلَّ وَمَن یَغْلُلْ یَأْتِ بِمَا غَلَّ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ ثُمَّ تُوَفَّی کُلُّ نَفْسٍ مَّا کَسَبَتْ وَہُمْ لاَ یُظْلَمُونَ(3/161)
 ایک نبی کے لئے ممکن نہیں کہ وہ(اعتماد کو) دھوکہ دے۔ اور اگر کوئی شخص دھوکہ دیتا ہے، تو وہ یوم القیامۃ جس کا اس نے دھوکا دیا۔اس  (شئے) کے ساتھ آئے گا۔ پھر ہر نفس بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کمایا  اور اس پر ظلم نہیں ہو گا۔
 وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِہِ نَفْسُہُ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَیْْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِیْدِ (50/16)
اور حقیقت میں ہم نے انسان کو خلق کیا اور ہم علم رکھتے ہیں جواس کے ساتھ اس کے نفس میں وسوسہ کرتا ہے۔ اور ہم حبل الورید میں سے اس کی طرف اقرب ہیں ۔
إِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیَانِ عَنِ الْیَمِیْنِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِیْدٌ (50/17)
جب القا کرتے ہیں،دو القا کرنے والے دائیں اور بائیں سے بیٹھے ہوئے۔
مَا یَلْفِظُ مِن قَوْلٍ إِلَّا لَدَیْہِ رَقِیْبٌ عَتِیْدٌ (50/18)
کوئی لفظ قول نہیں بنتا مگر اس کے پاس رقیب(نگران) موجود ہوتا ہے۔

٭۔  مال خرچ کرتے وقت کن امور کا خیال رکھنا ضروری ہے 

لَن تَنَالُواْ الْبِرَّ حَتَّی تُنفِقُواْ مِمَّا تُحِبُّونَ وَمَا تُنفِقُواْ مِن شَیْء ٍ فَإِنَّ اللّٰہَ بِہِ عَلِیْمٌ(3/92)
 تم بھلائی کو نہیں پاسکتے حتیٰ کہ تم اس میں سے انفاق کرو جس سے تم ”محبت“ کرتے ہو۔ اور تم جس شئے میں سے انفاق کرو گے بے شک اللہ اس کے ساتھ علیم ہے۔
 زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّہَوَاتِ مِنَ النِّسَاء  وَالْبَنِیْنَ وَالْقَنَاطِیْرِ الْمُقَنطَرَۃِ مِنَ الذَّہَبِ وَالْفِضَّۃِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَۃِ وَالأَنْعَامِ وَالْحَرْثِ ذَلِکَ مَتَاعُ الْحَیَاۃِ الدُّنْیَا وَاللّٰہُ عِندَہُ حُسْنُ الْمَآبِ(3/14)
لوگوں کے لئے مزین کیں ”محبت“ کی خواہش: عورتوں، بیٹوں، الذھب اور الفضہ کے ڈھیر کے ڈھیر، نشان زدہ اصیل گھوڑے، مویشی اور کھیتی میں سے۔ یہ متاعِ حیات الدنیا ہے۔ اور اللہ، اس کے نزدیک حسن المئاب ہے۔
٭۔  نیکی کیا جو اللہ نے ہمیں بتائی۔
لَّیْسَ الْبِرَّ أَن تُوَلُّواْ وُجُوہَکُمْ قِبَلَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ وَلَ کِنَّ الْبِرَّ
نیکی یہ نہیں کے تم اپنے چہرے المشرق یا المغرب کی قبل(سامنے) پھیرو  بلکہ نیکی تو یہ ہے:
مَنْ آمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ وَالْمَلآءِکَۃِ وَالْکِتَابِ وَالنَّبِیِّیْنَ
1- جو اللہ کے ساتھ اور یوم الاخر اور ملائیکۃ اور”الکتاب“ اور نبیوں پر ایمان لایا۔
وَآتَی الْمَالَ عَلَی حُبِّہِ ذَوِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَالسَّآءِلِیْنَ وَفِیْ الرِّقَابِ
2-   اورایتائے مال کیا اپنے محبت کرنے والوں پر،ذوی القربیٰ، اور یتامیٰ اورمساکین، ابن السبیل، اور سائلین اورجو الرقاب(مصیبت) میں ہیں۔
وَأَقَامَ الصَّلاۃَ وَآتَی الزَّکَاۃَ
3-    اور اقام الصلوٰۃ اور ایتائے الزکوٰۃ کی۔
وَالْمُوفُونَ بِعَہْدِہِمْ إِذَا عَاہَدُواْ
4-    اور اپنے عہد کے ساتھ وفا کرنے والے جب عہد کرتے ہیں۔
وَالصَّابِرِیْنَ فِیْ الْبَأْسَاء  والضَّرَّاء  وَحِیْنَ الْبَأْسِ
5- اور مصیت اور ضرر میں اور تنگی کے درمیان صبر کرتے ہیں۔
أُولَـٰئِكَ الَّذِينَ صَدَقُوا  وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُتَّقُونَ (2/177)
یہ وہ لوگ ہیں جو صدیق ہیں اوریہ لوگ اللہ سے ڈرنے والے ہیں۔

ہم نے لوگوں کو صدیق اور متقی سمجھنے کے اپنی میعار بنائے ہیں اور جو میعار اللہ نے بنایا ہے اسے ہم پس پشت ڈال دیتے ہیں ۔ کیوں کہ ہم سمجھتے ہیں کہ اللہ کے مقابلے میں ہم زیادہ میعار بنا سکتے ہیں ۔
 

٭۔  مال خرچ کرو اُس دن سے پہلے  ۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّ کَثِیْراً مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَأْکُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ۔۔۔(9/34)-
O
 اے ایمان والو! بے شک الاحبار(Doctors of Law)اور رہبان میں سے اکثر سبیل اللہ سے روکتے ہیں تاکہ وہ الناس کے اموال باطل کے ساتھ کھائیں۔
۔۔۔۔۔ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ(9/34)-
O 
اور وہ لوگ جو الذھب اور الفضہ کا ذخیرہ کرتے ہیں اور انہیں فی سبیل اللہ انفاق نہیں کرتے، پس انہیں عذاب الیم کے ساتھ بشارت  دو۔
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ أَنفِقُواْ مِمَّا رَزَقْنَاکُم مِّن قَبْلِ أَن یَأْتِیَ یَوْمٌ لاَّ بَیْعٌ فِیْہِ وَلاَ خُلَّۃٌ وَلاَ شَفَاعَۃٌ وَالْکَافِرُونَ ہُمُ الظَّالِمُونَ (2/254)
 اے لوگو جو ایماں لائے! انفاق کرو اس رزق میں سے جو ہم نے تمھیں دیا اس دن کے آنے سے قبل جس دن نہ کوئی بیع(سودا) اور نہ کوئی سفارش اور نہ کوئی شفاعت ہو گی۔ اور کافر وہ ظالموں میں سے ہیں۔
اس دن  کے آنے سے پہلے،  جمع کیا ہوا مال کن افراد پر خرچ کرنا ہے ۔ اس کا میعار بھی اللہ نے بتا دیا ہے :

فَآتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ ذَلِکَ خَیْرٌ لِّلَّذِیْنَ یُرِیْدُونَ وَجْہَ
اللَّہِ وَأُولَـٰئِكَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (30/38)
پس ذی القربیٰ اور مساکین اور ابن السبیل کو اس کا ”حق“ دے دو یہ ان لوگوں کے لئے بہتر ہے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہیں۔ اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔

٭ ۔  اسراف  و کنجوسی کی ممانعت۔
یَا بَنِیْ آدَمَ خُذُواْ زِیْنَتَکُمْ عِندَ کُلِّ مَسْجِدٍ وکُلُواْ وَاشْرَبُواْ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ(7/31)
 اے بنی آدم! ہر مسجد کے نزدیک اپنی زینت لو اور کھاؤ اور پیو مگر اسراف مت کرو بے شک وہ (اللہ) مسرفین سے محبت نہیں کرتا۔

إِنَّمَا أَمْوَالُکُمْ وَأَوْلَادُکُمْ فِتْنَۃٌ وَاللَّہُ عِندَہُ أَجْرٌ عَظِیْمٌ (64/15)
بے شک تمھارے اموال اور اولاد فتنہ ہیں اور اللہ کے نزدیک اجر عظیم ہےO
فَاتَّقُوا اللَّہَ مَا اسْتَطَعْتُمْ وَاسْمَعُوا وَأَطِیْعُوا وَأَنفِقُوا خَیْراً لِاّئَنفُسِکُمْ وَمَن
یُوقَ شُحَّ نَفْسِہِ فَأُولَـٰئِكَ ہُمُ الْمُفْلِحُونَ (64/16)
پس اللہ سے ڈرو جتنا ہو سکے اور سنو اور اطاعت کرو اور اور اپنے نفسوں کے لئے خیر انفاق کرو اور جو کوئی بچ گیا نفس کی بخیلی سے۔ پس وہی فلاح پانے والے ہیں۔

وَہُوَ الَّذِیْ أَنشَأَ جَنَّاتٍ مَّعْرُوشَاتٍ وَغَیْرَ مَعْرُوشَاتٍ وَالنَّخْلَ وَالزَّرْعَ مُخْتَلِفاً أُکُلُہُ وَالزَّیْتُونَ وَالرُّمَّانَ مُتَشَابِہاً وَغَیْرَ مُتَشَابِہٍ کُلُواْ مِن ثَمَرِہِ إِذَا أَثْمَرَ وَآتُواْ حَقَّہُ یَوْمَ حَصَادِہِ وَلاَ تُسْرِفُواْ إِنَّہُ لاَ یُحِبُّ الْمُسْرِفِیْنَ(6/141)
اور وہ ہے جس نے جنات معروشات اور غیر معروشات انشاء کیں۔ اور نخل اور مختلف زرعی(اشیا) تم انہیں کھاتے ہو۔ اور زیتون اور انار متشابہ اور غیر متشابہ، کھاؤ پھلوں میں سے اور جب وہ پھل دیں توان کے اتارنے کے دن اس(اللہ) کا حق ایتاء کرو، اور اسراف مت کرو بے شک اللہ مسرفین سے محبت نہیں کرتا۔

 ٭ ۔فضو ل طریقوں سے لٹا نے  کی ممانعت 
وَآتِ ذَا الْقُرْبَی حَقَّہُ وَالْمِسْکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَلاَ تُبَذِّرْ تَبْذِیْراً(17/26)
اور ایتاء کرو ان ذی القربیٰ، اور مساکین اور ابن السبیل کا ”حق“ اور بذیر (لٹانے کے انداز میں) فضول خرچی(بذر) مت کرو O
إِنَّ الْمُبَذِّرِیْنَ کَانُواْ إِخْوَانَ الشَّیَاطِیْنِ وَکَانَ الشَّیْطَانُ لِرَبِّہِ کَفُوراً(17/27)
بے شک مبذرین الشیطان کے اخوان ہیں اور الشیطان اپنے رب کا احسان مندنہ ہوا۔  

٭ ۔     نقطہء اعتدال
وَالَّذِیْنَ إِذَا أَنفَقُوا لَمْ یُسْرِفُوا وَلَمْ یَقْتُرُوا وَکَانَ بَیْنَ ذَلِکَ قَوَاماً (25/67)
اور وہ لوگ جب انفاق کرتے ہیں تو وہ اسراف نہیں کرتے اور نہ کنجوسی کرتے ہیں اور وہ اس کے بین قائم رہتے ہیں۔

٭ ۔     آپس میں مالداروں کو نہ دو
مَّا أَفَاء  اللَّہُ عَلَی رَسُولِہِ مِنْ أَہْلِ الْقُرَی
جو اللہ نے اہل القریٰ میں سے اپنے رسول کے اوپر افاء کیا  وہ:
 فَلِلَّہِ وَلِلرَّسُولِ وَلِذِیْ الْقُرْبَی وَالْیَتَامَی وَالْمَسَاکِیْنِ وَابْنِ السَّبِیْلِ کَیْ لَا یَکُونَ دُولَۃً بَیْنَ الْأَغْنِیَاء  مِنکُمْ
    (افاء اللہ) اللہ کے لئے اور  رسول کے لئے اور ذی القربیٰ  اور یتامی اورمساکین اور ابن السبیل کے لئے۔ تاکہ دولت تم میں سے اغنیاء کے درمیان نہ رہے
۔  وَمَا آتَاکُمُ الرَّسُولُ فَخُذُوہُ وَمَا نَہَاکُمْ عَنْہُ فَانتَہُوا
     اور الرسول تمھیں (افاء اللہ میں سے) جو ایتاء کرے وہ لو اور جس سے منع کرے پس اس سے منع ہو۔
وَاتَّقُوا اللَّہَ إِنَّ اللَّہَ شَدِیْدُ الْعِقَابِ (59/7)-
O 
اور اللہ سے تقی رہو -  شک اللہ شدید العقاب ہے۔
- - -- -  جاری ہے ۔ ۔ ۔۔ ۔
 قسط -2 :   http://alkitab-truths.blogspot.com/2013/09/3.html

- - -- -پچھلی اقساط  ۔ ۔ ۔۔ ۔
 قسط -1 :  http://alkitab-truths.blogspot.com/2013/09/1.html

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ آپ اِسے کہیں بھی کاپی اور پیسٹ کر سکتے ہیں ۔ ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔