میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

منگل، 24 ستمبر، 2013

کتاب اللہ اور تصور ملکیت ۔ حصہ 1

 

        کتاب اللہ ایک زبانی پڑھنے کی کتاب یا صرف پند و نصائح کا مجموعہ نہیں بلکہ ایک مکمل ضابطہء حیات ہے۔ جو ایمان والے کو انسانی زندگی کے ہر شعبے کے لئے عملی ہدایت دیتا ہے۔ تاکہ ان پر عمل کر کے نہ صرف اس کی بلکہ اس کے ارد گرد رہنے والے باقی  انسانوں کی زندگی بھی پرامن اور پر سکون گزرے۔ 


قُلْنَا اہْبِطُواْ مِنْہَا جَمِیْعاً فَإِمَّا یَأْتِیَنَّکُم مَّنَّیْ ہُدًی فَمَن تَبِعَ ہُدَایَ فَلاَ خَوْفٌ عَلَیْہِمْ وَلاَ ہُمْ یَحْزَنُونَ O (2/38)
 ہم نے کہا! تم سب اس میں سے اتر جاؤ، پس جب میری طرف سے تمھارے پاس ہدایت آئے۔ پس جس نے میری ہدایت کی اتباع کی۔ اسے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ محزون ہو گا۔

٭۔   ” پس جس نے میری ہدایت کی اتباع کی۔ اسے نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ وہ محزون ہو گا“
یہ وہ کلیدی نکتہ ہے۔جو انسانی حیات کا اہم جزو ہے ۔ تمام ضوابط اخلاق و تمدن، پند و نصائح، عبادات اور مناسک اور ہر قسم کی راہنمائی  کا تعلق زندہ انسانی حیات سے ہے۔  انسانی حیات  خوف و امن ، حزن و خوشی کا مجموعہ ہے۔ ’محفوظ حیات‘ امن و خوشی اور’غیر محفوظ حیات‘  خوف اور حزن کی مرہون منت ہے۔انسان اپنی حیات کو سب سے غیر محفوظ اس وقت سمجھتا ہے جب اس کے لئے رزق تنگ ہو جائے۔رزق کی انسانی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت ہے ۔ جبھی تو ہمارے آبا ابراھیم  ؑ نے دعا کی۔


 وَإِذْ قَالَ إِبْرَاہِیْمُ رَبِّ اجْعَلْ ہَ َذَا بَلَداً آمِناً وَارْزُقْ أَہْلَہُ مِنَ الثَّمَرَاتِ مَنْ آمَنَ مِنْہُم بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الآخِرِ
 قَالَ وَمَن کَفَرَ فَأُمَتِّعُہُ قَلِیْلاً ثُمَّ أَضْطَرُّہُ إِلَی عَذَابِ النَّارِ وَبِءْسَ الْمَصِیْرُ (2/126)

 اور جب ابراہیم نے کہا! اے میرے رب! اس شہر کو امن کی جگہ بنا اور اس کے اہل کو جو ان میں سے اللہ اور یوم الاخر کے ساتھ ایمان لائے اسے ثمرات میں سے رزق دے۔
 (رب نے) کہا! اور جو کفر کرے پس اس کے لئے قلیل متع ہے پھر اسے  عذاب النار اور برے ٹھکانے کی طرف بے بس کروں گا۔

حصول رزق کے لئے انسان کی جد و جہد ایک مسلمہ امر ہے ۔  رزق کی انسانی معاشرے میں مختلف اقسام ہیں  اور اس کے اکتساب کے انسان نے مختلف طریقے اپنائے ہیں  لیکن  ہر طریقہ ء اکتساب کے لئے ایک مسلمہ اصول ہے جو ہر معاشرے خواہ مسلم ہو یا غیر مسلم میں پایا جاتا ہے وہ یہ کہ ہر فرد ایمانداری سے اپنا رزق کمائے۔ یہ آفاقی سچ انسانی تجربات کا مرہون منت ہے جو اس نے بے ایمانی کے سمندر سے برسوں نبر و آزما ہو نے کے بعد اپنایا ہے ۔ جبکہ ایمان والوں کے لئے یہ ضابطہء حیات  اللہ نے  کتاب اللہ میں درج کر دیا ہے اور اس کے لئے انہیں برسوں کے جانگسل تجربات سے گذرنے کی ضرورت نہیں 

وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُم بَیْْنَکُم بِالْبَاطِلِ وَتُدْلُواْ بِہَا إِلَی الْحُکَّامِ لِتَأْکُلُواْ فَرِیْقاً مِّنْ أَمْوَالِ النَّاسِ بِالإِثْمِ وَأَنتُمْ تَعْلَمُونَ (2/188)
  اور آپس میں ایک دوسرے کے اموال باطل (طریقے)کے ساتھ مت کھاؤ۔اور تم کھینچ کر لے جاؤ(الناس کو) اس (باطل طریقے) کے ساتھ احکام کی طرف(جھوٹے مقدمے میں)  تاکہ تم لوگوں کے اموال میں سے ایک فریق (حصہ) گناہ کے ساتھ کھاؤ۔ اور تمہیں اس کا علم ہو۔

گویا اللہ نے انسانوں کو ایک دوسرے کے اموال آپس میں حق کے ساتھ کھانے کی اجازت دے دی ہے ۔  اب باطل طریقے سے اموال کیسے کھائے جاتے ہیں اور حق سے کس طرح  ہم کتاب اللہ سے دیکھتے ہیں۔ کہ اللہ نے کیا ہدایت دی ہے:
 

٭۔ باطل طریقے سے اموال کھانا

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِنَّ کَثِیْراً مِّنَ الأَحْبَارِ وَالرُّہْبَانِ لَیَأْکُلُونَ أَمْوَالَ النَّاسِ بِالْبَاطِلِ وَیَصُدُّونَ عَن سَبِیْلِ اللّہِ۔۔۔(9/34)-O
 اے ایمان والو! بے شک الاحبار(Doctors of Law)اور رہبان میں سے اکثر سبیل اللہ سے روکتے ہیں تاکہ وہ الناس کے اموال باطل کے ساتھ کھائیں۔

        الاحبار (قانون کے ڈاکٹرز) اورالرہبان (ڈرانے والے) لوگوں کو اللہ کی راہ سے کس طرح روکتے ہیں اور کس طرح وہ اپنے لئے مال بناتے ہیں۔ وہ اس طرح کے وہ لوگوں کو الذھب اور الفضہ کو خزانوں کی صورت میں تبدیل کرنے کے حیلے بتاتے ہیں۔  احبار اور رہبان کے ساتھ جو ہو گا سو ہوگا لیکن وہ لوگ جوالذھب اور الفضہ کوذخیرہ کرتے ہیں  ان کے لیے کیا وعید ہے۔


۔۔۔۔۔ وَالَّذِیْنَ یَکْنِزُونَ الذَّہَبَ وَالْفِضَّۃَ وَلاَ یُنفِقُونَہَا فِیْ سَبِیْلِ اللّہِ فَبَشِّرْہُم بِعَذَابٍ أَلِیْمٍ(9/34)-O 
اور وہ لوگ جو الذھب اور الفضہ کا ذخیرہ کرتے ہیں اور انہیں فی سبیل اللہ انفاق نہیں کرتے، پس انہیں عذاب الیم کے ساتھ بشارت  دو۔


 

يَوْمَ يُحْمَىٰ عَلَيْهَا فِي نَارِ‌ جَهَنَّمَ فَتُكْوَىٰ بِهَا جِبَاهُهُمْ وَجُنُوبُهُمْ وَظُهُورُ‌هُمْ ۖ هَـٰذَا مَا كَنَزْتُمْ لِأَنفُسِكُمْ فَذُوقُوا مَا كُنتُمْ تَكْنِزُونَ ﴿9/35 
٭۔ اس دن جہنم میں وہ ان کے لئے تپایا جائے گا پھر انھیں اس کے ساتھ داغا جائے گا، ان کے جباہ(ماتھے) اور ان کے جنوب(اطراف) اور ان کے ظہور(پشت)۔ (اور کہا جائے گا) یہ ہے وہ جس کا تم ذخیرہ اپنے نفسوں کے لئے کرتے۔ پس چکھو تم اسے جسے تم نے ذخیرہ کیا۔
وَلاَ تَقْرَبُواْ مَالَ الْیَتِیْمِ إِلاَّ بِالَّتِیْ ہِیَ أَحْسَنُ حَتَّی یَبْلُغَ أَشُدَّہُ وَأَوْفُواْ بِالْعَہْدِ إِنَّ الْعَہْدَ کَانَ مَسْؤُولاً(17/34)
 ٭۔  اور یتیم کے مال کے قریب مت جاؤ سوائے اس کے ساتھ  کہ یہاں تک وہ بلوغت کی طاقت حاصل کریں یہ بہتر ہے۔ اور اپنے (مال یتیم کے) العہدکے ساتھ وفا کرو۔ بے شک العہد(قابلِ) سوال ہے۔

 الطَّلَاقُ مَرَّ‌تَانِ ۖ فَإِمْسَاكٌ بِمَعْرُ‌وفٍ أَوْ تَسْرِ‌يحٌ بِإِحْسَانٍ ۗ وَلَا يَحِلُّ لَكُمْ أَن تَأْخُذُوا مِمَّا آتَيْتُمُوهُنَّ شَيْئًا إِلَّا أَن يَخَافَا أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ ۖ فَإِنْ خِفْتُمْ أَلَّا يُقِيمَا حُدُودَ اللَّـهِ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيمَا افْتَدَتْ بِهِ ۗ تِلْكَ حُدُودُ اللَّـهِ فَلَا تَعْتَدُوهَا ۚ وَمَن يَتَعَدَّ حُدُودَ اللَّـهِ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الظَّالِمُونَ (2/229)
الطلاق دو مرتبہ۔ پس ان سے معروف کے ساتھ امساک کرو یاتم انہیں احسان کے ساتھ روانہ کرو۔ تمھارے لئے ”حلال“ نہیں کہ تم  نے جو کچھ اشیاء میں سے ان عورتوں کو دیا ہے اخذ کرو ۔سوائے اس کے، کہ اُن کو خوف ہو کہ وہ  (میاں اور بیوی)حدود اللہ قائم نہ رکھ سکیں گے۔پس اگر تمھیں خوف ہو یہ کہ حدود اللہ قائم نہ رہ سکیں گی۔پس اُ ن دونوں (میاں اور بیوی) پرکوئی حرج نہیں، کہ وہ (بیوی)  اِس (دی گئی اشیاء) میں سے فدیہ دے، یہ اللہ کی حدود ہیں اِن سے تجاوز مت کرواور جس نے تجاوز کیا پس وہ ظالموں میں سے ہے۔

 اللہ کی حدود:-
1-  الطلاق دو مرتبہ۔
2- معروف کے ساتھ امساک کرو یاتم انہیں احسان کے ساتھ روانہ کرو۔
3-  تمھارے لئے ”حلال“ نہیں کہ تم  نے جو کچھ اشیاء میں سے ان عورتوں کو دیا ہے اخذ کرو(واپس لو)۔
4- کہ وہ (بیوی)  اِس (دی گئی اشیاء) میں سے فدیہ دے کر طلاق ( مروج خلع ) لے۔

٭۔  حرام کھانے کی سب سے بڑی وجہ دوسرے کی طرف دیکھ کر حرص میں مبتلاء ہو جانا کہ کسی طرح اس کا مال میرے پاس آجائے خواہ یہ حرص مرد کی طرف سے ہو یا عورت کی طرف سے ۔

وَلاَ تَتَمَنَّوْاْ مَا فَضَّلَ اللّٰہُ بِہِ بَعْضَکُمْ عَلَی بَعْضٍ لِّلرِّجَالِ نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبُواْ وَلِلنِّسَاء  نَصِیْبٌ مِّمَّا اکْتَسَبْنَ وَاسْأَلُواْ اللّٰہَ مِن فَضْلِہِ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْماً(4/32)
 اور مت تمنا کرواس کی جس کا فضل اللہ نے اس کے ساتھ تم میں سے بعض کے اوپر بعض سے کیا ہے۔ مردوں کے نصیب میں وہ جو انہوں نے اکتساب کیا اور عورتوں کے نصیب میں وہ جو انہوں نے اکتساب کیا۔ اور اللہ سے اس کے فضل میں سے سوال کرو۔ بے شک اللہ ہر شئے کے ساتھ علیم ہے۔
 وَإِلَی مَدْیَنَ أَخَاہُمْ شُعَیْْباً قَالَ یَا قَوْمِ اعْبُدُواْ اللّٰہَ مَا لَکُم مِّنْ إِلَ ہٍ غَیْْرُہُ وَلاَ تَنقُصُواْ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ إِنِّیَ أَرَاکُم بِخَیْْرٍ وَإِنِّیَ أَخَافُ عَلَیْْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ مُّحِیْطٍ(11/84)

٭۔       اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو(بھیجا) بولا اے میری  قوم:-
٭ ۔     اللہ کی عبادت کرو اس کے سوا تمھارا کوئی الہ نہیں۔
٭ ۔     اور تم ناپ تول میں نقص نہ ڈالو۔
٭۔    بے شک میں تمھیں خیر کے ساتھ دیکھتا ہوں۔ بیشک مجھے تمھارے     اوپر گھیرنے والے عذاب کا خوف ہے۔


 وَیَا قَوْمِ أَوْفُواْ الْمِکْیَالَ وَالْمِیْزَانَ بِالْقِسْطِ وَلاَ تَبْخَسُواْ النَّاسَ أَشْیَاء ہُمْ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ(11/85)
٭۔      اور اے میری قوم:
٭۔  تم انصاف کے ساتھ ناپ تول کو پورا کرو۔
٭۔ اور لوگوں کی اشیا میں کمی مت کرو
٭۔ اور زمین میں فساد کرتے مت پھرو۔

 وَیْلٌ لِّلْمُطَفِّفِیْنَ 
O الَّذِیْنَ إِذَا اکْتَالُواْ عَلَی النَّاسِ یَسْتَوْفُونَ O    وَإِذَا کَالُوہُمْ أَو وَّزَنُوہُمْ یُخْسِرُونَ (83/1-3)
 ٭۔  افسوس ہے مطففین کے لئےO  وہ لوگ جب لوگوں سے ناپ لیتے ہیں تو پورا ناپ لیتے ہیں O   اور جب وہ انہیں ناپ دیتے ہیں یا وزن دیتے ہیں تو اس میں خسارا کرتے ہیں۔

 أَلَا یَظُنُّ أُولَءِکَ أَنَّہُم مَّبْعُوثُونَ  
Oلِیَوْمٍ عَظِیْمٍ   O یَوْمَ یَقُومُ النَّاسُ لِرَبِّ الْعَالَمِیْنَ (83/4-6)
٭۔  سوائے اس کے (اور کیا ہے) کہ وہ ظن(قیاس) کرتے ہیں کہ وہ یوم عظیم کے لئے مبعوث(اٹھائے) نہیں کئے جائیں گے  O  وہ دن جب لوگ اپنے رب العالمین کے لئے کھڑے ہوں گے۔

وَآتُواْ الْیَتَامَی أَمْوَالَہُمْ وَلاَ تَتَبَدَّلُواْ الْخَبِیْثَ بِالطَّیِّبِ وَلاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَہُمْ إِلَی أَمْوَالِکُمْ إِنَّہُ کَانَ حُوباً کَبِیْراً(4/2)
 ٭۔    اور یتامیٰ کو ان کے اموال دو۔ اور خبیث کو طیب کے ساتھ مت تبدیل کرو۔ اور ان (یتیموں) کے اموال کو اپنا مال سمجھ کر مت کھاؤ۔ بے شک وہ بڑی بربادی ہے۔

 إِن تَجْتَنِبُواْ کَبَآءِرَ مَا تُنْہَوْنَ عَنْہُ نُکَفِّرْ عَنکُمْ سَیِّءَاتِکُمْ وَنُدْخِلْکُم مُّدْخَلاً کَرِیْماً(4/31)
٭۔    اگرتم کبائر (اثم) سے اجتناب کرو جن سے تمھیں منع کیا گیا ہے۔ تو ہم تمھاری برائیاں تم سے  دور کریں گے۔ اورہم تمھیں مدخل کریم میں داخل کریں گے۔


٭۔ حق طریقے سے اموال کھانا۔

یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ لاَ تَأْکُلُواْ أَمْوَالَکُمْ بَیْْنَکُمْ بِالْبَاطِل
 اے وہ لوگو جو ایمان لائے! آپس میں ایک دوسرے کے اموال باطل طریقے سے مت کھاؤ۔
إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً عَن تَرَاضٍ مِّنکُمْ وَلاَ تَقْتُلُواْ أَنفُسَکُمْ إِنَّ اللّٰہَ کَانَ بِکُمْ رَحِیْماً(4/29)
سوائے اس کے تم جو تجارت کرو اس پر آپس میں راضی ہو۔ اور  اپنے نفسوں کو (باطل اموال کھا کر) قتل مت کرو۔ بے شک اللہ  تمھارے ساتھ رحیم ہے۔

وَابْتَلُواْ الْیَتَامَی حَتَّیَ إِذَا بَلَغُواْ النِّکَاحَ فَإِنْ آنَسْتُم مِّنْہُمْ رُشْداً فَادْفَعُواْ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ وَلاَ تَأْکُلُوہَا إِسْرَافاً وَبِدَاراً أَن یَکْبَرُواْ وَمَن کَانَ غَنِیّاً فَلْیَسْتَعْفِفْ وَمَن کَانَ فَقِیْراً فَلْیَأْکُلْ بِالْمَعْرُوفِ فَإِذَا دَفَعْتُمْ إِلَیْہِمْ أَمْوَالَہُمْ فَأَشْہِدُواْ عَلَیْہِمْ وَکَفَی بِاللّٰہِ حَسِیْباً(4/6)
  اورتم یتیموں کو آزماؤ یہاں تک وہ بلوغت النکاح کو پہنچیں اور اگر تم ان میں رشد پاؤ پس اں کے اموال ان کی طرف دفع(حوالے) کرو۔ اور ان (اموال) کو اسراف اور جلدی میں مت کھاؤ (مباداء) کہ وہ جلدی بڑے ہو جائیں۔ اور جو غنی ہے پس اسے چاہیئے کہ وہ احتیاط کریں۔ اور جو فقیر ہیں پس اسے چاہیئے کہ وہ معروف(مروج دستور) کے ساتھ کھائے۔ اور جب تم ان کے اموال ان کی طرف دفع(حوالے) کرو تو ان کے اوپر شہادت لو۔ اور اللہ کے ساتھ حساب کیا ہوا ہے۔

٭۔      دین  (Agreement)،تجارت (Trade)   اوربیع  (Negotiation) کرتے وقت حلال مال کی پہچان  کا جو سب سے آسان طریقہ اللہ نے بتایا ہے  وہ  کتاب اللہ میں درج کر دیا ہے): دیکھیں  (2/282 )
یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُواْ إِذَا تَدَایَنتُم بِدَیْنٍ إِلَی أَجَلٍ مُّسَمًّی فَاکْتُبُوہُ 
1- اے لوگو جو ایمان لائے! اگر تم آپس میں ایک مقررہ مدت کیلئے دین(مطابقت (Agreement- کرو تو اسے لکھ لو۔
وَلْیَکْتُب بَّیْنَکُمْ کَاتِبٌ بِالْعَدْلِ
2- اور تمھارے درمیان کاتب کو یہ (مطابقت) انصاف سے لکھنی چاہیئے
وَلاَ یَأْبَ کَاتِبٌ أَنْ یَکْتُبَ کَمَا عَلَّمَہُ اللّہُ
3-  اور نہیں انکار کرے کاتب  ایسا لکھنے میں جیسا کہ اللہ نے اسے (لکھنے کا) علم دیا ہے۔
 فَلْیَکْتُبْ وَلْیُمْلِلِ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ وَلْیَتَّقِ اللّہَ رَبَّہُ وَلاَ یَبْخَسْ مِنْہُ شَیْئاً
4-  اور جو حق پر ہے اس کا مطلب لکھے۔اور چاھئے کہ اپنے رب اللہ سے ڈرے۔اور اس (لکھوانے) میں کوئی کمی(اپنی علمی چالاکی کے باعث) نہ کرے۔
فَإن کَانَ الَّذِیْ عَلَیْہِ الْحَقُّ سَفِیْہاً أَوْ ضَعِیْفاً أَوْ لاَ یَسْتَطِیْعُ أَن یُمِلَّ ہُوَ فَلْیُمْلِلْ وَلِیُّہُ بِالْعَدْلِ
5-  اور اگر جو حق پر ہے۔ بے وقوف(جاہل) ہو یا ضعیف ہو  یا (کسی اور سبب کے باعث)اس کی استطاعت  نہ رکھتا ہو کہ اپنا مطلب بیان کر سکے تو اس کا ولی (جس کو نامزد کرے یا سر پرست) انصاف کے ساتھ(مطابقت کی شرائط کا) مطلب بیان کرے۔
 وَاسْتَشْہِدُواْ شَہِیْدَیْنِ من رِّجَالِکُم
6-  اور اپنے(جاننے والے) مردوں میں سے دو کو (اس مھائدے کی تحریر پر) گواہ بنا لو۔
ْ فَإِن لَّمْ یَکُونَا رَجُلَیْْنِ فَرَجُلٌ وَامْرَأَتَانِ مِمَّن تَرْضَوْنَ مِنَ الشُّہَدَاء
7-  پس اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں جن کو تم (مطابقت کرنے والے) گواہ بنانا پسند کرو (گواہ بنا لو)
٭۔  دوسری  عورت  کی  شرط  اس  لئے  ہے۔
أَن تَضِلَّ إْحْدَاہُمَا فَتُذَکِّرَ إِحْدَاہُمَا الأُخْرَی
 8- تاکہ ان میں سے ایک بھٹک(یا بھول) جائے تو دوسری اسے نصیحت کرے (یاد دلا ئے)۔
وَلاَ یَأْبَ الشُّہَدَاء  إِذَا مَا دُعُواْ
9- جب گواہ (شہادت) کے لئے بلائے جائیں تو وہ انکار نہ کریں۔

٭۔   ہر قسم کا مھائدہ جو طویل المیعاد ہو یا قلیل المیعاد، چھوٹا ہو یا بڑا  اسے ضرور مکمل  لکھا جائے
وَلاَ تَسْأَمُوْاْ أَن تَکْتُبُوْہُ صَغِیْراً أَو کَبِیْراً إِلَی أَجَلِہِ
10  اور نہ ہی (اپنی مطابقت(Agreement)  کو) خواہ چھوٹا ہو یا  بڑا اس کی اجل(مکمل لکھے جانے تک) لکھنے میں سستی نہ کرو۔
ذَلِکُمْ أَقْسَطُ عِندَ اللّٰہِ وَأَقْومُ لِلشَّہَادَۃِ وَأَدْنَی أَلاَّ تَرْتَابُواْ
11-  یہ  اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ ہے اور شھادت کے لئے (باعثِ تحریری ہونے کے) زیادہ معتبر اور آسان ہے تاکہ شبہات پیدا نہ ہوں۔

 



٭۔   سوائے دست بدست تجارت کے جو اسی وقت مکمل ہو جائے 
 إِلاَّ أَن تَکُونَ تِجَارَۃً حَاضِرَۃً تُدِیْرُونَہَا بَیْْنَکُمْ فَلَیْْسَ عَلَیْْکُمْ جُنَاحٌ أَلاَّ تَکْتُبُوہَا
12-  ہاں اگردست بدست تجارت (Barter or in cash)  میں جو کچھ  اسی وقت تمھارے درمیان طے ہو ا ہو اس (صورت) میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ اگر تم اسے نہ لکھو
وَأَشْہِدُوْاْ إِذَا تَبَایَعْتُمْ
 13- اور جب تم بیع(Negotiation) کرو تو اس پر گواہ بنا لو۔
وَلاَ یُضَآرَّ کَاتِبٌ وَلاَ شَہِیْدٌ وَإِن تَفْعَلُواْ فَإِنَّہُ فُسُوقٌ بِکُمْ
14-  (دین، تجارت اور بیع کے)  کاتب  اور گواہ کوضرر  نہ پہنچاؤ اور اگر تم نے ایسا کیا تو بے شک یہ تمھاری طرف سے  فسق  ہے  (معاھدے  کی نافرمانی ہو گی)۔
  وَاتَّقُواْ اللّٰہَ وَیُعَلِّمُکُمُ اللّٰہُ وَاللّٰہُ بِکُلِّ شَیْْء ٍ عَلِیْم (2/282)
O
اور اللہ سے تقی رہو (کیونکہ) اللہ تم کو جانتا ہے۔ اور اللہ ہر شئے کے ساتھ علیم ہے۔


- - - - جاری ہے - - - 
قسط  -  2   :         http://alkitab-truths.blogspot.com/2013/09/2.html

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔