میرے چاروں طرف افق ہے جو ایک پردہء سیمیں کی طرح فضائے بسیط میں پھیلا ہوا ہے،واقعات مستقبل کے افق سے نمودار ہو کر ماضی کے افق میں چلے جاتے ہیں،لیکن گم نہیں ہوتے،موقع محل،اسے واپس تحت الشعور سے شعور میں لے آتا ہے، شعور انسانی افق ہے،جس سے جھانک کر وہ مستقبل کےآئینہ ادراک میں دیکھتا ہے ۔
دوستو ! اُفق کے پار سب دیکھتے ہیں ۔ لیکن توجہ نہیں دیتے۔ آپ کی توجہ مبذول کروانے کے لئے "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ پوسٹ ہونے کے بعد یہ آپ کے ہوئے ، آپ انہیں کہیں بھی کاپی پیسٹ کر سکتے ہیں ، کسی اجازت کی ضرورت نہیں !( مہاجرزادہ)

فیس بک کے دیوانے

اتوار، 15 ستمبر، 2013

ایک روشن مثال بچہ

اچھے بچے ابھی سے ٹریننگ کرو تاکہ بڑے ہو کر ماہر ہو جاؤ ۔ اس کوڑے میں ایسے ایسے در نایاب چھپے ہوتے ہیں جن ، سے لوگوں کا رزق چلتا ہے :

1- جانوروں کی ہڈیاں جن سے تیل نکالا جاتا ہے ۔ صابن یا گھی بنانے کے لئے ۔
2- کاغذ اور گتا نکلتا ہے جس سے بورڈ بنائے جاتے ہیں ۔
3- پلاسٹک ۔ جس سے شاپنگ بیگ ، رنگین بوتلیں ، تم جیسے بچوں کے لئے کھلونے ۔ بنائے جاتے ہیں ۔
4- کانچ کی ٹوٹی بوتلیں ، شیشہ جن سے گلاس بنتے ہیں ۔ جو غیرب لوگ خریدتے ہیں کیونکہ وہ ٹیوناسک یا فرانسی گلاس و پلیٹ نہیں خرید سکتے ۔

پیارے بچے تم اور تم جیسے کئی اور بچے ، دنیاکے 75 فیصد انسانوں کی معاشیات کی ریڑھ کی ہڈی ہو ۔ اللہ تعالیٰ نے سب بچوں کے منہ میں سونے کا چمچہ دے کر پیدا نہیں کیا وہ چاہتا تو ایسا کر سکتا تھا ۔ لیکن پھر سونا اتنا سستا ہوجاتا کیوں ؟ کہ ، سرمایہ داروں کا یہی اصول ہے ۔ کہ غریب کے پاس جو بھی چیز ہے وہ کوڑیوں کے مول ہے ۔

ویسے بھی اگر دنیا میں سب امیر ہوجائیں تو دنیا کا نظام ٹھپ ہوجائے ۔ ایسا تو شائد جنت میں ہو ۔ لیکن وہاں جانے کے لئے کوئی شارٹ کٹ نہیں ۔ ہاں قلمی طوائفوں نے کئی شارٹ کٹ ایجاد کئے ہیں ۔ لیکن وہ یہ شارٹ کٹ اپنے بچوں کو نہیں پڑھاتے اور نہ ہی سکھاتے ہیں ۔

تم سکول جا کر کیا کرو گے ۔ تمھارا باپ تمھیں میٹرک نہیں کرا سکتا ۔ وہ میٹرک جس کو کرکے تم اس کام سے نفرت کرو گے بابو یا چپڑاسی کی نوکری ڈھونڈھو گے ، وہ تمھیں ملنے سے رہی ۔ تمھارا باپ ، اتنے پیسے کہاں سے لائے گا ؟

حکومت چاھے جتنا اعلان کرے کہ ، پاکستان کے تمام بچوں کو مفت تعلیم دلائے گی ۔ یہ اعلان ہی رہے گا ۔ لہذا اس پر کان نہ دھرو ۔ امریکی صدقہ و خیرات پر پلنے والی "این جی او" تم جیسے بچوں اور بچیوں کو تعلیم دلوانے کے نام پر پل رہی ہیں ۔ تمھاری تصویریں دکھا کر وہ یورپ، برطانیہ اور امریکہ سے بھیک مانگتے ہیں ۔ وہ بڑے ہی گھٹیا بھکاری ہیں ، جو تمھارے نام پر ، نئی گاڑیوں ، عالیشان بنگلوں ، پانچ ستارہ ہوٹلوں میں ، بھکارت کی زندگی گذار رہے ہیں ۔ ضمیر کی آواز کو دبانے کے لئے یہ عمرے کرتے ہیں ، حج کرتے ہیں اور تم جسیے بچوں کی ماؤں کو چند سلائی مشین دے کر ، فخر سے تصویریں ایسے کھنچواتے ہیں جیسے ، اپنے باپ کا مال دے رہے ہیں یا اپنی محنت کی کمائی سے انفاق فی سبیل اللہ کر رہے ہیں ۔

یہ صدقہ ، خیرات اور زکات کی کمائی بھی لوگوں سے لیتے ہیں اور اپنے ماں یا باپ کے نام پر ہسپتال بنواتے ہیں تاکہ تم جیسے ، غیرب بچوں کے بیمار ماں اور باپ کا مفت علاج کریں ۔ وہاں جانا بھی نا ، تمھاری خودی کو ٹھیس پہنچے گی ۔

شاباش اس کام میں مہارت حاصل کرو ، تمھاری جوانی پر پہنچنے تک ، کوڑے کے اس ڈھیر میں کئی گناہ اضافہ ہوگا اور اس میں سے تمھیں ایسے ایسے قیمتی نگینے ملیں جن کو بیچ کر تمھارا باپ ، شاید ایک دکان ڈال لے ۔

یہ کوڑا حقیر نہیں کیوں کہ یہ تمھارے خاندان کی معاشی ضرورت کا "کفیل" ہے ، بھیک مانگنے سے تو بہتر ہے کہ تم محنت کرو ۔

خیال رہے کہ "اُفق کے پار" یا میرے دیگر بلاگ کے،جملہ حقوق محفوظ نہیں ۔ !

افق کے پار
دیکھنے والوں کو اگر میرا یہ مضمون پسند آئے تو دوستوں کو بھی بتائیے ۔ اگر آپ کو شوق ہے کہ زیادہ لوگ آپ کو پڑھیں تو اپنا بلاگ بنائیں ۔