میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار, ستمبر 8, 2013

ہمت کو رکاوٹ نہیں

جمعہ ، ہفتے کی رات ،  چم چم (ہماری نواسی) نے مری سے "پزا " کھایا ۔ جو اس کی خالہ نے "بریڈ اینڈ بٹر" سے لیا ۔

رات 12 بجے، اس نے شور مچانا شروع کر دیا ۔ کہ پیٹ میں درد ہے اور اس کی ٹائلٹ پریڈ شروع ہوگئی ۔
صبح 4 بجے اس نے درد بھری آواز  میں ، بین کرنا شروع کردیا ، مجھے میری ماما یاد آرہی ہیں ۔ ان کے پاس جانا ہے ۔ میں نے اور بیوی نے ہنگامی تیاری کی اور اسلام آباد کے لئے روانہ ہوگئے ۔ چھ بجے بڑے داماد کے گھر پہنچے ۔ وہاں وہ اپنی ماما سے اس شدت سے ملی جیسے برسوں سے بچھڑی ہوئی تھی ۔
حالانکہ منگل کو اس کے شکوے " نانو ! میں آپ دونوں کو مس کر رہی ہوں " کو سن کر بیوی (نانو) کا دل پھڑک گیا ۔ چنانچہ اس کو لے کر آئے ۔ اور اب ہفتے کو واپس چھوڑنے آئے ۔ جبکہ اس کا پروگرام پورا ہفتہ رہنے کا تھا ۔ خیر اسے اس کے گھر اتار اپنے گھر پہنچے   تو معلوم ہوا کہ ، بدھ کو ہونے والی بارش کے پانی نے ، ڈرائینگ روم کو سوئمنگ پول بنا دیا ہے ۔ کیوں کہ بارش کے پانی کی نکاسی نالی میں پھولوں کی بیل کے جھڑنے والے پتے پھنس گئے تھے ۔ ۔ کارپٹ کو باہر نکالا اور ریلنگ پرڈال دیا ۔ سٹنگ روم کا کارپٹ معمولی گیلا تھا اسے چھوڑ دیا ۔  
اتوار کو ، صبح نو بجے سے میں گاڑی کی بریکیں ٹھیک کروانے کراچی کمپنی میں مستریوں ، کی مصروفیت کا شکار تھا ۔ کوئی ایک بجے موبائل نکالا ، تو معلوم ہوا کہ رات کو گھنٹی "آف" کی تھی وہ "آف" ہے ۔ ہر بچے کی دو دو کالز ، یہاں تک کہ دوبئی سے تین کالز ، بیوی کی کوئی چھ کالز ، میسج بھی سب کے موجود تھے ۔  

یارب کیا ایمر جنسی ہوگئی ؟
بیوی کو فوراً فون کیا ، مصروف ، چھوٹی بیٹی کا فون بھی مصروف ۔ کپتان صاحب کو فون کیا ۔ تو اس نے بتایا "بریکنگ نیوز" دی کہ ، ماما پریشان ہیں انہیں فون کریں ۔ میں نے پوچھا کہ خیریت ہے ۔ معلوم ہوا ۔ رات کو چھوٹی بیٹی کی ایڑی میں چوہے نے کاٹ لیا ہے ۔ 
بیٹے کا فون بند کیا تو ، بیوی کا فون آ گیا ۔ تفصیل سے خبریں نشر ہوئیں ۔ کہ رات کو سوتے ہوئے ، بیٹی کی دائیں ایڑی میں چوہے نے کاٹ لیا ۔ جو کھڑکی میں موجود شیشہ کھولنے والی درز سے آیا تھا ۔ آپ بیٹی کو فون کر لیں ۔ 
مزید تفصیلات کے لئے ، بیٹی کو فون کیا ۔ اس نے بتایا ۔ کہ رات کو سوتے میں اسے ایڑی میں کوئی چیز چبھی ہو، اس نے سمجھا کہ خواب میں ، شاید ایسا ہوا ہے ، لیکن درد کی وجہ سے آنکھیں پوری کھلیں ۔ پھرتی سے اٹھ کر لائٹ جلائی تو دیکھا کہ ایک چھ انچ لمبا ، جنگلی چوہا  پلنگ سے چھلانگ مار کر دوڑا ۔ ایڑی میں دو دو دانتوں کے چھوٹے سوراخ تھے، وہ ڈر کر دوسرے کمرے میں سو گئی ، صبح دس بجے ماں کو بتایا ، اس نے فوراً ڈاکٹر کو دکھانے کا کہا ، وہ سی ایم ایچ ، گئی وہاں فوجی ڈاکٹر نے ، حسب معمول ،   Erythrocine  اینٹی بائیوٹکس دی جو پاکستان کے کسی میڈیکل سٹور پر نہیں پائی جاتی ۔ لیکن فوج میں چل رہی ہے ۔ اور  ساتھ ہی ، ٹیٹنس کا ٹیکہ بھی لگا دیا ۔ وہ گھر آگئی ۔ میں نے پوچھا ، اس نے "اینٹی ریبیز " کیوں نہیں لگایا ۔ تو بتایا کہ اس نے کسے دوسرے ڈاکٹر کو زخم کی مکمل تفصیلات بتا کر کہا کہ Rabies  کا خطرہ نہیں ۔ 
میں نے فون بند کیا ، تو معلوم ہوا کہ اس نے اپنی سہیلی کو فون کیا اس نے بتایا کہ اس کی منجھلی بیٹی کو بھی چوہے نے کاٹا تھا ، وہ لوگ اسے فوراً شفا ء ہسپتال لے کر گئے تھے ۔ وہاں ڈاکٹر نے ، زخم کو دبا کر خون نکالا اور اسے پھر Anti-Rabbies انجکشن کا کورس کروایا ۔ 
 میں نے اپنے فیملی ڈاکٹر  سے معلوم کیا اس نے بتایا کہAnti-Rabbies  انجکشن کا کورس لازماً کروانا پڑے گا ۔ چنانچہ ہنگامی حالت کا نفاذ کرتے ہوئے ۔ گاڑی کا باقی کام رکوایا اور گھر واپس آیا، بیوی نے مالی بلوا کر پوری بیل کٹوا دی تھی ۔
خیر واپس جانے کی تیاری شروع کی ، گاڑی میں سامان رکھا ۔ اسلام آباد کے D-Watson سے  Anti-Rabbies  انجکشن کا کورس لیا ، شاپر میں برف پہلے سے ڈالی تھی ۔ اور واپس مری کے لئے روانہ ہوئے ۔ 
مری پہنچ کر میں نے بیٹی کا زخم دیکھا ، اسے ہلکا بخار تھا ، انجکشن لگایا ۔ معلوم ہوا کہ اس نے اینٹی بائیوٹکس نہیں کھائی تھی لہذا ، مال روڈ کے میڈیکل سٹور گیا ۔ وہاں سے فیملی ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوائیاں لیں ۔ جھیکا گلی پر دو میڈیکل سٹور ہیں اور دونوں ، دو نمبر داوئیاں بیچتے ہیں اور چند سکوں کی خاطر ، مریضوں کی زندگیوں سے کھیلتے ہیں ۔ مہینہ پہلے ، میں ان کے پاس "سنی پلاسٹر " لینے گیا تھا ۔ مغرب کے وقت دونوں میڈیکل سٹور والے ،مغرب کی " نماز " کے لئے سٹور بند کر کے گئے ہوئے تھے ۔
اب گھر میں چوہے کی تلاش شروع ہوئی ، تو معلوم ہوا کہ چوہا کھڑکی کے جس راستے سے داخل ہوا تھا وہاں اس نے اپنی دو نشانیاں چھوڑی تھیں ۔ تاکہ واپس بھاگنے میں غلطی کا امکان نہ رہے ۔ چنانچہ وہ ، بخیریت بھاگنے میں کامیاب ہوا ، بیوی نے تمام ممکنہ سوراخوں پر فینائیل کی گولیاں اخبار میں لپیٹ کر سوراخ بند کر دئے ۔ لیکن ، چوہے نے رات کو دوبارہ شبخون مارنے کی کوشش کی ، بند سوراخ کو دھکہ دے کر کھولا ، اپنی نشانیاں چھوڑیں اور کمرے میں مٹر گشت کرنے کے بعد کوئی نقصان پہنچائے واپس چلا گیا ۔
اور یہ پیغام دے گیا ۔

ہمت کو رکاوٹ نہیں !


Where there is will there is Way


خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔